کل کلاس میں ہم کچھ دوستوں کا گروپ بیٹھا ہوا تھا ٹاپک شادی کا تھا۔ اس لیے زیادہ دلچسپ بیان بازی چل رہی تھی ہماری کلاس کا ایک سنجیدہ نوجوان علی سے جب ہم نے شادی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگا کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چار شادیاں کروں گا۔ اس سے پہلے کہ ہم سب حیران ہوتے علی لڑکوں کی طرف منہ کر کے کہنے لگا کہ دوستو روز قیامت نبی پاک ہمارا گریبان پکڑ کر کہیں گے کہ جب اللہ نے تمہیں چار شادیوں کی ااجازت دی تو پھر میری امت کی بیٹیاں کیوں کنواری رہ گئی۔
اس کی اس بات پر مجھے پچھلے سال عید ملن پارٹی کا وہ واقعہ یاد آگیا جہاں میں نے دو خواتین جو کہ آپس میں جیٹھانی دیورانی تھی لیکن اللہ کی قدرت دیکھیں جیٹھانی کے پاس تین بیٹے اور دیورانی کے ہاں چار بیٹیاں تھی۔ جیٹھانی صاحبہ کو خواتین انکے دوسرے بیٹے کی شادی کی مبارکباد دے رہی تھیں جو کہ اٹلی میں مقیم تھا۔ خاتون نے بڑے ہی فخریہ انداز میں کہا کہ میرے بیٹے کا فون آیا تھا اس نے کہا امی میں نے بھی بڑے بھائی کی طرح ثواب کمایا ہے۔ ایک غیر مسلم لڑکی کو مسلمان کرکے شادی کرلی ہے اور اب چھوٹے والے کو بھی ہم دونوں بلا لیں گے۔ پارٹی میں ایک خاتون نے دیورانی سے پوچھا باجی آپ کب اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کر رہی ہیں۔ دیورانی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی میری مسلمان بیٹیاں امت محمدیہ کے مسلمان بیٹوں کی منتظر ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——————–

# منظور قاضی نے کہا ہے:
January 22, 2010 بوقت 10:37 pm
راجہ اکرام صاحب کےتبصرے پڑھنے کے بعد ان سے یہ پوچھنے کو طبیعت چاہتی ہے کہ اتنی اچھی اچھی باتیں کرنے اور کہنے اور سوچنے کے باوجود وہ اب تک “ آزاد “ کیوں ہیں؟
کیا انکی “ چاہت اور اعتما د“ کے معیار کی کسوٹی پر کوئی نیک بخت اب تک پوری نہیں اتری ؟
انہوں نے میرے تجربہ کے متعلق پوچھا ہے تو اس کے جواب میں اپنا وہی جواب دہراتا ہوں جسے میں عنیقہ ناز صاحبہ کےاس جملے سےاتفاق کرتے ہوئے دیا ہوں :
“ “ شادی کے مسئلے کا دیر پا حل خاندان میں شادی نہیں ہے. اسکا حل ذات پات، رنگ نسل اور سماجی حیثیت کے حلقوں کو توڑنے میں ہے“
“ یہی نظریہ میری زندگی کا تجربہ بھی ہے۔۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا خیا ل ہے کہ اگر راجہ اکرام صاحب اپنی لحیم و جسیم شخصیت کی تصویر ظفر جعفری صاحب کو بھجوادیں تو وہ انہیں کبھی بھی “صاحبہ “ کہکر نہیں خطاب کرینگے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
………….
سلام مسنون جناب منظور قاضی صاحب
آپ نے محترمہ عفیفہ ناز کے جس جملے سے اتفاق کیا ہے من حیث المجموع وہ میری رائے ہی کی ترجمانی لگتا ہے. ذات پات اور رنگ و نسل کے ساتھ ساتھ امیری و غریبی اور عالم و جاہل کے امتیازات کا خاتمہ بہت ضروری ہے.
لیکن اسلام نے ”کفو“ کا جو مسئلہ ذکر کیا ہے اس کا لحاظ رکھنا بھی کسی طور حکمت سے خالی نہیں، اس کے پیش نظر اعتدال پسندی کے ساتھ کوئی فیصلہ کرنا مفید تر ہوگا.
اور میں ابھی تک آزاد کیوں ہوں؟ شاید قسمت کے ستارے ابھی نہیں ملے، دعا کیا کریں
اور راجہ اکرام کی تصویر دیکھ کر ٍمحترم ظفر جعفری صاحب شاید صاحبہ کہنے پر مصر نہ ہو جائیں اس لئے تصویر نہیں بھجوانی، لینے کے دینے پڑجائیں گے
کیوں کہ میں لحیم و شحیم نہیں بلکہ ضعیف و ناتواں ہوں 🙂
راجہ اکرام صاحب اگر “ ضعیف و ناتوا ں “ ہیں تو پھر اپنے لیے ایسی شریکِ حیات کا انتخاب کریں جو انہیں کھلا پلا کر “ لحیم و شحیم “ بنادے۔
اب رہا قسمت کے ستاروں کے نہ ملنے کا سوال تو اسکے لیے علامہ اقبال کا یہ شعر ضرور یا د رکھیں:
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ فراخی ء افلاک میں ہے خوار و زبوں
۔۔۔۔۔۔
اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ “ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے “
۔۔۔۔۔
ہمتِ مرداں مددِ خدا کا مقولہ تو راجہ اکرام صاحب نے سنا ہی ہوگا۔ بس اعتدال پسندی سے کام لیتے ہوئے صرف ایک ہی شادی کیجیے اور اگر اسکے بعد آپ میں ہمت اور طاقت اور سکت ہو تو پھر اپنی پہلی بیوی کی اجازت سے دوسری اور تیسری اور چوتھی شادی بھی کرسکتے ہیں۔
مگر چاروں بیویوں کو لے کر مغرب کے ممالک میں نہ جایا کیجئے ، اسکی اجازت صرف عرب دنیا کے شیخوں کو ہے وہ اپنے حرم کے ساتھ یورپ میں گھوم پھر سکتے ہیں۔
بہر حال : اگرآپ کے ستارے کسی سے مل جائیں تو ضرور شادی کرکے اپنا گھر بسا لیجئے تاکہ کسی مستحق لڑکی کے آپ کے دیے ہوئے سونے کے کنگنوں سے اور ہلدی کے رنگ سے ہاتھ پیلے ہوجائیں۔
مگر شادی کے پہلے ہی دن اپنے گھر کی کالی بلی کو اپنی بیوی کے سامنے گولی مار کر ہلا ک مت کیجیے اگر ایسا کیا تو آپ کی بیوی ساری عمر آپ سے خائف ہی رہےگی ۔
اگر آپ کی بیوی آ پ سے خفا ہوکر میکہ چلی جائے تو آپ اس کو مناکر واپس گھر میں نہ لائیے ۔
اگر آپ نے ایسا حربہ اختیار کیا تو آپ کی بیوی آپ کی بکری کی دم پکڑکر گھر میں واپس آجائےگی اور یہ بہانہ کرے گی کہ میں تو نہیں آرہی تھی اس بکری کے دم نے مجھے گھر میں واپس آنے کے لیے گھسیٹ لیا ۔( اسکا قصہ شمس جیلانی صاحب کی تنقید والے بلاگ میں پڑھیے ) ۔
۔۔۔۔
ہا ں اگر آپ کی شادی کے لیے قاضی چاہیے تو یہ غریب مسکین حاضر ہے ؛
۔۔۔۔۔۔
اللہ آپ کے نیک مقاصد میں آپ کو کامیاب فرماتا رہے ۔ آمین
خیر اندیش
سلام مسنون جناب منظور قاضی صاحب
اقبال نے درست کہا ہے لیکن اپنی دنیا آپ پیدا کرتے کرتے اپنے مرکز “خاندان..والدین” سے دور نہیں ہو جانا چاہیئے. حتمی فیصلہ ان کی طرف سے ہونا چاہیئے یہ میری رائے ہے
کیوں کہ
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خاک ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے.
…………….
اور یہ ایک شادی کے بعد دوسرے شادی کے لئے پہلی بیگم کی اجازت کیوں ضروری ہے؟
مجھے اس موقع پر ایک ہماری بہنا کا جواب یاد آ رہا ہے. کسی فورم پر انہوں نے خود چار شادیوں کے حوالے سے مضمون لکھا.. دوران بحث کسی نے ان سے سوال کیا کہ کیا مرد کو دوسرے شادی کرنے کے لئے پہلی بیگم سے اجازت لینی چاہیئے؟
تو ان محترم بہنا نے اتنا خوبصورت جواب دیا، مجھے بہت پسند آیا کہ ایک خاتون، شادی شدہ، 3 بچوں کی ماں اتنا حوصلہ رکھتی ہے اور ایمان کے اس درجے پر فائز ہے
انہوں نے جواب دیا کہ “جب اللہ نے اجازت دی ہے تو پہلی بیوی سے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے؟”
اس جواب سے کئی لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مجھے تو اس نے بہت متاثر کیا …… اللہ ان کو خوشیاں دے، کامیابیاں دے .. آمین
…………..
اور میرے محترم شادی ایک ہو یا چار، میرا کوئی پروگرام نہیں ہے مغرب میں ان کے ساتھ گھومنے کا. میرا دیس بہت خوبصورت ہے، کبھی نہیں سوچا اسے چھوڑ کر کہیں جانے کا. البتہ حرمین کی زیارت کا اشتیاق ہے جو ہر مسلمان کو ہوتا ہے.
……….
یہ جو آپ نے کہا کہ …مگر شادی کے پہلے ہی دن اپنے گھر کی کالی بلی کو اپنی بیوی کے سامنے گولی مار کر ہلا ک مت کیجیے اگر ایسا کیا تو آپ کی بیوی ساری عمر آپ سے خائف ہی رہےگی ۔….. کیا یہ واقعی کوئی کارگر نسخہ ہے؟
……………
اور شادی کے لئے قاضی تو ضرور چاہیئے ہو گا لیکن ابھی قاضی والا مرحلہ نہیں آیا.. اس سے پہلے مراحل کے لئے وکیل کا بندوبست ہو جائے تو پھر نوبت ایں جا رسید ہو گی
کیا خیال ہے؟
و السلام
راجہ اکرام
راجہ اکرام صاحب اپنے مرکز ( خاندان ۔ والدین ) کے حتمی فیصلے کو اپنی ہونے والی شریک حیات کے انتخاب کے لیے مقدم قرار دیتے ہیں ۔
مگر دوسری شادی کرتے وقت پہلی بیوی کی مرضی اور رضامندی حاصل کرنا غیر ضروری سمجھتے ہیں !!!
آپ کا یہ سوال کہ
“ کیا یہ واقعی کوئی کارگر نسخہ ہے؟
کارگر ہی ہوگا جبھی تو “ گربہ کشتن روزِ اول “ مثل مشہور ہوگئی ہے ۔
۔۔۔
بہر حال آپ اپنے والدین کے سعادت مند بیٹے ہیں ، ضرور انکی مرضی کا خیال رکھیے مگر شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی۔
اللہ آپ کو آپ ہی کی طبیعت کی ( مگر والدین کی مرضی کی ) چاند سی دلہن دے : آمین
اب باقی کی باتیں اس بلاگ کے موضوع “ ثواب “ پر ہی ہونی چاہییں ورنہ بلاگ نگار محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ آپ کو اور مجھے انکی اپنی شادی پر نہیں بلائنگی ۔
۔۔۔۔
نہیں پیارے منظور قاضی صا حب اگر مقدر میں شادی ہوئی تو کیوں نھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سب کو دعوت دوں گی
سلام مسنون منظور قاضی صاحب
باقی باتیں ثواپ کے متعلق
شادی کر نا اور پھر بیوی کے حقوق ادا کرنا اور بچوں کی اچھی تربیت کرنا بہت ثواب کا کام ہے
السلام و علیکم
بئی یہ بحث کئی دنوں کے بعد بھی چل رہی ہے تو یقینا دلچسپ بھی ہوگی ، مگر میرا خیال ہے کہ ہم لوگ کسی حد تک نفس مضمون سے ہٹ گئے ہیں ، اول تو ہر شخص دوسری شادی نہیں کرتا اور اگر دوسری شادی نہیں کرتا تو تیسری اور چوتھی تو یقینا نہیں کرتا اور اگر کوئی صاحب دل ایسی حوصلہ مندی دکھاتا بھی ہے تو عموما اُسے معاشرے میں پسند نہیں کیا جاتا ( یہ میں معاشرتی روئیے کی بات کر رہا ہوں )
اور جناب محترم راجہ اکرام صاحب ،’’ گربہ کُشتن بروز اول ‘‘ کی کہانی آپ کو میں سُناتا ہوں ۔
کہتے ہیں کسی زمانے میں ( ایران کے ) کسی گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے ، اُسنکی شادیاں دوسرے گاؤں کی دو سگی بہنوں سے ہوگئی مگر کچھ عرصے بعد اہل محلہ نے دیکھا کہ بڑے بھائی کی بیوی نہایت ہی بد مزاج ، لڑاکا اور شوہر کے نافرمان ہے جبکہی چھوٹے بھائی کی بیوی اپنے شوہر کی حد درجہ فرمانبردار ہے ، برے بھائی کی بیوی روز روز اور معمولی معمولی باتوں پر اُس سے لڑ پڑتی تھی ، ایک دن بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے پوچھا کہ ۔ یار تم نے ایسا کیا کیا ہے کہ تمہاری بیوی تمہاری اتنی فرمانبردار ہے ۔ چھوٹے نے جواب دیا کہ ، بھائی جان، ہماری شادی کی پہلی رات ہمارے حجلہ عروسی میں ایک بلی آ گھسی تھی میں نے پلنگ کے پاس پڑا ڈنڈا اُٹھا کر ایک ایسا وار کیا کہ بلی وہیں ڈھیر ہو گئی بس جب سے ہی میری بیوی کے دل میں میرا خوف بیٹھ گیا ہے ، بڑا بھائی سر ہلاتا ہوا چلا گیا کچھ دن بعد اتفاق سے اُس کے کمرے میں بھی بلی گھس آئی بڑے بھائی نے ڈنڈا اُٹھایا اور دھاڑ بلی کے سر پر دے مارا بلی وہیں ڈھیر ہو گئی اب جو بیگم نے یہ دیکھا تو میاں پر چڑھ دوڑی کہ تم نے بے زبان کو مار ڈالا ، میاں بے چارے کو جان بچانی مشکل ہو گئی وہ بھاگم بھاگ چھوٹ ے بھائی کے پاس پہنچا اور شکایت کی کہ ، یار آج تو تم نے مجھے مرواہی دیا تھا ، چھوٹے نے وجہ پوچھی تو بڑے نے پوری بات بتا دی ، چھوٹا ہنس دیا اور بولا بھائی جان ، ’’ گربہ کُشتن بروز اول ‘‘ یعنی بلی تو پہلے روز ہی ماری جاتی ہے ۔
( محترم قاضی صاحب اگر میں کہیں غلط ہوا ہوں تو اصلاح فرما دیھئے گا )
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
میرے کمپیوٹر کے فاؤنٹ کچھ گڑ بڑ کر رہے ہیں ، اِس لیے شاید ٹائیپنگ کی کچھ غلطیاں ہو رہی ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
نادیہ بہن۔ تم جب بھی آتی ہو تو نیا درد لیکر۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ہم سوچنے، سمجھنے کی تمام صلاحیتیں کھو چکے ہیں اور ہر معاملہ میں دہرا معیار ہے۔ اگر بچے یہ کام کریں تو کچھ اور ہے اور اگر بچیاں وہی کام کریں تو کوئی اور۔ خاص طور پر مائیں اور بہنیں جو کہ اسی صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے یہاں بھی یہ ہی دہرا معیار ہے کہ بھابی چا ہیئے گوری ، ماں کو بہو چا ہیئے گوری، اسی طرح مالدار بھی چا ہیئے۔
پھر اگر کوئی بچہ شادی کسی یورپین سے کر لے تو بڑے فخر سے بتا یا جاتا ہے کہ اس نے ثواب کمایا؟ جبکہ یہ ہی کام کوئی بچی کر لے تو ماں باپ کی غیرت جاگ جاتی ہےیعنی اسے ثواب کمانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچیاں بیٹھی ہوئی ہیں ۔ پھر ایک مسئلہ دہرے معیار سے یہ بھی پیدا ہوتا کہ ہماری بچیوں کو خاص طور سے یہ سکھایا جاتا ہے ۔ اسکول کالج اور یونیورسٹی میں یہاں کے رنگ میں رنگی رہو کہ مجبوری ہے ، مخلوط تعلیمی نظام ہے۔مگر جب اپنا کوئی بندہ نظر آئے تو بد تمیزی سے پیش آو؟ ان حالات میں مسائل تو پیدا ہونگے؟
میں نے Cut and paste کیا تھا۔ صاحبہ پڑھے بغیر میں نے Paste کردیا ۔ اس غلطی پر راجہ صاحب سے معافی چاہتا ہو۔ اگر مستقبل میں میں غلطی سے قاضی صاحبہ لکھ جائے تو اس کی بھی میں پیشگی معافی کا طالب ہوں۔
:
عزیزی نادیہ بخاری سلامت رھو۔۔تم نے واقعی ثواب کمایا۔ مسلمان بیٹیاں امت محمدیہ کے مسلمان بیٹوں کی منتظر ہیں۔ ،میں سمجتی ھوں اس میں کچھہ قصور ان والدین کا بھی ھے جو غریب اور دیندار لڑکوں کو رد کر دیتے ھیں۔۔۔میری ایک دوست کا بہت دین دار بیٹا ھے۔
پڑھا لکھا ھے نیک اور محنتی ھے،مودب ھے۔۔مگر اپنی صوم و صلاۃ کی پابندی کی وجہ سے اس لڑکی سے شادی نیہں کرسکا۔۔۔جس کو وہ بچپن سے دل ھی میں پسند کرتا تھا۔ذرا سوچیں ایاز کا رشتہ صرف اس وجہہ سے مسترد کر دیاگیا کہ ۔۔لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ایاز بہت مذھبی ھے اورھم لوگ آزاد خیال لوگ ھیں ھماری بیٹی اس ماحول میں ذھنی تناو کا شکار ھوجایئگی۔ ایاز کی شادی تو ابھی چند ھفتے پہلے ایک بہت اچھی نیک اور پابند صوم وصلاۃ لڑکی سے ھوگی مگر میرے ذھن ميں اور دل میں یہ بات نیزے کی انی کی طرح آزار اور دکھہ کا باعث بنی ھے۔۔ پیاری بیٹی نادیہ سدا خوش رھو۔۔۔اور خوب ترقی کرو۔۔ جس جگہ تم ھو وھاں صرف روشنی ھی روشنی ھو۔۔۔ تم کو اتنا اجھا لکھتا دیکھہ کر بہت خوشی ھوتی ھے۔۔۔اور تمھاری شادی پر کوئ آۓ یا نہ آۓ میں ضرور آونگی
تمھارے اس بلاگ میں میں بھی امت محمدیہ کے مسلمان بیٹوں سے ایک سوال کرونگی
کائنات کے سب سے برگذیدہ بنی جن کا نام بھی اپ بغیرصلواۃ پڑھے نیہں لے سکتے۔۔
آپ نے جب ایک سے زائد شادیاں کیں تو ان کے پیچھے کیا مقصد تھا۔۔
انھوں نے زیادہ تر اپنی عمر سے بہت بڑی خواتین سے شادیاں کیں
ازواج مطہرات کی تعداد 13 ھے
جن میں 10 بیوایئں تھیں عمر میں بہت بڑی بھی تھیں۔۔
اج سنت رسول کی پیروی کتنے لوگ کرتے ھیں۔۔۔
بلکہ کسی بڑی عمر کی کنواری لڑکی سے بھی شادی نیہں کرتے
قران اسلام تو ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ھے
دنیا کی سب سے زیادہ پرھی جانےوالی کتاب بھی قران ھے
جس کے بارے میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہاتھا
دنیا میں سب سے زیادہ مظوم کتاب قران ھے کیونکہ مسلمان اس کو بغیرسمجھے پڑھتا ھے
کیا اس بلاگ میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں اپنے شوہروں کو مزید شادیوں کی اجازت دیں گی۔
جی ظفر بھائی میں نے اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دے رکھی ہے ۔ اور یہ آج سے نہیں شادی کے شروع دن سے دی ہے ۔ اصل میں ہماری شادی مکمل والدین کی پسند سے تھی ۔ میں اپنے شوہر آفتاب کو جانتی تک نہیں تھی ۔ اس لیئے میں کسی بھی حالات کے لیئے تیار تھی ۔ اور خود میں اتنی کشادگی پاتی تھی اور آج بھی رکھتی ہوں کہ اگر میرے شوہر کو اپنی خوشی کے لیئے دوسری شادی کرنی پڑی تو ضرور اس کو اجازت دونگی ۔
ظفر بھائی میری ایک دوست تھی جس کا کینسر سے دو ہفتے پہلے انتقال ہوا ہے ۔۔ا سکو جس دن اپنے کینسر کی اطلاع ملی تھی ۔۔ اسی دن سے وہ اپنے شوہر کے پیچھے لگ گئی کہ وہ دوسری شادی اس کی زندگی میں ہی کرلے تاکہ اسے سکون ہو کہ اس کی دیکھ بھال کرنے والا گھر پر ہے ۔ کسی نے اس کی نہیں سنی ۔۔ تو پھر اس نے اپنی پسند سے ایک لڑکی اپنے شوہر کے لیئے ڈھونڈی اور اپنے ہاتھوں سے شادی کروا دی ۔۔اور اس کے چھ ماہ بعد اس دنیا سے چلی گئی ۔۔ہم اس کے اس عملی ایثار پر حیراں ہیں ۔۔ وہ جنت مکانی عورت کو جانے کینسر کھا گیا کہ اس کی کشادہ دلی ۔۔
پیاری شاھین رضوی صاحبہ حوش رھیے بہت شکریہ آپ نے شرکت کنفرم کر دی۔۔۔۔۔۔۔
ظفرجعفری صاحب کتنا اچھا جواب دیا ھےنگھت نسیم صاحبہ نے۔۔۔۔ میری دعا ہے کہ جس مقصد کے لیے ا ن خاتوںکودلہن بناکر وہ لائیںتھی۔۔وہ اپنا فرض احسن طریقے سے انجام دیں۔۔۔ٓٓآمین
نگہت بہن
زبانی اجازت تو میری بیوی نے بھی دے رکھی ہے اور تقریاً ہر مسلمان خاتون کی یہ ادا ہے۔ جسے ہر مسلمان مرد سمجھتا بھی ہے۔ پسند اور مرضی کی شادی سے دنیا کا کوئ مذہب یا قانون نہیں روکتا۔ ہمارے معاشرہ میں پتہ نہیں کس قانون اور کس شریعت کے تحت بچوں کی شادیاں انکی مرضی کے خلاف کردی جاتی ہے۔ آپکی مرحومہ دوست یقینا حقیقت پسند، اعلیٰٰٰ ظرف اور جنت مکانی خاتون تھیں۔
السلام علیکم
یقینا غیر ممالک میں ( نیشنلٹی ، امگریشن حاصل کرنے کے لیے یا کسی بھی سبب ) عموما ہمارے نوجوان ( مرد ) ثواب کا نعرہ لگا کر شادی کر لیتے ہیں مگر یہ درست نہیں کہ ہر کوئی اِسی نیت سے یہ سب کچھ کرتا ہے ، خدا نے انسانی دل کو کچھ عجب ہی ڈھنگ میں تخلیق کیا ہے ، دھڑکے تو مشکل نہ دھڑکے تو مشکل ، ( ممکن ہے بہت سو کے مد نظر محبت کا جذبہ بھی رہتا ہو ) اور پھر جس بات کی طرف اُوپر کے کچھ تبصروں میں اشارہ ہے کہ صرف لڑکے یا لڑکے والے ہی غلط نہیں ہوتے ، بہت مرتبہ غلطی لڑکی والوں کی بھی ہوتی ہے ، یقینا ایسا بھی ہوتا ہے اور کئی مثالیں ہمارے سامنے آئی ہیں ، اور رہی بات ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی تو میرے خیال میں شاید دو فیصد مرد ( مسلمان ) بھی یہ ایڈونچر نہیں کر پاتے ، اور اِس بات کو بحث کا حصہ بنانا اور سارا زور اِسی پر لگا دینا ہمیں بلاگ اور بلاگ نگار کے اصل مقصد سے کسی قدر دور لے گیا ہے ، اصل موضوع تو وہ سوچ تھی اور وہ معاشرتی رویہ تھا جو روز بروز المیہ بنتا جا رہا ہے ۔
آصف احمد بھٹی
بلاگ کے شروع میں نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے ان دو مسائل کو چھیٹرا تھا : :
1۔ “دوستو روز قیامت نبی پاک ہمارا گریبان پکڑ کر کہیں گے کہ جب اللہ نے تمہیں چار شادیوں کی ااجازت دی تو پھر میری امت کی بیٹیاں کیوں کنواری رہ گئی۔“
2۔ “ پارٹی میں ایک خاتون نے دیورانی سے پوچھا باجی آپ کب اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کر رہی ہیں۔ دیورانی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی میری مسلمان بیٹیاں امت محمدیہ کے مسلمان بیٹوں کی منتظر ہیں۔“
——————–
ممکن ہے ان دونوں مسائل پر تمام مبصروں نے سیر حاصل تبصرے کرلیے۔
میرے خیال میں ان تبصروں سے یہ نتائج نکلے کہ :
1۔ ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کی ہر مسلمان کو اجازت ہے۔ اگر اس کے باوجود “ بیٹیاں کنواری رہ گئیں “ تو اسکے ذمہ دار مسلمان ہی ہونگے اور وہ قیامت میں نبی پا ک ( ص) کے سامنے جواب دہ ہونگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ مسلمان بیٹیوں کو امت محمدیہ کے مسلمان بیٹوں کی منتظر رہنے کی ضرورت نہیں ۔ وہ چاہیں تو کسی غیر مسلم کو مسلمان بنا کر شادی کرسکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا خیال ہے؟
سلام نادیہ صاحبہ…..
.
. ویسے میں اس معاملے میں زیادہ گفتگوتو نہیں کرسکتا…..شادی شدہ خواتین و حضرات اس مسئلے
پر بہتر انداز میں روشنی ڈال سکتے ہیں…لیکن اتنا انداذہ ہے کہ چار شادیوں پر شاید ہی کچھ مرد ہوں
جن کو اعتراض ہو….لیکن……
.. اسلام کی اس ” تحفے نما چھوٹ ” پر عملدرامد میں سب سے بڑی رکاوٹ خود خواتین ہی ہیں…….
……………….
کسی کو میری بات ناگوار گزرے تو معزرت…..
……….. نادیہ آپ اتنا اچھا لکھتی ہیں کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی تبصرہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے..
والسلام…….. سید ظل ِ ثقلین
محترم منظور قاضی صاحب ہونا تو ایسا چاہیے لیکن ہم جس معاشرے میں رہتے ھیںوہاںایسا کرنا کافی مشکل ہے مجھے اب بھی یاد ھےجب میں اعلی تعلیم کے حصول کے لیے لا ہور آئی تھی تو کوئی دور نہیںمیرے سگی خالہ زاد بہن نے یہ کہا کہ توبہ میںتو کبھی اپنی بیٹی کو اکیلے اس طرح کسی دوسرے شہر نہ بھیجوں ۔۔۔حلانکہ میری اس کزن کی شادی میرے ابو نے اپنی بہن کے بیٹے سے یہ سوچ کر کروائی تھی کہ یتیم بچی ھے۔۔۔کوئی ین کو نہیں پوچھے گا۔۔۔۔۔۔۔
سید ظل ِ ثقلین صاحب اپ پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ غائب کہاں ہوجا تے ھیںآپ تو وہ شاعر ھیںکہ جن کا کلام سن کر ھمارے محترم ھمدانی صاحب نے خود اپ کو مزید شاعری کا کہا بہت شکریہ
سیدہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کی ہر بات صداقت پر مبنی ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا حالانکہ انکے سگی خالہ زاد بہن نے یہ خوف ظاہر کیاتھا کہ وہ کسی دوسرے شہر میں اپنی بیٹی کو اکیلی نہیں بھیجینگی۔
خدا کا شکرہے کہ آج کل پاکستان کی بہادر اور خود دار لڑکیاں اپنی زندگی اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کی خاطر نہ صرف پاکستان ہی کی کسی شہر میں اکیلی جاکر اپنے اعلی مقاصد کو پورا کرنے کوشش کررہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر خاص طور پر انگلینڈ اور امریکہ بھی جارہی ہیں۔
نادیہ بتول بخاری ان تمام لڑکیوں کی پہلی صف میں شمار کی جاتی ہیں جنھوں نے میڈیا ( صحافت ) کے میدان میں اپنا ایک اونچا مقام پیدا کرلیا ہے۔ کبھی کبھی یوٹیوب کے ذریعہ انکے پروگراموں کو دیکھتا ہوں تو حیران ہوجاتا ہوں کہ اتنی خوبصورت لڑکی اتنی بے باکی اور روانی سے اپنے پروگراموں کو کیسی پیش کرتی ہیں ۔ انکا پاکستان میں منشیات کے درآمد پر جو پروگرام پیش کیا وہ دیکھنےکے قابل ہے ۔ مجھ میں اتنی فنی مہارت نہیں ہے کہ ان کے پروگرام کو یہاں چسپاں کرسکوں مگر میں اس بلاگ کے پڑھنے والوں کو مشورہ دونگا کہ وہ اس پروگرام کو ضرور دیکھیں اور نادیہ بتول بخاری صاحبہ کی بلا جھجک فطری صلاحیت کی داد دیں۔
یہ تو ایک برسبیلِ تذکرہ بات تھی ۔
اب رہا خاندان کی لڑکیوں سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا سوال تو اس کے دونوں رخوں ( مثبت اور منفی ) پر اس بلاگ میں تبصرے کیے گئے ہیں۔
اب رہا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا سوال تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بلاگ میں تبصرہ کرنے والی خواتین کی اکثریت نے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے پراپنی رضا مندی ظاہر کردی ہے اور نہ رضا مندی بلکہ انہوں نے تو یہا ں تک کہدیا کہ وہ اپنے شوہر کو مشورہ دینگی کہ وہ ایسا نیک کام کرلے ۔ ( مجھے یہ جان کر حیرت ضرور ہوئی کہ عورتیں اتنے ایثار کا مظاہر ہ کررہی ہیں تاکہ ان بیاہی لڑکیوں کا مسئلہ بھی طئے ہوجائے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے گھر کے چند مسائل بھی حل ہوجائیں۔)
۔۔۔۔۔
اگر ایسا ہوا تو ہر ماہ اپنی بیٹی کی شادی کے موقعہ پر اسکی رخصتی کے وقت یہ دعائیں دینگی کہ اللہ تیرے شوہر کو تجھے خوش رکھنے کی توفیق اور سعادت عطا فرماتا رہے اور
ساتھ ہی ساتھ تجھے چاند سی سوکن عطا کرے آمین ثمہ آمین یا رب العالمین
ہر ،اہ کی بجائے ہر ماں پڑھیے : شکریہ
انکا پاکستان کی بجائے : انہوں نے پاکستان : پڑھیے
نہ رضامندی کے بجائے : نہ صرف رضامندی : پڑھیے
شکریہ :
یہ غلطیاں میری جلد بازی کا نتیجہ ہیں: جس کا افسوس ہے ۔
محترمہ نادیہ … سلام…
…….
……میں کہیں بھی غائب نہیں ہوسکتا کیونکہ ..آپ کاخوبصورت طرز ِ تحریر اور دلچسپ مضامین…
…… مجھ کو غائب نہیں ھو نے دیں گے…. انشا اللہ….
محترم منظور قاضی صاحب اپ کا بہت شکریہ اپ نے اپنا قیمتی وقت میرے لیے نکال کے یوٹیوب پردیکھا اور پسند بھی کیا۔۔۔۔۔۔
اگر اپ جیسے ہم نئےلوگوںکی حوصلہ افزائی کرتے رہے تو یقینا وہ دن دور نہیں ہم بھی اچھے لکھنے والوں میں شامل ہوںگے
انشااللہ
سید ظل ِ ثقلین تو پھر اپ کے مسلسل تبصر ے کہاں ہیں شکریہ ِ ثقلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔