اے مسلمانومبارک ہو نویدِ آفتا ب ۔ لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب ( جوش )

25 اگست کو لگنے والے اس بلاگ کو مقبولیت کی وجہ سے ایک بار پھر سر فہرست لایا جا رہا ہے۔۔۔۔انتظامیہ

نعت صلعم ( از جوش ملیح‌آبادی )
اے مسلمانو مبارک ہو نویدِ فتح یا ب
لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب
وہ اٹھے تاریکیوں کے بامِ گردوں سے حجاب
وہ عرب کے مطلعِ روشن سے ابھرا آفتاب

گم ضیائے صبح میں‌شب کا اندھیرا ہوگیا
وہ کلی چٹکی ، کرن پھوٹی سویرا ہوگیا

خسروَ خاور نے پہنچا دیں شعائیں دور دور
دل کھلے شاخیں ہلیں ، شبنم اڑی ، چھایا سرور
آسماں روشن ہوا ، کانپی زمیں پر موج ِ نور
پَو پھٹی ، دریا بہے، سنکی ہوا ، چہکے طہور

نورِ حق فاران کی چوٹی کو جھلکا نے لگا
دلبری سے پرچمِ اسلام لہرانے لگا

گرد بیٹھی کفر کی ، اٹھی رسالت کی نگاہ
گرگئے طاقوں سے بُت، خم ہوگئی پشتِ گناہ
چرخ سے آنے لگی پیہم صدائے لا الہٰ
ناز سے کج ہوگئی آدم کے ماتھے پر کلاہ

آتے ہی‌ ساقی کے ، ساغر آگیا ، خم آگیا
رحمتِ یزداں کے ہونٹوں پر تبسم آگیا

آگیا جس کا نہیں ہے کوئی ثانی وہ رسول (ص)
روحِ فطرت پر ہے جس کی حکمرانی وہ رسول ( ص)
جس کا ہر تیور ہے حکمِ آسمانی وہ رسول ( ص)
موت کو جسن بنا یا زندگانی وہ رسول (ص)

محفلِ سفاکی و وحشت کو برہم کردیا
جس نے خون آشام تلواروں کو مرہم کردیا

فقر کو جس کے تھی حاصل کج کلاہی وہ رسول (ص)
گلہ بانو ں‌ کو عطا کی جس نے شاہی وہ رسول ( ص)
زندگی بھر جو رہا بن کر سپاہی وہ رسول ( ص)
جس کی ہر اک سانس قانونِ الٰہی وہ رسول (ص)

جس نے قلبِ تیرگی سے نور پیدا کردیا
جس کی جاں‌بخشی نے مُردوں کو مسیحا کردیا

واہ کیا کہنا ترا اے آخری پیغامبر
حشر تک طالع رہے گی تیرے جلووں کی سحر
تونے ثابت کردیا اے ہادیء نوعِ‌بشر
مرد یوں مہریں لگا تے ہیں جبین ِ وقت پر

کروٹیں دنیا کی تیرا قصر ڈھا سکتی نہیں
آندھیا ں تیرے چراغوں کو بجھا سکتی نہیں

تیری پنہا ں قوتوں سے آج بھی دنیا ہے دنگ
کس طرح تو نے مٹا یا امتیازِ نسل و رنگ
ڈال دی تونے بِنائے ارتباطِ جام و سنگ
بن گیا دنیا میں تخیل ِ اخوت ذوقِ جنگ

تیرگی کو روکشِ مہرِ درخشاں کردیا
تونے جس کانٹے کو چمکا یا گلستا ں کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اس بلاگ میں نعتو ں کا سلسلہ شروع کررہا ہوں ۔ کوشش یہی ہوگی کہ معروف شعرا کی نعتیں پیش کروں ۔
اگر کوئی قاری اس بلاگ میں اپنی یا کسی معروف شاعر کی نعت شامل کرے تو ا س بلاگ کی رونق اور افادیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ زرقا مفتی صاحبہ اور امین ترمذی صاحب اور تلمیذ فاطمہ صاحبہ ان نعتوں میں لکھے ہوئے مشکل الفاظ ، استعارات اور تلمیحات کی تشریح فرما کر تمام پڑھنے والوں کےعلم میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم سب کو نہ صرف صحیح اردو سیکھنے اور سکھانےکا موقعہ ملے گا بلکہ تاریخ ِ اسلام کو بھی سمجھنے کا موقعہ ملے گا۔

میرے خیال میں‌ اس طرح ہم سب کے ذہن ایک دوسرے کی اردو پر نکتہ چینی کی بجائے ” صحیح ” اردو پر توجہ دے سکینگے ۔

یہ ایک تعمیری اور مثبت بلا گ ہے ۔ انشااللہ اس مقدس مہینے ( رمضان ) میں اور اسکے بعد بھی ہم سب اس بلاگ کے علم سے مستفید ہوسکینگے ۔

فقط :
ایک سیدھا سادہ مسلمان
منظور قاضی از جرمنی

176 Responses to “اے مسلمانومبارک ہو نویدِ آفتا ب ۔ لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب ( جوش )”

  1. منظور قاضی says:

    پیر نصیرالدین نصیر مرحوم کی تحریر کردہ نعت جو ا س ویڈیو لنک میں موجودہے جسےعالمی اخبار کی انتظامیہ نے اس بلاگ میں شامل کیا ہے:
    اس نعت کوسنانے سے پہلے پیر نصیرالدین نصیر مرحوم نے حاضرین سے یہ کہا ہے کہ انہوں نے یہ نعت حسن رضا بریلوی کی نعت کی زمین میں لکھی ہے:
    کو ن ہو مسندنشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
    خلد دیکھے کون کوئے شاہِ بطحیٰ چھوڑ کر

    کون نظروں پر چڑھے حُسنِ حقیقت کے سوا
    کس کا منہ دیکھیں ہم انکا روئے زیبا چھوڑ کر

    اللہ اللہ آمدِ سلطانِ انس و جاں کی شان
    اک طرف قدسی بھی ہوجاتے تھے رستہ چھوڑ کر

    مصطفے ( ص) جنت میں جائینگے اُمّت کے بغیر!
    جا نہیں سکتا کبھی تنکوں کو دریا چھوڑ کر

    تھی نہ چاہت دل میں زہرا ( ع) کے دلاروں (ع ) کی اگر
    کیوں اُ ترتے تھے نبی ( ص) مِنبر سے خطبہ چھوڑ کر ؟

    رہروان ِ راہِ حق تھے اور بھی لاکھوں مگر
    کوئی منزل پر نہ پہنچا ابنِ زہرا ( ع) چھو ڑ کر

    وہ ازل سے میرے آقا (ص) ، میں غلام ابنِ غلام
    کیوں کسی کے در پہ جاوں ان (ص)‌ کا صدقہ چھوڑ کر

    خوانِ‌شاہی کی ہوس رکتھے نہیں ان (ص ) کے گدا
    کیوں ادھر لپکیں وہ ان ٹکڑوں کا چسکہ چھوڑ کر

    میں کہاں گھوموں ؟ کہا ں ٹھیروں ؟ کسے دیکھا کروں ؟
    ان کی گلیاں ، ان کی جالی ، ان کا روضہ چھوڑ کر

    ۔۔۔۔۔

  2. منظور قاضی says:

    حسن رضا خاں بریلوی کی نعت ملا حظہ ہو ( جس کی زمین میں پیر نصیرالدین نصیر نے اپنی نعت لکھی جو میرے اوپر کے تبصرے میں شامل ہے )

    سیر ِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
    سوئے جنت کون جائے در تمھارا ( ص) چھوڑ کر

    سرگذشتِ غم کہوں کس سے ترے ہوتے ہوئے
    کس کے در پر جاوں تیرا آستانہ چھوڑ کر

    مر ہی جاوں میں اگر اس در سے جاوں دو قدم
    کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر

    ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
    کیا غرض کیوں جاوں جنت کو مدینہ چھو ڑ کر

    مر کے جیتے ہیں جو ان کے درپہ جاتے ہیں حسن
    جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر

  3. منظور قاضی says:

    اب جبکہ ماہ رمضان اختتام کو پہنچ رہا ہے اور ہلالِ عید طلوع ہی ہونے والا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ علامہ اقبال کی نظم بعنوان ” غرّہء شوّال یا ہلالِ عید ” کے چند اشعار اس بلاگ میں شامل کردوں تاکہ پڑھنے والوں کو علامہ اقبال کے تقریباً نوے سال پہلے کے تاثرات کا اندازہ ہوجائے جو اس وقت کے مسلمانوں کے بارے میں تھے۔
    ان تاثرات کی روشنی میں آج کل کے مسلمانوں کی حالت کا مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے:

    غرّ ہ ء شوّال ! اے نورِ نگاہ ِ روزہ دار !
    آ ! کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار

    تیری پیشانی پہ تحریرِ پیامِ عید ہے
    شام تیری کیا ہے صبحِ عیش کی تمہید ہے

    سرگذشتِ ملّتِ بیضہ کا تو آئینہ ہے
    اے مہِ‌نو! ہم کو تجھ سے الفتِ دیرینہ ہے
    ۔۔۔۔

    آشنا پرور ہے قوم اپنی ، وفا آئیں ترا
    ہے محبت خیز یہ پیراہنِ سیمیں ترا
    ۔۔۔
    اوجِ گردوں سے ذرا دنیا کی بستی دیکھ لے!
    اپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے!
    ۔۔۔۔۔
    قافلے دیکھ ، اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ
    رہروِ درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ

    دیکھ کر تجھ کو افق پر ہم لٹاتے تھے گہر
    اے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ

    فرقہ آرائی کی زنجیروں میں ہیں مسلم اسیر
    اپنی آزاد ی بھی دیکھ، ان کی گرفتاری بھی دیکھ

    دیکھ مسجد میں شکستِ رشتہ ء تسبیحِ شیخ
    بتکدے میں برہمن کی پختہ زنّاری بھی دیکھ

    کا فروں کی مسلم آئینی کا بھی نظّارہ کر
    اور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ

    بارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی بھی ہو
    امّتِ مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ

    ہاں ، تملّق پیشگی دیکھ آبرو والوں کی تو
    اور جو بے آبرو تھے ان کی خود داری بھی دیکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صورتِ آئینہ سب کچھ دیکھ ، اور خاموش رہ
    شورشِ امروز میں محوِ سرود۔ دوش رہ !
    ۔۔۔۔۔۔

  4. منظور قاضی says:

    حسن بریلوی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار:
    نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
    لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

    ہمارے دستِ تمنّا کی لاج بھی رکھنا
    تیرے فقیروں میں اے شہریار ( ص) ہم بھی ہیں

    تمھاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
    پڑے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں

    یہ کس شہنشہِ عالی کا صدقہ بٹتا ہے
    کہ خسرووں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

    ہماری بگڑی بنی ان کے اختیار میں ہے
    سپرد انہیں کیے سب کاروبار ہم بھی ہیں

    حسن ہے جس کی سخاوت کی دھوم عالم میں
    انہیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار ہم بھی ہیں

  5. منظور قاضی says:

    یہ بلاگ چونکہ اب اپنی آخری منزل پر پہنچ رہا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ مولانا سید حسن مثنیٰ ندوی کی تحقیق سے ترتیب دی ہوی ایک فہرست اس بلا گ میں شامل کردوں جو” ارمغانِ نعت) مرتبہ شفیق بریلوی میں موجود ہے :
    اس فہرست کا عنوان ہے : ” نعت رسول کریم ( ص) با آیاتِ قرآن حکیم ”

    وہ مصطفے ٰ ہیں : آیت نمبر 33 سورہ آل عمران
    مجتبے ہیں : 179 آل عمران
    احمد ہیں : 6 صف
    محمد (ص) ہیں : 29 فتح
    یٰسین ہیں : 1 یٰسین
    طٰہ ٰ ہیں : 1 طٰہٰ
    کملی والے ہیں : 1 مزمّل
    چادر والے ہیں: 1 مدثّر
    نبی(ص) امّی ہیں : 157 اعراف
    داعی الی اللہ ہیں : 46 احزاب
    ہادی و منذِ ر ہیں : 7 رعد
    روشن چراغ ہیں : 46 احزاب
    شاہد ہیں: 45 احزاب
    بشیر و نذیر ہیں: 48 سبا
    مزکّیِ نفوسِ انسانی ہیں: 164 آل عمران
    معلم کتاب و حکمت ہیں : 164 آل عمران
    نور ہیں : 15 مائدہ
    تاریکیوں سے نکالنے والے ہیں: 1 ابراہیم
    غلط بندھنو ں سے نجات دلانے والے ہیں: 152 اعراف
    وہی ہر بات کے شارح ہیں :44 نحل
    حاصلِ صدق ہیں : 33 زُمر
    مرکزِ حق ہیں : 170 نساء
    بُرہان ہیں : 174 نسا ء
    حاکمِ برحق ہیں :105 نسا ء
    صاحبِ قولِ فیصل ہیں :36 احزاب
    سراپا ہدایت ہیں : 27 نحل
    روف و رحیم ہیں : 128 توبہ
    تمھارے گواہ ہیں : 78 حج
    صاحبِ خُلقِ عظیم ہیں : 4 قلم
    اوّل المومنین ہیں : 285 بقرہ
    اول المسلمین ہیں : 163 انعام
    خاتم النبین ہیں : 40 احزاب
    عبد ( کامل ) ہیں : 1 بنی اسرائیل
    صاحبِ کوثر ہیں : 1 کوثر
    صاحبِ رفعت شان و شہرتِ عام ہیں : 4 انشراح
    ایمان والوں کی جان سے بھی زیادہ عزیز و پیارے : 6 احزاب
    ۔
    ان اللہ و ملیٰئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنو صلوا علیہ و تسلیما : 56 احزاب
    ( افسو س کی میں عربی فانٹ لکھنے سے قاصر ہوں ۔ اس لیے زیر و زبر پیش اور تشدید کی علامات اس آیت میں نہیں لکھ سکا : ( اگر کوئی قاری اس کو عربی فانٹ میں پیش کردے تو مہربانی ہوگی:

  6. منظور قاضی says:

    کئی دن پہلے عمران چوہدری صاحب نے اپنی لکھی ہوئی‌ نعت کا صرف ایک شعر لکھا تھا:
    ” اُس کو محدود نہ کر ، کہ کے مدینے والا
    وہ زمانوں کے لیے ہے ، نہ مکا نوں کے لیے ”
    ۔۔۔
    اس نہاہت ہی پر اثر شعر کو پڑھ کر عبدا لمناف غلزئی صاحب نے عمران چوہدری صاحب سے فرمائش کی تھی کہ وہ پوری نعت اس بلاگ میں لکھدیں مگر عمران چوہدری صاحب پتہ نہیں کہاں پر ہیں کہ انہوں نے بلاگوں میں حصہ لینا چھو ڑدیا۔ انہیں عید کی مبارکباد دینے کے بعد کہو نگا کہ برا ہ کرم اپنی لکھی ہوئی اس پوری نعت کو اس بلاگ میں لکھدیں ۔

  7. مسعود قاضی says:

    سلام علیکم
    براہ کرم اس مبارک سلسلہ کو جاری رکھیں اتنی ساری نعتیں ایک مجموعہ کی شکل میں دستیاب ہونا کار دارد
    اللہ آپ کو جزایئے خیر اور عمر طویل ساتھ صحت کے عطا فرمائے آمیں

  8. منظور قاضی says:

    عالمی اخبا ر میں یہ ویڈیو لنک موجود ہے جس میں قصیدہ بردہ شریف کے علاوہ چند اور نعتیں بھی شامل ہیں ۔ میں یہ ویڈیو لنک اس بلاگ میں عاشقان ِ رسول اکرم( ص) کے دیکھنے اور سننے کے لیے شامل کررہا ہوں۔
    اگر یہ ویڈیو لنک کسی وجہ سے کام نہ کرے تو براہ مہربانی عالمی اخبار کے صفحہ اول پر قصیدہ بردہ شریف کے بارے میں ایک مضمون کو پڑھیے۔

    http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=interviews&article=8702

  9. منظور قاضی says:

    مولانا عبدالباری آسی کی تحریر کردہ نعت کے اشعار :

    تحیت ان پر ، درود ان پر ، صلوٰ تہ ان پر سلام ان پر
    ۔۔۔۔۔۔۔

    وہی ہیں طاہر ، وہی مطہّر، وہی ہیں شافع ، وہی پیمبر
    وہ سب سےافضل ، وہ سب سے بالا وہ سب کے رہبر، وہ سب سے برتر

    شفیق سب کے، ادیب سب کے ، انیس سب کے ، خلیل سب کے
    رفیق سب کے ، حبیب سب کے، رئیس سب کے ، کفیل سب کے

    مہِ منوّر ہیں وہ عرب کے، نہ ابر ان پر نہ کوئی ہالا
    جہاں کے حق میں سبب طرب کے ، بہ لطف برتر، بہ خُلق اعلا

    حکیمِ امّت، رحیم صورت ، کریم سیرت، عظیم ہیبت
    شریف سیرت، نسیمِ جنّت، دلیلِ ملّت، رفیعِ رفعت

    شہیرِ عالَم بہ خوش کلامی، عرب کے والی ، عجم کے حامی
    جہاں کے مولا ،جہاں میں نامی ، بہ دل مکرّم، بہ جاں گرامی

    ملا ، نہ اب یہ ملے گا درجہ ، ہوا ہے ایسا نہ کوئی ہوگا
    اسی سے ظاہر ہے انکا رُتبہ کہ خود ثنا گو ہے حق تعا لیٰ

    وہ ساتھ شمع ہُدیٰ جو لائے ، تو بُت ہوئے خیرہ سر جھکائے
    چراغ ملّت کے یوں جلائے کہ ذرّے دنیا کے جگمگائے

    کہاں تک آسی یہ ہرزہ کوشی ، کہاں تک آخر یہ سخت جوشی
    کہاں تک اتنی سخن فروشی ، یہ کہہ کہ ہو مائلِ خموشی
    ۔۔۔
    تحیّت ان پر ، درود ان پر ، صلوٰتہ ان پر ، سلام ان پر

  10. منظور قاضی says:

    منور بدا یونی کی تحریری کردہ نعت کے چند اشعار:

    ہر دل کی تسلّی بھی ہے ہر غم کی دوا بھی
    کیا چیز ہے مولا تری خاکِ کفِ پا بھی

    تم سا کوئی اے ختم رسُل ( ص) اور ہوا بھی
    مقصود خدائی بھی ہو ، محبوبِ خدا بھی

    ہونے کو تو ہوگی دلِ مضطر کی دوا بھی
    اکسیر ہے لیکن ترے دامن کے ہوا بھی

    اس موت پہ اک میں نہیں سو جان تصدق
    جس موت کے ساتھ آئے مدینہ کی ہوا بھی

    جب دل میں وہ جلوے ہوں تو دنیا ہے منور
    جینے کی غرض ہے کوئی جینے کی دوا بھی

  11. منظور قاضی says:

    قتیل شفائی مرحوم نے ایک غزللکھی تھی جس میں اس نے یہ نعتیہ شعر بھی شامل کردیا :
    یہ ہجرتوں کی شب ہے گھروں سے نکل پڑو
    اُس کا کرم ہوا تو مدینہ بھی آئے گا
    ۔۔۔۔۔۔
    اس غزل کے باقی اشعار یوں ہیں:

    ذہنوں میں اس کا پورا سراپا بھی آئے گا
    آتا ہے جو بکھر کے وہ یکجا بھی آئے گا

    سورج کے ہمسفر جو بنے ہوتو سوچ لو
    اِ س راستے میں پیاس کا دریا بھی آئے گا

    کمرہ ہی بند ہے تو ہواو ں کا کیا قصور
    کھڑکی کوئی کھلے گی تو جھونکا بھی آئے گا

    ایسا نہییں کہ خشک ملے ہر جگہ زمیں
    پیاس جو چل پڑے ہیں تو دریا بھی آئے گا

    سورج کوئی قتیل افق سے ہو گر طلوع
    یہ رات بھی کٹے گی سویرا بھی آئے گا

    ۔۔۔۔۔
    یہ ہجرتوں کی شب ہے گھروں سے نکل پڑو
    اُس کا کرم ہوا تو مدینہ بھی آئے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

  12. منظور قاضی says:

    جلیل مانک پوری کی اس غزل کامقطع بھی ذو معنی قسم کا ہے ۔ اس میں نعتیہ انداز موجود ہے :
    ذکرِ حبیب ( ص) سے کبھی غفلت نہ ہو جلیل
    چلتا رہے یہ کام بھی جب تک زباں چلے

  13. منظور قاضی says:

    سیداصغر حسین راغب مرادآبادی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار:

    عشق ہے سرورِ کونین (ص) کا دولت میری
    للہِ الحمد کہ بیدار ہے قسمت میری

    ہوگیا ہوں میں اسیرِ خمِ گیسوئے رسول (ص)
    اب نہیں دولتِ کونین بھی قیمت میری

    ذرّے ذرّے سے مدینہ کے محبت ہے مجھے
    آشکار اہلِ وفا پر ہے عقیدت میری

    میں تو جنّت کا سزاوار نہیں ہوں سرکار(ص)
    حشر میں آپ ہی فرمائیں شفاعت میری

    مجھ پہ بھی ایک نظر سیّدِ مکّی مدنی
    شکوہ ء ِ گردشِ دوراں نہیں عادت میری

    آستانِ شہِ لولاک (ص) ہو فردوس نظر
    ہے یہی میری تمنّا یہی نیّت میری

    نعت گوئی کی حدیں مجھ کو ہیں راغب معلوم
    کہ نگاہوں میں ہیں احکا مِ شریعت میری

  14. منظور قا ضی says:

    مفتی امیر احمد امیر مینائی لکھنوی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار:

    سکّہ رائج جب سے دینِ مصطفےٰ (ص) کا ہوگیا
    غلغلہ ساری خدائی میں خدا کا ہوگیا

    جب سے دل دیوانہ محبوبِ خدا کا ہوگیا
    مصطفےٰ (ص) اس کے ہوئے وہ مصطفےٰ ہوگیا

    اوّلِ بعثت میں ختم الانبیا (ص) پا یا لقب
    رتبہ حاصل ابتدا میں انتہا کا ہوگیا

    طوق، دینِ مصطفےٰ کا جس کے گردن میں پڑا
    قید سے آزاد وہ بندہ خدا کا ہوگیا

    التجا پر امتِ عاصی کی جب آمیں کہی
    بول بالا اِن غریبوں کی دُعا کا ہوگیا

    نعت میں ہم نے جو لکھا ایک پرچہ بھی امیر
    مل گئی دولت وہ نسخہ کیمیا کا ہوگیا

  15. منظور قا ضی says:

    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہو ں کہ اس نےآج میرے اس بلاگ کی ایک لنک بنا کر میرے علاوہ ، عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کے پاس ای میل کے ذریعہ روانہ کردیا ۔ شکریہ

  16. منظور قا ضی says:

    سید عبدالغنی قیصر وارثی کی تحریر کردہ نعت کے چند اشعار :
    پیامِ عجز پئے تاجدار (ص) لیتا جا
    یہ چند اشک بھی ابرِ بہار لیتا جا

    غبارِ راہِ مدینہ ہوں میں خداکے لیے
    صبا کے دوش پہ ابرِ بہار لیتا جا

    ہزار طور کے جلوے ہیں راہِ طیبہ میں
    نثار کرنے کو ہوش و قرار لیتا جا

    درِ کریم پہ اب تجھ کو سرجھکانا ہے
    جبینِ شوق میں سجدے ہزار لیتا جا

    لگا کے شمعِ جمالِ نبی (ص) سے لَو قیصر
    تو اپنی زیست کو پروانہ وار لیتا جا

  17. منظور قا ضی says:

    نعت کے چند اشعار از :سید ریاض احمد ریاض خیر آبادی :

    نام کے نقش سے روشن یہ نگینہ ہوجائے
    کعبہ ء دل مرے اللہ مدینہ ہوجائے

    وہ چمک درد کی ہو دل میں کہ بجلی چمکے
    دامنِ طور ذرا آج یہ سینہ ہوجائے

    تو جو چاہے ارے او مجھ کو بچانے والے
    موجِ طوفانِ بلا اٹھ کے سفینہ ہوجائے

    ظلمتِ کفر سے بڑھ کر ہے سیاہی دل کی
    دور کیونکر دلِ اغیار سے کینہ ہوجائے

    اس کی تقدیر جو پامال ہو تیرے در پر
    اس کی تقدیر کہ جو خاکِ مدینہ ہوجائے

    جان کی طرح تمنّا ہے یہی دل میں ریاض
    مروں کعبہ میں تو مُنہ سُو ئے مدینہ ہوجائے

  18. منظور قا ضی says:

    نعت کے چند اشعار : از میرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی
    بزمِ توحید سے تبلیغ کا نامہ آیا
    کوئی پہنے ہوئے قرآن کا جامہ آیا
    جس نے اسلام کے پیچیدہ مطالب کھولے
    سر پہ باندھے وہ فضیلت کا عمامہ آیا
    شورِ تکبیر سے صحرائے عرب کانپ اٹھا
    اس جلالت سے سُوئے اہلِ تہامہ آیا

    کپکپی جسم میں دل منزلِ اجلالِ خدا
    لے کے یوں کوہِ حِرا سے کوئی نامہ آیا

    شبِ ہجرت کی طرح دوش پہ بکھرائے ہوئے
    سنبلِ غالیہ مو مشک شمامہ آیا

  19. منظور قا ضی says:

    نعت : از مظفر بیگ آغا شاعر قزلباش دہلوی :

    ارادہ جب کروں اے ہم نشیں مدحِ پیمبر(ص) کا
    قلم لے آوں پہلے عرش سے جبریل (ع) کے پر کا

    معطر ہے دو عالم یا محمد(ص) کیسی خوشبو ہے
    کھلا ہے کیا کوئ حلقہ تری زلفِ معنبر کا

    تسلی رہتی تھی عاشق کو اس کے پاس رہنے سے
    اسی باعث سے سایہ اڑ گیا جسمِ پیمبر( ص) کا

    محمّد ( ص) کہتے کہتے دم نکل جائے تعشق میں
    جبھی تو کام نکلے گا قضا سے زندگی بھر کا

    کہیں ایسا نہ ہو شاعر کو اپنے بھول ہی جاو
    مرے مولا( ص) ! ذرا تم دھیان رکھنا روزِ محشر کا

  20. راشد اشرف says:

    جناب منظور قاضی صاحب!
    امریک میں مقیم میرے ایک کرم فرما اویس جعفری صاحب کو ضیاء جالندھری کی یہ نعت درکار ہے، اشد ضرورت ہے:

    مدحِ نبی میں شعر کا کہنا سہل بھی ہے دشوار بھی ہے
    جذب عقیدت بھی غالب ہے، حد ادب دیوار بھی ہے

    براہ کرم اگر آپ مدد فرما سکیں تو ممنون رہوں گا
    میرا ای میل یہ ہے:
    zest70pk@gmail.com

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی سے

  21. منظور قاضی : از جرمنی says:

    محترم راشد اشرف صاحب : سلام و دعا کے بعد عرض ہے کہ مین میونخ جرمنی کے غیر اردوماحول میں رہتا ہوں : یہا ں پر نہ کوئی اردو کتابوں کی دوکان ہے اور نہ کوئی ایسا ماحول ہے کہ اپنے علم کی پیاس کو بجھا سکوں: میرے پاس ضیا جالندھری کی کوئی کتا ب نہیں اس لیے میں اس سلسلے مین آپ کی مدد کرنے سے قاصر ہوں : اس بات کی مجھے شرمندگی ہے: میرا خیال ہے کہ کراچی میں جہاں آپ رہتے ہیں وہاں پر آپ کو ضیا جالندھری کی تصانیف مل جاائینگیں؛ آپ وہیں پر کسی سے پوچھ گچھ کیجیے ویسے اردو منزل یا اردو لائیف کی ویب سائٹ پر آپ تلاش کرکے یہ کلام حاصل کرسکتے ہیں:
    آپ کی توجہ اور عنایت کا دلی شکریہ
    فقط :
    منظور قاضی
    میونخ جرمنی سے ۲1 جون ۲01۲ ء

  22. منظور قاضی : از جرمنی says:

    میرا ہدیہ عقیدت

    کہتا ہوں سچ کہ بس یہی میرا اصول ہے
    فضل۔ خدا کا نام محمد رسول ص ہے

    مقصود ۔ زندگی مرا ، قرب ۔ رسول ص ہے
    گر یہ نہیں تو پھر مرا جینا فضو ل ہے

    افسوس کے حضور ص کے قد موں سے دور ہوں
    فرقت میں ان ص کی آج مرا دل ملول ہے

    وہ ساری کائنات کے گلشن کا پھول ہے
    میری خرد مدینہ ء اقد س کی دھول ہے

    منکرنکیر آئے تو قدرت نے یہ کہا
    اس کو نہ چھیڑو یہ تو گدائے رسول ص ہے

    سن کر یہ نعت سارے زمانے نے یہ کہا
    عشق۔ نبی ص کا قاضی کےدل میں دخو ل ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    از :منظور قاضی
    میونخ جرمنی :
    ۲9 جولائی ۲01۲

  23. منظور قاضی : از جرمنی says:

    ایک ضروری بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ؛ میر ی لکھی ہوئی نعت جو اوپر موجود ہے ، اس میں ایک شعر کا اضافہ کیا ہوں :

    بیٹی بتول ع ، اور نواسے حسن ع حسین ع
    داماد ہے علی ع جو عصائے رسول ص ہے

    اور مقطع کو یوں تبدیل کیا ہوں کہ :
    سن کر یہ نعت سارے زمانے نے یہ کہا
    قاضی کے دل پہ عشق،نبی ص کا نزول ہے

    فقط :
    عاشق ۔۔رسول صل اللہ علیہ و آلہہ و سلم
    منظور قاضی از میونخ ، جرمنی

  24. aamer says:

    can you please tell me how to write in urdu

  25. منظور قاضی : از جرمنی says:

    عامر صاحب : اس سبزرنگ کے بلاک مین آپ اگر الف ب ج لکھنا چاہیں تو انگریزی کے حروف اے بی سی دبا دیں وہ خود بخود الف بے جیم بن جائینگے : اس کی مشق کرتے رہیے کچھ دیر کے بعد انشااللہ آپ یونی کوڈ میں اردو لکھ سکینگے : اگر عامر لکھنا چاہیں تو عا مر یعنی ای ا ایم آر کو دبادیں عامر بن جانے گا ِ

  26. منظور قاضی : از جرمنی says:

    یہ بلاگ نا مکمل رہے گا اگر اس میں عالمی اخبار میں عید میلاد النبی صل اللہ علیہ وآلہہ و سلم کے موقع پر لکھے گئے مند ر جہ ذیل دو بلاگ شامل نہ ہوں:

    http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=1735

    http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=5730

Leave a Reply