18 thoughts on “بلا تبصرہ۔۔۔۔۔نتیجہ فکر،عبدالمناف جرمنی”
میرے خدا .. مجھے اس تصویر میں کیا کیا کچھ نہیں نطر آ رہا .. آنکھیں اشکبار ہیں .. بچے نے کس محبت اور لاچاری اور دکھ سے پاکستان کو اپنے پیچھے چھپا رکھا ہے … اس بچے کے لئے اور ہر اس بچے کے لئے جو اپنے ملک کو بچانے کے لئے خونخوار درندے کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہے اور کھلی دعوت دے رہا ہے کہ پہلے مجھ سے نپٹو پھر میری ارض پاک کی طرف دیکھنا …. اپنی نسل کے ان جانباز بچوں کے لئے درازی عمر کے ساتھ سلامتی ایمان کی دعائیں .. اس تصویر میں ایک ایک لکیر بولتی ہوئی کئی ناولوں .. افسانوں .. کالموں اور سیاسی تبصروں سے کہی زیادہ سچی اور بولتی ہوئی ہیں .. اور مجھے فخر اس بات پر کے یہ لکیریں بھائی مناف نے کھینچی ہیں .. اور اسے ہم سب تک پہنچایا بھائی مصباح نے .. میں شکرگزار ہوں اپنے رب کی جس نے مجھے یہ فخریہ لمحہ عطا کیا … آپ دونوں کو رب سوہنا اپنی خاص اماں میں رکھے .. ہر مشکل سے ہمیں دور رکھے … آمین
جیتے رہئے عبدالمناف
یہ ہی بچائینگے ہمارے ملک کو ۔
جب ملک کا مستقبل جاگ رہا ہے تو ضرور اجالا بھی ہوگا اور ایسے عفریت کچھ نقصان نہ کر سکینگے ۔
انشاء اللہ
اللہ میرے ملک کے ان شاہینوں کو اونچی پرواز نصیب کرے
عالم آرا
السلام علیکم
عبدالمناف بھائی ، یقینا کیجئے دل کی بات کہہ دی بلکہ نقش کر دی ، میں اِسی لیے پر اُمید رہتا ہوں کہ میں نے اپنے بچوں کی آنکھوں میں وہ ثمک دیکھی ہے جو ہمارے اسلاف کی آنکھوں میں تھے ، ہم اور ہمارے بڑے تو بے فیض نسلیں تھی اور ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے۔ ۔ ۔اور ۔ ۔ ۔ دل بھی دینگے جاں بھی دینگے، اے وطن تیرے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
مقامی وڈیرے و سردار کا غریب رشتہ دار صابر اپنے گارے مٹی کے بوسیدہ سے مکان کی چھت پر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے اپنے وطن کی محبت اور خوشی میں ڈوبا ہوا یہ نغمے گائے جا رہا تھا، گاؤں کے سردار کی آواز نے اسے متوجّہ کیا جو غالباً اسے ہی بلا رہا تھا ،صابرنے قریب جا کر خالو سلام کہا ، خالو سردار نے اپنی چمکتی لینڈ کروزر کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے بڑی رعونت سے ڈانٹنے والے انداز میں کہا کہ اس وطن کو دل اور جان دیکر ہی تو تم نے یہ کچا کوٹھا حاصل کیا ہے، ذرا توقف کے بعد پھر گویا ہوئے ،
ارے جاہل کے جاہل ہی رہے تم تو ، ایک چھوٹے سے گلشن کی قسم کھا کر صبر و شکر کی ڈکار مارتے ہو، بھلا ہو ہمارے آبا و اجداد کا کہ ہمیں نمرود، شداد، فرعون، ھامان کی ٹھاٹ باٹ والی شاہانہ ابدی زندگی کے گر سکھا گئے، جس کی بدولت آج ہم دنیا جہاں کی مغلظات، بد دعائیں، بے چینیاں اور خوف قسم کی تمام چیزیں کھا پی کر ہضم بھی کر رہے ہیں، سالے بش نے ڈرتے ڈرتے ایک جوتا کھایا، ہم نے بہادری سے دو جوتے کھا کر سالے کا ریکارڈ توڑ دیا، جبکہ تم گلشن کے تحفظ کی قسم کھائے جا رہے ہو، نہ جانے یہ قسم کھا کر تمہارا پیٹ کیسے بھرتا ہے، یہاں آ کر یہ بات صد فی صد درست معلوم ہوتی ہے کہ گدھا کیا جانے ادرک کا سواد ۔
ارے پگلے صابر !!! ہماری طرح ہر موسم میں ہر چیز کھاؤ پیو، اللہ کی جھوٹی قسم کھاؤ، بغیر وضو قرآن پہ جھوٹا حلف اٹھاؤ، اس گلشن میں بسنے والی ہر چیز کے لوٹنے کی قسم کھاؤ، خود بھی کھاؤ اور اپنی نسلوں کو بھی کھلاؤ، اس کھانے میں کوئی اپنا بھی اعتراز کرے تو اس ۔ ۔ ۔ سالے ۔ ۔ ۔ کو راستے سے ہٹاتے جاؤ اور پھر میری طرح جاگیردار، سردار، ذردار، صنعتکار، سیاہ و سفید کے تھانےدار اور ست سری سرکار بن کر بلٹ پروف کار یا ہیلی میں بیٹھ کر ننگے، بھوکے، پانی میں ڈوبے ہوئے گلشن کی قسم کھا کر گزارہ کرنے والے پاگلوں کو سپینش سگار کے دھوئیں کے ذریعے آنکھوں سے گم کر دو، اور عزت دار کہلواؤ ۔
کھانے کے ساتھ مال کو محفوظ ٹھکانے پر بھی پہنچاؤ تا کہ نادار یا بیروزگار ہو کر اپنے چمکتے مزار میں ذلت والی نار کی دھار سے خوار نہ ہو جاؤ ، اسی طرح ہم سے پیشتر والے بھی اس مال سے مزار میں فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
لیکن خالو یہ تو سوچو کہ اس پاک دھرتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔گھوو و و و و وں ں ں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لینڈ کروزر کی گھوں کرتی مدھم ہوتی ہوئی آواز ائیر پورٹ جانے والے راستے کی طرف جاتی محسوس ہونے لگی کہ، لندن براستہ دبئی کی پرواز کا وقت قریب تھا ۔
السلام علیکم
واہ محمد علی خان صاحب ، کیا تمثیل باندھی ہے ، ماموں کھپے کا یہ خالو والا کردار بہت اچھا لگا ، مگر یہ بانجھا بی بی کون سی بہن سے ہے ؟ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
حقیقت میں یہ بلا تبصرہ ہی ہے اس ایک تصویر میں سب کچھ ہے وہ سب کچھ جو آج کے جوانوں اوربزرگوں کے لئیے لمحہ فکریہ ہے کے دیکھو تم سب نے تو اپنے آپ کو مزہبی اور سیاسی زنجیروں میں جکڑ لیا اور محتاج ہو گئے مگر اس نسل کو صرف پاکستانی ہی بنانا ۔اور اگر پاکستان میں انقلاب آیا تو اس عمر کے بچے ہی لا سکتے ہیں اور انشا اللہ یہ نئی آنے والی نسل ہی اس پاکستان کی حفاظت کرے گی اور آگے لے کر چلے گی کیونکہ آج کے جوان اور آج کے بزرگ کسی نا کسی وجہ سے اس بری طرح سیاست اورمزہب پرستی میں اندھے ہو چکے ہیں کے ان سے انقلاب کی امید کرنا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے برابر ہے
میری بھی یہی دعا ہے کے پروردگار عالم معصومین(ع) کے صدقے میں آنے والی نئی نسل کو مزہب اور سیاست سے پاک صرف پاکستانی جوان کر اور اپنے ملک کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔
الہی آمین
مناف بھائی. میں ویسے عمومی معجزات پر بہت زیادہ یقین اس لیئے نہیں رکھتا کہ کیونکہ اس سے عمل کی کیفیت کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اگر پھر بھی کوئی معجزہ ہو جائے اور عالمی اخبار کے پاس کہیں سے کسی طرح صرف اور صرف چار پیسے آ جائیں تو ہم خود آپ کے مصوری کے اس شہ پاروں کی کم ازکم یورپ میں تو کہیں نہ کہیں ایک نمائش ضرور کروائیں.
آپ دوست تو ہمارے ہیں ہی لیکن اس سے بڑھ کر عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ اور ادارے کے لیئے اعزاز ہیں.
خوشبوئے غزال ہے مصوری مناف کی
اک عجب کمال ہے مصوری مناف کی
…..
کچھ لکیریں اور رنگ پھر ہے ایک معجزہ
پیکرِ جمال ہےمصوری مناف کی
……
فکر کی اُڑان میں وقت کا مشاہدہ
مختلف خیال ہے مصوری مناف کی
…
کیفیت سرور کی عکس میں نہاں ہوئی
خود سے اک سوال ہےمصوری مناف کی
…….
انتہائے عشق کا بے گماں صفدر یہ فن
ظلم کا زوال ہے مصوری مناف کی
آہ….
دل سے جو آہ نکلتی ہے اثر رکھتی ہے.
ہر حب وطن کے لئے یہ تصویر ایک اپنا سا پیغام و مطلب لئے ہوئے ہے!!!
تمام تر ملک دشمن قوتوں کے سامنے نئی نسل سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں!!!
یوں لگتا ہے کہ یہ تصویر بناتے ہوئے ایک محبِ وطن پاکستانی کا دل ہاتھ کی اُنگلیوں میں سمٹ آیا ہے اس تصویر میں ایک ایک لکیر ڈھرکن کی طرح محسوس ہو رہی ہے ۔۔
ایک طرف تاریکی ہے بادل ہیں ، رات ہے تنہائی ہے ، بجلی ہے ، خوف ہے ، خون آشام بلا ہے، موت ہے ،
اور اس کے سامنے سینہ سپر ایک اُمید ہے ، یقین ہے ، معصومیت ہے ، صبح ہے، ہمیت ہے ، زندگی اُمید اور ایمان کی طاقت کا مطلب سمجھاتی یہ تصویر یقینا بہت اچھی ہے –
جس طرح سے کہتے ہیں نہ کے دُنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوا ، تو بس اس آفت کے سامنے آپ نے ایک بچے کو کھڑا کر کے ایک بہترین مثال دی ہے یہ بچا صرف بچا نہں بلکہ انسانوں پر خدا کی آمید ہے-
تو کیوں کر مُمکن ہے کہ پھر کتنی ہی آفات آ جاییں کتنی ہی گہری ہو غم کی رات کتنا ہی خون کی پیاسی ہو پاکستان کی طرف اُٹھنے والی ہر بلا کی نظر اُس خونی نظر کو پاکستان تک آنے سے پہلے معصومیت سے ٹکرانا ہو گا۔ اور یہ معصوم ایک اور بات کی دلیل ہے کہ ابھی یہ وطن لا وارث نہیں ہوا ۔ سوچیں اگر بلا اور پاکستان کے بیچھ میں یہ ننھا سا بچا نہ ہو تو یہ مُلک کیسے لا وارث پڑا ہوتا –
یہ بچا اپنے ہاتھوں میں چُھپایے اس کی حفاظت اہنی جان سے زیادہ کر رہا ہے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ہمارے بڑے ہیں جو حالات سے گھبرا کر ہار مان بیتٹھےہیں ۔ اور ایک طرٍ یہ روشن سویرا یے –
عام طور پر بچے بلاوّں سے ڈر جاتے ہیں پر یہ تو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا ہے ۔ بہت خوب بہت عام سے انداز میں بہت خاص بات کہہ دی جزاک اللہ
خدا یہ نظر اور یہ نظارہ ہم سب کو دیکھنا نصیب کرے – الہی آمین ۔
جس طرح سے یہ تصویر بنائی گئی ہے ایک اور بڑی پیاری چیز اس میں نظر آتی ہے کے بچے سے بات کرنے کے لیے بلا کو سر جُھکانا پڑے گا
جب کے بچا سر اُٹھا کر بات ر رہا ہے، جب ایسی بڑی آفت بھی سر چُکھانے پر مجبور ہو گئی تو باقی سب کی تو خیر ہی نہیں انشااللہ ۔
آپ بہنوں اور بھائیوں کے تبصرے پڑھتا گیا ہوں اور دل کی گہرائیوں سے آنکھوں میں آنسو لیے خدا کا شکر ادا کرتا گیا ہوں، جس نے مجھے ایسے بہن بھائی عطا فرمائے، آج مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک ہماری قوم میں ایسے محبِ وطن موجود ہیں جو ان سخت ترین ملکی حالات میں بھی نہ امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہیں نہ اللہ کریم پر توکل، نہ ان کے عمل میں کمی آئی نہ کردار لڑکھڑائے، ہر ایک حتی المقدور اپنے حصے کا چراغ جلانے میں جاںفشاں ہے.
آپ میں سے ہر ایک کا تبصرہ میرے لیے مثلِ آبِ حیات ہے خواہ وہ
بہن ثمرین بخاری کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ پر مبنی تبصرہ ہو یا
بھائی وحید اختر واحد کا تحریر کردہ اقبال (رح) کے کہے مصرعہ پر مشتمل سطر،
وہ بہن نگہت صاحبہ کا ہزاروں میل دور سے میرے خیالات کو پڑھ کی ان کی بہترین عکاسی ہو یا
بہن عالم آرا کا دو ٹوک نتیجہ اور ان کی دُعائیں،
برادر محمد علی خان کا ایک مکمل افسانہ کی شکل میں اس تصویر کو ڈھالنا یا
بھائی آصف احمد بھٹی صاحب کی ہمت افزائی،
بہن ماریہ علی کا تصویر کے پوشیدہ پہلوں کا اجاگر کرنا ہو یا
بھائی شعیب صفدر کا کوزے میں بند دریا
میرے لیے آپ سب کے یہ الفاظ متاعِ حیات ہیں، آپ سب کی ذرہ پروری پر تہہ دل سے ممنون ہوں
لیکن آغا صفدر ہمدانی صاحب نے تو مجھ حقیر کو شرمندہ ہی کر دیا، یقین جانیے آغا صاحب یہ صرف آپ کی شفقت اور محبت ہے ورنہ میں خود کو آپ کے کہے ان الفاظ کا حقدار بالکل نہیں سمجھتا، پھر بھی شاید مجھے زندگی میں کسی اعزاز پر اتنا فخر نہ ہوا ہو جتنا آپ کی عطا کی گئی اس عزت پر، آپ کا احسان مند ہوں.
آپ سب کی دُعاؤں کا محتاج ہوں
اصلاح . . .
آج مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک ہماری قوم میں ایسے محبِ وطن موجود ہیں جو ان سخت ترین ملکی حالات میں بھی نہ امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہیں نہ اللہ کریم پر توکل، نہ ان کے عمل میں کمی آئی نہ کردار لڑکھڑائے، ہر ایک حتی المقدور اپنے حصے کا چراغ جلانے میں جاںفشاں ہے، تب تک ہماری قوم زندہ رہے گی ہمارا وطن آباد رہے گا، انشاء اللہ.
مناف بھائی نہایت ہی پُر فکر تخلیق ہے۔ خدا آپ کے قلم و برش کو سلامت رکھے۔ ۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کہ کاش ہمارے حکمرانوں اس وطن کی اتنی ہی قدر کر لیتے جتنے بچے کھلونے کی کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔خدا اس ملک اور اس قوم کا نگہبان ہو۔
میرے بہت عزيز بھائ عبدالمناف سلامت رھیں ۔۔ میں اکثر اپنی سست رفتاری کی وجہ سے بہت پیچھے رہ جاتی ھوں ۔ اور پھر یہی آسسیب جس کی آپ نے تصویر کشی کی ھے مجھے ڈراتاھے ۔ ھم تو پاکستان کی حفاظت کر نہ سکے۔ اے میرے پیارے وطن ھم تجھہ سے بہت شرمندہ ھیں ۔۔ آپ کا تراشا یہ جوھر پارہ اتنی مہارت مشتاقی ،خوبصورتی سے نبا یا گیا فن پارہ ایک ایک لکیر بول رھی ھے
ثمرین تمھاری باتیں بہت اچھی لگیں اللہ تم سب کو سلامت رکھے ۔
اور ٹہریئۓ میں ذرا اس بچے کی بلایئں لے لوں جو مجھہ جیسے بے عمل لوگوں سے اکتا کر خود میدان عمل میں کود پڑا ھے۔ اور ھمارے پیارے وطن پاکستان کو سارے مکروہ درندوں سے بچاۓ گا۔ اللہ پاک آپ جیسے لوگوں کو اور معماران پاکستا ن کو سلامت رکھے ۔۔ مناف بھائ آپ کی طرح سارے تبصرے پڑھتے ھوۓ میں بھی روپڑی تھی ۔۔ پاکستان کو ھماری ضرورت ھے۔ کتنے لوگ بے گھر ھوگے ۔۔ اللہ پاک سارے پاکستانی بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا، آمین
محترم مصباح شاہ ! صاحب میں آپ کی دُعاؤں کا محتاج ہوں، پسند کا بہت شکریہ
محترمہ بہن شاہین رضوی صاحبہ ! خدا کی قسم آپ کبھی پیچھے نہیں رہیں، آپ کی اور آپ جیسے بہنوں بھائیوں کی دُعاؤں اور حوصلہ افزائیوں کا ثمر ہے جو “عالمی اخبار” میں لکھنے والے، اس میں نیا اردو رسم الخط لگانے والے، اس کی ترتیب و تدوین کرنے والے، اس کو پڑھنے والے، اپنے تبصرے اپنی آرا اور مشورے دینے والے اور مجھ سا حقیر اپنے چند آنسوؤں کو لکیروں میں ڈھالنے والا اس اخبار کی ترقی اور بہتری کے لیے کوشاں ہیں.
بہن جی پیچھے تو وہ لوگ رہ گئے جن کی قسمت ہی میں “عالمی اخبار” میں شرکت نہ تھی، اس محفل میں موجود تو سب ہی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، کسی کے پاس دن کو وقت ہے تو کوئی رات کو فارغ ہوتا ہے، کسی نے اپنے کئی کام آخر ہفتہ کے لیے اٹھا رکھے ہوتے ہیں تو کوئی دورانِ ہفتہ ہی ہر کام ختم کر لینا چاہتا ہے، غرض ہر ایک اپنی روزمرہ کے اوقات اور تقسیم ِکار کے مطابق کام کاج نمٹاتا ہے، آپ اس بلگ میں ذرا دیر سے تشریف لائیں لیکن مثلاً میں کئی ایسی جگہوں پر حاضری بھی نہ دے سکا جہاں آپ شرفِ شمولیت میں اولین تھیں.
میں آپ کے خوبصورت تبصرے پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں،
دُعاؤں میں ہرگز نہ بھولیے
اوپر کے تبصرے میں “بلاگ” کی جگہ “بلگ” لکھا ہے
یہ غلطی نہیں بلکہ اس لفظ کےنئے ہجے ہیں
جو آج سے رائج ہو چکے ہیں
اسلام و علیکم
عبدالمناف سر آپ کا بہت شکریہ کے میری انتہائی عام سی باتوں کو آپ نے باریک بینی کہا ۔مُجھے جو محسوس ہوا اس تصویر کو دیکھ کر کہہ دیا میں نے –
شاھیں آپا شُکریہ میری باتیں آپ کو اچھی لگیں یہ آپ سب کی صُحبت کا یی اثر ہے ورنہ میں کس قابل ہوں –
اور آپا دُعا کے لیے بھی بے حد مشکور ہوں بس آپ سب کی دُعا کے ہی سہارے تو سلامت ہیں مُجھ جیسے لوگ ۔بس آپ سب لوگ اپنی قیمتی دُعا میں میرا حصہ نکال رکھیں –
خوش عہیں سلامت رہیں خدا آپ ہر ہم سب پر خاص کر میرے پاکستان پر اپنا خاص کرم کرے (الہی آمین)
آپ سب کی دُعا کی طالب
ثمرین بخاری
بہن ثمرین بخاری صاحبہ !
آپ مے فرمایا کہ
“مُجھے جو محسوس ہوا اس تصویر کو دیکھ کر کہہ دیا میں نے”
قسم خدا کی کہ میں نے بھی پڑھ کر جو محسوس کیا، صرف وہی لکھا
آپ کا بہت ممنون ہوں
میرے خدا .. مجھے اس تصویر میں کیا کیا کچھ نہیں نطر آ رہا .. آنکھیں اشکبار ہیں .. بچے نے کس محبت اور لاچاری اور دکھ سے پاکستان کو اپنے پیچھے چھپا رکھا ہے … اس بچے کے لئے اور ہر اس بچے کے لئے جو اپنے ملک کو بچانے کے لئے خونخوار درندے کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہے اور کھلی دعوت دے رہا ہے کہ پہلے مجھ سے نپٹو پھر میری ارض پاک کی طرف دیکھنا …. اپنی نسل کے ان جانباز بچوں کے لئے درازی عمر کے ساتھ سلامتی ایمان کی دعائیں .. اس تصویر میں ایک ایک لکیر بولتی ہوئی کئی ناولوں .. افسانوں .. کالموں اور سیاسی تبصروں سے کہی زیادہ سچی اور بولتی ہوئی ہیں .. اور مجھے فخر اس بات پر کے یہ لکیریں بھائی مناف نے کھینچی ہیں .. اور اسے ہم سب تک پہنچایا بھائی مصباح نے .. میں شکرگزار ہوں اپنے رب کی جس نے مجھے یہ فخریہ لمحہ عطا کیا … آپ دونوں کو رب سوہنا اپنی خاص اماں میں رکھے .. ہر مشکل سے ہمیں دور رکھے … آمین
جیتے رہئے عبدالمناف
یہ ہی بچائینگے ہمارے ملک کو ۔
جب ملک کا مستقبل جاگ رہا ہے تو ضرور اجالا بھی ہوگا اور ایسے عفریت کچھ نقصان نہ کر سکینگے ۔
انشاء اللہ
اللہ میرے ملک کے ان شاہینوں کو اونچی پرواز نصیب کرے
عالم آرا
السلام علیکم
عبدالمناف بھائی ، یقینا کیجئے دل کی بات کہہ دی بلکہ نقش کر دی ، میں اِسی لیے پر اُمید رہتا ہوں کہ میں نے اپنے بچوں کی آنکھوں میں وہ ثمک دیکھی ہے جو ہمارے اسلاف کی آنکھوں میں تھے ، ہم اور ہمارے بڑے تو بے فیض نسلیں تھی اور ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے۔ ۔ ۔اور ۔ ۔ ۔ دل بھی دینگے جاں بھی دینگے، اے وطن تیرے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
مقامی وڈیرے و سردار کا غریب رشتہ دار صابر اپنے گارے مٹی کے بوسیدہ سے مکان کی چھت پر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے اپنے وطن کی محبت اور خوشی میں ڈوبا ہوا یہ نغمے گائے جا رہا تھا، گاؤں کے سردار کی آواز نے اسے متوجّہ کیا جو غالباً اسے ہی بلا رہا تھا ،صابرنے قریب جا کر خالو سلام کہا ، خالو سردار نے اپنی چمکتی لینڈ کروزر کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے بڑی رعونت سے ڈانٹنے والے انداز میں کہا کہ اس وطن کو دل اور جان دیکر ہی تو تم نے یہ کچا کوٹھا حاصل کیا ہے، ذرا توقف کے بعد پھر گویا ہوئے ،
ارے جاہل کے جاہل ہی رہے تم تو ، ایک چھوٹے سے گلشن کی قسم کھا کر صبر و شکر کی ڈکار مارتے ہو، بھلا ہو ہمارے آبا و اجداد کا کہ ہمیں نمرود، شداد، فرعون، ھامان کی ٹھاٹ باٹ والی شاہانہ ابدی زندگی کے گر سکھا گئے، جس کی بدولت آج ہم دنیا جہاں کی مغلظات، بد دعائیں، بے چینیاں اور خوف قسم کی تمام چیزیں کھا پی کر ہضم بھی کر رہے ہیں، سالے بش نے ڈرتے ڈرتے ایک جوتا کھایا، ہم نے بہادری سے دو جوتے کھا کر سالے کا ریکارڈ توڑ دیا، جبکہ تم گلشن کے تحفظ کی قسم کھائے جا رہے ہو، نہ جانے یہ قسم کھا کر تمہارا پیٹ کیسے بھرتا ہے، یہاں آ کر یہ بات صد فی صد درست معلوم ہوتی ہے کہ گدھا کیا جانے ادرک کا سواد ۔
ارے پگلے صابر !!! ہماری طرح ہر موسم میں ہر چیز کھاؤ پیو، اللہ کی جھوٹی قسم کھاؤ، بغیر وضو قرآن پہ جھوٹا حلف اٹھاؤ، اس گلشن میں بسنے والی ہر چیز کے لوٹنے کی قسم کھاؤ، خود بھی کھاؤ اور اپنی نسلوں کو بھی کھلاؤ، اس کھانے میں کوئی اپنا بھی اعتراز کرے تو اس ۔ ۔ ۔ سالے ۔ ۔ ۔ کو راستے سے ہٹاتے جاؤ اور پھر میری طرح جاگیردار، سردار، ذردار، صنعتکار، سیاہ و سفید کے تھانےدار اور ست سری سرکار بن کر بلٹ پروف کار یا ہیلی میں بیٹھ کر ننگے، بھوکے، پانی میں ڈوبے ہوئے گلشن کی قسم کھا کر گزارہ کرنے والے پاگلوں کو سپینش سگار کے دھوئیں کے ذریعے آنکھوں سے گم کر دو، اور عزت دار کہلواؤ ۔
کھانے کے ساتھ مال کو محفوظ ٹھکانے پر بھی پہنچاؤ تا کہ نادار یا بیروزگار ہو کر اپنے چمکتے مزار میں ذلت والی نار کی دھار سے خوار نہ ہو جاؤ ، اسی طرح ہم سے پیشتر والے بھی اس مال سے مزار میں فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
لیکن خالو یہ تو سوچو کہ اس پاک دھرتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔گھوو و و و و وں ں ں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لینڈ کروزر کی گھوں کرتی مدھم ہوتی ہوئی آواز ائیر پورٹ جانے والے راستے کی طرف جاتی محسوس ہونے لگی کہ، لندن براستہ دبئی کی پرواز کا وقت قریب تھا ۔
السلام علیکم
واہ محمد علی خان صاحب ، کیا تمثیل باندھی ہے ، ماموں کھپے کا یہ خالو والا کردار بہت اچھا لگا ، مگر یہ بانجھا بی بی کون سی بہن سے ہے ؟ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
حقیقت میں یہ بلا تبصرہ ہی ہے اس ایک تصویر میں سب کچھ ہے وہ سب کچھ جو آج کے جوانوں اوربزرگوں کے لئیے لمحہ فکریہ ہے کے دیکھو تم سب نے تو اپنے آپ کو مزہبی اور سیاسی زنجیروں میں جکڑ لیا اور محتاج ہو گئے مگر اس نسل کو صرف پاکستانی ہی بنانا ۔اور اگر پاکستان میں انقلاب آیا تو اس عمر کے بچے ہی لا سکتے ہیں اور انشا اللہ یہ نئی آنے والی نسل ہی اس پاکستان کی حفاظت کرے گی اور آگے لے کر چلے گی کیونکہ آج کے جوان اور آج کے بزرگ کسی نا کسی وجہ سے اس بری طرح سیاست اورمزہب پرستی میں اندھے ہو چکے ہیں کے ان سے انقلاب کی امید کرنا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے برابر ہے
میری بھی یہی دعا ہے کے پروردگار عالم معصومین(ع) کے صدقے میں آنے والی نئی نسل کو مزہب اور سیاست سے پاک صرف پاکستانی جوان کر اور اپنے ملک کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔
الہی آمین
مناف بھائی. میں ویسے عمومی معجزات پر بہت زیادہ یقین اس لیئے نہیں رکھتا کہ کیونکہ اس سے عمل کی کیفیت کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اگر پھر بھی کوئی معجزہ ہو جائے اور عالمی اخبار کے پاس کہیں سے کسی طرح صرف اور صرف چار پیسے آ جائیں تو ہم خود آپ کے مصوری کے اس شہ پاروں کی کم ازکم یورپ میں تو کہیں نہ کہیں ایک نمائش ضرور کروائیں.
آپ دوست تو ہمارے ہیں ہی لیکن اس سے بڑھ کر عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ اور ادارے کے لیئے اعزاز ہیں.
خوشبوئے غزال ہے مصوری مناف کی
اک عجب کمال ہے مصوری مناف کی
…..
کچھ لکیریں اور رنگ پھر ہے ایک معجزہ
پیکرِ جمال ہےمصوری مناف کی
……
فکر کی اُڑان میں وقت کا مشاہدہ
مختلف خیال ہے مصوری مناف کی
…
کیفیت سرور کی عکس میں نہاں ہوئی
خود سے اک سوال ہےمصوری مناف کی
…….
انتہائے عشق کا بے گماں صفدر یہ فن
ظلم کا زوال ہے مصوری مناف کی
آہ….
دل سے جو آہ نکلتی ہے اثر رکھتی ہے.
ہر حب وطن کے لئے یہ تصویر ایک اپنا سا پیغام و مطلب لئے ہوئے ہے!!!
تمام تر ملک دشمن قوتوں کے سامنے نئی نسل سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں!!!
یوں لگتا ہے کہ یہ تصویر بناتے ہوئے ایک محبِ وطن پاکستانی کا دل ہاتھ کی اُنگلیوں میں سمٹ آیا ہے اس تصویر میں ایک ایک لکیر ڈھرکن کی طرح محسوس ہو رہی ہے ۔۔
ایک طرف تاریکی ہے بادل ہیں ، رات ہے تنہائی ہے ، بجلی ہے ، خوف ہے ، خون آشام بلا ہے، موت ہے ،
اور اس کے سامنے سینہ سپر ایک اُمید ہے ، یقین ہے ، معصومیت ہے ، صبح ہے، ہمیت ہے ، زندگی اُمید اور ایمان کی طاقت کا مطلب سمجھاتی یہ تصویر یقینا بہت اچھی ہے –
جس طرح سے کہتے ہیں نہ کے دُنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوا ، تو بس اس آفت کے سامنے آپ نے ایک بچے کو کھڑا کر کے ایک بہترین مثال دی ہے یہ بچا صرف بچا نہں بلکہ انسانوں پر خدا کی آمید ہے-
تو کیوں کر مُمکن ہے کہ پھر کتنی ہی آفات آ جاییں کتنی ہی گہری ہو غم کی رات کتنا ہی خون کی پیاسی ہو پاکستان کی طرف اُٹھنے والی ہر بلا کی نظر اُس خونی نظر کو پاکستان تک آنے سے پہلے معصومیت سے ٹکرانا ہو گا۔ اور یہ معصوم ایک اور بات کی دلیل ہے کہ ابھی یہ وطن لا وارث نہیں ہوا ۔ سوچیں اگر بلا اور پاکستان کے بیچھ میں یہ ننھا سا بچا نہ ہو تو یہ مُلک کیسے لا وارث پڑا ہوتا –
یہ بچا اپنے ہاتھوں میں چُھپایے اس کی حفاظت اہنی جان سے زیادہ کر رہا ہے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ہمارے بڑے ہیں جو حالات سے گھبرا کر ہار مان بیتٹھےہیں ۔ اور ایک طرٍ یہ روشن سویرا یے –
عام طور پر بچے بلاوّں سے ڈر جاتے ہیں پر یہ تو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا ہے ۔ بہت خوب بہت عام سے انداز میں بہت خاص بات کہہ دی جزاک اللہ
خدا یہ نظر اور یہ نظارہ ہم سب کو دیکھنا نصیب کرے – الہی آمین ۔
جس طرح سے یہ تصویر بنائی گئی ہے ایک اور بڑی پیاری چیز اس میں نظر آتی ہے کے بچے سے بات کرنے کے لیے بلا کو سر جُھکانا پڑے گا
جب کے بچا سر اُٹھا کر بات ر رہا ہے، جب ایسی بڑی آفت بھی سر چُکھانے پر مجبور ہو گئی تو باقی سب کی تو خیر ہی نہیں انشااللہ ۔
آپ بہنوں اور بھائیوں کے تبصرے پڑھتا گیا ہوں اور دل کی گہرائیوں سے آنکھوں میں آنسو لیے خدا کا شکر ادا کرتا گیا ہوں، جس نے مجھے ایسے بہن بھائی عطا فرمائے، آج مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک ہماری قوم میں ایسے محبِ وطن موجود ہیں جو ان سخت ترین ملکی حالات میں بھی نہ امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہیں نہ اللہ کریم پر توکل، نہ ان کے عمل میں کمی آئی نہ کردار لڑکھڑائے، ہر ایک حتی المقدور اپنے حصے کا چراغ جلانے میں جاںفشاں ہے.
آپ میں سے ہر ایک کا تبصرہ میرے لیے مثلِ آبِ حیات ہے خواہ وہ
بہن ثمرین بخاری کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ پر مبنی تبصرہ ہو یا
بھائی وحید اختر واحد کا تحریر کردہ اقبال (رح) کے کہے مصرعہ پر مشتمل سطر،
وہ بہن نگہت صاحبہ کا ہزاروں میل دور سے میرے خیالات کو پڑھ کی ان کی بہترین عکاسی ہو یا
بہن عالم آرا کا دو ٹوک نتیجہ اور ان کی دُعائیں،
برادر محمد علی خان کا ایک مکمل افسانہ کی شکل میں اس تصویر کو ڈھالنا یا
بھائی آصف احمد بھٹی صاحب کی ہمت افزائی،
بہن ماریہ علی کا تصویر کے پوشیدہ پہلوں کا اجاگر کرنا ہو یا
بھائی شعیب صفدر کا کوزے میں بند دریا
میرے لیے آپ سب کے یہ الفاظ متاعِ حیات ہیں، آپ سب کی ذرہ پروری پر تہہ دل سے ممنون ہوں
لیکن آغا صفدر ہمدانی صاحب نے تو مجھ حقیر کو شرمندہ ہی کر دیا، یقین جانیے آغا صاحب یہ صرف آپ کی شفقت اور محبت ہے ورنہ میں خود کو آپ کے کہے ان الفاظ کا حقدار بالکل نہیں سمجھتا، پھر بھی شاید مجھے زندگی میں کسی اعزاز پر اتنا فخر نہ ہوا ہو جتنا آپ کی عطا کی گئی اس عزت پر، آپ کا احسان مند ہوں.
آپ سب کی دُعاؤں کا محتاج ہوں
اصلاح . . .
آج مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک ہماری قوم میں ایسے محبِ وطن موجود ہیں جو ان سخت ترین ملکی حالات میں بھی نہ امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہیں نہ اللہ کریم پر توکل، نہ ان کے عمل میں کمی آئی نہ کردار لڑکھڑائے، ہر ایک حتی المقدور اپنے حصے کا چراغ جلانے میں جاںفشاں ہے، تب تک ہماری قوم زندہ رہے گی ہمارا وطن آباد رہے گا، انشاء اللہ.
مناف بھائی نہایت ہی پُر فکر تخلیق ہے۔ خدا آپ کے قلم و برش کو سلامت رکھے۔ ۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کہ کاش ہمارے حکمرانوں اس وطن کی اتنی ہی قدر کر لیتے جتنے بچے کھلونے کی کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔خدا اس ملک اور اس قوم کا نگہبان ہو۔
میرے بہت عزيز بھائ عبدالمناف سلامت رھیں ۔۔ میں اکثر اپنی سست رفتاری کی وجہ سے بہت پیچھے رہ جاتی ھوں ۔ اور پھر یہی آسسیب جس کی آپ نے تصویر کشی کی ھے مجھے ڈراتاھے ۔ ھم تو پاکستان کی حفاظت کر نہ سکے۔ اے میرے پیارے وطن ھم تجھہ سے بہت شرمندہ ھیں ۔۔ آپ کا تراشا یہ جوھر پارہ اتنی مہارت مشتاقی ،خوبصورتی سے نبا یا گیا فن پارہ ایک ایک لکیر بول رھی ھے
ثمرین تمھاری باتیں بہت اچھی لگیں اللہ تم سب کو سلامت رکھے ۔
اور ٹہریئۓ میں ذرا اس بچے کی بلایئں لے لوں جو مجھہ جیسے بے عمل لوگوں سے اکتا کر خود میدان عمل میں کود پڑا ھے۔ اور ھمارے پیارے وطن پاکستان کو سارے مکروہ درندوں سے بچاۓ گا۔ اللہ پاک آپ جیسے لوگوں کو اور معماران پاکستا ن کو سلامت رکھے ۔۔ مناف بھائ آپ کی طرح سارے تبصرے پڑھتے ھوۓ میں بھی روپڑی تھی ۔۔ پاکستان کو ھماری ضرورت ھے۔ کتنے لوگ بے گھر ھوگے ۔۔ اللہ پاک سارے پاکستانی بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا، آمین
محترم مصباح شاہ ! صاحب میں آپ کی دُعاؤں کا محتاج ہوں، پسند کا بہت شکریہ
محترمہ بہن شاہین رضوی صاحبہ ! خدا کی قسم آپ کبھی پیچھے نہیں رہیں، آپ کی اور آپ جیسے بہنوں بھائیوں کی دُعاؤں اور حوصلہ افزائیوں کا ثمر ہے جو “عالمی اخبار” میں لکھنے والے، اس میں نیا اردو رسم الخط لگانے والے، اس کی ترتیب و تدوین کرنے والے، اس کو پڑھنے والے، اپنے تبصرے اپنی آرا اور مشورے دینے والے اور مجھ سا حقیر اپنے چند آنسوؤں کو لکیروں میں ڈھالنے والا اس اخبار کی ترقی اور بہتری کے لیے کوشاں ہیں.
بہن جی پیچھے تو وہ لوگ رہ گئے جن کی قسمت ہی میں “عالمی اخبار” میں شرکت نہ تھی، اس محفل میں موجود تو سب ہی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، کسی کے پاس دن کو وقت ہے تو کوئی رات کو فارغ ہوتا ہے، کسی نے اپنے کئی کام آخر ہفتہ کے لیے اٹھا رکھے ہوتے ہیں تو کوئی دورانِ ہفتہ ہی ہر کام ختم کر لینا چاہتا ہے، غرض ہر ایک اپنی روزمرہ کے اوقات اور تقسیم ِکار کے مطابق کام کاج نمٹاتا ہے، آپ اس بلگ میں ذرا دیر سے تشریف لائیں لیکن مثلاً میں کئی ایسی جگہوں پر حاضری بھی نہ دے سکا جہاں آپ شرفِ شمولیت میں اولین تھیں.
میں آپ کے خوبصورت تبصرے پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں،
دُعاؤں میں ہرگز نہ بھولیے
اوپر کے تبصرے میں “بلاگ” کی جگہ “بلگ” لکھا ہے
یہ غلطی نہیں بلکہ اس لفظ کےنئے ہجے ہیں
جو آج سے رائج ہو چکے ہیں
اسلام و علیکم
عبدالمناف سر آپ کا بہت شکریہ کے میری انتہائی عام سی باتوں کو آپ نے باریک بینی کہا ۔مُجھے جو محسوس ہوا اس تصویر کو دیکھ کر کہہ دیا میں نے –
شاھیں آپا شُکریہ میری باتیں آپ کو اچھی لگیں یہ آپ سب کی صُحبت کا یی اثر ہے ورنہ میں کس قابل ہوں –
اور آپا دُعا کے لیے بھی بے حد مشکور ہوں بس آپ سب کی دُعا کے ہی سہارے تو سلامت ہیں مُجھ جیسے لوگ ۔بس آپ سب لوگ اپنی قیمتی دُعا میں میرا حصہ نکال رکھیں –
خوش عہیں سلامت رہیں خدا آپ ہر ہم سب پر خاص کر میرے پاکستان پر اپنا خاص کرم کرے (الہی آمین)
آپ سب کی دُعا کی طالب
ثمرین بخاری
بہن ثمرین بخاری صاحبہ !
آپ مے فرمایا کہ
“مُجھے جو محسوس ہوا اس تصویر کو دیکھ کر کہہ دیا میں نے”
قسم خدا کی کہ میں نے بھی پڑھ کر جو محسوس کیا، صرف وہی لکھا
آپ کا بہت ممنون ہوں