بہترین تحفه.-

میں ایک بزرگ خاتون کی مزاج پرسی سے گھر لوٹی، تو سارے راستے یہی سوچتی رہی جب تک وہ مشاعروں، کی جان تھی ، سب اسے ملتے تھے – اب اس حالت پ اس کو پوچھنے والے صرف ایک آدھ ہی رہ گۓ، ہیں . اکثر کو ان کی موجودہ حالت معلوم ہی نہیں یا اب یہ کہیں جانے کے قابل نہیں رہیں ، یا وہ تندرست لوگوں کی طرح دعوتیں دینے کے قابل نہیں رہیں – – یہ بہت عام ہے ، ہر معاشرے میں ، کوئی لمبی بیماری کا شکار ، ا بوڑھا یا غریب، ہو – ان کا معاشرے میں کوئی خاص مقام نہیں ہوتا،- سوچتی ہوں اگر ہم ، سب بزرگوں ، ضرورت مندوں، بیماروں کو ان کی زندگی ہی میں ہی پوچھ لیں اور مشکل حالات ، میں مدد کر دیں، بہت اچھا متعلقہ انسان کے لیۓ تحفہ ہے، ، مدد کرنے کے بھی کئی طریقے ہیں – اخلاقی کہ، ان کو وقت دے کر ، دل جوئی کرنا ، ان کی بات سنننا ، پھول دینا، مالی امداد کرنا ، زندگی میں ان تحائف کی زیا دہ ضرورت ہے ، تنہا لوگ جو اکثر ، اہم تہواروں پے زیادہ ، تنہای محسوس کرتے ہیں – ان کوان حالات میں سب سے اچھا تفہ ان کا حال پوچھناہے.- مرنے کے بعد دیگچے بھر بھر کر کھانے پکا پکا کر لوگ کا جمگھٹا کرنا اروایت بن چکی ہے- کیا یہ اور بھی بہتر نہیں جیسے میں که چکی ہوں کہ خدارا زندگی میں ہی ، کچھ نیک کام کر جا،— —..

8 thoughts on “بہترین تحفه.-”

  1. پہت ہی اچھا خیال ہے.میں آپ سے صد فی صد متـفق ہوں.میں فی آلحال خود کو ایسی ہی کشتی پر سوار محسوس کر رہی ہوں. رفتہ رفتہ معاشرے سے رابطہ منقطع ہوتا جا رہا ہے جو جیتے جی مرجانے کے مترا د ف ہے
    والسلام
    رضیـہ کاظمی
    5 کایلڈ ر کورٹ، پرینسٹن
    نیو جرسی 08540
    امریکہ

  2. اسلام علیکم بہن عابدہ مظفر اور رضیہ کاظمی صاحبہ اللہ آپ کو زندگی اور صحت دے۔
    واقئی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ناممکن ہے ، جہاں ہم اور باتوں میں ایک دوسرے سے دور ہوگئے ہیں وہیں ہم ان اخلاقی قدروں سے بھی دور ہو رہے ہیں جو ہمارا خاصہ تھیں ،
    یہ حقیقت ہے کہ تنہائی کا زہر بہت برا ہے اور اسے وہ ہی بتا سکتا ہے جو اس مشکل سے گزر رہا ہو جیسا کہ میری بہن رضیہ کاظمی نے لکھا ،
    ہمیں اپنے وقت سے کچھ وقت ایسی سرگرمیوں کے لئے ضرور نکالنا چاہئے جو کسی کی تنہائی کچھ دیر کے لئے دور کردے یا کوئی ایسا کام جو ایسے لوگوں کو خوشی دے سکے ۔ہم تو اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہم تو اب بیمار کی مزاج پرسی کو بھی نہیں جا سکتے جس کا ہماری اعلیٰ اقدار میں سب سے بڑا درجہ ہے ،
    اللہ ہم سب کو بھلائیوں کی طرف راغب کرے اور نیکیاں سمیٹنا ہمیں آسان کردے ۔
    عالم آرا

  3. السلام علیکم
    عابدہ مظفر صاحبہ، آپ کی بات بلکل درست ہے ، یہ ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے ، مگر مکافات عمل بھی ایک چیز کا نام ہے ، آج جو بزرگ ہیں کل وہ جوان تھے ، تمام رعنائیوں اور دلکشیوں کے ساتھ جسم میں تمام توانائیان بھی دوڑتی تھی ، تب یہ لوگ جو آج کی نوجوان نسل کے سرد روئیے کا شکوہ کرتے ہیں وہ بھی ( کم و بیش ) ایسے ہی تھے اور یہی مکافات عمل ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  4. میرا تبصرہ موضوع سے تھوڑا سا ہٹا ہوا ہے ..جس کے لئے آپا سے در گزر کی درخواست ہے ..شکریہ

    زندگی کا سب سے بڑا مسلہ معاشی ہوتا ہے .. جو اس عمر میں تو کیا ہر عمر میں سب سے بڑا مسلہ رہا ہے .. میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ کاش ہم سب مل کر کوئی ایسی انجمن بنائیں جس میں ہم ضروتمندوں کا معاشی سہارا بن سکیں .. اکثر بہت سارے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ اس سے کتنے خاندانوں کا بھلا ہو سکتا ہے تومیں سمجھتی ہوں کہ اگر صرف ایک ہی گھر کا چولہا سکون سے جل جائے .اس کے بچے چھت کے نیچے سکون سے سو سکیں اور واجبی ہی سا پڑھ لیں تو بہت ہے . ایسے پھر دیے سے دیا جلتا جائے گا .. آپا صرف حال پوچھنے سے پیٹ نہیں بھر سکتا .. اور جب تک پیٹ نہیں بھرا ہو گا انسان زیادہ دیر تک نہ تو جی سکے گا اور نہ مہذب رہ سکے گا .. میرے نزدیک کسی کے لئے بہترین تحفہ اس کی معاشی مدد ہے وہ ایسے کہ اس کی خوداری کو ٹھیس نہ پہنچے ..

    آپ نے یہ بہت اچھا لکھا کہ مرنے کے بعد دیگچے بھر بھر کر کھانے پکا پکا کر لوگ کا جمگھٹا کرنا روایت بن چکی ہے .. کاش ہم زندہ انسانوں کو معاشی موت سے بچا سکیں اور اس کے بدلے چاہے تین افراد ہی فاتحہ پڑھنے کو میسر ہوں ..کم از کم عزت اور خود داری سے کوئی جی تو جائے گا .. اللہ کریم میری اس خواہش کو پورا کرے ..آمین

  5. ر ضیہ بہن اسّلام علیکم ، اللہ تعا لیٰ کی مہر بانی آ پ کے شامل حال ہو ، اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ہمّت مرداں ،مدد خدا کہ کر ایک بار فیصلہ کیجئے کہ ایک بار ملنے والی اس زندگی کو کسی کے کام آنے کے لئے وقف کر دینا ہے پھر دیکھئے ہر دن آ پ کے لئے سورج بھی نیا ہو گا جزبے بھی نئے ہو ں گے بھلا اللہ جیسی ہستی کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح تنہا ہو سکتے ہیں ،بس اللہ کی مخلوق کو اپنا کنبہ بنا لیجئے ،پھر دیکھئے وہ مقو لہ ہے نا! ایک اللہ کی صبح ہوتی اور کام کرتے ہوئے رات ہو جاتی ہے،یہ آ پ کا حال ہو گا پھر بھی آپ کے لب مسکرا رہے ہوں گے

    آ پ کی زائرہ بجّو

    ایڈمنٹن

    کینیڈا

  6. میری بیٹی نگہت نسیم ،بہت سی دعائیں ،کس قدر خوبصورت تبصرہ لکھا ہے ماشاللہ ،،دل با غ باغ ہو گیا کاش ہم زندہ انسانوں کو معاشی موت سے بچا سکیں ،کاش ہمارے ایک چھوٹے عمل سے ہی ایک گھر کا چولہا جل جائے ،کاش ہماری زرا سی کاوش سے کسی ایسے بچّے کے اسکول کی فیس ادا ہو جائے جس کو فیس نا ہونے کی بنا پر اسکول سے گھر بٹھایا جارہا ہو،ہم یہ سب اس وقت کر سکتے ہیں جب اپنی زات سے باہر آ کر دیکھنا چاہیں ،،یہ میرا خیا ل ہے ،

    فی امان اللہ

  7. ہم انسان زندگی کے تین ادوار میں جیتے ہیں بچپن جوا نی اور بڑھاپا ،بچپن بے شعو ر ہوتا ہے ،جوانی د وڑ دھوپ کے لئے ہوتی ہے اور بڑھا پے کے اس دور میں جب کہ رفاقتو ں کی بے حد تمنّا ہوتی تنہا ہو جاتے ہیں یہ تنہائ در حقیقت ایک عزاب اور واقعئ ایک المیہ ہی ہو تی ہے

    اس ناگوار صو رتحال سے بچنے کے لئے خوا ہ مرد حضرات ہوںیا خواتین ہوں وہ اگر اپنی خدمات معاشرے کو دینا پسند کریں تو ان کے لئے یہ دور سنہرا بن سکتا ہے پھر ان کو اپنی تنہائ کی رفاقت کے لئے کسی ضرورت ہی نہیں رہے گی

    یہ میرے اپنے خیالات ہیں ،ہو سکتا دوسرے اس بارے میں مجھ سے بلکل ہم خیال نا ہو ں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *