موت برحق ھے پر برق کی طرح گرتی ھے

آج سن دو ھزار نو کی چھبیس جون ھے اورکہیں جمعرات کی شب ھے تو کہیں‌ جمعہ کی صبح ھو چکی ھے ۔۔ اور کتنے ھی اورلوگوں کی طرح پچاس سالہ مائیکل جیکسن اس دنیا سے رخصت ھو گیا ۔۔ خالی ھاتھ آیا تھا اوراچھے برے اعمالوں سے جھولی کے ساتھ دونوں ھاتھ بھر کر ساتھ لے گیا ۔۔ مجھے آج تک کوئی اس بات پر قائل نہیں کر سکا کہ ھم جس طرح خالی ھاتھ آتے ھیں ویسے ھی خالی ھاتھ جاتے ھیں‌ ۔۔ مجھے وہ سارے لوگ denial میں لگتے ھیں ۔۔۔ شائد ھمیں آنکھیں بند ھوتے ھی اپنے گناہوں ثوابوں سے بھری جھولی اور گناہوں ،ثوابوں سے رنگے ھاتھ نظر نہیں آتے ۔۔ جبکہ بڑے سب کہتے ھیں کہ مرنے والے کو سب نظر آتا ھے ۔۔۔
جب بھی میں کسی کے اس طرح جانے کی خبر سنتی ھوں تو میری نظر اپنے ٹیبل پررکھے کلینڈر پر چلی جاتی ھے اور پھر خود سے ھی کہتی ھوں کہ موت ایک دفعہ پھر اپنی تمام ترحقیقتوں کے ساتھ میرے سامنے کھڑی ھو گئی ھے ۔۔اور ھمیشہ کی طرح میں کلینڈر سے ھارنے لگتی ھوں جس میں چھپی تاریخیں مجھے باور کراتی ھیں کہ انہی تاریخوں میں سے ایک دن ۔۔ کسی وقت میں بھی ۔۔۔۔ اب مجھے کلینڈر اچھے نہیں لگتے جس کی ھر تاریخ میں ایک نہیں کئی حقیقتیں درج ھیں ۔
میں نے دنیا میں آخری سانس سے زیادہ اکھڑ اور بدمزاج کو ئی سانس نہیں دیکھی جو ایک بار کہہ کر گئی کہ واپس نہ آؤنگی تو کوئی بھی اسے بلا نہ پایا ۔۔ اتنی شہ زور اور مغرور جوسوائے اپنے مالک کے کسی کی نہیں سنتی ۔۔۔ میں خود کو آج بھی اتنا ھی بے بس پاتی ھوں ۔۔ جتنا اس دن خود کو پایا تھا ۔۔۔۔ جس دن میرے ھاتھوں میں میرے پہلے مریض نے دم توڑا تھا اور مجھے میری حقیت کے ساتھ اوقات بھی بتا دی تھی ۔۔۔۔۔ دوستو کیا یہ صرف مجھے ھی ایسے لگتا ھے کہ جیسے ھر سانس مجھے میری اوقات بتا رھی ھو یا۔۔۔۔۔۔؟

12 thoughts on “موت برحق ھے پر برق کی طرح گرتی ھے”

  1. بہنا!
    چلو، ہم تھوڑا اوپر چلتے ہیں! یہ بالکونی پہلی منزل کی ہے، ذرا وہ منظر صاف نہیں دکھائی دے رہا جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں! چلیں ہم اوپر والی منزل پر چلیں!

    ہاں اب پھر بھی ٹھیک ہے۔۔۔۔ دیکھو، یہ تیسری منزل ہے۔ کم از کم یہاں گرائونڈ سے جانے والی کھلاڑی ہی نظر نہیں آرہے، پر کچھ اور بھی اچھے اچھے کھلاڑی آتے دکھائی دے رہے یہاں سے۔ گو کہ ہماری انسیت ان کھیلنے والے کھلاڑیوں سے اتنی ہوگئی تھی کہ ہم نے ان کو لجینڈ بنا دیا تھا۔ پر فطرت کے پاس تو کوئی لجینڈ نہیں! دیکھو، ذرا دور دیکھو۔۔۔۔۔ کتنی لمبی قطار ہے آنے والوں کی! کتنے پیارے پیارے اور حسیں چہرے یہاں آنے کو قطار میں لگے ہوئے ہیں! پتہ نہیں ان میں کتنے بلند پائے کے شاعر، گائک، فلسفی۔ سائنسدان وغیرہ ہونگے!
    میری پیاری سی بہنا۔۔۔۔ یوں فطرت اگر ہمارے چاہنے والوں کو ہمارے ساتھ ہی رکھے تا عمر ہماری تو، یہ آنے والے کیسے آئیں گے؟
    کشتی تو یہی ہے، کتنا بوجھ اٹھائے گی۔۔۔۔
    مجھے مائیکل جیکسن کی تمام باتیں ایک طرف لیکن اس کا نرالا ڈھنگ اتنا اچھا لگتا تھا کہ کیا بتاؤں۔
    اس کا اچھا کام ہی یہی تھا کہ وہ سب سے جدا رہنا چاہتا تھا، کم از کم اس بھیڑ کا حصہ بننا اس کا مقصد نہ تھا۔ (اس نے سی این این کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں یہی اس نے کہا تھا۔)

    گذر گیا۔۔۔۔
    پھر Hall of Guf سے ایک چڑیا آئے گی اور ایک نیا روح لائے گی۔۔۔۔۔۔ اور یہ سلسلہ رواں دواں۔۔۔۔
    (MJ likes the movie The 7th Sign, in which that myth The Hall of Guf is focused)

    دعاؤں کا طالب
    فیاض امر

  2. کشتی تو یہی ہے، کتنا بوجھ اٹھائے گی۔۔۔۔پھر Hall of Guf سے ایک چڑیا آئے گی اور ایک نیا روح لائے گی۔۔۔۔۔۔ اور یہ سلسلہ رواں دواں۔۔۔۔کشتی تو ایک ھی ھے ۔۔آخر کتنا بوجھ اٹھائے گی ۔۔۔

  3. اس کا کھٹکا کیوں ہے جی میں جیون تیرا میرا کھاتا
    بند کرے تو پھر اس جگ میں کوئی نہ آتا جاتا
    جانے کب سے بیٹھا ساقی بھرتا جائے خالی پیالہ
    ہم سے لاکھ ہزار بلبلے پل میں مٹاتا پل میں بناتا

  4. it is soooooooooo sad Michael Jackson has passed away..
    definitely THE king of pop… there won’t be another like him…

    Kulu Nafsin Za Ikatul Mawt (کل نفس ذایقتہ الموت)
    ‘Death, from which you are fleeing, will certainly catch up with you.Then you will be returned to the Knower of the Unseen and the Visible and He will inform you about what you did.
    ( Surah al jumua)

  5. اللہ سب کا خاتمہ بخیر کرے اور عاقبت بھی بخیر کرے آمین ثم آًمین یا رب العالمین
    کبیر جب تم جگ میں آئے جگ ہنسا تم روئے
    کرنی ایسی کرچلو کہ تم ہنسو جگ روئے
    (کبیر داس )
    ۔۔۔۔۔۔
    سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
    کفن سرکاو میر بے زبانی دیکھتے جاو
    (فانی )
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابھی کیا ہے کسی دن خوں رلا دے گی یہ خاموشی
    زبانِ حال کی جادو بیانی دیکھتے جاو
    (فانی )
    ۔۔۔۔
    موت برحق ہے
    حق کہنا آسان ہے مگر حق کا سننا بے حد مشکل ہے
    ۔۔ فقط
    منطور قاضی از جرمنی

  6. آدمی مثلِ شجر ہے جو ہرا ہے کچھ برس– کٹ کے گر جائے گا اک دن کیوں کہ آرا ہے نفس
    یہ سرِ نا پاک کیا ہے ایک ہڈی کا قفس– آ پھنسا ہے جس میں دو دن کے لئے موجِ نفس
    موت کا صیّاد جب آئے گا شوقِ جبر میں– چڑیا اُ ڑ جائے گی پنجرہ پھنیک دیں کے قبر میں
    سوچیں کیا کل ہماری باری ہے۔۔۔۔کون جانے وہ کل ہو شاید آج۔۔۔

  7. سوچ رہا ہوں کہ لکھ ہی ڈالوں جو کئی برس سے کہتا ہوں ان سب لوگوں سے لیکن کوئی نہ میری بات سنتا ہے اور نہ مانتا ہے۔ آج اس تحریر کو پڑھ کر سوچا کہ اتار دوں اس بوجھ کو اور لکھ دوں اس حقیقت کو کہ جس کا سامنے کرنا ہی بہادری ہے۔ مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام نے کہا تھا کہ زندگی ایک حقیقیت ہے لیکن زندگی سے بڑی اور اٹل حقیقت موت ہے۔ اچھا چلو پھر آج نہیں۔۔۔۔۔کسی اور وقت لکھوں گا جو لکھنا چاہتا ہوں، شاید ابھی اذن نہیں۔

  8. ایسے لوگ،خواہ وہ کسی بھی ملک یا فرقے سے ہوں، میں سمجھتا ہوں امن کے سچّے فرشتے ہوتے ہیں، ان لوگوں کو خدا کی دی ہوئ صلاہیت سرہدوں میں قید نہیں رہتی۔ اسکی کچھ اور مسالیں ہمارے سامنے ہیں جیسے ہماری لتا منگیشکر، جنکے چاہنےوالے فقط ہندوستان کے لوگ نہیں ہیں، پاکستان، بنگلادیشی، نیپالی اور دنیا کے انگنت ممالک اور تپقوں کے لوگ پھی انکے اتنے ہی مدّاہ ہیں۔

    مہمد رفی اس وقت بھی ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کے برابرسے ہردِل عضیض تھے جس وقت ان دو ممالک کے بیچ جنگ ہو رہی تھی اور نفرتوں کے طوفان تباہیاں کر رہے تھے۔

    میں ایک ہندوستانی ہوں مگر میں مہدی حسن کا اتنا ہی بڑا پرستار ہوں جتنا کوئ پاکستانی ہے۔

    ایسے لوگ اپنے جیتےجی اور اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے کے بہت باد بھی دنیا بھر کے لوگوں کو ایک اندیکھی گرہ میں باندھے رہتے ہیں۔

  9. موت۔۔۔۔۔انتہائی عجیب موضوع۔ چند ملے جُلے خیالات۔
    ١- قُلْ انَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْہُ فَاِنّہ مُلَاقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ الَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّھَادَتِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( الجمعہ ایت ٨) کہ؛ کہ دو رسول (ص) کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تو تمہیں مل کر ہی رہے گی۔ پھر تم غیب اور طاہر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں خبر دے دے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔
    ٢- انَّكَ مَيِّتٌ وَاِنَّھُم مَّيِّتُونَ ( الزمر آیت ٣٠) کہ میرے رسول آپ میت ہیں اور یہ لوگ بھی میت ہونے والے ہیں۔
    ٣- تبارک الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَات لِيَبْلُوَكُمْ ايُّكُمْ احْسَنُ عَمَلًا وَھوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (سور ملک) کہ با برکت ہے وہ ذات جس نے موت اور حیات کو خلق کیا تا کہ تمہیں آزمائے کہ بہتر عمل کون کرتا ہے اور وہ ( اللہ) حکومت والا بھی ہے اور بخشندہ بھی۔
    موت کے حوالہ سے یوں تو قرآن میں بہتر٧٢ مقامات پر ذکر آیا ہے لیکن میں نے تین آیات محولہ کی ہیں جن میں عجیب انداز سے بات کی گئی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ موت سے فرار ممکن نہیں، جیسا کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے دعائے خضر میں بھی تعلیم کیا کہ لا یمکن الفرار من حکومتک کہ تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں۔ اس لئے ہم مانیں یہ نہ مانیں، کسی نہ کسی کیلنڈر کی تاریخ میں ہمارے نام کا دائرہ تو لگا ہی ہوا ہے۔ اور موت کے بعد ہمارا کیا دھرا ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اسی حوالے سے دوسری آیت بھی ہے، لیکن اسکا انداز تخاطب عجیب ہے کہ رسول (ص) پاک کو انکی حیات میں میت کہا گیا ہے۔ علمائے تفسیر اس سے مراد جسمانی موت نہیں لیتے بلکہ ان پردوں کا ہٹ جانا ہے جو موت کے بعد ہی ہٹتے ہیں، لیکن رسول پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے سامنے سے وہ حجابات انکی زندگی میں ہی ہٹے ہوئے تھے۔ موت کے بعد ہم نے کیا اچھا کیا، کیا برا کیا اور کیا یاد رکھا یا کیا بھولا دیا، سب ہم پر افشاء ہوجاتا ہے ا۔۔۔۔۔۔۔
    تیسری آیت مبارکہ اور بھی عجیب ہے کہ اس میں موت کے خالق کو برکت والا کہا گیا ہے۔ ظاہری نظر میں تو موت مصیبت ہے، لیکن اہل ایمان کے لئے ایک نعمت بھی کہ اس کے بعد انہیں دنیا کی مختصر زندگانی کی نیکی کا لا متناہی اجر مل جاتا ہے۔ بعض لوگ اس آیت میں ذکر کی باری کے لحاظ سے کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک شارہ ہے کہ موت کو حیات سے پہلے خلق کیا گیا ۔۔۔۔تاہم یہ امر بحث طلب بین العلماء رہا ہے جیساکہ کچھ کے نزدیک حیات پہلے وجود میں آئی جسکا ثبوت خلقت اول ہے جو حیات ہی حیات ہے۔ خود اللہ کریم حیّ ہے، لذا اسکی تخلیق میں جب کچھ نہ ہونے کچھ آیا تو وہ حیات ہی تھی۔

    یہ ساری باتیں ایک طرف لیکن آج صبح جب مائیکل کی موت کی خبر سنی تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آج کتنے ہی لوگ اس جہان فانی سے چل دئیے ہونگے، لیکن ایک مائیکل ہی کی خبر کیوں؟ ۔۔۔۔جہاں مشاہیر اپنی زندگی میں اپنے آثار چھوڑتے ہیں، وہاں انکی موت بھی ایک لمحہ فکریہ اور نشان عبرت بن جاتی ہے۔ صاحبان بصیرت کسی بھی قوم سے ہوں، کم از کم وہ زندگی کے جھمیلوں میں ایک بار موت کے تصور سے لرزتے ضرور ہیں۔ مائیکل کی عزت، شہرت، دولت، دوست، مداحین، کوئی بھی اسکے سر سے موت کو نہ ہٹا سکے۔ حالاں اسکے لئے دنیا کے بیوپار میں دل، جگر، دماغ، اور خون سمیت کون سا عضو اور عنصر تھا جو خریدا نہ جا سکتا۔ لیکن موت آ گئی تو چاہے جتنے زندہ دل و دماغ پیوست کر دو، وہ بھی موت کا نشانہ بن جائیں گے۔۔۔۔ قرآن کا دعویٰ کہ کل نفس ذائقت الموت کو جب کوئی نہیں جھٹلا سکا تو ھر اسکے باقی دعوؤں پر بھی تو غور کرنا چاہئے نا! فَاعْتَبِرُوا يَا اولِي الْابْصَارِ (سورہ حشر آیت نمبر ٢) کہ اے بصیرت والو عبرت پکڑو۔
    آج کئی گمنام لوگوں کے علاوہ جناب میاں طفیل (سابق امیر جماعت اسلامی ) بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انکی موت کی خبر کو اتنی اہمیت نہ مل سکی جتنی مائیکل کی موت کو۔ چند دن پہلے عالم ربّانی حضرت آیت اللہ تقی بہجت انتقال فرما گئے تھے، انکی موت بھی اتنی شہرت نہ پا سکی۔ اسی لئے کہ انکی زندگی بھی اتنی مشہور نہ تھی جتنی مائیکل کی۔ جو دنیا میں جتنا بڑا کردار ہوتا ہے، اسکی خبر بھی اتنی بڑی۔ کہیں ایسا کائینات کے اُس طرف بھی تو نہیں کہ آج فرشتوں اور صاحبن حساب و کتاب کے مابین بھی مائیکل کی زندگی کا حساب آج کے اخباروں کی طرح زیادہ صفحے لے رہا ہو؟

    اللہ کریم ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے مشاہر حق کے ساتھ متوسل و ملحق رکھے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے بحق محد و آلہ الطاہرین۔

  10. سلام علیکم

    موت برحق ھے یہ ایک ایسی حقیقت ھے جس کو لوگ دانستہ طور پر فراموش رکھتے ھیں ۔ نہ جانے کیوں بھت حیرت کا اظہار کیا جاتا ھے کہ فلاں شخص کیسے بیٹھے بٹھائے مرگیا۔
    بھول جاتے ھین کہ ھر شخص کو اللہ کے روبرو اپنے اعمال کی جوابدھی دینی ھے۔ ذندگی دارلامتحان ھے۔ اگر یہ بات کی اھمیت انسان کو پتہ چل جائے تو وہ نہ کبھی کسی کا دل دکھائے نہ کسی کو ایذا پھونچائے۔ نہ کسی پر تھمت ترا شے
    یہ بات طے ھے کہ آج سے 60 سال کے بعد اس بلاگ کے شرکاء میں ایک بھی صفحہ ھستی پر موجود نھیں ھوگا
    اس وقت یہ تمنا رھے گی کاش اللہ ھم کو تھوڑی سی ذندگی دے دے تو سوائے عبادت اور نیک کامون کے کچھ اور نھیں کریں گے
    اللہ ھم سب کو نیک ھدائت دے اور کاتمہ بخیر کرے آمین
    مسعود قاضی ڈلس ٹیکساس

  11. موت کے بارے تو بس اتنے ھی الفاظ ہیں میرے علم میں ۔۔۔۔۔۔۔

    ” تیری بے رخی اور تیری مہربانی
    یہی موت اور یہی زندگانی ۔۔۔۔”

  12. سید مصباح حسین اور قاضی مسعود نے درست لکھا ہے ۔
    حیرت ہوتی ہے ایسے مسلمانوں پر بھی جو ہر وقت اللہ کو ملنے کی خواہش تو رکھتے ہیں ۔جب فوت ہو جاتے ہیں تودوسرے مسلمان دھاڑیں مار کر روتے بھی ہیں ؟
    مومن موت سے ہر گز نہیں ڈرتا۔
    اگر تم سچے ہو تو موت کی خواہش کرو سورۃ البقرۃ: ایت 95 ۔ المَوت اِنکُنتم صدِیقین۔
    جب موت برحق ہے تو پھر اس پر رونا دھونا کیوں ؟ کس بات کا افسوس ؟

    وسلام آویز برمنگھم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *