ثواب

کل کلاس میں ہم کچھ دوستوں کا گروپ بیٹھا ہوا تھا ٹاپک شادی کا تھا۔ اس لیے زیادہ دلچسپ بیان بازی چل رہی تھی ہماری کلاس کا ایک سنجیدہ نوجوان علی سے جب ہم نے شادی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگا کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چار شادیاں کروں گا۔ اس سے پہلے کہ ہم سب حیران ہوتے علی لڑکوں کی طرف منہ کر کے کہنے لگا کہ دوستو روز قیامت نبی پاک ہمارا گریبان پکڑ کر کہیں گے کہ جب اللہ نے تمہیں چار شادیوں کی ااجازت دی تو پھر میری امت کی بیٹیاں کیوں کنواری رہ گئی۔
اس کی اس بات پر مجھے پچھلے سال عید ملن پارٹی کا وہ واقعہ یاد آگیا جہاں میں نے دو خواتین جو کہ آپس میں جیٹھانی دیورانی تھی لیکن اللہ کی قدرت دیکھیں جیٹھانی کے پاس تین بیٹے اور دیورانی کے ہاں چار بیٹیاں تھی۔ جیٹھانی صاحبہ کو خواتین انکے دوسرے بیٹے کی شادی کی مبارکباد دے رہی تھیں جو کہ اٹلی میں مقیم تھا۔ خاتون نے بڑے ہی فخریہ انداز میں کہا کہ میرے بیٹے کا فون آیا تھا اس نے کہا امی میں نے بھی بڑے بھائی کی طرح ثواب کمایا ہے۔ ایک غیر مسلم لڑکی کو مسلمان کرکے شادی کرلی ہے اور اب چھوٹے والے کو بھی ہم دونوں بلا لیں گے۔ پارٹی میں ایک خاتون نے دیورانی سے پوچھا باجی آپ کب اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کر رہی ہیں۔ دیورانی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی میری مسلمان بیٹیاں امت محمدیہ کے مسلمان بیٹوں کی منتظر ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——————–

74 thoughts on “ثواب”

  1. اگر آپ تاریخ کا جائزہ لیں تو مسلمانوں کا زوال اُس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے مسلمانوں نے مغرب کی تقلید میں ایک بیوی پر اکتفا کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ سنتِ نبی اور سنّت علی یہ ہے کہ پہلی بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کی جائے۔

  2. السلام علیکم
    عموما آجکل ڈاکٹر حضرات کزنز میرج کے خلاف ہیں اور بہت سے لوگ اِسی وجہ سے بھی خاندان سے باہر رشتے کرنے لگے ہیں مگر میں خود اِس بات کا قائل ہوں کہ خاندان میں ( اگر کوئی ہمعمر اور مناسب ) لڑکا یا لڑکی کنوارے ہوں تو پہلا حق اُن کا ہی بنتا ہے ، اور جہاں تک بات تعداد ازواج کی ہے تو یہ یقینا اختلافی مسئلہ ہے ( مجھے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر اختلاف نہیں بلکہ وجوہات پر اختلاف ہے ) بعض لوگ محض نفسانی خواہش کی تکمیل کے لیے دوسری تیسری اور پھر چوتھی شادی کر لیتے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. تو ثواب کمانے کا یہ سب سے مناسب مقام نظر آیا۔ اگر لوگ شادی کرتے وقت صرف اپنی ترجیحات تبدیل کر لیں۔ اور بہت خوبصورت اور بہترین سوشل اسٹیٹس اور مالی و دنیاوی فوائد دیکھنا چھوڑ دیں تو تب بھی ثواب ملیگا اور تب بھی شادیوں کا مسئلہ حل ہو جائیگا۔ کیا صرف وہی ثواب کمانا چاہئیے جس سے آپکی درپردہ نفسانی خاہشوں کی تشفی بھی ہوتی رہے۔ ان خاتون نے شاید یہ کہنا چاہا ہوگا کہ میری مسلمان بیٹیاں امت محمدیہ کے مسلمان بیٹوں کے ایسے ثواب سے فارغ ہونے کے وقت کا انتظار کر رہی ہیں۔ جب انکی نفسانی خواہشوں کی سیر حاصل تسلی ہو جائے۔۔

  4. ثواب اور فیشن، ایک ہی تیر سے دو شکار. اگرچہ دلوں کے بھید اللہ جانتا ہے، مگر یہ امتِ مسلمہ کا پیچیدہ مسئلہ بنتا جارہا ہے. کیا کوئی نثر میں اس ٹاپک پر لکھے گا اصلاحی ناول؟

  5. # آصف احمد بھٹی۔کویت نے کہا ہے:
    January 18, 2010 بوقت 4:44 am

    السلام علیکم
    عموما آجکل ڈاکٹر حضرات کزنز میرج کے خلاف ہیں اور بہت سے لوگ اِسی وجہ سے بھی خاندان سے باہر رشتے کرنے لگے ہیں مگر میں خود اِس بات کا قائل ہوں کہ خاندان میں ( اگر کوئی ہمعمر اور مناسب ) لڑکا یا لڑکی کنوارے ہوں تو پہلا حق اُن کا ہی بنتا ہے ، اور جہاں تک بات تعداد ازواج کی ہے تو یہ یقینا اختلافی مسئلہ ہے ( مجھے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر اختلاف نہیں بلکہ وجوہات پر اختلاف ہے ) بعض لوگ محض نفسانی خواہش کی تکمیل کے لیے دوسری تیسری اور پھر چوتھی شادی کر لیتے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

    آصف بھائی
    تعدد ازواج اختلافی مسئلہ کیوں ہے؟
    جب قرآن نے اجازت دی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے دکھا یا ہے تو پھر اس میں اختلاف کی گنجائش کسیے نکل آئی؟؟

  6. السلام علیکم
    راجہ اکرم صاحب ، میں نے اپنے پچھلے تبصرے میں واضع لکھا تھا کہ !
    ( مجھے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر اختلاف نہیں بلکہ وجوہات پر اختلاف ہے ) بعض لوگ محض نفسانی خواہش کی تکمیل کے لیے دوسری تیسری اور پھر چوتھی شادی کر لیتے ہیں ۔
    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سے زیادہ شادیاں کس سبب کی تھی یہ سب جانتے ہی ہیں ۔ اُمید ہے اب آپ میری بات سمجھ گئے ہونگے ۔

  7. نفسانی خواہش کی تسکین کے لئے، اگر انسان کا مقصد برائی سے بچنا ہے، شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں. کیونکہ شادی کے باق فوائد ساتھ قدرتی طور پر شامل ہوجاتے ہیں.

  8. مجھے اس موضوع کو زیرِ بحث لانے پر بہت خوشی ہوئی ہے، ہم لوگ اکثر اس اہم مسئلہ پر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں، شرماتے ہیں لیکن یہ ایک بنیادی ضرورت ہونے کے ناطے سے اہم ترین مسئلہ ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جانداروں میں کہیں بھی یہ مسئلہ، مسئلہ نہیں سوائے جناب اشرف المخلوقات کے یہاں .

    میرے استاد محترم جناب صفدر ہمدانی صاحب کہتے ہیں کہ اسلام تو وہ مکمل ضابطہء حیات ہے جو ناخن کاٹنے سے لے کر حکومتوں کے مابین تعلقات تک زندگی کے ہر ہر پہلو کے اصول و آداب سکھاتا ہے .

    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نہیں سیکھتے، یقیناً ہمارے زوال کا سبب یہی ہے .

    ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا عقیدہ ہے کہ جو کام اللہ(ج) اور اس کے رسول(ص) کے کہے کے مطابق ہوگا اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور جو اس کے خلاف انجام دیا جائے گا اس میں نقصان حتمی ہے . اس بات کو مان لینا اسلام یا تسلیم ہے اور اس پر دل سے یقین رکھنا ایمان ہے .

  9. جو کام بھی نیک نیت و اچھے مقصد سے کیا جاءے باعث ثواب ہے اور کوئی اچھا کام بھی بری نیت سے کیا جائے وہ باعث گناہ.
    شادی ایک کی جئیں یا چار اپنو میں کی جائیں یا غیروں میں بہرحال قابل توجہ اور ضروری یہ ہے کہ نبھائیی جائے بسورت دیگر معاملہ خراب ہے.

  10. معاف کیجئے وقت کم ہے دو جملوں میں مختصر گفتگو کی کوشش کروں گا۔
    پہلے تو یہ دیکھئے کہ اجازت اور حکم کا فرق کیا ہے۔ ؟ میں اپنے بیٹے کو اجازت دیتا ہوں کہ تم پکنک پر جاسکتے ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہیں پکنک پر جانا ہی جانا ہے ورنہ میں ناراض ہوجاوں گا۔ لیکن میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ آج دفتر سے واپسی پر یہ کام ضرور کرتے ہوئے آنا۔ ۔ ہم قرآن پاک کا حوالہ دے رہے ہیں کہ تعدد ازدواج کی اجازت ہے لیکن یہ نہیں بتا رہے کہ نماز حکم ہے اور سختی سے حکم ہے۔ آپ نے آخری بار فرائض کی ادائیگی کی کوشش کب کی تھی۔؟ یاد نہیں۔۔ تعدد ازدواج کب چاہتے ہیں؟ ۔آج۔۔ واہ بھئی واہ۔
    اب بات آتی ہے سنت کی ۔ ماشااللہ آپ نبی کی سنت پر چلنا چاہتے ہیں . جزاک اللہ۔
    ۱۔ نبی صلعم راتوں کو اتنی نوافل ادا کرتے تھے کہ پاوں سوج جاتے تھے۔ کتنے لوگ سنت نبوی صلعم کے لئے تیّار ہیں۔۔ ماشااللہ
    نبی صلعم فاقے بھی کرتے تھے روکھی سوکھی بھی کھاتے تھے پیٹ پر پتھر باندھنے کا ذکر بھی آتا ہے۔ کون سنت نبوی کے لئے تیار ہے۔ اپنے کپڑے اور جوتے خود مرمت کرلیتے تھے تمام زندگی عالیشان کپڑے عالیشان مکان اور پر تکلف کھانوں کی خواہش و کوشش نہیں کی۔
    کون سنت نبوی صلعم کے لئے تیّار ہے ۔ اور کون بیویوں کو برابری کے حقوق دینے کا حوصلہ رکھتا ہے ۔ کیا آپ ؟ آپ کو دوسری شادی کا حق حاصل ہے۔ مگر یہ یاد رکھیں کہ یہ حکم ربّی یا حکم نبوی نہیں ہے۔ صرف اجازت ہے۔ اور سنت نبوی بھی۔ صرف یہ سنت کافی نہیں ہے کہ آپ صلعم میٹھا کھاتے تھے۔ تو میں میٹھا کھالوں۔۔ اسے کہتے ہیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو ۔
    ۔تعدد ازواج اختلافی مسئلہ کیوں ہے؟
    جب قرآن نے اجازت دی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے دکھا یا ہے تو پھر اس میں اختلاف کی گنجائش کسیے نکل آئی؟؟ ( یہ جملہ اوپر سے نقل کیا ہے اب جواب درکار ہے۔)

  11. # وحیداخترواحد نے کہا ہے:
    January 18, 2010 بوقت 1:31 pm

    نفسانی خواہش کی تسکین کے لئے، اگر انسان کا مقصد برائی سے بچنا ہے، شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں. کیونکہ شادی کے باق فوائد ساتھ قدرتی طور پر شامل ہوجاتے ہیں.

    سلام وحید صاحب
    بات ویسے بڑی زبردست کی ہے آپ نے. برائی سے بچنا بذات خود اتنا اہم کام ہے کہ ایک سے زائد شادیاں کرنے کے لئے کافی ہے. اور ایک انسان کا برائی سے بچنا صرف اس تک محدود نہیں، بلکہ پورا معاشرہ بچ جاتا ہے.
    کیوں کہ خدانخواستہ اگر کوئی برائی کا ارتکاب کرے تو کئی خاندان اسے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں، رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، معاشرے کا سکون تباہ ہو جاتا ہے

  12. مسئلہ ہے کہ مرغی کا قورمہ بنایا جائے یا مرغ بریانی پکائی جائے ، سب سے پہلی شرط تو مرغی خریدنےیا اسکو پکڑنے کی ہے۔ اگر مرغی موجود ہی نہیں ہے تو پھر اسکے قورمے یا بریانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
    ۔۔۔۔۔
    میرا مشورہ آپ سب مبصروں اور خاص طور پر بلاگ نگار صاحبہ کو یہ ہے کہ عالمی اخبار کے زیر انتظام ایک شعبہ ضرورتِ رشتہ یا شادی کا ادارہ شروع کیا جائے جس کا بنیادی کام دو دلوں کو ملانا اور رشتے جوڑنا ہوگا ۔ اس کے لیے Facebook پروگرام سے امتزاج اور شراکت بھی کی جاسکتی ہے جس میں ان بیاہی لڑکیوں اور بیوہ لڑکیوں اور ان بیاہی لڑکو ں اور چھڑے قسم کے ( بقول ناصر زیدی صاحب : نوجوان بزرگوں اور بزرگ نوجوانوں ) کے اکاونٹ بھی ہیں اور profile ضروری معلومات ( عمر ، تعلیم ، مذہب اور زبان اور دیگر ترجیحات اور ماضی اور حال کی باتیں وغیرہ ) بھی موجود ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔
    اس ادارے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسکے ذریعہ شادی کے دونوں امیدوار ( لڑکی اور لڑکا ) ایک دوسرے سے باالراست یا بالواسطہ مراسلت اور مکالمہ کرکے یہ طئے کرینگے کہ کیا لڑکی کو اپنے شوہر کے علاوہ اپنے اوپر سوکن لانا پسند ہے یا نہیں یا وہ کسی کی پہلی بیوی کی سوکن کی حیثیت سے شادی کرنا چاہتی ہے یا نہیں ۔

    اگر لڑکی کو سوکن بننا منظور ہے تو پھر کسی دوسرے کو اس کی کیا فکر ۔

    شوہر اگر بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں انصا ف کے ساتھ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی پہلی بیوی کی رضامندی حاصل کرے اور آنےوالی دوسری یا تیسری یا چوتھی بیوی کی رضامندی بھی حاصل کرے۔
    مثل مشہور ہے کہ میاں بیوی راضی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
    ۔۔۔۔۔
    بہر حال : میں ضرورت رشتہ کے عالمی اخبار کے زیرِ اہتمام شعبہ کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہوں ۔ ایسا شعبہ اور ادارہ ہر بڑے اخبار میں موجود ہے ( ثبوت کے لیے پاکستا ن کے جنگ اخبار اور ہندوستان کے سیاست اخبار دیکھ سکتے ہیں ) ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔
    اگر اس بلاگ میں ہی اس تجویز پر بحث کی جائے تو بہت ہی اچھی بات ہے ورنہ بلاگ نگار ( سیدہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ ) اس موضوع پر ایک نیا بلاگ کھول سکتی ہیں۔ اگر وہ نہیں تو اور کوئی مبصر جس کو بلاگ لکھنے کی اجازت ہے اس تجویز پر ایک بلاگ شروع کرسکتا ( کرسکتی ) ہے ۔
    اس بلاگ میں سیدہ نادیہ بتو ل بخاری صاحبہ اپنی کلاس کے ا س طالبِ علم سے بھی “ ثواب “ کے کاموں یعنی دوسرے اور تیسری اور چوتھی شادی کے جواز پوچھ سکتی ہیں ، جس نے اس موضوع پر بحث شروع کی تھی ۔
    ۔۔۔۔
    مگر یہ بھی معلوم کرنا ضروری ہے کہ عالمی اخبا ر کی انتظامیہ اس تجویز سے اتفاق بھی کرتی ہے یا نہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    میرے مشورے کا اصل مقصد سیدہ نادیہ بتول بخاری ( اگر وہ اب تک غیر شادی شدہ ہیں ) تو انکی شادی میں شرکت کرنا ہے ۔ اور نہ صرف انکی بلکہ ہر اس ان بیاہی خاتون اور بیوہ مبصر کی متوقع شادی میں شریک ہونا ہے جواس بلاگ میں تبصر ے کررہی ہیں ۔ ہاں اگر ان خواتین کی شادی عالمی اخبار ہی کے کسی کنوارے بلاگ نگار یا کنوارے مبصر سے ہو تو سونے پر سہاگے کی کیفیت پیدا ہوجائےگی ۔ ایسے جوڑے تو آسمان میں بنتے ہیں۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی کے ایک گاوں سے

  13. علی کی بات کو ٹھنڈے دماغ سے سو چیں تو بہت خو بصورت پیغام ملتا ھے کہ ھما ر ے وہ نوجوان جو با ہر جا کر محض نیشنیلیٹی حاصل کرنے کی خا طر شا دی کر لیتے ھیں اور ا پنی لالچ کو ثواب کا رنگ دیتے ہیں اور پا کستان میں ان کی منگیتر ان کے انتظا ر میں بو ڑھی ہو جا تی ھیں۔۔۔۔۔بجا ئے کہ آپ دو سرو ں کو نا م نہاد مسلمان کر یں پہلے گھر کی لڑکیوں کو ترجیح دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظفرجعفری صا حب آ پ نے یقینآ درست فر ما یا سنتِ نبی اور سنّت علی یہ ہے کہ پہلی بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کی جائے۔
    لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہا ان کی بیویاں تھی کون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ اتنا اھم ھوتا تو امام حسین (ع) پہلی کی مو جو دگی میں دوسری نہ کرتے

  14. حضور اکرم صلہی علیہ وسلم نے صرف حضرت خدیجہ کی زندگی میں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت بی بی فاطمہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی تھی .. باقی حضور اکرم کی حضرت عائیشہ سے شادی کے وقت بھی کئی اور ازواج تھیں ( مجھے صحیح کیجئے گا اگر غلط ہوں . پلیز) ..
    نادیہ نے بات آج کل کے دور کے پس منظر میں کی ہے .. مغربی ممالک میں ننانوے فیصد لڑکے صرف نیشیلٹی کے لئے غیر مسلمان لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہیں اور مطلب حاصل ہونے پر انہیں اور ان کے بچوں کو جو نیشیلٹی کے بعد ان کے نہیں رہتے چھوڑ کر اپنی مینگیتر ہی سے شادی کرتے ہیں . کبھی کبھی تو یہ مینگیتر بھی اسی سازش میں ملوث ہوتی ہے .. صاحبو پھر شادی کے بعد وہ مینگتر جو بقول ان کے مسلمان ہوتی ہے مغربی ملک آتے ہی خود اس غیر مسلمان لڑکی سے زیادہ آزاد اور بے پردہ باہر گھومتی ہے …. پھر ایسے آدمیوں کا اسلام “نیشلیٹی ” کے بوجھ میں دب جاتا ہے ..

    میرے پاس ہر میہنے ایسے کئی کیس آتے ہیں .. میں تو انہیں یہی کہتی ہوں کہ ان جھوٹے اسلام کے داعیوں کو جیل بھجوا دو .. رپورٹ میں لکھونگی .. اس لیئے کہ اسلام 4 شادیوں پر نہ تو شروع ہوتا ہے اور نہ وہاں ختم …. ان کا یہ مجرمانہ اخلاق تو اسلام کی بدنامی ہے .. خواہشات ہی کو لگام دینا تو تقوی ہے … اپنے چادر میں رہناقناعت ہے .. . اپنی قیود و حدود کا تعین کرنا ادب ہے اور حسن سلوک کرنا اسلام کی اساس ہے … اگر یہ سب ہے تو ایک وقت میں 4 شادیاں ضرور کیجئے.. بلکہ اس میں اگر ایک بیوی مر جائے یا بے شک اسے طلاق دے دیجیئے اور اس کی خانہ پری کے لیئے ایک اور کر لیجیئے .. اور مساوات کی تلوار پر اگر لٹک سکتے ہیں تو حرم بھی بھر لیجئے … کوئی عورت انکار نہیں کرے گی ….

    لیکن اسلام کے نام پر شادی کو کاروبار اور عیاشی کا سامان سمجھنے والے ہر مرد کا نصیب دنیا میں بھی اور روز محشر بھی صرف زلت اور رسوائی ہے .

  15. یہ کیا ضروری ہے کہ میں ہر بحث میں حصہ لوں.بس آپ لوگوں کو پڑھ رہا ہوں اور مفت میں علم حاصل کر رہا ہوں. سب خوش رہیں اور اپنی اپنی فکر کو عام کرتے رہیں.

  16. منظور قاضی صا حب کا مشورہ بہت مزے کا ھے اگر میں اجازت حاصل کر بھی لو ں تو سن کر ھنسیں گے کہ پھلے اپنی تو کر والو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا
    امین صا حب آپ کی با ت بجا ھے لیکن اللہ نے چار کی اجازت کسی مصلحت کے تحت ھی دی ھو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مصلحت کیا ھے مھربانی فرما کر روشنی ڈالیئے۔۔۔۔۔۔۔۔
    نگھت نسیم صا حبہ بہت خوب آپ نے بالکل درست کہا خواتین تو بے حجاب ھوتی ھیں ھی اور اولاد بھی بے قابو ھو جاتی ہے۔۔۔۔
    صفدر ھمٰدانی صاحب ہمیں کیسے پتا چلے گا ھماری بحث کس نہج پر پہنچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  17. نادیہ بتول بخاری،

    آپ کی تحریر نے بالحقیقت ایک ہی وقت میں کئ ایک موضوعات کو ایک ساتھ اکٹھے چھیڑ دیا ہے۔ اس طرح آپ کی پختہ تحریر کا ثبوت ملتا ہے کہ آپ نے مختصر الفاظ میں کتنے بڑے بڑے مسلوں کو آسان کرکے بیان کردیا ہے۔
    تحریر مختصر ہونے کے ساتھ اپنے اندر بہت سارے مفہوم رکھتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ شادی کرنے کا مقصد اگر محض ثواب ہے تو یہ تصور اپنے میں کتنا حسن رکھتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس سارے کے پیچھے کیا کیا مقاصد روپوش ہوتے ہیں۔ تعداد ازواج میں بات ایک دو یا چار کی نہیں یہ تو معاشرے کی بنیادی ہیئت کی بنا پر ہے جو بنیادی اقادار کی حدودو قیود کو متعین کرتی ہے۔ دو چار کا سوال زیادہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن بنیادی مسلہ یہ ہے کہ ہم مذہب نام پر کتنے ہی کاموں کو ثواب کا نام دے کر ان کو بجا قرار دلوانے پر دلائل دینا شروع کر دیتے ہیں۔
    شادیوں کی تعداد پر بحث کرنے کے لیے مذہب کی طرف رجوع کرنے سے قبل اپنی معاشرتی روایات کو ترجیح دینا ضروری ہے اگر ہم ایسا کریں گے تو پھر ہی ہم کو مذہب کی ٹھیک طرح تاویل سمجھ میں آپائے گی۔ وگرنہ تو پھر یونہی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھریں گے اور کچھ ہاتھ نہں آپائے گا۔ اور جہاں تک آج کی سوسائٹی کے مروجہ اصولوں کو دیکھو تو ایک شادی کے ہوتے ہوئے جب دوسری شادی کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ پہلی بیوی کو ایک لحاظ سے یا ایک پہلو میں طلاق دے رہے ہیں۔ اور آپ اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنا درد ناک تصور ہے۔ جب کہ زمانہ کے ایک خاص دورانیہ اور کچھ جغرافیائی معاشروں میں ایک سے زائد شادیوں کو زیادہ قبیح نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔بہرحال اس کی بنیاد خالصتاً معاشرتی قدروں پر رکھی جاتی ہے۔
    باقی رہی امت محمدیہ کے لڑکوں کی بات تو یہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے کیوں کہ کنوارے کنواریوں کے حقوق کا تحفظ وہ کردگار خود بڑے اچھے انداز میں کر سکتا ہے۔

  18. قرآن مجید میں شادی کی ترغیب پر مبنی آیت کریمہ

    فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ (النساء، 4 : 3)
    ترجمہ:
    تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں۔
    ”قرآن مجید میں چار تک شادیاں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی تعداد کو محدود کرنا اور پھر اس طرح مزید محدود یہ کہہ کر قرآن مجید میں کردیا گیا کہ عدل کرو۔ میرے خیال میں سب سے پہلے عدل شرط ہے“
    ارشاد الٰہی:”پس نکاح کرو دو دو، تین تین اور چار چاراور اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی نکاح کرو“ ۔

  19. جی بہت شکریہ صفدر ھمٰدانی صاحب آپ نے اللہ پاک کے کلام سے اس بلاگ کو رو نق بخشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایک سے زائد شادیوں کے معاملے کو بھی واضح کیا لیکن میں نے بلاگ میں جس بے حسی کو بیان کیا گیا اس پر کسی نے غور نہیں کیا کہ جب پتا ھے کہ خا ندان میں بیٹیاں ہیں تو انہیں کیوں رد کیا جا ئے کیا ہم اس حد تک بے حس ھو چکے ھیں

  20. کیا کوئ مسلمان یہ پسند کریگا کہ اسکے داماد یا بہنوئ کی ایک سے زیادہ بیوی ہو۔

  21. السلام علیکم
    محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ ، آپ کی بات یقینا غور طلب ہے اور میں منے اپنے پہلے تبصرے میں بھی لکھا تھا کہ !
    عموما آجکل ڈاکٹر حضرات کزنز میرج کے خلاف ہیں اور بہت سے لوگ اِسی وجہ سے بھی خاندان سے باہر رشتے کرنے لگے ہیں مگر میں خود اِس بات کا قائل ہوں کہ خاندان میں ( اگر کوئی ہمعمر اور مناسب ) لڑکا یا لڑکی کنوارے ہوں ۔
    ہمارے خاندان میں ہمیشہ سے قریبی رشتے داروں میں شادی کا رواج رہا ہے خود میرے امی ابو آپس میں چچا ذاد بھی ہیں اور خالہ ذاد بھی ، ہمارے خاندان میں آج تک بچوں میں کسی قسم کی کوئی بیماری پیدا نہیں ہوئی سب بچے الحمد اللہ نارمل ہوتے ہیں جو یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ خاندان میں شادی کرنے سے کوئی بھی طبی مسئلہ نہیں ہوتا جیسا کہ عموما ڈاکٹرز کا خیال ہے اور جو کہ میں سمجھتا ہوں محض ایک مفروضہ ہی ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  22. نادیہ شہزادی۔ بچی میں نے اپنے کسی کالم میں لکھا تھا کہ ہمیں غیر مسلوں کو مسلمان بنانے کا بہت شوق ہے لیکن خود مسلمان بننے کی کوشش نہیں کرتے۔
    دیکھیں یہ جو خاندان میں شادیاں کرنے کا مسلہ ہے اس سے قرآن نے تو کہیں منع نہیں کیا۔ کیایہ ممکن ہے کہ اگر اس عمل سے کوئی نسل نسل در قباحت پیدا ہونے کا احتمال ہوتا تو قرآن اس سے منع نہ کرتا۔ اور یہ جو توجیہات ہیں بیماریوں والی تو عرض کرؤں کہ ایسی چیزوں کا احتمال صرف اییک فیصد کے قریب ہے اور یہ ہے جینیات کا مسلہ۔ اب یہ بھی نگاہ میں رکھیں کہ جینیات کی منتقلی فقط بیماریوں تک تو نہیں ہے۔ انہی جینیات سے خاندانوں کے وہ وصف بھی تو منتقل ہوتے ہیں جن کے بنا پر ایک خاندان دوسرے خاندان سے علم و فضل،حکمت و دانائی اور اہلیت و صلاحیت کی بنیاد پر منفرد اور یکتا ٹھہرتے ہیں۔

    دراصل ہماری کوتاہ نظری ہے کہ ہم سماجی اور روایات سے پیدا ہونے والے مسائل کا ذمیدار بھی دین کو قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک بڑی تعداد میں نظریات اور روایات غیر منقسم بھارت میں رہنے کی وجہ سے ہندو مت سے بھی آئے ہیں اور نسل در نسل خاندانوں نے انہیں قبول بھی کیا ہے۔ خاندان میں شادی نہ کرنے کی ہوا بھی اسی طرف سے آئی ہوئی ہے جبکہ اب کئی برس سے ہندو خود اپنے خاندانوں میں شادیاں کرتے ہیں۔

    رسول اسلام (ص) نے ایک دن منبر سے اعلان فرمایامسلمانو!تمہاری لڑکیاں درختوں پر پکے ہوئے میوے کیطرح ہیں اگرانکو بروقت توڑانہ گیا (یعنی لڑکیوں کی شادی نہ کی گئی) توآفتاب کی حرارت اورفضائی عوامل اسے تباہ وبرباد کردینگے اسی طرح لڑکیوں کی فطری خواہش کو پورا نہ کیا گیا اور ان کی بروقت شادی نہ کی گئی تو ان کے فاسدہونے کا خطرہ ہے۔(وسائل باب 22 )

    امام محمد باقر (ع) کے صحابی “علی بن اسباط “نے حضرت کوایک خط لکھا اس میں تحریر کیا : مناسب ومعقول لڑکے ہماری لڑکیوں کے لئےنہیں ملتے اب بتائے ہم کیا کر یں ؟ حضرت نے جواب دیا ہر لحاظ سے مناسب جوان کاانتظارمت کرو کیونکہ رسول اکرم(ص)نے فرمایا: اگرایسے جوان تمہاری لڑکیوں کی خواستگاری کریں جو مذہبی واخلاقی لحاظ سے تم کوپسندہوں تواپنی لڑکیوں کی شادی کردواسکے علاوہ صورت میں اپنے لڑکے اورلڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر نہ کرؤ ۔(وسائل باب 27)

    قرآن میں ارشاد ہے خدا کے وجود کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی نوع سے تمہارے لۓ بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام حاصل کرو اور تمہارے درمیان مہر و محبت قرار دی اور جو لوگ اس محبت و دوستی میں غورو فکر کریں گے ان کے لئے بہت سی نشانیاں اس میں موجود ہيں ۔(سورہ روم 21)

  23. # صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    January 19, 2010 بوقت 1:05 am

    قرآن مجید میں شادی کی ترغیب پر مبنی آیت کریمہ

    فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ (النساء، 4 : 3)
    ترجمہ:
    تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں۔
    ”قرآن مجید میں چار تک شادیاں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی تعداد کو محدود کرنا اور پھر اس طرح مزید محدود یہ کہہ کر قرآن مجید میں کردیا گیا کہ عدل کرو۔ میرے خیال میں سب سے پہلے عدل شرط ہے“
    ارشاد الٰہی:”پس نکاح کرو دو دو، تین تین اور چار چاراور اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی نکاح کرو“ ۔

    کثرت ازدواج میں عدل تو بنیادی شرط ہے اور عدل نہ کرنے پر سخت وعید ہے. اس لئے فرمایا کہ اگر عدل نہ کر سکو تو ایک ہی کرو.

    لیکن اگر کوئی عدل کر سکتا ہےتو؟
    کیا اس صورت میں کم از دو کا پتہ نہیں چلتا؟؟ اس آیت سے کیوں کہ عدل نہ کرنے کی صورت میں ایک تک محدود آخر میں کیا گیا ہے
    جبکہ بصورت دیگر شروعات ہی دو سے کی ہے. ‘ارشاد الٰہی:”پس نکاح کرو دو دو، تین تین اور چار چاراور اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی نکاح کرو“ ۔

    اس حوالے سے بھی اگر روشنی ڈالی جائے تو بہتر ہو گا

  24. # ظفرجعفری نے کہا ہے:
    January 19, 2010 بوقت 4:57 am

    کیا کوئ مسلمان یہ پسند کریگا کہ اسکے داماد یا بہنوئ کی ایک سے زیادہ بیوی ہو۔

    قرآن کا حکم اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے……… اسوہ حسنہ ہے.
    اگر عدل کے ساتھ کسی کا داماد یا بہنوئی ایک سے زائد بیوی رکھتا ہے اور کسی مسلمان کو یہ عمل پسند نہیں تو اسے اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیئے.
    یہ سوائے ایمان کی کمزوری کے اور کچھ نہیں

  25. # نا دیہ بتول بخاری نے کہا ہے:
    January 19, 2010 بوقت 2:27 am

    جی بہت شکریہ صفدر ھمٰدانی صاحب آپ نے اللہ پاک کے کلام سے اس بلاگ کو رو نق بخشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایک سے زائد شادیوں کے معاملے کو بھی واضح کیا لیکن میں نے بلاگ میں جس بے حسی کو بیان کیا گیا اس پر کسی نے غور نہیں کیا کہ جب پتا ھے کہ خا ندان میں بیٹیاں ہیں تو انہیں کیوں رد کیا جا ئے کیا ہم اس حد تک بے حس ھو چکے ھیں

    سلام نادیہ بتول صاحبہ
    ویسے میرے خیال میں خاندان کی لڑکیوں کو چھوڑ کر باہر شادی کرنا کوئی بے حسی کے زمرے میں نہیں آتا ……. اگر مسئلہ ہے نیشنیلٹی والا، جو کہ فراڈ ہے پھر تو سوچا جا سکتا ہے
    لیکن ویسے خاندان کی لڑکیوں کو چھوڑ کر باہر جانا بے حسی نہیں ….. پسند نا پسند کو بھی بڑا دخل ہے اس معاملے میں.
    میں خود چونکہ ابھی آزاد ہوں اس لئے شاید میری رائے میں وزن نہ ہو لیکن یہ میرا خیال ہے.
    آپ کا کیا خیال ہے؟

  26. راجہ اکرام صاحب نے باتوں باتوں میں نادیہ بتول بخاری سے کہدیا کہ وہ ابھی آزاد ہیں۔

    اگر عالمی اخبار کی انتظامیہ اس بات کی اجازت دے کہ ضرورتِ رشتہ کا شعبہ اس اخبار میں قائم ہوجائے اور اگر آپ
    اس شعبہ کے پاس آئیں اور اگر وہ شعبہ آپ سے یہ سوالات پوچھے تو آپ کیا جوابات دینگے؟

    1۔ وہ اپنی مرضی کی لڑکی سے شادی کرینگے یا “ ماں باپ کی منتخبہ لڑکی سے؟
    2۔ وہ کینیڈا یا امریکہ یا یورپ کی لڑکی سے شادی کرینگے؟ یا کسی پاکستانی لڑکی سے شادی کرینگے؟
    3۔ کیا وہ کنواری لڑکی سے شادی کرینگے یا بیوہ سے شادی کرینگے۔ ؟
    4۔ وہ اپنے سے کم عمر کی لڑکی سے شادی کرینگے یا بڑی عمر کی عورت سے ؟
    5۔ کیا پنجابی لڑکی سے ہی شادی کرینگے ، یا اردو بولنے والی لڑکی سے یا سندھی یا پشتو بولنےوالی لڑکی سے یا پھر کسی اور زبان بولنے والی لڑکی سے ؟
    6۔وہ کس مسلک کی لڑکی سے شادی کرینگے ؟
    7۔ کیا اپنے سے امیر تر لڑکی سے شادی کرینگے یا غریب تر لڑکی سے ؟
    8۔ کیا وہ اپنے سے زیادہ تعلیم یافتہ لڑکی سے شادی کرینگے یا اپنے سے زیادہ جاہل لڑکی سے شادی کرینگے؟
    9۔ کیا وہ قبول صورت لڑکی سے شادی کرینگے یا بد صورت لڑکی سے جس کے چہرہ کو اسکے دل جلے عاشق نے تیزاب سے مسخ کردیا ؟
    10۔ کیا وہ اپنے پیروں پر آ پ کھڑے ہوکر اور اپنا مکان خرید کر یا بنوا کر شادی کرینگے یا پھر کسی کرایے کے مکان میں یا اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں اپنی دلہن کو بلا کر رہینگے؟
    11۔ انکو اپنی سسرال سے کس قسم کا جہیز چاہیے ؟ اور اس جہیز میں کس ماڈل اور برانڈ کی کار چاہیے؟ ( جاپانی کار چاہیے یا جرمن کار چاہیے یا امریکی کا ر چاہیے؟ )
    12۔ آپ کی ہونے والی سسرال اگر آپ کو پی ایچ ڈی یا میڈیکل ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے آپ کو مالی مدد دے تو آپ قبول کرینگے یا نہیں؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فی الوقت ان سوالات کے جوابات آپ اس بلاگ میں نہ دیں اس لیےکہ یہ بلاگ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا ہے اور وہ شائد اس دخل در معقولات پر ناراض ہوجائنگی ۔
    جب ضرورت رشتہ کا یہ شعبہ عالمی اخبار میں پوری طرح کام کرنے لگے تو پھر ان سوالات کے جوابات دینے کے لیےتیار رہیے ( بشرطیکہ اس وقت تک آ پ “ آزاد“ ہوں اور آپ میں شادی کرنے کی خوا ہش موجود ہو )
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  27. یہاں کچھ لوگوں نے خاندان میں شادیکی وجوہات بیان کرتے ہوئے کچھ زیادہ ہی جذباتی انداز اختیار کر لیا ہے. اب اگر سنت رسول کو دیکھا جائے تو ایسا کوئ واقعہ ان سے منسوب نہیں کہ خاندان میں شادی کی جائے. جہاں تک خاندان میں شادی اور بیماریوں کا تعلق ہے میں اپنی اب تک کی زندگی میں تین ایسے خاندان دیکھ چکی ہوں. ایک اندرون سندھ میں ایک گاءوں جہاںایک خاندان کے دس بچوں میں چار کے ساتھ یہ مسئلہ تھا کہ یا تو انکی آنکھوں کی روشنی نہیں تھی یا وہ گونگے بہرے تھے. میرے گھر میں صفائ کے لئے آنیوالی ماسی کی کے چھ بچے ہیں اور ان میں سے ہر بچے کے بچوں میں ایک ایبنارمل بچہ موجود ہے. ایک تین مہینے کے بچے کا حال ہی میں انتقال ہوا اسکے دل کا والو پیدائشی خراب تھا. میرا ایک کولیگ انکے یہاں بھی شادی خاندان سے باہر نہیں ہو سکتی تھی اور انکی بہن کے تین بچوں میں سے ہر ایک کو ایک ایسا جلدی مرض لاحق تھا جسکا کوئ مستقل علاج نہ تھا. اسکی ایک اور مثال تھیلیسمیا کا مرض ہے جو خااندان میں شادی کے نتیجے میں ہوتا ہے. ایران میں تو اسکو کنٹرول کرنے کے لئے اب شادی کے خواہشمند لوگوں کو ایک ٹیسٹ بھی کروانا پڑتا ہے. یہ ایک اخباری اطلاع ہے. بیالوجی کی دنیا میں ایک ہی کالونی میں میٹنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولادوں میں کمزوریاں بڑھتی جاتی ہیں.مغربی معاشرے میں ک کزنز کی شادیاں اتنی ہی بری تصور کیجاتی ہیں جتنی کہ سگے بہن بھائیوں کی شادیاں. خود جنوبی ایشیا میں ہندئووں کے یہان ایک خاندان میں بلکہ ایک گائووں میں شادی کا رواج نہ تھا.
    قرآن پاک میں بھی اس سلسلے میں کوئ تاکید نہیں کی گئ. بلکہ غیر خاندانوں میں شادی کرنے سے ایکدوسرے کے دلوں میں زیادہ نرمی پیدا ہوتی ہے. دوسرے لوگوں کو جاننے کا موقع ملتا ہے اور یہ چیز اسلامی روح سے زیادہ قریب ہے. کیونکہ اس طرح کی خاندانی شادیوں کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جو بھی ان خاندانون کی رسومات چلی آرہی ہوتی ہیں وہ اس میں زیادہ پختہ ہوتے جاتے ہیں. اور وہ اپنے خاندان کے اندر زیادہ سمٹتے جاتے ہیں. ذات رنگ، نسل پہ تکبر اسی صورت جنم لیتا ہے.
    شادی کے مسئلے کا دیر پا حل خاندان میں شادی نہیں ہے. اسکا حل ذات پات، رنگ نسل اور سماجی حیثیت کے حلقوں کو توڑنے میں ہے.اسلام کا بنیادی پیغام تو یہی تھا. مگر اسے دوبارہ انہی چیزوں میں کچھ اور حوالوں سے جوڑ دیا گیا.

  28. اگر ہم اجتہاد نہیں کریں گے اور قرآن کے بارہ سو سال پرانے interpretations کو اپنا مسلک بنائے رکھیں گے تو نہ ہماری خودی بلند ہوگی نہ ہم کبھی وقت کے ساتھ چل پائیں گے نہ دوسری اقوام کا مقابلہ کرپائیں گے۔ قرآن شریف میں ہے کہ تم جتنا علم حاصل کروگےاُتنے ہی میرے عقدے تم پر کھلتے چلے جائیں۔ خودی علم سے آگے بڑھتی ہے اور ایک وقت وہ آتا ہے کہ خذا خود بھی بندہ کے علم پر مرحبا کہتا ہے۔

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    اسلام سے پہلے لوگ لاتعداد شادیاں کرتےتھے۔ حضرت داؤد حضرت سلیمان کی درجنوں بیویاں تھیں۔ جیسے جانوروں کی ٹولی میں ایک نر اور باقی مادہ ہوتی ہیں۔ یہی حال انسان کا تھا۔ اس ہی وجہ سے دختر کشی عام تھی۔ اسلام نے اُن حالات میں آکر چار بیویوں کی limit لگادی۔ اور ایک سے زیادہ بیویاں بھی مجبوری کی حالت میں کرسکتے ہیں۔

    صرف اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کیلئے پہلی بیوی کے ساتھ نا انصافی کرتے ہوئے دوسری شادی کرنا ایک بیماری ہے جسکے لئے دوسری بیوی کی نہیں ماہرِ نفسیات سے علاج کی ضرورت ہے۔ اگر آب دوسری شادی کے خواہاں ہیں تو کسی مجتہد سے مشورہ کریں۔ میرا دعویٰٰٰٰٰ ہے کہ مجتہد بغیر مناسب جواز کے آپ کو اجازت نہیں دیں گے۔

    جہاں تک پہلے کزن سے شادی کا تعلق ہے تو اسکی اجازت عیسائ اور یہود مزہب میں بھی ہے اور ان مذاہب میں بھی 60-70 سال پہلے کزن سے شادی ہوا کرتی تھی۔ یہ لوگ سائنس میں اسوقت مسلمانوں سے بہت آگے ہیں۔ انہوں نے سائنسی تحقیق کے بعد پہلے کزن کی شادی کو منع کیا ہے۔ سائنس کی اس بات سے چرچ اور سناگاگ نے بھی اتفاق کیا ہے اور شاید 50-100 سال بعد ہمارے مجتہد بھی اتفاق کرلیں۔ ہمارے علماء نے شروع میں مائکروفون پر اذان کو شیطانی آواز کہکر مسترد کردیا تھا۔ آج اسکی اجازت ہے۔ مسلمان سالہا سال سے Electronic Moon کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ اب میرے شہر سمیت بہت سے شہروں میں عید Electronic Moon کے مطابق ہوتی ہے۔ اس ہی طرح آہستہ آہستہ پہلے کزن کی شادیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ پارسی قوم آپس میں شادیوں کی وجہ سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ آج کے مسلمان میں بنسپت دسری قوموں کے ذہانت اور تعلیم کم ہے۔ اسکی ایک وجہ آپس کی شادیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ میرا لکھنے کو بہت دل چاہ رہا ہے لیکن انگلیاں تھک چکی ہیں۔

  29. عنیقہ ناز صاحبہ نے انتہائی مدلل تبصرہ لکھا ۔ جزاک اللہ
    میں انکی ہر بات سے متفق ہوں ۔ خاص طور پر اس با ت سےکہ:
    “ شادی کے مسئلے کا دیر پا حل خاندان میں شادی نہیں ہے. اسکا حل ذات پات، رنگ نسل اور سماجی حیثیت کے حلقوں کو توڑنے میں ہے“
    یہی نظریہ میری زندگی کا تجربہ بھی ہے۔۔

  30. ماشاء اللہ، بلاگ بہت خوب چل رہا ہے

    مجھے بہت خوشی ہے کہ یہاں بہن عنیقہ ناز صاحبہ اور بھائی سخَاوت علی ساقی صاحب جیسے لکھنے والے نئے ساتھی بھی ہمیں اپنی تحریروں سے مستفید فرما رہے ہیں ، خوش آمدید –

    مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ سب اپنے اپنے خیالات کا اظہار کھل کر کررہے ہیں، اور دوسرے کی رائے کا احترام بھی موجود ہے –

    محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ کا موضوع یہ تھا کہ مسلمان لڑکے اگر باہر(غیر مسلم لڑکیعوں سے) شادیاں کریں گے (جن کی ان کو اجازت ہے) تو مسلمان لڑکیوں کا کیا بنے گا ؟؟ (مسلمان لڑکی صرف مسلمان ہی سے شادی کر سکتی ہے)- کزنز کے ساتھ شادی والا موضوع دورانِ بحث نکل آیا – نادیہ بہن نے مسلمان لڑکوں کی چار شادیوں کی اجازت رکھنے کے باوجود مسلمان لڑکیوں کی طرف لاپرواہی برتنے کی طرف اشارہ کیا ہے –

    یہ ایک حقیقت ہے ہمارے مرد حضرات واقعی اس نکتہ پر غور نہیں کرتے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ذاتی نہیں اور اس کے اثرات بھی فوری طور پر نظر نہیں آتے اس لیے ہم اس طرف دھیان نہیں کرتے، لیکن اگر اپنی بہن، بیٹی کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں تو یقیناً اس معاملہ کو توجہ طلب پائیں گے اور اس کا حل یقیناً وہی نظر آئے گا جو شروع ہی میں بہن نادیہ نے بیان کیا ہے –

  31. ظفرجعفری نے کہا ہے:
    January 19, 2010 بوقت 8:01 pm

    اگر ہم اجتہاد نہیں کریں گے اور قرآن کے بارہ سو سال پرانے interpretations کو اپنا مسلک بنائے رکھیں گے تو نہ ہماری خودی بلند ہوگی نہ ہم کبھی وقت کے ساتھ چل پائیں گے نہ دوسری اقوام کا مقابلہ کرپائیں گے

    اسلام سے پہلے لوگ لاتعداد شادیاں کرتےتھے۔ حضرت داؤد حضرت سلیمان کی درجنوں بیویاں تھیں۔ جیسے جانوروں کی ٹولی میں ایک نر اور باقی مادہ ہوتی ہیں۔ یہی حال انسان کا تھا۔ اس ہی وجہ سے دختر کشی عام تھی۔ اسلام نے اُن حالات میں آکر چار بیویوں کی limit لگادی۔ اور ایک سے زیادہ بیویاں بھی مجبوری کی حالت میں کرسکتے ہیں۔

    سلام ظفر جعفری صاحب
    ابتداء تو آپ نے بہت بہترین کی تھی لیکن ایک جملہ مجھے کھٹکا اس لئے استفسار کر رہا ہوں
    آپ نے کہا کہ [QUOTE] اسلام نے اُن حالات میں آکر چار بیویوں کی limit لگادی۔ اور ایک سے زیادہ بیویاں بھی مجبوری کی حالت میں کرسکتے ہیں۔ [/QUOTE]

    کیا اس حوالے سے آپ دلائل کی روشنی میں یہ بتا سکتے ہیں کہ کیوں ایک سے زیادہ بیویاں مجبوری کی حالت میں کر سکتے ہیں ویسے نہیں.
    حالانکہ قرآن کریم میں تو ایسی کسی مجبوری کا ذکر مجھے سمجھ نہیں آیا.
    بلکہ قرآن کریم نے تو ابتدا ہی دو دو اور تین تین سے کی ہے………… چار کی حد مقرر کرنے کے بعد پھر کہا گیا کہ اگر آپ عدل کرنے سے اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں تو پھر ایک ہی کر لیں.
    میری سمجھ تو یہ بنی ہے اس آیت سے. آپ کی رائے کا انتظار رہے گا

    و السلام
    راجہ اکرام

  32. سلام مسنون جناب ظفر جعفری صاحب
    کزن میرج کا مسئلہ حلت و حرمت کا نہیں ہے. بلکہ احتیاط کا ہے. اس کا تعلق مذہبی تعلیمات سے نہیں سائنسی تحقیق سے ہے. اگرچہ بعض ایسے شواہد بھی ہوں جو کہ نادر ہیں کہ کزن میرج سے نقصانات ہوتے ہیں تب بھی علماء کرام اس سے منع نہیں کر سکتے.
    اس میں مجتہدین کو سمجھ آنے والی بات اور اس بات کا مائکرو فون سے تعلق؟؟؟

  33. سرکار خانم نادیہ
    باسلام
    میں دعا گو هوں که ہر مسلمان خاص کر ہمارے معاشرے میں آپ کی طرح سوچنا شروع کردیں تو کوئی مسلمان بهی بچی کی ولادت کے موقع پر پریشان نهیں ہوگا۔
    سید اختر حسین یاسر

  34. بھائی سید اختر حسین یاسر! السلام علیکم و
    ـ : × خوش آمدید × : ـ

    (لیکن صرف اسی لیے نہیں کہ میں بھی آپ کا ہم خیال ہوں)

  35. سلام مسنون راجہ اکرام صاحب
    ٰٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰکزن میرج کا مسئلہ حلت و حرمت کا نہیں ہے. بلکہ احتیاط کا ہے. اس کا تعلق مذہبی تعلیمات سے نہیں سائنسی تحقیق سے ہے. اگرچہ بعض ایسے شواہد بھی ہوں جو کہ نادر ہیں کہ کزن میرج سے نقصانات ہوتے ہیں تب بھی علماء کرام اس سے منع نہیں کر سکتے.
    اس میں مجتہدین کو سمجھ آنے والی بات اور اس بات کا مائکرو فون سے تعلق؟؟؟ٰٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰ

    جب تک علماء کی سمجھ میں مائکروفون ٹیکنالجی نہیں آئ وہ اسے شیطانی آواز کہکر اذان کیلئے مسترد کرتے رہے۔ آج مولوی بغیر مائکروفون تقریر کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ جب تک solar technology ہماری سمجھ میں نہیں آئ ہم چاند کی پیشین گوئ مسترد کرتے رہے۔ اب بہت سے شہروں میں عید کا فیصلہ شروع رمضان ہی میں کرلیا جاتا ہے کہ کہ رمضان 29 دن کا ہوگا یا 30 دن کا اور یہ رجہان بڑھ رہا ہے۔ اس ہی طرح جیسے جیسے پہلے کزن کی شادی کے risk پتہ چلتے جائیں گے آپس کی شادیاں کم ہوتی چلی جائیں گی ۔ عیسائ اور یہودیوں میں یہ شادیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔ میرے بھائ اور ایسے میرے کئ دوست ہیں جنکی شادی پہلے کزن سے انکی اپنی پسند سے ہوئ۔ لیکن بچے ہونے کے بعد یہی لوگ اب اس غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔

    جہاں تک ایک سے زیادہ شادیوں کا تعلق ہے تو انکی اجازت اُس ہی شخص کو ہے جو عدل کرسکتا ہو۔ نبی اور اماموں کی بات اور ہے۔ لیکن مجھے اپنی 66 سالہ زندگی میں کوئ ایسا شخص نہیں ملا جسے میں عادل کہ سکوں۔ عادل ہونا تو بہت بلند مقام ہے اُس سے پہلے ایمان کا ہونا ہے۔ امام جعفر صادق سے منسوب ایک حدیث ہے

    ٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰ اگر کسی کا ایمان پرکھنا ہے تو اس کی عبادت نہیں اُسکا لین دین دیکھو ٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰ

    اگر مسلمانوں میں ایمان والے اس اعتبار سے مٹھی برابر ہیں تو عادل کتنے ہونگے۔ اور بیویوں کے معاملہ میں عدل کرنا اور بھی مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔ البتہ بعض مجبوریاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں دوسری شادی کرنی پڑتی ہے۔ اسلام میں طلاق کی اجازت ہے لیکن خدا کو یہ عمل نا پسند ہے۔ اس ہی طرح چار شادیوں کی اجازت ہے لیکن شرط ہے عدل جو سوائے نبی یا امام یا اولیاء کسی اور کیلئے تقریباً ناممکن ہے۔

  36. جناب ظفر جعفری صاحب !
    کم از کم یہ تو پتہ چلا کہہ آپ ہمارے بڑے بھائی اور انکل ہونے کی سرحد پر ہیں،
    چلیے بنی اکرم (ص) کی اس حدیث کے حوالے سے کہ مؤمن مؤمن کا بھائی ہوتا ہے . . .
    . . . ہم آپ کو بڑا بھائی ہی کہیں گے-

    خضوع و خشوع نماز میں ضروری ہے، اگر نمازی کا دھیان کہیں اور ہے تو اس کی ایسی نماز یقیناً مقبول نہ ہوگی، وہ نمازی کوشش تو بہت کرتا ہے خضوع و خشوع کی لیکن کامیابی ابھی دور ہے، دھیان بٹا رہتا ہے، تو کیا اس وجہ سے وہ نماز پڑھنا چھوڑ دے ؟؟ مطلب یہ ہے کہ ہمارا کام حکم کی تعمیل میں ہر ممکن کوشش کرنا ہے، لیکن کیوں کہ ہم کمزور ہیں خطاؤں کے پتلے ہیں اس لیے نتائج کی بجائے اللہ تعالٰی ہماری کوششیں دیکھے گا کہ تعمیلِ حکم کی خواہش کس حد تک تھی، اس سلسلہ میں کتنی توانائی، مال، وقت اور اعصاب وغیرہ خرچ کیے یعنی کوششیں کس قدر تھیں، اسی طرح . . .

    جب کوئی دوسری اور پھر تیسری شادی کرتا ہے تو یقیناً عدل کرنے کا ارداہ رکھتے ہوئے اور کوششں کرتے ہوئے، نتائج خواہ صد در صد نہ بھی ہوں، یعنی یہاں بھی معاملہ نیت ہی پر انحصار کرتا ہے (جیسا کہ اوپریہ نکتہ تحریر بھی کیا جا چکا ہے)-

    اگر شادیوں کے سلسلہ میں اُس عدلِ کامل کا حکم ہوتا جو صرف انبیاء اور ائمہ علیہم السلام ہی کا خاصہ ہے تو اللہ کریم منع فرما دیتا کہ چونکہ تم (غیر معصوم) عدل کر ہی نہیں سکتے اس لیے ایک ہی پر گزارا کرو –

  37. جناب محترم عبدالمناف
    السلام وعلیکم
    سورۃ النسا ۔ آیت 129
    تم دو عورتوں کے درمیان عدل کر ہی نہیں سکتے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ عورتیں کوئی کمپیوٹر یا ٹی وی سیٹ نہیں ہیں کہ گھر میں دو رکھ لیں یا تین ۔
    ۔ عورتوں کی مرضی پر ہے کہ وہ اُس مرد سے شادی کریں جو پہلے ہی سے شادی شدہ ہو یا کنوارہ۔
    سورۃ النسا آیت 18 ۔ اے ایماندارو تمہارے لئے بالکل جائز نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ۔
    اللہ وہ ہے جس نے انسان کو بنایا اور وہ انسان کو بہتر طریقے سے جانتا ہے ۔ یہ اللہ ہی کا حکم ہے کہ مرد دو عورتوں کے درمیان عدل کر ہی نہیں سکتا ۔ سورۃ النسا آیت 129

    وسلام
    آویز

  38. جناب عبدالمناف صاحب !

    طلاق کی اجازت ہے لیکن اللھ کو یہ عمل ناپسند ہے۔ اس حدیث کے ہوتے ہوئے کیا مصطفےٰٰٰٰ کھر صاحب کی طرح طلاق در طلاق دیتے رہنا چاہئے۔ اسی طرح یہ جانتے ہوئے پہلی بیوی کے ساتھ یہ سراسر زیادتی ہوگی کیا مذہب کے کندھے پر بندوق رکھکر چلانا ایک خیر اخلاقی اور غیر اسانی عمل نہیں ہے۔

  39. عبدالمناف صاحب بہت خو ب آپ نے فرمایا اگر شادیوں کے سلسلہ میں اُس عدلِ کامل کا حکم ہوتا جو صرف انبیاء اور ائمہ علیہم السلام ہی کا خاصہ ہے تو اللہ کریم منع فرما دیتا کہ چونکہ تم (غیر معصوم) عدل کر ہی نہیں سکتے اس لیے ایک ہی پر گزارا کرو –

    ظفرجعفری صاحب کچھ باتیں ایسی ھیں کہ جن کے لیے ھمیںمجتہدین کی طرف رجوع کرنا پڑتا ھے ورنہ تو سب واضح ھے اس کا یہ ھر گزمطلب نہیںکہ مجھے آپ کی بات پسند نھیں آئی بلکہ میںآپ کے نظریے کی قدر کرتی ھوں

    آغا سید اختر حسین یاسر میںآپ کو عالمی اخبار میں خو ش آ مدید کہتی ھو ں اور میںاس دن سے آپ کی فین ھوںجس دن آپ نےخا نہ فرھنگ ایران لاھور میں جشن
    رضا (ع) کے موقع پر امام عالی مقام کے حضور خط لکھنے کے مقابلے میں دوسرا انعام جیتا تھا اور نہایت خوبصورتی سے فلسطین کے درد کو امام عالی مقام کے حضور پیش کیا تھا۔۔۔۔۔۔
    جی یہ تو آغا سید اختر حسین یاسر آپ نے درست فرمایا کہ با ت گھوم کر بچی کے مقدر پر آ کر ختم ھو جاتی ھے
    راجہ اکرام صاحب بہت خو ب آپ نے صحیح کہا کہ پسند کی شادی ھو نی چاھیے لیکن بات پھر وھیں آکر رکتی ھے کہ محبت یکطرفہ نہ ھو
    منظور قاضی صاحب توبہ توبہ میری کیا مجا ل جو میں ناراض ھوں ویسے اپس کی بات ھے کہ یہ میرا نھیں آپ ھی کا بلاگ ھے آپ کے پوچھے گئے سوالات کاکوئی جواب دے تو مجھے اچھا لگے گا
    پیاری عنیقہ ناز آپ نے تحقعق کی روشنی میںبات کی بہت اچھا لگا لیکن ھرکیس کے پیچھےکزن میرج ھی نہیںھوتی بہرحال آپ کو اور راجہ اکرم صاحب کو محبت کے ساتھ عالمی اخبار میں خو ش آ مدید کہتی ھو ں
    سوئیٹ صفدر ھمٰدانی صاحب آپ نی جو امام (ع) کا فرمان سنایا اس سے طبیعت باغ باغ ھوگئی

    امام محمد باقر (ع) کے صحابی “علی بن اسباط “نے حضرت کوایک خط لکھا اس میں تحریر کیا : مناسب ومعقول لڑکے ہماری لڑکیوں کے لئےنہیں ملتے اب بتائے ہم کیا کر یں ؟ حضرت نے جواب دیا ہر لحاظ سے مناسب جوان کاانتظارمت کرو کیونکہ رسول اکرم(ص)نے فرمایا: اگرایسے جوان تمہاری لڑکیوں کی خواستگاری کریں جو مذہبی واخلاقی لحاظ سے تم کوپسندہوں تواپنی لڑکیوں کی شادی کردواسکے علاوہ صورت میں اپنے لڑکے اورلڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر نہ کرؤ ۔(وسائل باب 27)

  40. یہ بھی ایک عجیب بات ہے احباب کئ بیویوں کے تو خواہاں ہیں لیکن زیادہ اولاد کے متحمل نہیں۔ انکی نمازیں تو قضا ہوسکتی ہیں لیکن Birth Control قضا نہیں ہوتا۔

  41. # ظفرجعفری نے کہا ہے:
    January 20, 2010 بوقت 8:58 pm

    اگر مسلمانوں میں ایمان والے اس اعتبار سے مٹھی برابر ہیں تو عادل کتنے ہونگے۔ اور بیویوں کے معاملہ میں عدل کرنا اور بھی مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔ البتہ بعض مجبوریاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں دوسری شادی کرنی پڑتی ہے۔ اسلام میں طلاق کی اجازت ہے لیکن خدا کو یہ عمل نا پسند ہے۔ اس ہی طرح چار شادیوں کی اجازت ہے لیکن شرط ہے عدل جو سوائے نبی یا امام یا اولیاء کسی اور کیلئے تقریباً ناممکن ہے۔

    ..
    سلام مسنون مکرمی ظفر جعفری صاحب
    سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ نے اپنے 66 سالہ تجربہ کا ذکر کر کے مجھے شکریے کا موقع دیا. آپ کا احترام نہ صرف علم اور تجربے بلکہ عمر کی وجہ سے بھی مجھ پر لازم ہے. کیوں کہ آپ مجھ سے کم و یبش 40 سال بڑے ہیں. اللہ آپ کو صحت، تندرستی اور توانائی عطا فرمائے اور آپ کی صلاحیتوں میں روز افزوں برکت عطا فرمائے .. آمین
    دوران گفتگو اگر کبھی مجھ سے گستاخی ہو جائے تو پیشگی معذرت، ویسے آپ کو سزا دینے کا بھی پورا پورا حق حاصل ہے.

    مکرمی جیسا کہ عبد المناف بھائی نے عرض کیا کہ یقینا ہمارا ایمان اور اعمال نبیوں اور اتمہ کے ایمان کا عشر عشیر بھی نہیں لیکن اس وجہ سے ہم ان احکامات کو معطل نہیں کر سکتے.
    انسان کو کوشش کرنی چاہیئے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے .. انسان سے مطلوب ہے اخلاص نیت اور حتی الوسع کوشش. اس سے زیادہ انسان مکلف ہی نہیں.

  42. نا دیہ بتول بخاری نے کہا ہے:
    January 21, 2010 بوقت 2:20 am

    راجہ اکرام صاحب بہت خو ب آپ نے صحیح کہا کہ پسند کی شادی ھو نی چاھیے لیکن بات پھر وھیں آکر رکتی ھے کہ محبت یکطرفہ نہ ھو

    ..
    سلام مسنون مکرمی نادیہ بتول بخاری صاحبہ
    جب پسند کی شادی کرنی ہے اور خاندان سے باہر بھی کرنی ہے تو یکطرفہ پسند؟؟؟؟؟؟ چہ معنی دارد
    بات سمجھ نہیں ائی یہ آپ نے کس تناظر میں کہا ہے

  43. راجہ اکرام

    سلام مسنون مکرمی راجہ اکرام صاحبہ

    آپکی عمر میں میرے بھی آپ کی طرح کے جذبات و خیالات تھے لیکن چالیس سالہ ازدواجی زندگی گذارنے اور گھاٹ گھاٹ کاپانی پینے کے بعد یہی کہونگا کہ Patch up is better than break up. ہر شخص کی ازدواجی زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتے ہیں اور میری زندگی اس سے مختلف نہیں۔ دوسری شادی طلاق وغیرہ یہ وقتی خیالات ہر کس و ناکس کے ذہن میں آتے ہیں لیکن بہتر اور زیادہ خوشگوار زندگی اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو Compromise کرتے ہیں۔ آج میری دو بیٹیاں ہیں جو ڈاکٹر اور Lawyer ہیں۔ ایک بیٹا ہے جو بزنس ایڈ منسٹریشن میں ڈگری کررہا ہے۔ میرے چار نواسی نواسہ ہیں۔ الحمداللھ میری فیملی میری فیملی جتنی خوشگوار ہے یہ خوشگواری مجھے اُن دوستوں اور بزرگوں کے ہاں نظر نہیں آتی جنکی بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں ہیں۔اگر میری دو بیویاں ہوتیں تو میری اتنی کامیاب اور خوشگوار زندگی نہ ہوتی ۔ پہلی بیوی اور اُسکی اولاد شکوہ کرتی ہے۔پہلی بیوی کے بچے ہمیشہ احساسِ محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ پہلی اولاد کو باپ سے کوئ خاص ہمدردی بھی نہیں ہوتی کیونکہ بچوں کی ہمدردی مظلوم ماں کے ساتھ ہوتی ہے۔ عدل و انصاف کہیں نظر نہیں آتے۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے بدقسمت ہوتے ہیں۔ میرے ایک دوست جو 20 سال سعودی عرب میں رہ چکے ہیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے وہاں اکثر یہ منظر دیکھا ہے Pick up میں پیچھے دو تین بیویاں بیٹھی ہوتی ہیں۔ جبکہ چھوٹی بیوی آگے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہوتی ہے۔ کہاں کا عدل اور کہاں کا انصاف۔

  44. راجہ اکرام صاحب کو ظفر جعفری صاحب نے انتہائی نیک مشورہ دیا :
    یہ مشورہ اگرچیکہ راجہ اکرام صاحب کے نام ہے مگر ہر قاری اس سے مستفید ہوسکتا ہے ۔ ۔
    راجہ اکرام صاحب تو اب تک “ آزاد “ہیں مگر میرا خیال ہے کہ وہ ان مشوروں کی روشنی میں صرف ایک ہی بیوی پر اپنی تمام عمر اور پونجی اور توانائی صرف کردینگے ۔
    اور اگر وہ دو یا تین یا چار بیویاں رکھیں تو ضرور ایک سے زیادہ سونے کی کمروں کا اہتمام کرین ورنہ چاروں بیویوں کو ایک ہی سونے کے کمر ے سلانے سے انکی اور انکی بیویوں کی توجہ اور توانائی کا ستیاناس ہوجائے گا ۔
    ،۔۔۔۔۔۔
    میراجہاں تک خیال ہے ظفر جعفری صاحب نے راجہ اکرام صاحب کو “صاحبہ “ صرف کمپوزنگ کی غلط روی اور غلط فہمی کی وجہ سے لکھا ورنہ راجہ ہمیشہ صاحب ہی رہے گا ، “ صاحبہ “ جان بوجھ کر نہیں بنےگا ۔

  45. میرا خیال ہے کہ بات یہ چلی تھی کہ مسلمان لڑکوں کو شادی کے لیے غیر مسلم لڑکیوں پر مسلمان لڑکیوں کو ترجیح دینی چاہیے.

    بات سے بات نکلتی گئی اور کئی ایسے نئے موضوع کھل گئے جن پر الگ الگ بلاگ شروع ہونے چاہیے مثلاً

    1- ایک سے زیادہ شادیاں.
    2- ازواج کے مابین عدل کے امکان.
    3- کزنز سے شادی میں خطرات.
    4- لڑکوں کا غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کی نیت سے غیر مسلم خواتین سے شادیاں کرنا.
    5- انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی شادیاں.
    6- عالمی اخبار” شادی دفتر”
    7- اسلام اور جدید سائنس.
    8- روئیتِ ہلال.
    9- وغیرہ وغیرہ

    یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محترم لکھنے والے (عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی “جمع مذکر” کا صیغہ، مذکر و مونث پر اجتماعی طور پر بھی استعمال ہوتا ہے) ابھی ان موضوعات پر بہت کچھ کہنا چاہ رہے ہوں گے. میری بھی کچھ گزارشات ہیں ان عنوانات کے تحت لیکن ااسی صفحے پر عرض کرنا مناسب نہیں کہ ساری باتیں یہاں آپس میں گڈ مڈ ہو رہی ہیں-

    یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ ایک بہت شائستہ اور مہذب بزم ہے جہاں بات کی اور سنی جاسکتی ہے، ماشاء اللہ

    میں بے حد شکر گزار ہوں محترمہ بہن نادیہ بتول بخاری صاحبہ، محترمہ بہن عنیقہ ناز صاحبہ، محترمہ بہن نگہت نسیم صاحبہ، محترم قاضی منظور صاحب، بھائی ظفر جعفری صاحب، بھائی `صف احمد بھٹی صاحب، بھائی وحید اختر واحد صاحب، بھائی راجہ اکرم صاحب، بھائی شعیب صفدر صاحب، بھائی امین ترمذی صاحب، بھائی آویز صاحب، بھائی سخاوت علی ساقی صاحب اور بھائی سید اختر حسین یاسر صاحب کا کہ مجھے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے، بہن نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا خاص طور پر شکریہ کہ انہوں نے جناب سید اختر حسین یاسر صاحب کا تعارف بھی کروا دیا.

    استاد محترم جناب صفدرعلی ہمدانی صاحب چونکہ اس دفعہ ونڈو شاپنگ کرتے رہے ہیں (میرا خیال ہے کہ جناب شمس جیلانی صاحب کی گزشتہ کسی بلاگ میں استعمال کردہ اصطلاح ہے) اس لیے ان کا نام اس فہرست میں شامل نہیں –

  46. منظور قاضی صاحب
    آپ کا سوالوں والا چارٹ پڑھا… اتنے سوالات تو میں نے کبھی امتحان میں حل نہیں کئے.
    یوں تو ہر سوال اہم ہے لیکن میری اتنی لمبی چوڑی نہ تو کوئی فرمائش ہے اور نہ ہی خواہش………. میرے مطابق شادی سراسر چاہت اور اعتماد کا رشتہ ہے. اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے لباس کا کام کر سکیں جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے کا لباس ہیں تو ایک مثالی زندگی بن سکتی ہے.
    اس اعتماد اور چاہت کے بعد پاکستانی یا غیر پاکستانی، امیر یا غریب، پڑھی لکھی یا میرے ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی والی شرائط میرے نزدیک بے معنی ہیں

    آپ کا کیا کہتے ہیں اس بارے میں اپنے تجربات کی روشنی میں ؟

  47. # منظور قاضی نے کہا ہے:
    January 21, 2010 بوقت 6:18 pm

    راجہ اکرام صاحب کو ظفر جعفری صاحب نے انتہائی نیک مشورہ دیا :
    ……….
    …..
    سلام مسنون مکرمی منظور قاضی صاحب
    جعفری صاحب کا مشورہ تو مخلصانہ بھی ہے اور اچھا بھی ہے.
    البتہ ”صاحبہ“ والے مسئلے کے دو پہلو ہیں…. یا تو یہ املائی غلطی ہے جس کا اغلب گمان ہے
    یا شاید ان کا خیال ہو کہ اگر ایک سے زائد شادیاں کر لیں تو پھر صاحبہ بن کر ہی رہنا پڑے……… کیا خیال ہے؟

  48. راجہ اکرام صاحب کےتبصرے پڑھنے کے بعد ان سے یہ پوچھنے کو طبیعت چاہتی ہے کہ اتنی اچھی اچھی باتیں کرنے اور کہنے اور سوچنے کے باوجود وہ اب تک “ آزاد “ کیوں ہیں؟
    کیا انکی “ چاہت اور اعتما د“ کے معیار کی کسوٹی پر کوئی نیک بخت اب تک پوری نہیں اتری ؟
    انہوں نے میرے تجربہ کے متعلق پوچھا ہے تو اس کے جواب میں اپنا وہی جواب دہراتا ہوں جسے میں عنیقہ ناز صاحبہ کےاس جملے سےاتفاق کرتے ہوئے دیا ہوں :
    “ “ شادی کے مسئلے کا دیر پا حل خاندان میں شادی نہیں ہے. اسکا حل ذات پات، رنگ نسل اور سماجی حیثیت کے حلقوں کو توڑنے میں ہے“
    “ یہی نظریہ میری زندگی کا تجربہ بھی ہے۔۔“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا خیا ل ہے کہ اگر راجہ اکرام صاحب اپنی لحیم و جسیم شخصیت کی تصویر ظفر جعفری صاحب کو بھجوادیں تو وہ انہیں کبھی بھی “صاحبہ “ کہکر نہیں خطاب کرینگے ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

  49. بہت نازک موضوع پر بہت محتاط رہ کر رائے دینا چاہتا ہوں۔۔۔ عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے، اب شادی ایک ہو یا چار،،، اس میں بھی انسان کی نیت پر منحصر ہے کہ وہ شادی کے ذریعے کوئی جہاد کررہا ہے، سماجی اور معاشرتی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک صدیوں سے چلی آرہی رسم کی تکمیل کررہا ہے یا اپنی خواہشات کی تکمیل کررہا ہے۔ دوسری بات عدل کی ہے۔ شادی ہو یا انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی سے متعلق کوئی بھی فعل ہو اس میں عدل ہونا ضروری ہے۔ تیسری بات اس فرد کی ہے جسے معاشرے کی اکائی کہا جاتا ہے اور جو اس تیز رفتار زندگی میں مزید اکیلا ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے لوگ اپنی زندگیوں کا بڑا حصہ درسی کتابوں سے علم کے نچوڑ اور اس کے بعد کسب معاش میں لگا دیتے ہیں۔ ایک ایسی دوڑ میں ہانپتے کانپتے، گرتے پڑتے شریک رہنے پر مجبور ہیں جس کا خاتمہ ان کی موت پر ہوتا ہے۔ ان کی زندگیاں “روٹی، کپڑے اور مکان” کے حصول کی جدوجہد میں صرف ہوجاتی ہیں۔اور کبھی ملت کے مقدر کے ستارے کے منصب پر فائز رہنے والا فرد اپنی زندگی کے تاریک گوشوں میں روشنی اور رنگ بھرنے کی کوششوں میں بجھ کر رہ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ ہمارے معاشرے کی معاشی ناانصافی کا ستایا فرد آج کل اپنی ذات سے انصاف کرنے سے محروم ہے ایسے میں اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ شادیوں کے نئے جہادی سفر پر روانہ ہوگا محض خام خیالی ہے۔۔۔۔ اوپر لکھے گئے بلاگ پر موصول ہوئے تبصروں میں کئی مقامات پر دین اسلام کے احکامات قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کئے گئے ہیں ،،، میری طرف سے ایک اور کا اضافہ کرلیں۔۔۔ روٹی اسلام کا چھٹا رکن ہے۔

  50. علی ریحان یہ کیا اتنا غصہ آپ نے کہا میری طرف سے ایک اور کا اضافہ کرلیں۔۔۔ روٹی اسلام کا چھٹا رکن ہے۔
    ا ف
    راجہ اکرام صاحب آپ کے سوال کا یہ جواب ھے پسند کی شادی کے بارے میں یکطر فہ محبت سے مراد ایسا بھی ہوتا ھے کہ کوئی اپ کو پسند ہو اور وہ اپ کہ نہ پسند کرتا ہو یا اس کا الٹ کر لیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویسے آپ کی اور منظور قاضی صاحب کے درمیان گفتگو مزے کی چل رھی ہے
    عبدالمناف صاحب آپ کے سوالات بہت دلچسپ ھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *