فیاض امر کی تازہ ترین تحریر۔۔”اعتراف”

امتیاز بھائی دیکھئے میرے بھائی فیاض امر نے ھمیں کیا تحفہ بھیجا ھے ۔۔ میں آپ سے کہہ رھی تھی نہ کہ فیاض امر ھے ۔۔ وہ بھلا کیسے مجھے ” نہ” کہہ سکتا ھے ۔۔ مجھے ای میل بھیجی ھے ۔۔ آپ سب کی نظر فیاض امر کی تازہ تحریر ۔۔۔۔۔
کیا مردے بولتے ہیں؟…. نہیں ہم بولتے ہیں، مردہ لوگوں کی کہانیاں ہم بول کر انہیں زندہ رکھتے ہیں! کم از کم انہیں اپنے خیالات میں زندہ رکھتے ہیں!

تاریخ مردہ لوگوں سے بھری پڑی ہے. اور اسے ہی تو تاریخ کہتے ہیں. ایک قبرستان، جہاں زلزلے آکر قبروں کے کتبے اکھاڑ دیتے ہیں اور ہم پھر انہیں اپنی مرضی سے اپنی پسند سے کتبے پھر لگاتے رہتے ہیں، جہاں اکثر غلط کتبے غلط قبروں پر لگ جاتے ہیں!

اور زندوں کو کیا ملتا ہے؟ …. انہیں موت دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے ہم بھی اس گدھ جاتی کی نسلیں ہیں جو مختلف کام ایک دوسرے کے ذمے لگا کر اپنے اپنے فرائضٍ منصبی ادا کرتے ہیں.

کچھ اس کام پر معمور ہیں کہ ایک چلتے پھرتے انسان کو زخمی کردیں، تو کچھ اسے مختلف گھاؤ دیکر اور لہولہاں کرنے میں جٹ جاتے ہیں اور جب وہ گر پڑتا ہے تب اس کے اوپر منڈلاتے پھرتے ہیں. کہ مرے!… کہ مرجائے اب… اور پھر جیسے ہی وہ مرجاتا ہے تب اس کی نوحہ خوانی میں لگ جاتے ہیں! مزاریں بناتے ہیں، بڑی بڑی اونچی ….. کتبوں پر یہ لکھوا کر اس کے فقیر بن جاتے ہیں کہ یہاں ایک ولی صفت دفن ہے.

مردہ پرستی!… تاریخٍ انسانی کا مرغوب تریں پیشہ!

زندہ تھا تو کوئی یہ نہیں دیکھتا تھا کہ اس کے اندر بھی ایک دل ہے. ایک روح ہے. قطعی نہیں….

ایسا کیوں کریں؟ جب ہمارے آباء اجداد نے ایسا نہیں کیا تو ایسا کیونکر ہم پر واجب؟

ہم تو برسوں سے مردہ پرستی کے “جین” اپنے جسموں میں سمائے چلے آتے ہیں.

اور اس پر عجبٍ ماتم کہ ہم تو سچ بھی مردوں سے سننا چاہتے ہیں! ہم نے زندہ سچ سنا کب تھا؟ نہ ہی ہمارے اجداد نے سنا اور نہ ہم سنیں گے. سچ… جسے عارف لوگ خدا کا نام دے گئے، کہ اگر کوئی نہ مٹنے والی ذات ہے، اگر کوئی ازل سے ابد تک تابندہ ذات ہے تو وہ ہے خدا! اور یہی سچ ہے. باقی سب تغیر…. اور اس تغیر کو سچ کا نام دیکر ہم اسے بھی صرف مردہ لوگوں سے سننا چاہتے ہیں.

ایسا کیوں ہے؟

وہ جب دعویٰ کرتا تھا کہ مجھ سے پوچھو! میں سب جانتا ہوں، اس کرہ زمیں کی تو بات کیا، مجھ سے تو تم آسماں کی وسعتیں پوچھ…. آؤ لوگو پوچھو! وہ سچ کی خیرات بانٹ رہا تھا…. اور تاریخ گواھ ہے کہ اس سے پوچھا کیا گیا؟… یہی کہ ہمیں بتادو کہ پائخانہ کا ذائقہ کیا ہے!!!!!!!!!!؟

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

اسی باب العلم نے فرمایا تھا کہ “تعجب ہے جب نا معقول شاگردوں کو معلم ملتے ہیں! اور حقیقی طالبٍ علموں کو نا معقول اساتذہ!!!!

فطرت میں اتنا عدم توازن کیوں ہے؟

مجھے اکثر لگتا ہے کہ وہ ہومر والا یونانی قیدی “پرومیتھیوس” میں ہوں، کہ جسے اونچے پہاڑ کے ٹیلے پر باندھا گیا اور چیلیں اس کے بدن کو نوچتی رہتی، اور اس کے جسم کے اطراف پریاں اس کے نوحے گاتی ہیں!

اسے سچ کی سزا ملی تھی…..

نیند کی حالت میں تم نے کبھی آسماں کی سیر کی ہے؟ کہ جس سیاحت میں تمہیں دنیا کی تمام بدی اور اچھائی ایک ہی وقت دکھائی دے؟

اب سوچتا ہوں کہ فطرت نے پرندوں کو اخلاقٍ انسانی نہیں دیا تو کیوں نہیں دیا!

جب ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ چار مردار خور زبردستی کرتے ہیں! تب بھی وہ کوئل گاتی ہے. اس “کو” کی آواز میں کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی.

جب کربلا لمحہ لمحہ یہاں بپا ہوتی ہے، تب بھی فاختائیں اڑتی ہیں…. چڑیا اپنی چوں چوں نہیں چھوڑتی…

جب ایک ماں کا بیٹا کسی آوارہ گولی شکار ہوتا ہے، تب بھی کبوتر ویسے ہی غٹر غوں کی آوازیں کرتے ہیں، انہیں کچھ نہیں پتہ کہ خواب بھی کچھ ہوتے ہیں!

اور وہ بھی کیوں جانیں؟ جب ہم ابنٍ آدم بھی نہیں جان سکے کہ ہابیل کا درد کیا ہوتا ہے!

قابیل مرا کہاں تھا؟ اس کا بدن ختم ہوگیا ، لیکن روح امر ہے….. وہ تو صدیوں سے اپنا روپ بدلتا آیا ہے. کبھی وہ کنعان کے کنویں میں بھائی پھینکتا ہے، تو کبھی نمرود کے بدن میں سانسیں لیتا ہے. فرعوں سے جنم جنم کا رشتہ جوڑتا ہؤا اپنی بربریت میں ارتقا لاتا ہؤا کبھی ابنٍ ملجم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے. یزید تو اس کا سلسہ ہے…..

تو کس نے کہا کہ کربلا ہو بھی چکی؟

تو کس نے کہا کہ حسین علیہ السلام زندہ جاویدہ ہے تو یزید مرگیا؟

بھول ہے تمہاری…. یزید آج بھی ہے. اور وہ منافق بھی کہ جن کے لیے سرور کونین کو بھی خبردار کیا گیا تھا کہ ان کی باتوں میں نہ آنا……

سب ہیں!

قابیل آج بھی ہے. بھول ہے ہماری…. جب ہم سچ کو مردوں میں تلاش کرتے ہیں! تب ہمیں یہ کیوں غلط فہمی ہوتی ہے کہ سچ کو مردوں میں تلاش کرنا ایک مردگی ہی ہوتی ہے. مردے مر گئے، اپنی باقیات چھوڑ گئے اور ہم…. ہم اس باقیات کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے تھکتے بھی نہیں!

ابنٍ آدم کب سمجھے گا، کہ جو مر گئے وہ ہمارے لیے عبرت ہی چھوڑ گئے!

کم از کم ہم سے وہ کچرے کے ڈھیر سے کاغذ چننے والا ہزار گنا اچھا! گند سے بھی کام والی چیز چن چن کے اٹھاتا ہے…. اور ہم؟

اچھی اچھی چیزوں میں بھی جوئیں نکالنے کے لیے عالمٍ استغراق میں چلے جاتے ہیں!

اس ہنس سے بھی سیکھا جا سکتا ہے کہ:

تال سوکھ کر پتھر بھیو ہنس کہیں نہ جائے

پچھلی پریت کے کارن وہ کنکر چن چن کھائے…..

پہلے ہی عذاب کم ہیں کہ چلے ہیں خود کو لہو لہاں کرنے! اور اوروں کو بھی ذخمی کرنے!

(ہم اپنی ذات کے اندر کتنے Sadomasochist ہو گئے ہیں!)

ہاں تو….. اب؟

اب چلے ہیں میرے مرنے کے انتظار میں کاغذ اور قلم سنبھالے!

کہ میں مرجاؤں تو مجھ پر بڑی بڑی محفلیں سجیں…. کہ امر ایسا تھا کہ امر ویسا….

میں مر جاؤں تو میری قبر پر کتبے لکھے جائیں گے کہ یہاں ایک فقیر سو رہا ہے، آرام سے گذریں…. زندہ تھا تو اس کی زندگی میں نیند نہ تھی، اب سونے دیں اسے…

میرے اقتباس چھپیں گے، بلکل ایسے جیسے آج کل ہم حسین بن منصور کو گاتے ہیں.

بلکل ایسے جیسے ایک وقت کا سیانا تھا.

ایسا کیوں ہے؟

ہم اپنے اندر شتر مرغ کی دونوں نفسیات کیوں چھپائے بیٹھیں ہیں؟

کہ اپنا منہ ریت میں ڈال کر ساری دنیا کو بیوقوف کردینے کی غلط فہمی میں گم بھی ہوجاتے ہیں تو اپنی ذات کے بھی دو نام رکھا دیتے ہیں. شتر بھی تو مرغ بھی!

حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نہ شتر ہیں کہ بوجھ اٹھاسکیں اور نہ ہی مرغ ہیں کہ تھوڑا بھی اڑ سکیں…

اب اگر مجھ پر ملحد کی فتویٰ بھی لگاؤ تو کوئی حیرت نہیں ہوگی مجھے. جانتا ہوں کہ ابنٍ آدم ایسا ہی کرتا آیا ہے.

اب اگر مجھے قتل بھی کروائوگے تو کوئی شرمساری نہیں ہوگی مجھے. جانتا ہوں کہ پھانسی دیتے وقت جلاد کا ہاتھ کپکپاتے جب تم دیکھو گے تو شرم کے مارے اپنی آنکھیں بند کرلوگے. اور وہ ہی میری فتح ہے.

کیا فرق پڑتا ہے کہ اب عتراف کرلوں کہ میں آنکھ سے وہ کچھ دیکھ رہا ہوں کہ جس کو دیکھنے کے لیے تمہیں مرنا پڑے گا. کم از کم اس زندگی میں یہ ممکن نہیں کہ تم وہ کچھ دیکھو، جو میں دیکھ رہا ہوں!

سقراط نے زہر کا پیالہ پی کر بھی کہا تھا کہ پوری زندگی گذر گئی میں نے کوئی انسان نہ دیکھا تو کیا ہؤا!

حسین بن منصور نے اپنے کٹے بازو اٹھا کر اپنے منہ پر اپنا خوں لگایا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ میرا منہ پیلا پڑ گیا ہے…. لیکن جو اذیت اسے شبلی نے دی وہ تو تختہ دار کی تڑخ سے بھی تیز تھی. میں دیکھ رہا ہوں کہ شبلی آج بھی وہ ہی پھول اٹھائے گھوم رہا ہے. کہ مل جائے منصور تو پھینکوں اس پر….

ہاں، آج اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے موت دیکھی تھی.

اس دن جب مجھے چھٹا دن گذر گیا تھا ابو بن ادہم کی درگاہ والی پہاڑی کی سرنگ میں. وہاں ان دو قبروں کے بیچ جب میں سو گیا تھا. مجھ سے تین سانپ ملے تھے. میرے بدن کے اوپر رینگ کر گذر گئے تھے. ہاں میں نے دیکھا تھا کہ انسان کا شعور کتنا بزدل اور منافق ہے. جب خاموشی میرے کانوں سے سائیں سائیں کی آوازیں بھی چھین گئی تھی. اور میں گذر گیا تھا. وقت کی حدوں سے دور…

اپنے آپ کو خلا میں تیرتے محسوس کر رہا تھا! مجھے ایک جگہ بابا بلہے شاہ اور گرو نانک گلے لگا کر روتے ہوئے ملے. 47 سے وہ مسلسل رو رہے ہیں. یہ ان کے خواب نہ تھے! کیا خوابوں کی بھی چوری ہوتی ہی؟ اور وہ چوری شدہ خوابوں کو چور ترمیمیں بھی کرتے ہیں؟ میں تیرتا تیرتا اپنے ہی مہا لیڈروں کو گوئبلر اور نمرود کے ساتھ دیکھے. یہ کیا؟ میں تو ان کے قصیدے گاتا ہوں؟…. اپنے پورے وجود سے جیسے بے حسی سی محسوس ہونے لگی، تب جانا کہ میں مر چکا ہوں! کجھے کوئی غصہ نہیں آسکتا، مجھے کچھ خوشی مل نہیں سکتی…. میں مر گیا تھا!

ہاں شاید مر گیا تھا. میں کوئی اصحابٍ کہف نہ تھا، مگر پتہ نہیں کیوں غاروں سے انسان کتے کیوں لے آتے ہیں. پھر بس اتنا محسوس ہؤا تھا کہ امی اور ماموں مجھے اپنے ہاتھوں سے اٹھائے اس غار سے باہر لا رہے تھے. اور ایک کتا! بیسویں صدی میں بھی کتے ساتھ نہیں چھوڑتے! وہ شاید میرا نفس تھا! میرا ہم نفس، میرا کتا! جو بعد میں پھر میرے اندر داخل ہوگیا! کیا انسان اپنے اندر کا کتا مار سکتا ہے؟ ہاں مجھے ادراک ہؤا تھا اس بات کا! کہ صرف انبیاء اور اولیاء پاک ہیں باقی ہم سب اپنے اندر ایک کتا پالے ہوئے ہیں! (کتا! انسان کا پرانا رفیق) اور وہ کتا ہمیں اپنی تمام تر قوت کے ساتھ دھکیلتا رہتا ہے… اور ہم اس غلط فہمی میں کہ ہم کتے کو گھسیٹ رہے ہیں. نام ہزار رکھیں اس کے. لیکن رہتا اپنے جوہر میں وہ کتا ہی ہے. ہم جہاں جاتے ہیں اسے لیے گھومتے ہیں. حد یہ ہے کہ مسجد میں بھی وہ ساتھ رہتا ہے! وضو کرلیا باہر کا لیکن وہ اندر کا کتا وہ ہی پلیت ہی رہتا ہے!

اور اس دن میں نے وہ اندر کا کتا دیکھا تھا جب میں ماموں کے کندھے پر تھا! وہ کتا اس غار کے باہر ہی میرا انتظار کر رہا تھا! میں آج تک اس کی صورت نہیں بھولتا!

اور جب وہ کتا بھونکتا ہے تب ایک چیخ اندر سے اٹھتی ہے. اور میں لکھنے بیٹھ جاتا ہوں کہ وہ چپ رہے. اس کو چپ کرانے کا ایک ہی حل ہے، کہ میں بولوں، یا میں لکھوں، اور جب بولوں تو ایک انسان کی تمام تر قوت کے ساتھ کہ دوں کہ جو بھی ہو رہا ہے کم از کم ٹھیک نہیں ہو رہا!

ہم آج بھی اس وحشی دؤر میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان کی کسوٹی اس کی طاقت سے کی جاتی ہے! اس بات کو تو کوئی نہیں دیکھتا کہ کون کتنا کسی کو فائدہ دے رہا ہے… نہیں بلکہ کون کسے کتنا زلیل کر سکتا ہے….. مجھے تلوار پر کشیدہ کیے کلمے یزید کے شرابی نعرے لگتے ہیں… کہ جن سے مجھے انسانی گوشت کی بو آتی ہے! مجھے ترشول سے رام نہیں راون ہنستے دکھائے دیتے ہیں! مجھے آج بھی صلیب پر ہزاروں مسیح مصلوب ہوتے نظر آرہے ہیں!

مجھے تمہارا کلمہ نہیں چاہیے کہ جس میں معرفت کم اور اپنی ہٹ دھرمی زیادہ دکھائی دے رہی ہے. مجھے کلمہ شہادت ہی کافی ہے. کم از کم قرآن میں تو ہے، کم از کم اسے سرورٍ کونین صلعم تو پڑھتے تھے!

مجھے ہر اس چیز سے نفرت ہے جسے انسان پر حکومت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے! وہ چاہے فرقہ پرستی ہی کیوں نہ ہو! اگر یہی بات ہے تو میں ایسے ہی ٹھیک ہوں! خدا میرے بارے میں تم سے نہیں پوچھے گا، تم جاؤ اور اپنے بچوں کی خیر مانگو! مجھے رہنے دو.

مجھے سدھارنے کا ٹھیکہ مت اٹھاؤ! میں نہیں سدھرنے والا!

مجھے سقراط کی طرح اب زہر نہیں پینا! تم نے بہت سقراط مارے، لیکن اب نہیں!

مجھے منصور کی طرح پھانسی پر بھی نہیں چڑھنا! جلاد اب کمزور ہے، اب منصور بولے گا بھی، اور گائے گا بھی!

نارٍ نمرود سے تم آگ جلا رہے ہو! لیکن اب نہیں….

اب میں بتادینا چاہتا ہوں تمہیں کہ میں نے زندوں کے لیے علم اٹھایا ہؤا ہے. مجھے زندہ رہنا ہے، ابھی بہت جینا ہے، اور لوگوں کو بتانا ہے کہ سچ زندہ ہے اور قائم و دائم ہے.وہ سچ ہمارے خیالوں کی الٹ ہے تو کیا ہؤا! ایک دن تو مانیں گے. جب وہ یقیں عطا ہوگا! تجھ کو. تب اعتراف کروگے، میں تو آج بھی کر رہا ہوں.

26 thoughts on “فیاض امر کی تازہ ترین تحریر۔۔”اعتراف””

  1. جگ جگ جیو میرے بھائی ۔۔ اللہ پاک ھر گرم سرد سے بچا کر رکھے ۔۔آمین

  2. اللہ ہم سب کا خاتمہ بھی بخیر کرے اور عاقبت بھی بخیر کرے ۔ آمین ثمہ امین یا رب العالمین

  3. سائیں فیاض آئیے آئیے آگئے اپنا علم کا دریا بہاتے ہوئے اسی لئے تو آپ کو یاد کر رہے تھے کون لکھے گا ایسی باتیں ۔ لکھنے کی بات تو چھوڑیں ایسی باتیں ایسا علم
    ایسی تحریر کون پڑھے گا کون سمجھے گا لیکن اگر اچھی بات سمجھنے والے ختم ہو جائیں تو عالم اچھی بات لکھنا نہیں چھوڑدیتے ۔ غبّی طالب علم کے لئے نصاب نہیں بدلا جاسکتا آپ اپنا کام جاری رکھین ہم آہستہ آہستہ سیکھ جائین گے دل چھوٹا نہیں کرتے اچھی بات سمجھانے میں تو نبیوں کو بھی مشکل ہوئی وہ لوگ
    پتھر کھاکر ہمارے لئے پھول چھوڑ گئے سائیں مشکل کام کرنے میں مشکل تو ہوتی ہے حلوہ تو ہم بھی کھا سکتے ہیں چلیں اب تو آپ اگئے ہیں باتین چلتی رہین
    گی اللہ بھلا کرے عالمی اخبار والوں کا۔ قیس نے دشت میں اک شہر بسا رکھا ہے۔ ناچتی پھرتی ہیں لیلا ئیں بگولوں کی طرح
    سائیں اب آپ باتیں سننا ختم کریں‌اور لکھنا شروع کریں کل میں نے آپ کو ایک کسرت کرنے کا بولا تھا سائیں ابی آپ دیکھو جیسا بولا تھا ویسا ہی ہوا نا آپ
    نے key board پر انگلیاں مارین تو افاقہ ہوا نا آپ کا پتہ نہیں ہمیں تو ہوا آپ کو بھی ہوگا مشق جاری رکھیں آپ کی اور آپ سب کی محبتوں کا امین

  4. فیاض جو امر ہے اور امر رہے گا۔فیاض کی تازہ ترین تحریر کوئی ایسی چیز نہیں جس پر فوری طور پہ کچھ لکھا جائے۔ یہ تو اس فرد کا ذاتی بلکہ بہت ذاتی تاثر ہے جسے آسمانوں کی صداؤں کا کئی ترجمہ نہیں کرنا پڑتا اور جو ان حالات میں خود کو اور دوسروں کو آئینے کی طرح دیکھتا ہے۔ مجھے اس ”اعتراف” کو ابھی کئی بار پڑھنا ہے اور اپنے وجود میں اتارنا ہے اور پھر بھی یہ وعدہ نہیں کہ کیا کچھ لکھ پاؤں گا کہ نہیں۔
    لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ میرا بھائی ظہور سولنگی کہاں ہے۔اسکی تو اسوقت بہت ضرورت ہے۔ ظہور بھائی میری آواز آپ تک پہنچی یا نہیں۔

  5. ادا فیاض ۔تم اپنی تحریر وں سے امر ہو اپنے کردار امر ہو ۔ ہمیشہ سے امر تھے، امر ہو انشا اللہ امر رہو گے؟ کیونکہ آدمی اپنے کردار سے امر رہتا ہے ۔ تم نے اس کی خود ہی مثالیں دے کر تصدیق کردی ہے جیسے امام حسین (ع) کی لاثانی مثال۔ مجھے میری تہی دامنی اس لا فانی تحریر پر تبصرہ کر نے سے ما نع ہے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ تمہاری یہ تحریر لا ثانی اور لا ثانی رہے گی ۔ اللہ تمہیں خوش و خرم رکھے اور صحتِ کاملہ عطا فر ما ئے آمین۔
    اس لیئے کہ تم قلم کی عزت ہو قلم کارکا وقار ہو۔ رہا کہ لوگ کیا کہتے ہیں !اس پر با لکل نہ جا ؤ اور حضور (ص) کی وہ سنت اپنا ؤ کہ وہ لوگوں کی جہالت پر دعا فر مایا کرتے تھے کہ ” اےاللہ تعالیٰ تو انہیں بخش دے کہ یہ مجھے پہچانتے نہیں ہیں ۔ ہر دور میں یہ مسئلہ رہا کے علما ئے وقت کی سمجھ میں جو بات نہیں آئی اس کو وہ الحاد یا کفر کہتے رہے ہیں ۔ تم نے خود ہی منصور حلاج (رح)کی مثال دی ہے ۔ اس سلسلہ میں قر آن میں جا ؤ تو بھی رہنما ئی ملتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ (ع) اور حضرت خضر (ع) میں جدا ئی کا وقت آیا تو انہوں نے مو سی (ع) سے فر ما یا کہ ” تم جب ایک بات جانتے ہی نہیں تھے! تو اس پر صبر کیسے کر سکتے تھے ” لہذا میں ہمیشہ آج کے دانشوروں کو اور علما ء دونوں کو یہ ہی قر آنی عبارت بطور سند پیش کر تا ہوں ،کہ تصوف تمہارا مضمون نہیں ہے۔ تم نے نہ پڑھا ہے نہ کسی سیکھا کیونکہ یہ علم ِ لدنی ہے، اور اسے خود سمجھا ،تو پھر اس پر را ئے زنی بھی کیو ں کر تے ہو؟ یہ صرف ان کا حق ہے جو اسے جانتے ہیں، اور وہی ایک دوسرے کو پہچانتے بھی ہیں۔ میں نے تمہیں کبھی نہیں دیکھا۔ مگر تم اپنی تحریروں سے بہت ہی اپنے لگے ۔ ہمیں تمہاری ضرورت ہے اور ایک مر تبہ پھر میں دست بستہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ سے تمہاری درازی ِ عمر اور صحتِ کے لیئے در خواست کر تا ہوں۔

  6. بہن نگھت نسیم آداب، بہت بہت شکریہ آپ کا جو آپ نے امر صاحب کو راضی کر لیا، بہت مشکل کام ھے اعتراف کرنا، کون کرے گا یہ اعتراف کہ وقت کے ظالم حکمرانوں نے مخدوم بلاول کو ان کے خلاف سچ گوئی کرنے پر ایک موچی کو چند سکوں کے عیوض مخدوم بلاول کی جوتی میں قرآنی آیات رکھوا کر مخدوم بلاول کو دربار میں بلایا اور کہا کہ مخدوم صاحب آپ بڑے عالم ھیں آپ سے ایک فتویٰ لینا ھے کہ اگر کوئی قرآنی آیات کو اپنی جوتی میں رکھے تو سزا کیا ھوگی، مخدوم بلاول نے فتویٰ جاری کیا کہ اُسے چکی میں پیسا جائے، حاکم وقت نے مخدوم صاحب کو جوتی اتارنے کو کہا مخدوم بلاول نے جوتی اتاری تو اُس موچی کی رکھی ھوئی آیات مخدوم بلاول کی جوتی سے برآمد ھونئیں، مخدوم بلاول سے پوچھا گیا اب آپ کیا بولیں گے مخدوم بولے فتویٰ جاری ھو چکا ھے اور میں چکی میں پسنے کو تیار ھوں میری ایک خواھش ھے کہ مجھے پاؤں سے چکی میں پیسا جائے تاکے میں ابنی ھڈیوں کے چٹخنے کی آواز آخری دم تک سن سکوں، حکمرانوں نے ایسا ھی کیا،
    امر صاحب جب لکھنے کو بیٹھ جائے تو واقعی بھی الفاظ اس کے آگے کیا حکم ہے میرے آقا کہ کر اس کے غلام ہوجاتے ہیں، لیکن اس کو سلام ہے کہ وہ تلخ سچ زندہ لوگوں میں بیٹھ کر کہ دیتا ہے. وہ امر ہے. اور انشاء اللہ اتنے ساداتوں کی دعائیں اس کے ساتھ ہے. ٹیومر کا کچومر ہوجائے گا. انشاءاللہ. امر صاحب ہم علم والوں کو اپنے روح مین جگہ دیتے ہیں. آپ کے ساتھ ہم ہیں.. وعدہ ہے ہمارا آپ کے ساتھ.
    وسلام

  7. اسلام وعیکم، فیاض بھائی،اللہ پاک آپ کو لمبی زندگی عطا کریں آمین ،
    آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خوبصورت اور امر ہو آمین

    آپ اتنی خوفناک باتیں بھی کرتے ہیں؟؟

  8. اللہ تعالیٰ فیاض بھائی کو لمبی عمر ساتھ بمعہ صحت کاملہ عطافرمائے
    صفدر بھائی
    میں نے آپ کی آواز سن لی ہے بلکہ اگر ایسا کہا جائے تو کہ کسی نے بتایا تھا تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ قبلہ آپ کی آواز مجھ تک پہنچ گئی ہے اب میرا شمار بھی عالمی اخبار کے خاموش قارئین میں ہونے لگا ہے۔
    اللہ آپ سب کو خوش و خرم رکھے آمین ثم آمین

  9. اسلام وعیکم !
    فیاض بھائی، اللہ پاک آپ کو لمبی زندگی بمعہ صحت کاملہ عطا کرے آمین !
    آپ کے لئے ڈھیروں دعاییں بسپرد امام زمانہ (ع)

  10. ظہور بھائی تاریخ گواہ ھے اس بات کی کہ خاموش قاریئن کی تعداد زیادہ ھوتی ھے پر آواز نہ ھونے سے کسی گنتی میں نہیں ھوتے سو ان کی خاموشی کی سزا انہیں بھی بگھتنی پڑتی ھے جو بولتے ھیں‌ ۔۔ اور اس بات کی بھی تاریخ گواہ ھے کہ انقلاب خاموش قاریئن کے بولنے سے ھی آ یا ھے ۔۔ میں‌ silent majority کی بات کر رھی ھوں ۔۔

    تو بتایئے ظہور بھائی خاموش رہ کر آپ کس کا بھلا کر رھے ھیں اور کس کا نقصان ۔۔

    میں اپنےبھائی فیاض جیسی چیخیں مار کر لوگوں کو اٹھانے والوں میں سے ھوں کہ وہ کہتا ھے کہ ” میں نے زندوں کے لیئے علم اٹھایا ھوا ھے اور مجھے زندہ رہنا ھے “۔۔ مجھے بھی اسی کی طرح زندہ رھنا ھے ایک شان سے اور ایک آن سے ۔۔ ۔ خاموشی سے نہیں ۔۔

    یہ جانتے ھوئے بھی کہ ھم جیسیوں کے نصیب میں سزا ضرور ھوتی ھے وہ بھی خاموش قاریئن کی وجہ سے ۔۔ اس لیئے میں نے ایک دفعہ کسی کالم میںلکھا تھا کہ مقدمہ کسی حکمران یا آزادی کے مجرموں پر نہیں بلکہ چپ رھنے والی قوم پر چلنا چاھیئے ۔۔۔

  11. شمس بھائی اللہ پاک آپ کو ھمارے سروں پر قائم رکھے کتنی خوبصورت باتیں لکھی ھیں ۔۔ واقعی جی خوش ھو جاتا ھے آپ جب بھی آتے ھیں ۔

  12. شکریہ بہن نگہت اللہ تعالیٰ خوش رکھے (آمین) میرے آقا (ص) اور مولیٰ علی کرم اللہ وجہ کا ارشاد ہے کہ جب بولو تو، ہمیشہ اچھی ہی بات ہی کہو ، ورنہ خاموش رہنا بہتر ہے ۔ میں صرف اس پر عمل کر تا ہوں ۔ کیونکہ میں سب کو تلقین بھی یہ ہی کرتا ہوں کہ اسوہ حسنہ پر عمل کر نا باعثِ نجات ہے۔

  13. امر سائیں بھلی کرے آیا! یا ویلکم بیک
    کچھ لوگ مرنے کے بعد امر ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے ساتھ ساتھ اپنے احباب کو بھی امر کر دیتے ہیں۔ ٍٍیاض کا شمار ایسے لوگوں میں ہے جو اپنی زنگدی میں ہی اپنی تخلیق کی داد وصول کرکے اپنی تخلیق اور داد دینے والے کو بھی امر کر دیتے ہیں‌۔ کہتے ہیں کہ سچ سننا کڑوا ہوتا ہے لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں سوچا کہ سچ لکھنا اور سچ کہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ سچ لکھنے والے کو انجام کا پتہ ہوتا ہے مگر یہ سچ ہی کی طاقت ہوتی ہے جو اسے انجام سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ فیاض کسی انسان کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے کردار کا نام ہے جو حقیقت سے پردہ اٹھا کر اپنی فیاضی کا ثبوت دے ریا ہے۔ عام طور پر لکھاری اپنی تحریر میں تلخی کو کم کرنے کے لئے تھوڑی سی چینی ڈال دیتے ہیں مگر ٍیاض تلخی کو تلخی کے انداز میں ہی پیش کرتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی تحریر کا رنگ نرالا ہو جاتا ہے ۔
    فیاض کی تحریر پڑھنے کے بعد حق موجود صدا موجود خودبخود ہونٹوں پہ آجاتا ہے۔
    فیاض ! وقت وارن جا وار سھبا پر
    دوستن جو سلوک مارے تھو
    معزز خواتین و حضرات میں‌ فیاض کو امانت کے طور پر آپکے سپرد کرتا ہوں- مجھے خیانت پسند نہیں ۔ فیاض سھٹا مولا پاک حیاتیون ڈے

    فیاض اب

  14. فیاض بھائی جن پر “سایئں “کا سایہ ھو اسے اپنی فکر ضرور کرنی چاھیئے کیونکہ سایئں لوگ مزاج کے اوکھے ھوتے ھیں ۔۔ جیسا سایئں جی نے لکھا کہ انہیں خیانت پسند نہیں ۔۔ اور میں جب سے اپنی کم علمی کو کوس رھی ھوں کہ انسان میں خیانت کرنے کی سرزش ھے یا فیاضی میں خیانت کی بات ھے ۔۔ پر جی سایئں لوگ تو سایئں ھیں جو کہے حکم ھے جی ۔۔ لیکن سایئں جی ھمیں کون بتائے گا کہ ھم سے کب کونسی غلطی ھوئی ھے اور اس غلطی کی پاداش ھمیں کب آپ کی عدالت میں کھڑا ھونا ھے ۔۔ تو ۔۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ھے کہ آپ یہی ھیں ۔۔ سو نائس آف یو سایئں جی ۔۔ آپ کی وجہ سے رونق رھے گی ۔۔

  15. امرمیں جانتی تھی temjesicمیں آپ نہ بھی ہوتے تو آپ کویہ سچ لکھنے سے کوئ نہیں روک سکتا تھا۔ بہرحال سب لوگوں کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اد نیٰ سی میری دعاءیں بھی آپ کے ساتھ ھیں ۔۔۔۔ اب یہ نہ کہیے گا کہ دعا کتنی بھی چھو ٹی ھو وہ اد نیٰ نھیں ھو تی ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحبہ امر سے مز ید سچ اگلوانے کے لیے میں آپ کی تا قیامت شکر گزار رہوں گی اور پلیز یہ کوشش آیندہ بھی جاری رکھیے گا۔ مو لا آپ دونوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آمین

  16. شہر بانو پہلے تو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں شمولیت پر خوش آمدید ۔۔ دوسرا مجھے یہ کہنا ھے کہ آپ کا نام میرے پسندیدہ ترین ناموں میں سے ایک نام ھے ۔۔ بہت خوبصورت اور مکمل ۔۔
    شہر بانو ھماری دعایئں بھی اسی سچ سے مشروط ھیں جو فیاض کہتا ھے اور لکھتا ھے ۔۔ اور وہ بھی یہ جانتا ھے کہ ابھی اسے اپنے حصے کا سچ اور بولنا ھے ۔۔
    شہر بانو ۔۔ دعاؤں کی بات کی آپ نے توسچ پیار میں ھی باندھ لیا ۔۔ خوش و خوشحال رھیں ۔۔ آمین ۔۔

  17. ڈاکٹر صاحپہ عالمی اخبار سے میرا تعلق کافی عرصے سے تو نہیں کہ سکتے، کافی د نوں سے ہے لیکن صرف ایک عام سے قاری کی حد تک ۔۔۔۔۔۔
    اور اس بے نام سے تعلق کی وجہ صرف ایک ھی لفظ ھے اور وہ ھے “امر”۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کہ اس نام کی میری زندگی میں سب چیزوں اور سپ انسانوں سے زیادہ اھمیت ھے اور میرے خیال میں پچھلے سات سالوں میں میں نے اس نام سے جڑا کوئ آرٹیکل پڑ ھے بغیر اپنی نظروں سے نہیں گزارا ۔ خیر اب جب بھی اس دنیاوی مصروفیت سے جان چھو ٹی تو آپ کی محفل میں حاضر ھوں گی پر ۔۔۔۔۔۔ صرف آپ کی دعاءیں لینے کی خاطر۔
    سدا سلامت رھیں ۔ آمین

  18. شہر بانو جی آپ کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں بہت بہت خوش آمدید !

  19. شہر بانو تعلق کو کبھی کسی نام کی ضرورت نہیں پڑی ۔۔۔۔ اور کتنی عجیب بات ھے کہ وہ تعلق جو بے نام رھتے ھیں وہی اپنے حوالوں کے ساتھ سب سے زیادہ زندہ رھتے ھیں ۔۔ اس تعلق کو ھمارا رب نبھاھنے والوں میں رکھے ۔۔ اور جس کی وجہ سے ھے اسے ھزاروں برس جیتا رکھے ۔۔آمین ۔

  20. شاھنواز چاچڑ صاحب آپ کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں بہت بہت خوش آمدید !

  21. گذشتہ صدی کی ستر والی دہائی میں یونان کے جمہوری ہیرو الیکوس پیناگولس کو یونانی فوجی جوان گرفتار کر کے کیمپ لے گئے، اور:
    اس کے ناخن جنبوری سے کھینچے گئے، تمام انگلیوں کے، وہ نہیں رویا!
    اس کے جسم پر انگارے رکھے گئے، وہ نہیں رویا،
    اس کے کانوں میں کیڑے چھوڑے گئے، وہ نہیں رویا!
    وہ تمام ٹارچر کیے گئے جن کا صرف تصور ہی دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔۔۔۔ لیکن وہ اف تک نہ بولا!
    اور جب اس کو نیم مرگ کیفیت میں فوجی ہسپتال لایا گیا، اور وہاں ایک بوڑھی خاکروب عورت نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔۔ عقیدت سے، محبت سے۔۔۔۔

    تب الیکوس کی آنکھیں، پورے اتھینز ندیا کی صورت بن گئی! بوڑھی نے سبب پوچھا:
    الیکوس نے جواب دیا: “انسان کو نفرت اور مضبوط کرتی ہے، لیکن محبت ۔۔۔۔۔ میں نے برسوں کے بعد یہ دیکھی ہے، یہ آنسؤ ۔۔۔ محبت کا نذرانہ ہیں! میں کیا دے سکتا ہوں تمہیں ان کے عیوض؟۔۔۔۔۔۔

    اور اس وقت میری حالت الیکوس جیسی ہی ہے۔ میں کس کس کا نام لے کر ان کا شکریہ بجا لاؤں، اور شکریہ؟۔۔۔۔ کتنا عامیانہ لفظ!
    اے میرے مالک! میری حیاتی کا ہر سانس آپ سب لوگوں کے نام۔۔۔۔۔
    جو مجھے نہیں جانتے ان کے احسان۔۔۔۔
    بہنا نگہت ۔۔۔۔ بس اب کچھ نہیں!
    مجھے وہ سب مل گیا جس کو پانے کے لیے انسان برسوں کی ریاضتیں کرتا ہے۔۔۔ یہ سب آپ میرے اپنوں کے احسان ہیں۔۔۔
    کاش میں ان احسانوں کو صحیح طرح سے گانے کا بھی حق ادا کر سکوں۔۔
    آپ سب کا
    بہت اپنا
    فیاض امر

  22. فیاض جی۔
    اللہ آپ کو نظر بد سے بچائے۔ آمین۔ میرے بھائی ذرا آہستہ چلو۔۔ ۔۔۔۔ اللہ آپکو لمبی زندگی دے اور تھوڑی خاکساری کم کرو کہ میرے جیسے انا کے پجاری کہیں خود بخود گمراہ نہ ہوجائیں۔۔۔۔آپکو تو پتہ ہی ہے کہ نمرود اور شداد نے دعوائے خدائی اصلا خود نہیں کیا تھا، بلکہ عوام کی مسلسل خاکساری اور انکساری نے یہ نوبت لا دی کہ انہیں خود بھی فریب ہونے لگا۔ جسے آجکل سیلف ہائپنوسسز کہتے ہیں۔ یہ طرہ تو صرف کائینات میں ایک شخصیت کو حاصل ہے کہ لوگ سجدہ بھی کریں اور خدا مانیں اور وہ انہیں اس جرم پر قتل کر دے۔ ورنہ خود نمائی اور خود زیبائی کسے نہیں بھاتی۔ پھر میرے جیسا کمزور نفس کا انسان تو بہت آسانی سے ادھر اُدھر ہو جاتا ہے۔ اور ہاں خدا کے لئے اپنا صدقہ دیا کرو۔ یہ مشورہ ایک بھائی کا سمجھ لو۔ اس بار آپکی تحریر پر تبصرہ نہیں کر رہا۔ اول تو اس تحریرپر تبصرہ مشکل تھا، اور ثانیا بھی مشکل ہی تھا۔۔۔۔۔ہا ہا ہا۔ بس اتنا کہوں گا کہ جی کھول کر لکھو لیکن گولی میٹھی ہی رکھنا۔
    جیتے رہو اور لکھتے رہو۔
    خیر اندیش
    نا چیز

  23. سب سے پہلے تو عا لمی اخبار کے سب لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کو آداب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاص طور پر فیاض بھای کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی اخبار سے میرا تعلق چند د نوں سے ہے ۔۔۔۔۔۔فیاض امر کو پڑھ کر مجھ سے رہا نہ گیا کے کے میں ان کے لیے چند الفاظ لکھوں۔۔۔۔

    فیاض امر زندگی کے ہر لمحے میں اس ناچیز کی دعا آپ کے لیے ہیں خدا آپ کو میری زندگی کا ہر لمحہ عطا کرے

    آمین

  24. محسن بھائی آپ کو بلاگ کی محفل میں بہت بہت بلکہ دل سے خوش آمدید ۔۔آپ کی ھر دعا پر آمین ۔۔

  25. ایک زندہ جاوندہ تحریر، جس میں زہر ہی زہر ہے، کیونکہ سچ کا ذائقہ زہریلا ہی ہوتا ہے۔۔اور کیا لکھوں کہ اس تحریر کا رنگ اتنا گہرا ہے کہ اس پر اور کوئی رنگ نہیں جچے گا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *