السلام علیکم
محترم جناب رضا حیدر صاحب کی شہادت انتہائی تکلیف دہ اور قابل مزمت ہے مگر اُس کا ردعمل انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے ، کیا کوئی مجھے یہ بتائے گا کہ ہلاک ہونے والے اُن 63 معصوم لوگوں کا کیا قصور تھا ؟ اُن 63 ( اب تک ) لوگوں میں کون جناب رضا حیدر صاحب کی شہادت کا ذمہ دار تھا ؟
اور اب جبکہ رحمان فرشتہ صاحب پہلے طالبان ، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سے ہوتے ہوئے اب محض سپاہ صحابہ کو اُن کا قاتل قرار دے چکے ہیں ۔ ہمارے حکمران اور خصوصا کراچی سے تعلق رکھنے والے تمام سیاست دان چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ، کیا یہ لوگ اِس سب کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟
آصف احمد بھٹی
58 thoughts on “یہ لہو کی ارزانی کیوں ؟”
Comments are closed.

لیجئے بھائی اس وقت پشاور میں بھی دھماکہ ہو چکا ہے 5 افراد جان بحق جن میں ایک کمانڈٹ آفیسر غیور بھی شامل ہیں .. صوبائی وزیر بشیر بلور نے کہا ہے کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کی واردات ہے … چلیں اب پشاور چلتے ہیں اور زمیداران کو ڈھونڈتے ہیں ..
السلام علیکم
آپی ، ذمیداران کو ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے ، طالبان ہے نا ۔
پروین شاکر کی ہی ایک اور نظم یاد آگئی ہے ۔
نہ بجھ رہی ہے ، نہ اب کے بھڑک رہی ہے ہوا
ہمارے دل کی طرح سے تپک رہی ہے ہوا
رکھی ہے ہرایک گھرکے صحن میں میت
سو وقفے وقفے سے جیسے سسک رہی ہے ہوا
رکھی تھی شہر کی بنیاد کیسے لوگوں نے
یہ کیسےلوگوں میں بھٹک رہی ہے ہوا
سحرکچھ اورتھا اوراب یہ حال باغ کا ہے
کہ پاؤں رکھتے ہوئے بھی ٹھٹھک رہی ہے ہوا
یہ باغبان ہے کہ گلچیں ، ندیم یا صیاد
کہ اِن سے ہاتھ ملاتے جھجک رہی ہے ہوا
بریدہ جانی پہ بھی شہر سانس لیتا ہے
بہت سے لوگوں کے دل مین کھٹک رہی ہے ہوا
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
اتنا عرصہ غیر حاظری کی معزرت۔
پاکستان میں تو ایسا لگتا ہے جیسے کے جان بوجھ کے خون کی حولی کھیلی جا رہی ہے۔جہاں دیکھو صرف موت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔کیوں مر رہا ہے۔کون مر رہا ہے کیوں مار رہا ہے کچھ نہیں پتہ ، میں جو سوچ رہی ہوں اللہ نا کرے کے وہ کبھی بھی سچ ہو۔کیونکہ دوسروں کی طرح میں بھی پاکستان سے بہت پیار کرتی ہوں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کے تباہی کے اس دہانے پر پاکستان آ پہنچا ہے کے جس کے آگے صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔ کہیں قدرتی آفات تو کہیں انسان انسان کی جان کا دشمن۔۔
کہیں سیلاب سے لوگ برباد ہو رہے ہیں تو کہیں خود کش حملے اور کراچی میں اس طرح کے فسادات۔
کراجی کی یہ صورتحال خدا نا کرے کے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرے۔۔ کیونکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اس سے پہلے بھی ہوتی رہیں ہیں اب یہ رضا حیدر کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد ہی ایسا موت اور تباہی کا طوفان کیوں آ گیا جو اب تک باسٹھ لوگوں کو نگل چکا ہے؟
کیا رضا حیدر ہی کسی ماں کا بیٹا کسی بہن کا بھائی کسی بچے کا باپ تھا جو یہ طوفان تھم نہیں رہا ؟کیا اس سے پہلے مرنے والے سب لاوارث تھے ؟ یا انکے مرنے کے بعد باسٹھ لوگ جو ہلاک ہوئے انکے گھر بار نہیں ؟
کہیں یہ دکھاوا کے ہم مظلوم ہیں تو کہیں اپنی پاور کا مظاہرہ کرنے کے لئیے کے اس شہر کے مالک ہم ہی ہم ہیں میں غریب کے گھر کے چولہے بند کر رہے ہیں
یہ سب ہو کیا رہا ہے؟ اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اسی طرح کیا جاتا ہے ؟۔۔ کون کر رہا ہے یہ سب جانتے ہیں کیوں کر رہا ہے یہ بھی سب جانتے ہیں مگر آواز کون اٹھائے؟
جمہوریت جمہوریت جمہوریت کا ڈھول پیٹنے والے اب چاٹیں اس جمہیوریت کو بیٹھ کر ۔ اگر اسکو کہتے ہیں جمہوریت تو پھر شاباش ہے ایسے جہموریت پسند لوگوں پر اور لعنت ہے ایسے جمہوری لیڈرز پر جہاں ایسی آفات کو بھی سیاست کے لئیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مشرف کے دور میں بھی تباہی آئی تھی اس دور میں بھی لوگ تنگ تھے مگر اس طرح کا کچھ نہیں ہوتا تھا ۔کیونکہ سب کا معلوم تھا درپردہ آرمی کا ڈنڈا ہے اگر حد سے تجاوز کیا تو ڈنڈے پڑیں گے
مگر اب؟ اب تو ناراضگی سے پچنے کے لئیے اور صرف اتحادیوں کو خوش کرنے کے لئیے سیکڑوں جانوں کے ضیاء کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے ۔
اتحادیوں کا ایک رکن اسمبلی مرجائے تو انکو فری ہینڈ دے دیا جاتا ہے اور انکھیں بند کر لی جاتی ہیں کے مارو جتنے لوگ مارنے ہیں جلاو جتنے غریبوں کی دکانیں گھر گاڑیاں جلانی ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ جب دل بھر جائے تو بتا دینا ہم بیچ میں بیٹھ کر دو جماعتوں میں صلاح صفائی کروا دیں گے اور رہ گیا غریب وہ تو جب پاکستان بنا تھا تب سے آج تک ذلیل ہی ہوتا آیا ہے اسکا کیا؟اس نے کون سا سر اٹھانا ہے۔
بس پروردگار پرویز کیانی کو عقل دے اور ایک دفعہ پھر ڈنڈے والی سرکار پاکستان کا نظام سمبھال کر ان سب جمہوری سیاسی رہنماوں کو لائن سے کھڑا کر کے گولی مار دے اور پاکستان میں امن بحال کرے اور یہ قصہ ہی ختم کرے آمین
ماریہ میری شہزادی ڈنڈے والی سرکار بھی تو 3 سال کے معاہدے پر بک گئ ہیں نا .. کون کس کس کو لائن میں کھڑا کر کے گولی مارے گا اور پاکستان میں امن بحال کرے گا.. سنو یہ قصہ ختم ہوتا نہیں لگ رہا … لیکن امید پر دنیا قائم ہے … اللہ پر بھروسہ ہی سب سے بڑی ڈھارس ہے ..
بھائیو اور بہنو ،
میں نے اپنے نام کے ساتھ احتجاجاّ ’ کیانی‘ نہیں لکھا کہ اب میں خود بھی اپنے آپ کو ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔ میں نے ہمیشہ مارشل لاء کی مخالفت کی لیکن اب میں بھی ایک مخلص، بے رحم ، غیر جانبدار اور ذاتی لالچ سے پاک مارشل لاء کی راہ تک رہا ہوں جو میرے ملک سے سارا گند صاف کر دے اور اسلام آباد میں تمام شیاطین اور ابلیسوں کی گردنوں کی ایک یادگار دیوار پاکستانی قوم کو یوم آزادی کا تحفہ دے۔
جیتی رہئے نگہت
واقعئی اللہ پر بھروسہ ہی سب سے بڑی ڈھارس ہے ۔
حیرت کی بات ہے کہ کوئی ایک شخص نہیں پکڑا گیا جو ان شھادتوں کا زمے دار ہے ۔
یہ کیسی سلیمانی ٹوپی ہے جو کسی ادارے کو نظر نہیں اآرہی
اے کاش میرے ملک کا سکون واپس آجائے اور اس میں رہنے والے محفوظ رہیں ۔
عالم آرا
کراچی میں موجودہ خون کی ہولی اُس وقت شروئ جب حکومتِ نے قبضہ مافیا سے 180 ایکڑ مقبوضہ زمین خالی کروائ۔ اس وفت کراچی کے حالات پر صرف اور صرف فوچ قابو پاسکتی ہے۔
آضف بھٹی صاحب
رضا حیدر جیسے قتل اس ہی لئے کروائے جاتے ہیں کہ اُسکا شدید ردِ عمل ہو۔
جاوید کیانی صاحب
اب میں بھی ایک مخلص، بے رحم ، غیر جانبدار اور ذاتی لالچ سے پاک مارشل لاء کی راہ تک رہا ہوں جو میرے ملک سے سارا گند صاف کر دے اور اسلام آباد میں تمام شیاطین اور ابلیسوں کی گردنوں کی ایک یادگار دیوار پاکستانی قوم کو یوم آزادی کا تحفہ دے۔ٰ
میں آپکی بات سے سو فیصد متفق ہوں۔ ماضی میں بھی فوج اُس ہی وقت آئ ہے جب پانی سر سے اونچا ہوگیا اور بے بس عوام فریاد کرنے لگے۔ ہمیں جنوبی کوریا اور سنگا پور کی طرح ایک مخلص، ایماندر اور بے لوث اور سحت لیڈر کی ضرورت ہے جس کے پاس وژن ہو اور وہ کوڑے لگانا بھی جانتا ہو اور صحیح وقت آنے پر ملک کو جمہوریت کی ڈگر پر ڈال دے۔ جب کوّا ہنس کی چال چلتا ہے تو اپنی چال بھی بھول جاتا ہے۔ ہم ابھی برطانوی یا امریکی طرزِ حکومت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہماری فبائلی سوچ ہے ۔ہمارے ڈاکٹر، وکیل، انجینیر اور نام نہاد دانشور تک قبائلی سوچ رکھتے ہیں جسے ایک اچھا، ایماندار اور سخت لیڈر ہی ٹھیک کرسکتا ہے۔ اگر ہماری فوج جنگ میں نہ پھسی ہوتی تو وہ اب تک نظام سنبھال چکی ہوگی۔ اگر کل فوج آبھی جائے تو یہی نام نہاد دانشور، بڑے بڑے نقاد اور مبصر جو آج فوج کو یاد کررہے ہیں کل جمہوریت کو یاد کریں گے۔
جناب ظفرجعفری صاحب،
ہمارے موجودہ بلاگز میں ایک سے زیادہ بلاگرز کا مختلف انداز میں ایک ہی موضوع ہے اور وہ ہے وطن کی تیزی سے بگڑتی نبض یعنی دگرگوں حالت ۔اور آپ کا ارشاد کہ ،
’’ اگر کل فوج آبھی جائے تو یہی نام نہاد دانشور، بڑے بڑے نقاد اور مبصر جو آج فوج کو یاد کررہے ہیں کل جمہوریت کو یاد کریں گے ‘‘
آمریت کے دور میں جمہوریت تب یاد آتی ہے جب آمر خود اپنی بقا کے لئے ’ بچے جمہوروں ‘ کو ساتھ ملا کر آمریت کا جمہوریت سے حلالہ کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ آپ ماضی کے تمام آمروں کی مثال لے لیں ، سبھی نے مفاد پرستوں کو ساتھ ملا کر اپنے اقتدار کو دوام دینے کی کوشش کی اور ایسے قوانین نافذ کئے جو محض انہیں یا ان کے مخصوص ٹولے کے مفاد میں تھے۔ اگر ان میں سے ایک بھی ملکی مفاد میں کام کرتے ہوئے بلا تفریق احتساب کرتا تو آج قوم کا ہیرو ہوتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا اور وہ خود بھی نفرت کا نشانہ بن گئے۔
ملکی تاریخ ، بالخصوص موجودہ حالات اور نام نہاد ’ بچے جمہوروں ‘ کے قول و فعل ، کو مدنظر رکھ کر ایک ایسے انقلاب کی ضرورت ہے جو تمام گندے خون سے قوم کی نالیوں کی صفائی کردے ۔ یہ چاہے تو امام خمینی جیسا انقلاب ہو یا کوئی غیر جانبدار اور بے رحم فوجی انقلاب ، کیونکہ اب حالات بالکل ہی قابو سے نکل چکے ہیں۔ انارکی ، خدائی عذاب اور معاشی دیوالیہ پن کی لپیٹ میں آیا ملک کسی وقت بھی ، خاکم بدہن) ، ایک ناکام ریاست کا درجہ اختیار کر سکتا ہے ۔
السلام علیکم
محترمہ ماریہ علی صاحبہ ، وآپسی پر ایک بار پھر خوش آمدید ، آپ کا طویل اور سچا تبصرہ یقینا بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے الا اِس کے اللہ نے دلوں پر مہر نہ لگا دی ہو ، آنکھیں اپنی ناک سے آگے دیکھنے کے قابل ہو ، ساری دُنیا جانتی ہے کہ کراچی کے حالات کون خراب کر رہا ہے اب تک کبھی قبضہ (لینڈ ) مافیا ، کبھی ڈرگ مافیا ، کبھی طالبان اور کبھی پشتونوں کا نام لے کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے ساری دُنیا جانتی ہے کراچی کی سب سے بڑی قبضہ مافیا کون ہے پارکوں اور بچوں کے میدانوں پر قبضے کر کے جمعہ بازار کون لگا رہا ہے میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اِس لیے میں کئی لگی چھپی بات نہیں کرتا اِس حمام میں سب ہی ننگے ہیں رضا حیدر کی شہادت کے بعد اب تک قتل ہونے والوں کی تعداد 73 سے زیادہ ہو گئی ہے اور سینکڑوں زخمی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی نہیں تھم رہا ، ایم کیو ایم کے قائدین کی زبان اور لہجہ زسے مزید گھمبیر کرتا جا رہا ہے ۔ اللہ ہم سب کو اِن شر پسندوں کے شر سے محفوظ رکھے اور تمام لوگوں کو شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر انسنانیت کے ناطے ہی سوچنا ہوگا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
نگہت آپی ، ہو سکتا ہے آپ کی بات درست ہو مگر میں اِس بات کو ایک اور تناظر میں دیکھتا ہوں ، یہ بات تو یقینا درست ہے کہ جنرل پرویز کیانی صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع موجودہ حکمرانوں نے حکومت جانے کے خوف سے کی ہے مگر میرے خیال میں اِس میں جنرل صاحب کا کوئی کردار نہیں ، وہ تو کچھ دنوں میں گھر جانے والے تھے حکومت کو اُن سے کوئی خوف نہیں تھا بلکہ حکومت کو موجودہ حالات کے تناظر میں نئے آنے والے آرمی چیف سے خوف تھا ، کئی مہینوں کی تحقیق کے بعد بھی جب حکومت جنرل کیانی کا متبادل تلاش نہ کر سکی تو مجبورا اُنہیں جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کرنی پڑی کہ موجودہ حکومت کو جنرل کیانی کے بارے میں یقین ہے کہ وہ کسی قسم کی مہم جوئی کا ارادہ نہیں رکھتے جبکہ آنے والے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترم جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ، آپ بڑے اطمعنان کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ ’’ کیانی ‘‘ لکھ سکتے ہیں ، جنرل کیانی نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ آپ شرمندہ ہوں ، اور رہی آمریت کی بات تو معزرت کے ساتھ کہ ہم لوگ ہمیشہ کسی غیبی مدد کے انتظار میں کیوں رہتے ہیں ، کوئی اچھا آمر آئے اور سب کو سیدھا کرے ، اگر ایسا ہو بھی جائے تو کیا گارنتی ہے کہ پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ؟
ارے جناب ہم 17 کروڑ عوام اگر باہم اتحاد کر لیں کسی آمر کی ضرورت نہیں ، موجودہ دور میں جمہوریت سب سے بہترین نظام ہے دراصل ہمارے ہاں اصل جمہوریت کبھی رائج ہی نہیں ہوئی ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترم جناب ظفر جعفری صاحب ، کیا جناب رضا حیدر قائد ملت جناب لیاقت علی خان سے بڑے رہنما تھے ؟ یقینا نہیں تو پھر یہ ردعمل تب کیوں نہیں دیکھنے میں آیا ، دراصل ہم لوگ اب قوت ِ برداشت کھو بیٹھے ہیں ، سیاسی وابستگیاں ہی ایمان بن گئی ہیں انسانیت کا احترم اب صرف کتبی باتیں ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
حیرت کی بات ہے کے رضاحیدر صاحب کی ہلاکت کے بعد سے اب تک 80 سے ذیادہ لوگ موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔مگر پھر بھی فسادات تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے آدھی رات کو بریکنگ نیوز آتی ہے فلاں علاقے میں فائرنگ سے اتنے لوگ ہلاگ اتنی گاڑیاں جلا دیں فلاں جگہ یہ ہو گیا فلاں جگہ وہ ہو گیا۔ حیرت ہے یہ سب کب تھمے گا ۔ایک طرف سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے تو دوسری طرف انسان ہی انسان کے خون کا پیاسہ ہے یہ ہے ہمارے جمہوری نظام کے تحفے ۔ مشرف جیسا بھی تھا کبھی اس کے دور میں ایسے حالات خراب نہیں ہوئے ۔اس کے ڈنڈے سے اتحادی ڈرتے تھے نا کے فضل الرحمن جیسے دو ٹکے کے لیڈروں کی دھمکی سے ڈر کےحکمران لیڈر بھاگ کے اس کے پیروں میں گر جاتے ہیں۔ میں تو اسی حق میں ہوں کے ایک دفعہ پھر یہاں کوئی فوجی آئے اور ان سب کو ڈنڈے کے زور پر رکھے ۔مشرف نے تو غلطی کی چوہدری برادران کو ملا کر وہ صدا کے لوٹے تھے لوٹے ہی رہے ۔مگر اب کوئی بھی آمر آئے تو بس ڈیکٹیٹر ایسا بنے کے سب کے دماغ ٹھیک کر دے ۔ہماری عوام تو مظلوم ہے وہ تو بھیڑ بکریوں کی طرح مشرف کے کروائے الیکشن میں بھی ووٹ ڈالنے چلی جاتی ہے یا یہ جمہوری کتے الیکشن کروائیں تو بھی عوام بھیڑ بکریوں کی طرح صرف یہ سوچ کے چلی جاتی ہے کے چلو جی پرچی پر مہر ہی تو لگانی ہے اور چھٹی بھی ہے تھوڑی تفریح ہو جائے گی پرانے لوگ مل جائیں گے اور منتخب ہونے والوں نے آج تک کیا کام کیا ہے جو نئے آنے والے کریں گے ۔ اس لئیے کسی تبدیلی کی امید کئیے بنا عوام بس ووٹ ڈال دیتی ہے ۔
رہی بات جمہوریت کی تو آج پاکستان میں ہے کون جو جمہوری نظام کو لے کر چلے
پیپلز پارٹی ہمارے سامنے ہے نواز لیگ وہ کون سے دودھ کے دھلے ہیں سب جانتے ہیں ۔ آج ذرداری کی حماقتوں کا فائدہ اٹھا کر وہ اگر یہ سوچیں کے ہم کوئی دودھ کے دھلے ہیں کعبے کے پیش امام کی اولاد ہیں تو عوام تو ووٹ دے ہی دے گی وہ آ بھی جائیں گے مگر وہ کیا کریں گے ۔ یہی سب جو یہ کر رہے ہیں چور کا بھائی گراں کٹ ۔
باقی عمران خان مولانا ڈیزل وغیرہ تو اس پوزیشن میں ہیں ہی نہیں۔ اور جہاں تک ایم کیو ایم کی بات ہے کے وہ قومی لیول پر ابھر رہی تھی تو پہلے وہ اپنا ہوم گراؤنڈ تو بچا لے ۔ انکے ساتھ تو ایسا ہو رہا ہے کے جتنا قدم آگے بڑھاو گے اتنا ہے پیچھے کے نشان مٹا دیئے جائیں گے اس لئیے وہ اس وقت صرف اور صرف کراچی پر بھی توجہ رکھیں تو بہتر ہے ۔
میرے خیال میں اگر انتظامیہ بہتر سجھے تو یہاں ایک ایسا پول یا بلاگ ہونا چاہیے جس میں صرف یہ رائے لی جائے کے موجودہ حالات میں پاکستان کے لئیے جمہوریت بہتر ہے یا آمریت ۔پول میں اندازہ نہیں ہوگا کیونکہ وہاں ہاں یا نا ہے اس سے پتہ نہیں چلے گا ۔بہتر ہے اوپن بلاگ ہو جس میں صرف دو لائینز میں اپنی رائے بھی دی جا سکے
اس طرح سروے بھی ہو جائے گا اور پتہ بھی چل جائے گا۔
ضروری نہیں کے یہاں اگر انتظامیہ جمہوریت پسند ہے تو سب آنے والے ویسے ہی ہوں اور نا یہ کے امریت پسند انتظامیہ ہو تو سب وہی مانیں۔
محتاج دعا۔
ماریہ
بھٹی صاحب
رضا حیدر کا قتل اور 90 قتل ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہیں اور ان پر جتنا بھی رویا جائے کم ہے۔ جب ڈرگ مافیا سے سندھ حکومت نے مقبوضہ زمین خالی کروائ تو ANP کے لیڈر شاہی سید نے پریس اور ٹی وی پر کہا کہ ہم بدلہ لیں گے اور پختون سو سال بعد بھی بدلہ لینا جانتے ہیں ۔ اس کے بعد ان لوگوں نے 90 بے گناہوں کو بشمول رضا حیدر قتل کردیا۔ اگر اہلیان کراچی کو اس وقت نہ روکا جاتا، صبر کی تلقین نہ کی جاتی اور شاہی سید والا رویہ اپنا یا جاتا تو یہ دوکروڑ کا شہر جس آ تش فشاں پر بیٹھا ہوا ہے وہ پھٹ جاتا۔ جب 2007 میں کشمیر میں زلزلہ آیا تھا تو اہلیان ِ کراچی نے سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر مدد کی تھی۔ یہ اچھے لوگ ہیں۔ ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا اور طالبِ نائزیشن نے اس شہر کا چین اور سکون برباد کردیا ہے۔میرے رہگذر بہنوئ 1961 میں طلباء اور پولس کے جھگڑے کی لپیٹ میں آکر شہید ہوگئے۔ پچاس سال قبل کی اس موت کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ ایک موت کا اثر کیا ہوتا ہے اس کا اندازہ دور بیٹھے ہوئے لوگ نہیں کرسکتے۔ شاہی سید جیسے مجرم صفت لوگ بجائے جیل جانے کے دند نا تے پھر رہے ہیں اور سندھ اور پاکستان کی وزارتِ داخلہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔
جناب آصف احمد بھٹی صاحب،
’’ آپ بڑے اطمعنان کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ ’ کیانی ‘ لکھ سکتے ہیں ، جنرل کیانی نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ آپ شرمندہ ہوں ‘‘
بھیا یہی تو شرمندگی ہے کہ انہوں نے وہ کچھ کیوں نہیں کیا یا کیوں نہیں کررہے جس کی اس وقت ملک کو ضرورت ہے ؟ آخر وہ کب تک ان لٹیروں کی بیساکھیاں بنے رہیں گے۔ ججز بحال کرانے ، پنجاب حکومت بحال کرانے، نواز شریف کو الیکشن کے لئے اہل قرار دلوانے ، کیری لوگر بل پہ حکومت کی حکمت عملی کے برعکس عوام کے جذبات کی ترجمانی جیسے پسِ پردہ کارناموں کے باوجود آج ملک کہاں کھڑا ہے؟
ججز نے این آر او کو مسترد کیا ، حکومت نے ڈھٹائی اور بدمعاشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوٹ کا مال ہضم کرنے کی ٹھان لی۔
پنجاب حکومت بحال ہوئی ، اقتدار میں جیالوں کو بھی شامل کرلیا کہ مل بانٹ کے کھائیں اور باری کا انتظار کریں
نواز شریف صاحب الیکشن کے اہل قرار پائے مگر اپنے حلقے سے الیکشن میں حصہ ہی نہ لیا ۔ شاید خفیہ حلف نامہ آڑے آیا یا اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر نقلی شیر کے بہروپ کے ظاہر ہونے کا ڈر تھا یا پھر ’ چھوٹے بھائی ‘ کی خوشنودی منظور تھی۔
ملک کی داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں کا حال دیکھ لیں، امن و امان کی صورت حال دیکھ لیں۔ فوج یا آئی ایس آئی بلیک واٹر کے کارندوں کو پکڑتی ہے، وزارت داخلہ چھڑوا دیتی ہے ۔ سیاستدان باہم دست و گریباں ہیں ۔ جن پہ ملک اور قوم کو متحد رکھنے کا فریضہ عائد ہے وہ منافرتوں کو ہوا دے رہے ہیں ۔ جمہوریت کا جس طریقے سے بھونڈا مذاق خود جمہوری اداروں کے اند بن رہا ، الامان و الحفیظ۔
تو پھر ایسی بدنام زمانہ جمہوریت کا فائدہ ہی کیا جو جمہور کے لئے پھانسی کا پھندا بن رہی ہو۔ لہذا اسے بہتر ہے کہ کوئی پیشہ ور سپہ سالار جس کے کوئی سیاسی عزائم نہ ہوں وہ اللہ کا نام لے کر اس ملک اور معاشرے کو اس گند سے نجات دلائے۔ اور جنرل کیانی کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے یہ امید کی جا سکتی ہے۔ اور اگر وہ اس طرف قدم بڑھانے کی بجائے اُلٹا شریفوں، زرداریوں اور گیلانیوں کو اس ملک کو ایک ناکام ریاست بنانے کی کھلی چھٹی دیں گے تو مجھے شرمندگی تو ہوگی ناں !
السلام علیکم
جعفری صاحب بے حد معزرت کے ساتھ ۔۔ آپ یہ بلکل مت سمجھئیے گا کے میں ایم کیو ایم کے پیچھے پڑی ہوں مگر آپ بزرگ ہیں تصویر کا ایک ہی رخ دکھایا آپ نے ۔ آپ کو چاہیئے تھا کے تصویر کے دونوں رخ سمجھے رکھتے ۔
آپ نے بہت آرام سے کہہ دیا کے رضا حیدر کا قتل اور 90 لوگوں کا قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے تو جناب کیا یہ 90 لوگ جو بے چارے بے قصور مارے گئیے اس میں ایم کیو ایم کے کتنے لوگ تھے ـ؟ کتنے کارکن کتنے ہمدرد تھے ؟
آپکی جماعت کا تو ایک کتا بھی مر جائے تو وہ واویلا مچایا جاتا ہے کے بس۔ یہ 90 لوگوں میں مشکل سے چند ہی لوگ ایسے ہونگے جنکا کسی نا کسی طرح آپکی جماعت سے کوئی تعلق ہوگا ورنہ میڈیا اس بات کا گواہ ہے کے ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق ہی نہیں سب کے سب بے چارے بے موت مارے گئے۔
جو مارے گئے وہ تو الگ اس سے ذیادہ لوگوں کو انکے گھرانوں سمیت بے موت مار دیا کسی کا ٹرک جلا دیا کسی کا ہوٹل جلا دیا۔ٹھیلے جلا دئیے ہوٹل جلا دئیے بازار جل گئے ۔
معاف کیجیئے جعفری صاحب اتنی معصومیت سے آپ ان سب حالات کا تاج شاہی سید کے گلے میں نہیں ڈال سکتے اس میں آپکی جماعت بھی برابر کی شریک ہے ۔وہ اگر لینڈ مافیا تو آپ لوگ بھتہ مافیا ۔ دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں بس یہ سب جو ہو رہا ہے وجہ صرف یہ ہے کے ایک طرف اے این پی ہے دوسری طرف آپ ۔ گینگ وار چلتی ہے آپ دونوں جماعتوں میں اور وفاق سب جانتا ہے مگر چپ اس لئیے ہے کے آپ دونوں اتحادی ہو ۔ورنہ اگر ہوتا نا مشرف جیسا کوئی فوجی اور اس کے دور میں آپ کی جماعت اور اے این پی ایسا کچھ کرتی تو دونوں جماعتوں کے وہ جوتے پڑتے نا پیچھے کے 10 سال تک نشان نہیں جاتے انکے ذخموں کے
کراچی برباد کر کے رکھ دیا اور پھربھی معصومیت کے ڈھول تف ہے ایسے لوگوں پر
واہ واہ ۔۔ کیابات ہے ماریہ ۔۔ جی خوش کر دیا ۔۔ اتنا معتدل اور غیر جانبدار تبصرہ ۔۔ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ آپ کے سیاسی نظریات چاہے کچھ بھی ہوں آپ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں لیکن بات تو حق کی کریں ۔۔۔ تم نے بالکل درست کہا کہ اصل تماشہ تو وفاق دیکھ رہا ہے ۔۔ اور جو مارے جا رہے ہیں وہ بے گناہ اور بے موت ۔۔ اگر وفاقی حکومت کی نیت درست ہو اور ساری فسادات کی جڑ رحمان ملک چاھے تو کراچی کے خون ریز فسادات کو ختم کرنا صرف 24 گھنٹے کا کام ہے ۔۔ پوراکراچی غنڈوں کا شہر نہیں ہے صرف 4 یا 5 بڑی بستیاں جن کا سب کو اچھی طرح علم ہے ان میں صرف 24 گھنٹوں کا کرفیو لگا کر بلا امتیاز تلاشی لی جائے اور گرفتاریاں کی جائیں اور سارا اسلحہ قبضے میں کیا جائے ۔۔ تو 24 گھنٹے بعد طلوع ہونے والا سورج امن کا سورج ہو گا ۔۔ مگر یقین رکھے کہ یہ لوگ ایسا کریں گے نہیں کیونکہ ان کے لئے یہی صورت حال ان کے حق میں جاتی ہے ۔۔
لعنت ہے ایسے اقتدار پر ۔۔ ۔۔
ماریہ اور ڈاکٹر نگہت صاحبہ۔ آپ ہی کی بات کو آگے بڑھاتا ہوں کہ آپکا سیاسی نظریہ کچھ بھی ہو اور آپکا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو بات تو حق کی کریں۔ کراچی کو کشت و خون کا گڑھ کسی ایک نے نہیں مرکزی حکومت سمیت سب نے بنایا ہوا ہے۔ کیا عجیب تماشہ ہے کہ دونوں عوام کُش جماعتیں وفاق میں حصہ دار بھی ہیں اور ایک دوسرے کی دشمن بھی۔ بات یہ سچ ہے کہ اگر نیت نیک ہو تو یہ معاملہ صرف اور صرف 24 گھنٹے کا ہے۔ اس خونریزی میں عوام شامل نہیں بلکہ عوام تو اس جنگ میں بارود کا رزق بن رہے ہیں۔ الطاف حسین صاحب کا کام بس اتنا ہے کہ وہ ریڈیو ٹی وی پر الگ بیان دیں اور رابطہ کمیٹی کو الگ ہدایات۔ اے این پی ہو یا ایم کیو ایم یا پیپلز پارٹی۔یہ سب عوام دشمن جماعتیں ہیں لیکن تُف ہے ایسے عوام پر جو اپنے ووٹ سے بار بار اپنے قاتل منتخب کرتے ہیں۔ یہ جو ہم سے وہ جو لوگ بیرونی ممالک میں عیش و آرام سے بیٹھے ہیں انکو ذرا ایک مہینے نہیں ایک ہفتے کے لیئے کراچی بھیج دیا جائے پھر ذرا دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ ٹھنڈے موسم میں تازہ اور خالص جوس کے گلاس کے ساتھ 52 انچ کے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر تبصرہ کرنا آسان ہے ذرا ان لوگوں سے پوچھیں جو تین تین دن سے گھروں میں مقید ہیں۔باہر نکلیں تو گولی سے مر جائیں اور گھر میں رہیں تو بھوک پیاس سے۔
کراچی میںمیرا ایک عزیز بچہ ہے عباس فدا۔ اس نے کل رات مجھے یہ بتا کر جیسے تڑپا کے رکھ دیا کہ اسکی والدہ کی ہارٹ کی دوائی ختم ہو چکی تھی اور شہر میں ساری دوکانیں بند تھیں۔ایسے میٍں والدہ سمیت سارا گھر ایک عذاب میں مبتلا تھا۔ لیکن شکر کہ اللہ پاک نے کوئی رستہ نکال دیا۔ یہ تو ایک گھر کی داستان ہے اس شہر میں ایسے لاکھوں گھر ہیں۔ بے شک لعنت ہے ایسے اقتدار اور ایسی سیاست پر جسمیں عوام کو ہی بیگناہ قتل کیا جائے۔
ہمدانی صاحب
تُف ہے ایسے عوام پر جو اپنے ووٹ سے بار بار اپنے قاتل منتخب کرتے ہیں۔ّ
سو سنار کی تو ایک لوہارکی۔
جعفری صاحب تف تو پہلے ایسے رہنماؤں پر اور انکے کارندوں پر ہونی چاہئیے جنہوں نے اس عوام کو جھوٹے دلاسے دے دے کر ہمیشہ دھوکا ہی دیا کبھی روزی روٹی کا بہانہ بنا کر تو کبھی پروٹیکشن دینے کے بہانے سے ۔
خیر اس تف پر بات بہت دور تک چلی جائے گی اور کہیں ایسا نا ہو کے اس بحث کو آپ زاتیات پر لے لیں اس لئیے میں چپ ہو جاتی ہوں مگراپنی طرف سے اتنا کہونگی کے آج آپ نے اپنے دو ٹکے کے گھٹیا بدمعاش قاتل رہنماوں کی حمایت کی خاطراس عوام پر تف کیا جس بے چاری عوام کی وجہ سے آپ اور آپکی جماعت آج کراچی میں خون کی حولی کھیل رہی ہے ۔
بس میرے تھوڑے لکھے کو ہی بہت مانا جائے
اللہ ہم سب کوعقل سلیم عطا فرمائے اور آپنی آخرت سنوارنے کے لئیے حق گوئی کی توفیق عطا فرمائے
آمین
محتاج دعا
ماریہ علی
ماریہ صاحبہ
بہت بہت شکریہ آپکے اتنے اچھے تبصرہ کا۔ اللہ آپکو عمرِ نوح عطا کرے۔ آپ سدا سہاگن اور ہمیسہ خوش اور آباد رہیں۔ آمین
ماریہ علی صاحبہ. آپ نے جن عوام دشمن سیاست سیاست دانوں کی طرف اشارہ کیا ہے ہم جیسے لوگ کوئی 35 بر س سے ان پر تُف کرتے آئے ہیں اور ان کے لیئے تُف کا لفظ بہت چھوٹا ہے. لیکن اب عوام پر تُف اس لیئے کرنا پڑ رہی ہے کہ جیسے میں نے لکھا ہے ”تُف ہے ایسے عوام پر جو اپنے ووٹ سے بار بار اپنے قاتل منتخب کرتے ہیں۔ّ” یہ بات تو طے ہے نا کہ جیسا بھی نظام سہی ان قاتلوں.لٹیروں اور بدمعاشوں کو عوام کے ووٹ کی پشت پناہی حاصل ہے. یہ ایک الگ بحث ہے کہ ملک میں دیگر نظام کی طرح انتخابات کا نظام بھی ناکارہ ہے اور اسمیں عوام کے ووٹ کا صرف نام استعمال ہوتا ہے. لیکن جیسا بھی نظام ہے اسمیں ووٹ شمار کیا جاتا ہے اور یہ ووٹ عوام کی اکثریت ہی دیتی ہے. اسوقت چار بڑی ڈاکو اور لٹیرا کمپنیاں ہیں.ایک پیلپز پارٹی،دوسری مسلم لیگ ن،تیسری ایم کیو ایم اور چوتھی اے این پی. اب ذرا غنڈوں اور عوام دشمن طاقتوں کا اتحاد تو دیکھیں کہ یہ ساری جماعتیں بے گناہ عوام کا قتل بھی کر رہی ہیں اور وفاق کی حکومت میں اتحادی بھی ہیں. اقتدار کے مزے بھی لوٹ رہی ہیں.وزیروں کی کوٹھیوں میں بھی رہتے ہیں،اپنی کاروں پر پاکستان کا جھنڈا لگا کر اس پرچم کی توہین بھی کرتے ہیں لیکن کسی اصول یا کسی سچ کی خاطر حکومت نہیں چھوڑتے. یہی ان کی بدنیتی،عوام دشمنی اور اقتدار کی لالچ ہے.
اب ذرا مشرقی یورپ کی گزشتہ صرف دس سال کی سیاست کا جائزہ لے لیں تو پتہ چل جائے گا کہ عام لوگوں نے کیسے راتوں رات حاکموں کو نکال باہر کیا بلکہ چوراہوں میں لٹکا دیا.
عوام کی طاقت سے کون انکار کرے گا. اسی لیئے اپنی طاقت اور قوت سے ناآشنا ان عوام پر ”تُف” کہا ہے. کاش یہ عوام بے حسی کے حصار سے باہر آ جائیں اور ننگے پاؤں ،بھوکے پیٹ ایک بار اسلام آباد پہنچ کر اگلی نسلوں کو محفوظ کر آئیں. اسی لیئے تو میں نے لکھا تھا کہ….
یہ پاک دھرتی نہ جانے کیسے رزیل لوگوں کے ہاتھ میں ہے
کہ ملک پانی میں بہہ گیا ہے
انہیں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ لوگ پتوں پہ جی رہے ہیں
خود اپنا ہی خون پی رہے ہیں
لہو سے زخموں کو سی رہے ہیں
وطن میں قبریں بھی کم ہوئیں تو تمام لاشوں کو نزرِ آبِ رواں کیا ہے
وہ سیلِ تند خو کہ جس نے کتنے گھروں کو پل بھر میں
دیکھ لو بے اماں کیا ہے
مگر یہ حاکم کہ ان غریبوں کے دکھ سے بھی آشنا نہیں ہیں
جو ووٹ دیکر خود اپنے قاتل کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں
مرے وطن کی زمیں پہ جیسے لہو کے پودے اُگے ہوئے ہیں
ہر ایک بستی میں موت کا جیسے رقص جاری
کہیں پہ سیلاب ڈس رہا ہے
کہیں مسلماں خود اپنے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہے
کہیں پہ خود کُش اُڑا کے خود کو بسوئے جنت رواں ہوا ہے
یہ ملکِ امن و اماں جو اب ملکِ جنگ لگتا ہے
اسکو اپنے ہی گھر کے لوگوں نے لوٹ ڈالا
یہاں گھروں کے ہیں در مقفل
جو بچ گئے ہیں وہ رزقِ آبِ رواں بنے ہیں
عجب ستم ہے کہ مُلک بھر میں ہے موت کا جیسے رقص جاری
مگر یہ حاکم کہ اپنے بچوں کو لے کے یورپ میں گھومتے ہیں
بلادِ مغرب سے کہہ رہے ہیں
ہمارے بچے تو پیدا ہوتے ہی حکمراں تھے
یہ آج بھی کل کے حکمراں ہیں
عجب ستم ہے کہ ملک اک گھر کی جیسے جاگیر بن گیا ہے
حصارِ ظلمت عوام کی جس طرح سے تقدیر بن گیا ہے
وطن میں ہر روز گولیوں سے غریب شہری کہ مر رہے ہیں
مگر یہ حاکم کہ گھر سے باہر ہیں گھر کی انکو خبر نہیں ہے
کٹے ہوئے ہیں جو سر تو اِن میں خود انکے بچے کا سر نہیں ہے
ذرا بھی ان پہ اثر نہیں ہے
بنامِ حاکم یہ داغِ ذلت ہیں اور کچھ باخدا نہیں ہیں
یہ ناگ وہ ہیں جو اپنی ہی سرزمیں میں بیٹھے ہوئے تھے چھُپ کر
بلوں سے باہر اب آ چکے ہیں
یہ ناگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے ہی گھر کے لوگوں کو ڈس لیا ہے
یہ میری آنکھوں میں کیسا منظر ٹھہر گیا ہے
میں جیسے صحرا میں پیاسا تنہا بھٹک رہا ہوں
عجیب صحرا ہے جسمیں ہر سو فقط ہے بھوک اور تشنہ لبی کا غلبہ
فضا میں جیسے لہو کا کڑوا سا ذائقہ ہے
نگاہوں میں جو ہزاروں چہرے ہیں ماتمی ہیں
سنو اے آزردگانِ شب اب یہ طے ہوا ہے
کہ اب کسی بھی غنیمِ فاقہ کشاں کے ہاتھوں پہ بیعتِ دل روا نہ ہو گی
کہ اقتدارِ طویل کے لالچی لٹیروں نے جسم و جاں میں نقب لگائی
ہماری آنکھوں کو اپنی لالچ کے اندھے نیزوں پہ یوں پرویا
کہ ساری بینائی گندے پانی میں بہہ گئی ہے
یہ میرے بچوں کے ازلی دشمن یہ حاکمانِ شبِ سیاہ ہیں
یہ میرے بچوں کا خون پی کے جو پَل رہے ہیں
یہ میرے شہروں کی روشنی کو نگل رہے ہیں
چراغِ شب کی تھرکتی لو بھی بجھا رہے ہیں
بنو اُمیہ سے اپنا رشتہ بتا رہے ہیں
سنو اے میرے وطن کے لوگو
درندوں کا یہ رزیل ٹولہ
جو اپنی دھرتی کے سارے لوگوں کو تہنا کر کے
مزے سے خود مغربی فضاؤں میں جھومتے ہیں
یہ بے عمل حاکمانِ شہرِ وفا پلٹ کے جو گھر کو آئیں
تو ان سے سارا حساب لینا
مجھے قسم ہے کہ کالے سانپوں یہ کریہہ المزاج ٹولہ
تمہارے ہاتھوں نہ بچ سکے گا
السلام علیکم
ہمدانی صاحب بے حد معزرت ایک طرف تو آپ یہ کہتے ہیں کے عوام کا ووٹ صرف برائے نام ہی استعمال ہوتا ہے دوسری طرف آپ عوام کو قصوروار بھی کہتے ہیں۔
پاکستان کی بے چاری عوام اسکو کہیں سستا آٹا ملے تو وہ غریب اسکے پیچھے بھاگتے ہیں ۔ اسکو کہیں چینی بھیک کی طرح 10 روپیہ سستی ملے تو یہ فقیروں کی مانند صبح سے شام تک اس لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں کے کہیں سے کچھ تو فائدہ ملے اس عوام کو زہنی طور پر اس طرح معزور کر دیا ہے کے وہ حق کے لئیے آواز اٹھانے کے لئیے بھی کندھا ڈھونڈتے ہیں کے کوئی آگے بڑہے تو ہم اس کا ساتھ دیں اور ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے کے پاکستان کی بے چاری عوام اسقدر ذہنی معزور ہو گئی ہے کے ہمیشہ کسی کا سہارے کے انتظار میں رہتی ہے اور جب کوئی بڑے بڑے دعوے کرنے والا آگے آتا ہے تو اسکا مسیحا سمجھ کر اس سے سہارا لیتی ہے مگر بعد میں سہارا دینے والا اس کا فائدہ اٹھاتا ہے اور خود عیاشیاں کرتا ہے اور عوام بے چارے وہی ایک جانور سے بدتر ذندگی گزارنے لگتے ہیں اور سوچتے ہیں کے تو نہیں تو اور سہی اور نہیں تو اور سہی پھر کسی اور کا انتظار کرتی ہے کے اب کوئی آئے گا ہر ہم کو ہمارا حق دلوائے گا ۔
اگر یہ عوام اپنے ہوش و ہواس میں ہوتی تو کیا ایسا ہوتا ؟
میں تو پاکستان کی تاریخ بلکل بھی نہیں جانتی آپ سب تو پرانے لوگ ہیں اور بہت اچھی طرح جانتے ہیں کے جب سے پاکستان آذاد ہوا ہے جب سے آج تک ہوتا کیا آیا ہے ـ استعمال ہمیشہ عوام ہوئی اور فائدہ مخصوص گروہ کو ہی ہوا ہے ۔
میں جب سے جانتی ہوں اسکا مختصر سا زکر کروں تو ایم کیو ایم کتنی بڑی کاز لے کر آئی اور ہوا کیا ؟سب ڈرامہ۔ ایک تحریک کے طور پر ابھری مظلوم عوام کو خوب بے وقوف بنایا اپنے مفادات کی خاطر ایک پوری جوان نسل نگل گئی یہ جماعت مگر بعد میں وہی ہوا جو اس عوام کے مقدر میں لکھا تھا۔
میرے نزدیک کسی ہینڈی کیپ کے اوپر زمہ داری ڈالنا کے اسکی غلطی ہے یہ غلط ہے کیونکہ معزور تو معزور ہوتا ہے محتاج کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کے دوسروں کے رحم و کرم پر رہنا اب اس پر تف کرنا لعنت بھیجنا قصوروار ٹھہرانا کہاں کی دانشمندی ہے ؟
لعنت تو ایسے رہنماؤں پر اور انکے کارندوں پر ہونی چائیے جو اس بے چاری ہینڈی کیپ عوام کے نام پر صرف اپنے مفادات حاصل کر کے انکو انکے حال پر چھوڑ کے خود عیاشیوں میں لگ جاتے ہیں۔
رہنما تو ہیں ہی بے غیرت مگر تف تو ایسے لوگوں پر ہونی چاہئے جو لوگ ایسے رہنماوں کی حمایت میں اسقدر پاگل ہو جاتے ہیں کے انکی غلطیاں انکو نظر نہیں آتیں انکے گناہ انکو دکھائی نہیں دیتے ۔ انکے مظالم پر یہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اورصرف اور صرف دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں اور صرف انہی کوگناہگار ٹہراتے ہیں ۔
قران میں ایسے ہی لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے کے ۔۔خدا نے انکے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور انکی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئیے بڑا عزاب تیار ہے۔
ماریہ صاحبہ.آپ نے شاید میرا فقرہ پورا نہیں پڑھا اور بات درمیان سے اُچک لی ہے.ذرا میرا فقرہ پورا پڑھیں……..ہ ایک الگ بحث ہے کہ ملک میں دیگر نظام کی طرح انتخابات کا نظام بھی ناکارہ ہے اور اسمیں عوام کے ووٹ کا صرف نام استعمال ہوتا ہے. لیکن جیسا بھی نظام ہے اسمیں ووٹ شمار کیا جاتا ہے…..
اب جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ میری ہی بات کی توسیع ہے. جیسے آپ نے یہ درست لکھا ہے کہ…….رہنما تو ہیں ہی بے غیرت مگر تف تو ایسے لوگوں پر ہونی چاہئے جو لوگ ایسے رہنماوں کی حمایت میں اسقدر پاگل ہو جاتے ہیں کے انکی غلطیاں انکو نظر نہیں آتیں انکے گناہ انکو دکھائی نہیں دیتے ۔ انکے مظالم پر یہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اورصرف اور صرف دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں اور صرف انہی کوگناہگار ٹہراتے ہیں ۔…….
ماریہ صاحبہ آج مجھے یہ اعتراف کرنے دیں کہ مجھے اس بات پر خوشی کے ساتھ حیرت ہے کہ آپ پیدا بھی ڈنمارک میں ہوئیں،اردو بھی یہیں سیکھی اور پاکستان میں بس جیسے چند ماہ ہی رہی ہونگی لیکن آپ کا پاکستان کی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں تجزیہ وہاں رہنے والوں سے بہتر ہے. مجھے یقین ہے کہ ان موضوعات پر گھر میں آپکی علی صاحب سے بھی گفت و شنید ضرور ہوتی ہو گی جو ایک صحت مند رویہ ہے.
السلام علیکم
معزرت ہمدانی صاحب میں نے پڑھا تو پورا تھا مگر بس ایک یہی بات زہن میں رہ گئی اس میں میرا مطلب آپ کی بات کو کاٹنا یا غلط کہنا نہیں بلکہ یہاں عالمی اخبار پر اور عام حالات میں اکثر لوگ صرف اور صرف عوام کو ہی قصوروار ٹہراتے ہیں اس لئیے میں نے یہ سب لکھا۔پلیزاس کو آپ اپنے لکھے کو غلط کہنا مت سمجھیے گا۔
جہاں تک میرے یہاں رہنے کی بات ہے تو مجھے خود علم نہیں ہے کے اس سب پر میں کیوں اتنا دھیان دیتی ہوں مگر بس اتنا جانتی ہون کے یہاں رہ کر بھی پاکستان سے الگ نہیں ہوں ۔ اور اس میں ذیادہ ہاتھ خود علی کا ہی ہے کیونکہ اکثر ان سے ان معضوعات پر بحس ہوتی رہتی ہے تو زیادہ معلومات مجھے ان سے ہی ملتی ہیں ۔اور اسی وجہ سے مجھے کافی مرتبہ ڈانٹ تک پڑتی ہے مگر خیر ہے اتنا تو چلتا ہے)
خیر میں پھر یہی کہونگی کے پاکستان کے سیاستدان ٹھیک ہوں یا نا ہوں اگر صرف ایسی جماعتوں کے ہواری جو انکی خودساختہ تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور انکے حق میں تبلیغ کرتے پھرتے ہیں اگر صرف وہی ٹھیک ہو جائیں تو شاید انقلاب آ جائے کیونکے ایسی جماعتوں کو فائدہ اور نقصان صرف ایسے ہی لوگ پہنچاتے ہیں
ہوتا کچھ نہیں ہے ہاتھ انکے بھی کچھ نہیں آتا مگر بس انکے بیٹے بھانجے بھتیجے اور رشتہ دار ایسی جماعتوں میں پاورفل ہوتے ہیں تو انکو کہیں کوئی مسلہ نہیں ہوتا اس لئیے انکو بھی کسی عام آدمی کے دکھ کا احساس نہیں ہوتا اور یہ اپنے ان رشتہ داروں کے بھرم میں آ کر پورے شہر میں دھونس مارتے پھرتے ہیں۔ مفت کے بھرم اور سپورٹ ایسے قاتلوں کی شاباش ہے ایسے لوگوں پر۔
کبھی یہ لوگ جائیں نا کسی یوٹیلٹی اسٹور کی لائن میں لگیں ۔ پھر پوچھونگی ان سے میں کے اب بتائیں آپکی ایم کیو ایم پی پی پی اے این پی کتنی مخلص ہے عوام سے۔ جب انکی آنکھون کے سامنے کوئی ایم کیو ایم کا دو ٹکے کا لڑکالائن توڑ کر اسٹور میں جا کر جی بھر کے سامان لے کر نکل جائے گا پھر ان سے پوچھونگی کے جی جعفری صاحب آپ تو صبح کے لائن میں کھڑے ہیں اپکو تو ایک کلو چینی نہیں مل سکی مگر یہ لڑکا آیا اور دس کلو چینی ایک جھٹکے میں لے گیا ؟
مگر خیر دفعہ کریں ہم کو اس سے کیا ۔ نا ہم مفاد پرست ہیں نا ہی مفاد پرستوں کے ٹولے میں شامل ہیں ۔مگر پھر بھی بے حس نہیں ہیں اور یہی دعا ہے اللہ سے کے کبھی ہم کو بے حس نا بنائے آمین
میرے چھوٹے اور پیارے بھائ آصف سلامت رھو۔ یہ لہو کی ارزانی کیوں۔۔ اس لیے کہ ھمارے پیارے وطن میں پیٹرول گیس بجلی ۔ تعلیم پّرتعیش زندگی اور اس کی ساری مراعات صرف اور صرف حکمراں طبقے کے لیے ۔ اور غریب پاکستانی کا لہو بے قیمت ھے۔ آج دنیا ميں کیہں سے بھی قاتل دھشت گرد آتے ھیں اور سب کی نظروں میں خاک دھول جھونک کر بہت منظم انداز میں کسی بھی مقام پر ۔ کسی بھی بے گناہ پاکستانی کومار کر کے چلے جاتے ھیں ۔ اب پاکستانی اپنے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی حکمت عملی کی بدولت اپنے گھروں میں بھی محفوظ نیہں ھیں ۔ موت ھر جگہ شانہ بشانہ چل رھی ھے۔
شہر افسوس کی ھر ایک روش ویراں ھے
آصف میرے بھائ میں ابھی پاکستان سے آئ ھوں مجھے لگا جیسے میں عراق ۔ فلسطین ۔ یا افغانستان میں چند دن گذار کر آئ ھون ۔۔ بظاھرتو میں بھی نارمل ھی نظر آرھی ھوں مگر میں بہت ٹوٹ چکی ھوں ۔ یہ میرا سرسبزو شاداب و آباد وطن۔ کس کی نظر کھا گی کس کی نظر لگ گی۔ افسوس تو اس بات کا ھے کہ مہذب معاشرے کی طرح کوئ بھی سیاست داں اتنے بڑے سانحات پر بھی مستعفی نیہں ھوتا ۔ھمارے غلام اور ارباب بے اختیار کا اپنا اور انکی آنے والی نسلوں کا مستقبل تو محفوظ ھے، یورپ اوو امریکہ میں ان کے محلات ۔ سوئس بنکون میں بھری حرام کی دولت ۔۔ اسی لیے یہ آرام سے پیرو کی طرح بانسری بجارھے ھیں ۔ پاکستان جل رھا ھے تو جلنے دو۔ ان کے گھر تو محفوظ ھیں ۔۔ پاکستان اللہ کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ۔ ابرھہ وقت سے بھی اللہ ھی بچاۓ گا۔۔
کچھ
کہنے
اور
لکھنے
کو
دل
نہیں
چاہ
رہا ہے
بس افسوس ہے
تو ان 90 سے
زائد بے گناہ لوگوں
کی موت کا جو اندھی گولی کا نشانہ بنے
ان کا سوگ کون منائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟
ان کے پیاروں کو کون دلاسا دے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ان کا کون سہارا بنے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
جناب ثروت جمال اصمعی کا ایک قابل غور مضمون درج زیل ہے
کراچی جو ہمیشہ کی طرح آج بھی محبتوں کا شہر ہے اور عام دنوں میں جہاں ملک کے ہر حصے کے عوام آج بھی بھائیوں کی شیر و شکر ہوکر طرح رہتے ہیں، اسے برسوں سے نفرتوں کا جہنم بنانے کی کوششیں جو طاقتیں بھی کرتی چلی آرہی ہیں ،ان کی نشان دہی کرنے اور ان کا ہاتھ روکنے میں ناکامی کاذمہ دار کون ہے؟
ظاہر ہے کہ حکمران ہی اس کے ذمہ دار ہیں جن کے اقتدار کا بنیادی مقصد اہل وطن کو امن اور انصاف مہیا کرنا ہے۔ پچھلے چار دنوں سے شہر میں پھر آگ لگی ہوئی ہے، جاں بحق و زخمی ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں تک جاپہنچی ہے اور بہت بڑی تعداد میں املاک نذر آتش کی جاچکی ہیں۔ مرنے والوں کی زبان اور علاقہ خواہ کوئی بھی ہو لیکن وہ سب عام محنت کش لوگ ہیں۔
ردعمل کے نام پر ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں شہر کی بعض بستیوں میں گروہی جنگ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور عام آبادی انتہائی خوف و ہراس کے عالم میں بنیادی ضروریات زندگی کے محروم ہوکر گھروں میں محصور ہوجانے پر مجبور ہوگئی ہے۔
لیکن حکومت اور اس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی سراغ ان جگہوں پر کہیں نہیں ملتا۔ٹی وی چینلوں پر دکانوں کے شٹر توڑتے اور انہیں لوٹتے اور آگ لگاتے فسادیوں کے فوٹیج دکھائے جارہے ہیں مگر انہیں رنگے ہاتھوں قانون کی گرفت میں لانے کے لیے محافطین قانون کی کسی سرگرمی کا کہیں کوئی پتہ نہیں چلتا۔
یہ صورت حال سندھ اسمبلی کے رکن اور صوبے کی ایک اہم سیاسی جماعت کے رہنما کے المناک قتل کے ردعمل میں پیدا ہوئی ہے۔ ایک سیاسی کارکن کے اس بہیمانہ قتل پر جتنا افسوس بھی کیا جائے کم ہے،قاتلوں کا کھوج لگانا اور عدالت میں جرم ثابت کرکے انہیں سزا دلوانا حکومت کا کام ہے جبکہ جو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگارہی ہیں وہ سب عوامی نمائندگی کی حامل اور ہر سطح پر حکومت میں شامل ہیں۔
اس لیے ان میں سے کسی کے کارکنوں اور حامیوں کے لیے سڑکوں پر آکر پرتشدد کارروائیاں کرنا کسی صورت جائز نہیں ۔اگر ہنگامہ آرائی میں ملوث لوگ متعلقہ سیاسی جماعتوں کے کارکن یا حامی نہیں ہیں بلکہ بالفرض انہیں بدنام کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں کررہے ہیں تو متعلقہ جماعتوں کو ان سے اور ان کی کارروائیوں سے برأت کا کھلا اعلان کردینا چاہیے کیونکہ کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیتی خواہ معاملہ کسی مجرم کا کیوں نہ ہو۔
سزا کے لیے قانون اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل ناگزیر ہوتی ہے۔جبکہ سڑکوں اور گلی محلوں میں کی جانے والی قتل و غارت اور تشدد کی کارروائیوں کا نشانہ تو بہرصورت غیر متعلق اور معصوم لوگ ہی بنتے ہیں۔ جو افراد ان کارروائیوں میں ملوث ہیں انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے جس کا یہ دل دہلادینے والا فرمان اس قرآن میں موجود ہے جس کی سچائی پر ہر مسلمان سو فی صد یقین رکھتا ہے،کہ:
” جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے،اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے“ (سورہٴ نساء: آیت ۹۳)۔قرآن کے ایک اور فرمان کی رو سے ایک انسان کا قتل تمام انسانوں کے قتل کے برابر کا جرم ہے اور ایک انسان کی جان بچالینا تمام دنیا کے انسانوں کو زندگی بخش دینے کے درجے کی نیکی ہے۔
قتل و غارت میں ملوث افراد کو خود اپنے مفاد میں سوچنا چاہیے کہ اگر ان کارروائیوں کے نتیجے میں انہیں کسی قسم کا فائدہ حاصل بھی ہورہا ہے یا ایسا ہونے کی توقع ہے تو کیا دوزخ کے دائمی عذاب سے بچنے کیلئے اس عارضی فائدے کو چھوڑ دینا منافع کا سودا نہیں ؟
کراچی میں بار بار کھیلی جانے والی آگ اور خون کی اس ہولی کے پیچھے ان عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہونا ہرگز حیرت انگیز نہیں ، پاکستان کو غیرمستحکم کرنا جن کے ایجنڈے کے سرفہرست نکات میں شامل ہے۔ جن کے دلوں میں اسلام کے نام پر بننے والا یہ ملک کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور جنہوں نے اس کی شکست و ریخت کے علانیہ منصوبے علانیہ بنا رکھے ہیں۔
معروف امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی جانب سے امریکا کی عسکری قیادت کے مطالبے پر 2004ء میں ایک تحقیقی رپورٹ اس موضوع پر تیار کی گئی تھی کہ امریکا مسلم ملکوں میں اپنے مفادات کے لیے مسلمانوں کے اختلافات سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کے بعد بھی ان خطوط پر مختلف تحقیقی کاوشیں جاری ہیں۔ اس رپورٹ میں پوری تفصیل سے پوری دنیا میں مسلمانوں کے فقہی، مسلکی، نسلی، لسانی اور علاقائی اختلافات کا جائزہ لے کر انہیں ہوا دینے اور ان کی بنیاد پر مسلمانوں کو باہم لڑاکر کمزور کرنے اور پھر اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کا نسخہ امریکی حکمرانوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
عراق میں ان ہی سفارشات کے مطابق شیعہ اور سنی آبادی کو ایک دوسرے سے سازشی کارروائیوں کے ذریعے متصادم کیا گیا اور بیرونی قبضے کے خلاف ان کی مشترکہ مزاحمت کو ختم کرکے امریکی مفادات کو مستحکم کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ کراچی کی صورت حال اس نسخے سے مبریٰ نہیں ۔ امریکا کے آرمڈ فورسز جرنل کے جون 2006ء کے شمارے میں سابق فوجی افسر اور دفاعی امور کے ماہر رالف پیٹرز نے ”خونی سرحدیں“ کے عنون سے مشرق وسطیٰ اور پاکستان کی تقسیم کو اس بنیاد پر ناگزیر قرار دیا کہ ان کی سرحدیں غیر فطری ہیں۔
اس منصوبے میں عراق کی تین حصوں میں تقسیم کے علاوہ سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں اور دیگر عرب ملکوں کی شیعہ آبادی پر مشتمل ایک عرب شیعہ ریاست اورایک کرد ریاست کے قیام اور مشرق وسطیٰ کے نقشے میں مزید تبدیلیوں کے علاوہ پاکستان کے جغرافیہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ امریکا میں پالیسی سازی کے حوالے سے اس جریدے کی اہمیت کیا ہے؟
اس کا اندازہ آن لائن انسائیکلو پیڈیا وِکی پیڈیامیں اس جرنل کے بارے میں لکھے گئے ان تعارفی الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے: ”آرمڈ فورسز جرنل فوجی افسروں اور حکومت و صنعت کے شعبوں کے فکری رہنماوٴں یعنی ان لوگوں کے لیے شائع کیا جانے والا ماہانہ جریدہ ہے جو قوم کے لیے فوجی پالیسی اور حکمت عملی طے کرتے ہیں۔“
یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ کراچی میں نفرتوں کی آگ بھڑکانا ہمارے دشمنوں کا کھیل ہے اور اس کھیل کے جلد از جلد خاتمے ہی میں اس شہر اور اس ملک کے تمام طبقوں کی بقا اور سلامتی ہے۔
ماریہ جی.آؤ ہاتھ اٹھا کر،سر جھکا کر،آنکھوں میں آنسو بھر کر،دل کو نرم کر کے اپنے خالق و مالک سے گڑگڑا کر دعا مانگیں کہ اے قادر مطلق ،اے دلوں کے بھید جاننے والے،اے سیپ کے سینے میں موتی پیدا کرنے والے،اے رات کی تاریکی کی کوکھ سے دن کو پیدا کرنے والے،اے پھول کو خوشبو اور قوت شامع کو احساس خوشبو دینے والے ہمیں جس حال میں رکھے تیری عنایت لیکن اپنے حبیب،حبیب کے حبیب علی مرتضی اور انکی اہلبیت کے صدقے ہمیں کبھی بے حس نہ بنانا. اے کہ تو نے سورج کو روشنی اور روشنی جو حدت عطا کی ہے ہمیں احساس کے ساتھ زندہ رکھنا اور وطن عزیز میں جو کوئی بھی بے حس ہو چکا ہے اسکی حس کو بیدار کر دے،انہیں شعور زیاں عطا کر اور قوت دے کہ اپنے قاتل کے پنجے میں پنجہ ڈال کر انتقام لے سکیں. اس ملک کے حاکموں کے دلوں پر لگے قفل کھول دے،انکی آنکھوں کو بینائی دے،انکے کانوں کو سماعت دے کہ یہ عوام کی چیخ و پکار سُن سکیں.آمین
الہی آمین ۔
ہمدانی صاحب میرے خیال میں اس دعا کے بعد باقی کچھ کہنے کو باقی نہیں رہتا ۔ بس پروردگار ہم سب کے دلوں کی سچائی سے مانگی گئی یہ دعا اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔۔آمین
محتاج دعا
ماریہ علی
ماریہ صاحبہ کے تبصرہ کا جواب دینا میرے بس کی بات نہیں۔ نہ میرے پاس اتنا علم ہے نہ حوصلہ اور ویسے بھی وہ ہماری بہو ہیں۔
ثروت جمال صاحب کامندرجہء بالا مضمون بار بار پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور اس ہی کا اظہار کل ARY کے ڈاکٹر دانش کے پروگرام میں حسن نثار صاحب نے کیا تھا۔ حسن نثار صاحب کے مطابق جو اسوقت کراچی میں ہورہا ہے اسمیں PPP، ANP یا MQM شامل نہیں ہوسکتے۔ یہ جھگڑے کسی بہت بڑے بیرونی پلاٹ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
میں 1964 سے ملک سے باہر ہوں لیکن میرے اوپر پاکستان جاکر خدمت کرنے کا اتنا جنون سوار تھا کہ میں احباب کے روکنے کے باوجود اپنی چلتی ہوئ آئل کمپنی بیچ کر 1990 میں اسلام آباد چلا گیا۔ پیسہ میرے پاس اتنا تھا کہ مجھے وہاں نوکری نہیں کرنی پڑی۔نوکری نہ کرنے کی وجہ سے مجھے بجلی، پانی، گیس اور ٹیلیفون کے بل خود ہی مجھے لمبی لمبی لائنوں میں کھڑے ہوکر pay کرنے پڑتے تھے۔ جن لوگوں کے پاس نوکری ہوتی ہے اُنہیں ابنے تعلقات کی وجہ سے یہ نہیں کرنا پڑتا۔ مجھے بے نظیر صاحبہ کی حکومت میں Petroleum Advisor کے عہدہ کی پیکش بھی ہوئ ۔ پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے میں نے معذرت کرلی۔ البتہ Petroleum Policy کے بنانے میں بلا معاوضہ حکومت کی مدد ضرور کی۔ اس Policy کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ Companies جو پہلے پاکستان جانے سے کتراتی تھیں اُنہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کردی اور ہماری گیس کی پیداوار میں کافی اضافہ ہوا۔ یہاں سے جاکر پاکستان کے سسٹم کو سمجھنا اور وہاں ایمانداری سے کام کرنا ناممکن ہے۔ چنانچہ میں مجبوراً 1995 میں واپس آگیا اور میری فیملی بہت خوش ہے۔ اللہ نے مجھے یہاں اتنی عزت اور پیسہ دیا ہے کہ میں نے کبھی سعودی عرب یا کسی اور ملک میں کام کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ میری بڑی بیٹی فاطم ڈاکٹر ہے اور البرٹ آنسٹائن میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی Faculty پر ہے۔ دوسری بیٹی زہرہ Lawyer ہے۔
پاکستان میری نس نس میں ہے۔ لیکن اختلافِ رائے پر پاگل پن یا مطلبی کے فتوی صادر کرنے کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ عالمی اخبار میرا ذریعہ معاش نہیں ہے۔ یہ ہلکے پھلکے تبصروں کے لئے اچھی جگہ ہے۔ لیکن لعن طعن اور اسکی بڑھ چڑھ کر پذیرائ کیا مناسب عمل ہے۔ دل ہلکا کرنے کیلئے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔ میری اس بات سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اسلام علیکم ساتھیو
بہت کوشش کر رہی تھی کہ کچھ الفاظ کچھ جملے ایسے مل جائیں جو اس ارزا نئ لہو پر زخمی دل کی ترجمانی کر سکیں ۔
بس دکھ یہ ہے کہ پاکستانی مر رہا ہے اور پاکستانی مار رہا ہے ۔ اگر اس سے زیادہ دکھ کی کوئی بات ہے تو شاید میرے علم میں نہیں ۔
پاکستانی سیلاب میں ڈوب رہا ہے اور پاکستانی ہی اسے بچا رہا ہے ،یہ روشنی کی کرن ہے ،جو مجھے امید دلاتی ہے ۔
پاکستانی غلطی کر رہا ہے اسکے خلاف آواز اُٹھانے والے پاکستانی ہیں یہ بات مجھے حوصلہ دیتی ہے ۔
بس اگر ہم سب صرف پاکستانی ہو جا ئیں صرف پاکستان کی بھلائی کی بات کریں کیونکہ پختون مرتا ہے تو پاکستانی مرتا ہے ۔مہاجر مرتا ہے تو پاکستانی مرتا ہے ،پنجابی مرتا ہے تو پاکستانی ہی مرتا ہے ،سندھی مرتا ہے تو پاکستانی مرتا ہے پٹھان مرتا ہے تو پاکستانی مرتا ہے ۔سرائیکی مرتا ہے تو پاکستانی مرتا ہے تو خدارا بس یہ سوچو کہ پاکستانی مر رہا ہے۔ اور یہ اتنے دکھ کی بات ہے کہ شاید ہی کوئی آنکھ اس دکھ پر نم نہ ہو ۔کہ مر رہا ہے صرف پاکستانی ۔
ہم اپنے رب سے پناہ مانگتے ہیں اور اس کا فضل طلب کرتے ہیں ۔اور ان سب کے لواحقین کے لئے صبر کی دعا کہ ہمارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
ہمدانی صاحب
جسطرح آپنے مشرف کو بلیک لسٹ کردیا اسطرح آپ سیاسی یا مذہبی جماعتوں کو بھی بلیک لسٹ کرسکتے ہیں۔۔آپ مجھے بھی بلیک لسٹ کرسکتے ہیں۔ کونسی بڑی بات ہے۔ یہ آپکی صوابدید ہے۔ لیکن اختلافِ رلئے پر کسی کی پگڑی اچھالنا میری سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ سارے تبصرے نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوتے ہیں۔
عالم آرا بہن بہت خوب
افسوس یہ ہے کہ جو مارا گیا وہ غریب لاچار تھا۔ جس نے مارا اسکی جیب بھردی گئ۔
Beggars cannot be the choosers
برادر بزرگ قبلہ ظفر جعفری صاحب۔ آپ نے لکھا کہ ۔۔۔۔۔ہمدانی صاحب جسطرح آپنے مشرف کو بلیک لسٹ کردیا اسطرح آپ سیاسی یا مذہبی جماعتوں کو بھی بلیک لسٹ کرسکتے ہیں۔۔آپ مجھے بھی بلیک لسٹ کرسکتے ہیں۔ کونسی بڑی بات ہے۔ یہ آپکی صوابدید ہے۔ لیکن اختلافِ رائے پر کسی کی پگڑی اچھالنا میری سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ سارے تبصرے نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
مجھے آپ سے قطعی اختلاف ہے آپ کے اس سارے بیان پر۔۔۔۔مجھ میں دل کھول کر اتفاق کرنے کا حوصلہ بھی ہے اور مدلل طریقے سے ببانگ دہل اختلاف کا بھی۔۔۔۔مجھ جیسے لوگوں نے عشروں آزادی رائے کے لیئے ماریں کھائی ہیں اور الحمد اللہ میں ان صحافیوں میں سے ہوں جس کا کوئی بینک بیلنس نہیں برطانیہ جیسے ملک میں 22 سال سے رہ کر اور ملک کے دو صدور کے ساتھ کام کر کے بھی پاکستان میں 5 مرلے کی زمین نہیں۔ آزادی رائے کی بات ہو تو میری ذات بالکل نفی ہوتی ہے اور یہی الحمد اللہ عالمی اخبار کی پالیسی ہے اور آپ جیسے صائب رائے لوگوں کا اسمیں شامل ہونا ہماری عزت ہے۔
اول تو یہ واضع ہو کہ ہم نے مشرف کو اخبار میں بالکل بلیک لسٹ نہیں کیا۔ جس کا جی چاہے گالی کے علاوہ اسکو جو کچھ بھی لکھے اخبار حاضر۔
سیاسی یا مذہبی جماعتوں کوہم کون ہوتے ہیں بلیک لسٹ کرنے والے یہ عوام کا کام ہے وہی کریں گے۔ شاید میری حیات میں ایسا دن آ جائے کہ عوام اپنے قاتلوں کو پہچان لیں۔
آپکو یا کسی ایک کو بلیک لسٹ کرنے سے بہتر ہے کہ اس اخبار کو بند کردوں۔ یہ اخبار مشہور زمانہ ”پیسہ اخبار” کی طرح چل رہا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔وہ کم از کم ایک پیسے میں تو بکتا تھا۔ سرکار ظفر صاحب اس اخبار کو صرف آپ جیسے دوستوں کا قلمی تعاون حاصل ہے ورنہ اسکو چلانے کے پیسے میں ریٹارڈ اور بے روزگار آدمی نہیں دے سکتا میرے دونوں بچے ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نگہت اور شمس بھائی نے کئی بار مدد کو کہا لیکن میں ابھی تک تو ان سے انکار کرتا چلا آرہا ہوں۔ اخبار کسی اشتہار اور ایک پیسہ آمدن کے بغیر چلا رہے ہیں اور جب تک دم میں دم ہے چلائیں گے لیکن آزادی رائے کی پالیسی پر کوئی سودا نہیں ہو گا۔انشااللہ
تبصروں کی نظر ثانی بھی بس نام نہاد ہے۔ بس گالی یا بدتمیزی کے علاوہ کچھ بھی کانٹ چھانٹ نہیں ہوتی یہ میں قسم کھا کے کہہ سکتا ہوں
مجھے اس سے بھی اختلاف ہے کہ یہاں بلاگ میں کسی کی پگڑی اچھالی جاتی ہے۔ یہ فقط محسوسات کی بات ہے۔ رہی بات اختلاف کی تو اختلاف میں الفاظ کا چناؤ بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں اور دو لوگوں کا بھی انتخاب الفاظ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ آپ جب جی چاہے صفدر ھمدانی کا نکتہ نظر کیا اسکی ذات پر بھی اختلاف کر کے دیکھ لیں اسے بہت بڑے دل جگر کا مالک پائیں گے۔ آپ کو اگر کسی بھی لکھنے والے کے کسی بھی فقرے سے رنج ہوا ہے تو اخبار کے مدیر اعلیٰ کے طور پر اسکی ذمیداری میں قبول کرتا ہوں اور آپ تو کیا کسی بھی قاری اور لکھاری سے دست بستہ معذرت خواہ ہوں۔ مجھےامید نہیں یقین ہے کہ میری یہ وضاحت صرف آپ کے لیئے ہی نہیں دیگر احباب کے لیئے بھی کافی ہو گی۔ سلامت باشد۔
السلام علیکم
محترم جناب ظفر جعفری صاحب ، یقینا آپ جانتے ہی ہونگے کہ ’’ بہت فرق ہوتا ہے بیتی اور سنی سنائی ہوئی میں ‘‘ میں کراچی کے مزاج کو جاننے کا دعواء تو نہیں کر سکتا مگر یہ ضرور کہونگا کہ اہل کراچی شاید دُنیا میں سب سے زیادہ محبت اور خلوص والے لوگ ہیں ، اِس شہر نے ہمیشہ ہر آنے والے اور ہر طرف سے آنے والے کے لیے اپنے دامن میں گنجائش رکھی ہے اِس کی وسعت کا کوئی اندازہ نہیں ، کم و بیش پچھلے تین عشروں سے شہر کراچی پر کسی نہ کسی حوالے سے ایم کیو ایم کی حکومت رہی ہے اور یہی عرصہ یہاں کے شہریوں کے لیے لہو رنگ رہا ہے اے این پی کو تو پہلی بار کراچی میں دو سیٹیں ملی ہیں ، میں اے این پی کی حمایت نہیں کر رہا اِس حمام میں سب ہی ننگے ہیں اقتدار کی ہوس اور مظلوم کا لہو جب منہ کو لگ جائے تو ذائقہ جاتے جاتے جاتا ہے ، آپ اور آپ جیسے تمام احباب کو تو اللہ تعالی نے شعور دیا جبکہ مجھ جیسا بے شعور انسان بھی کراچی مین ہونے والی ہر ہلاکت کے لیے ایم کیو ایم کوہی بلواسطہ یا بلاواسطہ مجرم سمجھتا ہے ، کہ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ میرے آقا جنابِ امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ تعالی نے فرمایا تھا (مفہوم ) کہ فرات کنارے اگر ایک کتا بھی مر گیا تو روز قیامت اللہ اُس کے بابت مجھ سے سوال کرے گا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترمہ ماریہ علی صاحبہ ، میں آپ کی ہر ہر بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ، اور رہے کراچی کے انتخابات کی بات تو عرض ہے کہ ساری دُنیا جانتی ہے کہ وہ کتنے شفاف ہوتے ہیں ، اور یہ آپ نے درست فرمایا کہ جب ایک غریب یہ دیکھتا ہے کہ وہ تو صبح سے ایک کلو چینی لینے کے لیے لائن میں لگا ہوا ہے اور ایک نوجوان آکر ایک منٹ میں ہی دس کلو چینی لیکر جا رہا ہے تو وہ یقینا طاقت کے اُسے منبہ کی طرف دیکھنے پع مجبور ہو جائے گا ، اور ایک بات جسکا میں بار بار ذکر کر رہا ہوں کہ کراچی میں سرکاری پولیس کے ساتھ ساتھ ایک غیر سرکاری پولیس بھی ہے جو ایم کیو ایم کے کارکنان پر مشتمل ہے اور جو مکمل طور پر مسلح بھی ہے ، اور پھر جناب الطاف حسین کے یہ بیانا ت بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جس میں وہ عوام سے اسلحہ گھروں میں رکھنے کا کہہ چکے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
بھٹی صاحب
اگر آپ میرے تبصرے پڑھتے رہے ہیں تو میں نے پاکستان میں ہمیشہ بھارتی، برطانوی یا امریکی طرزِ جمہوریت کی محالفت کی ہے۔ ہم اسکے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت نے ہمیشہ قہر ڈھائے ہیں۔ اس بات کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ کہ مستقبل قریب میں جب بھی انتخابات ہونگے یہی تین چار پارٹیاں انتخابات جیتیں گی۔ اور ہم یہی کہتے کہتے مرجائیں گے لولی لنگڑی جمہوریت دوسری طرزِ حکومت سے بہتر ہے۔ یہ پاکستانی جمہوریت لولی لنگڑی نہیں ہوتی۔ یہ سفاک قاتل اور ڈاکو جمہوریت ہوتی ہے۔ اگر کوئ ڈکٹیٹر پاکستان کو چین، جنوبی کوریا یا سنگاپور بنادے تو مجھے منظور ہے۔
السلام علیکم
محترم قبلہ جناب ظفر جعفری صاحب ، میں کم و بیش آپ کے تمام تبصرے پڑھتا رہا ہوں اور میں بھی اپنے تبصروں میں ہر بار یہی کہتا رہا ہوں کہ بے شک بھارتی ، امریکی یا برطانوی جمہوریت ہمارے مسائل کا حل نہیں مگر میں کبھی بھی پاکستان کو چین ، جنوبی کوریا اور سنگاپور بھی بنتے نہیں دیکھ سکتا ، ہمیں اپنا نظام خود وضع کرنا ہوگا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
جعفری صاحب میں بے حد افسوس کے ساتھ یہ لکھ رہی ہوں اور لکھتے ہوئے بہت عجیب بھی لگ رہا ہے کے آپ نے اس سب کو اپنے اوپر لیا۔ جہاں تک اختلاف کی بات ہے تو یہاں پر میری اور آپکی جو بھی بحس ہوئی یا پھر آپکی رائے سے میں متفق نہیں آپ میری رائے سے متفق نہیں یہ یہاں عالمی اخبار کی بہت بڑی بات ہے ۔
شاید آپکے علم میں یہ نہیں کے شاید جتنے اختلافات میرے یہاں ہوتے ہیں کسی کے بھی نہیں ہوتے ہونگے ۔ ہمدانی صاحب اور آپا سے اکثر میرا کسی بات پر اختلاف ہو جاتا ہے ۔مگر کبھی بھی ان دونوں نے اس اخبار پر میرے لئیے کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ مجھے ہمیشہ یاد ہی رکھا اگر کچھ دن نہیں آئی تو سب سے پہلے یہ دو لوگ ہی ایسے ہیں جہنون نے کمی محسوس کی ورنہ ان کو کیا لگے ۔ ان کو میرے نام کے یا میرے حوالے کے میرا کچھ علم نہیں میں کون ہوں کہاں سے ہوں کیسی ہوں ۔
اصل میں اس عالمی اخبار میں سب سے اچھی بات یہی ہے کے یہاں آنے والے کی شکل اسکی سوچ اسکا پورا ایک اسکیچ اسکی اپنی تحریر سے creat ہوتا ہے ۔ یہاں ضروری نہیں کے کوئی مجسم موجود ہو۔
خیر میں آپکو بس اتنا کہونگی کے جعفری صاحب آپ جس جماعت کی حمایت کرتے ہیں بے شک کریں وہ آپکا زاتی معاملہ ہے مگر آپ خدا کے لئیے تصویر کا ایک رخ مت دکھایا کریں ۔ اس جماعت کی محبت میں اتنے بھی پاگل نہیں ہوں کے انکے قصور آپکو صرف انکے دفاعی اقدامات کی ہی صورت میں دکھائی دیں۔ جو انکی غلطیاں ہیں وہ ہیں وہ مانیں آپ پلیز۔ وہ کوئی آسمان سے اتری ہوئی جماعت نہیں ۔مانا کے دوسری جماعتوں کے مقابلے میں کرپشن کم ہے اس جماعت میں مگر کرپشن صرف پیسہ یہ ذاتی مفادات کو نہیں کہتے اور بھی بہت سے کرائم ہوتے ہیں جو کے ایم کیو ایم میں موجود ہیں۔
آج کل میڈیا اور ریلیشن ایسے ہیں کے اگر کراچی میں کہیں ہوائی فائر بھی ہو تو یہاں دنمارک میں ایک سیکنڈ میں پتہ چل جاتا ہے لہزا پلیز اس جماعت کی پردہ پوشی اتنی کریں جتنا حضم ہو ۔
شاید یہاں عالمی اخبار پر کراچی سے تعلق رکھنے والے کم ہوں مگر کم از کم میں کراچی سے بہت بھرپور تعلق رکھتی ہوں میرے شوہر بھی کراچی کے ہیں اس لئیے کم از کم میں ایسا پروپیگنڈہ جو کے صرف ایم کیو ایم کو مظلوم ظاہر کرے وہ میں کم از کم برداشت نہین کر سکتی کیونکہ میں انکو اچھی طرح جانتی ہوں ۔
ہاں اگر میں غلط ہوں تو میں ہمیشہ کی طرح یہ پھر کہونگی کے مجھے سمجھائیں قائل کریں ۔ اگر میں پھر بھی نا مانوں تو قصور وار میں ہوں۔
اور رہی دوسری جماعت کی بات کے وہ کیا ہے تو یہ بات سب جانتے ہیں کے ایم کیو ایم کا زور توڑنے کے لئیے پہلے ایم کیو ایم حقییقی بنائی گئی اس میں بھی اسی طرح قتل و غارت ہوا اپنے ہی اپنوں کو مارتے تھے ۔ اب اے این پی بن گئی ہے ۔ اب یہ اے این پی بھی ایجنسیز نے مقابلے میں کھڑی کی ہے کراچی میں ۔ مگر آپکی جماعت کا وہ حساب ہے کے انکو مشرف ٹافی دے تو یہ بھرم میں آ جاتے ہیں اور 12 مئی جیسا واقع ہو جاتا ہے اب انکو پی پی پی ٹافی دے رہی ہے اور یہ جماعت مقابلے پر جم کر کھڑی ہے۔ دونون کی جانب سے اندھی گولیاں چل رہی ہیں اور مر بے چارا غریب رہا ہے۔
آپ کا کوئی مر جائے تو وہ محترم جناب فلاں شہید ہو جاتا ہے ۔ اور اس کے خون کا حساب اربوں کی مالیت کا سامان جلا کر سیکڑوں جانیں نگل کر بھی پورا نہیں ہوتا ۔
اور اگر کوئی غریب ٹھیلے والا رکشہ والا سبزی والا مرتا ہے تو نا تو اس کی نائن زیرو پر فاتح پڑھی جاتی ہے نا اس کو محترم کہا جاتا ہے نا وہ شہید ہوتا ہے کیوں ـ؟ کیونکہ وہ کتے کی موت مرا اس کا تو قصور یہی تھا کے وہ کیوں گولی کی ذد میں آیا۔
کمال کا انصاف ہے ۔ کمال کی حق پرست جماعت ہے جو صرف اپنے ہی کارندوں کے لئیے حق کی بات کرتی ہے دوسرا مرے تو وہ کتا ؟
معاف کئیجے گا جعفری صاحب آپ یا آپ جیسے دوسرے لوگ جو بے جا مثبت پروپیگنڈہ کرتے ہیں ایسی قاتل جماعتوں کا اگر آپ لوگ ہی صرف آنکھیں کھول کر اچھے برے کو دیکھ کے حق کی بات کریں ناں تو آنے والی نسلیں شاید اس شر سے محفوظ رہیں۔
اور اگر آپ جیسے بزرگ ہی ایسا کریں گے تو آنے والی نسلیں کیا نکلیں گی اللہ رحم کرے بس
پھر میں یہ کہونگی کے پلیز اس کو ذاتیات پر مت لیں بات ہو رہی ہے اپنی رائے کی تو وہ میں بھی دے رہی ہوں آپ بھی دیں ۔ مگر یہ مظلومیت کا ڈھول نا پیٹیں کے میری پگڑی اچھالی جا رہی ہے ۔مجھے بلیک لسٹ کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ بات کا جواب بات ہوتا ہے ۔ ایسے بات سے بھاگ کر کوئی فائدہ نہیں ۔
آپ جواب دیں میں جواب دوں گی سوال جواب چلتے ہیں مگر اس طرح خاموشی سے اپنے اوپر سب لینا ٹھیک نہیں ہوتا
معاف کیجئے گا اگر کچھ برا لگا ہو تو
آپکی بیٹی جیسی
ماریہ علی
اسلام علیکم بہن ماریہ علی
میں بھی ہمیشہ ایک ہی بات کہتی ہوں کہ غلط کو غلط کہو اور صحیح کو صحیح ۔پھر چاہے وہ آپ کا کتنا ہی پسندیدہ ہو کتنا ہی آپ اس سے محبت کرتے ہوں یا کتنے ہی آپ اس کے طرفدار ہوں ۔
بات ہے پاکستان کی بات ہے پاکستانی کی کہ ہم پاکستانی پہلے ہیں ۔کسی بھی شخصیت کی نہ بلاوجہ برائی ہونی چاہئے اور نہ بے وجہ تعریف ۔اگر ہم ایمانداری سے بات کرنے لگیں تو یہ ہمارے لیڈر بھی ہماری زبان بولنے لگیں گے کہ عوام کی سنو عوام کے لئے کام کرو اور عوام کی بقا کی سوچو ۔
وقت ہے کدورتیں مٹانے کا وقت ہے دلوں کو جوڑنے کا ، وقت ہے اپنے محاسبے کا ۔
ہم تکلیف میں اسی لئے ہیں کہ ہم کسی سے بہت محبت کرتے ہیں اور کسی سے انتہائی نفرت ۔جو پہلے شاید اس طرح نہیں تھا ۔اور اگر تھا بھی تو شاید اتنا کم کہ محسوس نہیں ہوتا تھا ۔
اب ہم نے انسانوں کو ایسے اونچے منصب دے دئے ہیں کہ ہم خود ڈرتے ہیں کہ ہم تو خود ہی ایسی شخصیتیں تراش رہے ہیں کہ وہ گریں تو شاید ہم خود بھی کہیں نہ ہونگے ۔
وقت ہم سب کے ایک ہونے کا ہے۔جب ہم سب ایک ہونگے اپنی غلطیوں پر تنقید برداشت کر سکیں گے تب ہی ہم سر اٹھا سکیں گے ،کہ قومیں جب ہی سنورتی ہیں جب اپنی برائیوں کی تلاش کر کے انہیں سنوارتی ہیں خود سے دور کرتی ہیں ،
ہم نے دونوں انتہاؤں کو چھوا ہے ۔محبت بھی اتنی ہے کہ الامان اور نفرت بھی اتنی ہے کہ الامان ۔درمیانی راہ بہتر ہے کہ فرشتہ ہم میں کوئی نہیں اور نہ ہی فرشتہ بناؤ کہ اللہ نے ہمیں انسان بنایا اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ۔تو بس اس صلاحیت کا سب سے بڑا استعمال ہے ایک دوسرے کو برداشت کرنا ،سچی باتوں پر کان دھرنا ۔بلا وجہ نہ الزام لگنے چاہیئں اورنہ مظلوم بنا نا چاہئے ۔
یہ سارے حربے ہیں ہمیں ایک دوسرے سے دور کرنے کے ،اور عقلمند وہ ہی ہیں جو دشمن کی چال سمجھ لیں ۔ہم میں کوئی ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور ایک لڑی کے موتی ۔کہ بنی رہی تو خوبصورت ہے اور بکھر گئی تو کچھ بھی نہیں ۔کراچی میں جو کچھ ہورہا ہے کسی کے حق میں نہیں ،صرف نقصان ہے ہم سب کا ۔
ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جب تجربہ بولتا ہے ،ہم نے ایسے اختلاف دیکھے ہیں جو دوسروں نے ہمارے درمیان پیدا کئے اور ہمیں کمزور کر دیا ۔کہ ہم خود پر توجہ ہی نہ دے سکے بس یہ ہی وقت ہے سنبھل جانے کا کہ اب ہم سب ایک دوسرے کی سنتے بھی ہیں سمجھتے بھی ہیں اور آواز بھی اُٹھاتے ہیں ،ایک دوسرے کی بات ضرور سنو کہ غلطیوں کی نشاندہی دوست ہی کرتے ہیں ۔
اگر میری کوئی بھی بات ناگوار گزری ہو تو آپ سب سے معزرت خواہ ۔مگر دل چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے جزبات کو ٹھنڈے دل اور کھلے دماغ سے محسوس کریں ۔تاکہ دلوںمیں ا
یک دوسرے کے لئے نرم گوشے موجود رہیں ۔کہ اس میں ہی ہماری بقا ہے ،اور اسی میں ہماری زندگی ۔
اللہ ہم سب کی حفاظت کرے
ہماری محبتوں کو قائم رکھے اور ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت دے
عالم آرا
وینکور
ماریہ صاحبہ
میں نے آپکے تبصرہ کو اپنے اوپر اسلئے لیا آپ نے فرمایا۔
ٰٰٰٰ ٰٰٰ بے چاری عوام کی وجہ سے آپ اور آپکی جماعت آج کراچی میں خون کی حولی کھیل رہی ہے ۔ٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰ
مسئلہ یہ ہے کہ آپکا ایک Perception ہے اور اُسے آپ سوفیصد صحیح سمجھتی ہیں اورچاہتی ہیں کہ اسے من و ان صحیح مانا جائے۔ کراچی میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے جتنی میری اور میرے بیرونی ممالک میں عزیزوں کی نیندی حرام ہورہی ہیں خدا نہ کرے کہ یہ آپکے ساتھ ہو۔ سب سے زیادہ stakes وہاں میری ہیں۔ وہاں کے مسائل PPP، MQM، ANP سے بہت زیادہ ہیں۔ القاعدہ اور طالبائزیشن کو امریکہ یورپ اور افواجِ پاکستان قابو نہیں کرپارہے ہم کیسے کرلیں گے۔ اُن کی تو عید ہورہی ہے کہ وہ ہمیں لڑوانے اور کامیاب ہو رہے ہیں۔ پھر سپرپاورز ہیں۔ ترازی صاحب کے اوپر کے تبصرہ میں جناب ثروت جمال اصمعی کا مضمون پڑھیں۔ آنکھیں کُھل جاتی ہیں۔ رونلڈ ریگن آٹھ سال ایک ہاتھ سے عراق کو اور دوسرے ہاتھ سے کونٹرا کے ذریعہ ایران کو جنگی سامان بیچ کر لڑواتے رہے۔ نتیجہ دس لاکھ شہادتیں ہوا۔ 1971 میں جرنلسٹ جون اینڈرسن کے ہاتھ امریکی حکومت کی کچھ خفیہ دستاویز لگ گئیں۔ اُس نے اُنہیں شائع کردیا۔ ان دستایز میں لکھا ہوا تھا کہ ہم یعنی امریکہ کبھی چین اور جاپان کی دوستی نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہ دونوں ایک ہی ریس ہیں۔ تو اب آپ سوچئے کہ یہ مسلمانوں کی آپس میں دوستی کیسے ہونے دیں گے۔ انکی اور بھارت کی تو یہی کوشش ہے کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ منقسم ہوجائے اور اس کے لئے Tool ہیں۔ پہلے یہ جاگیر دار، وڈیرے ر سردار ، راجہ، مہاراجہ اور نواب انگریزوں کا Tool بنکر ہمیں منقسم کئے ہوئے تھے۔ اب یہ ان پاورز کا آلہء کار بنے ہوئے ہیں ۔دوسری طرف القاعدہ اور طالبانائزین ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے سارے بڑے بڑے لیڈر کراچی سے برآمد ہورہے ہیں۔
آصف احمد بھٹی صاحب
ٰٰٰٰ ٰٰ ہمیں اپنا نظام خود وضع کرنا ہوگا ۔ٰٰٰ ٰٰ
کیا 63 سال کم تھے اسکے لئے۔
السلام علیکم
جعفری صاحب میں نے یہ جملہ ‘‘ آپ اور آپکی جماعت اس لئیے کہا کے آپ کئی بار اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کے آپ ایم کیو ایم کے بھرپور حمائیتی ۔ کارکن ۔ اور ہمدرد ہیں ‘‘
اب آجائیں اس بات کی طرف کے میں اپنی سوچ مسلط کرتی ہوں تو جناب میں کون ہوتی ہوں اپنی سوچ مسلط کرنے والی میں تو بس آپ کو کھلی دعوت دیتی ہوں کے میں جو کہہ رہی ہوں اس کو غلط ثابت کریں ناں ۔ میں نے کب کہا کسی کو کے وہ میری رائے کی حمایت کرے ؟
آپ قائل کر دیں کے یہ سب ایم کیو ایم اور اے این پی کا آپس کا جھگڑا نہیں ؟
آپ ثابت کر دیں کے جتنے لوگ مارے گئے انکو مارنے میں آپکی جماعت اور اے این پی کے کارکن شامل نہیں؟
اب پلیز یہ مت کئیے گا کے بیرونی ہاتھ ہے کیونکہ بیرونی ہاتھ اگر تھا تو آپ نے اور اے این پی نے کون سا معاہدہ سائن کیا اور کیوں کیا؟
باقی آپ کے stakes کی جہاں تک بات ہے تو آپ کی تو راتوں کی نیند حرام ہو رہی ہے مطلب بہت کچھ باقی ہے ۔ ان کا کبھی سوچا ہے آپ نے جن کی ذندگی ختم ہو گئی ان حالات کی وجہ سے ؟ جس کسی کے پاس روزگار کے لئیے ایک سبزی کا ٹھیلا تھا ۔ ایک چھوٹی سی دکان تھی ۔ ایک چھوٹی سی گاڑی ۔ ایک چھوٹا سا رکشہ وہ جل گیا اس کا گھر اب کون چالائے گا ؟
آپ کا ایک رکن اسمبلی مرا آپ نے اس کے لئیے محترم جناب فلاں شہید لکھ دیا اس کے بعد جو سیکڑوں لوگ مرے انکا کیا؟
اگر تھوڑا سا سوچیں نا تو ایک گھر سے اگر ایک کمانے والا مر گیا مطلب اس کا پورا کنبہ مر گیا ۔
کاش اس طرح کا معاہدہ آپ دونوں جماعتیں جب کرتیں جب آپ کے رکن اسمبلی ہلاک ہوئے ۔
انکی ہلاکت کے بعد دونوں جماعتوں نے خوب ہاتھ صاف کیا ۔ خوب ہاتھوں کی کھجلی مٹائی پورے شہر کو آگ لگا دی ایک جماعت نے دوسرے کے رکن کو مارا دوسرے نے پہلے کو مارا پھر عام انسانوں کو مارا دکانیں جلائیں گاڑیاں ٹھیلے نا جانے کیا کیا جلا دیا صرف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی خاطر ۔ اور جب تھک گئے یا دل بھر گیا تو بیٹھ کے معاہدہ کر لیا ۔
اب ان غریبوں کا کیا ہوگا جو بے چارے لٹ گئے آپ کی جماعت اور اے این پی کے جھگڑے میں ؟
انکے گھر کون چلائے گا جعفری صاحب؟
چلیں آپ ایک بات بتائیں ، اسی بلاگ میں آپ نے اپنا بھرپور تعارف دیا ایک جگہ جس میں آپ نے تقریبا اپنی جائیداد اور حثیت کے بارے میں بھرپور تعارف دے دیا کے آپ ماشااللہ کتنے مال دار انسان ہیں ۔ آپ نے ان غریبوں کے لئیے کیا سوچا ہے ؟ ان حالات کی وجہ سے متاثر ہونے والوں کو آپ اپنی جیب سے کیا دے رہے ہیں ؟ کتنے لوگوں کو رکشہ ۔سبزی کا ٹھیلہ اور روزگار دے رہے ہیں؟
معاف کیجئے گا جعفری صاحب باتیں کرنا بہت آسان ہوتا ہے حمایت میں ترانے گانے قصیدے بہت اچھے اچھے لکھے بھی جاتے ہیں پڑہے بھی جاتے ہیں اور ان پر جھوما بھی جاتا ہے ۔ مگر ان غریبوں کا درد تو محسوس کر کے دیکھیں
میں یہاں پھر کھل کر کہہ رہی ہوں کے آپ مجھے قائل کر دیں میں قسم سے اپنی غلطی مانوں گی بھی اور آپکی جماعت کا مثبت پروپیگینڈہ بھی کرونگی اور شاید آپ سے ذیادہ ۔ مگر قائل تو کریں ؟
بھاگنے کے راستے بہت ہوتے ہیں کئی طرح کی باتیں ہوتی ہیں چھوٹی سی لائینز لکھ کر انسان راہ فرار اختیار کر سکتا ہے ۔ اصل کمال تو قائل کرنا ہے ۔
یا تو قائل کر دیں یا قائل ہو جائیں ؟
بہت بہت شکریہ عالم آ را جی آپ کا ۔ میں آپکی بات سے سو فیصد متفق ہوں اسی لئیے میں جو محسوس کرتی ہوں ہو کہہ دیتی ہوں۔مجھے ناکسی جماعت سے محبت ہے نا نفرت ۔ مجھے بس اتنا مطلب ہے جو غلط ہے اسکی نشاندہی کروں اور اگر میں کسی جگہ سہی چیز کو غلط سمجھ کر نشاندہی کر رہی ہوں تو امید یہی کرتی ہون کے مجھے ٹوکا جائے روکاجائے اور سمجھایا جائے قائل کیا جائے کے آپ جو سوچ رہی ہو سمجھ رہی ہو دیکھ رہی ہو وہ ایسا نہیں ہے ۔اصل میں یہ سب اس طرح ہے اور قائل کیا جائے ۔ نا کے فرار اختیار کرنے کے لئیے دوسری راہیں تلاش کر کے مجھے یہ کہہ دیاجائے کے جی آپ تو اپنی ہی رائے تھوپتی ہو۔)
خیر بہت بہت شکریہ بہت اچھا لگا کے آپ نے میری تحریر میں دلچسپی تو لی ورنہ ایسا ہی لگتا ہے کے لوگ جیسے میرا نام پڑھتے ہی تبصرہ ignore کر دیتے ہوں کے دفعہ کرو کون دماغ لگائے اس پاگل کی باتوں پر)
آپ کی محبت اور توجہ کا شکریہ
پلیز دعاوں میں یاد رکھیے گا
ماریہ
ماریہ صاحبہ
آپ کیونکہ اپنے perception کو سوفیصد صحیح سمجھتی ہیں اسلئے آپکو قائل نہیں کیا جا سکتا۔ ذرا سوچئے کہ خوشبخت شجاعت، نسرین جلیل یا کشور فاطمہ جو آپ جیسی پڑھی لکھی، باوقار اور مہذب خواتین ہیں ایسی پارٹی کی رہنما یا کارکن کیسے ہوسکتی ہیں جو crimnal mind رکھتی ہو۔ دوسرے نہ میں MQM کا ممبر ہوں نہ کارکن۔ ہمردرد اسلئے ہوں کہ پاکستان میں کوئ بھی جماعت اپنے Constituents میں اتنی مقبول نہیں ہے جتنی یہ ناقابلِ شکست جماعت ہے۔ ANP اور MQM کو اتحادی ہونے کیوجہ سے کچھ مراعات ضرور حاصل ہیں لیکن انکے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں کیونکہ وزارتِ داخلہ اور ساری پاورز PPP تک محدود ہیں۔ جب MQM کے پاس شہری حکومت تھی تو وہاں سکون بھی تھا ترقی بھی ہورہی تھی۔ میں نے اپنے بارے میں آپکے اس طنز کے جواب میں لکھا تھا۔
انکے بیٹے بھانجے بھتیجے اور رشتہ دار ایسی جماعتوں میں پاورفل ہوتے ہیں تو انکو کہیں کوئی مسلہ نہیں ہوتا اس لئیے انکو بھی کسی عام آدمی کے دکھ کا احساس نہیں ہوتا اور یہ اپنے ان رشتہ داروں کے بھرم میں آ کر پورے شہر میں دھونس مارتے پھرتے ہیں۔ مفت کے بھرم اور سپورٹ ایسے قاتلوں کی شاباش ہے ایسے لوگوں پر۔ٰ
آپکو بتانا یہ تھا کہ میں وہاں لائنوں میں بھی لگا ہوں ۔ مجھے وہاں کی وزارتوں اور مشاورتوں میں بھی کوئ دلچسپی نہیں ہے۔ یہ چیزیں خود چل کر میرے پاس آتی رہی ہیں ۔ مجھے انکے پاس جانے کی ضرورت نہیں ۔ اب جہاں تک غریبوں کی مدد کا تعلق ہے تو آپکو کیا پتہ کون کس کس کی مدد کرتا ہے۔ آپکا یہ کہنا کہ میں آپکو قائل کروں تو اسکی مجھے شرمند گی ہے۔ کوئ جماعت شیطان ہو یا فرشتہ اُس کا احتساب نہ میں کرسکتا ہوں نہ آپ۔ یہ کام اُس جماعت کے Constituents کا ہے ۔
میں بلاگ لکھنے سے پہلے دس بار سوچتا ہوں کہ ایسا بلاگ نہ لکھوں جو فتنہ کھڑا کردے۔ لیکن جب دوسے بلاگز پڑھتا ہوں تو غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے آپکا بھی یہی رویہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہن عام آراء کے اتنے خوبصورت تبصرہ کے بعد اگر یہ بیحد مفید بحث یہیں ختم ہوجائے تو بہتر ہے۔ مجھے آپ سے اور علی سے ملنے کا بیحد شوق ہے۔ نقاش کاظمی میرے بہت ہی عزیز دوست اور افارب ہیں۔
السلام علیکم
بظاہر تو یہ بحث جناب ظفر جعفری اور محترمہ ماریہ علی کے درمیان ہے ، میرا دخل دینا کچھ مناسب نہیں مگر جب بحث ہو رہی ہو تو مختلف لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہی ہی یہ سوچ کر میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔
جناب ظفر جعفری صاحب ، آپ نے اِسی بلاگ میں اُوپر ایک تبصرے میں مجھے مخاطب کر کے کچھ یوں فرمایا تھا ۔
رضا حیدر کا قتل اور 90 قتل ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہیں اور ان پر جتنا بھی رویا جائے کم ہے۔ جب ڈرگ مافیا سے سندھ حکومت نے مقبوضہ زمین خالی کروائ تو ANP کے لیڈر شاہی سید نے پریس اور ٹی وی پر کہا کہ ہم بدلہ لیں گے اور پختون سو سال بعد بھی بدلہ لینا جانتے ہیں ۔ اس کے بعد ان لوگوں نے 90 بے گناہوں کو بشمول رضا حیدر قتل کردیا۔ اگر اہلیان کراچی کو اس وقت نہ روکا جاتا، صبر کی تلقین نہ کی جاتی اور شاہی سید والا رویہ اپنا یا جاتا تو یہ دوکروڑ کا شہر جس آ تش فشاں پر بیٹھا ہوا ہے وہ پھٹ جاتا۔
آگے مزید چل کر اِسی بلاگ میں آپ نے فرمایا کہ !
ثروت جمال صاحب کامندرجہء بالا مضمون بار بار پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور اس ہی کا اظہار کل ARY کے ڈاکٹر دانش کے پروگرام میں حسن نثار صاحب نے کیا تھا۔ حسن نثار صاحب کے مطابق جو اسوقت کراچی میں ہورہا ہے اسمیں PPP، ANP یا MQM شامل نہیں ہوسکتے۔ یہ جھگڑے کسی بہت بڑے بیرونی پلاٹ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
یہی سب کچھ کراچی کی قیادت کرتی ہے پہلے سب ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگاتے ہیں اور پھر آخر میں صلح کر لیتے ہیں اِس سارے عمل میں صرف اور صرف عام عوام مر رہی ہے ،
اور آپ نے یہ جو فرمایا ہے کہ !
ANP اور MQM کو اتحادی ہونے کیوجہ سے کچھ مراعات ضرور حاصل ہیں لیکن انکے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں کیونکہ وزارتِ داخلہ اور ساری پاورز PPP تک محدود ہیں۔ جب MQM کے پاس شہری حکومت تھی تو وہاں سکون بھی تھا ترقی بھی ہورہی تھی۔
جناب عالی پہلی بات تو یہ کہ یہاں کچھ مراعات سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ اور اگر مراعات حاصل ہے تو ہاتھ کیسے کٹے ہوئے ہیں ؟ اور رہی وزارت داخلہ کی بات تو پچھلی دور حکومت میں وزارت داخلہ ایم کیو ایم کے پاس ہی تھے اور اُس دوران ہی 12 مئی جیسے واقعات پیش آئے تھے ، شہر کی نظامت بھی ایم کیو ایم کے پاس تھی اور موجودہ ایڈمنسٹیٹر بھی ایم کیو ایم کی حمات یافتہ ہے ۔ اور ایک بات جناب الطاف حسین صاحب کئی بار اپنی تقریروں میں لوگوں کو اسلحہ گھروں میں رکھنے کا کہا ہے ، اِس پر بھی غور کیا جائے ۔
اور رہی طالبان کی بات تو عرض ہے کراچی میں طالبانائزیشن کا نعرہ بھی جناب الطاف حسین صاحب نے لگایا تھا اور تو پھر ثبوت تو پیش کرنے ہی تھے نا ، اِس لیے جس شخص کے نام کے ساتھ محسود لگا ہوا ملا اُسے طالبان کہہ کر گرفتار کر لیا گیا ۔
اِس سب سے میری مراد بحث کو طول دینا نہیں محض دلائل سے بات کرنا ہے اور اُمید ہے آپ میرا مطلب سمجھ گئے ہونگے ۔
آصف احمد بھٹی
محترم ظفر جعفری بھائی جیتے رہئے
محترم بھائی آپ نے نقاش کاظمی بھائی کا نام لے کر مجھے میرے کالج پہنچا دیا ۔جب ہم فرسٹ ائیر میں تھے تو یہ لوگ مشاعرے کے لئے آیا کرتے تھے۔ اور جب ہنگامے ہوتے تھے تو یہ لوگ ہمیں کالج سے اسٹاپ تک بھی چھوڑا کرتے تھے کہ کہیں ہم لڑکیاں کسی پریشانی میں نہ آجائیں ،اور جب تک ہم اپنی اپنی بسوں میں نہ بیٹھ جاتے تھے یہ لوگ ہماری حفاظت کے لئے موجود رہتے تھے ۔ایسا سکون تھا میرے بھائی کہ ہم میلوں دور کالج پڑھنے جاتے تھے بلا خوف ۔اب نہ جانے میرے ملک کو کس کی نظر لگ گئی ۔
جما عتیں سب اچھی ہیں کہ میرے ملک کی جماعتین ہیں ،میرے لوگوں کی جماعتیں ہیں صرف ان سب کو اپنے اندر موجود ان عناصر کو تلاش کرنا چاہئے جو ان کی کمزوری کا سبب بن رہی ہیں ۔
جس طرح سب نے مل کر جعلی ڈگریاں تلاش کی ہیں اسی طرح اپنی صفوں کو چھان ڈالیں تو بہت اچھا ہو ۔ بس سب ایکپاکستان کی بھلائی کے لئے اس کی بقا کے لئے دشمن تلاش کر لو تو سکون ہو جائیگا ۔
یہ کام ہم سب کے کرنے کا ہے تحریروں سے کہ الفاظ بہت طاقت رکھتے ہیں اگر صحیح جگہ استعمال ہو جائیں تو ۔
ماریہ بہن آپ کی تحریر بہت اچھی ہے اور اپنا نقط نظر بیان کرنا کوئی غلط بات ہے نہ میرا خیال ہے کہ اس میں کو مضائقہ ہے کہ ہماری سب کی سوچ کہیں مختلف ہو جائے ۔ہم کہیں بھی ہوں ہم سب کے پیارے رشتے وہاں ہیں جن کی تکلیفیں ہمیں چین نہیں لینے دے رہیں ،ہم سب ہی پریشان اور دکھی ہیں کوئی بھی تو ان حالات پر سکون سے نہیں ہے ۔بس اچھے کی امید ہے جو سہارا دے رہی ہے ۔
اللہ ہمارے الفاظوں میں طاقت دے اور ہمیں انہیں صحیح استعمال کرنے کی صلاحیت عطا کرے ۔
اللہ میرے ملک کی حفاظت کرے کہ میری پہچان وہ ہی ہے ۔
عالم آرا