2014 ,September 01
اے مسلمانومبارک ہو نویدِ آفتا ب ۔ لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب ( جوش )

منظور قاضی ، بتاریخ  September 12, 2009

25 اگست کو لگنے والے اس بلاگ کو مقبولیت کی وجہ سے ایک بار پھر سر فہرست لایا جا رہا ہے۔۔۔۔انتظامیہ

نعت صلعم ( از جوش ملیح‌آبادی )
اے مسلمانو مبارک ہو نویدِ فتح یا ب
لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب
وہ اٹھے تاریکیوں کے بامِ گردوں سے حجاب
وہ عرب کے مطلعِ روشن سے ابھرا آفتاب

گم ضیائے صبح میں‌شب کا اندھیرا ہوگیا
وہ کلی چٹکی ، کرن پھوٹی سویرا ہوگیا

خسروَ خاور نے پہنچا دیں شعائیں دور دور
دل کھلے شاخیں ہلیں ، شبنم اڑی ، چھایا سرور
آسماں روشن ہوا ، کانپی زمیں پر موج ِ نور
پَو پھٹی ، دریا بہے، سنکی ہوا ، چہکے طہور

نورِ حق فاران کی چوٹی کو جھلکا نے لگا
دلبری سے پرچمِ اسلام لہرانے لگا

گرد بیٹھی کفر کی ، اٹھی رسالت کی نگاہ
گرگئے طاقوں سے بُت، خم ہوگئی پشتِ گناہ
چرخ سے آنے لگی پیہم صدائے لا الہٰ
ناز سے کج ہوگئی آدم کے ماتھے پر کلاہ

آتے ہی‌ ساقی کے ، ساغر آگیا ، خم آگیا
رحمتِ یزداں کے ہونٹوں پر تبسم آگیا

آگیا جس کا نہیں ہے کوئی ثانی وہ رسول (ص)
روحِ فطرت پر ہے جس کی حکمرانی وہ رسول ( ص)
جس کا ہر تیور ہے حکمِ آسمانی وہ رسول ( ص)
موت کو جسن بنا یا زندگانی وہ رسول (ص)

محفلِ سفاکی و وحشت کو برہم کردیا
جس نے خون آشام تلواروں کو مرہم کردیا

فقر کو جس کے تھی حاصل کج کلاہی وہ رسول (ص)
گلہ بانو ں‌ کو عطا کی جس نے شاہی وہ رسول ( ص)
زندگی بھر جو رہا بن کر سپاہی وہ رسول ( ص)
جس کی ہر اک سانس قانونِ الٰہی وہ رسول (ص)

جس نے قلبِ تیرگی سے نور پیدا کردیا
جس کی جاں‌بخشی نے مُردوں کو مسیحا کردیا

واہ کیا کہنا ترا اے آخری پیغامبر
حشر تک طالع رہے گی تیرے جلووں کی سحر
تونے ثابت کردیا اے ہادیء نوعِ‌بشر
مرد یوں مہریں لگا تے ہیں جبین ِ وقت پر

کروٹیں دنیا کی تیرا قصر ڈھا سکتی نہیں
آندھیا ں تیرے چراغوں کو بجھا سکتی نہیں

تیری پنہا ں قوتوں سے آج بھی دنیا ہے دنگ
کس طرح تو نے مٹا یا امتیازِ نسل و رنگ
ڈال دی تونے بِنائے ارتباطِ جام و سنگ
بن گیا دنیا میں تخیل ِ اخوت ذوقِ جنگ

تیرگی کو روکشِ مہرِ درخشاں کردیا
تونے جس کانٹے کو چمکا یا گلستا ں کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اس بلاگ میں نعتو ں کا سلسلہ شروع کررہا ہوں ۔ کوشش یہی ہوگی کہ معروف شعرا کی نعتیں پیش کروں ۔
اگر کوئی قاری اس بلاگ میں اپنی یا کسی معروف شاعر کی نعت شامل کرے تو ا س بلاگ کی رونق اور افادیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ زرقا مفتی صاحبہ اور امین ترمذی صاحب اور تلمیذ فاطمہ صاحبہ ان نعتوں میں لکھے ہوئے مشکل الفاظ ، استعارات اور تلمیحات کی تشریح فرما کر تمام پڑھنے والوں کےعلم میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم سب کو نہ صرف صحیح اردو سیکھنے اور سکھانےکا موقعہ ملے گا بلکہ تاریخ ِ اسلام کو بھی سمجھنے کا موقعہ ملے گا۔

میرے خیال میں‌ اس طرح ہم سب کے ذہن ایک دوسرے کی اردو پر نکتہ چینی کی بجائے ” صحیح ” اردو پر توجہ دے سکینگے ۔

یہ ایک تعمیری اور مثبت بلا گ ہے ۔ انشااللہ اس مقدس مہینے ( رمضان ) میں اور اسکے بعد بھی ہم سب اس بلاگ کے علم سے مستفید ہوسکینگے ۔

فقط :
ایک سیدھا سادہ مسلمان
منظور قاضی از جرمنی


176 تبصرے برائے “اے مسلمانومبارک ہو نویدِ آفتا ب ۔ لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب ( جوش )”

  1. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 25, 2009 بوقت 9:47 pm

    منظور بھائی ایک بار پھر آپ کا شکریہ کہ آپ نے ھم سب کو موقعہ دیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر سکیں ۔۔ آیئے ان برکتوں کوایک دوسرے میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔
    نعتِ سرورِ کونین

    فخر انبیا،تاجدار مدینہ،ختم الرُسل، مولائے کُل،باعثِ خلق کائنات،آقائے دو جہاں کے نام کہ جنہوں نے میرے قلم کو اپنا اسمِ پاک لکھنے کی اجازت بخشی اور مجھے اذنِ کلام دیا۔

    اللہ کی عطا ہے محبت رسول کی
    ورثہء انبیا ہے فضیلت رسول کی
    ۔۔۔
    دیتا رہا جو جان کے دشمن کو بھی دعا
    درکار پھر ہے آج وہ سیرت رسول کی
    ۔۔۔
    عشقِ رسول عشقِ خدا کا ہے آئینہ
    دیکھا خدا کو دیکھ لی صورت رسول کی
    ۔۔۔
    انکار اہلبیتِ بنوت سے الاماں
    دعوت یہ کارِ شر ہے عداوت رسول کی
    ۔۔۔
    یاسین کا وجود محمد کا ہے وجود
    تطہیر کا مزاج طہارت رسول کی
    ۔۔۔
    خوشبو نبیء پاک کی ہر لفظ لفظ میں
    قرآن کر رہا ہے تلاوت رسول کی
    ۔۔۔
    اپنے عمل کو زینتِ کردار کرنا ہے
    گر چاہتے ہو تم بھی شفاعت رسول کی
    ۔۔۔
    کس سے بیاں ہوں رحمتِ کُل کی فضیلتیں
    قرآں کا حرف حرف فضیلت رسول کی
    ۔۔۔
    مدحت رسولِ پاک کی لکھنے کا یہ شرف
    تم پر نسیم خاص عنایت رسول کی

  2. عبدالمناف نے کہا ہے:
    August 25, 2009 بوقت 10:37 pm

    واہ واہ واہ
    ماشاء اللہ
    محترمہ بہن نگہت نسیم صاحبہ
    آپ نے یہ خوب صورت نعت کہہ کر اپنی شفاعت کا سامان تو کر لیا
    ایک روز آپ جنت میں اللہ کے رسول (ص) کی خدمت میں یہ نعت خود سنائیں گی، انشاء اللہ

    انکار اہلبیتِ بنوت سے الاماں
    دعوت یہ کارِ شر ہے عداوت رسول کی

    اپنے عمل کو زینتِ کردار کرنا ہے
    گر چاہتے ہو تم بھی شفاعت رسول کی

  3. عبدالمناف نے کہا ہے:
    August 25, 2009 بوقت 10:38 pm

    منظور قاضی صاحب!
    اس خوبصورت بلاگ کو شروع کرنے پر مبارکباد اور شکریہ

  4. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 25, 2009 بوقت 10:47 pm

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنی نہایت ہی عقیدت مندانہ نعت سے اس بلاگ کو اور بھی اہم بنا دیا ۔
    سبحان اللہ ، ماشا اللہ ، اللہ آپ کو مدحتِ رسول ( ص) کی نیک جزا عطا فرمائے ۔ آمین

  5. تلمیذ فا طمہ برنی نے کہا ہے:
    August 25, 2009 بوقت 11:22 pm

    محمد مصطفی اللہ اکبر
    بشر بھی خیر بھی خیرالبشر بھی

    منّو ر بد ایو نی

  6. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 25, 2009 بوقت 11:45 pm

    جس دل کی دھڑکنوں میں محمد کا نام ہے
    اس آدمی پہ آتشِ دوزخ حرام ہے
    اُس ذات پر نزولِ کلامِ خدا ہوا
    جسکی ہر ایک بات خدا کا کلام ہے
    ”صفدر”

  7. عمران چوہدری نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 1:02 am

    سلام و رمضان مبارک
    میری لکھی ہوئی نعت کا ایک شعر عرض خدمت ہے
    اُسکو محدود نہ کر کہہ کے مدینے والا
    وہ زمانوں کے لیئے ہے نہ مکانوں کے لیئے

  8. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 2:57 am

    سبحان اللہ ۔۔ماشاللہ ۔۔اللہ پاک ھم سب کی حقیر سی یہ کوششیں قبول فرمائے ۔۔آمین

  9. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 9:49 am

    ڈاکٹر صاحبہ ہم اسے حقیر سی کوشش کیوں کہتے ہیں۔ حقیر ہم ہوسکتے ہیں یہ کوشش نہیں۔ یہ تو پروانہ جنت ہے۔ویزہ ہے پل صراط سے گزرنے کا۔

  10. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 9:55 am

    جی بابا آپ صحیح کہتے ہیں ۔۔ آئیندہ سے ایسا کبھی نہیں لکھوں گی ۔۔ آپ واقعی درست کہہ رھے ہیں کہ کوشش کبھی حقیر نہیں ھو سکتی ۔۔ ھم انسان خطا کے پتلے ضرور حقیر ھو سکتے ہیں ۔ تصیح کے لیئے ممنون ھوں ۔ اللہ پاک آپ کو صحت اور تندرستی عطا کرے ۔۔ آپ مجھے ضرور بتایا کریں جہاں میں غلطی کروں ۔

  11. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 10:12 am

    جزاک اللہ اور ماشا اللہ ، جس خلوصِ نیت سے تمام مبصر اس عظیم شخصیت ( ص ) کی مدحت کررہے ہیں اس کا اجر اللہ ہی دینا والا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔
    اب اس مبارک بلاگ میں میر انیس کی نعت کے وہ چند اشعار پیش کرتا ہوں جنھیں ظفرجعفری صاحب نے میر انیس کے بلاگ میں شائع کیے ہیں :
    یہاں میں اپنی کمپیوٹر کی ترکیبوں سے کم علمی کا اعتراف کرتا ہوں اس لیے کہ میں جب بھی میر انیس کی اس نعت کو اس بلاگ سےاس بلاگ میں منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے ناکامی ہوتی ہے ۔ پھر بھی میں میر انیس کی نعت کے مندرجہ ذیل اشعار پیش کرتا ہوں: ( پوری نعت پڑھنے کے لیے آ پ سب میر انیس کا بلاگ جسے ظفر جعفری صاحب نے پیش کیا ، اسےپڑھ سکتے ہیں) :

    میر انیس کی نعت کے چند اشعار :

    ہر چند کہ ہے وہ خلفِ آدم و حوّا
    بر حق نے کیا ہے شرفِ آدم و حوّا

    اُس شاہ سے کونین میں بہتر نہیں کوئ
    بہتر کا تو کیا ذکر ہے ہمسر نہیں کوئ
    حق یہ ہے کہ ایسا تو پیمبر نہیں کوئ
    جرّار و بہادر نہیں صفدر نہیں کوئ
    ادنیٰٰ سا یہ رتبہ ہے جسے ذکر کیا ہے
    بوذر کو شرف اس کی غلامی سے ملا ہے

    خالق نےکیا اُسکو ملائک سے بھی افضل
    آخر کیا معبوث تو پیدا ہوا اوّل
    واں پہنچا جہاں کوئ بھی پہنچا نہیں مُرسل
    پہنچے نہ فرشتے بھی بھلا اور کا کیا دخل
    سب معجزے تھے اس میں رسولانِ سلف کے
    پہچانا کسی نے نہ سوا شاہِ نجف کے

    پُر نور سدا رہتی تھی پیشانئ انور
    اُس نور سے رہتے در و دیوار منوّر
    جب اپنے کبھی ہاتھ اُٹھاتے تھے پیمبر
    ضو اُنگلیوں کی دیکھتے تھے لوگ برابر
    اُس نور کا کیا وصف کروں میں کہ وہ کیا تھا
    وہ نورِ خدا نورِ خدا نورِ خدا تھا

    آتی تھی یہ خوشبو تنِ محبوبِ خدا سے
    بے قدر ہے تشبیہ جو دوں عطرِ حنا سے
    بو باس ہے گلشن میں اُسی زلفِ رسا سے
    کوچے جو مہکتے گزرِ شاہِ ھُدا سے
    سب کہتے تھے اِس راہ میں خوشبو جو سوا ہے
    شاید گُذرِ احمدِ مختار ہوا ہے

    لکھا ہے یہ تھا معجزہء خاص بیمبر
    سر پر سے نہ نکلا کوئ طائر کبھی اُڑکر
    بیٹھی نہ مگس بھی کبھی حضرت کے بدن پر
    تھے نور میں اعضاء مبارک بھی برابر
    کوئ عقبِ پشت اگر جاتا تھا چھپ کر
    حضرت کو نظر آتا تھا وہ شخص برابر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی ا ز جرمنی

  12. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 10:24 am

    نعت گوئی کا ایک بہت بڑا نام۔مرحوم حفیظ تائب

    خوشبو اے دو عالم میں تری اے گل چیدہ
    کس منہ سے بیاں ہو ترے اوصاف حمیدہ

    تجھ سا کوئی آیا نہ آئے گا جہاں میں
    دیتا ہے گواہی یہی عالم کا جریدہ

    سیرت ہے تری جوہر آئینہ تہذیب
    روشن ترے جلوؤں سے جہان دل و دیدہ

    مضمر تیری تقلید میں عالم کی بھلائی
    میرا یہی ایمان ہے یہی میرا عقیدہ

    اے رحمت عالم تیری یادوں کی بدولت
    کس درجہ سکوں میں ہے ترا قلب تپیدہ

    یوں درو ہوں تائب میں حریم نبوی سے
    صحرا میں ہو جس طرح کوئی شاخ بریدہ

  13. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 10:25 am

    مرا پیمبر عظیم تر ہے۔۔۔مظفر وارثی
    مرا پیمبر عظیم تر ہے
    کمالِ خلاق ذات اُس کی
    جمالِ ہستی حیات اُس کی
    بشر نہیں عظمتِ بشر ہے
    مرا پیمبر عظیم تر ہے

    وہ شرحِ احکام حق تعالیٰ
    وہ خود ہی قانون خود حوالہ
    وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری
    وہ آپ مہتاب آپ ہالہ
    وہ عکس بھی اور آئینہ بھی
    وہ نقطہ بھی خط بھی دائرہ بھی
    وہ خود نظارہ ہے خود نظر ہے
    مرا پیمبر عظیم تر ہے

    شعور لایا کتاب لایا
    وہ حشر تک کا نصاب لایا
    دیا بھی کامل نظام اس نے
    اور آپ ہی انقلاب لایا
    وہ علم کی اور عمل کی حد بھی
    ازل بھی اس کا ہے اور ابد بھی
    وہ ہر زمانے کا راہبر ہے
    مرا پیمبر عظیم تر ہے

    وہ آدم و نوح سے زیادہ
    بلند ہمت بلند ارادہ
    وہ زُہدِ عیسیٰ سے کوسوں آ گے
    جو سب کی منزل وہ اس کا جادہ
    ہر اک پیمبر نہاں ہے اس میں
    ہجومِ پیغمبراں ہے اس میں
    وہ جس طرف ہے خدا ادھر ہے
    مرا پیمبر عظیم تر ہے

    بس ایک مشکیزہ اک چٹائی
    ذرا سے جَو ایک چارپائی
    بدن پہ کپڑے بھی واجبی سے
    نہ خوش لباسی نہ خوش قبائی
    یہی ہے کُل کائنات جس کی
    گنی نہ جائيں صفات جس کی
    وہی تو سلطانِ بحرو بر ہے
    مرا پیمبر عظیم تر ہے

    جو اپنا دامن لہو میں بھر لے
    مصیبتیں اپنی جان پر لے
    جو تیغ زن سے لڑے نہتا
    جو غالب آ کر بھی صلح کر لے
    اسیر دشمن کی چاہ میں بھی
    مخالفوں کی نگاہ میں بھی
    امیں ہے صادق ہے معتبر ہے
    میرا پیمبر عظیم تر ہے

    جسے شاہِ شش جہات دیکھوں
    اُسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں
    عنانِ کون و مکاں جو تھامے
    خدائی پر بھی وہ ہاتھ دیکھوں
    لگے جو مزدور شاہ ایسا
    نذر نہ دَھن سربراہ ایسا
    فلک نشیں کا زمیں پہ گھر ہے
    میرا پیمبر عظیم تر ہے

    وہ خلوتوں میں بھی صف بہ صف بھی
    وہ اِس طرف بھی وہ اُس طرف بھی
    محاذ و منبر ٹھکانے اس کے
    وہ سربسجدہ بھی سربکف بھی
    کہیں وہ موتی کہیں ستارہ
    وہ جامعیت کا استعارہ
    وہ صبحِ تہذیب کا گجر ہے
    میرا پیمبر عظیم تر ہے

  14. محمداحمد ترازی کراچی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 11:26 am

    جناب ادیب رائے پوری کی ایک خوبصورت نعت کے چند شعر عرض ہیں

    مدحت ان کی کیوں نہ کریں وہ مدحت کے حق دار بھی ہیں
    بعدِ خدا جو اپنی حدوں میں مالک بھی مختار بھی ہیں

    تبلیغ اسلام کی منزل آساں بھی دشوار بھی ہے
    رحمت کا گہوارہ بھی طائف کا بازار بھی ہے

    حق کی راہ پہ چلنے والو خار خار بھی گل بن جائیں گے
    دشت نہ سمجھو اس دنیا کو یہ دنیا گل زار بھی ہے

    طوفانوں کا کیا ڈر ہم اسوہ احمد اپنے لئے
    کشتی بھی ہے سا حل بھی ناو بھی ہتوار بھی ہے

  15. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 1:21 pm

    اگر احمد فراز کی مشہورِ زمانہ نعت ( ص) کسی قاری کے پاس ہے تو اس بلاگ میں عطا کردے۔ ( احمد فراز کو وفات پاکر ایک سال ہوگیا ۔ حق مغفرت کرے بڑا بے باک اور صاف گو شاعر تھا )۔

  16. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 2:05 pm

    ” شیخ مصلح الدین سعدی شیراز ی اس طرح رسول ( ص) کی شان میں یوں مدح سرا ہوتے ہیں:
    بلغ العلیٰ بکمالہِ کشف الدجیٰ بجمالہِ
    حسنت جمیع خصالہ صلّو علیہ و آلہِ
    ترجمہ : وہ ( ص) اپنے کمال کی بلندیوں پر پہنچے اور انہوں نے اپنے جمال سے تاریکیاں کا فور کردیں۔ ان کے اطوار پسندیدہ تھے ۔ ان پر اور انکی آل پر درود و سلام) ”
    ۔۔۔۔۔۔۔
    “لسان الغیب حافظ شیرازی کا انداز مدحت دیکھیے!”
    ” یا صاحب الجمال و یا سید البشر
    من وجہک المنیر لقد نوّر القمر
    لا یمکن الثنا ء کما کان حقہ،
    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ”
    ترجمہ : اے حسن والے ، انسانوں کے سردار ، آپ کے رخ روشن سے چاند چمک اٹھا ۔ آپ کی تعریف و توصیف آپ کی شان کے شایا ں کرنا ممکن ہی نہیں۔ بس قصہ مختصر یہ ہے کہ آپ خدا کے بعد ساری کائنات سے بڑے ہیں ِ”
    ۔۔۔۔۔۔
    مندرجہ بالا ارشادات کا اقتباس حکیم محمد یحییٰ خاں شفا کے مضمون :” عربی زبان میں نعتیہ کلام ” سے لیا گیا ۔
    ۔۔۔۔
    ماخذ : نقوش ( رسول نمبر) جلد دہم
    ۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  17. زرقا مفتی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 5:44 pm

    اے کہ ہے حسن ترا زینت و عنوانِ جمال
    اے کہ ہے ذات تری یوسف کنعانِ جمال

    اے کہ ہے نور ترا روغنِ تصویرِ وجود
    اے کہ ہے نام ترا رونقِ ایوانِ جمال

    اے کہ زلفوں سے تری عشق کی شامیں روشن
    اے کہ چہرہ ہے ترا صبح درخشانِ جمال

    جز ترے کون ہے مخدومِ جہانِ خوباں
    جز ترے کون ہے کونین میں سلطانِ جمال

    یاد تیری ہے انیسِ دل جبریلِ امیں
    تذکرہ تیرا ہے موضوعِ ثنا خوانِ جمال

    تھی سلیماں کو فقط ملکِ سبا تک شاہی
    دونوں عالم کے لیے تو ہے سلیمانِ جمال

    زندگی مدحِ شہ کون و مکاں میں‌گزری
    ہوسکا شعر کوئی پھر بھی نہ شایانِ جمال

    کب ترا حسن ہے محتاجِ ثنائے دگراں
    کہ تری ذات ہے خود حجت و برہانِ جمال

    دیدہ ور ہوں ، مرا معیار نظر ٹھہرے ہیں
    تیرے مشتاقِ لقا ، تیرے شہیدانِ جمال

    آکریں حلقہ بگوشانِ نبی کی باتیں
    کہ ہے جاں بخش بہت ذکرِ ندیمانِ جمال

    میری نظروں میں بھی اک دن تھا جمالِ طیبہ
    میں بھی اک روز مدینے میں تھا مہمانِ جمال

    شہرِ محبوب میں جب مست و غزل خواں پہنچیں
    یاد مجھ کو کریں جلہ محبانِ جمال

    مانگ اللہ سے اندازِ نگاہِ صدیق
    کوئی آساں نہیں سرکار کا عرفانِ جمال

    غمِ دنیا ہے نہ اندیشہ عقبی کوئی
    بے نیازِ غمِ کونین ہیں مستانِ جمال

    کوچہ کوچہ ہے شہِ دیں کے وطن کا فردوس
    گوشہ گوشہ ہے مدینے کا گلستانِ جمال

    حیدر و فاطمہ ہیں باغِ محمد کی بہار
    ہیں حسین اور حسن سنبل و ریحانِ جمال

    مظہرِ شانِ خدا ، خسرو ملکِ خوبی
    ایک جلوئے کو ترستے ہیں گدایانِ جمال

    حافظ مظہر الدین مظہر

  18. زرقا مفتی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 5:46 pm

    مِرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
    میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

    نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری
    نہ تیری مدح ہے ممکن میرے خیالوں سے

    تو روشنی کا پیمبر ہے اور میری تاریخ
    بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

    تیرا پیام محبّت تھا اور میرے یہاں
    دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں سے

    یہ افتخار ہے تیر اکہ میرے عرش مقام
    تو ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے
    ٭

    مگر یہ مفتی و واعظ یہ محتسب یہ فقیہ
    جو معتبر ہیں فقط مصلحت کی چالوں سے

    خدا کے نام کو بیچیں مگر خدا نہ کرے
    اثر پذیر ہوں خلقِ خدا کے نالوں سے

    نہ میری آنکھ میں کاجل نہ مشکبو ہے لباس
    کہ میرے دل کا ہے رشتہ خراب حالوں سے

    ہے ترش رو میری باتوں سے صاحبِ منبر
    خطیبِ شہر ہے برہم میرے سوالوں سے

    میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا
    میں کیسے صلح کروں قتل کر نے والوںسے

    میں بے بساط سا شاعر ہوںپر کرم تیرا
    کہ با شرف ہوں قبا و کلاہ والوں سے

    احمد فراز

  19. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 8:39 pm

    تضمین بر اشعارِ غالب
    نعت : از ناصر کاظمی
    یہ کون طائرِ سدرہ سے ہمکلام آیا
    جہانِ خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
    جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
    ” زباں پہ بارِ خدا یا یہ کس کا نام آیا
    کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے ”
    ۔۔
    خطِ جبیں ترا ام الکتاب کی تفسیر
    کہاں سے لاوں ترا مثل اور تیری نظیر
    دکھاوں پیکرِ الفاظ میں‌تری تصویر
    ” مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
    کر ے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے ”
    ۔۔
    کہا ں وہ پیکر ِ نوری کہاں قبائے غزل
    کہاں وہ عرش مکیں اور کہاں نوائے غزل
    کہاں وہ جلوہ معنی کہا ں ردائے غزل
    ” بقدر شوق نہیں ظرفِ تنگنا ئے غزل
    کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے ”
    ۔۔
    تھکی ہے فکرِ رسا اور مدح باقی ہے
    قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
    تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
    ” ورق تمام ہوا اور مد ح باقی ہے
    سفینہ چاہئیے اس بحرِ بیکراں کے لیے”

    ۔۔۔

  20. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 9:06 pm

    نعت از استاد سید محمد حسین قمر جلالوی
    تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دیکھی
    خوب جب دیکھ لیا تجھ کو تو دنیا دیکھی

    تونے قبل از دوجہاں شانِ تجلی دیکھے
    عرش سجتا ہوا ۔ بنتی ہوئی دنیا دیکھی

    تیرے سجدے سے جھکی سارے رسولوں کی جبیں
    سب نے اللہ کو مانا تری دیکھا دیکھی

    میزباں خالقِ کونین بنا خود تیرا
    تیری توقیر سرِ عرشِ معلّی دیکھی

    آپ چپ ہوگئے ارمانِ زیارت سن کر
    میری حالت پہ نظر کی نہ تمنّا دیکھی

    حق کے دیدار کی بابت جو کہا فرمایا
    اک جھلک دیکھنے پر حالتِ موسیٰ دیکھی

    اے قمر شق ہوا مہتاب پیمبر ( ص)‌کے لیے
    ہم نے دو ہوتے ہوئے چا ند کی دنیا دیکھی

  21. عبدالمناف نے کہا ہے:
    August 26, 2009 بوقت 10:18 pm

    ہماری عمران چوہدری صاحب سے پُر زور اپیل ہے کہ اپنی پوری نعت پیش کریں (بصد احترام)

  22. شمس جیلانی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 2:11 am

    قاضی صاحب آپ نے بہت اچھا سلسلہ چھیڑا ہے اس میں شرکت سے انکار تو کوئی کافر ہی کر سکتا ہے۔لہذا ایک نعت حاضر ہے۔ اساتذہ کی تو بات ہی علاحدہ مگربھائی صفدر کا قطعہ لاجواب ہے ، بہن نگہت کی نعت بھی خوب ہے اور زرقا کا کیاکہنا ہے اور ہاں مناف بھی نے بھی خوب کہا ۔ مگر حضور کی شان ایسی ہے کہ شعرا کرام چودہ سوسال سے کہہ رہے ہیں اور کہتے رہیں گے ۔ انشا اللہ یہ سلسلہ قیامت تک بندنہیں ہو گا۔
    خدا کے بعد تمہارا جو نام لیتے ہیں
    زمام ِ وقت کو دیکھا ہے تھام لیتے ہیں
    دیارِ ہند ہو یاکہ دیار ِ نیل و فرات
    مقام ِقیصر و کسریٰ غلام لیتے ہیں
    رہ ِ وفا میں جنو ں ہی رفیق ِ منزل ہے
    بھٹک رہے ہیں خِرد سے جو کام لیتے ہیں
    عروج ِعشق ہی ردِ حجاب ہو تا ہے
    جواب آتے ہیں کچھ کے سلام لیتے ہیں
    اگر ہو عشقِ محمد (س) تو بات بنتی ہے
    خدا کانام تو بندے تمام لیتے ہیں
    جمال ِ دوست وہ ہجرو وصال کے قصے
    لبوں کو آئیں تو ہو نٹوں کو تھام لیتے ہیں
    یہاں تو پائی تھی تا عمر تشنگی ہم نے
    چلو اے شمس کہ کو ثر سے جام لیتے ہیں

  23. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 10:28 am

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور محترم عبدالمناف غلزئی صاحب کی ہمت افزائی کے الفاظ کے بعد اب انتہائی قابلِ احترام شمس جیلانی صاحب کا یہ کہنا کہ
    ” قاضی صاحب آپ نے بہت اچھا سلسلہ چھیڑا ہے اس میں شرکت سے انکار تو کوئی کافر ہی کر سکتا ہے۔۔” یہ تما م باتیں میری بقیہ زندگی کو عجز اور انکسار سے جاری رکھنے کے لیئے کافی ہیں ۔ ایسے ہی موقع پر کس اچھے شاعر نے اعتراف کیا ہے کہ: ” یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ میرا بلاگ نہیں ، یہ میرا “سلسلہ ” نہیں یا اس آقا ( ص) کا بلاگ ہے جس کے ہم سب نام لیوا ہیں اور جنھیں ہم سب ” شافعِ محشر ” کہتے ہیں۔
    یہ کہنا غیر ضروری ہے کہ آپ سب اس عظیم رہنما ( ص) کی خدمت میں ہدیہء عقیدت پیش کررہے ہیں ( اس لیے مجھے نظر انداز کرکے خلوصِ دل سے اس شافع محشر ( ص) سے مخاطب ہوجائیے کہ وہی ” بعد از خدا بزرگ تر ” ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس بلاگ میں وہ تمام عاشقانِ رسول ( ص) حصہ لے سکتےہیں جو کسی وجہ سے اب تک اس بلاگ میں حصہ لینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ میں یقین کے ساتھ کہ سکتاہوں کہ مدحتِ رسول (ص) میں لکھے ہوے الفاظ یا اشعار کسی کی “نظرِ ثانی ” کی قطع وبرہد کا ہدف نہیں بنینگے ۔
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    ایک سیدھا سادہ مسلمان بلاگ نگار
    منظور قاضی از جرمنی

  24. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 10:32 am

    یا اس آقا (ص ) کی بجائے : یہ اُس آقا ( ص) کا بلاگ ہے : پڑھیے ، شکریہ

  25. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 10:37 am

    نعت از مولانا محمد علی جوہر

    تنہائی کےسب دن ہیں ، تنہائی کی سب راتیں
    اب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں

    ہر لحظہ تشفّی ہے ، ہر آن تسّلی ہے
    ہروقت ہے دل جوئی ، ہردم ہیں مداراتیں

    کوثر کے تقاضے ہیں، تسنیم کے وعدے ہیں
    ہر روز یہی چرچے ، ہر روز یہی باتیں

    معراج کی سی حاصل، سجدوں میں ہے کیفیت
    اک فاسق و فاجر میں‌اور ایسی کراماتیں

    بے مایہ سہی لیکن ، شاید وہ بلا بھیجیں
    بھیجی ہیں درودوں کی کچھ ہم نے بھی سوغاتیں
    ۔۔۔۔۔۔۔

  26. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 1:06 pm

    میرزا دبیر لکھنوئی کی نعت کے چند اشعار:

    کیا کیا بیاں کروں میں عنایات۔ کبریا
    پیدا پیمبروں کو پئے رہبری کیا
    ہم کو محمدِ (ص) عربی سا نبی (ص) دیا
    بسم اللہ صحیفہء فہرستِ انبیا

    آگے جو انبیا سے ذوی ا لاقتدار تھے
    محبوب کردگار کے وہ پیشکا ر تھے

    آفاق بہرہ ور ہوا حضرت کی ذات سے
    آگاہ ذات نے کیا حق کی صفات سے
    تصدیقِ حکمِ حق کی ہوئی بات بات سے
    رفتار نے لگا دیا راہِ نجات سے

    سیکھے طریقے قربِ خدا کے حضور (ص) سے
    گمراہ آئے راہ پہ نزدیک و دور سے

    سینوں سے سب کے دور ہوا دردِ بیدلی
    باقی رہی نہ پیروں میں سُستی وہ کاہلی
    معراج ان کےہاتھ سے معراج کو ملی
    واں چاند ٹکڑے ہو گیا انگلی جو یا ہلی

    انگلی سے دو قمر کو کیا کِس جلال سے
    غل تھا کہ قفل چاند کا کھولا ہلال سے

    سرتا قدم لطیف تھا پیکر مثالِ جاں
    اس وجہ سے نہ سایہ بدن کا ہوا عیاں
    قالب میں سایہ ہوتا ہے پر روح میں کہاں
    سایہ انہیں کا ہے یہ زمینوں پہ آسماں

    معراج میں جو واردِ چرخِ نہم ہوئے
    سایہ کی طرح راہ سے جبریل (ع) گم ہوئے
    ۔۔۔۔

  27. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 10:27 pm

    نعت : ا ز داغ دہلوی
    میں کلمہ گو ہوں خاص خدا و رسول (ص) کا
    آتا ہے بامِ عرش سے مژدہ قبول کا
    وہ پاک بے نیاز تجسّم سے ہے بری
    محتاجِ فوق و تحت ، نہ و ہ عرض و طول کا

    انسان سے بیا ن ہوں کیو نکر صفاتِ ذات
    ایسا کہاں ہے ذہن ظلوم و جہول کا
    دونوں جہاں میں بوئے محمد ( ص) ہے عطر بیز
    کونین میں ہے رنگ فقط ایک پھول کا
    صلِّ علیٰ ہے نا مِ محمد (ص) میں کیا اثر
    درماں دلِ‌علیل و حزین و ملول کا
    طاعت خدا کی اور اطاعت رسول (ص) کی
    یہ ہے طریق، دولتِ دیں کے حصول کا
    یہ داغ ہے صحابہء عظام کا مطیع
    یہ داغ جاں‌ نثار ہے آلِ رسول ( ص) کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

  28. زرقا مفتی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 11:04 pm

    ترے فراق کا غم ہے مجھے نشاط انگیز
    یہی ہے راہرو شوق کے لیے مہمیز

    اِسی کے نم سے ہے باقی مری نگاہ کا نور
    اِسی کے سوز سے ہے ساز دل نوا آمیز

    اِسی کا جذب خوش آہنگ ہے نظر میں کہ آج
    مرا کدو ہے مئے سلسبیل سے لبریز

    یہی ہے نغمہ‘ دل افروز ساز جاں کے لیے
    اِسی سرود سے پیدا ہے جوہر تبریز

    اِسی کی ضرب سے تارِ ربابِ جاں میں سرور
    اِسی کا لحن ہے دل کے لیے سکوں آمیز

    مرے کلام میں تاثیر اِسی کے دم سے ہے
    اِسی سے فکر کی بنجر زمین ہے زرخیز

    یہ آرزو ہے بہشت حجاز میں پہنچے
    یہی زمین ہے خالد کو خلد عنبر بیز

    مرے کریم! کرم ہو کہ پھر زمانے میں
    حریف ملت اسلام ہے جہان ستیز

    ہو کوئی چارہ کہ غارت گری ہے شیوہ کفر
    بپا ہے ارض مقدس پہ فتنہ چنگیز

    اسی سے لرزہ براندام خاک بوسنیا
    اسی کے شر سے دل سرب تھا شرار انگیز

    نظر فروز ہو آئینہ نگاہ ترا
    کہ کھا گئی ہے بصارت کو دانش انگریز

    جہان کفر اسی کی عطا سے زندہ ہے
    اسی کے فیض سے اب تک ہے جام جم لبریز

    اُدھر یہود و نصاریٰ کے بڑھ رہے ہیں قدم
    اِدھر ہوئی تری امت کے دل کی دھڑکن تیز

    یہ تیرے چاہنے والے‘ یہ تیرے اہل صفا
    کریں گے اور کہاں تک جہاد حق سے گریز

    خالد علیم

  29. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 11:11 pm

    امولانا الطاف حسین عالی کی یہ نعت میں غلطی سے ابن انشاء کے بلاگ میں شایع کردیا ۔
    اسے اب نعت کے بلاگ میں منتقل کرتا ہوں۔

    وہ نببیوں میں رحمت لقب پانے والا
    مرادیں‌غریبوں کی بر لانے والا
    مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

    فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
    یتیموں کا والی غلاموں ک مولیٰ

    خطا کا ر سے در گزر کرنے والا
    بد اندیش کے دل میں‌گھر کرنے والا
    مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
    قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

    اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
    اور اک نسخہ ء کیمیا ساتھ لایا

    مِس خام کو جس نے کندن بنا یا
    کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
    عربَ جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
    پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

    رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
    ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا

    سبق پھر شریعت کا ان کو پڑھایا
    حقیقت کا گر ، ان کو اک اک بتا یا
    زمانے کے بگڑے ہووں کو بنا یا
    بہت دن کے سوتے ہووں کو جگا یا

    کھلے تھے نہ جو راز اب تک جہاں پر
    وہ دکھلا دیے ایک پردہ اٹھا کر

    سکھائی انہیں نوعِ انسا ں پہ شفقت
    کہا ہے یہ اسلامیوں کی علامت
    کہ ہمسایہ سےرکھتے ہیں وہ محبت
    شب و روز پہنچاتے ہیں ان کو راحت

    وہ جو حق سے اپنے لیے چاہتے ہیں
    وہی ہر بشر کے لیے چاہتے ہیں

    دیے پھیر دل ان کے مکر وریا سے
    بھرا ان کے سینےکو صدق و صفا سے
    بچایا انہیں کذب سے افترا سے
    کیا سرخرو ، خلق سے اور خدا سے

    رہا قولِ حق میں‌ نہ کچھ باک ان کو
    بس اک شوب میں کردیا پاک ان کو

    جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت
    ادا کرچکی فرض اپنا رسالت
    رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی حجت
    نبی ( ص) نے کیا خلق سے قصدِ رحلت

    تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی
    کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی

    ۔۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی ( جرمنی سے )

    ُ

  30. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 11:33 pm

    فخر انبیا،تاجدار مدینہ،ختم الرُسل، مولائے کُل،باعثِ خلق کائنات،آقائے دو جہاں کے نام کہ جنہوں نے میرے قلم کو اپنا اسمِ پاک لکھنے کی اجازت بخشی اور مجھے اذنِ کلام دیا۔

    نبی کی نعت لکھوں یہ کہاں مجال مجھے
    خدا کرےکہ ملے یہ بھی اب کمال مجھے
    ۔۔۔۔
    قلم میں اب مرے خوشبو ہے نامِ احمد کی
    میں جانتی ہوں نہ آئے گا اب زوال مجھے
    ۔۔۔۔
    یہ کیا کہ چاروں طرف ہے منافقوں کا ہجوم
    میں گر رہی ہوں خداوندا اب سنبھال مجھے
    ۔۔۔۔
    اے خاکِ بطحا رگوں میں اُتر لہو کی طرح
    محبتوں کے سمندر کبھی اچھال مجھے
    ۔۔۔۔
    مدینے والے سے جس دن سے ہے سوال کیا
    کسی سے آتا نہیں کرنا اب سوال مجھے
    ۔۔۔۔
    ہو میری روح کے زخموں پہ سایہ ء رحمت
    مرے وجود سے باہر دے اب نکال مجھے
    ۔۔۔۔
    سوائے ارضِ مدینہ کے روئے جنت کی
    زمیں پہ ملتی نہیں ہے کوئی مثال مجھے
    ۔۔۔۔
    جمالِ خالقِ اکبر نبی کے نام میں ہے
    اے کاش مرتے نظر آئے یہ جمال مجھے
    ۔۔۔۔۔
    زمینِ شہرِ مدینہ کو اوڑھ کر سو لوں
    نصیب میں جو زیارت ہو اگلے سال مجھے
    ۔۔۔۔۔
    یہی تمنا ہے نگہت نسیم کے دل میں
    بروز حشر بچا لے نبی کی آل مجھے

  31. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2009 بوقت 11:54 pm

    ماشااللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ ، مرحبا : ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اتنی پرخلوص اور اتنی عقیدت سےبھری نعت ( ص) اس بلاگ میں عطا کی ۔ اللہ آپ کو اس کا نیک اجر عطا کرے اور آپ کی دلی دعاوں کو قبول فرمائے ۔ آمین ثمہ آمین

  32. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 9:49 am

    ماشااللہ۔پروردگار اپنے حبیب کی شان میں لکھے ان الفاظ کو قبول کرے اور آپ کو اذن حضوری مل جائے۔
    ردائے نور تنی ہو تو نعت ہوتی ہے
    جو دل میں عشق نبی ہو تو نعت ہوتی ہے
    ۔۔۔
    یہ روح عشقِ محمد کے نام پر صفدر
    ہاں سر تا پا جو جلی ہو تو نعت ہوتی ہے
    بس اتنا عرض کرنا ہے کہ نعت لکھنا اور نعت کہنا بالکل دو الگ الگ باتیں ہیں

    نبی کی نعت جو لکھوں کہاں یہ میری مجال
    وہ اذن دیں تو میں صلی الہ قلم سے لکھوں

  33. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 11:00 am

    آمین ۔۔ بس یہی ایک تمنا ھے اب کسی طرح سے اڑ کر پہنچ جاؤں ۔۔ اس سر زمین پر اور کہوں
    سوائے ارضِ مدینہ کے روئے جنت کی
    زمیں پہ ملتی نہیں ہے کوئی مثال مجھے

    اور بابا آپ نے کمال سچ لکھا ھے کہ

    یہ روح عشقِ محمد کے نام پر صفدر
    ہاں سر تا پا جو جلی ہو تو نعت ہوتی ہے

  34. عامر کیانی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 2:40 pm

    واہ کیا خوبصورت ،متبرک بلاگ ہے اور وہ بھی رمضان شریف میں ! حاضری کے لیے دو شعر
    ہیں دنیا میں جتنے لوگ بھی احترام کے قابل
    میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰ کے بعد

    یا
    آقا تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
    مجھ سا نہ کوئی دوسرا ہوتا

  35. عامر کیانی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 2:46 pm

    تبصرہ ارسال کر ہی چکا تھا کہ یہ شعر یاد آگیا ذرا سوچ کی خوبصورتی اور خیال کی پرواز ملاحظہ فرمائیے

    تو کائناتِ حُسن ہے یا کہ حُسن ِ کائنات
    سمجھا نہیں ہنوز میرا عشقِ بے ثبات

  36. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 9:06 pm

    عامر کیانی۔بلاگ میں خوش آمدید۔اس خاندان میں آپ جیسے صاف گو اور قلم کی طاقت حامل فرد کی ضرورت ہے،ہمیں یقین ہے کہ آپ وقت نکال کر اپنی فکر کا اظہار کرتے رہیں گے۔

  37. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 9:07 pm

    عامر کیانی صاحب نے اس بلاگ میں شرکت کرکے نعتیہ اشعار عطا کیے ۔ اسکی جزا ضرور اس کو وہ مقدس ہستی (ص) دے گی جس کی تعریف کےلیے یہ اشعار لکھے گئے ہیں۔: جزا ک اللہ ، سبحان االلہ

  38. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 9:16 pm

    عامر بھائی آپ کابہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرا مان رکھا اور بلاگ کی محفل میں شرکت کی ۔۔ خوش آمدید ۔۔ اللہ پاک نے جو جادوئی قلم آپ کو عطا کیا ھے اس پر آپ اس مہربان رب کی جتنی شکرگزاری کریں کم ھے ۔۔ اور ھم جتنا مان کریں کم ھے کہ آپ عالمی اخبار کے کاروان میں شامل ہیں ۔ بھائی ہمیں آپ کی فکری اور شعوری راہنمائی کی ضرورت رھے گی ۔۔ مجھے امید ھے آپ اپنے بے انتہا مصروفیت میں سے کچھ وقت عالمی اخبار کو بھی دیں گے ۔۔

  39. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 9:21 pm

    ماہر القادری کی نعت کے چند اشعار:
    سلام اس پر کہ جس نے بیکسوں کی دستگیری کی
    سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

    سلام اس پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے
    سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

    سلام اس پر کہ سچائی کی‌خاطر دکھ اٹھا تا تھا
    سلام اس پر جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا

    سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی
    الٹ دیتے ہیں تختِ قیصریت اوج دارائی

    درود اس ہر کہ جس کا نام تسکینِ دل و جاں ہے
    درود اس پر کہ جس کے خُلق کی تفسیر قرآں ہے

    درود اس پر کی جس کا تذکرہ عینِ عبادت ہے
    درود اس پر کہ جس کی زندگی رحمت ہی رحمت ہے

    درود اس پر کہ جو ماہر کی امیدوں کا ملجاہے
    درود اس پر کہ جس کا دونوں عالم میں سہارا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  40. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 9:27 pm

    حفیظ جالندھری کی نعت کے چند اشعار :

    سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب (ص) سبحانی
    سلا م اے فخرِ موجودات فخرِ نوع انسانی

    سلا م اے ظلِّ رحمانی سلام اے نورِ یزدانی
    تر نقشِ قدم ہے زندگی کی لوحِ ‌پیشانی

    تری صورت ، تری سیرت ، ترا نقشہ ، تر ا جلوہ
    تبسم َ گفتگو ، بندہ نوازی ، خندہ پیشانی

    حفیظِ بے نوا بھی ہے گدائے کوچہء الفت
    عقیدت کی جبیں تیری مروت سے ہے نوارانی

    ترا در ہو ، مرا سر ہو َ مرا دل ہو ، ترا گھر ہو
    تمناّ مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی

    سلام اے آتشیں زنجیرِ با طل تو ڑنے والے
    سلام اے خاک کے ٹوٹے ہوئے د ل جوڑنے والے
    ۔۔۔۔۔

  41. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 28, 2009 بوقت 9:30 pm

    ترا نقشِ قدم : پڑھیے : شکریہ

  42. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 29, 2009 بوقت 9:06 am

    بہادر شاہ ظفر کی نعت کے چنداشعار

    قرآں میں‌ جبکہ خود ہو ثنا خواں‌تر ا خدا
    کیا تاب پھر قلم کو جو کچھ کرسکے رقم

    میری جنابِ پاک میں ہے ‌یہ ظفر کی عرض
    صدقے میں اپنی آل کے اے شاہِ محتشم

    صیقل سے اپنے لطف و عنایت کے دور کر
    آئینہ ء ضمیر سے میرے غبارِ غم

    پہنچا نہ آستانِ مقدس کو تیرے میں
    اس غم سے مثلِ چشمہ ہوئی میری چشم نم

    پر خاکِ آستاں کو تری اپنی چشم میں
    کرتا ہوں سرمہ سیلِ تصوّر سے دم بدم

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

  43. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 29, 2009 بوقت 5:33 pm

    مولانا احمد رضا خان بریلوی کی نعت کے چند اشعار

    مصطفےٰ (ص) جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
    شمع بزمِ ہدایت پہ لا کھوں سلام

    شہر یارِ ارم تا جدار ِ حرم
    نو بہارِ شفاعت پہ لاکھو ں سلام

    مجھ سے بے کس کی دولت پہ لاکھوں درود
    مجھ سے بے بس کی قوت پہ لا کھوں سلام

    ربِّ اعلیٰ کی نعمت پہ بے حد درود
    حق تعالیٰ کی منّت پہ لاکھو ں سلام

    ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
    ہم فقیروں کی ثروت پہ لا کھوں سلام

    جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آگیا
    اس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام

    سیدھی سیدھی روش پر کروروں درود
    سادی سادی طبیعت پہ لاکھو ں سلام

    کا ش محشر میں جب انکی آمد ہو اور
    بھیجیں سب انکی شوکت پہ لاکھوں سلام

    مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہیں رضا
    مصطفےٰ ( ص) جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
    ۔۔۔۔۔۔

  44. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 30, 2009 بوقت 2:30 pm

    عربی کی نعتیہ شاعری کی چند مثالوں کا اردو ترجمہ :
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1۔ نعتیہ اشعار جو روضہء رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے مواجہ شریفہ کی جالیوں پر کندہ ہیں:
    ” اے بہتر ان سب سے جن کے اجسادِ شریفہ خاک میں‌مدفون ہوئے ہیں
    اور اُن کی خوشبو سے جنگل اور پہاڑ مہک گئے ہیں
    میری جان اس پاک قبر پر فدا جس میں آپ سکونت فرما ہیں
    اس قبر شریف میں‌پرہیز گاری ہے اور اسی میں جُود و کرم ہے ”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    2۔عبدا لرحمان بن خلدون کی نعت کے چند اشعار کا اردو ترجمہ :
    ‘ میں نےآپ ( ص) کی مدح کا حق ادا نہیں کیا، اگر کچھ اچھا کہ گیا ہوں تو وہ صدقہ ہے آپ ( ص) کی عطر بیز یاد کا۔
    زیادہ سے زیادہ کہنے والا بھی کیا کہ سکتا ہے جبکہ قرآن نے ہر بہتر بات آپ ( ص) کے متعلق کہ دی ہے۔”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    3۔” حضرت فاطمتہ الزہرا ( رض) ” کی نعت کے ایک شعر کا اردو ترجمہ :
    ” اے آخری رسول(ص) آپ برکت و سعادت کی جوئے فیض ہیں آپ(ص) پر تو قرآن نازل کرنے والے نے بھی دروو و سلام بھیجا ہے ”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    4۔” حضرت علی مرتضیٰ ( رض ) ” کی نعت کے چند اشعار کا اردو ترجمہ :
    ” نبی کو کپڑو ں میں کفن دینے کے بعد میں اس مرنے والےکی غم میں غمگین ہوں جو خاک میں جابسا ”
    رسول(ص) اللہ کی موت کی مصیبت پم پر نازل ہوئی اور اب جب تک ہم خود جی رہے ہیں ان جیسا ہرگز نہیں دیکھیں گے”
    رسول اللہ ہمارے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے کہ ہر دشمن سے پناہ اور حفا ظت حاصل ہوتی تھی۔”
    ” ان کی موت کے بعد ہم پر ایسی تاریکی چھا گئی جس میں دن، کالی رات سے زیادہ تاریک ہوگیا ۔”
    ” انسانی بدن اوراسکے پہلو جتنی شخصیتوں کو چھپائے ہوئے ہیں ان میں سب سے بہتر آپ ( ص) ہیں اور آپ ( ص) ان تمام مرنے والوں میں جن کو خاک نے چھپایا ہے سب سے بہتر ہیں۔”

    ۔۔۔۔۔۔
    ماخذ : نقوش ( رسول نمبر ) جلد دہم
    ۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  45. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 31, 2009 بوقت 1:30 pm

    داغ دہلوی کی نعتیہ دعا :
    کرو غم سے آزاد یا مصطفٰے (ص)
    تمہیں سے ہے فریا د یا مصطفٰے ( ص)

    نہ پامال مجھ کو زمانہ کرے
    نہ مٹّی ہو برباد یا مصطفٰے (ص)

    زباں پر ترا نام جاری رہے
    کرے دل تری یاد یا مصطفٰے (ص)

    نہ چھوٹے کبھی مجھ سے راہِ صواب
    نہ ہو ظلم و بیداد یا مصطفٰے (ص)

    مجھے گھیر رکھا ہے امراض نے
    مٹے ان کی بنیا د یا مصطفٰے ( ص)

    رہوں حشر میںآپ کی ذات سے
    طلب گارِ امداد یا مصطفےٰ ( ص)

    عنایت کی ہوجائے اس پر نظر
    رہے داغ دل شاد یا مصطفٰے ( ص)
    ۔۔۔۔

  46. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 31, 2009 بوقت 1:53 pm

    مسعود قاضی کی نعت کے چار اشعار

    اس لیے ہم ہدف ستم کے ہیں
    نام لیوا شہِ امم(ص) کے ہیں

    کلمہ ء حق کے چار سو جلوے
    نور محبوبِ(ص) حق سے چمکے ہیں

    آپ کے در سے ہوکے جاتے ہیں
    راستے جتنے بھی حرم کے ہیں

    اور نذرِ حضور کیا کرتا ؟
    چند موتی یہ اشکِ نم کے ہیں

    ۔۔۔۔۔

  47. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 31, 2009 بوقت 2:01 pm

    منظور قاضی کی نعتیہ دعا :

    مری کشتی کنارے پر لگا دو یا رسول ( ص) اللہ
    مجھے طوفاں سے چھٹکا را دلادو یا رسول (ص) اللہ

    محمد مصطفٰے ( ص) تم ہو َ رسولِ (ص) کبریا تم ہو
    مجھے اپنے کرم کا آسرا دو یا رسول( ص) اللہ

    تمھارا امتی ہوں میں تمھارا نام لیوا ہوں
    مجھے اپنی نظر سے مت گرادو یا رسول(ص) اللہ

    مرے آغاز کو آساں‌‌ بنا یا آپ نے آغا
    مرا انجام بھی آساں‌بنا دو یا رسول ( ص)‌اللہ

    اگر منظور ہو میری گذارش یا رسول ( ص) اللہ
    شفاعت کا مجھے مژدہ سنا دو یا رسول ( ص)‌اللہ
    ۔۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  48. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 31, 2009 بوقت 11:40 pm

    سبحان اللہ منظور بھائی ۔۔ ایک ایک شعر پر آمین ۔۔ ثم آمین
    اگر منظور ہو میری گذارش یا رسول ( ص) اللہ
    شفاعت کا مجھے مژدہ سنا دو یا رسول ( ص)‌اللہ

  49. مسعود قاضی نے کہا ہے:
    September 1, 2009 بوقت 2:29 am

    سلام علیکم
    جزاک اللہ اللہ آپ کو عمر دراز صحت اور تندرستی کے ساتھ عطا فرمائے۔ میری نعت شایع کرنے کا آپ کو اور عالمی اخبار کو اللہ نیک جزا عطا فرمائے آپ کی اپنی نعت سبحان اللہ : مسعود قاضی

  50. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 1, 2009 بوقت 10:00 am

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ہمت افزائی اور ذرہ نوازی کا شکریہ۔
    روضہ ء مبارک ( ص) پر کئی سال پہلے حاضری کی سعادت کا فیض یہ ہے کہ میں اپنے تصور میں اس نعت کے لکھتے اور پڑھتے وقت ایسا محسوس کرتا رہا ہوں کہ میں انتہای ادب کے ساتھ حضور (ص) کے سامنے التجا کررہا ہوں۔ خدا کرے کہ قبول ہوجائے ۔
    اس بلاگ میں جتنی بھی نعتیں ہیں ( جن میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی نعتیں شامل ہیں )‌، ان سب کو پڑھتے وقت مجھ پر وہی کیفیت طاری ہوجاتی ہے جو میری اپنی نعت کے پڑھتے وقت طاری ہوتی ہے ۔
    ( یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں یہ بلاگ پیش کرسکا ) ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک بات کی تصحیح ضروری ہے کہ میری نعت کے اس شعر میں لفظ آقا کی بجائے لفظ آغا کمپوز کرگیا ۔
    یہ شعر یوں ہے :
    مرے آغاز کو آساں‌بنا یا آپ نے آقا( ص)
    مرا انجام بھی آساں بنا دو یا رسول ( ص)‌اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔

    فقط:
    منظور قاضی

  51. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 1, 2009 بوقت 1:01 pm

    نعت کے تین اشعار از : نواب بہادر یار جنگ خلق

    اے کہ ترے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز
    اے کہ ترا وجود ہے وجہِ وجودِ کائنات

    تیرے بیاں سے کھل گئیں ،تیرے عمل سے حل ہوئیں
    منطقیوں کی الجھنیں، فلسفیوں کی مشکلات

    مدحتِ شاہِ دوسرا مجھ سے بیاں ہو کس طرح
    تنگ مرے تصورات ، پست مرے تخیلات

  52. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 1, 2009 بوقت 1:08 pm

    نعت کے چند اشعار : از جلیل مانکپوری

    حبیبِ پاک کسی کا خطاب کیا ہوگا
    وہ لاجواب ہیں ان کا جواب کیا ہوگا

    مرے گنا ہ کو یارب نہ پوچھ رہنے دے
    جو بے حساب ہے اس کا حساب کیا ہوگا

    تمام امّتِ عاصی کے جب ہو تم حامی
    کسی پہ قہر کسی پر عذاب کیا ہوگا

    خدا رسول (ص) سے غفلت رہی اگر یوں ہی
    تو حال اے دلِ خانہ خراب کیا ہوگا

    جو مستِ نکہتِ زلف نبی (ص) ہے اس کا دماغ
    رہینِ منتِ مشک و گلاب کیا ہوگا

    جلیل گوشہء عزلت میں‌مشغلہ اپنا
    بجز خیالِ رسالت مآ ب کیا ہوگا

  53. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 1, 2009 بوقت 1:15 pm

    نعت کے چند اشعار : از اختر شیرانی

    مسند نشینِ عالمِ امکاں تمہیں تو ہو
    اس انجمن کی شمع فروزاں تمہیں تو ہو

    دنیا ئے ہست وبود کی زینت تمہیں سے ہے
    اس باغ کی بہار کا ساماں تمہیں تو ہو

    تم کیا ملے کہ دولتِ ایماں ملی ہمیں
    ایمان کی تو یہ ہے کہ ایماں تمہیں تو ہو

    صبحِ ازل سے شامِ ابد تک ہے جس کا نور
    وہ جلوہ زارِ حسنِ درخشا ں تمہیں تو ہو

    دنیا و آخرت کا سہارا تمھاری ذات
    دونوں جہاں کے والی و سلطاں تمہیں تو ہو

    اختر کو بے نوائیء دنیا کی فکر کیا
    ساماں طرازِ بے سرو ساماں‌ تمہیں تو ہو

  54. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 1, 2009 بوقت 1:24 pm

    ایک میری بہت ھی پسندیدہ نعت شریف آپ سب کی خدمت میں پیش کرتی ہوں جس کے خالق پروفیسر سید اقبال عظیم ہیں ۔
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ

    کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی ، میرے آقا (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) نےعزت بچالی
    فردِ عصیاں مری مجھ سے لےکر، کالی کملی میں اپنی چھپالی

    وہ عطا پر عطا کرنےوالے اور ہم بھی نہیں ٹلنےوالے
    جیسی ڈیوڑھی ہے ویسے بھکاری، جیسا داتا ہے ویسےسوالی

    میں گدا ہوں مگر کس کےدر کا؟ وہ جو سلطان کون و مکاں ہیں
    یہ غلامی بڑی مستند ہی، میرے سر پر ہے تاج بلالی

    میری عمر رواں بس ٹھہر جا، اب سفر کی ضرورت نہیں ہے
    ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کےقدموں پہ میری جبیں ہے اور ہاتھوں میں روضےکی جالی

    اِس کو کہتے ہیں بندہِ نوازی، نام اِس کا ہے رحمت مزاجی
    دوستوں پر بھی چشمِ کرم ہے، دشمنوں سےبھی شیریں مقالی

    میں مدینےسےکیا آگیا ہوں، زندگی جیسےبجھ سی گئی ہے
    گھر کےاندر فضا سونی سونی، گھر کےباہر سماں خالی خالی

    میں فقط نام لیوا ہوں ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کا، ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی توصیف میں کیا کروں گا
    میں نہ اقبال خسرو، نہ سعدی ، میں نہ قدسی نہ جامی، نہ حالی
    سبحان اللہ

  55. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 1, 2009 بوقت 8:03 pm

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اتنی عقیدت بھری نعتیں اس بلاگ میں شامل کرکے اس بلاگ کو تاریخی حیثیت دے دی۔
    میں کوشش یہ کررہا ہوں کہ آپ کی اور تمام عقیدت مندوں کی مدد سے اس بلاگ کو ا س قدر اہم بنا دوں کہ عاشقانِ رسول ( ص) ا س کو ہمیشہ اپنے پاس محفوظ رکھکر کبھی کبھی پڑھتے رہیں۔
    ۔۔۔۔
    میں یہ سب سے بار بار کہ رہا ہوں کہ یہ میرا بلاگ نہیں ، یہ حضرت محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی نعت کا بلاگ ہے ۔ اس لیے سب اپنے اپنے دل کی حسرت نکال کر حضور اقدس کی خدمت میں اپنی عقیدت اور مدحت کا نذرانہ پیش کریں۔
    ۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی کی لکھی ہوئی نعت ملاحظہ فرمائیے

    نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
    جسے چاہیں اس کو نواز دیں یہ درحبیب ( ص) کی بات ہے

    جسے چاہا در پہ بلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں‌ فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جدا نہیں
    وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیب ( ص) کی بات ہے

    وہ مچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپت گئی
    وہ کسی امیر کی آہ تھی، یہ کسی غریب کی بات ہے

    تجے اے منوّرِ بے نوا درِ شہ ( ص) سے چاہئیے اور کیا
    جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے

  56. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 2, 2009 بوقت 1:12 pm

    نعت کے چند اشعار از مولانا ظفر علی خاں:
    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

    گر ارض و سما کی محفل میں ” لو لاک لما ” کا شور نہ ہو
    یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں

    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا، جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے(ص) نے بتلا دیا چند ا شاروں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  57. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 2, 2009 بوقت 1:18 pm

    نعت کے چند اشعار از سردار عبدالرب نشتر

    شب و روز مشغول ِ صلّ علیٰ ہوں
    میں وہ چاکر خاتم انبیا ہوں

    نگا ہ ِِ کرم سے نہ محروم رکھیو
    تمہارا ہوں میں گر بھلا یا برا ہوں

    نہ کیوں فخر ہو عشق پر اپنے مجھ کو
    رقیبِ خدا ، عاشقِ مصطفےٰ ہوں

    مرے لحن پر رشک دواد کو ہے
    مدینے کی گلیوں کا نغمہ سرا ہوں

    میں ہوں ہر دو عالم سے آزاد نشتر
    گرفتارِ زلفِ رسولِ (ص) خدا ہوں

  58. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 3, 2009 بوقت 8:30 am

    نعت کا ایک شعر : از ناسخ لکھنوی
    معانی قل ھو اللہ احد کے ہیں عیاں ناسخ
    برائے قافیہ رکھا ہے میں نے میم احمد کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نعت کا ایک شعر از بہزاد لکھنوی
    رنج والم کب ہیں مرے شایاں کیوں نہ رہوں بہزاد میں شاداں
    بن کے گدائے کوئے محمد صلّ اللہ علیہ و سلم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نعت کا ایک شعر از بیدم وارثی
    بھینی بھینی خوشبو مہکی ، بیدم دل کی دنیا لہکی
    کھل گئے جب گیسوئے محمد صلّ اللہ علیہ و سلّم

    ۔۔۔۔۔۔۔
    نعت کا ایک شعر از حسرت موہانی
    حسرت اگر رکھے ہے تو بخششِ حق کی آرزو
    وردِ زباں رہے سدا صلّ علیٰ محمد ( ص)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نعت کا ایک شعر : از یوسف ظفر

    لا کھوں سلام اے ہادیء برحق! امت پھر محتاج ہے تیری
    جس کی زباں پر اب بھی ہے ہردم صلّ اللہ علیہ و سلّم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نعت کا ایک شعر از شورش کاشمیری
    اے آقا اے سب کے آقا ارض و سما ہیں زخمی زخمی
    ان زخموں پر مرہم مرہم صلّ اللہ علیک و سلّم

  59. یا سر ا سا مہ نے کہا ہے:
    September 3, 2009 بوقت 11:27 am

    حضور آئے تو کیا کیا ساتھ نعمت لے کے آئے ہیں
    اخوت ، علم وحکمت ، آدمیت لے کے آئے ہیں
    کہا صدیق نے میری صداقت ان کا صدقہ ہے
    عمر ہیں ان کے شاہد وہ عدالت لے کے آئے ہیں
    کہا عثمان نے میری سخاوت ان کا صدقہ ہے
    علی دیں گے شہادت وہ شجاعت لے کے آئے ہیں
    رہے گا یہ قیامت تک سلامت معجزہ ان کا
    وہ قرآن میں نور و ہدایت لے کے آئے ہیں
    خدا نے رحمت للعالمیں خود ان کو فرمایا
    قسم اللہ کی رحمت ہی رحمت لے کے آئے ہیں
    قناعت ، حریت ، فکر وعمل ، مہر و وفا ، تقوی
    وہ انساں کے لیے عظمت ہی عظمت لے کے آئے ہیں
    حضور آئے تو کیا کیا ساتھ نعمت لے کے آئے ہیں
    اخوت ، علم وحکمت ، آدمیت لے کے آئے ہیں

  60. یا سر ا سا مہ نے کہا ہے:
    September 3, 2009 بوقت 11:44 am

    یہ کون طائر سدرہ سے ہمکلام آیا
    جہان خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
    جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
    زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
    کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
    خط جبیں ترا ام الکتاب کی تفسیر
    کہاں سے لاوں ترا مثل اور تری نظیر
    دکھاوں پیکر الفاظ میں تری تصویر
    مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
    کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
    کہاں وہ پیکر نوری کہاں قبائے غزل
    کہاں وہ عرش مکیں اور کہاں نوائے غزل
    کہاں وہ جلوہ معنی کہاں ردائے غزل
    بقدرِ شوق نہیں ظرف تنگنائے دل
    کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
    تھکی ہے فکر رسا اور مدح باقی ہے
    قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
    تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
    ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
    سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے

  61. یا سر ا سا مہ نے کہا ہے:
    September 3, 2009 بوقت 12:02 pm

    گفتگوئے شہ ﷺ ابرار بہت کافی ہے
    ہو محبت تو یہ گفتار بہت کافی ہے
    یادِ محبوبﷺ میں جو گزرے وہ لمحہ ہے بہت
    اس قدر عالم انوار نہت کافی ہے
    مدح سرکار ﷺ میں یہ کیف، یہ مستی ،یہ سرور
    میری کیفیتِ سرشاربہت کافی ہے
    للہ الحمد کہ ہم سوختہ جانوں کیلیے
    شاہﷺ کا سایہ دیوار بہت کافی ہے
    کاش اک اشک بھی ہو جائے قبولِ شہﷺ دیں
    ایک بھی گوھرِ شہوار بہت کافی ہے
    نصرتِ اہل ہمم کی نہیں حاجت مجھ کو
    مددِ احمدِمختار ﷺ بہت کافی ہے
    بے ادب ! دیکھ نہ یوں روضے کی جالی سے لپٹ
    کم نظر! بوسہ دیوار بہت کافی ہے
    روبرو رہتے ہیں انوارِ مدینہ مظہر
    حسرتِ جلوہ دیدار بہت کافی ہے

  62. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 3, 2009 بوقت 6:11 pm

    یاسر رشید اسامہ صاحب نے جس قدر عقیدت سے اوپر تین نعتیں اس بلاگ میں شامل کی ہیں وہ قابل قدر ہے ۔ جزاک اللہ
    مگر ان سے یہ گذارش ہے کہ آئندہ جب وہ کسی شاعر کا کلام اس بلاگ میں شایع کریں تو شروع میں یا آخر میں اس کے مصنف کا نام بھی لکھدیں تاکہ پڑھنےوالے یہ نہ سمجھیں کہ یہ نعتیں یاسر رشید صاحب کی ہیں۔
    پتہ نہیں پہلی اور دوسری نعت کے مصنف شعرا کے نام کیا ہیں مگر درمیانی نعت جس کا پہلا مصرعہ ہے ” یہ کون طائر سد رہ سے ہم کلام آیا ” ناصر کاظمی کی نعت ہے جو اس نے غالب کی غزل پر تضمین کی شکل میں کی لکھی تھی۔ ( میں ناصر کاظمی کی اس نعت کو اوپر کہیں پیش بھی کرچکا ہوں )
    یاسر رشید صاحب سے امید ہے کہ وہ پہلی نعت اور تیسری نعت کے مصنفین کے نام لکھدیں ۔ اگر یہ انکی لکھی ہوئی ہیں تو وہ بھی بتادیں۔

    ۔۔۔۔
    یہ رسول پاک ( صلعم) کا بلاگ ہے اس لیے اس میں تما م عاشقانِ رسول (ص) حصہ لےسکتےہیں۔ اگر وہ اپنا کلام نہیں پیش کرسکتے تو کوئی بات نہیں کسی دوسرے شاعر/شاعرہ کا کلا م بھی شامل کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس کے مصنف/مصنفہ کا نام بھی لکھدیا جائے۔
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    بلاگ کا خادم / ناظم
    منظور قاضی ا ز جرمنی

  63. Yasir Osamah نے کہا ہے:
    September 3, 2009 بوقت 7:10 pm

    محترم منظور قاضی صاحب مجھے ان شعرا کے نام نہیں معلوم ہیں اسی لیے ان کے نام نہیں لکھے-

  64. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 4, 2009 بوقت 10:20 am

    یاسر رشید اسامہ صاحب سے عرض ہے کہ جب وہ کسی نامعلوم شاعر کا کلام اس بلاگ میں پیش کریں تو کلام سے پہلے یا آخر میں یہ صاف صاف لکھدیں کہ “شاعر کا نام معلوم نہیں ” تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ مبتلا ہوں کہ وہ کلام انہی کا ہے۔
    اگر وہ لاہور ( پاکستان ) میں رہتے ہیں اور بجلی کے آنے اور اچانک چلے جانے کی وجہ سے جلدی جلدی میں کوئی تبصرہ لکھیں یا کسی شاعر کا کلام اس بلاگ میں شامل کریں تو ضرور سب سے پہلے یہ لکھدیں کہ ” کسی شاعر کی یہ نعت ہے ” پھر اس کے بعد وہ نعت لکھدیں۔
    جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں ۔ درمیانی نعت ناصر کاظمی کی ہے مگر انکی پہلی اورتیسری نعت کے مصنفین کے نام اگر یاسیر رشید صاحب یا کوئی قاری ، تحقیق کرکے لکھدیں تو سب کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔
    بہرحال :
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  65. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 4, 2009 بوقت 10:34 am

    نعت کے چند اشعار : از وزیر الحسن عابدی

    راز دارِ شب معراج نبی عربی (ص)
    حسنِ وحدت کے لیے آئینہ ء نیم شبی

    جس کا اندازِ نظر حسنِ نظر کی معراج
    وہ نظر جس کو ملا حسن کی شاہی سے خراج

    جس کے سورج سے جہاں تاب ہوا روئے حیات
    جس کی کرنوں سے ہے آرئشِ گیسوئے حیات

    جس نے جس راہ میں بھی علم کی دولت پائی
    قوتِ فکر و نظر اس کی بدولت پائی

    تیرہ تھی فکرِ بشرعہدِ نبی(ص) سے پہلے
    رات تھے دن سفرِ نیم شبی سے پہلے

    کاش اس رازِ ترقی کوجہاں جان سکے
    کاش اس محسنِ تہذیب کو پہچان سکے

  66. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 4, 2009 بوقت 9:59 pm

    نعت کے چند اشعار : از ڈاکٹر صفدر حسین صفدر
    ہوا جو قطرہ فشاں ابرِ رحمتِ عربی
    جہاں میں بجھ گئے صفدر شرارِ بو لہبی

    بجھے گی پیاس مری صرف میرے اشکوں سے
    کہ میرے سینے میں ہے کربلا کی آ گ دبی

    کرم ہو مجھ پہ کہ اک تشنہ لب مسافر ہوں
    مرا سلام ہو تجھ پر پیمبرِ (ص) عربی

    تو مصطفےٰ (ص) ، تو محمد ( ص) ، تو احمدِ( ص) عربی
    ہے ترجماں تری سیرت کی تیری خوش لقبی

    قصیدہ خوانی ء صفدر قبول ہو مولا
    اگرچہ نےَ عجمی ہے مگر ہے لےَ عربی

  67. عامر کیانی نے کہا ہے:
    September 5, 2009 بوقت 12:26 pm

    برادر بزرگ جناب صفدر ہمدانی صاحب ،محترم جناب منضور قاضی صاحب اور محترمہ بہں نگہت نسیم صاحبہ جس محبت کے ساتھ آپ لوگوں نے اس ناچیز کو خوش آمدید کہا ہے اور میرے قلم کے لیے جن جذبات اور نیک تمنائؤں کا اظہار کیا ہے اس کے لیے آپ کا ممنون ہوں اسی حوالے سے پروفیسر اقبال عظیم کا ایک خوبصورت شعر آپ سب کی نذر ہے
    مدینے کے سب گداگر پہچانتے ہیں مجھے
    مجھ کو خبر نہیں تھی کہ اتنا بڑا ہوں میں
    اور جہاں تک زور قلم کا تعلق ہے میرا ایمان ہے کہ
    خود خدا بھی دیتا ہے خیرات تیرےؔ نام کی
    جس کو ملا جو بھی ملا جتنا ملا صدقہ ت
    اللہ رب العزت اس کاوش کے ذریعے ہم سب کی مغفرت فرمائے

  68. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 5, 2009 بوقت 6:14 pm

    نعت کے چند اشعار : از عبد اللہ خاور
    حیات نذر کروں کائنا ت نذر کروں
    بس اک نگاہِ کرم کیجئے حضور حضور(ص)

    حضور (ص) قرب کے لائق کہاں‌یہ دیوانہ
    مگر اجازتِ حسرت کشی عطا ہو‌ضرور

    حضور ( ص) کوئی مجدد عطا ہو‌ملت کو
    ہو جس کے فیض سے احیائے دینِ حق کا ظہور

    حضور ( ص) ایک نظر التفات سے مملو
    بنام ِ آیہ ء رحمت بنامِ ربِّ غفور

    بہت طویل ہیں‌آلام دہر کے سائے
    بہت دراز ہے اب دامنِ شبِ دیجور

  69. مسعود قاضی نے کہا ہے:
    September 5, 2009 بوقت 8:48 pm

    NAAT E RASOOL (sa)Share
    نعت رسول مقبول از وسیع حسن نقاش لاس اینجلس کیلی فورنیا
    خمار ۔ عشق کو ظرف ۔ بدن میں رکھدینا
    زرا سی خاک ۔ مدینہ کفن میں رکھدینا
    خدا سے سب کی شفاعت میں مانگ لا وں گا
    بس ایک نام ۔ محمد ص سخن میں رکھدینا
    میں چا ہتا ہوں کہ بیدار اس میں اک دن ہوں
    کہیں سے صبح مدینہ وطن میں رکھ دینا
    ولا آل نبی کا شجر ہی ہوتا ہے
    جہاں بھی دیکھو ہمارے چمن میں رکھ دینا
    WILA E AAL E NABI (sa) KA SHAJAR HI HOOTA HAY
    JAHAN BHI DAYKHOO HAMARAY CHAMAN MAIN RAKHDAYNA
    چلا ھوں خلد کی جانب مگر جہاں والو
    نبی کی مدح کی خوشبو دہن میں رکھ دینا
    بتاو ہوں کہ نہیں ہوں نبی کا میں مداح
    یہ بحث بعد میرے انجمن میں رکھ دینا

    ھمارے شعر ہیں نقاش نقش کی صورت
    انہٰن اٹھا کہ رہ پنجتن میں رکھ دینا

  70. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 5, 2009 بوقت 9:26 pm

    عا،ر کیانی صاحب نے جزا ک اللہ کیا خوب کہا ہے کہ :
    ” جس کو ملا ، جو بھی ملا ، جتنا ملا ، صدقہ ترا ( ص)”
    ۔۔۔۔۔۔
    بے شک ۔

  71. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 5, 2009 بوقت 9:39 pm

    نعت کے چند اشعار: از جوش ملیح آبادی

    اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
    رعشہء خوف بن گیا رقصِ بتان آذری

    اےکہ ترا غبارِ راہ تابشِ روئے ماہتاب
    اے کہ ترا نشانِ پا نازشِ مہر خاوری

    تیری پیمبری کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے
    بخشا گدائے راہ کو تونے شکوہِ قیصری

    جھلکیاں تیرے ناز کی جنبشِ کاکلِ حسین ( ع)
    رنگ ترے نیا ز کا گردشِ چشمِ جعفری (رض)

    شان تر ے ثبات کی عزمِ شہیدِ کربلا
    شرح ترے جلا ل کی ضربتِ دستِ حیدری ( رض)

    جتنی بلندیا ں تھیں سب ہم سے فلک نے چھین لیں
    اب نہ وہ تیغِ غزنوی ، اب نہ وہ تاجِ اکبری

    اٹھ کہ ترے دیار میں پرچمِ کفر کھل گیا
    دیر نہ کر کہ پڑ گئی صحنِ حرم میں ابتری

    جوش کے حالِ زار پر رحم کہ تیری ذات ہے
    شعلہ ء طورِ معرفت شمعِ حریم دلبری

  72. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 9:20 am

    نعت کے چند اشعار: از میر تجلّی دہلوی

    حضرتِ خیر البشر (ص) سید عالی جناب
    صورتِ بحرِ کرم معنی ء گنجِ صواب

    پیش روِ انبیا (ص) راہبر ِ اصفیا
    نائب ِ ذاتِ خدا صاحبِ وحی و کتاب

    حاکمِ ملکِ وریٰ بلکہ شہ دو سرا
    صلِّ علیٰ مصطفےٰ شافعِ یومِ حساب

    بھائی تمھارا علی (ص) کاشفِ رمزِ جلی
    مظہرِ آیاتِ حق شہر کا علموں کے باب

    صلِّ علیک الرسول(ص) بعد علی (ص) و بتول ( ص)
    بعد حسین ( ص) و حسن (ص) سیّدِ عالی جناب

    پنج تنِ با صفا ہادئی راہ ِ خدا
    قاضیِ روز جزا شافعِ یوم الحساب

    اے صمدِ بے نیاز خاکِ تجلّی پہ رحم
    کیونکہ وہ اب تو ہوا خاکِ رہ ِ بو تراب

  73. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 1:48 pm

    لاس انجلس ۔ کیلیفورنیا کے وسیع حسن نقا ش کی پر از عقیدت نعت ‌( ص) مسعود قاضی نے اس بلا گ میں شامل کی ۔
    اس کی کمپوزنگ میں کچھ تصحیح کی ضرورت ہے۔ ( اس میں زیر کی علامت کی بجائے سکتہ یا وقف کی علامت ہے جسے آسانی سے درست کیا جاسکتا ہے )

    خمارِ عشق کو ظرفِ بدن میں رکھدینا
    ذرا سی خاکِ مدینہ کفن میں رکھدینا

    خدا سے سب کی شفاعت میں مانگ لاونگا
    بس ایک نامِ محمد ( ص) سخن میں رکھدینا
    ۔۔۔۔۔۔
    ایک شعر کا پہلا مصرعہ کچھ یوں ہے :

    ” ولا آلِ نبی کا شجر ہی ہوتا ہے ”
    اس مصرعہ کو رومن اردو میں بھی لکھا گیا ہے ۔ مگر یہ نہ وزن میں ہے اور نہ اسکا مطلب ہی واضح ہے۔
    اس کو پھر سے صحیح‌ طورپر لکھا جائے تو بہتر رہے گا ۔
    مسعود قاضی اگر وسیع حسن نقاش صاحب سے رابطہ قائم کرکے اس مصرعہ کے صحیح متن کو حاصل کرکے اس بلاگ میں شامل کریں تو بہتر ہے ورنہ اس پورے شعر کو سمجھنے میں مشکل ہی پیش آتی رہے گی۔
    یہ رسول ( ص) کا بلاگ ہے ۔ اس میں کوئی کلام لکھا جائے تو اسکو جہاں تک ہوسکے صحیح طور پر لکھا جائے اس کے لیے ادب اور تعظیم اور نبی ( ص) کی حرمت اور عزت کی ضرورت ہے ۔
    اللہ میری اور ہم سب کی کمپوزنگ کی کوتاہیوں کو بھی معاف کرتا رہے ۔ آمین

  74. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 8:13 pm

    یہ مصرعہ اس طرح ہو گا
    ولائے آلِ نبی کا شجر ہی ہوتا ہے

  75. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 8:17 pm

    صل اللہ علیکَ یا رسول ( ص) اللہ
    وسلم علیکَ یا حبیب ( ص ) اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    نعت کے اشعار : از خواجہ محمد اکبر خاں ، اکبر میرٹھی
    پوری یارب یہ دعا کر ۔۔ہم درِ مولا پہ جاکر۔۔۔۔پہلے نعتیں کچھ سنا کر ۔۔۔یہ کہیں سر کو جھکا کر
    ہے یہ حسرت در پہ جائیں ۔۔ اشک کے دریا بہائیں ۔۔۔ داغ سینے کے دکھائیں۔۔۔ سامنے ہوکر سنائیں
    رحمتوں کے تاج والے۔۔۔ دوجہاں کے راج والے۔۔۔ عرش کی معراج والے۔۔ عاصیوں کی لاج والے
    جان کر کافی سہارا ۔۔ لے لیا ہے در تمھارا ۔۔۔ خلق کے وارث خدا را۔۔۔ لو سلام اب تو ہمارا
    بخش دو جو چیز چاہو۔۔۔کیونکہ محبوبِ خدا ہو۔۔۔۔ اب تو بابِ جود وا ہو۔۔ہاں جواب اسکا عطا ہو
    یا نبی ( ص) سلام علیکَ ۔۔۔ یا رسول ( ص) علیکَ
    یا حبیب ( ص) سلام علیکَ ۔۔۔ صلواتُ اللہ علیکَ

  76. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 8:45 pm

    نعت کے چند اشعار : از علامہ اقبال رح
    نگاہ عاشق کی دیکھ لیتی ہے پردہ ء میم کو اٹھا کر
    وہ بزمِ یثرب میں آ کے بیٹھیں ہزار منہ کو چھپا چھپا کر

    شہیدِ عشقِ نبی ہوں میری لحد پہ شمعِ قمر جلے گی
    اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغِ خورشید سے جلا کر

    اڑا کے لائی ہے اے صبا تو جو بوئے زلفِ معنبریں کو
    ہمیں سے اچھی نہیں یہ باتیں خد ا کی رہ میں بھی کچھ دیا کر

    تر ے ثنا گو عروسِ رحمت سے چھیڑ کرتے ہیں‌روزِ محشر
    کہ اس کو پیچھے لگا لیا ہے گناہ اپنے دکھا دکھا کر

    خیالِ راہ ِ عدم سے اقبال تیرے در پر ہوا ہے حاضر
    بغل میں زادِ عمل نہیں ہے ، صلہ مری نعت کا عطا کر

  77. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 8:54 pm

    نعت کے چند اشعار : از شکیل بدایونی

    موت ہی نہ آجائے کاش ایسے جینے سے
    عاشقِ نبی( ص) ہو کر دور ہوں مدینے سے

    فرقتِ محمد ( ص) میں‌خوں فشا ہیں یوں آنکھیں
    جیسے مئے چھلکتی ہے سرخ آب گینے سے

    زندگی کے طوفاں میں جب کہ ناخدا تم ہو
    کویں نہ ہوں خدا والے مطمئن سفینے سے

    کون سی دعا ہے وہ جو اثر نہیں رکھتی
    ہاں مگر یہ لازم ہے مانگئے قرینے سے

  78. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 8:56 pm

    خوں فشا کو خوں فشا ں پڑھیے :
    اور کویں کو کیو ں پڑھیے :
    شکریہ

  79. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 6, 2009 بوقت 9:41 pm

    نعت کےچند اشعار : از صہبا اختر
    صبح دم جب بزمِ گل میں چہچہاتے ہیں طیور
    پو پھٹے جب جھلملاتا ہے فضائے شب میں نور
    روشنی جب پردہء ظلمت سے کرتی ہے ظہور

    تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کیا ہوں گے حضور ( ص)

    ایک ہوائے سرخوشی میں جھومتے ہیں جب نہال
    جب اذاں بن کر چمک اٹھتی ہے آوازِ بلال
    دل پہ جب اسمِ محمد (ص) سے برستا ہے سرور

    تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کیا ہوں گے حضور ( ص)

    عرش سے تا فرش جب آتی ہے آوازِ درود
    ہر طرف ہوتاہے جب پاکیزہ کرنوں‌کا ورود
    جب نظر آتا ہے ہر ذرّہ مثالِ کوہِ طور

    تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کیا ہونگے حضور ( ص)

    بجلیاں جب ٹوٹتی ہیں خون کے اوراق پر
    آندھیاں جب سنسناتی ہیں مرے آفاق پر
    ان کے صدقے، مطمئن رہتا ہے قلبِ نا صبور

    تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کیا ہو نگے حضور ( ص)

    ان کے قد موں کی تجلّی میرے صبح و شام پر
    دائماً رحمت ہیں صہبا ، اور ان کے نام پر
    بخش دیتا ہے خدا جبا مجھ سے عاصی کے قصور

    تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کیا ہونگے حضور ( ص)

  80. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 7, 2009 بوقت 7:14 am

    نعت کے چند اشعار : از علی سکندر جگر مرادآبادی

    اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ (ص) مدینہ
    ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطانِ(ص) مدینہ

    تو صبحِ ازل آئنہ ء حُسنِ ازل بھی
    اے صلِّ علیٰ صورتِ سلطانِ (ص) مدینہ

    اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدّق
    تو خلد ہے تو جنتِ سلطانِ (ص) مدینہ

    کونین کا غم ، یادِ خدا ، دردِ شفاعت
    دولت ہے یہی دولتِ سلطانِ(ص) مدینہ

    کچھ اور نہیں کام جگر مجھ کو کسی سے
    کافی ہے بس اک نسبتِ سلطانِ (ص) مدینہ

  81. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 7, 2009 بوقت 7:38 am

    نوح ناروی کی تحریر کردہ نعت کے تین اشعار:

    سامنے جس کی نگاہوں کے مدینہ آیا
    لطف کے ساتھ اسے مرنا اسے جینا آیا

    تابشِ حسنِ محمد( ص) تھی یہ معراج کی رات
    ہر چمکتے ہوئے تارے کو پسینہ آیا

    ناخدا جب ہو محمد( ص) سا تو ہم کیوں یہ کہیں
    نوح طوفان ِ حوادث میں سفینہ آیا

  82. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 7, 2009 بوقت 11:13 am

    نعت کے چند اشعار : از بیدم شاہ وارثی

    آئی نسیمِ کوئے محمد صلَیّ اللہ علیہ و سلم
    کھنچنے لگا دل سوئے محمد صلیّ اللہ علیہ و سلّم

    کعبہ ہمارا کوئے محمد صلیّ اللہ علیہ و سلّم
    مصحفِ ایماں روئے محمد صلیّ اللہ علیہ و سلّم

    بھینی بھینی خوشبو مہکی بیدم دل کی دنیا لہکی
    کھل گئے جب گیسوئے محمد صلیّ اللہ علیہ و سلّم

  83. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 7, 2009 بوقت 11:25 am

    نعت کے چند اشعار: از عبدالعزیز خالد

    محمد(ص) انجمن ِ کن فکا ں کا صدر نشیں
    محمد (ص) افسرِ آفا ق و سرورِ عالم

    حمود و حامد و احمد ، محمد و محمود
    کریم و میرِ کرام ، مکرّم و اکرم

    اسی کو صاحبِ خلقِ عظمیم کہتے ہیں
    وہی ہے نوعِ بشر کا معلّم اعظم

    رموزِ کن فیکوں جس پہ موبمو روشن
    وہی جو ختم رسل( ص) ہے وہی جو فخرِ امم

    جو مکّی و مدنی ہر وطن کا ہے وطنی
    حکیم و حاملِ احکام و حاکم وا حکم

    اٹھائے ہاتھ دعا کو اسی کی خاطر جب
    رکھی خلیل براہیم( ص) نے بِنائے حرم

    محمدِ (ص) عربی آبروئے ہر دو سَرا
    حبیب پاکِ خدا ، جانِ عالم و آدم

  84. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 7, 2009 بوقت 5:55 pm

    نعت کے چند اشعار : از خواجہ حمیدالدین شاہد

    دونوں عالم جان و دل سے ہیں فدائے مصطفیٰ (ص)
    کتنی سادہ ، کتنی دلکش ہے ادائے مصطفیٰ (ص)

    آپ کا ہوں ، آپ کا ہوں ، آپ کا ہوں یا نبی (ص)
    ہو نہیں سکتا کسی کا آشنائے مصطفٰی (ص)

    اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی عطائے کردگار
    لب پہ ہے نعتِ نبی( ص) دل میں وِ لائے مصطفٰی (ص)

    شاہد اس کی زندگی ہے باعثِ صد رشک و ناز
    رات دن کرتا ہے دل سے جو ثنائے مصطفٰٰی ( ص)

  85. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 7, 2009 بوقت 9:21 pm

    نعت کے چند اشعار : از مومن دہلوی
    ہوں تو عاشق مگر اطلاق ہے یہ بے ادبی
    میں غلام اور وہ صاحب ہیں، میں امّت وہ نبی ( ص)
    یا نبی (ص) یک نگہ ء لطف باُمّی و ابی
    ” مرحبا سیّدِ مکّی مدنی العربی
    دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی ”

    مظہرِ نورِ خدا شکل ہے محسود صنم
    محو تیرے مَلَک و حور و پری و آدم
    کیا ہی عالم ہے کہ تصویر ہی کا سا عالم
    “منِ بیدل بہ جمالِ تو عجب حیرانم
    اللہ اللہ چہ جمال است بدیں بوالعجبی “

  86. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 7, 2009 بوقت 9:56 pm

    اس بلاگ کے پڑھنےوالوں نے اس کے عنوان کے شعر ( جسے جوش نے لکھا ) کا یہ دوسرا مصرعہ تو ضرور پڑھا ہوگا :
    ” لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب ”
    اسکے علاوہ قارئین نے ناصر کاظمی کی نعت کا یہ مصرعہ بھی پڑھا ہوگا:
    “خطِ جبیں ترا ام الکتاب کی تفسیر ”
    ۔۔۔۔۔
    اس ام الکتاب ( یعنی قرآنِ کریم ) کا رمضان کے مہینے سے جو تعلق ہے اس کو تمام مسلمان اچھی طرح سمجھتےہیں۔
    میں چونکہ عالمِ دین نہیں ہوں اور نہ میری معلومات قرآن کے بارے میں اتنی ہیں کہ میں اس مقدس کتاب پر کوئی تبصرہ کرسکوں
    مگر میرے سامنے ماہر القادری کی یہ نظم ” قرآن کی فریا د ” موجود ہے جس میں قرآن کی بے بسی اور بے قدری کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔
    اگر چیکہ یہ نعت کا بلاگ ہے مگر رمضان اور سرورِ کائنات حضرت محمد صلعم ( ص) کا تعلق قرآن سےہی ہے اس لیے میں یہ نظم اس بلا گ میں شامل کررہا ہوں:
    یہ حقیقت میں ” ام الکتاب یعنی قرآن کی فریا د ” ہے :

    طاقوں میں سجا یا جاتا ہوںَ آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
    تعویز بنا یا جاتا ہوں، دھو دھو کے پلا یا جاتا ہوں

    جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
    پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسا یا جاتا ہوں

    جس طرح سے طوطا مینا کو کچھ بول سکھائے جاتے ہیں
    اس طرح پڑھا یا جاتا ہوں َ اس طرح سکھایا جاتا ہوں

    جب قول و قسم لینے کے لیے تکرار کی نوبت آتی ہے
    پھر میری ضرورت پڑتی ہے ہاتھوں میں اٹھا یا جاتا ہوں

    دل سوز سے خالی رہتے ہیں آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
    کہنے کو میں اک اک جلسہ میں پڑھ پڑھ کے سنا یا جاتا ہوں

    نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
    اک بار ہنسا یا جاتا ہوں ، سوبار رلایا جاتا ہوں

    یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے، قانون پہ راضی غیروں کے
    یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ایسے بھی ستا یا جاتا ہوں

    کس بزم میں مجھ کو بار نہیں کس عرس میں میری دھوم نہیں
    پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

  87. تلمیذ فا طمہ برنی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 5:32 am

    غیر مسلم شعرا نے رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعت کے نذرانے پیش کئے ہیں ایک نام ان میں پنڈت ہری چند اختر کا بھی ہے

    کس نے ذرّوں کو اٹھا یا اور صحرا کردیا
    کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
    زندہ ہو جا تے ہیں جو مرتے ہیں ا

  88. تلمیذ فا طمہ برنی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 5:48 am

    زندہ ہو جا تے ہیں جو مرتے ہیں انکے نام پر
    اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا
    شوکتِ مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم
    منہدم کس نے الہی قصرِ کِسریٰ کر دیا
    کس کی حکمت نے یتیمو ں کو کیا دُرِ یتیم
    اور غلا موں کو زما نے بھر کا مو لیٰ کر د
    یا

    سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حُسنِ کا ئنات
    اب کسی نے اسکو عالم آشکا را کر دیا

    کہدیا لاَ تَقنُطو اختر کسی نے کان میں
    اور دل کو سر بسر محوِ تمنا کردیا

  89. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 9:13 am

    ماشا اللہ تلمیذ فاطمہ صاحبہ نے غیر مسلم شعراکی رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں مدحت اور نعت کے نذرانہ کی بات کرتے ہوئے پنڈت ہری چند اختر کی لکھی ہوئی نعت کی مثال پیش کی ۔
    اسی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ، میں اب چند اور غیر مسلم شعرا کی آنحضرت صلعم کی مدح سرائی کے مثال پیش کرتا ہوں:
    نعت کے چند اشعار : از سر کشن پرشاد شاد
    بلوائیں مجھے شاد جو سلطان ( ص) مدینہ
    جاتے ہی میں ہوجا ونگا قربانِ مدینہ

    وہ گھر ہے خدا کا تو یہ محبوبِ خدا ہیں
    کعبے سے بھی اعلیٰ نہ ہو کیوں شانِ مدینہ

    روکیں گے نہ دربار میں‌جانے کے لیے شاد
    پہچانتے ہیں سب مجھے دربانِ مدینہ

    کیوں میری شفاعت میں بھلا دیر لگے گی
    کیا مجھ کو نہیں جانتے سلطانِ مدینہ

    مومن جو نہیں ہوں تو میں کافر بھی نہیں شاد
    اس رمز سے آگاہ ہیں سلطانِ مدینہ

  90. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 9:20 am

    پنڈت دتا تریہ کیفی کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار :

    ہو شوق نہ کیوں نعتِ رسول( ص) دو سرا کا
    مضموں ہو عیا ں دل میں جو لولاک لما کا

    یوں روشنی ایمان کی دے دل میں کہ جس سے
    بطحا سے ہو ا جلوہ فگن نور خدا کا

    ہے حامی و ممدوح مرا شافعِ محشر
    کیفی مجھے اب خوف ہے کیا روزِ جزا کا

  91. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 9:27 am

    عرش ملسیانی کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:

    کہ دل کا حال شاہِ رسالت مآب ( ص) سے
    ہو بے نیازِ ذکرِ عذاب و ثواب سے

    سجدہ گزار ہو کے درِ مصطفےٰ (ص) پہ تو
    ہو ملتجی کرم کا خدا کی جناب سے

    ہو تا ہے عرش دولت ِ دیں سے جو بہرہ ور
    تو بھی رجوع کر شہِ دیں کی جناب سے

  92. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 10:12 am

    کبیر داس بنارسی

    عدد نکالو ہر چیز سے چوگن کرلو وائے
    دو ملا کے پچگن کرلو بیس کا بھا گ لگائے
    باقی بچے کے نو گن کرلو دو اس میں دو اور ملائے
    کہت کبیر سنو بھئی سادھو نام محمد( ص) آئے
    ۔۔
    نعت کی کتا ب ” ارمغانِ نعت ” سے اقتباس:
    ” کبیر داس نے ایک عجیب و غریب قطہ کہا تھا ( جو اوپر پیش کیا گیا ) ، جس میں ایک ایسا قاعدہ بیان کیا ہے جس کی رو سے دنیا کے تمام الفاظ اور جملوں سے ” محمد” (ص) کا عدد 92 بر آمد ہوگا ۔ یہ قطعہ اس تاثر کا غماز ہے کہ دنیا جہان کی کوئی چیز نامِ محمد ( ص) سے خالی نہیں ” :
    اس کی تشریح ملاحظہ ہو:
    ” جو لفظ بھی آپ فرض کریں اس کے عدد بحساب ابجد نکال لیجئے
    پھر اس عدد کو چار 4 سے ضرب دیجئے
    حاصلِ ضرب میں دو 2 عدد ملا دیجئے
    پھر اس حاصلِ جمع کو پانچ 5 سے ضرب دیجئے
    پھر اس حا صلِ ضرب کو بیس 20 سے تقسیم کردیجئے
    تقسیم کے بعد جو عدد باقی بچے اس کو 9 سے ضرب دیجئے
    پھر اس حا صلِ ضرب میں دو 2 عدد ملا دیجئے
    نتیجہ میں جو عدد حاصل ہوگا وہ 92 ہو گا جو کہ محمد( ص) کا عدد 92 ہے ۔
    اس طرح کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ عدد وں والے جس حرف و لفظ سے بھی تجربہ کریں با لکل صحیح پائینگے”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ : میں حروف کی قوت کو مندرجہ ذیل طریقہ سے پییش کرتا ہوں :
    ابجد ، ہوز ، حطی : اس میں پہلا حرف ایک1 اور آخری حرف دس 10 کی قوت رکھتا ہے ۔
    کلمن ، سعفص : اس میں پہلا حرف بیس ( 20 ) اورآخری حرف 90 نوے کی قوت رکھتا ہے ۔
    قرشت، ثخذ ، ضظغ : اس میں پہلا حرف سو 100 اور آخری حرف ہزار 1000 کی قوت رکھتا ہے ۔

    ۔۔۔۔
    مثال : م 40
    ح : آٹھ 8
    م : 40
    د : چار 4
    جملہ 92
    ایک بات بتانا ضروری ہے کہ کبیر داس کے زمانہ میں اور علم رمل کی دنیا میں اس علم کو قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے مگر بہت سارے مسلم علما اس کونہیں مانتے ۔
    بہر حال یہ چونکہ نعت ِ رسول مقبول ( ص) کا بلاگ ہے اس لیے اس بحث کو اس بلاگ میں جاری رکھنا مناسب نہیں ۔ اگر کوئی قاری اس کے لیے کسی الگ بلاگ میں کچھ کہے تو اس کی مرضی۔
    فقط:
    ایک سیدھا سادہ مسلمان
    منظور قاضی از جرمنی

  93. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 1:14 pm

    نو/ٹ: میں ارمغانِ نعت کے صفحہ 371 پر لکھے ہوئے کبیر داس کی قطعہ اور اس کی تشریح کو جوں کا توں پیش کردیا ہوں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بتائی ہوئی تشریح کچھ غلط سی ہے یا اس میں اس کتاب کے لکھنےوالے شفیق بریلوی کی کچھ سہو ہے اس لئے کہ
    اوپر بتائے ہوئے طریقے سے 92 نہیں بنتے۔
    میں نے 92 سے شروع کیا مگر اس حساب کے مطابق 834 عشاریہ 5 بنے !!!!!
    ۔۔۔
    بہر حال اس کبیر داس کی اس پہیلی کو یہیں پر چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  94. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 1:22 pm

    گورو نانک جی کہتے ہیں:
    اٹّھے پہر بھوندا پھرے کھاون سِنڑے سُول
    دوز خ پوندا کیوں رہے جاں چت نہ ہوئے رسول (ص)
    ترجمہ : ” وہ شخص آٹھوں پہر بھٹکتا پھرے اور اس کے سینے میں درد اٹھتا رہے ۔ وہ دوزخ میں کیوں نہ پڑے جب اس کے دل میں رسول(ص) کی چاہ نہ ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بھی کہتے ہیں:
    م محمد(ص) مَن توں ، من کتا باں‌ چار
    من خدائے رسول (ص) نوں ، سچا ای دربار

    ترجمہ :
    “تو حضرت محمد(ص) کو مان اور چاروں کتابوں کو بھی مان ۔ تو خدا اور رسول (ص) دونوں کو مان کیونکہ خدا کا دربار سچا ہے ۔ ”

    ماخذ : ارمغانِ نعت صفحہ 372

  95. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 1:31 pm

    منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:

    نہیں خورشید کو ملتا ترے سائے کا پتہ
    کہ بنا نور ازل سے ہے سراپا تیرا
    اللہ اللہ ترےچاند سے مکھڑے کا ضیا
    کون ہے ماہِ عرب کون ہے محبوبِ خدا

    اے دو عالم کے حسینوں سے نرالے آجا

    دل ہی دل میں مرے ارمان کھلے جاتے ہیں
    خاک پر گر کے در اشک رلے جاتے ہیں
    تیری رسوائی پہ کم بخت تلے جاتے ہیں
    ہوں سیہ کار مرے عیب کھلے جاتے ہیں

    کملی والے (ص) مجھے کملی میں چھپا لے آجا

    دلِ بے تاب کو سینے سے لگا لے آجا
    کہ سنھلتا نہیں کم بخت سنبھالے آجا
    پاوں ہیں طولِ شب غم نے نکالے آجا
    خواب مین زلف کومکھڑے سے لگا لے آجا

    بے نقاب آج تو اےگیسووں والے آجا

  96. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 5:52 pm

    تلوک چند محروم کی لکھی ہوئی نعت کا قطعہ:
    مبارک پیشوا (ص) جس کی ہے شفقت دوست دشمن پر
    مبارک پیش رو (ص) جس کا ہے سینہ صاف کینے سے
    انہی اوصاف کی خوشبو ابھی اطرافِ عالم میں
    شمیمِ جانفزا لاتی ہے مکہ اور مدینے سے

  97. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 5:54 pm

    رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کا ایک نعتیہ قطعہ:
    انوار بے شمار معدود نہیں
    رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں
    معلوم ہے کچھ تم کو محمد (ص)کا مقام
    وہ امّتِ اسلام میں محدود نہیں

  98. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 5:59 pm

    کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:
    تکمیلِ معرفت ہے محبت رسول (ص) کی
    ہے بندگی خدا کی اطاعت رسول ( ص) کی

    ہے مرتبہ حضور ( ص) کا با لائے فہم و عقل
    معلوم ہے خد ا ہی کو عزت رسول ( ص) کی

    تسکینِ دل ہے سرورِ کون و مکاں کی یاد
    سرمایہ ء حیات ہے الفت رسول ( ص) کی

    فرمانِ ربِ پاک ہے فرمانِ مصطفے ٰ(ص)
    احکام ایزدی ہیں ہدایت رسول ( ص) کی

    اتنی سی آرزو ہے بس اب ربِ دوجہاں
    دل میں رہے سحر کے محبت رسول( ص) کی

  99. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 6:06 pm

    نعت کے چند اشعار از جگن ناتھ آزاد

    سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
    پزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکا ں پر

    سلام اس پر جو آیا رحمتہ للعالمیں بن کر
    پیامِ دوست بن کر صادق الوعدو امیں بن کر

    سلام اس پر بنایا جس نے دیوانوں کو فرزانہ
    مئے الفت کا چھلکا یا جہاں میں جس نے پیمانہ

    سلا م اس پر فقیری میں نہاں تھی جس کی سلطانی
    رہا زیرِ قدم جس کے شکوہِ و فر خاقانی

    سلا م اس ذاتِ اقدس پر حیاتِ جاودانی کا
    سلام آزاد کا آزاد کی رنگیں بیانی کا

  100. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 6:38 pm

    نعت کے چند اشعار ا ز رانا بھگوان داس بھگوان
    نبیِ ( ص) مکرم شہنشاہ ِ عالی
    بہ اوصافِ ذاتی و شانِ کمالی

    خدا کا جو نائب ہو ا ہے یہ انساں
    یہ سب کچھ ترا ہے ستودہ خیالی

    تو فیاضِ عالم ہے داتائے اعظم
    مبارک ترے در کا ہر اک سوالی

    میں جلو ے کا طالب ہوں اے جانِ عالم
    دکھا دے دکھادے و ہ شانِ جمالی

    ترے آستانہ پہ میں جان دونگا
    نہ جاوں نہ جاوں ن جاوں کا خالی

    تجھے واسطہ حضرتِ فاطم ( رض) کا
    میری لاج رکھلے دو عالم کے والی

    نہ مایوس ہونا یہ کہتا ہے بھگوان
    کہ جودِ محمد ( ص) ہے سب سے نرالی

  101. تلمیذ فا طمہ برنی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 6:57 pm

    آںجہا نی جنا ب پرو فیسر جگن ناتھ آذاد تلوک چند محروم کے خلفِ رشید تھے

  102. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 7:06 pm

    ا س بلاگ کی ابتدا میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنی طرف سے دو مرتبہ رسولِ مقبول ( صلعم ) پر اپنی نعت کے پھول پیش کیے ، اب اس بلا گ میں مزید خواتین کے نعتیں پیش کی جاتی ہیں: اگر کوئی شاعرہ محترمہ اس بلا گ کو پڑھ رہی ہیں اور اگرانہوں نے کوئی نعت لکھی ہو تو وہ اس بلا گ مین شامل کرکے اس بلاگ کی رونق میں اضافہ کرسکتی ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزیزجہاں ادا جعفری بدایونی کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار :
    یہ حسنِ نواز ش ، یہ اوجِ سعادت
    یہ دل اور مجالِ سلامِ عقیدت

    یہ سر اور دہلیز ِ سرکارِ عالم
    یہ جاں اور جمالِ حریمِ محبت

    یہی آستاں ، آستانِ تمنا
    یہی رہگذر ہے خیابانِ جنت

    ادھر چشمِ پُر آب آئینہ ساماں
    ادھر ناز فرما ہے طغیانِ رحمت

    تری یاد دل کو متاعِ گرامی
    ترا نام لب پر کمالِ عبادت

    چراغاں چراغاں نقوشِ کفِ پا
    یہی ماہ تاباں یہی مہر طلعت

    یہی حرفِ اول یہی حرفِ آخر
    بہ تعبیرِ قرآں زبانِ صداقت

    شہِ دین و دنیا نگاہِ ترحم
    نگاہِ ترحم ! سپہرِ نبوت

    یہ ناز ِ نوازش ، یہ شانِ عنایت
    عطا ہوپھر اذنِ سلامِ عقیدت

  103. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 7:16 pm

    مظہر انسا سعیدہ عروج مظہر کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار :
    کس نے کھولی ہے زباں کون ہو ا دل کا قریں
    کیسی آواز ہے ؟ کیوں بھیگ رہی ہے یہ جبیں ؟

    کس نے چھیڑی ہے یہ لئے ، لحنِ عرب میں یارب
    جھنجھنا کر جو اٹھی روح مری بہرِ ادب

    کوئی یوں بول رہا ہے رگِ جاں کے اندر
    جیسے الفاظ ہوں پوشیدہ زباں کے اندر

    دست بستہ ہیں ، جھکا ئے ہوئے سر محفل میں
    چیخ بن جائے گر ے سوئی اگر محفل میں

    کس کی آمد ہے کہ خوشبو کی لپٹ آتی ہے
    جسم میں روح کے گلزار کو چٹکا تی ہے

    سنسنا ہٹ سی ہے دل جھوم رہا ہو جیسے
    نام ( ص) جو لب پہ ہے دل چوم رہا ہو جیسے

    میرے مولا ( ص) ، مرے آقا(ص) ، مرے سرور (ص) صدقے
    جان و دل صدقے ترے پاوں پہ یہ سر صدقے

  104. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 7:38 pm

    وحیدہ نسیم کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:
    لفظ قرآن کے، تری تحسین
    تو ہی طٰہٰ ہے اور تو ہی یٰسین

    تو مزمل ہے تو مدثر ہے
    تو ہی طیب ہے تو ہی طاہر ہے

    تو ہی تکمیل ہے نبوت کی
    تو ہی معراج آد میت کی

    سرِ منبر تو انبیا کا امام
    تجھ پہ بھیجے ہیں تیرے رب نے سلام

    نغمہ ء سرمدی پیام ترا
    سِدرتہ المنتہیٰ مقام ترا

    صاحب تاج صاحبَ معراج
    ہم نگاہِ کرم کے ہیں محتاج

  105. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 8:04 pm

    ایک وضاحت:
    جناب امین ترمذی صاحب نے آج مجھے ٹیلیفون پر یہ بات کہی کہ ابجد کے عددوں کے حساب کو علم ِ جُمل کہا جاتا ہے ۔
    قارئین کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے تبصرےمیں ابجد کے عدود کی قوت کے علم کو علمِ رمل کہا تھا اس لیے کہ لغت میں رمل کو ہندسوں کے زریعہ غیب کی بات دریافت کرنےکے علم کو علم رمل بتا یا گیا ہے۔
    ترنذی صاحب کی تصحیح کا شکریہ۔ اس لیے کہ ابجد کے عدود کے حساب کو علم جُمل ہی کہا جاتا ہے علم رمل نہیں ۔

  106. مسعود قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 9:17 pm

    نعت رسول مقبول از سعد اللہ شاہ

    یقین کچھ بھی نہیں ہے ، گمان کچھ بھی نہیں
    جو تو نہیں ہے تو سارا جہا ن کچھ بھی نہیں
    ترے ہی نام سے پہچان ہے مرے اقا
    وگرنہ اپنا تو نام و نشان کچھ بھی نہیں
    لبوں پہ نام ۔ محمد (ص) ہے زمزمہ پیرا
    ہمارے فکر کی ورنہ اڑان کچھ بھی نہیں
    ترے ہی دم سے منور ہیں بام و در دل کے
    جو تو نہیں ہے مکیں تو مکان کچھ بھی نہیں
    تجہی سے پائ ہے تہذیب آدمیت نے
    وگرنہ خاک ہے یہ خاک دان کچھ بھی نہیں
    یہ پیارا نام لہو میں اگر نہیں ہے رواں
    یہ جسم کچھ بھی نہیں ہے یہ جان کچھ بھی نہیں
    دل و زباں پہ رہے بس ہمیشہ صل ۔ علیٰ
    وگرنہ سعد یہ دل اور زبان کچھ بھی نہیں

    نعت رسول مقبول از سعد اللہ شاہ

  107. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 10:27 pm

    عدود کی بجاے اعداد پڑھیے : شکریہ

  108. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 8, 2009 بوقت 10:54 pm

    ماشااللہ ، جزاک اللہ سعد اللہ شاہ کی تحریر کردہ نعت کو مسعود قاضی نے شامل کرکے اس بلاگ کی رونق کو اور بڑھادیا ۔
    یہ بلاگ اس عظیم شخصیت ( ص) کے متعلق ہے جس کے متعلق سعداللہ شاہ نے صحیح کہا ہےکہ:
    ترے ہی نام سے پہچان ہے مرے آقا (ص)
    وگرنہ اپنا تو نام و نشان کچھ بھی نہیں

    بے شک ۔
    وگرنہ ” میرا ” تو نام و نشان کچھ بھی نہیں

  109. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 9, 2009 بوقت 2:17 pm

    سیدہ مسرت جہاںشفیق نوری کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:

    میں کروں ثناءِ احمد(ص) ، ہوا غیب سے اشارا
    نہ قلم میں‌تاب و طاقت، نہ زبان کو ہے یارا

    مرے ذہن و نطق حیراں ،کہ کہوں تو کیا کہوں میں
    کروں‌کسیے مدح اس کی جو خدا کو خود ہے پیارا

    یہی فخر میری عزت، تری ذات سے ہے نسبت
    مری زندگی کا حاصل ترے عشق کا شرارا

    وہ نبی ( ص) تمام رحمت ، جو ہے غمگسارِ امت
    کئے ہم پہ اتنے احساں نہ اٹھے گا سر ہمارا

    نہیں کوئی اس جہاں میں جو شریکِ رنج و غم ہو
    ہے خدا کے بعد اے دل، اسی ذات کا سہارا

    ہو قبول نعت میری، مجھے اذنِ حاضری ہو
    درِ قدس کے ہوں جلوے، یہ نظر ہو اور نظارا

    ہے دعا کہ روزِ محشر کہیں مجھ سے میرے آقا
    یہ ہراس کیوں ہے نوری ، تو نہیں ہے بے سہارا

    ۔۔۔۔۔
    ماشااللہ ،اس نعت کے آخری شعر میں انتہائی سوز بھی ہے اور عقیدت کے اظہا ر کی انتہا بھی ۔ اس دعا پر آمین ثم آمین کہنا ہی پڑتا ہے۔

  110. تلمیذ فا طمہ برنی نے کہا ہے:
    September 9, 2009 بوقت 6:02 pm

    خواتین شا عرا ت کا ذکر آیا ہے تو شبنم شکیل کی نعت کے دو شعر

    تیرے سوا جہاں میں بڑائی نہں کوئی
    تجھ سے بڑی جہاں میں اکائی نہیں کوئی
    تجھ سے ہمیں ثبوتِ وجودِ خدا ملا
    اس سے بڑی دلیل تو آئی نہیں کوئی

  111. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 9, 2009 بوقت 8:16 pm

    درِ شہوار نرگس کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:
    اے دل اگر ہے تجھ کو محبت رسول(ص) کی
    شیوہ بنا لے اپنا اطاعت رسول ( ص) کی

    وہ سر کٹے نہ جس میں ہو سودا رسول ( ص) کا
    وہ دل مٹے نہ جس میں ہو عزت رسول ( ص) کی

    ظلمت جہاں سے کفر کی کافو ر ہو گئی
    روشن ہوئی جو شمع رسالت رسول ( ص) کی

    گھبرائیں کیوں گنا ہ کے بارِ گراں سے وہ
    کافی ہے عاصیوں کو شفاعت رسول ( ص) کی

    عاصی ہوں ، روسیاہ ہوں، جو کچھ بھی ہوں مگر
    بندی خدا کی اور ہوں امّت رسول ( ص) کی

  112. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 9, 2009 بوقت 10:40 pm

    علی اصغر روحی کی تحریر کردہ نعت کے چند ا شعار:

    کچھ ابتدا ہی نہیں انتہا بھی نازاں ہے
    بنا کے نقشِ رسالت خدا بھی نازاں ہے

    وہ آیا سب کے لئے رحمتِ خدا بن کر
    تمام عالمِ ہستی کا رہنما بن کر

    رسولِ حق ( ص) سے نئے دور کا ہوا آغاز
    نوائے وقت بنی انقلاب کی آواز

    مچی ہے دھوم کہ حق کا امین آیا ہے
    وہ اپنےساتھ خدا کی کتاب لا یا ہے

    عطا ہوا تھا محمد( ص) کو علم قرآنی
    عمل سے ہوگئی معراج فکر انسانی

    یہ نازشِ بنی آدم ہیں نازِ آدم بھی
    یہ انبیاء کے ہیں رہبر بھی اور خاتم بھی

  113. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 10, 2009 بوقت 10:52 am

    نعت کے چند اشعار : از شمیم جالندھری

    آج وہ دن ہے کہ برسا آسماں سے ابرِ نور
    آج کے دن جوش پر تھی رحمتِ ربِّ غفور

    آج یثرب میں کیاشاہ ِ دو عالم ( ص) نے ظہور
    ہوگیا روشن خدا کے نور سے نزدیک و دور

    ہل گئے ایوانِ شاہی زلزلہ سا آگیا
    سطوتِ بعثت تھی ایسی اک جہاں تھرّا گیا

    نعرہ ء اللہ اکبر کی صدا آنے لگی
    برقِ وحدت کفر کے خرمن کو جھلسانے لگی

  114. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 10, 2009 بوقت 7:12 pm

    فاطمہ فاروقی تبسّم کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار:

    آ پ ( ص) ہیں نورِ مجسم آپ فخرِ دو جہاں
    یو ں بشر کہنے کو ہیں لیکن خدا کے راز داں

    آپ ( ص) لے کر آگئے دنیا میں فرمانِ خدا
    حکم کے تا بع رہیں گے حشر تک پیر وجواں

    کتنے احساں کرچکے اور کس قد ر کرنے کو ہیں
    آپ ( ص) ہی تو ہوں گے روز حشر ہم پہ مہرباں

    رونقِ عالم ! نگاہِ لطف مجھ پہ کیجئے
    زندگی سے دور ہوجائے ، مری دورِ خزاں

    دیکھنا ہے گر تبسّم شمسِ طیبہ دیکھ لے
    ہے مدینہ میں وہ محبوبِ خدا عنبر فشاں

  115. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 11, 2009 بوقت 10:38 am

    نہنیت النسا ء( بیگم ڈاکٹر محی الدین قادری زور ) تہنیت کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار :

    جب سے الطاف و کرم ہرجا نظر آنے لگے
    سب میں محبوبِ ( ص) خدا یکتا نظر آنے لگے

    رازِ ہستی بے نقاب اس طرح دنیا پر کیا
    وہ سراپا رحمتِ دنیا نظر آنے لگے

    جیسے جیسے سوئے طیبہ ہم سفر بڑھتے گئے
    اپنی ہستی سے بھی بے پروا نظر آنے لگے

    وقتِ رخصت ہم پہ جو گذری ابھی تک یاد ہے
    چھوڑتے ہی ان کا در تنہا نظر آنے لگے

    خوبئی قسمت سے اپنی وہ ( ص) حرم میں جابجا
    تہنیت ہم پہ کرم فرما نظر آنے لگے

  116. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 11, 2009 بوقت 1:20 pm

    سیدہ سردار بیگم اختر حیدرآبادی کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:

    سلام اے سرورِ کونین ( ص) اے مقصودِ یزدانی
    سلام اے جلوہ ء توحید و شمعِ بزمِ روحانی

    سلام اے وہ کہ تیری ٹھوکروں میں تاجِ شاہانہ
    سلام اے وہ کہ تیرے فقر میں تھی شانِ سلطانی

    سلام اے وہ کہ تو ہے جانِ انصاف و رواداری
    سلام اے وہ کہ تجھ سے جات اٹھی روحِ انسانی

    تری چشم ِ توجہ کی طلب ہے آدمیت کو
    زمانہ چاہتا ہے پھر ترے الطافِ رحمانی

    کرم اے پیکرِ لطف و نوازش نوعِ انساں پر
    کہ حد سے بڑھ گئی ہے گمرہی کی آ ج ارزانی

  117. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 11, 2009 بوقت 1:48 pm

    اس بلاگ کے پڑھنے والوں سے عرض ہے کہ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ نعت کے موضوع پر یہ اردو کا بلاگ چلتا رہے ۔ اب میں کوشش کرونگا کہ
    پنجابی زبان میں لکھی ہوئی نعتو ں کے نمونے پیش کروں اگر چیکہ پنجابی کمپوز کرنا بے حد مشکل کام ہے ، پھر بھی کوشش کرونگا کہ کوئی کوتاہی دانستہ طور پر نہ ہو۔ ( اللہ معاف کرے ) ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سید وارث شاہ رح کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار:

    دوجی نعت رسول ( ص) مقبول والی جہڑی موجب ہے کا اڈنبراں دا
    کائنات د ا سو ہجھ تے فخرِ عالم سلطان ہے دھرت تے انبراں دا

    جناں بندیا دا مرشد پیر کامل سردار ہے پیغمبراں دا
    ہادی مسجداں تے آتش خانیا ں دا ٹھا گردواریاں گرجیاں مندراں دا

    نور نار سندی خبر دین والا چمکیڈراں کالیاں اندراں دا
    کنجی خُلق عظیم دی گھت بیجے توڑن والڑا کفر دے جندراں دا

    پھڑ کے لآدی تیزتلوار ہتھیں بھن چھڈیان بُت مچھندراں دا
    وڈے زور والے ہوئے آن حاضر جہڑے ماردے بَل سکندراں دا

    جنہاں کفر کیتا اوہدے نال او نہال مزا چکھیا رچھ تے بندراں دا
    جنہاں صدق دے نال ایمان آندا لیا مرتبہ اُ چیا ں نمبراں دا

    او ہلے بیٹھ کے کملی پوش ماہی لیا بھیت جو کُھندراں کھندرا ں دا
    دتا ونڈ چو پاتیا ں جام ساقی نشہ پھبیا کُل قلندراں دا

    جتھے کفر سندی بدبو آہی اوتھے ڈھیر توحید دیاں عنبراں دا
    ہلیا آن حکیم محبوب وارث گیا روگ ناسور بھگندرا ں دا

    ۔۔۔۔۔
    کاش کہ کوئی پنجابی قاری اس نعت کا اردو میں ترجمہ کردے ۔ ( کنول خان صاحبہ اس کی ماہر ہیں مگر پتہ نہیں انہوں‌نے ان بلاگوں میں آنا کیوں بند کردیا ۔ اگر وہ وارث شاہ کی نعت کی خاطر ہی اس بلاگ میں آکر اس نعت کا اردو ترجمہ پیش کریں تو مہربانی ہوگی )
    پتہ نہیں عمران چوہدری صاحب آج کل کہاں ہیں وہ وارث شاہ کی اس پنجابی نعت کا اردو ترجمہ کر سکتے ہیں۔
    بہرحال ۔ اب میں کوشش کرونگا کہ سید بلھے شاہ قادری شطاری قصوری کی لکھی ہوئی پنجابی نعت کو بھی مستقبل قریب میں پیش کروں ۔
    رمضان میں یہ نیک کام مکمل ہوجائے تو زہے نصیب ۔

  118. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 11, 2009 بوقت 10:38 pm

    سید بُلّھے شاہ قادری شطاری قصوری رح کی لکھی ہوئی پنجابی نعت کے چنداشعار :

    سَیو ہُن میں ساجن پائیونی
    ہر ہردے وچ سمائیونی

    اَنا احد دا گیت سنائیو
    اَنا احمد ( ص) ہوں پھر فرمائیو
    اَنا عرَب بے عین بتائیو
    پھر نام رسول (ص) دہرائیو نی!
    ۔۔۔۔۔۔

    تو آئیو تے میں تہ آئی
    گنج مخفی دی تیں مرلی بجائی
    اکھ الست گرا جی چاہی
    او تھے قالو ا بلیٰ سنائیو نی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    پرگٹ ہو کر نور سدائیو
    احمد (ص) تو موجود کرائیو
    نابودوں کر بود دکھائیو
    فنفخت فیہ سنائیونی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    بھر کے وحدت جام پلائیو
    منصورے نو ں مست کرائیو
    اس توں انا الحق آپ کہائیو
    پھر سولی پکڑ چڑھائیو نی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ولَقد کرّمنا یاد کرائیو
    لا الٰہ دا پردا لاہیو
    الا اللہ کہو چھاتی پائیو
    پھر بُلّھا نام دہرائیونی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیو ہن میں ساجن پائیونی
    ہر ہر دے وچ سما ئیونی ُ

  119. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 9:46 am

    مولوی منظور احمد کوثر سندیلوی کی تحریر کردہ نعت کے تین اشعار :
    مجھ کو خاکِ درِ محبوبِ (ص) خدا ہوناہے
    خاک ہونا ہے مگر خاکِ شفا ہونا ہے

    اک کریم ایک رحیم ایک محب اک محبوب
    حشرہونا ہے ، مگر حشر میں کیا ہونا ہے

    مدد اے رحمتِ عالم (ص)! مدد اے شافع محشر
    میں گنہگا ر ہوں اور روزِ جزا ہونا ہے

  120. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 9:58 am

    قاضی صاحب۔ آپکا بلاگ نظر بد دور عالمی اخبار بلاگ کا تبصروں کی مناسبت سے ریکارڈ بنا رہا ہے لیکن اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ اسمیں ننانوے فیصد آپ کی تنہا مساعی شامل ہے۔ نعتوں کا انتخاب ہی تو آپکے مزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔
    میں ذاتی طور پر شرمندہ ہوں کہ رمضان کی وجہ سے نہیں بلکہ اخبار کی روزانہ کی مصروفیات کی وجہ سے تسلسل سے اس بلاگ میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکا۔لیکن یہ کہنے میں قطعی طور پر ایک لمحے کو بھی نہیں خاموش رہوں گا کہ کچھ احباب نے تو عشق رسول کے دعووں کے باوجود اس بلاگ کا رخ نہیں کیا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ توفیق کی بات ہے۔
    لیجئے ایک نعت مرحوم اقبال عظیم کی کہ مجھے انکے ساتھ پاکستان میں واہ کے نعتیہ مشاعروں میں پڑھنے کا فخر حاصل رہا ہے مرحوم یوں تو ظاہری بینائی سے محروم تھے لیکن دل و فکر عشق محمد کے نور سے منور تھی۔ آپ صاحب علم و فکر پروفیسر وقار عظیم کے بھائی تھے جن کو اب اہل علم و ادب بھی بھول چکے ہیں۔

    مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
    جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ

    چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
    نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ

    کسی کےہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
    کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ

    غلامانِ محمّد دور سے پہچانےجاتےہیں
    دل گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ

    کہاں میں اور کہاں اُس روضۂ اقدس کا نظارہ
    نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ

    بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
    مدینہ ہم نےدیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ

    وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
    فراق طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ

    (اقبال عظیم)

    “>اقبال عظیم کی ایک نعت وڈیو میں۔۔۔۔

  121. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 11:34 am

    خالد علیم کی لکھی ہوئی نعت شریف حاضر ہے

    ترے فراق کا غم ہے مجھے نشاط انگیز
    یہی ہے راہرو شوق کے لیے مہمیز

    اِسی کے نم سے ہے باقی مری نگاہ کا نور
    اِسی کے سوز سے ہے ساز دل نوا آمیز

    اِسی کا جذب خوش آہنگ ہے نظر میں کہ آج
    مرا کدو ہے مئے سلسبیل سے لبریز

    یہی ہے نغمہ‘ دل افروز ساز جاں کے لیے
    اِسی سرود سے پیدا ہے جوہر تبریز

    اِسی کی ضرب سے تارِ ربابِ جاں میں سرور
    اِسی کا لحن ہے دل کے لیے سکوں آمیز

    مرے کلام میں تاثیر اِسی کے دم سے ہے
    اِسی سے فکر کی بنجر زمین ہے زرخیز

    یہ آرزو ہے بہشت حجاز میں پہنچے
    یہی زمین ہے خالد کو خلد عنبر بیز

    مرے کریم! کرم ہو کہ پھر زمانے میں
    حریف ملت اسلام ہے جہان ستیز

    ہو کوئی چارہ کہ غارت گری ہے شیوہ کفر
    بپا ہے ارض مقدس پہ فتنہ چنگیز

    اسی سے لرزہ براندام خاک بوسنیا
    اسی کے شر سے دل سرب تھا شرار انگیز

    نظر فروز ہو آئینہ نگاہ ترا
    کہ کھا گئی ہے بصارت کو دانش انگریز

    جہان کفر اسی کی عطا سے زندہ ہے
    اسی کے فیض سے اب تک ہے جام جم لبریز

    اُدھر یہود و نصاریٰ کے بڑھ رہے ہیں قدم
    اِدھر ہوئی تری امت کے دل کی دھڑکن تیز

    یہ تیرے چاہنے والے‘ یہ تیرے اہل صفا
    کریں گے اور کہاں تک جہاد حق سے گریز

  122. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 11:36 am

    نعتیہ کلام حضرت پیر نصیر الدین نصیرشاہ صاحب گولڑہ شریف
    محجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
    حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا
    میں کہ زرہ ہوں محجھے وسعتِ صحرا دےدے
    کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو دریا کرنا
    میں ہوں بےکس تیرا شیوہ ہے سہارہ دینا
    میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا
    تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے
    کہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا
    تیرے صدقے وہ اُسی رنگ میں خود ہی ڈوبا
    جس نے جس رنگ میں چاہا محجھے رسوا کرنا
    یہ تیرا کام ہے اے آمنہ کے درِ یتیم
    ساری امت کی شفاعت تنِ تنہا کرنا
    کثرتِ شوق سے اوصاف مدینے میں ہیں گم
    نہیں کُھلتا کہ محجھے چاہیے کیا کیا کرنا
    شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا
    بزمِ عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا
    بصراحت وارفعنالاک ذکرک میں ہے
    تیری تعریف کرنا تجحھے اونچا کرنا
    تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب
    چاند سورج کا وہ پہروں تحجھے دیکھا کرنا
    تبِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خیرام
    دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایہ کرنا
    کنکروں کا تیرے اعجاز سے وہ بول اٹھنا
    وہ درختوں کا تیری دید پہ جھوما کرنا
    وہ تیرا درس کہ جھکنا تو خدا کے اگے
    وہ تیرا حکم کہ خالق کو ہی سجدہ کرنا
    چاند کی طرح تیرے گرد وہ تاروں کا ہجوم
    وہ تیرا حلقہ اصحاب میں بیٹھا کرنا
    کعبہ قوسین کی منزل پہ یکایک وہ طلب
    شبِ اصرا وہ بلانا تحجھے دیکھا کرنا
    دشمن آجائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر
    حسنِ اخلاق سے غیروں کو بھی اپنا کرنا
    کوئی فاروق سے پوچھے کہ کسے آتا ہے
    دل کی دنیا کو نظر سے تہہ وبالا کرنا
    اُن صحابہ کی خشت وار نگاہوں کو سلام
    جن کا مسلک تھا طوافِ رخِ زیبا کرنا
    محجھ پہ محشر میں نصیر اُن کی نظر پڑھ ہی گئی
    کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا

  123. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 11:56 am

    قصیدہ بردہ شریف

    قصیدہ ء بردہ شریف (عربی:قصيدة البردة) ایک شاعرانہ کلام ہے جوکہ مصر کے معروف صوفی شاعر ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصیری (1211ء-1294ء) نے تحریر فرمایا۔ آپ کی تحریر کردہ یہ شاعری پوری اسلامی دنیا میں نہایت معروف ہے۔

    تصوف اور ولیوں کے ماننے والے مسلمانوں نے شروع ہی سے اس کلام کو بے حد عزت و توقیر دی۔ اس کلام کو حفظ کیا جاتا ہے اور مذہبی مجالس و محافل میں پڑھا جاتا ہے اور اس کے اشعار عوامی شہرت کی حامل عمارتوں میں مسجدوں میں خوبصورت خطاطی میں لکھے جاتے ہیں۔ کچھ مسلمانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر قصیدہ بردہ شریف سچی محبت اور عقیدت کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ بیماریوں سے بچاتا ہے اور دلوں کو پاک کرتا ہے۔ اب تک اس کلام کی نوے (90) سے زائد تشریحات تحریر کی جاچکی ہیں اور اس کے تراجم فارسی، اردو، ترکی، بربر، پنجابی، انگریزی، فرینچ، جرمنی، سندھی و دیگر بہت سے زبانوں میں کئے جا چکے ہیں۔

    مولاي صلــــي وسلــــم دائمـــاً أبــــدا
    علـــى حبيبــــك خيــر الخلق كلـم
    أمن تذكــــــر جيــــــرانٍ بذى ســــــلم
    مزجت دمعا جَرَى من مقلةٍ بـــــدم
    َمْ هبَّــــت الريـــــحُ مِنْ تلقاءِ كاظمــةٍ
    وأَومض البرق في الظَّلْماءِ من إِضم
    فما لعينيك إن قلت اكْفُفاهمتـــــــــــــــا
    وما لقلبك إن قلت استفق يـــــــــم
    أيحسب الصب أن الحب منكتـــــــــــم
    ما بين منسجم منه ومضطــــــــرم
    لولا الهوى لم ترق دمعاً على طـــــللٍ
    ولا أرقت لذكر البانِ والعلــــــــــمِ
    فكيف تنكر حباً بعد ما شـــــــــــــهدت
    به عليك عدول الدمع والســـــــــقمِ
    وأثبت الوجد خطَّيْ عبرةٍ وضــــــــنى
    مثل البهار على خديك والعنــــــــم
    نعم سرى طيف من أهوى فأرقنـــــــي
    والحب يعترض اللذات بالألــــــــمِ
    يا لائمي في الهوى العذري معـــــذرة
    مني إليك ولو أنصفت لم تلــــــــــمِ
    عدتك حالي لا سري بمســــــــــــــتتر
    عن الوشاة ولا دائي بمنحســـــــــم
    محضتني النصح لكن لست أســـــمع
    إن المحب عن العذال في صــــــممِ
    إنى اتهمت نصيح الشيب في عـــــذلي
    والشيب أبعد في نصح عن التـــتـمِ

  124. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 12:01 pm

    احمد رضا بریلوی
    رونقِ بزمِ جہاں ہے عاشقانِ سوختہ
    کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ

    جس کو قرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو
    ان کے خوانِ جود سے ہے ایک نانِ سوختہ

    ماہِ من یہ نیرِ محشر کی گرمی تابکے
    آتشِ عصیاں میں خود جلتی ہے جانِ سوختہ

    برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اس پر ایک بار
    آج تک ہے سینہِ مہ میں نشانِ سوختہ

    مہرِ عالم تاب جھکتا ہے پئے تسلیم روز
    بیشِ ذراتِ مزار بیدلانِ سوختہ

    کوچہ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم
    بال وپر افشاں ہوں یارب بلبلانِ سوختہ

    بہر حق اے بحر رحمت اک نگاہ لطف بار
    تابکے بے آب تڑپیں ماہیانِ سوختہ

    روکش خورشید محشر ہو تمہارے فیض سے
    اک شرار سینہ ٴ شیدائیانِ سوختہ

    آتش تر دامنی نے دل کئے کیا کیا کباب
    خضر کی جان ہو جِلا دو ماہیانِ سوختہ

    آتش گلہائے طیبہ پر جلانے کیلئے
    جان کے طالب ہیں پیارے بلبلانِ سوختہ

    لطف برق جلوہٴ معراج لایا وجد میں
    شعلہ جوالہ ساں ہے آسمانِ سوختہ

    اے رضا مضمون سوزِ دل کی رفعت نے کیا
    اس زمینِ سوختہ کو آسمانِ سوختہ

  125. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 12:52 pm

    نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم

    ابو الحسن یمین الدین امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان جیسی نابغہِ روزگار، کثیر الجہتی، ہمہ گیر اور متنوع شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں فارسی غزلیاتِ خسرو کا انتخاب، اردو نثری ترجمے اور اردو منظوم ترجمے کے ساتھ پیش ہے۔
    منظوم ترجمہ جناب مسعود قریشی صاحب نے کیا ہے جو کہ کتاب خسرو شیریں بیاں مطبوعہ لوک ورثہ اشاعت گھر سے لیا گیا ہے۔

    امیر خسرو کی ایک مشہور و معروف نعتیہ غزل پیشِ خدمت ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ غزل امیر خسرو کے پانچوں دواوین میں نہیں ملتی لیکن یہ بات سب تذکرہ نگاروں میں متفق ہے کہ یہ غزل امیر خسرو کی ہی ہے۔ اور اسکے پسِ منظر میں عالمِ روحانیت کا ایمان افروز واقعہ بھی مروی ہے۔

    شعرِ خسرو

    نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
    بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

    اردو ترجمہ
    مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں کل رات میں تھا، ہر طرف وہاں رقصِ بسمل ہو رہا تھا کہ جہاں میں کل رات کو تھا۔

    منظوم ترجمہ مسعود قریشی

    نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا
    ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

    شعرِ خسرو

    پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
    سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم

    اردو ترجمہ
    پری کے جسم جیسا ایک محبوب تھا، اس کا قد سرو کی طرح تھا اور رخسار لالے کی طرح، وہ سراپا آفتِ دل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔

    منظوم ترجمہ مسعود قریشی

    پری پیکر صنم تھا سرو قد، رخسار لالہ گُوں
    سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل، شب جہاں میں تھا

    شعرِ خسرو

    رقیباں گوش بر آواز، او در ناز، من ترساں
    سخن گفتن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم

    اردو ترجمہ

    رقیب آواز پر کان دھرے ہوئے تھے، وہ ناز میں تھا اور میں خوف زدہ تھا۔ وہاں بات کرنا کس قدر مشکل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔

    منظوم ترجمہ ۔ مسعود قریشی

    عدو تھے گوش بر آواز، وہ نازاں تھا، میں ترساں
    سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل، شب جہاں میں تھا

    شعرِ خسرو

    خدا خود میرِ مجلس بود اندر لا مکاں خسرو
    محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم

    اردو ترجمہ
    اے خسرو، لا مکاں میں خدا خود میرِ مجلس تھا اور حضرت محمد اس محفل کی شمع تھے، کل رات کہ جہاں میں تھا۔

    منظوم ترجمہ ۔ مسعود قریشی

    خدا تھا میرِ مجلس لا مکاں کی بزم میں خسرو
    محمد تھے وہاں پر شمعِ محفل، شب جہاں میں تھا

  126. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 3:01 pm

    ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ ۔
    عالمی اخبار کی انتظامیہ ( صفدرھمدانی صاحب اور نگہت نسیم صاحبہ نے اس مقدس بلاگ کو صفح اول پر شایع کرکے اس عظیم ترین ہستی ( ص) کی مہربانی اور محبت اور قربت حاصل کرلی جس کے لیے دنیا تڑپتی رہتی ہے۔
    میں تو اکیلا ہی اپنے آنسووں کا تحفہ لیے حضور ( ص) کی خدمت میں اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کررہا تھا مگر مجھے یقین تھاکہ میں اکیلا نہیں ہو ں ، میرے ساتھ بہت سارے قارئین بھی اپنے اپنے دلوں میں حضور سے لو لگائے ہوئے ہیں۔
    اس بلاگ کو بار بار شروع سےپڑھتا ہوں تو کئی عاشقانِ رسول (ص) کے تبصرے نظر آتے ہیں جن میں نعتوں کا خزانہ موجود ہے۔ جزا ک اللہ
    زرقا مفتی صاحبہ نے فراز کی نعت لکھی جس کے یہ دواشعار میری اور سب کے دل کی ترجمانی کرتے ہیں کہ:
    مرے رسول ( ص) کہ نسبت تجھے اجالوں سے
    میں تیر ا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے
    نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری
    نہ تیری مدح ہے ممکن مرے خیالوں سے
    ۔۔۔۔
    اب تک جتنی بھی نعتیں پیش ہوئی ہیں وہ سب اس عظیم ترین ہستی ( ص) کی نعت اور مدح کا حق ادا نہیں کرسکتیں۔ وہ ہستی (ص) جس پر خدا اور فرشتے اور تمام ملائک اور انبیا درود اور سلام بھیجتے ہیں ۔
    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ اور خاص طور پر صفدر ھمدانی صاحب کا اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ میرےزندگی کے اس آخری دور میں مجھے یہ مبارک موقعہ عطا کیا کہ میں نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نعت کا بلاگ لکھ سکوں ۔
    یہ بلاگ ایک تاریخی دستاویز کی طرح ہے جسے ہر ایک عاشق رسول (ص) اپنے پاس محفوظ رکھکر بار بار پڑھ سکتا ( سکتی ) ہے ۔

    اس بلاگ میں صفدر ھمدانی صاحب نے اقبال عظیم کی لکھی ہوئی نعت کا ویڈیو شامل کرکے اس بلا گ کی رونق او را ہمیت اور افادیت میںاضافہ کردیا ۔
    جزا ک اللہ ۔
    اب جب کہ یہ بلا گ پھر صفح اول پر آگیا ہے ، امید کہ اسکے پڑھنے والے اس میں اپنی یا اپنی نہ سہی تو کسی اور کی نعت کو ( اس کے مصنف کے نام کے ساتھ ) شامل کرسکینگے ۔
    اگر کسی کے پاس یہ نعت موجود ہے تو براہ کرم یہاں لکھدے:
    جس کا یہ مصرعہ میرے ذہن میں بار بار آتا ہے کہ :
    یہ سب تمھارا کرم ہے مولا (ص) کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔
    اور یہ مصرعہ بھی کہ :
    تمھیں سے مانگا ہے تم ہی دو گے، تمھارے در سے ہی لو لگی ہے
    فقط:
    ایک سیدھا سادہ مسلمان
    منظور قاضی از جرمنی

  127. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 3:23 pm

    لیجئے منظور بھائی آپ کی فرمائش پر آپ کی پسندیدہ اور میری پسندیدہ ترین نعت شریف حاضر ہے ۔۔ اس میں واقعی کوئی شک نہیں بھائی کہ یہ بلاگ نعتوں کے حوالے سے ایک تاریخی دستاویز بن گیا ہے ۔۔ اور اسے تاریخی دستاویز آپ کی محنت اور محبت رسول نے بنایا ہے ۔۔ اللہ پاک ہم سب کی کوششوں کو سرکار دوعالم کے صدقے قبول فرما ئے ۔۔آمین

    کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
    یہ سب تمھارا کرم ہے آقا(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

    کسی کا احسان کیوں اٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں
    تمہی سےمانگیں گےتم ہی دو گے، تمھارے در سے ہی لو لگی ہے

    عمل کی میرے اساس کیا ہے، بجز ندامت کے پاس کیا ہے
    رہے سلامت بس اُن کی نسبت، میرا تو بس آسرا یہی ہے

    عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت
    میں اس کرم کےکہاں تھا قابل، حضور کی بندہ پروری ہے

    تجلیوں کےکفیل تم ہو ، مرادِ قلب خلیل تم ہو
    خدا کی روشن دلیل تم ہو ، یہ سب تمھاری ہی روشنی ہے

    بشیر کہیے نذیر کہیے، انھیں سراج منیر کہیے
    جو سر بسر ہے کلامِ ربی ، وہ میرے آقا کی زندگی ہے

    یہی ہے خالد اساس رحمت یہی ہے خالد بنائے عظمت
    نبی کا عرفان زندگی ہے، نبی کا عرفان بندگی ہے

  128. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 3:33 pm

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے پیر نصیرالدین نصیر شاہ صاحب ( گولڑھ شریف ) کی نعت لکھکر مجھے ان لمحات کی یاد دلادی جب کئی سال پہلےاسلام آباد میں مجھے اپنی بھانجی کی شادی کی تقریب میں ان سے ملنے کااور انکی نیک باتیں سننے کا شرف حاصل ہوا تھا ۔ اللہ مغفرت کرے نہایت ہی متبرک ہستی تھی ۔ انکی اچانک قبل از وقت وفات کا مجھے بے حد غم ہے۔ ایسے عالمِ با عمل اس دنیا میں بہت ہی کم پائے جاتے ہیں۔
    انہوں نےکتنی بصیرت افروز بات کہی تھی کہ:
    مجھ پہ محشر میں نصیر انکی نظر پڑھ ہی گئی
    کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  129. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 3:48 pm

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے خالد کی بہت ہی مخلصانہ نعت اس بلاگ میں لکھکر مجھے روحانی تحفہ دے دیا ۔ ( شاید اس کو سید ناصر جہاں نے ترنم سے پیش کیا تھا ۔ )
    جزا ک اللہ ڈاکٹر صاحبہ ۔ آپ نے وقت پر اس بلاگ کی رونق اور بڑھادی ۔
    ایک بات آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس نعت کے لکھنے والے شاعر خالد صاحب وہی تھے جن کا نام عبدالعزیز خالد تھا ؟
    ۔۔۔
    آپ سب کی ہمت افزائی کا شکریہ
    اصل میں مبارکباد کے آپ سب انتظامیہ کے احباب مستحق ہیں کہ ہم سب کو یہاں پر لکھنے پڑھنے کا موقعہ مل رہا ہے۔ ورنہ دل کی بات دل ہی میںرکھکر ہم سب دنیا سے چلے جاتے۔

  130. زرقا مفتی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 3:56 pm

    تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات
    پنہاں ہیں تیری ذات میں رب کی تجلیات
    ہر شے کو تیری چشمِ عنایت سے ہے ثبات
    ہر شے میں تیرے حسنِ مکمل کے معجزات
    کونین کو ہے ناز تیری ذاتِ پاک پر
    احسان مند ہیں تیری ہستی کے شش جہات
    پژ مردہ صورتوں کو ملی تجھ سے زندگی
    نقطہ وروں کو سہل ہوئیں تجھ سے مشکلات
    ظلمت کدوں میں نور کے چشمے ابل پڑے
    رحمت سے تیری ٹل گئی ظلم و ستم کی رات
    تاروں کو ضو فشانیاں تجھ سے ہوئیں نصیب
    پھولوں کی نازکی پہ تیری چشمِ التفات
    ہر شے میں زندگی کی کرن تیری ذات سے
    افشا یہ راز کر گئی معراج کی وہ رات
    اپنے دل و نگاہ کے آئینے صاف رکھ
    گر دیکھنے کی چاہ ہے تجھ کو نبی کی ذات
    کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا سے ڈر
    بالا ہے تیری سوچ سے سرکار کی حیات
    انکی محبتوں کا گزر ہے خیال میں
    یونہی نہیں ہیں آس کی ایسی نگارشات

    سعادت حسن آس

  131. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 12, 2009 بوقت 8:31 pm

    مولانا احمدرضا خاں ، رضا بریلوی کی تصنیف کردہ نعت کے چند اشعار:
    واہ کیا جود و کرم ہے شہِ (ص) بطحیٰ تیرا
    نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

    فیض ہے یا شہِ تسنیم (ص) نرالا تیرا
    آپ پیاسوں کی تجسّس میں ہے دریا تیرا

    میں تو مالک ہی کہونگا کہ ہو مالک کے حبیب
    یعنی محوب و محب میں نہیں میرا تیرا

    ایک میں کیا ، مرے عصیاں کی حقیقت کتنی
    مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارا تیرا

    تیرے ٹکڑوں سے پلے، غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
    جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقا تیرا

    خوار و بیمار و خطا وار و گنہگار ہوں میں
    رافع و دافع و شافع ، لقب آقا تیرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  132. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 13, 2009 بوقت 3:44 pm

    علامہ اقبال رح کے نعتیہ کلام کے چند اشعار:

    قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں
    چشمہ ء آفتاب سے نور کی ندیا ں رواں
    ۔۔۔۔
    عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اولیں ہے عشق
    عشق نہ ہوتو شرع ودیں بتکدہ ء تصورات

    صدقِ خلیل( ص) بھی ہے عشق صبرحسین ( ع)بھی ہے عشق
    معرکہ ء وجود میں‌بدر وحنین بھی ہے عشق

    لوح بھی تو ، قلم بھی تو ، تیرا وجود الکتاب
    گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

    عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
    ذرہ ء ریگ کو دیا تونے طلوعِ آفتاب

    شو ق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
    میرا قیام بھی حجاب ، میرا سجود بھی حجاب

    تیری نگا ہِ ناز سے دونوں مراد پاگئے
    عقلِ غیاب و جستجو ، عشقِ حضور و اضطراب

    تیزہ و تار ہے جہاں گردشِ آفتاب سے
    طبعِ زمانہ تیز کر جلوہ ء بے حجاب سے

    تازہ مرے ضمیر میں معرکہ ء کہن ہوا
    عشق تمام مصطفےٰ ( ص) ، عقل تمام بو لہب

    گاہ بحیلہ می برد ، گاہ بزور می کشد
    عشق کی ابتدا عجب، عشق کی انتہا عجب
    ۔۔۔۔۔۔۔

  133. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 13, 2009 بوقت 3:49 pm

    علامہ اقبا ل کے نعتیہ کلام کے دو اشعار:
    و ہ دانائے سُبل ختم الرُسل ( ص) مولائے کُل جس نے
    غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

    نگاہِ‌عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
    وہی ( ص) قرآں، وہی فرقاں‌ ، وہی یٰسیں وہی طا ہہٰ
    ۔۔۔۔۔

  134. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 13, 2009 بوقت 7:38 pm

    درود وسلام صلی اللہ علیہ و سلم : از بہزاد لکھنوی
    مبتدا منتہا ( ص) درود و سلام
    مظہر کبریا ( ص) درود وسلام

    حق نظر ، حق نگاہ ، حق آگاہ
    حق ادا ، حق نما ، درود و سلام

    صادق و عابد و امین و سخی
    زاہد و پارسا درود و سلام

    صبحِ عرفاں نواز و عشق افروز
    شامِ ایماں فزا درود وسلام

    کعبہ ء آرزوئے قلبِ حزیں
    قبلہ ء شوقِ ما، درود وسلام

    مظہر ِ اولیں و ختم رسُل
    خاتم الانبیا درود وسلام

    اے جہاں تاب اے جہاں پرور
    اے جہاں آشنا ، درود وسلام

    اے تمنا و آرزو و مراد
    مقصد و مدعا درود و سلام

    فخر۔ نوح (ع) و کلیم ( ع) و آدم ( ع) و خضر ( ع)
    نازشِ انبیا درود وسلام

    ایسا بہزاد کو بنا دیجیے
    بھیجے صبح و مسا درود و سلام

  135. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 13, 2009 بوقت 11:23 pm

    میری نعت : ( جلیل مانکپوری کی ایک غزل کی زمین میں ) :

    اس شان سے وہ آج شہِ دو جہاں ( ص) چلے
    قدموں کو ان کے چومنے کون و مکاں چلے

    آقا ( ص) تمھارے نام پہ قربان میری جاں
    مولا (‌ص) تمھارے دم سے دلِ ناتواں چلے

    ہردم تمھارا ذکر ہی وردِ زبان ہے
    ہر دم تمھاری یاد میں اشکِ رواں چلے

    میری یہی دعا ہے خدائے کریم سے
    سوئے مدینہ آج مرا کارواں چلے

    منظور روزِ حشر کا عالم تو دیکھیے
    سب امتی چلے شہِ بطحیٰ (ص ) جہاں چلے

    فقط:
    ایک سیدھا سادہ مسلمان
    منظور قاضی از جرمنی

  136. Pervez S. Khan نے کہا ہے:
    September 14, 2009 بوقت 12:52 am

    آسلآم علیکم،
    واہ واہ واہ ،جزا ک اللہ ہمنظور قا ضی صآ جب بھآ ی پآ شآ آپ کی نعت اللہ قبو ل فر مآے آ مین
    begummoina@hotmail.com
    abusarmad@hotmail.com

  137. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 14, 2009 بوقت 8:43 am

    سبحان اللہ منظور بھائی کیا مرصع نعت شریف کہی آپ نے ۔ جی خوش ہو گیا ۔۔ اللہ پاک اپنے حبیب کے صدقے میں اسے قبول کرے ۔ آمین

  138. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 14, 2009 بوقت 9:55 am

    میں اپنی کاوشوں کی تعریفی کلمات سنتا ہوں تو بے اختیار چشمِ نم کے ساتھ خالد کی نعت کا یہ مطلع یاد آتا ہے :
    کوئی سلیقہ ہے آرزو کا، نہ بندگی میری بندگی ہے
    یہ سب تمھارا کرم ہے آقا (ص) کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
    ۔۔۔۔
    میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ہمت افزائی کا ہمیشہ کی طرح ممنون و مشکور ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔
    مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ قطر سے میری بھتیجی معینہ زرین اور انکے شوہرِ نامدار جناب پرویز صلاح الدین خان صاحب نے اپنے تبصرے میں میری دعا وں پر آمین کہا۔
    ۔۔۔۔۔۔
    میں اس بلاگ کے پڑھنے والے ان تمام سخنوروں سسے جنھوں نے اب تک اس بلاگ میں اپنا نعتیہ کلام شامل نہیں کیا ، گذارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے نعتیہ کلام سے اس بلاگ کی رونق اور اہمیت میں اضافہ کریں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  139. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 14, 2009 بوقت 10:26 am

    معینہ زرین اور انکے شوہرِ جناب پرویز صلاح الدین خان صاحب کو عالمی اخبار کے بلاگ میں خوش آمدید ۔۔ بھائی آپ آئے ہیں تو آتے جاتے رھئے گا ۔۔ آپ سب کررمضان کی بہت بہت مبارک ۔ ہم سب کو اپنی دعاؤں میں یا درکھئے گا ۔

  140. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 14, 2009 بوقت 7:32 pm

    “>کاش کہ میرے پاس پیر نصیرالدین نصیر مرحوم کی کتاب “دیں ہم اوست ” ہوتی تو انکی عربی ، فارسی ، اردو اورپنجابی نعتوں کے نمونے اس بلاگ میں پیش کردیتا۔
    بہر حال:
    مولاناحسن رضا خاں حسن بریلوی رح کی لکھی ہوئی نعت کے چند اشعار حاضر ہیں:
    تم ( ص) ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
    اللہ کو معلوم ہے کیاجانیے کیا ہو

    ٹوٹے ہوئے دم َ جوش پہ طوفاِن معاصی
    دامن نہ ملے ان ( ص) کا تو کیا جانیے کیا ہو

    مٹی نہ ہو برباد پسِ مرگ الٰہی
    جب خاک اڑے میری ،مدینہ کی ہوا ہو

    قدرت نے ازل میں یہ لکھا ان ( ص ) کی جبیں پر
    جو ان( ص) کی رضا ہو وہی خالق کی رضا ہو

    اللہ یوں ہی عمر گذر جائے گدا کی
    سر خم ہو درِ پاک پہ اور ہاتھ اٹھا ہو
    “>

  141. Pervez S. Khan نے کہا ہے:
    September 15, 2009 بوقت 4:16 pm

    منظور قا ضی بھآی پآشآ صاحب
    آز جآمئ بے چآ رہ رسآ ںید سلآ مے بر درگآ ھ
    دربآرے رسو ل مد نی رآ
    آگر آس سلآ م کے آشعآ ر مل جآے تو بژآ کر م ھو گآ
    طآلب د عآ
    پرویز صلاح الدین خان

  142. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 15, 2009 بوقت 6:03 pm

    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ اس نے پیر نصیرالدین نصیر مرحوم کی ویڈیو لنک اس بلاگ میں لگا کر اس کی رونق اور بڑھادی۔
    پیر نصیرالدین نصیر مرحوم کی روح خوش ہورہی ہوگی کہ انکا کلام ( نعت اور سلام ) اس بلاگ میں شامل ہے۔
    اب میرے لیے یہ مشکل ہوگیا ہے کہ اس سے بہتر اس بلا گ میں کیا پیش کروں۔
    کوشش کرونگا کہ اس بلاگ کے موضوع کے شایانِ شان ، رمضان کے اختتام تک مختلف شعرا کا کلام اس بلاگ میں پیش کروں۔
    اللہ مالک ہے۔

  143. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 15, 2009 بوقت 7:54 pm

    صلاح الدین خان صاحب نے مولانا نور الدین عبدالرحمٰن جامی کے فارسی کلام کی فرمائش کی جو میرےپاس نہیں ہے ۔ شائد اس بلاگ کے پڑھنے والوں میں سے کوئی دانشور اس فرمائش کو پورا کرسکیں۔
    جامی کی لکھی ہوی ایک فارسی نعت کے چند اشعار حاضر ہیں:
    یا شفیع المذنبیں (ص) بارِ گنا ہ آوردہ ام
    بر درت ایں بار با پشتِ دو تاہ آوردہ ام

    چشمِ رحمت بر کشا ء موئے سفیدِ من نگر
    گرچہ از شرمندگی روئے سیاہ آوردہ ام

    آں نمی گویم کہ بودم سالہا در راہِ تو
    ہستم آن گمرہ کہ اکنوں روبراہ آوردہ ام

    عجز و بے خویشی و درویشی و دل ریشی و درد
    ایں ہمہ بر دعویٰ عشقت گواہ آوردہ ام

    دولتم ایں بس کہ بعد از محنت و رنجِ دراز
    برحریم ِ آستانت می نہم روئے نیاز

  144. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 15, 2009 بوقت 8:06 pm

    سیدنامحی الدین عبدالقادر جیلانی رح ( الغوث الا اعظم ) کی لکھی ہوئی فارسی نعت ک چند اشعار:

    غلامِ حلقہ بگوشِ رسول ( ص) ساداتم
    زہے نجات نمودن حبیب و آیا تم

    کفایت است ز روحِ رسول ( ص) اولادش
    ہمیشہ وردِ زباں جملہ ء مہمّاتم

    زِ غیر آلِ نبی ( ص) حاجتے اگر طلبم
    رو ا مدار یکے از ہزار حاجا تم

    دلم ز عشقِ محمد( ص) پُر است و آل مجید
    گواہ حال من است این ہمہ حکا یا تم

    کمینہ خادمِ خدّامِ خاندان ِ تو
    ز خادمیِ تو دائم بود مناجاتم

    سلام گویم و صلوات بر تو ہر نفسے
    قبول کن بہ کرم ایں سلام و صلواتم

  145. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 15, 2009 بوقت 8:17 pm

    نعت ک چند اشعار : از خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری اجمیری رح
    درجاں چو کرد منزل ، جانانِ محمد ( ص)
    صد ر کشادہ در دل ، از جانِ ما محمد ( ص)

    ما بُلبُلیم نالاں در گلستان احمد ( ص)
    ما لو لو ئیم و مرجا ں ، عمّانِ ما محمد ( ص)

    ما طالبِ خدائیم ، بردین مصطفائیم
    بر در گہش گدائیم ، سلطانِ ما محمد (ص)

    از دردِ زخم ِ عصیاں مارا چہ غم چو سازد
    از مرہمِ شفا عت ، درمانِ ما محمد ( ص)

    در باغ و بوستانم دیگر مخواں معینی
    باغم بس است قرآں ، بستانِ ما محمد (ص)

  146. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 15, 2009 بوقت 8:22 pm

    خواجہ معین الدین چشتی رح کی نعت کے پہلے مصرعہ میں جانانِ ما محمد ( ص ) پڑھیے : شکریہ

  147. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 16, 2009 بوقت 8:55 am

    حکیم ضمیر حسن خاں دل شاہجہاں پوری کی تحریرکردہ نعت کے چند اشعار:
    صد شکر مستحق ہوں ریاضِ نعیم کا
    وردِ زباں ہے نام رسولِ کریم ( ص) کا

    روزِ جزا کہوں گا حضورِ رسولِ (ص) پاک
    میں بھی امید وار ہوں لطفِ عمیم کا

    ہو کاش وقتِ نزع مرا خاتمہ بخیر
    پیشِ نظر ہے مرحلہ امید و بیم کا

    خاکِ مزارِ دل ہو مشرف پسِ فنا
    یثرب کو لے اڑے کوئی جھونکا نسیم کا

  148. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 16, 2009 بوقت 9:28 am

    September 12, 2009 بوقت 3:09 pm

    مندرجہ ذیل عبادات ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنی بہن سے حاصل کرکے اپنے بلاگ میں پیش کی تھیں۔ یہ اگرچیکہ تئیسویں رمضان کے متعلق تھیں لیکن ان عبادتوں کا اطلاق ( میرے خیال میں ) رمضان کی ستاویسویں تاریخ تک ہوسکتا ہے ، اس لیے میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی اس نہایت ہی مبارک اور معلوماتی تحریر میں سے تئیسویں تاریخ کو حذف کرکے پیش کررہا ہوں ، ٌخاص طور پر اس لیے کہ ان کا تعلق ‌”ام الکتاب : قرآن مجید” سے ہے :

    ” شب قدر کی عبادات :

    1شب کو چار رکعت نماز دوسلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ قدر ایک ایک سورہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے ،
    پھر بعد سلام کے ستر مرتبہ دورود پاک پڑھے ۔ انشا اللہ مغفرت کے واسطے یہ نماز بہت افضل ہے۔

    2 شب کو اٹھہ رکعت نماز چار سلام سے پڑھنی ہے اور ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر ایک ایک دفع سورہ اخلاص ایک ایک بار پڑھے ۔

    3 ستر مرتبہ کلمہ تمجید (تیسرا کلمہ ) پڑھیں اور اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں ۔

    4 شب کوسورہ یٰسین ایک مرتبہ اور سورہ رحمن ایک دفع پڑھنی بہت افضل ہے ”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ : اگر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور انکی بہن میرے اس تبصرے میں کچھ ترمیم کرنا چاہیں تو وہ ضرور اس میں ترمیم اور تصحیح کردیں : مہربانی ہوگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  149. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 16, 2009 بوقت 10:12 am

    چوتھی شب قدر ۔۔ستاسویں شب قدر

    1اس شب قدر کو بارہ رکعت نماز تین سلام سے پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر ایک مرتبہ اس کے بعد سورہ اخلاص پندرہ مرتبہ پڑھے پھر سلام کے بعد ستر مرتبہ استغفار پڑھے ۔

    2 اللہ پاک اس نماز کو پڑھنے والے کو نبیوں کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا ۔انشا اللہ العظیم

    3 اس بڑی برکتوں والی رات میں دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر تین تین دفعہ اس کے بعد سورہ اخلاص پانچ مرتبہ پڑھے ،سلام کے بعد ستائیس مرتبہ پڑھے کر گناہوں کی مغفرت کی دعا کرے ۔اللہ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے گناہوں کومعاف فرما دے گا (آمین )

    4 اس رات کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھنی ہے ، ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ تکاثرایک ایک بار اس کے بعد سورہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھنی ہے ۔اس نماز کو پڑھنے الے پر اللہ پاک کی موت کی سختی آسان ہوجاے گی ۔انشا اللہ تعالی اس پر عذاب قبر بھی معاف ہوجاے گا۔

    5 اس شب قدر کو ساتوں حم پڑھے یہ ساتوں حم عذاب قبر سے نجات اور مغفرت گناہ کے لے بوہت افضل ہیں ۔

    6 ستاسویں شب قدر کو سورہ ملک ساتھ مرتبہ پڑھنے ہے واسطمغفرت بہت فضیلت والی ہے ۔
    (میری بہن نزہت نسیم نے لندن سے ارسال کی ہیں )

  150. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 16, 2009 بوقت 2:57 pm

    تفہیم القرآن جلد ششم میں سورتہ القدر مکیہ کا اردو ترجمہ :
    بسم اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم:
    “ہم نے اس ( قرآن ) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔
    اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟
    شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔
    فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اِ ذن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔
    وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک ۔ ”
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکڑ نگہت نسیم صاحبہ اور انکی بہن نزہت نسیم صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے اس مقدس شب کی عبادات کا ذکر کیا۔
    جزاک اللہ ۔
    ۔۔۔

  151. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 16, 2009 بوقت 7:48 pm

    پیر نصیرالدین نصیر مرحوم کی تحریر کردہ نعت جو ا س ویڈیو لنک میں موجودہے جسےعالمی اخبار کی انتظامیہ نے اس بلاگ میں شامل کیا ہے:
    اس نعت کوسنانے سے پہلے پیر نصیرالدین نصیر مرحوم نے حاضرین سے یہ کہا ہے کہ انہوں نے یہ نعت حسن رضا بریلوی کی نعت کی زمین میں لکھی ہے:
    کو ن ہو مسندنشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
    خلد دیکھے کون کوئے شاہِ بطحیٰ چھوڑ کر

    کون نظروں پر چڑھے حُسنِ حقیقت کے سوا
    کس کا منہ دیکھیں ہم انکا روئے زیبا چھوڑ کر

    اللہ اللہ آمدِ سلطانِ انس و جاں کی شان
    اک طرف قدسی بھی ہوجاتے تھے رستہ چھوڑ کر

    مصطفے ( ص) جنت میں جائینگے اُمّت کے بغیر!
    جا نہیں سکتا کبھی تنکوں کو دریا چھوڑ کر

    تھی نہ چاہت دل میں زہرا ( ع) کے دلاروں (ع ) کی اگر
    کیوں اُ ترتے تھے نبی ( ص) مِنبر سے خطبہ چھوڑ کر ؟

    رہروان ِ راہِ حق تھے اور بھی لاکھوں مگر
    کوئی منزل پر نہ پہنچا ابنِ زہرا ( ع) چھو ڑ کر

    وہ ازل سے میرے آقا (ص) ، میں غلام ابنِ غلام
    کیوں کسی کے در پہ جاوں ان (ص)‌ کا صدقہ چھوڑ کر

    خوانِ‌شاہی کی ہوس رکتھے نہیں ان (ص ) کے گدا
    کیوں ادھر لپکیں وہ ان ٹکڑوں کا چسکہ چھوڑ کر

    میں کہاں گھوموں ؟ کہا ں ٹھیروں ؟ کسے دیکھا کروں ؟
    ان کی گلیاں ، ان کی جالی ، ان کا روضہ چھوڑ کر

    ۔۔۔۔۔

  152. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 16, 2009 بوقت 8:15 pm

    حسن رضا خاں بریلوی کی نعت ملا حظہ ہو ( جس کی زمین میں پیر نصیرالدین نصیر نے اپنی نعت لکھی جو میرے اوپر کے تبصرے میں شامل ہے )

    سیر ِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
    سوئے جنت کون جائے در تمھارا ( ص) چھوڑ کر

    سرگذشتِ غم کہوں کس سے ترے ہوتے ہوئے
    کس کے در پر جاوں تیرا آستانہ چھوڑ کر

    مر ہی جاوں میں اگر اس در سے جاوں دو قدم
    کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر

    ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
    کیا غرض کیوں جاوں جنت کو مدینہ چھو ڑ کر

    مر کے جیتے ہیں جو ان کے درپہ جاتے ہیں حسن
    جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر

  153. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 17, 2009 بوقت 1:13 pm

    اب جبکہ ماہ رمضان اختتام کو پہنچ رہا ہے اور ہلالِ عید طلوع ہی ہونے والا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ علامہ اقبال کی نظم بعنوان ” غرّہء شوّال یا ہلالِ عید ” کے چند اشعار اس بلاگ میں شامل کردوں تاکہ پڑھنے والوں کو علامہ اقبال کے تقریباً نوے سال پہلے کے تاثرات کا اندازہ ہوجائے جو اس وقت کے مسلمانوں کے بارے میں تھے۔
    ان تاثرات کی روشنی میں آج کل کے مسلمانوں کی حالت کا مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے:

    غرّ ہ ء شوّال ! اے نورِ نگاہ ِ روزہ دار !
    آ ! کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار

    تیری پیشانی پہ تحریرِ پیامِ عید ہے
    شام تیری کیا ہے صبحِ عیش کی تمہید ہے

    سرگذشتِ ملّتِ بیضہ کا تو آئینہ ہے
    اے مہِ‌نو! ہم کو تجھ سے الفتِ دیرینہ ہے
    ۔۔۔۔

    آشنا پرور ہے قوم اپنی ، وفا آئیں ترا
    ہے محبت خیز یہ پیراہنِ سیمیں ترا
    ۔۔۔
    اوجِ گردوں سے ذرا دنیا کی بستی دیکھ لے!
    اپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے!
    ۔۔۔۔۔
    قافلے دیکھ ، اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ
    رہروِ درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ

    دیکھ کر تجھ کو افق پر ہم لٹاتے تھے گہر
    اے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ

    فرقہ آرائی کی زنجیروں میں ہیں مسلم اسیر
    اپنی آزاد ی بھی دیکھ، ان کی گرفتاری بھی دیکھ

    دیکھ مسجد میں شکستِ رشتہ ء تسبیحِ شیخ
    بتکدے میں برہمن کی پختہ زنّاری بھی دیکھ

    کا فروں کی مسلم آئینی کا بھی نظّارہ کر
    اور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ

    بارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی بھی ہو
    امّتِ مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ

    ہاں ، تملّق پیشگی دیکھ آبرو والوں کی تو
    اور جو بے آبرو تھے ان کی خود داری بھی دیکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صورتِ آئینہ سب کچھ دیکھ ، اور خاموش رہ
    شورشِ امروز میں محوِ سرود۔ دوش رہ !
    ۔۔۔۔۔۔

  154. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 18, 2009 بوقت 10:49 pm

    حسن بریلوی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار:
    نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
    لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

    ہمارے دستِ تمنّا کی لاج بھی رکھنا
    تیرے فقیروں میں اے شہریار ( ص) ہم بھی ہیں

    تمھاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
    پڑے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں

    یہ کس شہنشہِ عالی کا صدقہ بٹتا ہے
    کہ خسرووں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

    ہماری بگڑی بنی ان کے اختیار میں ہے
    سپرد انہیں کیے سب کاروبار ہم بھی ہیں

    حسن ہے جس کی سخاوت کی دھوم عالم میں
    انہیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار ہم بھی ہیں

  155. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 20, 2009 بوقت 3:42 pm

    یہ بلاگ چونکہ اب اپنی آخری منزل پر پہنچ رہا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ مولانا سید حسن مثنیٰ ندوی کی تحقیق سے ترتیب دی ہوی ایک فہرست اس بلا گ میں شامل کردوں جو” ارمغانِ نعت) مرتبہ شفیق بریلوی میں موجود ہے :
    اس فہرست کا عنوان ہے : ” نعت رسول کریم ( ص) با آیاتِ قرآن حکیم ”

    وہ مصطفے ٰ ہیں : آیت نمبر 33 سورہ آل عمران
    مجتبے ہیں : 179 آل عمران
    احمد ہیں : 6 صف
    محمد (ص) ہیں : 29 فتح
    یٰسین ہیں : 1 یٰسین
    طٰہ ٰ ہیں : 1 طٰہٰ
    کملی والے ہیں : 1 مزمّل
    چادر والے ہیں: 1 مدثّر
    نبی(ص) امّی ہیں : 157 اعراف
    داعی الی اللہ ہیں : 46 احزاب
    ہادی و منذِ ر ہیں : 7 رعد
    روشن چراغ ہیں : 46 احزاب
    شاہد ہیں: 45 احزاب
    بشیر و نذیر ہیں: 48 سبا
    مزکّیِ نفوسِ انسانی ہیں: 164 آل عمران
    معلم کتاب و حکمت ہیں : 164 آل عمران
    نور ہیں : 15 مائدہ
    تاریکیوں سے نکالنے والے ہیں: 1 ابراہیم
    غلط بندھنو ں سے نجات دلانے والے ہیں: 152 اعراف
    وہی ہر بات کے شارح ہیں :44 نحل
    حاصلِ صدق ہیں : 33 زُمر
    مرکزِ حق ہیں : 170 نساء
    بُرہان ہیں : 174 نسا ء
    حاکمِ برحق ہیں :105 نسا ء
    صاحبِ قولِ فیصل ہیں :36 احزاب
    سراپا ہدایت ہیں : 27 نحل
    روف و رحیم ہیں : 128 توبہ
    تمھارے گواہ ہیں : 78 حج
    صاحبِ خُلقِ عظیم ہیں : 4 قلم
    اوّل المومنین ہیں : 285 بقرہ
    اول المسلمین ہیں : 163 انعام
    خاتم النبین ہیں : 40 احزاب
    عبد ( کامل ) ہیں : 1 بنی اسرائیل
    صاحبِ کوثر ہیں : 1 کوثر
    صاحبِ رفعت شان و شہرتِ عام ہیں : 4 انشراح
    ایمان والوں کی جان سے بھی زیادہ عزیز و پیارے : 6 احزاب
    ۔
    ان اللہ و ملیٰئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنو صلوا علیہ و تسلیما : 56 احزاب
    ( افسو س کی میں عربی فانٹ لکھنے سے قاصر ہوں ۔ اس لیے زیر و زبر پیش اور تشدید کی علامات اس آیت میں نہیں لکھ سکا : ( اگر کوئی قاری اس کو عربی فانٹ میں پیش کردے تو مہربانی ہوگی:

  156. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 20, 2009 بوقت 7:31 pm

    کئی دن پہلے عمران چوہدری صاحب نے اپنی لکھی ہوئی‌ نعت کا صرف ایک شعر لکھا تھا:
    ” اُس کو محدود نہ کر ، کہ کے مدینے والا
    وہ زمانوں کے لیے ہے ، نہ مکا نوں کے لیے ”
    ۔۔۔
    اس نہاہت ہی پر اثر شعر کو پڑھ کر عبدا لمناف غلزئی صاحب نے عمران چوہدری صاحب سے فرمائش کی تھی کہ وہ پوری نعت اس بلاگ میں لکھدیں مگر عمران چوہدری صاحب پتہ نہیں کہاں پر ہیں کہ انہوں نے بلاگوں میں حصہ لینا چھو ڑدیا۔ انہیں عید کی مبارکباد دینے کے بعد کہو نگا کہ برا ہ کرم اپنی لکھی ہوئی اس پوری نعت کو اس بلاگ میں لکھدیں ۔

  157. مسعود قاضی نے کہا ہے:
    September 21, 2009 بوقت 11:53 pm

    سلام علیکم
    براہ کرم اس مبارک سلسلہ کو جاری رکھیں اتنی ساری نعتیں ایک مجموعہ کی شکل میں دستیاب ہونا کار دارد
    اللہ آپ کو جزایئے خیر اور عمر طویل ساتھ صحت کے عطا فرمائے آمیں

  158. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 24, 2009 بوقت 9:12 pm

    عالمی اخبا ر میں یہ ویڈیو لنک موجود ہے جس میں قصیدہ بردہ شریف کے علاوہ چند اور نعتیں بھی شامل ہیں ۔ میں یہ ویڈیو لنک اس بلاگ میں عاشقان ِ رسول اکرم( ص) کے دیکھنے اور سننے کے لیے شامل کررہا ہوں۔
    اگر یہ ویڈیو لنک کسی وجہ سے کام نہ کرے تو براہ مہربانی عالمی اخبار کے صفحہ اول پر قصیدہ بردہ شریف کے بارے میں ایک مضمون کو پڑھیے۔

    http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=interviews&article=8702

  159. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 25, 2009 بوقت 7:26 pm

    مولانا عبدالباری آسی کی تحریر کردہ نعت کے اشعار :

    تحیت ان پر ، درود ان پر ، صلوٰ تہ ان پر سلام ان پر
    ۔۔۔۔۔۔۔

    وہی ہیں طاہر ، وہی مطہّر، وہی ہیں شافع ، وہی پیمبر
    وہ سب سےافضل ، وہ سب سے بالا وہ سب کے رہبر، وہ سب سے برتر

    شفیق سب کے، ادیب سب کے ، انیس سب کے ، خلیل سب کے
    رفیق سب کے ، حبیب سب کے، رئیس سب کے ، کفیل سب کے

    مہِ منوّر ہیں وہ عرب کے، نہ ابر ان پر نہ کوئی ہالا
    جہاں کے حق میں سبب طرب کے ، بہ لطف برتر، بہ خُلق اعلا

    حکیمِ امّت، رحیم صورت ، کریم سیرت، عظیم ہیبت
    شریف سیرت، نسیمِ جنّت، دلیلِ ملّت، رفیعِ رفعت

    شہیرِ عالَم بہ خوش کلامی، عرب کے والی ، عجم کے حامی
    جہاں کے مولا ،جہاں میں نامی ، بہ دل مکرّم، بہ جاں گرامی

    ملا ، نہ اب یہ ملے گا درجہ ، ہوا ہے ایسا نہ کوئی ہوگا
    اسی سے ظاہر ہے انکا رُتبہ کہ خود ثنا گو ہے حق تعا لیٰ

    وہ ساتھ شمع ہُدیٰ جو لائے ، تو بُت ہوئے خیرہ سر جھکائے
    چراغ ملّت کے یوں جلائے کہ ذرّے دنیا کے جگمگائے

    کہاں تک آسی یہ ہرزہ کوشی ، کہاں تک آخر یہ سخت جوشی
    کہاں تک اتنی سخن فروشی ، یہ کہہ کہ ہو مائلِ خموشی
    ۔۔۔
    تحیّت ان پر ، درود ان پر ، صلوٰتہ ان پر ، سلام ان پر

  160. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 25, 2009 بوقت 7:35 pm

    منور بدا یونی کی تحریری کردہ نعت کے چند اشعار:

    ہر دل کی تسلّی بھی ہے ہر غم کی دوا بھی
    کیا چیز ہے مولا تری خاکِ کفِ پا بھی

    تم سا کوئی اے ختم رسُل ( ص) اور ہوا بھی
    مقصود خدائی بھی ہو ، محبوبِ خدا بھی

    ہونے کو تو ہوگی دلِ مضطر کی دوا بھی
    اکسیر ہے لیکن ترے دامن کے ہوا بھی

    اس موت پہ اک میں نہیں سو جان تصدق
    جس موت کے ساتھ آئے مدینہ کی ہوا بھی

    جب دل میں وہ جلوے ہوں تو دنیا ہے منور
    جینے کی غرض ہے کوئی جینے کی دوا بھی

  161. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 28, 2009 بوقت 2:01 pm

    قتیل شفائی مرحوم نے ایک غزللکھی تھی جس میں اس نے یہ نعتیہ شعر بھی شامل کردیا :
    یہ ہجرتوں کی شب ہے گھروں سے نکل پڑو
    اُس کا کرم ہوا تو مدینہ بھی آئے گا
    ۔۔۔۔۔۔
    اس غزل کے باقی اشعار یوں ہیں:

    ذہنوں میں اس کا پورا سراپا بھی آئے گا
    آتا ہے جو بکھر کے وہ یکجا بھی آئے گا

    سورج کے ہمسفر جو بنے ہوتو سوچ لو
    اِ س راستے میں پیاس کا دریا بھی آئے گا

    کمرہ ہی بند ہے تو ہواو ں کا کیا قصور
    کھڑکی کوئی کھلے گی تو جھونکا بھی آئے گا

    ایسا نہییں کہ خشک ملے ہر جگہ زمیں
    پیاس جو چل پڑے ہیں تو دریا بھی آئے گا

    سورج کوئی قتیل افق سے ہو گر طلوع
    یہ رات بھی کٹے گی سویرا بھی آئے گا

    ۔۔۔۔۔
    یہ ہجرتوں کی شب ہے گھروں سے نکل پڑو
    اُس کا کرم ہوا تو مدینہ بھی آئے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

  162. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 28, 2009 بوقت 2:05 pm

    جلیل مانک پوری کی اس غزل کامقطع بھی ذو معنی قسم کا ہے ۔ اس میں نعتیہ انداز موجود ہے :
    ذکرِ حبیب ( ص) سے کبھی غفلت نہ ہو جلیل
    چلتا رہے یہ کام بھی جب تک زباں چلے

  163. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 28, 2009 بوقت 7:32 pm

    سیداصغر حسین راغب مرادآبادی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار:

    عشق ہے سرورِ کونین (ص) کا دولت میری
    للہِ الحمد کہ بیدار ہے قسمت میری

    ہوگیا ہوں میں اسیرِ خمِ گیسوئے رسول (ص)
    اب نہیں دولتِ کونین بھی قیمت میری

    ذرّے ذرّے سے مدینہ کے محبت ہے مجھے
    آشکار اہلِ وفا پر ہے عقیدت میری

    میں تو جنّت کا سزاوار نہیں ہوں سرکار(ص)
    حشر میں آپ ہی فرمائیں شفاعت میری

    مجھ پہ بھی ایک نظر سیّدِ مکّی مدنی
    شکوہ ء ِ گردشِ دوراں نہیں عادت میری

    آستانِ شہِ لولاک (ص) ہو فردوس نظر
    ہے یہی میری تمنّا یہی نیّت میری

    نعت گوئی کی حدیں مجھ کو ہیں راغب معلوم
    کہ نگاہوں میں ہیں احکا مِ شریعت میری

  164. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    October 1, 2009 بوقت 11:00 am

    مفتی امیر احمد امیر مینائی لکھنوی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار:

    سکّہ رائج جب سے دینِ مصطفےٰ (ص) کا ہوگیا
    غلغلہ ساری خدائی میں خدا کا ہوگیا

    جب سے دل دیوانہ محبوبِ خدا کا ہوگیا
    مصطفےٰ (ص) اس کے ہوئے وہ مصطفےٰ ہوگیا

    اوّلِ بعثت میں ختم الانبیا (ص) پا یا لقب
    رتبہ حاصل ابتدا میں انتہا کا ہوگیا

    طوق، دینِ مصطفےٰ کا جس کے گردن میں پڑا
    قید سے آزاد وہ بندہ خدا کا ہوگیا

    التجا پر امتِ عاصی کی جب آمیں کہی
    بول بالا اِن غریبوں کی دُعا کا ہوگیا

    نعت میں ہم نے جو لکھا ایک پرچہ بھی امیر
    مل گئی دولت وہ نسخہ کیمیا کا ہوگیا

  165. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    October 1, 2009 بوقت 10:03 pm

    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہو ں کہ اس نےآج میرے اس بلاگ کی ایک لنک بنا کر میرے علاوہ ، عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کے پاس ای میل کے ذریعہ روانہ کردیا ۔ شکریہ

  166. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    October 1, 2009 بوقت 11:19 pm

    سید عبدالغنی قیصر وارثی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار :
    پیامِ عجز پئے تاجدار (ص) لیتا جا
    یہ چند اشک بھی ابرِ بہار لیتا جا

    غبارِ راہِ مدینہ ہوں میں خداکے لیے
    صبا کے دوش پہ ابرِ بہار لیتا جا

    ہزار طور کے جلوے ہیں راہِ طیبہ میں
    نثار کرنے کو ہوش و قرار لیتا جا

    درِ کریم پہ اب تجھ کو سرجھکانا ہے
    جبینِ شوق میں سجدے ہزار لیتا جا

    لگا کے شمعِ جمالِ نبی (ص) سے لَو قیصر
    تو اپنی زیست کو پروانہ وار لیتا جا

  167. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    October 1, 2009 بوقت 11:29 pm

    نعت کے چند اشعار از :سید ریاض احمد ریاض خیر آبادی :

    نام کے نقش سے روشن یہ نگینہ ہوجائے
    کعبہ ء دل مرے اللہ مدینہ ہوجائے

    وہ چمک درد کی ہو دل میں کہ بجلی چمکے
    دامنِ طور ذرا آج یہ سینہ ہوجائے

    تو جو چاہے ارے او مجھ کو بچانے والے
    موجِ طوفانِ بلا اٹھ کے سفینہ ہوجائے

    ظلمتِ کفر سے بڑھ کر ہے سیاہی دل کی
    دور کیونکر دلِ اغیار سے کینہ ہوجائے

    اس کی تقدیر جو پامال ہو تیرے در پر
    اس کی تقدیر کہ جو خاکِ مدینہ ہوجائے

    جان کی طرح تمنّا ہے یہی دل میں ریاض
    مروں کعبہ میں تو مُنہ سُو ئے مدینہ ہوجائے

  168. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    October 3, 2009 بوقت 5:38 pm

    نعت کے چند اشعار : از میرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی
    بزمِ توحید سے تبلیغ کا نامہ آیا
    کوئی پہنے ہوئے قرآن کا جامہ آیا
    جس نے اسلام کے پیچیدہ مطالب کھولے
    سر پہ باندھے وہ فضیلت کا عمامہ آیا
    شورِ تکبیر سے صحرائے عرب کانپ اٹھا
    اس جلالت سے سُوئے اہلِ تہامہ آیا

    کپکپی جسم میں دل منزلِ اجلالِ خدا
    لے کے یوں کوہِ حِرا سے کوئی نامہ آیا

    شبِ ہجرت کی طرح دوش پہ بکھرائے ہوئے
    سنبلِ غالیہ مو مشک شمامہ آیا

  169. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    October 3, 2009 بوقت 5:58 pm

    نعت : از مظفر بیگ آغا شاعر قزلباش دہلوی :

    ارادہ جب کروں اے ہم نشیں مدحِ پیمبر(ص) کا
    قلم لے آوں پہلے عرش سے جبریل (ع) کے پر کا

    معطر ہے دو عالم یا محمد(ص) کیسی خوشبو ہے
    کھلا ہے کیا کوئ حلقہ تری زلفِ معنبر کا

    تسلی رہتی تھی عاشق کو اس کے پاس رہنے سے
    اسی باعث سے سایہ اڑ گیا جسمِ پیمبر( ص) کا

    محمّد ( ص) کہتے کہتے دم نکل جائے تعشق میں
    جبھی تو کام نکلے گا قضا سے زندگی بھر کا

    کہیں ایسا نہ ہو شاعر کو اپنے بھول ہی جاو
    مرے مولا( ص) ! ذرا تم دھیان رکھنا روزِ محشر کا

  170. راشد اشرف نے کہا ہے:
    June 20, 2012 بوقت 5:01 am

    جناب منظور قاضی صاحب!
    امریک میں مقیم میرے ایک کرم فرما اویس جعفری صاحب کو ضیاء جالندھری کی یہ نعت درکار ہے، اشد ضرورت ہے:

    مدحِ نبی میں شعر کا کہنا سہل بھی ہے دشوار بھی ہے
    جذب عقیدت بھی غالب ہے، حد ادب دیوار بھی ہے

    براہ کرم اگر آپ مدد فرما سکیں تو ممنون رہوں گا
    میرا ای میل یہ ہے:
    zest70pk@gmail.com

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی سے

  171. منظور قاضی : از جرمنی نے کہا ہے:
    June 21, 2012 بوقت 12:59 am

    محترم راشد اشرف صاحب : سلام و دعا کے بعد عرض ہے کہ مین میونخ جرمنی کے غیر اردوماحول میں رہتا ہوں : یہا ں پر نہ کوئی اردو کتابوں کی دوکان ہے اور نہ کوئی ایسا ماحول ہے کہ اپنے علم کی پیاس کو بجھا سکوں: میرے پاس ضیا جالندھری کی کوئی کتا ب نہیں اس لیے میں اس سلسلے مین آپ کی مدد کرنے سے قاصر ہوں : اس بات کی مجھے شرمندگی ہے: میرا خیال ہے کہ کراچی میں جہاں آپ رہتے ہیں وہاں پر آپ کو ضیا جالندھری کی تصانیف مل جاائینگیں؛ آپ وہیں پر کسی سے پوچھ گچھ کیجیے ویسے اردو منزل یا اردو لائیف کی ویب سائٹ پر آپ تلاش کرکے یہ کلام حاصل کرسکتے ہیں:
    آپ کی توجہ اور عنایت کا دلی شکریہ
    فقط :
    منظور قاضی
    میونخ جرمنی سے ۲1 جون ۲01۲ ء

  172. منظور قاضی : از جرمنی نے کہا ہے:
    July 28, 2012 بوقت 11:48 pm

    میرا ہدیہ عقیدت

    کہتا ہوں سچ کہ بس یہی میرا اصول ہے
    فضل۔ خدا کا نام محمد رسول ص ہے

    مقصود ۔ زندگی مرا ، قرب ۔ رسول ص ہے
    گر یہ نہیں تو پھر مرا جینا فضو ل ہے

    افسوس کے حضور ص کے قد موں سے دور ہوں
    فرقت میں ان ص کی آج مرا دل ملول ہے

    وہ ساری کائنات کے گلشن کا پھول ہے
    میری خرد مدینہ ء اقد س کی دھول ہے

    منکرنکیر آئے تو قدرت نے یہ کہا
    اس کو نہ چھیڑو یہ تو گدائے رسول ص ہے

    سن کر یہ نعت سارے زمانے نے یہ کہا
    عشق۔ نبی ص کا قاضی کےدل میں دخو ل ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    از :منظور قاضی
    میونخ جرمنی :
    ۲9 جولائی ۲01۲

  173. منظور قاضی : از جرمنی نے کہا ہے:
    August 3, 2012 بوقت 9:22 pm

    ایک ضروری بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ؛ میر ی لکھی ہوئی نعت جو اوپر موجود ہے ، اس میں ایک شعر کا اضافہ کیا ہوں :

    بیٹی بتول ع ، اور نواسے حسن ع حسین ع
    داماد ہے علی ع جو عصائے رسول ص ہے

    اور مقطع کو یوں تبدیل کیا ہوں کہ :
    سن کر یہ نعت سارے زمانے نے یہ کہا
    قاضی کے دل پہ عشق،نبی ص کا نزول ہے

    فقط :
    عاشق ۔۔رسول صل اللہ علیہ و آلہہ و سلم
    منظور قاضی از میونخ ، جرمنی

  174. aamer نے کہا ہے:
    September 27, 2012 بوقت 9:06 am

    can you please tell me how to write in urdu

  175. منظور قاضی : از جرمنی نے کہا ہے:
    October 11, 2012 بوقت 7:40 pm

    عامر صاحب : اس سبزرنگ کے بلاک مین آپ اگر الف ب ج لکھنا چاہیں تو انگریزی کے حروف اے بی سی دبا دیں وہ خود بخود الف بے جیم بن جائینگے : اس کی مشق کرتے رہیے کچھ دیر کے بعد انشااللہ آپ یونی کوڈ میں اردو لکھ سکینگے : اگر عامر لکھنا چاہیں تو عا مر یعنی ای ا ایم آر کو دبادیں عامر بن جانے گا ِ

  176. منظور قاضی : از جرمنی نے کہا ہے:
    July 25, 2013 بوقت 4:43 pm

    یہ بلاگ نا مکمل رہے گا اگر اس میں عالمی اخبار میں عید میلاد النبی صل اللہ علیہ وآلہہ و سلم کے موقع پر لکھے گئے مند ر جہ ذیل دو بلاگ شامل نہ ہوں:

    http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=1735

    http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=5730

جواب لکھیں




مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں