بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، کیا صرف پی پی پی کے لیے ہے؟

A critical look at the Benazir Income Support Programme (BISP
Wednesday, November 12, 2008Riaz Khan

President Asif Zardari launched the Rs34 billion Benazir Income Support Programme (BISP) with great fanfare last month. Under the scheme, three million families with earnings of less than Rs6,000 per month will be paid Rs2,000 every two months.
انگریزی میں لکھی ہوئی تحریر کا مختصر اردو ترجمہ یہ ہے :
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا صدر آصف زرداری نے بڑے ہی طمطراق سے 2008 کے آخر میں ا علا ن کیا۔
اس پروگرام کے تحت ہر مستحق خاندان کو جس کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار ماہانہ سے کم ہوگی اور وہ اس پروگرام کی تما م شرائط پر پورا اترے گا اسے ہزار دو ماہ میں دو ہزار روپیے ( یعنی ایک ہزار روپیہ ماہانہ ) دیے جائنگے ۔
اس پر تنقیدی نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پروگرام تمام پیچیدہ اور غیر شفاف ہے اور سیاسی شعبدہ بازی کا شکا ر ہے ۔
صدر زرداری نے کہا تھا کہ یہ پروگرام غیر سیاسی بنیاد پر ہوگا اور تمام سیاست سے اور بلا تفریق اور بلا کسی امتیاز کے ہر ایک مستحق خاندان کے لیے ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا ۔ اس کے منتظمین اور کرتا دھرتا سب کے سب پیپلز پارٹی کے ارباب اختیار ہیں اور اپنی پارٹی والوں ہی کو اس سے فائید پہنچارہے ہیںِ ۔
The initial reaction to the BISP has been that it is too politicised, centralised, complicated and non-transparent. Unless redesigned, it will become mired in bureaucratic and political wrangling.
President Zardari said that the implementation of the programme would be above political affiliations. But the programme’s management board comprises only PPP members. The programme requires for each MNA and senator to be allocated 8,000 forms, each of which will have to be verified by a union councillor, as well as the parliamentarian, before being mailed to NADRA. The annual amount per parliamentarian comes to Rs96 million

11 thoughts on “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، کیا صرف پی پی پی کے لیے ہے؟”

  1. قاضی صاحب قبلہ.یہ موضوع بہت اچھا ہے اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے کا.لیکن سچ کہوں کہ اردو بلاگ میں انگریزی کوئی اچھی نہیں لگ رہی.اگر ممکن ہو اور تکلیف نہ ہو تو انگریزی کی چند لائینیں رکھ کر باقی کو ترجنہ کر دیجئے کیونکہ اس طرح کہیں باقی احباب بھی انگریزی موضوعات نہ لگانا شروع کردیں اور پھر کسی کو منع کرنا مشکل ہو جائے گا. مجھے یقین ہے کہآپ مجھ سے اتفاق فرمائیں گے. ہیشگی شکریہ.

  2. مجھے اس خشک اور غیر دلچسپ موضوع پر لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جب میں نے کراچی میں رہنے والی میرے شہید بھتیجے کی بیوہ ( جو نہایت ہی غربت میں اپنے تین بچو ں کے ساتھ زندگی بسر کررہی ہے ) سے پوچھا کہ کیا یہ مشہورِ زمانہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے اسے کوئی مدد مل رہی ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یاد رہے کہ اس مشہورِزمانہ پروگرام کا مقصد مستحق پاکستانیوں کو 13 ڈالر ( ایک ہزار وپیے ) ماہانہ دینا تھا ۔ اگرچیکہ یہ ایک اونٹ کی داڑھ میں خشخش کے برابر ہے پھربھی ڈوبتے ہوئے مستحق افراد کو تنکے کا سہارا دینے کا پروگرام تھا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے شہید بھتیجے کی بیوہ نے روتے ہوئے جواب دیا کہ وہ تو صرف پیپلز پارٹی کے ممبروں کے لیے ہے !!!! اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے آفس سے صرف انہی لوگوں کو فارم ملتے ہیں جو پی پی پی کے رکن ہیں اور ان ارکان کے خاندانوں میں شمار کیے جاتےہیں ۔ اسنے یہ بھی کہا کہ اس پارٹی کے دفتر کی طرف جانا بھی اپنی جان اور عزت کو خطرےمیں ڈالنا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے بھتیجے کی یہ بیوہ 15 نومبر 2008 سے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد رشتہ داروں کی مدد سے اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہے۔۔ ( عالمی اخبار کے ان پڑھنے والوں کو یاد ہوگا جو عالمی اخبار میں15 نومبر سے منسلک ہیں کہ میں نے “ نوحہ ء غم ہی سہی نغمہ ء شادی نہ سہی “ کے عنوان سے میرے بھتیجے کی شہادت ہر ایک بلاگ لکھا تھا )
    ۔۔۔۔۔۔
    میری آنکھیں اس معصومہ ااور اسکے یتیم بچوں کی بے بسی کے حالات سن کر نم ہوجاتی ہیں ۔
    میں نے اسے تسلی دلاتے ہوئے کہا کہ فکر مت کر بیٹی جب تک میں زندہ ہوں میں تیری اور تیرے بچوں کی مدد کرتا رہونگا ۔
    میں نے پھر ہمیشہ کی طرح اپنی ماں کی یہ دعا دہرائی کہ : “ اللہ کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اس بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام BISP سے کچھ امید تھی کہ اس انتہائی مستحق بیوہ کو جو اسکی ہر شرئط پر پوری اترتی ہے ، تھوڑی ہی سہی مگر کچھ ، مالی مدد اس پروگرام سے ملے گی مگر یہ معلوم کرکے افسو س ہوا کہ یہ پروگرام صرف پی پی پی کے ارکان اور انکے زیر اثر خاندانوں کےلیے ہی مختص ہے۔ اور مشکل یہ ہے کہ میرے سارے بھانجے اور بھتیجے اپنی اپنی گردش میں تمام پارٹیوں سے بے نیاز ہوکر اپنا اپنے بچوں کا کراچی میں پیٹ پال رہے ہیں ۔
    یہ بچے ایم کیو ایم پارٹی کے رکن بھی نہیں ہیں : ہا ں یہ ضرور ہے کہ ان سب کی مادری زبان اردو ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے یہ جان کر حیرت ہے کہ یہ پروگرام خاص طور پر ایم کیو ایم والوں کے لیے بالکل نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے اس سلسلہ میں اگر کوی باعلم مبصر خاص طور پر شعیب صفدر صاحب جیسا قانون داں کوئی مشورہ دے اور رہنمائی کرے تو شکر گذار ہونگا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    اگر اس موضوع پر کچھ تبصرے مستقبل ِ قریب میں نہ آئیں تو عالمی اخبار کی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ وہ اس بلاگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے۔

    خیر اندیش :
    منظور قاضی
    جرمنی کے ایک گاوں سے
    manzoorquazi@gmail.com

  3. خود آصف زرداری صاحب کی ماہانہ آمدنی 6000 روپئے ماہوار سے کم ہے۔ اسلئے صدر نے اس پروگرام سے اپنے لئے چھ ارب روپئے ماہوار مختص کئے ہیں۔

  4. سرکار.خیرات تو گھر سے شروع ہوتی ہے نا اور پھر پاکستان میں یہ حالت تو ہو ہی رہی ہے نا کہ زکوۃ دینے والے اب لینے والے بن گئے ہیں. ویسے بھی جب وطن عزیز میں 6 ہزار ماہانہ والا زکوۃ لینے والوں کی فہرست میں آتا ہے تو نام زرداری ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے.آخر کتنے بخیل ہیں جنکے نام کا ایک حصہ غنی بھی تو ہے.

  5. قاضی صاحب یہی تو المیہ رہا ہے ہمارے ہاں کہ ہر دور میں اپنی پارٹی کے لوگ ہی نوازے جاتے رھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہزارروپے سےکیا بنتا ہے ابھی میں ٹی وی پر خبر چل ر ھی تھی کہ بجلی مزید پینتالیس فیصد مہنگی ھو جا ئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. السلام علیکم
    منظور قاضی صاحب ، یہ بات تو اُس وقت ہی طے ہو گئی تھی کہ جب محترمہ فرزانہ راجہ صاحبہ کو اِس پروگرام کا انچارچ بنایا گیا تھا اور آپ کو مزے کی بات بتاؤں ، بہت سے غریب جیالے بھی اِس پروگرام سے فیض حاصل نہیں کر سکے ۔
    آصف احمد بھٹی

  7. میں صفدر ھمدانی صاحب ، محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ اور آصف احمد بھٹی صاحب کے انتہائیحقیقت پسندانہ اور مدبرانہ تبصروں کا مشکور ہوں :
    خاص طور پر محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا تبصرہ تو ان سارے تبصروں کا نچوڑ ہے کہ :
    “ قاضی صاحب یہی تو المیہ رہا ہے ہمارے ہاں کہ ہر دور میں اپنی پارٹی کے لوگ ہی نوازے جاتے رھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہزارروپے سےکیا بنتا ہے ابھی میں ٹی وی پر خبر چل ر ھی تھی کہ بجلی مزید پینتالیس فیصد مہنگی ھو جا ئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس تبصرے کے بعد کے تمام تبصرے محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے مندرجہ بالا تبصرے کی باز گشت ثابت ہونگے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس لیے میں اس بلاگ کو سلیم کوثر کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں:
    جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
    تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    اب عالمی اخبار کی انتظامیہ کی مرضی ، وہ چاہے تو اس بلاگ کو ہمیشہ کے لیے بند کرسکتی ہے ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی کے ایک گاوں سے

  8. او ہو، آپ لوگوں نے شاید غور نہیں کیا، یہ “بے نظیر” انکم سپورٹ پروگرام ہے، یعنی جس کی نظیر یہ ملے. اب بتائیں بھلا ہے کوئی اس کی نظیر کسی کی نظر میں؟؟؟

  9. وحید اختر واحد صاحب نے بالکل صحیح فرمایا کہ یہ “بےنظیر “ انکم سپورٹ پروگرام ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔
    بہر حال 12 ڈالر ماہانہ کی سخاوت کا اعلا ن کرکے زرداری صاحب نے حاتم کی قبر پر لات تو ماردی ۔
    میری بیوہ بھتیجی اور اسک معصوم بچے اس مدد کے بغیر ہی زندگی گذار رہے ہیں اور انشا اللہ گذارتے جائنگے ۔ اللہ مسبب الاسباب اور قاضی ء حاجا ت ہے ۔ وہی کسی نہ کسی طرح اس معصوم بیوہ اور اسکے بچوں کی بھی حفاظت کرتا رہے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں یہ تبصرہ ختم کرنے سےپہلے وحید اختر واحد صاحب کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے ذاتی ای میل کے ذریعہ یہ انتہائی مخلصانہ خط لکھا :
    “ آپ کے بلاگ پر آپ کے بھتیجے کی شہادت کا پڑھ کر پہت دکھ ہوا۔ کیا آپ اپنے بھتیجے کی بیوہ کا پتہ دے سکتے ہیں مجھے، ہو سکاتو کچھ کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔“

    وحید اختر واحد صاحب کی بے لوث تحریر اور انکی وسیع القلبی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں اس بلاگ میں سب کے سامنے ان سے عرض کرتا ہوں کہ انکا اتنا کہنا ہی کافی ہے ۔ اللہ انکو اس نیک ارادےکا نیک اجر دے آمین
    میں ان سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ مطلق فکر نہ کریں جہاں ایک سال اس بیوہ نےاور اسکے بچوں نے گذاردیا وہاں اسکی اور اسکے بچوں کی زندگی کے بقیہ ماہ وسال بھی گذر ہی جائنگے۔ اللہ رزاق ہے ۔
    وحید اختر واحد کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے مجھے ہمدردی کا خظ لکھا ۔ جزاک اللہ ۔ خوش رہو ۔ اللہ انہیں اور انکے اہل و عیال کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور کسی کا محتاج نہ کرے : آمین
    خیرا ندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  10. قاضی صاحب یہ تو آپ کا بڑا پن ہے، مگر آپ نے مجھے کانٹوں پرگھسیٹ لیا.

  11. وحید اختر واحد صاحب سے عرض ہے کہ وہ مطمئن رہیں ۔ انہوں نے اپنی ای میل کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ ان کا درجہ رحم دل اور بے لوث انسانوں میں بہت ہی اونچا ہے ۔
    خوش رہیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *