محسن بھوپالی مرحوم : ایک عظیم شاعر Mohsin Bhopali a great poet

mohsin bohpaliقابل اجمیری کے حالیہ بلاگ میں محسن بھوپالی کا نام دیکھکر جی چاہا کہ اس پر ایک بلاگ شروع کروں اور محسن بھوپالی کی شاعری کے دلدادہ احباب سے گذارش کروں کہ وہ بھی محسن بھوپالی کی شاعری اور زندگی پر اس بلاگ میں کچھ ارشاد فرمائیں۔
محسن بھوپالی کی پیدائیش 1932 کی ہے اور اسکی وفات پاکستان میں 18 جنوری 2007 ء کو ہوئی۔

میرے پاس محسن بھوپالی کی کوئی کتاب نہیں ہے مگر اللہ بھلا کرے ہمارے عالمی اخبار کے معاونِ خصوصی جناب امجد شیخ صاحب کا کہ انکا ویڈیو پروگرام جو انہوں نے اردو لائف ڈاٹ کام کے تحت یو ٹیوب میں چسپاں کیا اور جس میں محسن بھوپالی کا وہ کلام موجود ہے جسےانہوں نےمشاعروں میں پڑھا ہے اور اگر انہوں ے بذاتِ خود اپنے گلے کی خرابی کی وجہ سے نہیں پڑھا تو انکے دوست حمایت علی شاعر نے ان کا کلام محسن بھوپالی کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا اور محسن بھوپالی نے حاضرینِ مشاعرہ سے داد پائی :

اس پروگرام کی مشمولات کی مدد سے میں اس بلاگ کا آغاز کررہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ محسن بھوپالی کی شاعری کے قدرداں اس بلاگ میں اپنے حصہ کی شمع جلاتے جائیں گے :

محسن بھوپالی کے قطعات حاضر ہیں:

تلقینِِ اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہِ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگئی سیاستِ دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوقِ پرواز تو ہے خوب مگر
حدِ پرواز پر نظر رکھو
جب بھی پاو کوئی نیا اعزاز
اپنے آغآز پر نظر رکھو
۔۔۔۔۔۔
وفا پرستوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں
روایتوں سے کبھی سر کشی نہیں ہوتی
محاذِ جنگ سے پسپائیاں تو جائز ہیں
محبتوں میں مگر واپسی نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وسائل بیچ کر غیروں کے ہاتھوں
مسائل کا مداوا ڈھونڈتے ہیں
ہماری سادہ لوحی کوئی دیکھے
اندھیرا کرکے سایہ ڈھونڈتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
سمجھ کر جاہ و حشم کو ہی آخری منزل
ہمیشہ خود کو نہ اونچی اُڑان میں رکھنا
تمام عمر اے دولت سمیٹنے والو !!
کفن میں جیب نہیں ہوتی دھیان میں رکھنا
۔۔۔۔۔

انتقاماََ مجھ کو وہ درسِِ وفا دے جائےگا
زخم دے کر اک دلِ درد آشنا دے جائے گا
کس قدر نادم ہوا ہوں میں بُرا کہ کر اُسے
کیا خبر تھی جاتے جاتے وہ دعا دے جاےگا
۔۔۔۔۔۔۔۔

محسن بھوپالی کی غزلوں کے چند اشعار :

کراچی کرچیوں میں بٹ گیا ہے
یہ اپنے آئینے سے کٹ گیا ہے

تسلط کی کشاکش میں بالآخر
یہ چشمہ خار و خس سے پٹ گیا ہے

ملی ہے یوں بھی دادِ تشنہ کامی
جو ہم پہنچے تو دریا ہٹ گیا ہے

کل آجائےگا وہ میرے مقابل
ابھی جو چوم کر چوکھٹ گیا ہے

اُسی کا سامنا ہر وقت ہے جو
بظاہر سامنے سے ہٹ گیا ہے

وطن اہل وطن کا کب ہے محسن
وطن اہلِ زمیں میں بٹ گیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ًمحسن بھوپالی کی ایک اور غزل کے کچھ اشعار:

اپنا آپ تماشہ کرکے دیکھونگا
خود کو خود سے مِنہا کرکے دیکھونگا

وہ شعلہ ہے یا چشمہ ہے بھید کھلے
پتھر دل میں رستہ کرکے دیکھونگا

کب بچھڑا تھا کون گھڑی تھی یا د نہیں
لمحہ لمحہ یک جا کرکے دیکھونگا

وعدہ کرکے لوگ بُھلا کیوں دیتے ہیں
اب کے میں بھی ایسا کرکے دیکھونگا

کتنا سچا پے وہ میری چاہت میں
محسن خود کو رسوا کرکے دیکھونگا
۔۔۔۔۔۔۔

اور اسکے یہ اشعار بھی :
لگتاہے جیسے کنجِ وحشت اثر میں آئے
ہم اجنبی کی صورت اپنے ہی گھر میں آئے

فکرِ معاش کیا ہے جُز دائرہ نوردی
دیوار و در سے نکلے دیوار و در میں آئے

کیفیت آج اپنی ایسی ہےجیسے کوئی
شعلوںسےجاں بچانے کاغذ کے گھر مین آئے
۔۔۔۔۔
محسن بھوپالی کے دو قطعات :

یونہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے

نہ دیکھا جان کے اُس نے کوئی سبب ہوگا
اسی خیال سے ہم دل بُرا نہیں کرتے
۔۔۔
صرف احسا س کا ہے کھیل یہاں
علم بھی جہل کے برابر ہے
کیا خبر لو بجھانے والے کو
روشنی تو دیئے کے اندر ہے
۔۔۔۔
یہ کب کہا کہ بھروسہ نہیں ہے وعدےپر
میں جی سکونگا ترا انتظار کرنے تک
خبر نہ تھی وہ مجھےقتل کرنے آیا ہے
مں اُس کو دوست سمجھتا تھا وار کرنے تک
۔۔۔۔
فی الوقت محسن بھوپالی کے ان اشعار پر اکتفا کرتا ہوں ، جیسےجیسے مجھے اس کا کلام کسی نہ کسی ذریعے سے حاصل ہوتا جائےگا اس بلاگ میں شامل کرتا رہونگا۔
اگر میری کمپوزنگ میں کسی کو کوئی غلطی نظر آئے تو مہربانی فرماکر اس کی نشاندہی اور تصحیح کردیجئے ۔
۔۔۔۔۔۔
محسن بھوپالی کا کلام بھی کئی ایک موسیقاروں نے گاکر داد حاصل کی ۔ اسکا کلام ’آوارگی “ اور اسکی غزل “چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری “ بھی تعارف کی محتاج نہیں ۔

فقط:
محسن بھوپالی کی شاعری کا دلدادہ
منظور قاضی
جرمنی سے

69 thoughts on “محسن بھوپالی مرحوم : ایک عظیم شاعر Mohsin Bhopali a great poet”

  1. تصحیح : نیرنگی ء سیاست دوراں تو دیکھئے ۔ پڑھیے شکریہ
    ۔۔۔۔۔
    محسن بھوپالی کی ایک غزل کے چند اشعار :

    لب اگر یوں سئیے نہیں ہوتے
    اُس نے وعدے کئے نہیں ہوتے

    گر ندامت سے تم کو بچنا تھا
    فیصلے خود کئے نہییں ہوتے

    خوب ہے خوب تر ہے خوب تریں
    اس طرح تجزیے نہیں ہوتے

    بات بین السطور ہوتی ہے
    شعر میں حاشیے نہیں ہوتے

    تیرگی سےنہ کیجے اندازہ
    کچھ گھروں میں دیے نہیں ہوتے

    ظرف ہے شرطِ اولیں محسن
    جام سب کے لیے نہیں ہوتے

    ۔۔۔۔۔۔
    محسن بھوپالی کا ایک شعر

    میں نے جس طرح زیست کاٹی ہے
    ایک دن ہی سہی بسر تو کرو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    محسن بھوپالی کی غزل کے چند اشعار :

    ذرّے ذرےّ میں جلوہ گر دیکھا
    تجھ کو دیکھا نہیں مگر دیکھا

    دیکھیں تقدیر کیا دکھاتی ہے
    ہم نے مقدور بھر تو کر دیکھا

    ثبت ہر ہر قدم پہ ہے تاریخ
    آبلہ پائی کا ہنر دیکھا

    بے وفا کہ کے بھول جائیں اُسے
    ہم نےیہ تجربہ بھی کردیکھا

    کیا کہں زندگی کے بارے میں
    اک تماشہ تھا عمر بھر دیکھا
    ۔۔

    محسن بھوپالی کا یہ قطعہ :
    یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
    ترا خیال ہے یا دن نکلنے والا ہے
    یقین مانو میں کب کا بکھر گیا ہوتا
    تمھاری یاد نے اب تک مجھے سنبھالا ہے
    ۔۔۔۔۔

    اور یہ شعار بھی :
    جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
    اس حادثہ ء وقت کو کیا نام دیا جائے
    میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
    کم ظرف کے ہاتھوں میں اگرجام دیا جائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ اس نےمحسن بھوپالی کی تصویر اس بلاگ کے آغاز میں چسپاں کردی۔ جزاک اللہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  2. ٰٰٰ ٰٰٰٰ جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
    اس حادثہ ء وقت کو کیا نام دیا جائے
    میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
    کم ظرف کے ہاتھوں میں اگرجام دیا جائےٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰ

    میں نے جو حکایت سنی ہے اسکے مطابق یہ قطعہ محسن بھوپالی نے اس وقت کہی تھی جب حیدر آباد سندھ میں ایک شاعر کو ایک award دیا گیا تھا۔ میں اس سلسلہ میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہ سکتا۔ میں سیاق وسباق کے طور پر یہ حکایت پیش کررہا ہوں۔

  3. mohsinمحسن بھوپالی صاحب میری پہلی کتاب ” گرد باد حیات ” کی تقریب اجراء پر بلخصوص میری دعوت پرمارچ 2005 میں کراچی آرٹ کونسل میں تشریف لائے تھے . مجھے شرف ہے ان سے ملنے کا .. ڈھیروں باتیں کرنے کا .. ان کی شاعری انہی سے سننے کا اور پھر ان پر اپنے ساتھیوں سے یہ کہہ کر جھگڑا کرنے کا کہ محسن صاحب کسے اچھا رائیٹر سمجھتے ہیں کیونکہ انہی کی موجودگی میں مجھے”بیسٹ رائیٹر” ایوارڈ دیاگیا تھا … وہ ہنستے مسکراتے دنوں کی یادگار تصویری شکل میں موجود ہے .. اس وقت ، وقت کی کمی کے باعث میرے لئے نا ممکن ہے کہ میں یہاں وہ تصاویر لگا سکوں .. کاش کہ میں وہ انٹرویو بھی لگا سکتی جو انہوں نے اپنے شدید بیماری کے باوجود گلے میں لگی ٹیوب پر ہاتھ رکھ رکھ کر ایف ایم سڈنی ریڈیو کے لئے دیا تھا . ان کی آخری کتاب جو مجھے انہوں سے خاص طور پر کراچی سے بھجوائی تھی ان کے سائن اور دعا کے ساتھ میری لئے کسی نایاب تحفے سے کم نہیں ..

    انشاللہ ان یادوں کو ضرور کبھی لکھونگی .. اس وقت اک تھیسس لکھنے میں مصروف ہوں جو مجھے ہر حال میں جلد ہی مکمل کرنا ہے ..
    آپ سب کی دعاؤں کی محتاج ….
    نگہت نسیم

  4. محترم منظور قاضی صاحب آج آپ نے ایک اور بڑا کام کر دیا ہے یہ بلاگ شروع کر کے جہاں ہم سب محترم محسن بھوپالی کو یاد کرین گے۔
    ویسے تو میں نے انہیں اپنی آنکھ کھولتے ہی دیکھا اور جب ہم کوئیٹہ اور سکھر میں رہے تو بھی محسن صاحب مستقل رابطے میں رہے لیکن 2002 میں میں جب کراچی منتقل ہوا تو ہفتے میں کم از کم دو ملاقاتیں رہیں اور آخری بار 17 جنوری کو میں نے انہیں الشفا ہسپتال کے آئی سی یو میں بند آنکھوں میں سانس لیتے دیکھا 18 جنوری کی صبح انکی رحلت کی منحوس خبر نشر ہو کئی۔
    انکی آخری تین کتابیں بھی میں نے اپنے ادارے کینوس کے زیر اہتمام شائع کیں۔یہ سب میں جمعہ کو حیدرآباد پہنچ کر آپ کی خدمت میں ہیش کروں گا۔
    محترم منظور قاضی صاحب نے اپنے ابتدایہ میں فرمایا ہے کہ
    اپنے گلے کی خرابی کی وجہ سے نہیں پڑھا تو انکے دوست حمایت علی شاعر نے ان کا کلام محسن بھوپالی کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا اور محسن بھوپالی نے حاضرینِ مشاعرہ سے داد پائی
    اگر محترم قاضی صاحب نے اجازت دی تو ان دوستانہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالوں گا

  5. قبلہ قاضی صاحب اگر آورگی سے آپ کا اشارہ اس غزل کی طرف ہے
    یہ دل یہ پاگل دل میرا، کیوں بجھ گیا آوارگی
    اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا آوارگی
    تو یہ محسن نقوی کی ہے۔
    ——-
    جناب محسن بھوپالی کی ایک یادگار

  6. میں سب سے پہلے محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو “ بیسٹ رائیڑ آوارڈ “پر ( جو انہوں نے کراچی آرٹ کونسل کی تقریب میں 2005 میں محسن بھوپالی کی موجودگی میں حاصل کیا ) مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ یہ تقریب ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی پہلی تصنیف “ گرد باد حیات “ کی رونمائی پر منعقد ہوئی تھی ۔
    ہم سب عالمی اخبار کے پڑھنےوالے انتہائی خوش قسمت ہیں ہمارے درمیان ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ جیسی ادیبہ موجود ہیں۔
    اللہ انہیں اسی طرح کے انعامات سے نوازتا رہے : آمین

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ بھی خوش قسمت ہیں کہ انہیں محسن بھوپالی جیسے مستند شاعر سے بات چیت کرنے کا موقعہ ملا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے محسن بھوپالی مرحوم کے ویڈیو پروگراموں کو بھی اس بلاگ میں شامل کرکے اس بلاگ کی رونق اور افادیت میں اضافہ کردیا۔
    یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ سید مصباح حسین جیلانی صاحب اپنے قیمتی وقت ا ور اپنی توانائی کو صرف کرکے ایسے ایسے گلدستے ( ویڈیو لنک ) عالمی اخبار کے بلاگوں میںچسپاں کردیتے ہیں جو بلاگو ں میں جان ڈال دیتے ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے میری غلط فہمی یہ کہ کر دور کردی کہ “ آوارگی “ کی ردیف والی غزل محسن بھوپالی کی نہیں بلکہ محسن نقوی کی ہے ۔

    ۔۔۔۔

    آخر میں میں قابل اجمیری مرحوم کے فرزند جناب ظفر قابل کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس بلاگ میں حصہ لیا اور اپنی ذاتی معلومات سے ہم سب کو محسن بھوپالی کے آخری دنوں کا حال سنا دیا۔

    میں ظفر قابل کے اس ارشاد کا مشکور ہوں کہ :

    “انکی آخری تین کتابیں بھی میں نے اپنے ادارے کینوس کے زیر اہتمام شائع کیں۔یہ سب میں جمعہ کو حیدرآباد پہنچ کر آپ کی خدمت میں ہیش کروں گا۔“
    اس سلسلےمیں میں ظفر قابل صاحب سے یہی کہونگا کہ وہ نہ صرف مجھےبلکہ جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو بھی وہ تینوں کتابیں بذریعہ کمپیوٹر بھجوادیں تو ہم تینوں مل کر محسن بھوپالی کی کتابوں سے استفادہ کرسکینگے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ( جو محسن بھوپالی مرحوم سے مل چکی ہیں ) وہ بھی ان کتابوں کو پڑھکر خوش ہونگیں۔ اور سید مصباح حسین جیلانی صاحب وقت ملنے پر ا ن کتابوں کے اقتباسات بھی اس بلاگ میں چسپاں کرتے رہینگے ۔
    ۔۔۔
    آخر میں ظفر قابل صاحب سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بلاگ صرف اور صرف محسن بھوپالی کی شاعری اور اسکے محاسن پر تبصروں کے لیے شروع کیا ہوں ۔

    اس کے پیش نظر اس بلاگ کے موضوع کے تقدس کا تقاضہ ہے کہ ہم کسی ذیلی موضوع یعنی کسی تیسرے فرد کی طرف اس بلاگ کو نہ موڑ دیں ۔ ( امید کہ عالمی اخبار کی “ نظر ثانی “ کرنے والی ہستی اس سلسلہ میں میری مدد کرے گی ) ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہاں اگر ظفر قابل صاحب اپنے والد مرحوم ( قابل اجمیری ) اور محسن بھوپالی کے دوستانہ تعلقات اور ساتھ ہی ساتھ محسن بھوپالی نے جو اچھے کام ظفر قابل صاحب کے لیے انجام دیے ان سب کے متعلق کچھ باتیں لکھنا چاہیں تو یہ بلاگ حاضر ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔
    اگر ظفر قابل صاحب محسن بھوپالی کی کتابیں بذریعہ ای میل بھجوادیں تو اس بلاگ میں محسن بھوپالی کےکلام کےانتخابات پیش کرنے میں آسانی ہوگی ۔
    اور اگر یہ نیک کام خود ظفر قابل صاحب انجام دیں تو اس بلاگ کو چار چاند لگ جائینگے ۔ اس نیک کام کا ثواب محسن بھوپالی کی روح کو ضرور پہنچے گا ۔
    اور اگر محسن بھوپالی کے بیٹے یا بیٹیاں اس بلاگ میںاپنے والد مرحوم کےبارے میں کچھ لکھنا چاہیںتو ضرور لکھیں ۔

    میرا خیال ہے کہ ، سب پڑھنےوالوں کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ قابل اجمیر ی کے بیٹے کی طرح محسن بھوپالی کے بیٹے بھی اردو ادب اور شعر و شاعری کا ذوق و شوق رکھتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔
    ایک بات کہتا چلوں کہ گذشتہ سال جب میں ڈاکٹر پنہاں کی شاعری پر بلاگ لکھنے کی کوشش کررہا تھا تو مجھے محسن بھوپالی کے ایک مضمون جو انہوں نے ڈاکٹر پنہاں کی شاعری پر تحریر کیا تھا ، اس سے بہت مدد ملی تھی ۔
    ۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  7. محسن بھوپالی ،رحو م کی غزل:

    چاہت میں کیا دُنیا داری ، عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا سمجھانے دو، اُن کی اپنی مجبوری

    میں نے دل کی بات رکھی اور تونے دنیا والوں کی
    میری عرض بھی مجبوری تھی، ان کا حکم بھی مجبوری

    روک سکو تو، پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
    کچی مٹی تو مہکےگی ، مٹی کی بھی مجبوری

    جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے ، سب اپنے ہیں
    وقت پڑے تو یاد آتی ہے کیسی کیسی مجبوری

    ذات کدے میں پہروں باتیں ار ملیں تو مُہر بہ لب
    مختاری سی مختاری ہے، مجبوری سی مجبوری

    اک آوارہ بادل سے کیوں میں نے سایہ مانگا تھا
    میری بھی یہ نادانی تھی ، اُس کی بھی تھی مجبوری

    مدت گذ ری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسن
    ہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے محسن بھوپالی کے اس قطعہ کا پہلا شعر چاہیے:

    اس وضاحت کی کیا ضرورت ہے
    چہرہ پڑھنا بھی جانتا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔
    مجھے محسن بھوپالی مرحوم کی اس غزل کے بقیہ اشعار چاہییں:

    بےسبب لوگ بد لتے نہیں مسکن اپنا
    تم نےجلتےہوئے دیکھا ہے نشیمن اپنا

    کس کڑے وقت میں موسم نے گواہی مانگی
    جب گریبان بھی اپنا ہے نہ دامن اپنا

    جب بھی سچ بولتے بچو ں پہ نظر پڑتی ہے
    یاد آجاتا ہے بے ساختہ بچپن اپنا

    یوں کیا کرتے ہیں لڑکو کو نصیحت اکثر
    جیسے ہم نے نہ گذارا ہو لڑکپن اپنا

    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے محسن بھوپالی مرحوم کی اس غزل کے بقیہ اشعار پڑھنے کی خواہش ہے:

    میںمحو ہو گہا تھا کچھ دیر سوچنے میں
    منظر بدل چکا تھا کچھ دیر سوچنے میں

    اک نام سوچنے میں لگتا ہے وقت اب تو
    کیا کیا نہ سوچتا تھا کچھ دیر سوچنے میں

    لمحوں کے فیصلے میں صدیوں کا فاصلہ تھا
    وہ دور ہوچکا تھا کچھ دیر سوچنے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے محسن بھوپالی کی اس غزل کے بقییہ اشعار پڑھنے کی تمنا ہے:
    کیسے سمجھاوں دلِ زار سمجھتا ہی نہیں
    میر ی مشکل مرا غمخوار سمجھتا ہی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگر محسن بھوپالی کی یہ نظم پوری نظم نہیں ہے تو مہربانی کرکے بقیہ اشعار بھی لکھد دیجیے :

    میں زندہ ہوں:
    یونہی ویرانہ ء شب میںبھٹکتا
    اور قضا کے سرد ہاتھوں سے ا لجھتا
    اہر من زادوں کے نرغے میں
    میں ایک معصوم خواہش کے سہارے
    اب بھی زندہ ہوں۔

    کہ یہ جاگی ہوئی آنکھیں
    مسلسل تیرگی میں اک رمق کو ڈھونڈتی آنکھیں
    اُفق کے خوں چکاں آغوش میں اک دن
    گُلِ خورشید کو کِھلتا ہوا دیکھیں
    اور اُس کا عکس اپنی پتلیوں میں لے کےسوجائیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  8. بھوپالی
    منفرد لہجے کے معروف شاعر محسن بھوپالی کی تیسری برسی 17 جنوری 2010 کو منائی گئی۔ محسن بھوپالی پاکستان کے پہلے شاعر تھے جن کو اردو ادب کی صنف قطع نگاری پرملکہ حاصل تھی۔ شعرو ادب میں انہوں نے صرف خود کلام تخلیق کیا بلکہ سندھی زبان کے معروف شاعر عباسی کی شاعری کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ محسن بھوپالی نے اردو شاعر ی کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی اور کامیاب رہے۔ ان کی شاعری میں سنجیدگی اورفکر شعور نمایاں نظر آتا ہے ان کے مجموعہ کلام میں شکست شب ۔۔شہر آشوب ۔ گرد مسافت۔جستہ جستہ۔نظمانے شامل ہیں ۔۔محسن بھوپالی کی کہے ہوئے کئی اشعار اور مصرعے آج ضرب المثال کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

    عظمت فن کے پرستار ہیں ہم
    یہ خطا ہے تو خطا وار ہیں ہم

    جہد کی دھوپ ہے ایماں اپنا
    منکر سایہء دیوار ہیں ہم

    جانتے ہیں تیرے غم کی قیمت
    مانتے ہیں کہ گنہگار ہیں ہم

    اس کو چاہا تو کبھی، خود کی طرح
    آج خود اپنے طلب گار ہیں ہم

    کوئی منزل ہے نہ جادہ محسن
    صورت گردش پرکار ہیں ہم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے سکوتِ لب پر بھی الزام آگئے
    میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو
    …………
    سوزِ دل و گدازِ جگر معتبر نہیں
    جب تک غم حبیب غم دو جہاں نہ ہو
    …………
    ہم نے اپنے خوں سے جلائی تھیں مشعلیں
    ہم سے تو اے نگارِ سحر بدگماں نہ ہو
    ……..
    محسن ہمارے طرزِ تکلم کی بات ہے
    ہر شخص سوچتا ہے مری داستاں نہ ہو

  9. ماشا اللہ جناب صفدر ھمدانی صاحب نے اس بلاگ میں محسن بھوپالی مرحوم سے متعلق انتہائی تاریخی ویڈیو پروگرام بھی شامل کردیے اور ان کے ساتھ ساتھ محسن بھوپالی کی زندگی اور اس کی شاعری پر ایک محققانہ تبصرہ بھی عطا کردیا۔
    جزا ک اللہ

    اسی طرح محسن بھوپالی کی شاعری پر اگر اردو کے دانشور اور سخنور اپنے اپنے تبصرے عطا کرتے رہیں تو یہ بلاگ بھی قابل اجمیری مرحوم کے بلاگ کی طرح ایک تاریخی بلاگ بن جائے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے محسن بھوپالی کی تصا نیف پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا جس کا افسوس ہے ، مگر اب تک جن اشعار کو میں اس بلاگ میں پڑھا ہوں ان میں احتجاجی شاعری یا انقلابی شاعری کا انداز نظر نہیں آیا ( جو حبیب جالب اور فراز اور فیض جیسے شعرا کے کلام میں تھا )

    مگر یہ بات بھی محسوس کیا ہوں کہ اسکے اشعار روایتی انداز میں محبوب کی کج ادائی کی اور بے وفائی اور بے اعتنائی کی عکاسی کی بجائے یا پھر غم جاناں اور غم دوراں کی مسلسل شکایت کی بجائے ایک مخصوص انداز میں اپنے حریف اور خیالی رقیب کو ہی اپنی توجہ کا مرکز بڑی ہی مہارت سے بنا تے ہیں ۔

    ممکن ہے کہ محسن بھوپالی کی تمام تصنیفات پڑھنےکے بعد میرا یہ اندازہ غلط ثابت ہو ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    میںیہ سمجھتا ہوں کہ محسن بھوپالی کی عظمت کا راز بھی یہی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور تاثرات کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ جس انداز سے کسی اور سخنور نے اپنی شاعری میں اب تک پیش نہیں کیا۔ ۔

    اسی لیے میں محسن بھوپالی کے انداز بیاں کے متعلق غالب کا ہی شعر جسے میں میری پسندیدہ شاعرات ڈاکٹر پنہاں صاحبہ اور عرشی صاحبہ کے متعلق ( تھوڑی سے تبدیلی کےساتھ ) کہتا ہوں کہ :

    ہیں اور بھی اردو کے سخنور بہت اچھے
    کہتےہیں کہ محسن کا ہے اندازِ بیاں اور

    اس شعر میں محسن کی بجائے قابل بھی پڑھا جاسکتا ہے۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  10. توجہ اور تصحیح کا طالب ہوں:
    میں نے اپنے ایک تبصرے میں محسن بھوپالی کے ان اشعار کو یوں لکھا ہے :

    روک سکو تو، پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
    کچی مٹی تو مہکےگی ، مٹی کی بھی مجبوری

    جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے ، سب اپنے ہیں
    وقت پڑے تو یاد آتی ہے کیسی کیسی مجبوری

    مگر اوپر کےا یک ویڈیو پروگرام میں گل بہار بانو نے یہ اشعار یوں پیش کیے ہیں:
    روک سکو تو ۔ پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
    کچی مٹی تو مہکے گی ، ہے مٹی کی مجبوری

    جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
    وقت پڑے تو یاد آجاتی ہے مصنوعی مجبوری

    اگر کسی کو اس غزل کا صحیح متن معلوم ہوتو مہربانی فرما کر اس بلاگ میںبتادے ۔ شکریہ

  11. جب بھی پاؤ کوئی نیا اعزاز
    اپنے آغاز پر نظر رکھو

    تمام عمر اے دولت سمیٹنے والو
    کفن میں جیب نہیں ہوتی دھیان میں رکھنا

    محسن بھوپالی

  12. محسن بھوپالی کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ انھوں نے خواجہ معین الدین کے ڈرامے تعلیم بالغاں ٰٰ میں دو مُختلف ادوار میں دو مُختلف شہروں میں دو مرتبہ اداکاری کی جبکہ ٢١ دسمبر ١٩٥٩ میںحیدرآباد سندھ کے مشہور صداکارو اداکار سید ارشاد علی کے اسٹیج ڈرامے اندھیرے اُجالے ، میں معروف ادکار مُحمدعلی کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا تھا –

    کئی بڑے اور مشہور شعرا ّ کے بر عکس مرحوم راسخ العقیدہ مُسلمان تھے ، نئے لکھے والوں کی حوصلہ افزائی میں کبھی کنجوسی نہیں کرتے تھے –

    مُحسن بھوپالی کے کئی اشعار زابان زدعام ہوئے اور ایسی شاعری میں کہتے ہیں کے بڑی شاعری کا امکان کم ہوتا ہے لیکن مُحسن بھوپالی نے اسے رد کر دکھایا ، حالانکہ ان کی شاعری نیرنگی حالات کی زیرِدام ریی جہاًں طویل نظموں کے ذریعے کئی موضوعات سمیٹے جاتے ہیں ، مگر وہ چھوٹی نظمیں لکھنا پسند کرتے تھے چنبیلی اور چیری کی ننھی کلیوں جسی نظمیں جو ان کے الفاظ کی مہک کو ہمیشہ بکھرتی رہیں گی-

    فراقِ زیست کا دھڑکا لگا رہا مُحسن
    تمام عُمر جیئے مرگِ ناگہاں کے لئے

    منفرد تخلیقی شاعر و نثر نگار اور اردو ہاہیکو کے مربی کے داعی اجل کو لبیک کینے پر ادب کی دنیا سوگوار ہے اور دُعائے مغفرت کے ساتھ انہیں سلام پیش کرتی ہے-

  13. ہماری خوشقسمتی ہے کہ جناب خاور چوہدری عالمی اخبار کی ٹیم میں شامل ہیں۔ انکی محسن بھوپالی صاحب کے حوالہ سے ایک تحریر کا عکس۔ اس پر مزید تبصرہ اور روشنی ڈالنے کے لئے اگر وہ خود کچھ سطریں مزید کھینچ دیں تو بہت اچھا رہے گا۔
    انکے مضمون کا عکس یہ ہے:
    ———————————————–
    تذکرہ محسن بھوپالی کا (ازخاور چودھری)

    میں اپنا شعری مجموعہ”ٹھنڈاسورج“ترتیب دے رہاتھا۔چاہتاتھاکہ اس مجموعے میں کسی نام ورادیب کی رائے شامل کروں ۔ ادبی رسالہ”تجدیدنو“کی مدیرہ محترمہ آپا عذرا اصغرصا حبہ کوفون کرکے اس حوالے سے مشورہ مانگاتوانھوں نے بلاتاخیردونام گنوائے۔پہلانام محسن بھوپالی صاحب کاتھااوردوسراجناب انورسدیدکا ۔پھرمیں نے فیصلہ کیاکہ ان دونوں شخصیات میں سے کسی ایک کاانتخاب کر لیا جائے ۔ بہت سوچنے کے بعداول الذکرپرسوئی آٹکی۔ یہ جنوری 2004ء ء کاکوئی یخ بستہ دن تھا۔میں نے کمپوزشدہ مسودہ کی ایک اہتمام سے جلدبندھوائی اور اپنا مختصر تعارف لکھ کرمحسن صاحب کی خدمت میں روانہ کردیا۔مجھے اُس وقت سخت حیرت ہوئی جب مجھے محسن صاحب کاجوابی خط موصول ہوا۔ انھوں نے کمال محبت سے لکھاکہ وہ”ٹھنڈاسورج“ پر ضرور رائے دیں گے۔میں اسی وقت انھیں شکریہ کاخط لکھنے بیٹھ گیا۔مہینہ بھرگزر گیا تھامگراُن کی طرف خاموشی تھی پھراچانک ایک روزان کاخط آیاجس نے ان کی بیماری کی بدخبری دی۔محسن صاحب نے لکھاتھاکہ اگرمجھے کتاب کی اشاعت میں جلدی ہے توکسی اورسے رائے لے لوں۔ تب میں نے کہامجھے کوئی جلدی نہیں دیباچہ آپ ہی لکھیں گے اورجب تک میں انتظار کر لوں گا۔
    مارچ 2004ءء کے پہلے ہفتہ میں اپنے نام محسن صاحب کاپیکٹ پاکربہت مسرورہوا۔ ٹھنڈا سورج پررائے اپنی جگہ میرے لیے اہم توتھی ہی اس پرلطف انھوں نے اپنی دو کتابیں بھیج کر کیا۔ بغیرکسی تعارف اورتعلق کے ان کی طرف سے برتی گئی محبت مجھے ان کاگرویدہ بنا گئی ۔ یوں ان سے میرادلی واسطہ قائم ہوگیا۔میں اپنی ادارت میں شائع ہونے والے اخبار’ ’تیسرارُخ“ کا ادبی صفحہ ہفتہ واربھجوانے لگا اور وہ ہرباراپنی گراں قدررائے سے نوازتے رہے۔اس ہفتہ وار اخبار کے لیے جب میں نے ملک میں موجود سینئر لکھنے والوں کے انٹرویوزکاسلسلہ شروع کیاتوان سے بھی درخواست کی۔مگران کی بیماری ہمیشہ آڑے آتی رہی۔میری ہزارخواہش کے باوجودان کا انٹرویو تیسرارخ میں نہ چھپ سکا۔ یوں میرے افسوس کی کیفیت دوگناہوگئی۔مجھے مرحوم اشفاق احمد کا انٹرویولینے کابھی شوق تھااورمیں اس میں بھی ناکام ہو چکا تھا ۔ اخبارکی مصروفیات میں ٹھنڈاسورج کی اشاعت کا منصوبہ پسِ پشت ہوتاگیااوراُدھربھوپالی صاحب اپنے ہردوسرے خط میں اس کی اشاعت کے حوالے سے پوچھتے۔ میں ہرباریہی کہتابس ابھی اسے اشاعت کے لیے دیتے ہیں اورپھر اخبار میں اُلجھ جاتا۔محسن صاحب کی مسلسل”پوچھ گچھ “کے نتیجہ میں کتاب چھپنے کے لیے پریس میں دے دی گئی۔یہاں ظلم یہ ہواکہ پرنٹرنے کمپوزشدہ مسودہ اورٹائٹل(جسے ملک کی معروف مصورہ و ا دیبہ مسزشبہ طرازنے انتہائی خلوص سے بنایاتھا)ضائع کردیے۔یوں ایک بار پھر اس حوالے سے رکاوٹ آگئی۔اب جب بھی محسن صاحب کاخط آتامیں شرمندہ ہوجاتا۔مجھے اعتراف ہے کہ ٹھنڈاسورج کی اشاعت کی تیزترتحریک جناب محسن بھوپالی کے خطوط سے ہی ہوئی۔ یوں جنوری 2006ءء میں یہ کتاب چھپ کرآگئی۔جب کتاب انھیں بھجوائی گئی توان کا محبت اور خوشی سے لبریزخط سامنے پاکرساری تھکاوٹ اتر گئی ۔اگلے چنددنوں میں انھوں نے کچھ کتابیں مجھ سے منگواکرمختلف رسائل،ریڈیو،ٹیلی ویژن اوراخبارات کوبھجوائیں۔اس طرح میرا اورمیری کتاب کاتعارف ہوا۔انھوں نے لاہور کے معتبرادبی رسالے”ادب لطیف “ میں ”ٹھنڈاسورج“پربھرپورمضمون بھی لکھا۔مجھے حیرت انگیزخوشی اس وقت ہوتی جب وہ ٹھنڈاسورج پر چھپا ہوا تبصرہ ارسال فرماتے۔محسن بھوپالی صاحب کی محبت سے یہ کتاب کئی ادب شناسوں تک پہنچی۔ کبھی کبھی اس حوالے سے مجھے اپنی کاہلی اور لاپروائی پرندامت بھی ہوتی تھی۔۔ مگر اُس طرف سے کبھی کوئی ایساموقع نہیں پیداہوا۔میں سوچتاتھاان کایہ الطاف میرے لیے ہی خاص ہے مگر ہرہرنوواردنے ان سے والہانہ محبت کااظہارکیا۔گویاوہ ایک خوش بوکی مثال سب کے لیے اپنا من وارکھتے۔ مگر آج … آج وہ ہم میں نہیں ہیں۔ محبتیں بانٹنے والا،نئے لوگوں کوراہ دکھانے والا، حوصلہ افزائی کرنے والامحسن بھوپالی اس دنیاسے رخصت ہوگیاہے۔وہ ادب کی قدیم اورجدید تاریخ کاانوکھااوراکلوتامسافرتھا ۔اُس نے روایت کوبھی نبھایااورجدت کوبھی اختیارکیا۔مغربی ادب کے تراجم بھی کیے اورجاپانی اصناف ہائیکو اور واکا بھی متعارف کروائے۔ نہ صرف خودان اصناف کوبرتابل کہ کئی لوگوں کواس جانب لانے والے وہی ہیں۔کراچی میں جاپانی سفارت خانے میں ہائیکوکے مشاعرے برپا کرنے میں ان کابہت بڑاحصہ ہوتاتھا۔ اب شاید ہائیکو اور ”واکا“کے لیے کوئی اتنی بلندآوازنہیں اُٹھاپائے گا۔محسن صاحب کی رحلت سے میرے لیے ادبی تحریک کاایک دروازہ بند ہوگیا ہے۔جس کامجھے بہت صدمہ ہے۔کراچی میں مقیم ایک دوست نے جب اس سانحہ کی خبردی توبے اختیارآنکھوں سے آنسوبہہ نکلے۔زندگی کے حوالے سے انھوں نے بہت پہلے کہاتھا:
    زیست ہمسائے سے مانگا ہوا زیور تو نہیں
    ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے کھو جانے کا
    محسن بھوپالی صاحب کاخاندانی نام عبدالرحمان تھا۔وہ29ستمبر1932ءء کوبھوپال سے متصل ضلع ہوشنگ آبادکے قصبہ سہاگ پور میں پیداہوئے تھے۔مرحو م کے والد گرامی حاجی محمد عبدالرزاق محکمہ ڈاک وتارمیں ملازم تھے ۔اس لیے ان کاقرب وجوارمیں تبادلہ ہوتا رہتا تھا ۔ یوں محسن صاحب بھی ان علاقوں سے واقف ہوتے گئے۔مرحوم نے ابتدائی تعلیم حبیبیہ مڈل اسکول اور الیگزینڈرہائی اسکول بھوپال سے حاصل کی ۔ستمبر1947ءء میں پاکستان ہجرت کرآئے اور لاڑکانہ میں سکونت اختیارکرلی۔1951ءء میں گورنمنٹ ہائی اسکول لاڑکانہ سے میٹرک کیا۔ 1954ءء میں گورنمنٹ کالج لاڑکانہ سے انٹرکیا۔سہ سالہ ڈپلومہ انجینئرنگ این ای ڈی انجینئرنگ سے1957ءء میں کیا۔ایم اے اُردو جامعہ کراچی سے 1979ءء میں کیا۔ان کی اس رسمی تعلیم کے ساتھ ملازمت کاسلسلہ بھی جاری رہا۔وہ1952ءء میں ہی اوورسےئرکی حیثیت سے محکمہ تعمیرات سندھ سے وابستہ ہوگئے تھے اورپھربہ حیثیت ایگزیکٹوانجینئر28جولائی 1993ء ئکو ریٹائر ہوئے۔ محسن صاحب کاادبی سفرپاکستان آنے سے پہلے شروع ہوچکاتھاتاہم 1948ءء میں ساحر عباسی کے رسالے”بربط“کراچی میں ان کی پہلی غزل شائع ہوئی۔ محسن صاحب کاسیاسی شعور بہت پختہ تھا۔ 1954ءء میں ملک کاسیاسی ماحول دیکھاتوکہہ اُٹھے:
    نیرنگئی سیاستِ دوراں تو دیکھیے
    منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
    ان کایہ شعرضرب المثل بن گیا۔1956ءء میں پیرعلی محمدراشدی نے اسے قومی اسمبلی میں پڑھا اور ملک کے تمام اخبارات میں شائع ہوا۔اس سے اگلے دوسال کے دوران سردار عبدالرب نشتر نے یہ شعراس قت پڑھاجب ری پبلکن پارٹی کے ڈاکٹرخان نے مغربی پاکستان کابینہ تشکیل دی تھی ۔ اور اب یہ شعرہرکوئی اپنے مقاصدکے لیے استعمال کرتاہے۔محسن صاحب کی زندگی کا ایک دل چسپ واقعہ یہ بھی ہے جب1962ءء میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کامشاعرہ ہورہاتھامرحوم حیدر آباد سے بلائے گئے تھے۔حبیب انصاری سیکرٹری انجمن ترقی ارود مشرقی پاکستان ان کے برابربیٹھے ہوئے شعرا کولفافے دے رہے تھے توانھوں نے ایک شاعر سے پوچھاکہ اس میں کیاہے۔اُس شاعر نے انتہائی لاپروائی سے جواب دیاڈھاکہ میں مشاعرہ ہورہاہے اوریہ ہوائی جہازکاٹکٹ ہے۔ یہ سن کرمحسن صاحب توگویالال پیلے ہوگئے۔اُردونیوزجدہ کی بدھ 14 جون1995ءء کی اشاعت میں اس حوالے سے اپنی زبانی یوں کہا ”میں نے سوچایااللہ یہ کیااندھیرہے!جن کی شاعرانہ حیثیت مشکوک ہے وہ بلائے جارہے ہیں اورہم نظراندازہورہے ہیں۔خیر۔۔۔جب مشاعرہ پڑھاتوٹکٹ تقسیم کرنے والے صاحب میرے پاس آئے اورنام پتہ لکھ لیا۔بعدمیں اس مشاعرہ میں،میں بھی شریک ہوا۔“محسن صاحب صحافت سے بھی وابستہ رہے۔انجمن کے نام سے جنگ میں ادبی کالم لکھتے رہے۔مختلف اداروں کی طرف سے اعزازت اورتعارفی اسنادحاصل کیں۔ لگ بھگ بیس کتابیں تصنیف کیں اورسات درجن سے زایدکتابوں کے دیباچے یاپیش لفظ لکھے۔”نظمانہ“ کے نام سے انھوں نے ادبی صنف متعارف کرائی ۔اسی صنف کاایک نظمانہ دیکھیے جس کاعنوان”نئی پود“ہے
    سلمیٰ۔۔۔۔۔میں توٹونی کو
    کہتے کہتے ہارگیاہوں۔۔۔۔تم بھی کوشش کردیکھو
    بیٹااپنی مرضی سے گرشادی کی تو
    دودھ نہ بخشوں گی
    ۔۔۔۔۔ ممی وہ کیاہوتاہے؟
    محسن صاحب کے حوالے سے علامہ نیازفتح پوری نے1962ءء میں کہاتھا”محسن بھوپالی کے ہاں شعرمحض فن نہیں بل کہ اشارئہ صداقت بھی ہے۔“نام ورنقادڈاکٹرسلیم اختر نے 1975ءء میں کہاتھا”محسن تلخ طنزکاشاعرہے اوریہ اچھاہی ہے کہ اس تلخی سے قاری کتھارسس کرتا ہے۔“ مرحوم احمدندیم قاسمی یوں گویاہوئے”یہ اعزازصرف محسن بھوپالی کاہے کہ انھوں نے مختصرنظم کے امکانات کواتنی ناقابل یقین وسعتیں دی ہیں۔“بہ قول انورسدید”محسن بھوپالی جب بھوپال سے روانہ ہواتواس کے کاندھوں پرغزل کاپھٹاہوالبادہ تھااورمنزل دشوار تھی لیکن جب وہ کراچی میں واردہواتواس کاذہن نئے جذبے سے معمورتھااورآنکھوں میں مستقبل سے ٹکرانے کا عزم۔ کچھ عرصے اس نے غزل کی وادی کی خراماں خراماں سیرکی اور پھر قطعے کے چھوٹے سے قصر میں داخل ہوگیا۔“سحرانصاری صاحب نے کہا”محسن کاطنزبہت تیکھا، تیز اور متاثرکن ہوتاہے اور خاص بات یہ ہے کہ ان کے طنزمیں تلخی یازہرناکی نہیں ہوتی۔“ محسن بھوپالی صاحب خوش قسمت تھے کہ انھیں پروفیسر سحر انصاری، سلطان جمیل نسیم،حسن ظہیر،شوکت عابدی جیسی شخصیات کاساتھ حاصل تھا۔ان تمام کے درمیان گہری اورانمٹ محبت تھی۔مگرآج ان کا ساتھ سب سے چھوٹ چکا ہے وہ جوکہتاتھا:
    تمھیں آسائشِ منزل مبارک
    ہمیں گردِ مسافت ہی بہت ہے
    آخری منز ل کوروانہ ہوچکاہے۔زندگی کی فریب اورکھردراہٹ سے پوری طرح واقف اوراس کے گدازپن اورحقیقتیں کاشناسایوں کہہ گیا:
    ایک لمحے کو معطل نہیں تپنے کا عمل
    زندگی جلتے دیے پر ہے ہتھیلی کی طرح

    جو بوالہوس کے تصرف میں لالہ زار آئے
    بتاوٴ اہل چمن کیسے پھر بہار آئے

    ہزاروں دیپ جلا کر جو آپ بجھ جائے
    ہم اس چراغ کے بجھنے کا غم نہیں کرتے
    یقینامحسن صاحب نے ہزاروں چراغ جلائے ہیں جن کی لوہمیشہ ان کی یاددلاتی رہے گی۔محسن صاحب75برس کی عمرمیں رخصت ہوگئے ہیں اور بیوہ،چاربیٹوں اوردوبیٹیوں سمیت ہزاروں چاہنے والوں کواپنے لیے آنسوبہانے والوں میں شامل کرگئے ہیں۔جب تک یہ سطریں شائع ہوں گی وہ منوں مٹی اوڑھ چکے ہوں گے۔محبتیں لٹانے والے اس شخص کی قبرپراللہ رحمت کرے۔

  14. جناب خاور چوہدری کی کتاب ٹھنڈا سورج کا دیباچہ محسن بھوپالی صاحب نے لکھا تھا۔ اسکا ایک عکس پیش خدمت ہے جو ہائیکو کے حوالہ سے ایک سند رکھتا ہے۔
    ————————————-ہائیکونگاری کے تسلسل میں“ٹھنڈاسورج“

    محسن بھوپالی

    اردوادب کے شعری ادب میں بیشتراصناف سخن مشرق وسطیٰ اورمغرب سے ہی آئی ہیں لیکن ان کے مقبول اورمعتبرہونے میں طویل عرصہ لگا جب کہ جاپان سے درآمدہونے والی صنف سخن ہائیکونے بیس پچیس برس کی قلیل مدت میں برصغیرپاک وہندمیں جوحیرت انگیزمقبولیت حاصل کی ہے وہ اردو اور اہل اردوکے لئے باعث فخرہے۔
    گزشتہ تقریباًدو دہائیوں میں صرف ہائیکوپرمشتمل درجنوں شعری مجموعے منظرعام پرآچکے ہیں ۔
    متعدد ادبی رسائل میں ہائیکوسے متعلق مضامین بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے اہم شہروں کراچی‘اسلام آباداورکوئٹہ وغیرہ میں ہائیکو مشاعرے بھی منعقدہوتے رہتے ہیں۔خصوصاًکراچی میں جاپان قونصل خانہ کے تحت1982ء سے سالانہ بنیادپرتسلسل کے ساتھ ہائیکومشاعرے کا انعقاد کیاجارہاہے جس میں اردوکے سینئرشعراکے علاوہ نئے شعراء بھی کافی تعدادمیں پابندی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔آج یہ بات نہایت تیقّن کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ہائیکواب اردو ادب کے قارئین کے لئے نہ صرف اجنبی صنف سخن نہیں رہی ہے بلکہ اصناف شعری میں گراں بہااضافے کی حیثیت اختیارکرچکی ہے۔
    جس طرح شاعری کی دیگراصناف غزل‘قطعہ‘رباعی کے علاوہ مغرب سے آنے و الی اصناف ‘ آزادنظم‘نظم معریٰ‘سانیٹ اورترائیلے تک اپنی مخصوص ہیئت کی وجہ سے اپنی جداگانہ شناخت رکھتی ہیں۔ اسی طرح ہائیکوبھی بشمول دیگرفنّی پابندی کے اپنی مخصوص ہئیت(FORM)کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ہائیکوکاپہلااورتیسرامص رع مساوی الاوزان جب کہ دوسرے مصرعے میں ایک رکن زائد ہوتا ہے ۔اساتذہ فن اوربیشترنقادوں نے مندرجہ ذیل ارکان کوہائیکوکے اصل وزن کے انتہائی قریب ہونے کے باعث صحیح وزن قراردیاہے جسے ارکان ‘اعداد اوراردومصرعوں کی وضاحت کے ساتھ دیا جا رہاہے :۔

    فع لن۔فع لن۔فع = 5
    آ وا ۔ رہ پت۔تے
    فع لن۔فع لن۔فع لن۔فع = 7
    تم نف۔رت سے۔مت دے۔کھو
    فع لن۔فع لن۔فع
    کل یہ۔کونپل۔تھے = 5

    برصغیرپاک وہندکے تقریباً سبھی شعراء اس وزن کی پابندی کے ساتھ ہائیکولکھ رہے ہیں۔یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ اس پابندی کوپہلے پہل جاپان قونصل خانہ کراچی کے سالانہ مشاعرے منعقدہ1983ء میں ہدایت کی بموجب ملحوظ رکھاگیاتھا۔اس مشاعرے میں راقم نے جوہائیکوپیش کئے تھے ان میں سے دوہائیکویہاں دینابے محل نہ ہوگا:۔

    بازآؤں گاجا
    مجھ کوتوپھرسمجھانا
    اس سے مل کرآ

    بارش کا یہ ساز
    رہ رہ کر یاد آتی ہے
    گھنگرو کی آواز

    بعض نقادوں نے پروفیسرمحمدامین کوان کے ہائیکومجموعے مطبوعہ 1981ء (طبع اول)1982 ء (طبع دوم)کی بنیادپرانہیں پاکستان کا پہلا ہائیکو نگار قرار دیا ہے جب کہ ان کے ہائیکوکے تینوں مصرعے مساوی الاوزان ہیں اس لئے یہ ہائیکوکی بنیادی شرط یعنی ہیئت کی پابندی پرپورے نہیں اترتے چنانچہ انہیں مختصرنظمیں ہی شمارکیاجاناچاہئے۔اس واضح فرق کے بارے میں مصنف نے اپنے ہائیکو کے دیباچے میں خودتحریرکیاہے:۔
    “اردوہائیکواوربالخصوص میرے ہائیکوجاپانی ہائیکوسے مختلف ہیں۔۔۔ میں نے چونکہ جاپانی ہائیکوسے متاثرہوکرہائیکولکھنے شروع کئے اورجاپانی ہائیکوکی خصوصیات کوملحوظ رکھاہے اس لئے میں اسے ہائیکو کا نام دیناہی مناسب سمجھتاہوں۔“
    مساوی الاوازان مصرعوں پرمشتمل مختصرنظمیں قیام پاکستان سے قبل بھی لکھی جارہی تھیں۔ مخمورجالندھری کی مختصرنظمیں کامجموعہ جواسی نام سے کتابی صورت میں 1946ء میں شائع ہواتھا۔ مذکورہ مجموعے سے تین نظمیں دی جارہی ہیں تاکہ میرے مؤقف کی تائیدہوسکے:۔

    توکیاجانے تیرے سرپر
    وقت کاچرخاگھوں گھوں کرتا
    کات رہاہے بال سفید

    اک اورناؤکنارے پہ بھرکے ڈوب گئی
    امیدتھی کہ سمندرکی موج کف آلود
    اٹھی‘بلندہوئی اورپھرسے ڈوب گئی

    گذراتھاابھی کون سڑک سے کہ ابھی تک
    ہاتھوں میں ہے بنئے کے اسی طرح ترازو
    درزی کی سوئی پہلے جہاں تھی ہے وہیں پر

    ہائیکوکی ہئیت کے سلسلے میں بات یقیناخاصی تفصیل میں چلی گئی ہے لیکن یہ بنیادی مسئلہ تھا جس کی وضاحت مثالوں کے ساتھ ضروری تھی۔
    پانچ سات پانچ کی پابندی کے ساتھ سینئرشعراء کے علاوہ جن نئے شعراء اورشاعرات نے کامیاب ہائیکولکھے ہیں ان میں مہتاب الدین مہتاب‘لیاقت علی عاصم‘آفتاب مضطر‘ شبہ طراز‘ثروت سلطانہ ثروت‘ اور رونق حیات کے نام قابل ذکرہیں۔مہتاب اورعاصم کے علاوہ بقیہ شعراء کے ہائیکوکے مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں۔پچھلے چندبرسوں میں ہائیکو نگاروں کی اس کہکشاں میں خاور چودھری کے نام کاخوشگواراضافہ ہواہے۔ انہوں نے مساوی الاوزان ہائیکوبھی لکھے ہیں اورہیئت کی پابندی کے ساتھ بھی لیکن میرے نزدیک ہیئت کی پابندی کے ساتھ لکھے گئے ہائیکوہی ان کی پہچان ہیں جب کہ انہوں نے ماہئیے میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔
    ادبی مراکزسے دورہونے کے باعث انہیں ہائیکونگاروں میں کم ہی شمارکیا گیا ہے اوران کے کلام کی خاطرخواہ اشاعت بھی نہیں ہوسکی ہے جب کہ انہوں نے نہ صرف ہیئت کی پابندی کوملحوظ رکھتے ہوئے کامیاب ہائیکو لکھے ہیں بلکہ ہائیکوکے مزاج اورمضامین کونہایت خوبصورتی سے برتا ہے ۔ جاپانی ہائیکومیں قوافی کااہتمام نہیں کیا جاتالیکن اردوکے کئی شعراء قوافی کی پابندی کے ساتھ بھی کہہ رہے ہیں اورپابندی کے بغیربھی۔خاورکے بیشتر ہائیکوکے پہلے اورتیسرے مصرعے ہم قافیہ نہیں ہیں۔خاورنے مساوی الاوزان مصرعوں پرمشتمل ہائیکوبھی لکھے ہیں لیکن اصل وزن میں ہی لکھے گئے ہائیکوان کی پہچان ہیں۔مثلاً

    قریہ قریہ دھوپ
    میٹھے جھرنوں کاپانی
    قصّے بُنتاہے!

    کالے موسم میں
    وعدوں کی زنجیر کٹے
    مشکل ہو آسان

    رفتہ فرداکیا
    حال میں رہناسیکھ لیا
    ہم دیوانوں نے

    صحرا صحرا یاد
    میری آنکھوں میں اُتری
    اشکوں کی بارات

    جاپانی ہائیکومیں موضوعات اورمضامین کے لحاظ سے موسم‘حشرات الارض ‘اور مظاہرفطرت کوکلیدی حیثیت حاصل ہے۔خاور# نے بھی اپنے انداز میں انہیں نہایت خوبی کے ساتھ اپنے ہائیکوکا موضوع بنایاہے۔

    جھینگر‘جگنو‘رات
    جذبوں کی سرگوشی سن
    دیپک راگ نہ چھیڑ

    زخمی زخمی خواب
    بادل ، برکھا ، ساون رُت
    تنہائی کی آگ

    کُہرے کی چادر
    پربت غم کے ٹوٹ پڑے
    شعلے اُٹھتے ہیں!

    خود سے ڈر جاؤں
    چاند کی روشن راتوں میں
    سایہ ساتھ چلے

    خاورکے بعض ہائیکوجاپانی صنف سخن“سِن ریو“پرپورے اترتے ہیں:۔

    سگرٹ‘بیڑی‘پان
    اب توایساکچھ بھی نہیں
    شاعرکی پہچان!

    راز چھپائے کون
    دوست سپولے بن بیٹھے
    ہاتھ ملائے کون

    خاورنے اس صنف کوغالباًشعری ذائقہ بدلنے کے لئے استعمال کیاہے لیکن ان کااصل میدان ہائیکوہے اور“ٹھنڈاسورج“ہائیکوکاایک اہم مجموعہ ہے میں اسے ہائیکوکی سبدِ گل میں ایک تازہ پھول کااضافہ سمجھتاہوں جواہل نقدونظرکی توجہّ بھی حاصل کرے گااورقارئین کی دادوتحسین کامستحق ہی نہیں حق داربھی ٹھہرے گا۔

    (محسن بھوپالی28فروری2004ء)

  15. ایک غزل

    غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
    وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا

    ہے تار تار میرے اعتماد کا دامن
    کسے بتاؤں میں بھی امین رکھتا تھا

    اُتر گیا ہے رگوں میں میری لہُو بن کر
    وہ زِہر ذائقہ بڑا انگبین رکھتا تھا

    گُزرنے والے نہ یُوں سرسری گُزر دل سے
    مکاں شِکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا

    وہ عقلِ کُل تھا بھلا کس کی مانتا محسن
    خیال خام پہ پُختہ یقین رکھتا تھا

    محسن بھوپالی

  16. ایک اور کلام
    (انٹر نیٹ پر پہلے سے موجود ہے، سو میں نقل یہاں لگا رہا ہوں)۔
    چمن چمن اُسی رنگیں قبا کو دیکھتے ہیں
    ہر ایک جلوے میں جلوہ نُما کو دیکھتے ہیں

    تیرے مزاج سے ہم اس قدر ہوئے مانوس
    کہ شاخ گُل میں بھی تیری ادا کو دیکھتے ہیں

    کلی پہ تیرے لبوں کا گُماں گُزرتا ہے
    گُلوں میں ہم تیرے رنگ حنا کو دیکھتے ہیں

    یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنے والے
    تجھے خبر بھی ہے آب بقا کو دیکھتے ہیں

    دمکنے لگتے ہیں ذرے جدھر سے تُو گزرے
    ستارے جھُک کے تیرے نقش پا کو دیکھتے ہیں

    تجھے ہو علم تو کیسے، کہ دیکھنے والے
    چھُپا کے تجھ سے تیری ہر ادا کو دیکھتے ہیں

    کچھ اس میں اور ہی چاہت کا لُطف ہے مُحسن
    ہم اجنبی کی طرح آشنا کو دیکھتے ہیں

    مُحسن بھوپالی

  17. ماشا اللہ اب یہ بلاگ محسن بھوپالی مرحوم کا جشن منا رہا ہے۔
    اس میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنی پسند کے محسن بھوپالی کے اشعار عطا کیے،
    ثمرین بخاری صاحبہ نے محسن بھوپالی کی اداکاری اور شاعری کی خداداد صلاحیتوں کے مظاہرے کی مثالیں عطا کیں۔ جزا ک اللہ

    سید مصباح حسین صاحب نے تو محسن بھوپالی کی شاعری کی مثالوں کے ساتھ ساتھ جناب خاور چو ہدری صاحب کی انتہائی معلوماتی تحاریر بھی اس میں شایع کرکے محسن بھوپالی کی سوانح حیات کے علاوہ اس کی تمام شاعرانہ خوبیوں کو اجاگر کیا۔
    خاور چوہدری صاحب کی تحریر کے بغیر یقینی طور پر یہ بلاگ بالکل نامکمل رہتا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خدا کا شکر ہے کہ یہ بلاگ محسن بھوپالی مرحوم کے تعارف کے لیے ایک یادگار بلاگ بنتا جارہا ہے۔

    فقط:
    اس بلاگ کا خادم
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  18. محترم ظفر جعفری کی خدمت میں

    ٰٰٰ ٰٰٰٰ جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
    اس حادثہ ء وقت کو کیا نام دیا جائے

    میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
    کم ظرف کے ہاتھوں میں اگرجام دیا جائے

    بہتر ہے کہ اس بزم سے اٹھ آئیے محسن
    سرقے کو جیاں رتبہ الہام دیا جائےٰٰٰ ٰٰٰٰ

    یہ اشعار ً محسن صاحب نے ایک خاص وجہ سے میمن انجمن کالج کے سالانہ مشاعرے 1962 میں بھی پڑھے تھےیہ رپورٹ روزنامہ حریت کراچی 19 دسمبر 1962کو شائع ہوئی اور وہ واقعہ محسن صاحب نے روزنامہ قومی اخبار کراچی 23 جولائی 1993 میں تحریر کیا ہے

    ایک اور مشہور شعر

    کیا خبر لو بجھانے والے کو
    روشنی تو دیے کے اندر ہے

    29 اپریل 2005 کو کتاب عشق انسان کی ضرورت ہے کی تقریب رونمائی کے موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر عشرت حسین صاحب نے اپنے خطاب میں حیدرآباد کے ادبی ماحول سے اپنے دید شنید احوال سے سامعین کو آگاہ کیا نعد ازاں محسن صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر عشرت حسین صاحب کی تمام باتوں کی تائید کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ یہ شعر میں نے قابل مرحوم کے لئے کہا تھا تصدیق کے لئے پروگرام کی ویڈیو اور اخبارات کی تفصیلی رپورٹنگ موجود ہیں۔

  19. کچھ واکا

    گولڈن جوبلی کا
    اک مدت کے بعد آیا
    دن یہ خوشیوں کا
    نغمے بکھرے ہیں ہر سو
    پھیلی چیری کی خوشبو

    پھول چنبیلی کے
    چیری کے گلدستے میں
    اچھے لگتے ہیں
    رنگوں کا یہ نیارا میل
    رہے سدا یہ پیارا میل

    ارض پاکستان
    تجھ سے اپنی پہچان
    تو ہے اپنا مان
    تیری خاطر کر دیں گے
    اپنا تن من دھن قربان

  20. کچھ ہائیکو

    مولا کا احسان
    آئی قرآں سے پہلے
    تفسیر قرآں

    سو کی سیدھی بات
    بندے اور خالق کے بیچ
    ہے اک ان کی ذات

    شاہد ہیں جذبات
    چودہ صدیوں پر حاوی
    یثرب کی اک رات

    شہر کراچی میں
    کیسا موسم آیا ہے
    کانٹے کھلتے ہیں

    شہر کراچی کو
    اپنے خوں سے سینچا ہے
    اب تو حق دے دو

    شہر قائد کو
    صاف اور ستھرا رکھنا ہے
    اے میرے لوگو

    پھول چنبیلی کے
    چیری کے گلدستے میں
    اچھے لگتے ہیں

  21. جزاک اللہ ، مرحبا ، ماشا اللہ : محسن بھوپالی کی شاعری اور اسکی زندگی اور اسکی شاعری کے محرکات پر اس بلاگ میں کافی اچھی اچھی باتیں پڑھنے میں آرہی ہیں۔ جن کے لیے ہم سب کو تمام مبصروں کے ساتھ ساتھ جناب ظفر قابل صاحب کا اور سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا ممنون ہونا پڑےگا۔

    فقط:
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی
    میونخ ( جرمنی ) کے ایک قریبی گاوں سے

  22. اس بلاگ میں اگر ڈاکٹر پنہاںصاحبہ ، ارشاد عرشی صاحبہ اور زرقا مفتی صاحبہ کے محسن بھوپالی مرحوم کی شاعری پر تبصرے بھی شامل ہوجائیں تو اس بلاگ کی افادیت مزید بڑھ جائے گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگر امین ترمذی صاحب اور ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب بھی اس بلاگ کو پڑھ رہے ہیں تو وہ بھی اپنے حصہ کی شمع جلا کر محسن بھوپالی مرحوم کو اپنے تبصروں کا تحفہ پیش کرسکتے ہیں۔

    فقط:
    اس بلا گ کی اشاعت کا ذمہ دار خادم
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  23. ظفر قابل صاحب کا شکریہ کہ آج انہوں نے تین تصاویر اپنے برقی خط کے ذریعہ مجھے بھجوائیں ۔ ان تصاویر اور اس خط کی ایک کاپی انہوں نے جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کو بھی روانہ کیں۔

    یہ گروپ تصاویر جو “ کلیات قابل “ اور“ عشق انسان کی ضرورت ہے “ کی اجرا کی تقاریب پر لی گئی تھیں ان میں نہ صرف ظفر قابل صاحب موجود ہیں بلکہ محسن بھوپالی صاحب بھی موجود ہیں۔

    ان تاریخی تصاویر کو تو قابل اجمیری کے بلا گ میں شامل ہونا چاہیے تھا مگر وہ بلاگ تو بند ہوچکا ہے ۔
    اس لیے ان تینوں تصاویر کے لیے یہ موجودہ بلاگ حاضر ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    افسوس کہ میں تصاویر کو اپنے بلاگوں میں چسپاں کرنے کا ہنر نہیں جانتا اس لیے میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی فنی مہارت کو کام میں لا کر ان تینوں تصاویر کو اس بلاگ میں لگا دیں۔

    ظفر قابل صاحب کا شکریہ اور سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا پیشگی شکریہ ادا کرتے ہوئے :
    خادم
    منظور قاضی
    از جرمنی

  24. تصویریں پوسٹ کرتے ہوئے کی بورڑ کی خرابی کی وجہ سے کیپشن نہیں لکھ سکا تھا دوسری تصویر کتاب عشق انسان کی ضرورت ہے صاحب صدر مجلس محترم محسن بھپالی اور مہمان خصوصی ڈاکٹر عشرت حسین کو کتاب پیش کرتے ہوئے ہے ضناب نصرت مرزا بھی موجود ہیں
    تیسری تصویر میں دائیں سے محترم معین اختر،محترم سحر انصاری، محترم نصرت مرزا، محترم ڈاکٹر عشرت حسین، محترم محسن بھوپالی مرحوم اور محترم احمد رئیس ڈائس پر موجود ہیں

  25. جناب سید مصباح حسین صاحب نے یہ تینوں تصاویر اس بلاگ میں چسپاں کرکے اس بلاگ کی رونق دوبالا کردی۔ جزا ک اللہ

    ان تصاویر میں محسن بھوپالی کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی مستند ہستیاں بھی موجود ہیں جن میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری بھی شامل ہیں۔۔۔

    خدا نظرِ بد سے بچائے ، ان تصاویر میں قابل اجمیری کے سعادت مند صاحبزادے ظفراقبال صاحب بھی موجود ہیں۔

    اللہ ان“ شاہیں بچوں کو بال و پر دے“ اور انکو بھی اپنے نیک کارناموں کے برتے پر اپنے بزرگوں کا نام روشن کرنے کی سعادت اور توفیق عطا کرے ۔ آمین

    فقط:
    دعا گو
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  26. منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے کے مصنف محسن بھوپالی کو کون نہیں جانتا انہیں تعریف و تعارف تنقید و تصریع کے مختلف مراحل سے گزرے ایک زمانہ ہو چکا ہے غزل جو محسن کا فطری اور دل پسند میدان ہے اس صنف میں اظہار و ابلاغ کی ایسی صفائی سلاست و کفایت اور درد مندی کی آمیزش ملتی ہے کہ آپ فال کی طرح کسی بھی غزل پر انگلی رکھ دیجئے اس میں آپ کو کوئی نہ کوئی کرشمہ ایسا مل جائے گا جو بقول شاعر دامن دل میں کشد کہ جا ایں جا است ان سب باتوں پر مستزاد محسن کا صحت مند با مقصد حقیقت پسندانہ اور انسان دوست مسلک فکر ہے جس کا بیان آپ نے اپنے انتدائی الفاظ اور پہلی نظم دعا میں کیا ہے

  27. مندرجہ بالا الفاظ محترم فیض احمد فیض کے ہیں

    دعا

    کرچیوں کو جو طاق نظر میں سجا کر
    یہ سمجھں ۔۔۔۔۔انہیں آئینہ مل گیا ہے
    ہمیں ایسی آنکھوں سے محروم رکھ
    نطق کے مصلحت کیش آہنگ سے
    لفظ کی مقدرت کو جو مجروح کر دیں
    ہمیں ایسے ہونٹوں سے محروم رکھ
    پرچم شب کو لہرا کے سمجھیں
    کہ فردا کو زریں علم ہم نے بخشا
    ہمیں ایسے ہاتھوں سے محروم رکھ

  28. محسن بھوپالی مرحوم کی شاہکار نظم

    تسلسل ٹوٹ جائے گا

    نہ چھیڑو کھلتی کلیوں ہنستے پھولوں کو
    ان اڑتی تتلیوں آوارہ بھونروں کو
    تسلسل ٹوٹ جائے گا

    فضا محو سماعت ہے
    حسیں ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو
    نگاہیں نیچی رکھو اور مجسم گوش بن جائو
    افر جنبش لبوں کو دی
    تسلسل ٹوٹ جائے گا

    ہوا سے پتیان سرگوشیوں میں محو ہیں
    اور جھومتی شاخوں کے جھولوں میں
    پرندوں کی چہک سے سارا ساحل
    سرمدی احساس میں ڈوبا ہوا
    سرشار و شاداں ہے
    اگر کنکر بھی سطح آب پر مارا
    تسلسل ٹوٹ جائے گا

    افق میں ڈوبتے سورج کا منظر
    اس بلندی سے ذرا دیکھو
    اسی رنگین کنارے پر
    شفق سونا لٹائے گی
    یوں ہی تم بے حس و ساکت رہو
    ایسے میں پلکیں بھی ذرا جھپکیں
    تسلسل ٹوٹ جائے گا

    وہ خوابیدہ ہے خوابیدہ ہی رہنے دو
    نہ جانے خواب میں کن وادیوں کی سیر کرتی ہو
    بلندی سے پھسلتے آبشاروں میں گم ہو
    فلک آثار چوٹی پر کہیں محو ترنم ہو
    اگر آواز دی تم نے
    تسلسل ٹوٹ جائے گا

    میں شاعر ہوں
    مری فکر رسا احساس کی اس سطح پر ہے
    جس میں خوشبو رنگ بنتی ہے
    صدا کو شکل ملتی ہے
    تصور بول اٹھتا ہے
    خموشی گنگناتی ہے
    یہ وہ وقفہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے میں
    اگر داد سخن بھی دی
    تسلسل ٹوٹ جائے گا

  29. ظفر قابل صاحب نے فیض کے الفاظ میں محسن بھوپالی کی شاعری کے ایک اہم عنصر یعنی “ صحت مند با مقصد حقیقت پسندانہ اور انسان دوست مسلک فکر ہے جس کا بیان آپ ( محسن بھوپالی ) نے اپنے انتدائی الفاظ اور پہلی نظم دعا میں“ اجاگر کیا ہے۔
    ۔۔۔۔
    محسن بھوپالی کی نظم ‘تسلسل ٹوٹ جائےگا “ کے چند بند اور اس کے علاوہ اسکی اپنی پسندیدہ نظم : “ میں زندہ ہوں“ اس بلاگ کے ویڈیو پروگراموں میں موجود ہیں ۔
    طفر قابل صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے “تسلسل ٹوٹ جائے گا“ نظم کو مکمل طور پر اپنے تبصرے میں پیش کیا۔

    جزاک اللہ ، ماشا اللہ ،سبحان اللہ

  30. سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے سلام ودعا کے بعد عرض ہے کہ ایک زمانہ پہلے جب مجھے غلام علی کی گائی ہوئی یہ غزل ( جس کی ردیف آوارگی ہے) سننےکا موقعہ ملا تو چند ایک افراد نے یہ کہا تھا کہ یہ غزل محسن بھوپالی کی ہے ، مگر آپ کے مندرجہ ذیل 30 جون کے ارشاد کے مطابق ا صل میں یہ غزل محسن نقوی کی ہے ۔

    “قبلہ قاضی صاحب اگر آورگی سے آپ کا اشارہ اس غزل کی طرف ہے

    یہ دل یہ پاگل دل میرا، کیوں بجھ گیا آوارگی
    اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا آوارگی
    تو یہ محسن نقوی کی ہے۔“

    میرے پاس محسن بھوپالی کی کوئی کتاب نہ ہونے کی وجہ سے میں اس سلسلہ میں شش و پنج میں مبتلا ہوں۔

    چونکہ ظفر قابل صاحب ، محسن بھوپالی کی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتےہیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی سید مصباح حسین جیلانی صاحب کے مندرجہ بالا خیال پرروشنی ڈالیں۔ اگر یہ غزل ظفر قابل صاحب کی تحقیق کے بعد محسن نقوی ہی کی نکلے تو پھر انکو اس بلاگ میں اس مسئلہ پر کچھ اور لکھنے کی ضرورت نہیں ۔

    فقط:
    دعا وں کے ساتھ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  31. نظمانے

    عمر رفتہ

    وہ بھی دور تھا
    جب منے سے میں کہتا تھا
    بیٹا دیکھ کر چل

    ہوتے ہوتے ایسا وقت بھی آیا ہے
    منّے سے اب مجھ کو سننا پڑتا ہے
    دادا جانی دیکھ کے چلئے نا!

    نقّاد سے مکالمہ

    نظمیں غزلیں ‘ نغمے
    گیت‘ مضامین اور ڈرامے
    میںنے کیا کچھ نہیں لکھا
    نصف صدی کا عرصہ بیتا
    لیکن اب تک شعر و ادب کی دنیا میں
    کوئی مقام نہ مل پایا

    میری مانو،
    اپنی سوانح عمری تم اب لکھ ڈالو!

    قطع ید

    بمبینو کے چوراہے پر
    شام کو اکثر
    ایک معذور بھکاری کو میں
    بھیک مانگتے دیکھا کرتا
    اک دن میں نے اس سے پوچھا
    کیا کوئی ایکسیڈینٹ ہوا تھا
    اس نے مجھ کو غور سے دیکھا
    اور پھر بولا!
    سچ پوچھوتو
    جّدہ میں یہ ہاتھ کٹا تھا
    مالک کا احسان ہے مجھ پر
    روزانہ یہ ہاتھ دکھا کر
    چار پانچ سو مل جاتے ہیں!س

    واعظ

    وعظ فرما کے وہ
    گارڈ کے ساتھ
    اپنی پجیرو میں کب کے چلے بھی گئے
    اور میں سات نمبر کے اسٹاب پر
    ڈیڑھ گھنٹے سے ہوں
    کوچ کا منتظر!

    انتباہ

    مفروضے کی بنا پر خود فیصلہ سنا کر
    ماضی نے جو دیا تھا اس درس کو بھلا کر
    اک فرد کے بہانے
    تم قوم کو مٹانے کا عزم کر چکے ہو
    آبادیوں کو یکسر مسمار کر رہے ہو
    معصوم شہریوں کو دن رات قتل کر کے
    اپنی صفائی کی پھر تشہیر کر رہے ہو
    لاکھوں کروڑوں ڈالر
    بارود کے دھوئیں میں تحلیل کرنے والو
    انسانیت کی پیہم تذلیل کرنے والو
    اس جرم کا تمھارے آخر حساب ہوگا
    اک اک عمل کا تم سے وقت انتقام لے گا

    دعاگو

    یہ جو حادثوں
    اور بیماریوں سے
    میں بچتا رہا ہوں
    ہیں باقی ابھی کچھ
    مری زندگی کی
    دعا کرے والے

    بانجھ

    میں ہوں اک صحرا کی صورت
    پیاس کی رُت میں
    اتنا جیون بیت گیا!
    اے وقت تیری دہلیز پہ کب سے
    ہاتھ پسارے بیٹھی ہوں
    کوئی بھیگا موسم مجھ کو بھی دے
    میرے بنجر جسم کو جو سراب کرے
    ویراں گود کو سر سبز و شاداب کرے!

    درخت کا قتل

    میرے قاتل کو کوئی بتائے
    کہ وہ آشیانے سے اُن کے پرندوں کو
    محروم کرنے کا مجرم بھی ہے
    بے زبانوں کے بچوں کا قاتل بھی ہے
    میرے قاتل کوئی بتائے ،
    کہ یہ قتل میرا نہیں میرے سائے کا ہے
    جس میں تپتی دوپہروں میں گرمی کے مارے ہوئے
    چین کی نیند سوتے تھے اور تازہ دم ہوکے
    اپنے ٹھکانوں کی جانب نکل جاتے تھے
    میرے قاتل کو کوئی بتائے
    کہ یہ قتل آکسیجن کا ہے
    آکسیجن کہ جو زندگی کی علامت بھی ہے
    اور ضمانت بھی ہے
    میرے قاتل کو کوئی بتائے
    کہ یہ قتل میرا نہیں میرے سائے کا ہے!
    آشیانے کا ہے !!
    آکسیجن کا ہے!!!

  32. رفتہ رفتہ کہنے والے لوگ
    بن جاتے ہیں جلنے والے لوگ

    اندر سے یہ ہوتے ہیں غمگین
    اوپر اوپر ہنسنے والے لوگ

    اکثر ہوتے ہیں یہ کینہ ساز
    مسکینوں سے چہرے والے لوگ

    شعر و ادب پر تم سے کیا ہو بات
    تم تو ٹھہرے تمغے والے لوگ

    حرف سخن کا اب ہے یہ معیار
    ٹی وی پر ہیں نغمے والے لوگ

    محسن اکثر بن جاتے ہیں غیر
    وقت آنے پر اپنے والے لوگ

  33. نظمانے

    محافظ

    اے رُک جاؤ
    آدھی رات کو‘
    بول کہاں سے آتا ہے
    بھائی ذرا تہذیب سے بولیں
    ایک معزز شہری ہوں میں
    اچھا!
    تو پھر تیری تلاشی بوت ضروری ہے!

    تفتیش

    کھلے میدان میں ہیں باپ بیٹے
    مصلے پر ،ادھر،
    ماں ہے بہن ہے!

    ستم کشتہ

    تمھارا یہ مجھ سے تقاضا ہے
    اپنے عمل سے میں حالات بدلوں
    مصائب میں رہتے ہوئے
    اپنے بوسیدہ دن رات بدلوں
    وسائل پہ قابض ہو تم
    اور مجھ سے مسائل کا حل چاہتے ہو
    یہ کیسا ستم ہے
    مراہاتھ پائے کے نیچے ہے اور تم
    اسی چارپائی پہ بیٹھے ہوئے ہو!

    وہ کیسااحترم دور تھا

    دفتر کا ماحول اب تک یاد ہے مجھ کو
    اگر کوئی ملازم حادثے کا لقمہ بنتا
    یا کسی موذی مرض کے ہاتھوں وہ دنیا سے اٹھ جاتا
    تو ساتھی سوگ کرتے
    اس کے نائب کو ترقی مل بھی جاتی تھی
    تو کچھ دن احتراماً اس کی کرسی سے علیحدہ بیٹھتا
    اور مرنے والے کا وہ اکثر تذکرہ کرتا
    کوئی اور ساتھی جدا ہو تو
    اب یہ دور آیا ہے
    تگ و دو کرنے لگتے ہیں
    انھیں‘ اس کی جگہ مل جائے
    اور اپنی جگہ اپنے ہی رشتہ دار کو دے کر
    اور دعائیں لیں!
    وہ اپنے اقربائ میں سر خرو ہوں

    دو شہر ایک کہانی

    کھلا میدان ہے
    اور چلچلاتی دھوپ سر پر ہے
    خود اپنے سائے میں بیٹھے ہوئے
    لڑکوں جوانوں اور بوڑھوں کو
    ابھی پہچاننے‘ یا پکڑے جانے‘
    یا معافی کے مراحل سے گزرناہے
    خود اپنی بے گناہی کی شہادت پیش کرنا ہے
    ہے منظر ایک ہی لیکن
    یہ مجمع ہے‘
    اُدھر غیروں کے نرغے میں
    ادھر اپنوں کے حلقے میں

    ڈرائنگ روم ٹارچر

    جاتے جاتے لڑکے کی آپانے
    اس کی ماں کے پاس آکر جب بتلایا
    آنٹی آپ کی لڑکی کا قد چھوٹا ہے
    اک دفعہ پھر ٹوٹ گئی
    وہ پردے کے پیچھے سن کر
    شام ہوئی تو ماں سے ابّو بول رہے تھے
    حوصلہ رکھو! کل میرے اک ملنے والے
    بیگم کے ساتھ آئیں گے
    دوسرے دن جب لڑکے والی آئیں تو
    وہ پلیٹ بڑھادی‘
    ہمت کر کے لڑکی نے
    جس کے اندر زعفران سے لکھا ہوا تھا
    رشتہ نا منظور!

    چشم پوشی

    بیٹی! آج اخبار میں میں نے دیکھا ہے
    ڈاکو تیرے گھر سے
    ڈالر ‘ ریال‘ روپے اور زیور
    سب کچھ لوٹ کے لے گئے ہیں
    آخر یہ سب کیسے ہوا!

    فکر کی کوئی بات نہیں
    امی وہ سب امانتیں تھیں
    جن کو گڈو عیاشی میں اڑا چکا تھا!

    تضاد

    سگنل پر جب گاڑی روکی
    ننھے روفی نے پوچھا!
    ابّو آخر ایسا کیوں ہے
    بازو والی لمبی کار میں دو بیٹھے ہیں
    اور اپنی سوزوکی پک اپ میں
    ہم ہیں بارہ لوگ!

    بیٹا تم کو کیا سمجھاؤں
    جب تم میر ے اتنے ہو گے
    فرق سمجھ میں آجائے گا

    زندگی کے لئے

    رات کے دو بجے
    تیسری بار
    ڈانسنگ ہال میں
    رقص کرتے ہوئے‘
    اس کے پاؤں لرزنے لگے
    لوگ سمجھے کہ یہ رقص کا
    کوئی انداز ہے
    تالیوں سے فضا گونج اٹھی
    اور وہ دیکھتے دیکھتے
    فرش پر گر پڑی!

  34. محترم محسن بھوپالی کا یہ مضمون غیر مطبوعہ ہے جو انہوں نے خون رگ جان کے دوسرے ایڈیشن کے لئے لکھا تھا لیکن میں نے بوجہ مجموعہ انتخاب عشق انسان کی ضرورت ہے شائع کرنا مناسب سمجھا لہذا یہ مضمون شائع نہ ہو سکا میں نے کسی قابل نمبر یا محسن نمبر کے لئے اس مضمون کو محفوظ رکھا تھا آج میرے خیال میں وہ مناسب وقت آ گیا ہے کہ اس مضمون کو عالمی اخبار کے حوالے کر دیا جائے
    ظفر قابل

    خون رگِ جا ں چھڑکنے والا
    محسن بھو پالی
    قابل اجمیری کا پہلا مجموعہ کلام ’’دیدہ بیدار ‘‘ان کی وفات کے ایک سال بعد 1963ئ میں راقم الحروف نے مجلس یادگار قابل کے زیراہتمام بہ حیثیت نگران شائع کیا تھا خون رگ جاں قابل کا دوسرا مجموعہ ہے جو مجلس یادگار قابل ہی کے زیر اہتمام پہلی بار ۶1966 میں شائع ہوا تھا اس کے بعد خون رگ جاں کلیات کی شکل میں سلیم جعفری کی مساعی سے چھپنے والی کلیات قابل اور دوسری مرتبہ قابل کے فرزند ظفر قابل کی ایما یر فرید پبلشر زکے تعاون سے شائع ہونے والی ’’کلیات قابل‘‘ میں بھی شامل تھا۔اس بار یہ مجموعہ علیحدہ جلد کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے زیر نظر دیباچہ ’’خونِ رگِ جاں‘‘ میں شامل کلام کے تجزیے تک ہی محدود رکھا گیا ہے ۔
    قابل اجمیری 1931 میں پیدا ہوئے اور 1962ئ میں وفات پائی آخری چند برس کا عرصہ ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا وہ اس دوران تپ دق جیسے موذی مرض سے نبرز آزما رہنے کے ساتھ تخلیق کے جوہربھی دکھاتے رہے۔ قابل اپنے اندر حیرت انگیز قوت مدافعت رکھتے تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے خیالات اور نگارشات پر یا سیت کا سایہ تک نہیں پڑنے دیا انہوں نے حوصلہ شکن حالات کا نہایت بہادری سے مقابلہ کیا اور بعض ہم عصروں کی معاندانہ روش کو ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ نظر انداز کیا۔ زندگی بسر کرنے کا یہ انداز اور سخن وری کا یہ سلیقہ ہی تھا جس نے قابل کی شخصیت اور شاعری کو بعد از وفات مقبولیت اور شہرت کا قابل رشک مرتبہ عطا کیا انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والی پوری صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے غزل کے روایتی پیرائے میں اپنے پر امید اور حوصلہ مند ہونے کا اعلان اس طرح کیا تھا۔
    یہ گردش زمانہ ہمیں کیا مٹائے گی
    ہم ہیں کوچہ جاناں کئے ہوئے
    اے آفتاب صبح بہاراں سلام کر
    دیوانے آ رہے ہیں شب غم گزار کر
    قابل اجمیری نے زندگی کی کٹھنائیوں اور مصائب کو اپنے طور پر محسوس ضرور کیا تھا لیکن انہوں نے کرب کو اجتماعی پیرائے کا رنگ دے کر اپنے اشعار کا موضوع بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے مشہور اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں مثلا ً
    ہم بدلتے ہیں رخ ہوائوں کا
    آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
    سہل کر دی ہیں مشکلیں کتنی
    مرنے والوں نے جینے والوں کی
    جانے کس عالم میں آئیں آنے والے قافلے
    سایہ دیوارِ جاناں جاوداں کرتے چلو
    کتنے روشن ہیں وہ عارض کتنے شیریں ہیں وہ لب
    راستہ کٹ جائے گا ذکر بتاں کرتے چلو
    قابل نے غم جاناں کے پہلو بہ پہلو سیاست کی چہرہ دستیوں اور معاشرے کے اجتماعی مسائل کو بھی اپنی شاعری کا محور بنایا ہے یہاں ایک غزل گو کے بجائے ان کا لہجہ ایک انقلابی سوچ رکھنے والے مصلح سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے ۔
    اگر تمھاری شام غم کی ظلمتیں نہ مٹ سکیں
    تمھارا فرض ہے فلک سے ماہتاب چھین لو
    جو انقلاب سے غلط اٹھا رہے ہوں فائدہ
    تم ایسے انقلابیوں سے انقلاب چھین لو
    جو خضر قوم مشعل رہ طلب نہ بن سکے
    تو خضر قوم سے بھی عہدہ و خطاب چھین لو
    اے جوانوں مجھ کو پہچانوں کہ میں
    انقلاب عزم کا پیغام ہوں
    اک نئے دور کا آغاز کیا ہے ہم نے
    سارے گلشن کو ہم آواز کیا ہے ہم نے
    اس مجموعہ میں چند ایک نظمیں اوررباعیات و قطعات بھی شامل ہیں ان کی نظمیں ایک عید ایک عہد‘ آوازقائد اعظم اور ۴ا اگست خصوصی مطالعے کی متقا ضی ہیں ۔ موخرالذکرنظم کا یہ بند قابل کی رجائی فکر کا آئینہ دار ہے ۔
    ہم آج تیری تمنا کے شاہزادے ہیں
    ہمارے ہاتھوں سجاتے ہیں محفل فردا
    ہمارے ہاتھ نہیں وقت کے ارادے ہیں
    قابل نے جیسا کہ عرض کیا کہ انقلاب جدوجہد کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے قومی نظمیں بھی لکھی ہیں اورماحول کی ترجمانی بھی کی ہے لیکن روایت کے تسلسل میں تعزل سے بھرپور شاعری ان کی پہلی اور آخری پہچان ہے جوان کو اپنے ہم عصروں میں ہی نہیں بلکہ اردو غزل کے ایوان میں منفرد اور نمایاں مقام عطا کرتی ہے ۔ چند اشعار ملا حظہ کیجیے ۔
    جیسے ہم جان ہی نہیں رکھتے
    موت کا اجتناب تو دیکھو
    حوصلے بڑھ گئے سوالوں کے
    بہکے بہکے جواب تو دیکھو
    جینے کا حوصلہ ہے نہ مرنے کا اختیار
    بیٹھا ہوں اک نگاہ سے پیماں کیے ہوئے
    میں نے ان ہونٹوں کو چوما میں نے ان آنکھوں سے پی
    بہکا بہکا سا مرا طرز بیاں ہونا ہی تھا
    کبھی متقل کے مقابل کبھی زنداں کے قریب
    ہم بہرحال رہے منزل جاناںکے قریب
    نظر نظر میں ہے کامرانی قدم قدم پر ہے کامیابی
    مگر کوئی مسکرا کے دیکھے تو ہار جانا بھی جانتا ہوں
    آواز بازگشت بھی مشکل سے آئے گی
    غربت کو شرمسار نہ کر ہم نوا نہ مانگ
    قابل نے زندگی بھر کسی کے آگے نہ کہیں کا سئہ طلب بڑھایا اور نہ ہی اپنے گرد ہم نواں کو مجتمع کیا۔انہوں نے اپنے مختصر سے تخلیقی سفر کو تنہا طے کیا اور ادب کی شاہراہ پرایک سنگ میل کی صورت آج بھی نمایاں اور یکتاہے ۔

  35. محترم محسن بھوبالی کے چند خطوط جو انہوں نے محترم احمد رئیس کو اجمیر ارسال کئے۔
    محترم احمد رئیس کی کتاب مٹی کی خوشبو سے

    جناب محسن بھوپالی کنوینر مجلس یادگار قابل حیدرآباد سندھ
    برادرم رئیس صاحب! امید کہ مزاج بخیر ہوں گے‘ میں کسی قسم کے تکلف سے کام نہیں لینا چاہتا اس لئے بھی کہ آپ کے بارے میں یہاں اتنے لوگوں سے اور اتنی مرتبہ گفتگو رہی ہے کہ تکلقات کے سارے پردے اٹھ گئے ہیں‘ آپ ہم سے ہیں اور ہمارے جدوجہد میں برابر کے شریک‘ قابل اجمیری صاحب پر آپ بھی کام کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی‘ ان کے مجموعہ کلام دیدئہ بیدار‘ کی کتابت مکمل ہو گئی ہے اور بہت جلد طباعت کیلئے دے دیا جائے گا‘ مجھے امید ہے کہ جولائی کے آخر تک مارکیٹ میں آجائے گا‘ میرا خیال ہے کہ ہندوستان کے لئے آپ کو اگر نامزد کر دیا جائے تو بہت خوب رہے گا۔۔۔ آپ لوگ اجمیر میں کوئی کانفرنس کریں یا یومِ قابل منائیں‘ آپ کو ہمارا تعاون حاصل رہے گا‘ اسی طرح حیدر آباد میں جب بھی کوئی بڑا مشاعرہ بسلسلہ قابل ہوا آپ کو زحمت دی جائے گی۔۔۔۔۔
    22 جون 1963

    ۔۔۔ یہ آپ کی ہمت ہے کہ ایسے عالم میں بھی یوم قابل منا ہی لیا۔۔۔ ایسی تقریبات میں واہ واہ کرنے والے سب ہوتے ہیں تعاون کرنے والے ان سے کم اور شرکت کرنے والے بہت ہی کم۔۔۔ میں آج ہی ایک غیر مطبوعہ غزل اور ایک تصویر قابل صاحب کی ﴿نرییدو نشچل﴾ کو بھیج رہا ہوں‘ آپ محمود ہاشمی صاحب کا تحریر کردہ مضمون بجھوا دیں تاکہ سیٹ مکمل ہوجائے‘ بھائی! شکستِ شب تو میں آپ کو بہت پہلے بھیج چکا ہوں۔۔۔ سلیمان اریب صاحب کو بھی جلد ہی ایک جلد‘ دیدئہ بیدار‘ کی اور ایک جلد ’شکستِ شب‘ کی بھیج دونگا آپ نے۔۔۔ انھیں یاد دہانی کرا دیں‘ چونکہ بڑے شاعر ہیں‘ میں نے انھیں کوئی ایک برس ہوا کتاب بھیجی تھی ﴿شکست شب﴾ پھر دو تین مرتبہ یاد دہانی بھی کرائی لیکن نہ جانے کیوں جواب تک دینا گوارا نہیں کیا‘ اس لئے میں بھی خاموش ہو گیا۔۔۔ کیف صاحب کا خلوص ہے کہ ایک ان دیکھے ہم وطن سے اسقدر محبت فرما رہے ہیں‘ ان دیکھے اسلئے کہ مجھے 46 اور 47 دیں انھیں بھوپال کی مختلف ادبی انجمنوں اور مشاعروں میں دیکھنے کا شرف تو حاصل ہے لیکن متعارف نہ ہو سکا تھا۔۔۔۔۔
    ﴿۱۱، ستمبر 1963﴾

    آپ ادبی مشن پر تقریباً ہر بڑے شہر میں ہو آتے ہیں یہاں تو بھوپال دیکھنے کے لئے ترس گئے ہیں۔۔۔ آپ کی محمد علوی سے دوستی ہے اگر ہے تو اس کا پتہ بھی ضرور معلوم ہوگا۔ اس سے رابط قائم کرنا چاہتا تھا۔۔۔ آپ کے حکم کے سمیوجب ایک جلد ’شکستِ شب‘ محمود ہاشمی کو روانہ کر دی ہے۔۔۔ آپ نے مضمون لکھنا کا وعدہ تو کر لیا ہے لیکن دیکھیں کب ایسا ہوتا ہے۔۔۔۔۔
    ﴿یکم ،اپریل 1964﴾

    ۔۔۔ کل کی ڈاک سے مجھے ’پگڈنڈی‘ جولائی موصول ہو گیا۔ پتہ نہیں امریک آنتد نے بھیجا ہے یا آپ نے‘ مضمون پڑھ کر فرطِ مسرت سے آنسو نکل آئے‘ دیر تک سوچتا رہا کہ آپ کے خلوص منسداقدام کا شکریہ ادا کروں یا نہ کروں‘ ممکن ہے آپ بُرا مان جائیں‘ بہر حال جی کڑا کر کے لکھ ہی دوں کہ آپ کی تحریر سے بیحد متاثر ہوا ہوں‘ اس عزت افزائی کیلئے شکر گزار ہوں‘ مجھے خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ ایک ان دیکھے ساتھی کے لئے آپ کے دل میں کتنے پاکیزہ جذبات ہیں‘ خلوص کا دریا ہے کہ ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔۔۔ ممتاز راشد کا بمبئی سے خط آیا ہے‘ دیدئہ بیدار اور شکستِ شب کی رسید بھیجی ہے‘ آپ لوگوں سے ملنے کو جی چاہتا ہے لیکن دیکھیں کب موقع ملتا ہے۔۔۔
    ﴿28 اگست 1964﴾

  36. قاضی صاحب. بالکل بے فکر رہیں اور اپنی شش و پنج ختم کر دیں. یہ طے ہے کہ یہ غزل میرے عزیز دوست محسن نقوی کی ہی ہے. غلام علی نے جب اسے لاہور ریڈیو پر ریکارڈ کروایا تو پرڈیوسر خالد اصغر کے ساتھ میں خود بھی اسٹوڈیو میں موجود تھا۔ممکن ہے مقطع میں محسن نام کی وجہ سے یہ سوچا جا رہا ہو کہ یہ محسن بھوپالی کی ہے

    یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی – محسن نقوی
    یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی!
    اِس دشت میں اِک شہر تھا، وہ کیا ہُوا آوارگی!

    کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
    میں نے کہا تُو کون ہے، اُس نے کہا ’’آوارگی‘‘

    لوگو بھلا اُس شہر میں کیسے جیئیں گے ہم، جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا، آوارگی!

    یہ درد کی تنہائیاں، یہ دشت کا ویراں سفر
    ہم لوگ تو اُکتا گئے، اپنی سُنا آوارگی!

    اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب
    صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا، ’’آوارگی‘‘

    اُس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمانِ وفا
    اِس سَمت لہروں کی دھمک، کچّا گھڑا، آوارگی

    کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
    محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا ’’آوارگی‘‘

  37. میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے یہ فرمایا کہ وہ محسن نقوی کی غزل کےریکارڈنگ کے عینی شاہد ہیں۔
    اب مجھے اس سلسلے میں مزید جستجو کی ضرورت نہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب میرا خیال ہے کہ محسن نقوی پر بھی ایک بلاگ کی ضرورت ہے اس لیے کہ انکا یہ دل پر اثر کرنے والا کلام ہم سب سے مطالبہ کررہا ہے کہ ہم انکی شاعری کے محاسن اور انکی شاعری کےمحرکات کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔
    اگر میرےپاس محسن نقوی کی کوئی کتاب ہوتی تو میں ضرور ان کے لیے ایک بلاگ شروع کردیتا۔

    فقط:
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  38. طفر قابل صاحب نےمحسن بھوپالی کی شاعری کے مختلف پہلووں کی مثال دے کر اس بلاگ کو محسن بھوپالی نمبر بنا دیا ۔: شکریہ

    محسن بھوپالی مرحوم نے قابل اجمیری مرحوم کی شخصیت کے اس پہلو کو بڑے ہی موثر انداز میں تحریر کیا کہ ::

    “ بعض ہم عصروں کی معاندانہ روش کو ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ نظر انداز کیا۔ زندگی بسر کرنے کا یہ انداز اور سخن وری کا یہ سلیقہ ہی تھا جس نے قابل کی شخصیت اور شاعری کو بعد از وفات مقبولیت اور شہرت کا قابل رشک مرتبہ عطا کیا “

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چونکہ یہ بلاگ محسن بھوپالی مرحوم کی “ شخصیت اور شاعری “ سے متعلق ہے اس لیے ا س بلاگ کےاصلی موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے یہ مقابلہ اور تجزیہ کرنا لازم ہے کہ کیا محسن بھوپالی کی شخصیت اور شاعری بھی قابل اجمیری کے اوپر بتایے ہوئے معیار پر پوری اترتی ہے؟

    فقط:
    ًمحسن بھوپالی مرحوم اور قابل اجمیری مرجوم کو دعائے مغفرت کے ساتھ

    منظور قاضی
    جرمنی سے

  39. قاضی صاحب قبلہ بات تو عزیزم مصباح نے بھی یہی کی تھی کہ یہ غزل محسن نقوی شہید کی ہے لیکن جان کی امان پاؤں تو عرض کرؤں کہ ریکارڈنگ کے عینی شاہد والی بات مجھ فقیر نے کی ہے.
    رہا محسن نقوی پہ بلاگ شروع کرنا تو میں خود بھی اپنی طرف سے عزیزم مصباح سے درخواست کرؤں گا کہ وہ محسن پر بلاگ شروع کریں

  40. حضرت محسن نقوی کی کتاب برگ صحرا کا ایک صفحہ۔
    چونکہ قاضی صاحب شش و پنج کا شکار ہیں اس لئے سوچا یہ صفحہ یہاں لگادوں، لیکن تعجب کی بات ہے کہ اتفاق سے اس صفحے کا نمبر بھی شش و پنج (65) ہی ہے۔۔۔۔سو دیکھئیے کیا بنتاہے۔

    http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/07/yeh-dill-yeh-pagal-dill.jpg

    یہ عکس میں نے ہلہ گلہ ڈاٹ کام سے لیکر لگایا ہے۔ آج کل شدید فلو کے حملے کا شکار ہوں، اس لئے بلاگ میں متواتر حصہ نہیں لے سکوں گا۔

  41. میں صفدر ھمدانی صاحب سے معافی چاہتا ہوں کہ میں نے جلدی جلدی میں جو تبصرہ لکھا اس وقت میرے ذہن میں جناب سید مصباح جیلانی صاحب کا تبصرہ موجود تھا ۔

    اب میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کی جلد مکمل صحت یابی کی دعا ئیں کررہا ہوں اور انکا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے محسن نقوی شہید کی کتاب کے صفحہ 65 کو اس بلاگ میں شایع کردیا جس میں اس کی غزل آوارگی موجود ہے۔

    اب سید مصباح جیلانی صاحب اپنی مکمل صحت یابی کےبعد وقت ملنے پر محسن نقوی شہید کی زندگی اور شاعری پر ایک بلاگ شروع کرسکتے ہیں۔ تاکہ مجھ جیسے کم علم پڑھنےوالوں کے علم میں اضافہ ہو ۔

    مجھے یقین ہے کہ محسن نقوی مرحوم کے متوقع بلاگ میں جناب صفدر ھمدانی صاحب بھی اس عظیم شاعر کی زندگی اور شاعری پر روشنی ڈال سکینگے۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  42. عزیزم مصباح مولا آپکو جلد صحت کاملہ عطا فرمائیں. آپ کو مجھ سے بہتر علم ہے کہ فلو کوئی بیماری نہیں بلکہ بیماری کی پیشگی وارننگ ہے. اس لیئے کہ پروردگار کسی مشکل میں بھی کسی انتباہ کے بغیر نہیں ڈالتا.
    لیجئے چلتے چلتے ایک شعر محسن بھوپالی لا آپکی نذر

    محسن ہمارے طرزِ تکلم کی بات ہے
    ہر شخص سوچتا ہے مری داستاں نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *