تجویز ! “عالمی اخبار برادری” کی خدمت میں ایک تجویز یہ ہے ، کہ اگر آپ سب مناسب سمجھیں اپنا تعارف ، کرائیں، مختصر یاآپ جو اپنے متعلق بتانا چاہیں . آپ شائد ایک دوسرے کو جانتے ہیں ، میں اس میں اتنے طویل عرصے سے نہیں ہوں، مجھے بعض اوقات محسوس ہوا ہے کہ بلاگ میں ایک دوسرے کے ساتھ جب کومنٹس یا بات چیت ہو رہی ہوتی ہے . وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ، اور ابھی تک سوائے تین یا چار کے میں کسی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی –

محترمہ عابدہ مظفر صاحبہ کا یہ مشورہ کہ اس عالمی اخبار میں لکھنے والے اپنا اپنا تعارف کرائیں ، بہت ہی اچھا مشورہ ہے۔ مگر اس تعارف کو ہم سب جان کر بھی کیا کریں گے ؟
ہر لکھنے والا اپنی تحریر کی صداقت اور گہرائی اور اونچائی حق گوئی و بے باکی سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس ایک معیار پر اگر کوئی پورا اترے تو بس یہی کافی ہے ۔
چونکہ عابدہ مظفرصاحبہ خود ایک امن پسند اور مہربان شخصیت کی حامل ہیں اسی وجہ سے وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ بلاگ میں لکھنے والے“ ایک دوسرے کو جا نتے ہیں “ ۔ مگر ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔
ہاں عالمی اخبار کے اربابِ اقتدار سب کو جاننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اپنی وسعت القلبی اوراعلیٰ ظرفی سے سب مہمانوں کے ساتھ مشفقانہ تعلق رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ انکی باتوں سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کو جانتے بھی ہیں اور سب کے دلوں پر حکومت کرنا بھی جانتے ہیں۔
ہاں اگر کوئی بدظن ہو کر ان کا ساتھ چھوڑ دے تو اس کو واپس بلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ( یہی تو کمال اس عالمی اخبار کی نائب مدیر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ماہرِِ نفسیات کا ہے )۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خیال سے ہمیں کسی مبصر یا بلاگ نگار کے متعلق کچھ جاننےکی کوئی ضرورت ہی نہیں ( خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت ۔) اس کے متعلق یہ جاننے سے کیا فائدہ کہ اسکی عمر کیا ہے اور اسکی پیدائش کہاں کی ہے اور اسکی مادری زبان کون سی ہے اور اسکا عقیدہ اور مسلک کیا ہے اور اسکی تعلیم کہاں تک کی ہے اور اسکا موجودہ پیشہ کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابدہ مظفر صاحبہ کو اگر عالمی اخبار کے اربابِ اختیار کے متعلق کچھ جاننے کی خواہش ہو تو وہ ضرور اس اخبار کے “ ہم سے ملیئے “ کے سیکشن کو دیکھ لیں۔ ان میں سے چند ایک تو تبصروں پر “ نظر ثانی“ کر کے ہر اس تبصرے کو یا اس کے ان جملوں کو جوعالمی اخبار کے معیار پر پورا نہ اتریں ، حذف کرنے کا اختیار بھی ہے ۔ اگر عالمی اخبار میں بلاگ لکھنے کا اختیار چاہیئے تو ان ہی میں سے چند ایک عہدہ دار ہراس فرد کو ( جو ان کی نظر میں موزوں ثابت ہو اسے ) یہ اختیار بھی دے سکتےہیں۔
۔۔۔۔
عابدہ مظفر صاحبہ کا مشورہ نیک ہے ۔ مگر میں ان کے مشورہ پر عمل کرنے سے جان بوجھ کر گریز کررہا ہوں اس لیے کہ مجھے اپنی بے سرو سامانی ، پریشان حالی اور چاک دامانی اور کم علمی کا احساس ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شائد دوسرے مبصر عابدہ مظفر صاحبہ کے اس مشورے پر دل کھول کر عمل کریں۔ اللہ انہیں اس کانیک اجر دے گا ۔
اس کی ابتدا عابدہ مظفر صاحبہ سے بھی ہوسکتی ہے۔
فقط:
خیر اند یش
منظور قاضی
جرمنی سے
ہم بھی
جناب منظور قاضی صاحب
کی رائے’’ہر لکھنے والا اپنی تحریر کی صداقت اور گہرائی اور اونچائی حق گوئی و بے باکی سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس ایک معیار پر اگر کوئی پورا اترے تو بس یہی کافی ہے ۔‘‘
سے
100فیصد میفق ہیں
اسلام و علیکم عزیز عالمی اخبار کے ساتھیو
میرا بھی یہ ہی خیال ہے کہ تحریر کا ناطہ بے حد مطبوط اور خوبصورت ناطہ ہے اور ہم سب اس ناچے کی وجہ سے ایک ڈوری میں پروئی ہوئی تسبیح ہیں ۔جو جتنی پڑھی جائے اتنا ثواب ،یہ پہچان ساری پہچانون سے محترم ہے ۔اور پھر یہ عالمی اخبار تو ایسا دریا لگتا ہے جو ہر قطرے کو فراغدلی سے خود میں سمانے کا بھر پور جزبہ رکھتا ہے ۔میں سمجھتی ہوں کہ بعض مقامات پر نہ جاننا جاننے سے بہتر ہوتا ہے یہ میری سوچ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ہم ایک دوسرے کی بات پر پرخلوص اور تعمیری تبصرہ کر سکتے ہیں کیونکہ جاننے کے بعد اکثر بہت ساری باتیں اآڑے اآجاتی ہیں اور کبھی عمر کبھی شخصیت اور کبھی اُس ہستی سے تعلق ہمیں وہ بات کہنے سے روک دیتا ہے جو ہم ایمانداری سے کہنا چاہتے ہیں ۔یہ میری سوچ ہے اور میرا خیال ہے کہ ہماری یہ جان پہچان اُن تمام پہچانوں سے مظبوط اور قابلَ احترام ہے ۔اگر کوئی بھی بات کسی کو بھی بارَ خاطر ہو تو معافی کی خواستگار ۔
سب کے لئے میری نیک تمنائیں
عالم اآرا
محترمہ بہن عابدہ مظفر صاحبہ ! آپ کی رائے بہت اچھی ہے اور اس پر محترمہ بہن عالم آراء صاحبہ کے دلائل بہت خوبصورت ہیں لیکن
اگر مثلاً اس رائے پر عمل درامد کربھی لیا گیا تو عین ممکن ہے کہ تعارف کا یہ سلسلہ مکمل ہوجا نے کے کچھ عرصہ بعد کوئی نیاء پڑھنے والا یہی رائے دوبارہ دے، اس طرح خود تعرفی کا یہ عمل ایک لگاتار سلسلہ بن جائے گا-
یہاں چند نکتے اور بھی ہیں مثلاً میں اپنی ذات کے صرف مثبت اطراف ہی بیان کروں گا، منفی پہلوؤں کو کبھی آشکار نہیں کروں گا بلکہ ان منفی پہلوؤں کو بھی مثبت بنا کر پیش کروں گا، وغیرہ-
مجھے جب اس “برادری” میں شمولیت حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا تو میں بھی چند ناموں کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا تھا لیکن حیرت انگیز سرعت کے ساتھ مجھے دیگر خواہران و برادران سے واقفیت حاصل ہوئی، اسی طرح اپنے بارے میں بھی میں غیر ارادی طور پر بہت کچھ بتاتا چلا گیا، تعارف میں میں جتنا چاہے اپنی اصلیت کو چھپا جاؤں لیکن لکھتے وقت میری تمام خوبیاں خامیاں ظآہر ہوہی جائیں گی اور یہی میرا اصل تعارف ہوگا-
آپ دونوں قابلِ صد قدر بہنوں سے درخواست ہے کہ صرف ایک ماہ لگاتار یہاں اس بلاگ پر تشریف لائیے، کچھ دوسروں کی سنئیے(پڑھئیے) کچھ اپنی سنائیے(لکھئیے) آپ دیکھیں گی کہ سب ہی سے واقفیت ہوجائے گی-
محترمہ عابدہ مظفر صاحبہ کی طرف سے بلاگ نگار و کالم نگار خواتین و حضرات کے تعارف کی تجویز پر محترم جناب منظور قاضی صاحب کے خیالات اور جوابی رائے سے میں صد فی صد متفق ہوں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ اس تعارف کو ہم سب جان کر بھی کیا کریں گے کہ ہر لکھنے والا اپنی تحریر کی صداقت اور گہرائی اور اونچائی حق گوئی و بے باکی سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس ایک معیار پر اگر کوئی پورا اترے تو بس یہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پاکستانی قوم 1947 سے بلدیاتی ، صوبائی اور قومی سطح کے انتخابات میں بڑی بڑی پارسا خواتین و حضرات ہستیوں کے ملک و قوم کی ہمدردی والے خوشبودار تعارف سنتے ، پڑھتے اور ان کے قول و عمل دیکھتے آرہے ہیں ۔ انکے فرشتہ صفت تعارف کی مہکتی ہواؤں میں مدہوش عوام انہیں اپنا ہمدرد سمجھ کر ووٹوں سے لاد دیتے ہیں ، لیکن یہ فرشتوں کے میک اپ والے خواتین و حضرات، کونسلر ، ناظم ، ایڈمنسٹریٹر، ممبر ، صدر یا وزیر کے گیٹ اپ میں جب عوامی خدمت کےعملی میدان میں آتے ہیں تو لوٹ مار کے محنتی پسینے سے ان کا سارا مصنوئی میک اپ جرابوں میں پہنچ جاتا ہے ۔
میک اپ اترنے پر ان کے اصلی وحشتناک ، دہشتناک ، ہیبتناک ، خطرناک اور خوفناک چہرے دیکھ کر اور ان کے بد عمل پسینے کی بھبکتی سڑاند سے بیچارے عوام پانچ یا دس برس کی مدت تک اندھے، گونگے اور بہرے ہو کر خوف کے سمندر میں گم ہو جاتے ہیں ۔
اخبارات و رسائل کی دنیا میں کالم یا نظم و نثر کے حوالے سے بہت سے مشہور و معروف خواتین و حضرات کے نام اپنی مشہوری میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ، حالانکہ یہ لوگ پیسے کی طاقت سے غریب و گمنام شاعر ، ادیب ، دانشور رائٹر وغیرہ سے مطلوبہ چیزیں لکھوا کر اپنے ذاتی تعارف کے ساتھ شائع کرواتے ہیں ۔ مگر یہ پیسے دیکر تحریریں خریدنے والے لوگ کبھی بھی اسٹیج یا آن لائن پروگرام میں نہیں آتے، کیونکہ وہاں میرٹ کے لباس میں ہونا ضروری ہے جو کہ ان کے پاس نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں عمل کی عمارت خود بول کر اپنا تعارف کرواتی ہے ۔
آخر میں محترم جناب صفدر ھمٰدانی صاحب سے میری گزارش ہے کہ وہ اپنے وسیع علمی تجربے کی روشنی میں اس بلاگ کے مذکورہ موضوع پر اظہار خیال فرما کر بلاگ فیملی کو تعارفی سمندر کی گہرائی سے نکالنے میں مدد فرمائیں ۔
ٰٰ ٰٰٰاس طرح ہم ایک دوسرے کی بات پر پرخلوص اور تعمیری تبصرہ کر سکتے ہیں کیونکہ جاننے کے بعد اکثر بہت ساری باتیں اآڑے اآجاتی ہیں اور کبھی عمر کبھی شخصیت اور کبھی اُس ہستی سے تعلق ہمیں وہ بات کہنے سے روک دیتا ہے جو ہم ایمانداری سے کہنا چاہتے ہیں ٰٰٰ ٰٰٰٰ۔
عالم آراء بہن سے میں سوفیصد متفق ہوں۔
واہ بھئی کمال کی گفتگو ہو رہی ہے .. اور میں آپ سب ہی سے متفق ہوں .. آپا عالم آراء نے کیا خوب لکھا کہ اس طرح ہم ایک دوسرے کی بات پر پرخلوص اور تعمیری تبصرہ کر سکتے ہیں کیونکہ جاننے کے بعد اکثر بہت ساری باتیں اآڑے اآجاتی ہیں اور کبھی عمر کبھی شخصیت اور کبھی اُس ہستی سے تعلق ہمیں وہ بات کہنے سے روک دیتا ہے جو ہم ایمانداری سے کہنا چاہتے ہیں ..
پھر منظور بھائی کا عاجزانہ اعتراف “عابدہ مظفر صاحبہ کا مشورہ نیک ہے ۔ مگر میں ان کے مشورہ پر عمل کرنے سے جان بوجھ کر گریز کررہا ہوں اس لیے کہ مجھے اپنی بے سرو سامانی ، پریشان حالی اور چاک دامانی اور کم علمی کا احساس ہے”
محمد علی بھائی کی بات کہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں عمل کی عمارت خود بول کر اپنا تعارف کرواتی ہے” .. واہ واہ …
مناف بھائی ہمیشہ کی طرح سچ کہنے سے خود کو روک نہ سکے “یہاں چند نکتے اور بھی ہیں مثلاً میں اپنی ذات کے صرف مثبت اطراف ہی بیان کروں گا، منفی پہلوؤں کو کبھی آشکار نہیں کروں گا بلکہ ان منفی پہلوؤں کو بھی مثبت بنا کر پیش کروں گا”
طفر بھائی میری ہی طرح عالم آراء آپا سے متفق نظر آئے … واہ خوب گفتگو ہے .. بہت اچھا لگ رہا ہے .. بہت دنوں بعد سب مل کر ہلکی پھلکی گفتگو کر ہے ہیں .. تھینکس ٹو عابدہ آپا …
بہت پیارے بہن بھائیو واقعئی انتہائی دلچسپ اور خوبصورت باتیں ہو رہی ہیں اور میرے محترم بھائی مناف نے تو واقعئی بڑی سچی بات کی،اپنی کمزوری سننا یا خود کو کسی سے کم سمجھنا ہمارا مزاج ھی نہیں ہے ۔مجھے اپنے ایک بزرگ کی بات یاد آگئی جو آپ سب کی نزر ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمہارے باپ دادا کیا تھے یہ مت بتائو ۔خود ایسے بن کر دکھائو کہ کسی کو پوچھنا ہی نی پڑے کہ تم کون ہو ۔نہیں جانتی کہ اس بات کاکیا اثر ہوگا مگر مجھے یہ بات بہت پسند ہے اس لئے آپ سب کے لئے لکھ دی ۔کہ اکثر باتیں اتنی زبردست طاقت رکھتی ہیں کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔میں شکر گزار ہوں اپنی بہن کی کہ انہوں نے بہت پیاری باتیں کرنے کا موقعہ ہم سب کو فراہم کیا ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
کسی دانا کا قول ہے کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ میرا دادا کون تھا ،یہ فکر البتہ ہے کہ اس کے پوتے کو کیا ہونا چاہیے۔
عرشی جی جب دادی بن جائیں تو پھر یہی خیال ستاتا ہے