اکیسویں صدی کا ’ غازی علم الدین ‘

پیغمبرِ اسلام ، نبیء آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں جب بھی کسی نے گستاخانہ حرکت کی ، پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج بن کر باہر نکل آیا ۔ مغرب کی دیکھا دیکھی سامراج کے گماشتوں نے مشرق ، بالخصوص اسلامی ممالک کے اندر بھی ایسی حرکات شروع کردیں ۔
پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک ہے جہاں ناموسِ رسالت (ص) بل اسمبلی سے پاس ہوکر قانون بنا ۔ کچھ عرصہ سے مغرب کے انہی گماشتوں نے اپنے آقاؤں کے اشاروں پہ اپنی روشن خیالی کی آڑ میں اس بل کے خلاف ایک باقاعدہ تحریک شروع کر رکھی تھی ۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر ، بلکہ اسے پاکستان کا سلیمان رشدی کہنا زیادہ مناسب ہوگا ، نے سر عام اسے کالا قانون کہہ کر ناموسِ رسالت (ص) پہ حملہ کیا ۔ آج خود اسی کے باڈی گارڈ ایلیٹ فورس کے جوان ملک ممتاز حسین قادری نے اسے جہنم واصل کرکے غازی علم الدین شہید کی یاد تازہ کردی ۔

95 thoughts on “اکیسویں صدی کا ’ غازی علم الدین ‘”

  1. کسی کی موت پہ خوشی منانا بہت ہی برا فعل ہے لیکن کسی شاتم رسول (ص) کی موت پہ سکون کا سانس لینا کم از کم میرے لئے تو قطعی برا نہیں ۔ ملک بھر کی سیاسی و غیر سیاسی شخصیات جو آج سلمان تاثیر کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دے رہی ہیں یا پھر ملک میں جس طرح سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے وہ بھی میری سمجھ سے بالا ہے کیونکہ ایسی ہی گستاخی اگر مغرب میں کہیں ہوتی تو ہمارے یہی سیاستدان اپنی سیاست چمکاتے ہوئے ایسے افراد کےخلاف سخت سزاؤں کے مطالبات جیسی بیان بازی میں مقابلہ بازی شروع کردیتے جبکہ آج ملک کے اندر مل کر ایک شاتم کے قتل پہ سوگ منا رہے ہیں ۔
    کاش انہی میں سے کسی نے اس شاتم کے بیان کی مذمت کی ہوتی یا اس کے خلاف ایک مہذب قانون کو کالا قانون کہنے کے خلاف کسی اسمبلی فلور پہ کوئی ، برائے نام ہی سہی ، تحریک جمع کرائی ہوتی !

  2. حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پوری کائنات کا سرمایہ حیات ہے اس قیمتی متاع کا تحفظ ہر مسلمان اپنی جان سے زیادہ ضروری سمجھتا ہے دنیا بھر کے مسلمان رنگ و نسل اور زبان و علاقہ کے اختلاف کے باوجود اس معاملہ میں بنیان مرصوص کی طرح ایک ہیں اور یہی ان کے ایمان کا تقاضہ ہے۔

    یورپ بالخصوص امریکہ کی آنکھوں میں مسلمانوں کا یہ لازوال اور بے مثال جذبہ کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور وہ گاہے بگاہے مسلمانوں کے اس ناقابل تسخیر جذبہ کو نقصان ہینچانے سے دریغ نہیں کرتا،یورپی اور امریکی اخبارات و رسائل میں ایسی دل آزار تصاویر اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں جن میں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مقدس شخصیات کی تضحیک واضح اور نمایاں ہوتی ہے

    جس مضمون میں قرآن اور بائیبل کا ذکر ہو وہاں بائیبل کو سیدھا اور قرآن مجید کو جان بوجھ کر لٹا دکھایا جاتا ہے ،مسلمانوں اور ان کی عبادات پر براہ راست طنز کیا جاتا ہے ،مدارس کو دہشت گردی کے اڈے اور مساجد کو ان کی تربیت گاہ کہا جاتا ہے ،ان سب حربوں اور ہتھکنڈوں کا موصد مسلمانوں کا ہمہ جہتی دباؤ کا ہدف بناکر بے حمیت بتایا جاتا ہے

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون توہین رسالت اور امتناع قادیانی آرڈیننس امریکہ اور اس کے حواریوں کے سینے میں نیزے کی انی کی طرح کھٹکتا ہے امریکی صدر سے لے کر امریکی سفیر تک ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ یہ قوانین ختم کردیئے جائیں تاکہ دشمنان اسلام کو شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں توہین کا اوپن لائسنس مل جائے ۔

    اس قانون کو غیر موثر بنانے کیلئے کبھی کہا جاتا ہے کہ قانون توہین رسالت کا مقدمہ مجسٹریٹ یا ڈپٹی کمشنر کی منظوری سے درج ہوگا کبھی شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ اس قانون میں سقم ہے لہذا اسے تبدیل کیا جائے کبھی یہ رائے سامنے آتی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش سے مقدمہ درج ہوگا اور اس کی سماعت صرف وفاقی شرعی عدالت کرے گی

    ہماری حکومت قانون توہین رسالت میں ترمیم کرکے امریکہ اور اس کے حواریوں کو خوش کرنے کے چکر میں ہے جس کا مقصد مغربی دنیا کا نصب العین ’’پاکستان کو اسلامی شناخت ‘‘ سے محروم کرنا ہے

    جو کہ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ سے متفقہ طور پر منظور شدہ قانون ہے اور اس قانون کے خلاف امریکی مداخلت درحقیقت ’’مداخلت فی الدین ‘‘ہے ،بت نظیر بھٹو سے پرویز مشرف اور آصف علی زرداری تک ہر حکمران امریکی بارگاہ میں نیاز حاسل کرنے کیلئے اس قانون کو بالواسطہ یا بلاواسطہ ختم کرنے کی در پردہ کوشش میں مصروف رہا ہے

    مگر جہاں انہیں اسلامیان پاکستان کے زبردست غیظ و غضب کے سامنے انہیں عبرتناک ذلت و رسوائی اور ہزیمت و پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں غازی علم دین اور غازی عبدالقیوم جیسے پاسبان عظمت مصطفیٰ نے آگے بڑھ کر ایسے ناسوروں کا قلعہ قمع بھی کیا ہے اور ناموس رسالت کا دفاع کرکے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی مسلمان بہت کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنے عقائد میں مداخلت برداشت نہیں کرسکتے اگر کسی کو آزمانے کا شوق ہے تو اس معاملے میں پاکستانیوں کو آزما کر دیکھ لے اسے لاکھوں ’’غازی علم دینوں ‘‘ کا مقابلہ کرنا پڑے گا

    غازی’’ملک ممتاز حسین قادری‘‘ آج کا ’’غازی علم دین‘‘ ہے جس نے ایک ایسے شخص کو جس نے توہین رسالت کی مرتکب اور عدالت سے سزا یافتہ ملزمہ آسیہ مسیح کی حمایت کی اور توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دیا پر اپنے انجام تک پہچایا ،ہمیں غازی ملک ممتاز حسین قادری پر فخر ہے اور ہم اس کی جرات و ہمت کے ساتھ اس ماں کو سلام کرتے ہیں جس نے اس سپوت کو جنم دیا ۔

    در دل مسلم مقام مصطفٰے است
    آبروئے ما زنام مصطفٰے است

  3. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی حسن ِصورت اور جمال ِسیرت کے اعتبار سے اس قدر جامع و مکمل ہے کہ اَزل سے لے کر اَبد تک تمام شخصی و تہذیبی محاسن و کمالات ایک جگہ جمع کر بھی دیئے جائیں تو بھی اُن کا موازنہ کسی طور بھی محبوبِ خدا ا کی جامع الصّفات شخصیت کی ہمہ جہتی فضیلت کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

    آپ کے ذاتی اور صفاتی نام اسی اَمر پر دلالت کرتے ہیں، اسم گرامی محمدا رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اِس کائنات میں آپ سے بڑھ کر کسی اور شخصیت کی تعریف و مدحت ممکن ہی نہیں ہے، جبکہ اسم گرامی احمد کے صفاتی نام سے پکارنے کا مطلب ہے کہ آپ سے زیادہ کوئی اور ہستی کائنات میں اپنے خالق کی تعریف و توصیف کا حق ادا نہیں کرسکتی۔

    ایک مسلمان جب عشق و محبت کو اپنا رہنما تسلیم کرکے اپنے آقا و مولا علیہ السلام کی عظمتوں کا تصور کرتا ہے تو ورطہ حیرت میں کھو جاتا ہے کہ ہمارا نبی کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے،کس قدر بلند مرتبہ اور عالی نسب ہے،کس قدر فضیلت مآب ہے،کس قدر مکرم اور اکرم ہے،کس قدر رحمت شعار اور ہر عالم کیلئے وجہ افتخار ہے،کس درجہ مظہر الطاف ِ کردگار ہے کہ فکر انسانی عاجز ہوکر اسی پر اکتفا کرتی ہے کہ

    لا یمکن الثنا کما کان حقہ‘
    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

    ایسا کوئی محبوب ہوگا نہ کہیں ہے

    حقیقت یہ ہے کہ محبوب جس قدر بے مثال اور بے نظیر ہوگا اُس کے چاہنے والوں کے دلوں میں محبت کا جذبہ بھی اُسی قدر تیز اور سربلند ہوگااور جب اُس محبوب کی شخصیت اور احترام کے روشن نقوش محب ِصادق کے قلب و جاں میں نقش ہوجائیں تو پھر یہ چاہت اپنی انتہائی بلندیوں کو چھوتے ہوئے عشق ِسرمدی کا روپ اختیاردھار لیتی ہے،جس کی بدولت محبوب کی ناموس اور اُن کے مقام و مرتبہ پر تصدق ہوجانا ایک فطری تقاضہ تصور کیا جاتا ہے۔

    آپ چونکہ محبوبِ خد ا، محبوب خلائق اور جامع الخصائل بھی ہیں، اسلیے آپ کے جمال جہاں آرا کو جس نے دیکھا،دیکھتا ہی رہ گیا،آپ کی کمال سیرت کو جس نے ایک بار دل میں بسالیاوہ پھر ہمیشہ کیلئے آپ کے در کا ہو کر رہ گیا،آپ کی حیثیت اُس شمع لازوال کی ہے جس کی تب و تاب میں جملہ انبیاءو رسل کے محامد و محاسن موجود ہیں، پروانے شمع کی ایک جھلک دیکھ کر قربانی وایثار کے نام پر ایک لمحے کیلئے بھی جھجک کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اُس کے حسن ِجہاں افروز پر قربان ہونے کو ہی اپنی سب سے بڑی کامرانی تصور کرتے ہیں۔

    گویاحضور اکرم ا شمع انوار توحید کی صورت میں جلوہ گری سے جاں نثاریوں اور فدا کاریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے،یہ سلسلہ صحابہ کرام کے دور ِسعید سے آج تک جاری ہے اور انشاءاللہ آپ کی ناموس پر پروانہ وار نثار ہونے کا یہ جذبہ اہل ایمان کے دلوں کی دھڑکن بن کرکائنات کی آخری ساعتوں تک جاری و ساری رہے گا۔

    تحفظ ِناموس رسالت ا کی اصل روح

    ختمی مرتبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ” تم میں کوئی اُس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اُسے اولاد،ماں باپ حتیٰ کے اُس کی اپنی جان سے عزیز تر نہ ہوجاوں “یہ حدیث مبارکہ تحفظ ِ ناموس ِرسالت کی اصل روح اور بنیاد ہے اور اس کی ہی وجہ سے ہر صاحب ایمان اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و توقیر پر فدا ہونا اپنے ایمان کا لازمی جز سمجھتا ہے کیونکہ یہی تعلیمات قرآنی کی تاثیر اور احکام ربانی کی عملی تفسیر ہے۔

    آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہاداری

    آپ کی ذات مبارکہ میں جملہ انبیاءو مرسلین کے تمام کمالات نبوت و رسالت نہ صرف جمع کردیئے گئے بلکہ آپ کو انبیاءسابقین کے جملہ کمالات و معجزات کا جامع بنانے کے ساتھ ساتھ بے شمار ایسے کمالات و معجزات و اعزازات بھی عطا کئے گئے جو آپ سے پہلے کسی کے حصے میں نہیں آئے اور جو صرف آپ کی ذات مبارکہ کیلئے خاص ہیں،اس مقام پر اِن میں سے دو صفاتِ خاصّہ کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔

    آپ کی پہلی صفت خاص جو آپ سے پہلے کسی نبی کے حصے میں نہیں آئی، وہ صفت آپ کا” رحمةاللعالمین “ ہونا ہے۔اللہ نے آپ کو کائنات میں سراپا رحمت بنا کر بھیجااور آپ کی یہ صفت رحمت کائنات کے ہر عالم کیلئے ہے،خواہ وہ فرشتوں کا عالم ہو یاجنات کا عالم ہو،حیوانات و نباتات اورجمادات کا عالم ہو یا انسانوں کا عالم ہو۔آپ ہر ہر عالم کیلئے رحمت ہیں۔

    شارح صحیح مسلم و مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی مدظلہ العالی سورہ انبیاء کی تفسیر میں لکھتے کہ” اللہ تعالیٰ ربّ العٰلمین ہے اور آپ رحمةاللعالمین ہیں۔جس جس چیز کیلئے اللہ کی ربوبیت ہے،اُس اُس چیز کیلئے آپ رحمت ہیں۔“حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت خاص آپ کا” خاتم ُ النبیین“ ہونا ہے،

    ہر چند کہ اللہ گ نے آپ کو خلقاً اوّل الانبیاءبنایا مگر بعثاً آپ” خاتم الانبیاء“ قرار دیئے گئے اورباری تعالیٰ نے آپ کو ساری کائنات بلکہ ہر زمان و مکان کیلئے دائمی و ابدی نبوت و رسالت کے شاہکار کے طور پر مبعوث فرمایا،گویا آپ کی آمد سے نظام نبوت کے بپا کئے جانے کا نہ صرف مقصد پورا ہوگیابلکہ بابِ رسالت کو کسی بھی قسم کی نئی بعثت کیلئے بند کرکے آپ کی ختم نبوت کا دائمی اعلان فرمادیا گیا۔

    یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ ایک صاحب ِایمان کائنات کی اِس عظیم ہستی کی عزت و ناموس اور ذات و مقام کے تحفظ کیلئے جان لڑادیتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ کام ہے جو خدا کو بھی عزیز ہے اور مخلوق خدا کو بھی ، جو افضل الخلائق بھی ہے اور” بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق بھی ہے،

    چنانچہ ایسی عدیم النظیر ہستی پر اپنی تمام متاع حیات لٹاکر بھی ایک مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے بہت سستا سودا کیا ہے،کیونکہ جس زندگی کو وہ قربان کررہا ہے، وہ خدا کی دی ہوئی امانت ہے جبکہ اُسے اِس فدا کاری کے بدلے میں جو اعزازو انعامات عطا ہورہے ہیں،وہ ایک جان تو کیا ہزاروں زندگیوں کی مجموعی قدروقیمت سے بھی کہیں زیادہ افضل و سربلند ہیں۔

    سرکارآپ ا ہیں تو سب کچھ ہے

    ہماری اسلامی تاریخ میں تحفظِ ناموس رسالت اور تحفظ مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بے شمار واقعات کی کہکشاں موجود ہے،اُن عشاق رسول کے واقعات اور تحفظ ِمقام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قربانیوں کی داستان کو ترتیب دینا اسلیے آسان کام نہیں کہ یہ ایمان اُفروز داستانیں چودہ صدیوں کے افق پر اِس تواتر سے بکھری ہوئی ہیں کہ اُن کو سمیٹنا ممکن نہیں ،لیکن اِس مقام پرایک واقعے کا تذکرہ بہت ضروری ہے،جس نے قیامت تک کیلئے فدایان ِختم نبوت کو محبوب ِ خداخاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفیٰ کی ذات مبارکہ کی عزت و حرمت کی حفاظت کیلئے قربانیوں کا ایک نیا لائحہ عمل دیا ہے،

    اِس اہم اور لازوال واقعہ کا کردار مدینة النبی کی وہ بلند ہمت اور سعید قسمت خاتون ہے جو آج بھی اسلامی تاریخ کے صفحات میں زندہ و جاویدہے اور جس نے اپنی بے مثال محبت رسول کی بدولت تحریک تحفظِ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کوایک نیا عنوان عطا کیاہے،

    اسلامی تاریخ کی یہ سعید قسمت اور بلند ہمت خاتون ”اُم سعد“ ہے جو اس غزوہ اُحد میں اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ سن کر مدینہ منورہ سے روتی ہوئی چلی تھی،راستے میں اُسے لوگ ملتے گئے، کسی نے کہا کہ تمہارا باپ شہید ہوگیا ہے ،کسی نے کہا تمہارا خاوند شہید ہوگیا ہے، کسی نے اُسے راستے میں بھائی کی شہادت کی خبر دی،تو کسی نے اُسے بیٹوں کی شہادت کے بارے میں بتایا لیکن آفرین ہے اُس عظیم المرتبت خاتون پر کہ اُس نے ہر شہادت کی خبر پر الحمدُللہ…. الحمدُ للہ کا نعرہ بلند کیا اورکہا یہ میرے لیے خوشی کا مقام ہے کہ میرے خاندان کا ہر فرد تحفظ ِ نامو س رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوگیا….مگر اَے بتانے والے…. میں نے تم سے اِن کے بارے میں پوچھا ہی کب تھا…..میرا تو فقط تم سے ایک ہی سوال ہے کہ تم مجھے یہ بتاو کہ میرے آقا و مولا خاتم النبیین ،رحمةاللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں….مجھے تو صرف جان ِ کائنات کی خیریت مطلوب ہے جبکہ تم مجھے میرے اہل خانہ کی خبر دے رہے ہو…..

    اور جب اُسے اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کا رُخ انور نظر آتا ہے تو اُسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رنج و الم کے تمام بادل چھٹ گئے ہوں،مصائب وآلام کا خاتمہ ہوگیا ہواور جیسے یکلخت اُس کی بے چین روح کو قرار آگیا ہو،آپ کو دیکھ کراُس نے اللہ کا شکر ادا کیااور کہا” سرکار آپ ہیں تو سب کچھ ہے ۔“

    ربّ ِکعبہ کی قسم دھر میں کچھ بھی نہ بچے
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو جو منہا کردیں

    عزت پہ تیری حرمت پہ تیری کٹنے کیلئے تیار ہیں ہم

    بر صغیر پاک و ہند میں برطانوی سامراج نے اگرچہ اپنی طاقت اور سازشوں کے ذریعہ 1857 ءکی جنگ آزادی تو جیت لی، مگر وہ اِس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہوچکا تھاکہ اُس کے مظالم مسلمانوں کو تو کچل سکتے ہیں،مگر اُن کے باطن میں پوشیدہ روح اسلام یعنی ”محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم “ کو نہیں مٹا سکتے، انگریز سامراج اِس جنگ کے دوران مولانا کفایت علی کافی،مولانا غلام امام شہید ،مولانا فضل حق خیر آبادی ،مولانا عنایت اللہ کاکوری،مفتی صدر الدین آزردہ،مولانا احمد اللہ مدراسی اور جنرل بخت خان رحہم اللہ تعالیٰ کی صورت میں شمع رسالت کے پروانوں کی فدا کاری کا لافانی جذبہ دیکھ چکا تھا۔اُس نے اچھی طرح سمجھ لیا تھاکہ

    وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
    رُوح محمدا اس کے بدن سے نکال دو

    کیونکہ یہی وہ روح محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے،جسے ہم تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں،انگریز نے اسی روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتمے کیلئے تہذیب و تمدن کے کتنے ہی جال بچھائے،حرص و طمع اور مصلحت اندیشی کے سبق پڑھائے اور اِس کام میں ہندؤ بنیے نے برطانوی سامراج کا پورا پورا ساتھ دیا،ہر دو باطل کی ایک ہی تمنا تھی کہ مسلمان اپنے ماضی سے دست بردار ہوکرہندؤ قومیت سے رشتہ استوار کرلیں،

    مگر یہاں شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی ،حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ صاحب ،امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی اور حکیم اُمت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی تعلیمات دلوں کو اسلامی تشخص سے بہرہ ور کررہی تھیں،گو کہ مسلمانوں پریہ انتہائی کٹھن وقت تھا،ایک طرف برطانوی استعمار کی قہر سامانیاں تھیں تو دوسری طرف ہندو سامراج کی ازلی اسلام دشمنی اور ان سب کے ساتھ قوم پرست علماءدیوبندکا نظریہ وطنیت اور اُس پر مستزاد مرزا قادیان کی خانہ ساز نبوت،کہ کلمہ حق کہنے پر زبان کٹتی تھی،

    غلامان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر عرصہ حیات تنگ تھا،اِن سب اسلام دشمن قوتوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ اسلامیان ہند کے باطن سے اُس جذبے کوکھرچ، کھرچ کر ختم کردیا جائے جو ناموس ِرسالت پر اور ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے معمولی سے معمولی حرف بھی برداشت نہیں کرسکتا، دشمن جانتا تھا کہ یہ جب میدانِ وفا میں آگے بڑھتا ہے، تو قلت و کثرت اورنتائج و انجام سے بے نیاز ہوکر فقط محبت ِرسول اور ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو مقدم جانتا ہے۔

    محبت خوب ہے غیرت مگر اس سے فزوں تر ہے
    ٍٍ
    اسی جذبہ محبت رسول کو ختم کرنے کیلئے انگریز اور ہندؤبنیے نے وقت کے سمندر میں کتنے ہی پتھر پھینکے، مگر وہ مسلمانوں کے جذبہ عشق رسول کو ختم نہ کرسکے ، مختلف ادوار میں غیرتِ اسلامی سے بہرہ مند اصحاب ِایمان آگے ہی بڑھتے رہے اورہر گستاخ رسول ،منکرین عقید ہ ختم نبوت کو عبرت ناک انجام تک پہنچاتے رہے،

    ملت ِاسلامیہ کے شیر غازی علم دین شہید، غازی مرید حسین ،غازی عبدالرشید،غازی عبدالقیوم،غازی عبد اللہ،غازی منظور حسین ، غازی محمد صدیق،غازی عبدالمنان ،غازی میاں محمد،غازی احمد دین،غازی معراج الدین ،غازی فاروق، غازی حاجی محمد مانک جیسے مجاہدوںکے ہاتھوں راجپال،سوامی شردھانند،نتھورام،چنچل سنگھ،کھیم چند،پالامل،بھیشو،چرن داس ،ویداسنگھ، ہردیال سنگھ ،نعمت احمر قادیانی،عبدالحق قادیانی جیسے مرتد واصل جہنم ہو تے رہے،

    اِن عظیم عاشقان رسول نے صحابہ کرام اور قرون اولیٰ کے فنا فی الرسول مجاہدین کی راہ پر چلتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ہم نے گلے میں غلامی کے طوق ،ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ہونے کے باوجوداپنے آقا ا سے بے وفائی نہیں کی اور اِس کسمپرسی کے عالم میں بھی ہم آپ سے شرمندہ نہیں ہیں۔

  4. جناب محمد احمد ترازی صاحب،
    میری صدا میں اپنی گونج ، ” غازی ملک ممتاز حسین قادری آج کا غازی علم دین ہے ‘‘ ، شامل کرنے کا بےحد شکریہ ۔
    یہی میری سب سے اپیل ہے کہ ایک شاتم کے پُشت پناہ ، اور بذاتِ خود بھی ایک شاتم ، کے لئے صفِ مرگ بچھانے کی بجائے اس کی یزیدیت کا ماتم کیا جائے تاکہ کل کو پیدا ہونے والے یزید ابھی سے عبرت حاصل کرلیں کیونکہ یہ دھرتی ماں ایسے غازیوں سے بھری پڑی ہے ۔

    ” ہمیں غازی ملک ممتاز حسین قادری پر فخر ہے اور ہم اس کی جرات و ہمت کے ساتھ اس ماں کو سلام کرتے ہیں جس نے اس سپوت کو جنم دیا “

    بے شک ” غازی ممتاز حسین قادری “ قابل فخر ہیں جنھوں نے اپنے نام میں شامل ’ حسین ‘ کی لاج رکھتے ہوئے اسے پھر ’ ممتاز ‘ کردیا اور آج کے یزید کو للکار کر واصلِ جہنم کیا ۔ ہم اس عظیم ماں کو بھی اپنی عقیدت اور سلام پیش کرتے ہیں جس نے اس دھرتی اور دھرم کو ایسا سپوت بخشا ۔

    ” اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون توہین رسالت اور امتناع قادیانی آرڈیننس امریکہ اور اس کے حواریوں کے سینے میں نیزے کی انی کی طرح کھٹکتا ہے امریکی صدر سے لے کر امریکی سفیر تک ہر ایک کی یہی کوشش ہے کہ یہ قوانین ختم کردیئے جائیں تاکہ دشمنان اسلام کو شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں توہین کا اوپن لائسنس مل جائے “

    یقین جانیں ملت اسلام میں جب تک ایک بھی ’ غازی ممتاز حسین قادری ‘ زندہ ہے ان ملعونوں کے ناپاک ارادے کبھی پایہء تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے ، انشاء اللہ ۔

  5. جناب محمد احمد ترازی صاحب ،
    آپ کی تحریر کا ایک ایک لفظ ایک سچے عاشقِ رسول (ص) کے دل کی آواز ہے ۔

    ” حقیقت یہ ہے کہ محبوب جس قدر بے مثال اور بے نظیر ہوگا اُس کے چاہنے والوں کے دلوں میں محبت کا جذبہ بھی اُسی قدر تیز اور سربلند ہوگااور جب اُس محبوب کی شخصیت اور احترام کے روشن نقوش محب ِصادق کے قلب و جاں میں نقش ہوجائیں تو پھر یہ چاہت اپنی انتہائی بلندیوں کو چھوتے ہوئے عشق ِسرمدی کا روپ اختیاردھار لیتی ہے ، جس کی بدولت محبوب کی ناموس اور اُن کے مقام و مرتبہ پر تصدق ہوجانا ایک فطری تقاضہ تصور کیا جاتا ہے “

    میرے محترم بھائی یہی عشق ہی تو ہے جس نے جہاں ایک طرف تو شیخ احمد سرہندی ، حضرت مجدد الف ثانی ، حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ صاحب ،امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی اور حکیم اُمت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے دلوں کو منور کیا تو دوسری طرف ملت ِاسلامیہ کے شیر غازی علم دین شہید ، غازی مرید حسین ، غازی عبدالرشید ، غازی عبدالقیوم ، غازی عبد اللہ ، غازی منظور حسین ، غازی محمد صدیق ، غازی عبدالمنان ، غازی میاں محمد ، غازی احمد دین ، غازی معراج الدین ، غازی فاروق ، غازی حاجی محمد مانک جیسے سچے عاشق پیدا کئے جنھوں نے اپنے اپنے دور کے شاتمانِ رُُسل (ص) ، راجپال ، سوامی شردھانند ،نتھورام، چنچل سنگھ ، کھیم چند ، پالامل ، بھیشو ، چرن داس ، ویداسنگھ ، ہردیال سنگھ ، نعمت احمر قادیانی اور عبدالحق قادیانی جیسے مرتد واصل جہنم کئے اور اب انہی کی یاد ’ غازی ممتاز حسین ‘ نے اکیسویں صدی میں پھر سے تازہ کردی ۔

    آپ نے اسلامی تاریخ کے جن بھولے بسرے واقعات سے پردہ اٹھایا ہے بخدا یہی ہمارا متاع حیات ہے جسے مٹانے آج نجانے کون کون سی شیطانی طاقتیں ہمارے درپے ہیں جنھوں نے آپ کے ، اور حکیم الامت علامہ اقبال کے ، بقول اس کا یہ حل ڈھونڈا کہ :

    وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
    رُوح محمد اس کے بدن سے نکال دو

    اور یہ روحِ محمد تب تک باقی رہے گی جب تک کہ ایک بھی ’ غازی ممتاز حسین قادری ‘ زندہ ہے ، انشاء اللہ ۔

  6. بہت ہی افسوسناک خبر ہے۔ یہ قتل ایک سیاسی قتل بھی ہوسکتا ہے۔ اللہ مرحوم کی مغفرت کرے۔اگر ہم اس قسم کے اعمال کی دلجوئ کریں گے تو پھر دنیا ہمیں دہشت گرد کہنے پر حق بجانب ہوگی۔ اپنے ہاتھ میں قانون لینے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  7. جناب ظفر جعفری صاحب ،
    سیاسی رقابتیں بے شک ہر دور میں موجود رہی ہیں اور اب بھی ہو سکتی ہیں لیکن یہ قتل ہر گز سیاسی نہیں ، گو اسے مکمل سیاسی رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی جائے گی ، کیونکہ قاتل نے خود ہی سارے محرکات بیان کردئے ہیں ۔

    ” اگر ہم اس قسم کے اعمال کی دلجوئ کریں گے تو پھر دنیا ہمیں دہشت گرد کہنے پر حق بجانب ہوگی ۔ اپنے ہاتھ میں قانون لینے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی “

    دنیا کو ہم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے ۔ یہی دنیا جن طالبان کو آج دہشت گرد کہتے نہیں تھکتی کبھی انہیں مجاہدین کے القابات نوازتے نہیں تھکتی تھی ۔ باقی کن اعمال کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے اور کن کی دل شکنی تو یہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر پوچھ لیں کہ کیا شاتمانِ رُسل (ص) کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے یا دل شکنی ؟ باقی بحث اس کے بعد ہوگی ۔

  8. جناب جاوید اقبال کیانی صاحب کا شروع کردہ یہ بلاگ، اور محمداحمد ترازی بھائی کے تبصرے، ان دونوں بھائیوں کے سچے عاشقِ رسول ہونے کا بین ثبوت ہیں
    میں ان دونوں حضرات کی عظمت کو سلام کرتا ہوں ان کے پاک جذبوں کی تہہ دل سے قدر کرتا ہوں، ایک نکتہ کی طرف توجہات مبذول کروانی چاہتا ہوں

    مکی زندگی میں ہمارے آقا و مولا اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کس قدر تکالیف برداشت کرنی پڑیں، کسی نے راستے میں کانٹے بچھائے تو کوئی غلاظت پھینک کر آپ کی شانِ اقدس میں گستاخی کا مرتکب ہوا، کسی نے پتھر مارے اور کچھ نے شہر بدر کر دینے کی سازشیں کیں، بلکہ آپ نے مع بنی ہاشم کے ساڑھے تین سال شعب ابی طالب میں کسمہ پرسی کی زندگی گزاری، اصحاب کرام کا رد عمل کیا تھا ؟؟ آپ (ص) کا حکم کیا تھا اصحاب کو ؟؟؟

    10 سالہ مدنی زندگی میں 85 جنگیں لڑی گئیں، جو سب کی سب دفاعی تھیں، باہر سےحملوں کے جواب میں اپنا دفاع تھا، مشرکین صرف ایک ہی نیت اور ارادےسے حملہ آور ہوتے رہے اور وہ آپ صلواۃ و سلام اللہ علیہ و آلہ کو قتل کر دینے کا ارادہ تھا، یہاں اصحاب کرام نے حصولِ اذن کے بعد اپنی جانیں بھی قربان کر دیں، لیکن وہی قتل کی خواہش مند جب قیدی بن گئے تو بجائے اس کے کہ قتل کر دیے جائیں، جزیہ کے بدلے رہا کر دیے گئے یا مثلاً اس شرط پر کہ وہ مشسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں، وغیرہ

    آج ہمارے وطن کو نام نہاد آزادی ملے اتنا عرصہ گزر چکا ہے جتنا عرصہ ہمارے آقا کی اس جہانِ فانی میں ظاہری حیات تھی، 63 سال سے ہم ہر قسم کی حکومت جھیل چکے لیکن اسلام کے نام پر حاصل کیے ملک میں، اسلامی قوانین نافذ نہ کروا سکے، کیا اسلام صرف اسی کو کہتے ہیں کہ جو ہمارے دین کے خلاف بات کرے ہمیں اشتعال دلوانے کے لیے بکواس کرے ہم آنکیں بند کر کے اس کی چالوں کو سمجھے بغیر اس کے قتل کے درپے ہو جائیں ؟ جبکہ حقیقی مجرم تک تو ہماری رسائی ہو ہی نہیں سکتی ۔

    میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم ایسے بدبختوں کو کچھ بھی نہ کہیں بلکہ مدعائے عرض یہی ہے کہ ہمیں انفرادی طور پر کسی کو سزا دینے کی اجازت ہرگز نہیں، نہ تو اسلامی قانون اور نہ ہی دنیا کا کوئی بھی دوسرا قانون بغیر تحقیق کے، بغیر جانچ پڑتال کے اور سب سے اہم بات ملزم کو اپنی صفائی کا موقع دیے بغیر سزا دینے کی اجازت دیتا ہے، چہ جائے کہ یہ سب انفرادی اور شخصی سطح پر ہو۔

    میں نہیں جانتا کہ سلمان تاثیر کا شاتمِ رسول ہونا کہاں تک ثابت ہے؟ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ ہم سلمان رشدی کو کیوں بھول گئے جس کا شاتم ہونا صد در صد ثابت ہے، اگر مجھ میں حُب ِ رسول ہے تو میں اس کو قتل کیوں نہیں کرتا ؟؟ اس لیے کہ وہاں تک یا تو میری رسائی نہیں یا میری محبت محدود ہے۔

    میں یہ اعتراف ابھی سے “عالمی اخبار” کے ان صفحات کے ذریعہ علی الاعلان کرتا ہوں کہ میرا ایمان جناب جاوید اقبال کیانی اور محمداحمد ترازی بھائی سے بے انتہا کمزور تر ہے، شاید اسی لیے میری سوچ مختلف ہے پھر بھی میرا تمام قارئین سے یہ سوال ہے کہ

    کیا ایک ایسے ملک میں جہاں اسلام صرف لوگوں کے دلوں میں انفرادی طور پر محفوظ ہے، جہاں حکومت مکمل طور پر اغیار کے ہاتھوں بکی ہوئی ہے، جہاں بنیادیں ہی غیر اسلامی ہیں وہاں ایسے بدبختوں کو فرداً فردا قتل کرنے سے بہتر یہ نہ ہوگا کہ اس ملک کی بنیادوں کو بدلا جائے، ایسے کہ وہاں ہر قانوں اسلامی ہو، جہاں ہمیں ایک آدھی اسلامی شق کے لیے اتنے پاپڑ نہ بیلنے پڑیں اور باقی ماندہ سارے کا سارا غیر اسلامی قانون نظر انداز نہ کرنا پڑے، جہاں قانون کے ساتھ ملکی آئین اور حکومتی دستور سب اسلامی ہوں تاکہ کہیں سے بھی کسی طرح کی غیراسلامی ملاوٹ اگر ہو بھی تو اس کا مقابلہ ڈٹ کر کیا جا سکے ؟؟؟؟؟؟

    اگر مجھ میں، جذبہء ایمانی ہے تو میں اس اہم ترین کام کے لیے تگ و دو کیوں نہیں کرتا ؟؟ صرف اس لیے نا کہ یہ مشکل ہے، یہاں میرا جواب یہ ہوگا کہ اس کام کے لیے ہمیں ایک قیادت کی ضرورت ہے، ہمیں ایک راہبر کی ضرورت ہے، میرا خود سے سوال ہو گا کہ کیوں ہمارا وہ جذبہء ایمانی کیا ہوا ؟؟ میرے اندر سے جواب آئے گا کہ ایمان تو ہے لیکن اس اونچی سطح پر کچھ کرنے کے لیے علم چاہیے، مخلص ساتھی چاہیں، وسائل چاہیں وغیرہ ، پھر میرا سوال ہو گا کہ رسول اللہ کے نام پر توہین کو تو ہم برداشت نہیں کرتے اس کے لیے تو ساری دنیا سے ٹکرا جانے کے لیے تیار ہیں کیوں کہ یہ ہمارے ایمان کی حرارت ہے (حالانکہ نہ تو میں غازی علم الدین ہوں اور نہ ہی ملک ممتاز حسین قادری، میں تو ان کے عمل سے اپنی ایمانی قوت ثابت کر رہا ہوں) لیکن اُسی رسول اللہ کی تعلیمات کو نہ تو خود سیکھتے ہیں نہ ان کو نافذ کرنے کی ہمیں کوئی فکر ہے کیوں ؟؟ یہاں ہماری ایمانی حرارت کہاں گئی ؟؟ کیا ایمان کا مطلب صرف کشت و خون کی جگہوں پر ہی اس کا اظہار ہے، ہم وہ علم اگر سیکھے ہوتے جس کو سکھانے کے لیے اللہ نے اپنے حبیب کو ہم پر رحمت بنا کر بھیجا تو آج ہم میں یہ فتنہ، یہ فساد اور یہ فرقہ بازی نہ ہوتی آج ہم ایک حقیقی اسلامی ملک کے شہری ہوتے، وغیرہ

  9. برادر محترم جناب محمد احمد ترازی کے لفظ لفظ کی تائید کے ساتھ یہی کہوں گا کہ ایک ایسا شخص دنیا سے گیا جسکی زندگی بھی ندامت تھی اور موت بھی۔ اور کیا کہیں؟؟؟؟؟
    خدا ہم سب کو زندگی و موت دونوں اپنی خوشنودی کی راہ میں عطا کرے۔ آمین بجاہ محمد و آلہ الطاہرین۔

  10. اسلام زندہ ہوتا توہر کربلا کے بعد

    ہوتی اگر جو کرب وبلا ہر بلا کے بعد

  11. خدا وند قدّوس کی پناہ !! کہ جس وطن کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اس کے اکابرین حکومت کو قران کریم کی ایک مختصر سورۃ پڑھنی نہیں آ ئے چہ جائکہ معنی معلوم ہونا ،تو پھر کیا عجب ہے قتل ہونے والے کو یہ معلوم ہی نا ہو کہ نبئ اکرم ،ہادئ دو جہاں صلّی کائنات کے کس قدر بلند تر درجے پرمن جانب پروردگار عالم فائز ہستئ پر نور ہیں
    آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم رحمت للعالمین ہیں ،،ہماری ہزار جان گرامی فدائے نام محمّد صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم پر
    بات پھر وہی آجاتی ہے تعلیمات اسلامی کا عام کرنا اس کو سمجھنا اور ساتھ ساتھ عمل پیرا ہو نا ،،ورنہ حق و باطل اسی طرح ایک دوسرے سے نبرد آزما رہیں گے
    میرا سلام ہو اپنی قوم کے بہادرصاحب ایمان سپوت ملک ممتاز حسین قادری پر اور اس کے ما ں باپ پر اس کے محلّے پر ،اس آنگن پر جہاں اس نے آنکھ کھولی ان گلیوں پر جن میں وہ پروان چڑھا ،

  12. لائن نمبر چار کی تصحیح صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم پڑھا جائے ،،معزرت

  13. کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

  14. شاتم رسول کی سزا اور اسکی معافی؟ ( پروفیسر ساجد میر صاحب کا کالم آج بھی اسی طرح تازہ ہے )
    ـ 23 نومبر ، 2010 .. نوائے وقت میں شائع ہوا ..
    سینیٹر پروفیسر ساجد میر (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)….

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ﷺ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ:
    ’’ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے‘‘۔

    یہ حکم (نعوذباللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو حضرت عائشہؓ اور صحابہ کرامؓ کی شہادت موجود ہے کہ آپﷺ نے کبھی بھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے دلوں سے عظمت وتوقیر رسول ﷺ گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے، اس لئے توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’تہذیب و شرافت‘‘ سے برداشت کرلینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ نیز ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکزو محورہیں اس لئے جو زبان آپﷺ پر طعن کیلئے کھلتی ہے، اگر اسے کاٹانہ جائے اور جو قلم آپﷺ کی گستاخی کیلئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑانہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہوکر رہ جائیگا۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذباللہ) نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دینے والا ہے اور وہ ہمارے ایمان کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانے کیلئے ہجو نگاروں کی گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا۔ ان میں سے ایک ملعون کا نام ابن خطل تھا۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کیخلاف شعر کہتا اور اس کی دو لونڈیاں یہ غلیظ شعر اس کو گاگا کے سناتیں۔ فتح مکہ کے دن وہ حرم مکہ میں پناہ گزیں تھا ابوبرزہؓ صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کیمطابق اسے وہیں جہنم رسید کردیا۔

    عام طورپر غزوات اور جنگوں میں آپﷺ کا حکم ہوتا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کی اجائے، لیکن توہین رسولﷺ اسلامی شریعت میں اتنا سنگین جرم ہے کہ اسکی مرتکب عورت بھی قابل معافی نہیں۔

    چنانچہ آپﷺ نے ابن خطل کی مذکورہ دو لونڈیوں کے علاوہ دو اور عورتوں کے بارے میں بھی جو آپﷺ کے حق میں بدزبانی کی مرتکب تھیں، قتل کا حکم جاری کیا تھا‘ اس طرح مدینہ میں ایک نابینا صحابی کی ایک چہیتی اور خدمت گزار لونڈی جس سے انکے بقول انکے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کا ارتکاب کیا کرتی تھی۔ یہ نابینا صحابی اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی۔ ایک شب وہ بدزبانی کررہی تھی کہ انہوں نے اسکا پیٹ چاک کردیا۔ جب یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپﷺ نے فرمایا لوگو! گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان یا بدلہ نہیں ہے۔ (ابودائود، نسائی)

    جب حضرت عمرؓ نے گستاخ رسول ﷺ کے نابینا قاتل کے بارے میں پیارسے کہا دیکھو اس نابینا نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا، اسے اعمیٰ (نابینا) نہ کہو، بصیر و بینا کہو کہ اسکی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے اور جب ایک اور گستاخ ملعونہ اسماء بنت مروان کو اسکے ایک اپنے رشتہ دار غیرت مند صحابی نے قتل کیا تو آپﷺ نے فرمایا لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو جو اللہ اور اسکے رسولﷺ کی نصرت و امداد کرنیوالا ہے تو میرے اس جانثارکو دیکھ لو۔ یہ غیرت مند صحابی عمیر بن عدیؓ جب اس ملعونہ کے قتل سے فارغ ہوئے تو انکے قبیلہ کے بعض سرکردہ افراد نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے یہ قتل کیا ہے؟ انہوں نے بلاتامل کہا، ہاں اور اگر تم سب گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نے کیا تھا تو تم سب کو بھی قتل کردوں گا۔ (الصارم المسئول بن )

    ایک اور شاتم رسول ؓ ملعون یہودی ابورافع کو اس کی بدگوئی کی سزا دینے کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عتیقؓ کی سرکردگی میں ایک گروپ بھیجا۔ یہ ملعون ایک محفوظ قلعہ میں رہتا تھا، مگر عبداللہ بن عتیقؓ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اسکے سر پر جا پہنچے اور اسے واصل جہنم کیا۔ جلدی میں واپسی کیلئے مڑے تو ایک سیڑھی سے گر کر انکی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسے اپنے عمامہ سے باندھا اور قلعہ کے دروازہ سے باہر نکل آئے، مگر انتہائی تکلیف کے باوجود وہیں بیٹھ کر اپنے مشن کی تکمیل کی خوشخبری ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب ابورافع کی موت کا اعلان سنا اور اطمینان ہوا اور واپس خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری بات سن کر ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر دست شفقت پھیرا تو وہ اس طرح درست ہوگئی جیسے کبھی ٹوٹی نہ تھی۔
    (بخاری)

    کعب بن اشرف بدبخت یہودی تھا جو مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا اس کو آپﷺ کی اجازت اور حکم سے محمد بن مسلمہ نے قتل کیا۔ (بخاری و مسلم)

    جب یہودیوں نے کعب کے قتل کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا، اس نے جو تکلیف دہ گستاخیاں کی تھیں، اگر تم میں سے کوئی اور کرے گا تو اسکی بھی یہی سزا ہوگی۔ عہد نبوی میں شاتمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیانک انجام کی ان متعدد مثالوں کے پیش نظر ہر دور کے مسلمان علماء کا فتویٰ یہی رہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے والے کی سزا قتل ہے۔

    موجودہ حالات میں بھی عالم اسلام کے عالمی و روحانی مرکز سعودی عرب کے مفتی اعظم کے علاوہ متعدد مسلمان ملکوں کے عالی مرتبت علماء نے بھی شاتم رسول ﷺ کے قتل کا فتویٰ دیا ہے حالانکہ صحیح یہ ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب معاشرے میں اپنی گندگی پھیلا چکے تو قتل کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سچی توبہ کرنے سے وہ آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے، مگر دنیا میں بہرحال اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا ہی پڑیں گے۔

    یہ کس قدر افسوسناک، غمناک اور شرمناک بات ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کی مجرمہ سے صدر آصف علی زرداری کہ کہنے پر گورنر پنجاب (سلمان تاثیر) نے جیل میں ملاقات کی اور اس سے رحم کی اپیل پر انگوٹھا لگوایا،حالانکہ کہنے کو دونوں مسلمان ہیں اور صدر اورگورنر کسی کو بھی پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کوشش کرنے کی جسارت نہ ہوئی مگر وہ ایک گستاخ رسول کیلئے اتنے بے تاب کیوں ہیں؟

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی سے مسلم امہ کی دل آزاری ہوتی ہے اور انکے دل زخمی ہوتے ہیں،اس گستاخانہ اور ناپاک جسارت کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہیں۔مسلمان جس کے پیرو کار ہیں وہ امن کے داعی ، عدل و انصاف کے پیامبر، اقلیتوں کے محافظ اور انسانیت کے محسن ہیں۔

    آج امریکہ جو دنیا کا تھانیدار بنا ہوا اس کا حال یہ ہے کہ وہ رسول اکرمﷺ کے گستاخ کو پناہ دینے کیلئے پیشکش کررہا ہے۔اگر برطانیہ اور امریکہ میں آزادی تحریر اور تقریر کے باوجود ملک اور اسکے آئین میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ملکہ کی توہین جرم ہے، روس میں لینن کو گالی دینا قابل تعزیر ہے توہمیں اپنے آقا ﷺ کی توہین کے جرم کی سزاکے ببانگ دہل کے اعلان سے کون روک سکتا ہے، ہماری متاع ایمان کی بقاء کی ضمانت ہی نبی کریم ﷺ کی ذات والا سے محبت اور آپ کی عظمت و توقیر ہے۔

    سچی بات یہ ہے کہ ہر مسلمان ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے مر مٹنے کا جذبہ رکھتا ہے بعض لوگوں کیلئے شاید یہ امر باعث حیرت ہوکہ اسلام نے بڑے بڑے گناہگار کیلئے توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا۔ پھر شاتم رسول توبہ کے باوجود کم ازکم دنیاوی سزا کے کیوں نہیں بچ سکتا؟ امام ابن تیمیہ حمتہ اللہ نے اس موضوع پر اپنی کتاب ’’الصارم المسئول علی شاتم الرسول‘‘ میں خوب روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اہل حدیث امام احمد اور امام مالک کے نزدیک شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچا سکتی جبکہ امام شافعی سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول و عدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔

    خود امام ابن تیمیہ اکثر محدثین و فقہاء کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے‘ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو زور دار دلائل دئیے ہیں انکا خلاصہ اور وضاحت حسب ذیل ہے۔

    1۔شاتم رسولﷺ فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اسکی توبہ سے اس بگاڑ اور فساد کی تلافی اور ازالہ نہیں ہوتا جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔ـــــ

    2۔اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اسے اور دوسرے بدبختوں کو جراٗت ہوگی کہ وہ جب چاہیں توہین رسولﷺ کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کرکے اس کی سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمان کو بازیچہ اطفال بنالیں۔

    3۔نبی کریمﷺ کی گستاخی کے جرم کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ حقوق اللہ واللہ چاہے تو خود معاف کردیتا ہے، مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے، مگر اب اس کی کوئی صورت نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ ﷺ کی طرف سے اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

    4۔قتل، زنا، سرقہ جیسے جرائم کے بارے میں بھی اصول یہی ہے کہ ان کا مجرم سچی توبہ کرنے سے آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے، مگر دنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل، زانی یا چور گرفتار ہوجائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا تھا، مگر اب توبہ کری ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح شاتم رسولﷺ بھی ارتکاب جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے تو دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے بدتر اور زیادہ سنگین ہے۔

    ان دلائل کے پیش نظر درست یہی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور اسکی سچی یا جھوٹی توبہ اسے اس سزا سے نہیں بچاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کو مغرب اور اس کی نام نہاد تہذیبی اقدار سے مرعوب ہوکر اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک پیدا نہیں کرنی چاہیے

  15. قابل توجہ بات یہ ہے کہ
    “آج امریکہ جو دنیا کا تھانیدار بنا ہوا اس کا حال یہ ہے کہ وہ رسول اکرمﷺ کے گستاخ کو پناہ دینے کیلئے پیشکش کررہا ہے۔اگر برطانیہ اور امریکہ میں آزادی تحریر اور تقریر کے باوجود ملک اور اسکے آئین میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ملکہ کی توہین جرم ہے، روس میں لینن کو گالی دینا قابل تعزیر ہے توہمیں اپنے آقا ﷺ کی توہین کے جرم کی سزاکے ببانگ دہل کے اعلان سے کون روک سکتا ہے، ہماری متاع ایمان کی بقاء کی ضمانت ہی نبی کریم ﷺ کی ذات والا سے محبت اور آپ کی عظمت و توقیر ہے “

  16. جناب عبدالمناف صاحب ،

    محترم بھائی ، میں آپ کے اتنے مدلل اور پر مغز تبصرے کا جواب اپنے ادبی مرشدِ محترم جناب صفدر ہمٰدانی صاحب کے صرف ایک ہی مشہورِ زمانہ شعر سے شروع کرتا ہوں :

    کہتا ہے کون ختم ہوئی کربلا کی جنگ
    ہم لڑ رہے ہیں آج بھی فوج یزید سے

    اور جب یزیدیت اور حسینیت کی جنگ تا قیامت جاری رہنے والی ہے ، خواہ یہ انفرادی صورت میں ہو چاہے اجتماعی میں ، تو پھر کشت و خون کا درس کیا اور طعنہ کیسا ؟ یہ عقل اور عشق کی لڑائی ہے ، عقل ہمیشہ دانا جبکہ عشق ہمیشہ اندھا ہی ہوتا ہے ۔ عقل آگ کی تپش اور جلن کے اثرات کا اندازہ لگاتی رہ جاتی ہے جبکہ عشق بے خطر اس میں کود جاتا ہے اور غازی علم الدین سے لے کر ممتاز حسین قادری تک سر پھرے عشاق اپنے محبوب کی حرمت پہ ہمیشہ مٹتے آئے ہیں اور تا قیامت یوں ہی مٹتے رہیں گے ، بے شک انہیں عقل کے کتنے ہی درس دے دئیے جائیں۔

    آپ نے آقا علیہ السلام کی زندگی کے حوالہ جات دئیے ، جن کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پیغمبر کا ہر عمل اپنے رب کی ہدایات کے تابع ہوتا ہے ۔ ان پہ آنے والی مشکلات ان کا امتحان بھی ہوسکتی ہیں اور پھر اسے بڑھ کر یہ کہ جب خدائے ذوالجلال نے واضح الفاظ میں فرمادیا ، ” وما ارسلنٰک اِلا رحمت اللعٰلمیں “ تو پھر آپ (ص) سے کسی سے بدلہ لینے کی توقع کیونکر ہوسکتی تھی ۔

    آپ نے اسلامی جنگوں اور نتیجے میں ہونے والے قیدیوں کی مثال بھی پیش کی لیکن اس کا موازنہ مجھے نہیں علم کہ عہدِ حاضر کی تہذیبوں کی جنگ سے کیونکر ہوسکتا ہے ؟ اور اگر ہوسکتا ہے تو عصرِ حاضر میں مسلمان قیدیوں پہ ابو غریب یا قندھار جیل یا پھر گوآنٹاناموبے کیمپ میں یُو این او یا جینیوا کنونشن کیوں لاگو نہیں ہوتے ؟

    آپ نے یوم آزادی سے لے کر آج تک اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اسلامی قوانین نافذ نہ کروا سکنے کا طعنہ بھی دیا ، جس کے جواب میں اسے زیادہ کیا کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا کسی طرح نافذ کیا گیا ناموس رسالت (ص) پہ ایک بل ہی دنیا کو ہضم نہیں ہورہا تو ایسے میں پورے اسلامی قوانین کو کون برداشت کرتا ؟

    آپ نے یہ بھی فرمایا ، ” کیا اسلام صرف اسی کو کہتے ہیں کہ جو ہمارے دین کے خلاف بات کرے ہمیں اشتعال دلوانے کے لیے بکواس کرے ہم آنکیں بند کر کے اس کی چالوں کو سمجھے بغیر اس کے قتل کے درپے ہو جائیں ؟ جبکہ حقیقی مجرم تک تو ہماری رسائی ہو ہی نہیں سکتی “

    تو محترم بھائی ، نہ تو اسلام اور نہ ملکی قانون کسی کے بلاوجہ قتل کی اجازت دیتا ہے لیکن اس بات کی اجازت کہاں سے آگئی کہ اپنے ہی ملکی قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی شاتم کو کھلی چھٹی دے دی جائے یا اس کی پشت پناہی کی جائے اور پھر خود ہی اپنے ہی نافذ کردہ قانون کو ہی کالا قانون کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جائے ؟ ایسے میں اگر کوئی اپنے جذبات پہ قابو نہیں رکھ سکتا تو بالکل فطرتی عمل ہے ۔ ایسے لوگوں کی پھر یا تو حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے یا حوصلہ شکنی ، جس کا جواب میں سب قارئین پہ چھوڑتا ہوں اور پھر انہی کے فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے آپ کی وساطت سے معافی کا طلبگار ہوں گا ۔

    آپ کی اس بات سے بھی کوئی ذی عقل اختلاف نہیں کر سکتا کہ ، ” ہمیں انفرادی طور پر کسی کو سزا دینے کی اجازت ہرگز نہیں، نہ تو اسلامی قانون اور نہ ہی دنیا کا کوئی بھی دوسرا قانون بغیر تحقیق کے، بغیر جانچ پڑتال کے اور سب سے اہم بات ملزم کو اپنی صفائی کا موقع دیے بغیر سزا دینے کی اجازت دیتا ہے، چہ جائے کہ یہ سب انفرادی اور شخصی سطح پر ہو “

    لیکن یہاں بات پھر اسی عشق اور عقل کی دلیل والی آجاتی ہے ۔ جب قانون بنانے والے ہی اپنے بنائے گئے قانون کا مذاق اور عوام کے جذبات سے کھیلنا شروع کردیں تو پھر ان کی سوچوں میں انقلاب اور رویوں میں بغاوت کو کوئی نہیں روک سکتا ، تب غازی علم الدین سے لے کر ممتاز حسین قادری تک باغیوں کی لائینیں لگ جاتی ہیں ۔

    مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پہ ہورہی ہے کہ ایک شاتمہء رسول (ص) کی پشت پناہی کرنے والے ، اس کی سزائے موت کو معاف کروانے والے اور ناموسِ رسالت (ص) قانون کو کالا قانون کہنے والے شخص کا آپ کے نزدیک شاتمِ رسول ہونا کہیں ثابت نہیں ہو رہا ؟

    اور پھر ساتھ ہی آپ نے سلمان ر شدی کی مثال بھی دے دی ، ” کہ اسے کیوں بھول گئے جس کا شاتم ہونا صد در صد ثابت ہے، اگر مجھ میں حُب ِ رسول ہے تو میں اس کو قتل کیوں نہیں کرتا ؟؟ اس لیے کہ وہاں تک یا تو میری رسائی نہیں یا میری محبت محدود ہے “

    یہاں میں پھر بھٹک گیا ہوں کہ آیا آپ ایسے عمل کی مذمت کررہے ہیں یا کہ خود اس پہ اکسا بھی رہے ہیں ؟ سلمان رشدی کو اگرچہ اس کے ملک میں انتہائی اونچی سیکورٹی دی گئی ہے ، کہ وہ ان کے ایجنڈے پہ کام کررہا ہے ، لیکن یہاں نہ کسی کے عشق میں کمی ہے نہ محبت میں بلکہ اس کی صرف رسی ڈھیلی کی گئی ہے اور اس کا انجام بھی میں اور آپ انشاء اللہ اپنی زندگی میں ہی دیکھیں گے ۔

    میں آپ کے اس سوال کہ ، ” کیا ایک ایسے ملک میں جہاں اسلام صرف لوگوں کے دلوں میں انفرادی طور پر محفوظ ہے، جہاں حکومت مکمل طور پر اغیار کے ہاتھوں بکی ہوئی ہے، جہاں بنیادیں ہی غیر اسلامی ہیں وہاں ایسے بدبختوں کو فرداً فردا قتل کرنے سے بہتر یہ نہ ہوگا کہ اس ملک کی بنیادوں کو بدلا جائے، ایسے کہ وہاں ہر قانوں اسلامی ہو، جہاں ہمیں ایک آدھی اسلامی شق کے لیے اتنے پاپڑ نہ بیلنے پڑیں اور باقی ماندہ سارے کا سارا غیر اسلامی قانون نظر انداز نہ کرنا پڑے، جہاں قانون کے ساتھ ملکی آئین اور حکومتی دستور سب اسلامی ہوں تاکہ کہیں سے بھی کسی طرح کی غیراسلامی ملاوٹ اگر ہو بھی تو اس کا مقابلہ ڈٹ کر کیا جا سکے ؟؟؟؟؟؟ “

    کے جواب میں میں اپنی وہی بات دہراؤں گا کہ جب حکومتوں اور عوام کے جذبات و احساسات میں بُعد پیدا ہوجائے تو عوام کی سوچوں میں انقلاب اور رویوں میں بغاوت کو کوئی نہیں روک سکتا اور غازی علم الدین سے لے کر ممتاز حسین قادری تک باغی ہی جنم لیتے ہیں ۔ اور پھر ایسی باغی اور انقلابی نسل کو ابھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا جو آپ کے وضع کئے گئے ضوابط کے پورا ہونے وسیلہ بن سکے ۔

    اور آپ کے آخری سوال کہ ، ” اگر مجھ میں، جذبہء ایمانی ہے تو میں اس اہم ترین کام کے لیے تگ و دو کیوں نہیں کرتا ؟؟ ‘
    کے جواب میں میں یہی عرض کروں گا کہ کسی نے کسی کو کسی تگ و دو سے نہیں روکا ۔ آپ بھی سب کے ہم آواز ہوکر ملک و ملت اور دین و دھرم کے دشمنوں کو پہچانتے ہوئے انہیں انفرادی یا اجتماعی طور پہ کیفر کردار تک پہنچانے والوں کو سلام پیش کریں ، باقی کام یہ خود کردیں گے۔

    آپ کے پر مغز تبصرے کا بے حد شکریہ ۔

  17. محترم جناب سیدمصباح حسین صاحب ،

    شکر ہے اس انتہائی اہم موقعہ پہ آپ کےکمپیوٹر نے ایک شاتمہ کے پشت پناہ کی مذمت کی حامی بھرلی ۔

    کیا خوب فرمایا ، ” کہ ایک ایسا شخص دنیا سے گیا جسکی زندگی بھی ندامت تھی اور موت بھی “

    دنیا سے جانے والے کی ذاتی زندگی پہ کچھ نہیں لکھتا فقط اس کے بیٹے کی لکھی کتاب کا ہلکا سا حوالہ کہ ” ڈیڈی pork وغیرہ سے بھی کم ہی پرہیز کرتے ہیں “

  18. محترم جناب ظفر جعفری صاحب ،

    قبلہ ، آپ پختہ یقین رکھیں کہ اب ” ہوگی کرب وبلا اس بلا کے بعد “

    آپ کا بہت شکریہ۔

  19. محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ،

    یہ بھی خدا کی قدرت کا شاہکار ہی ہے جو لوگ ایک شاتمہء رسول کی پشت پناہی کرنے والے کی فاتحہ خوانی میں بھی وہی غلط صورۃ اخلاص پڑھ کر آجائیں گے ۔

    ” میرا سلام ہو اپنی قوم کے بہادرصاحب ایمان سپوت ملک ممتاز حسین قادری پر اور اس کے ما ں باپ پر اس کے محلّے پر ،اس آنگن پر جہاں اس نے آنکھ کھولی ان گلیوں پر جن میں وہ پروان چڑھا “

    سبحان اللہ ، میں کہتا ہو سلام ہو اس پورے ملک پہ جو سامراج کے شکنجے میں ہو کر بھی ناموسِ رسالت (ص) کے ایسے پروانے اور ایسے سپوت پیدا کر رہا ہے جو پوری اسلامی دنیا کے لئے باعث فخر جبکہ اغیار کے لئے باعث جبر و باعث قہر ہیں ۔

    آپ کے جذبات کا بہت شکریہ ۔

  20. محترمہ ڈاکٹر نگھت نسیم صاحبہ :

    کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

    سبحان اللہ ، یہ شعر بھی کیا تاریخ بنا ، ان سب عشاقِ رسول (ص) پہ نظر دوڑائیں تو ایک ایک لفظ کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے ۔

  21. ماشاء اللہ ڈاکٹر صاحبہ ،
    اللہ رب العزت آپ کو یہ کالم یہاں چسپاں کرنے پہ بہتر سے بہترین صلہ عطا فرمائے ۔ میں خود بھی یہی حوالہ جات ڈھونڈنے کی سعی میں تھا کہ آپ نے من کی مراد پوری کردی ، جزاک اللہ ۔

    ” علمائے اسلام دور صحابہ سے لے کرآج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے “

    ” خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ ، ’’ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے‘‘

    ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانے کیلئے ہجو نگاروں کی گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا ( ان میں سے ایک ملعون کا نام ابن خطل تھا جوفتح مکہ کے دن وہ حرم مکہ میں پناہ گزیں تھا ابوبرزہ (رض) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کیمطابق اسے وہیں جہنم رسید کردیا “

    ” اس طرح مدینہ میں ایک نابینا صحابی کی ایک چہیتی اور خدمت گزار لونڈی جس سے انکے بقول انکے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کا ارتکاب کیا کرتی تھی۔ یہ نابینا صحابی اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی ۔ ایک شب وہ بدزبانی کررہی تھی کہ انہوں نے اسکا پیٹ چاک کردیا۔ جب یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا لوگو! گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان یا بدلہ نہیں ہے۔ (ابودائود، نسائی) “

    ” جب حضرت عمر (رض) نے گستاخ رسول (ص) کے نابینا قاتل کے بارے میں پیارسے کہا دیکھو اس نابینا نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا، اسے اعمیٰ (نابینا) نہ کہو، بصیر و بینا کہو کہ اسکی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے “

    ” جب ایک اور گستاخ ملعونہ اسماء بنت مروان کو اسکے ایک اپنے رشتہ دار غیرت مند صحابی نے قتل کیا توآپ نے فرمایا لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو جو اللہ اور اسکے رسول (ص) کی نصرت و امداد کرنیوالا ہے تو میرے اس جانثارکو دیکھ لو “

    ” ایک اور شاتم رسول ملعون یہودی ابورافع کو اس کی بدگوئی کی سزا دینے کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عتیق کی سرکردگی میں ایک گروپ بھیجا۔ یہ ملعون ایک محفوظ قلعہ میں رہتا تھا، مگر عبداللہ بن عتیق اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اسکے سر پر جا پہنچے اور اسے واصل جہنم کیا۔ جلدی میں واپسی کیلئے مڑے تو ایک سیڑھی سے گر کر انکی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسے اپنے عمامہ سے باندھا اور قلعہ کے دروازہ سے باہر نکل آئے ، مگر انتہائی تکلیف کے باوجود وہیں بیٹھ کر اپنے مشن کی تکمیل کی خوشخبری ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب ابورافع کی موت کا اعلان سنا اور اطمینان ہوا اور واپس خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری بات سن کر ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر دست شفقت پھیرا تو وہ اس طرح درست ہوگئی جیسے کبھی ٹوٹی نہ تھی ، (بخاری) “

    ” کعب بن اشرف بدبخت یہودی تھا جو مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا اس کوآپ کی اجازت اور حکم سے محمد بن مسلمہ نے قتل کیا۔ (بخاری و مسلم) “

    ” عہد نبوی میں شاتمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیانک انجام کی ان متعدد مثالوں کے پیش نظر ہر دور کے مسلمان علماء کا فتویٰ یہی رہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے والے کی سزا قتل ہے “

    ” سعودی عرب کے مفتی اعظم کے علاوہ متعدد مسلمان ملکوں کے عالی مرتبت علماء نے بھی شاتم رسول کے قتل کا فتویٰ دیا ہے “

    اور میرا پختہ یقین ہے کہ جس طرح شاتم رسول کی سزا قتل ہے اسی طرح اس کا پشت پناہ بھی ۔
    اور غازی ممتاز حسین قادری نے ایک شاتمہء رسول (ص) کے پشت پناہ کو جہنم واصل کرکے ہم سب کا سر فخر سے بلند کردیا ۔

    ڈاکٹر صاحبہ ، اتنا قیمتی اثاثہ پیش کرنے کا بے حد شکریہ ۔

  22. مکرمی جاوید اقبال کیانی صاحب۔
    تسلیمات۔ میرا تمام قلمی سفر اس بات پر ہمیشہ شاہد رہا ہے کہ احترام مصطفوی پر ہم کبھی کسی بھی سمجھوتے کے قائل نہیں رہے۔ اس سلسلہ میں بھائی احمد ترازی صاحب کے ہمراہ ہم نے پہلے بھی انہی صفحات پر مباحث کئے اور عقلی، منطقی و شرعی دلائل سے ہر شاتم رسول کو قابل گرفت ثابت کیا ہے۔ آج آپ نے اسی قدم زینے پر ایک قدم آگے بڑھایا ہے جس کی بنیادیں ہمارے نیک طینت اسلاف رکھ چکے ہیں۔
    جہاں تک سلمان تاثیر کی ذات کا مسئلہ ہے تو میں کسی مردار کے بارے میں مزید کچھ کہنے کو غیر ضروری سمجھتا ہوں، جبکہ اسکی زندگی بھی مردار کے سوا کچھ نہ تھی۔
    ممتاز قادری صاحب کے اقدام عشق رسول کے تحت خود بخود اٹھنے والے اقدام ہیں، سو ہم ان کو اس جذب و وِلائے آقائےنامدار پر صد تحسین پیش کرتے ہیں۔ لیکن سب دوستوں سے یہ درخواست ہے کہ یہ لمحات اور جذبات یہیں رک نہیں جانے چاہئیں، کیونکہ غازی ممتاز قادری کو ابھی ایک طویل مصیبت کا سامنا بھی کرنا ہے۔ راجپال کا خاندان ہمیشہ مضبوط اور اہل صفا و وفا سدا کمزور رہے ہیں۔ اس لئے اس غازی کی حمایت کا سلسلہ جاری رہنا چاہئیے اور شاید ہم سب کو مل کر ان کے دفاع کی کوششوں میں بھی حصہ لینا ہوگا۔

    آپ نے شاید تحت السطور میری غیر حاضری کی مناسبت سے کچھ کہنا چاہا ہے، تو اتنا عرض ہے کہ فدوی کو اپنی کم مائیگی کا احساس اہل علم کی محفل میں خاموش رہنے پر مجبور رکھتا ہے اوردوسری طرف مصروفیات بھی بہر طور موجود ہیں جن سے نگہت بہن کسی قدر تک آشنا بھی ہیں۔ اس لئے اکثر لکھنے لکھانے کی نوبت نہیں آتی۔ تاہم اس موضوع پر لکھنا نہ سہی، ظالم کی مذمت کو واجبات شرعی جان کر چند سطریں کھینچ دیں تھیں۔ یہ ہمارے ایمان کی شہادت ہے اور اس کا اقرار کئے بناء بنتی ہی نہیں ہے۔
    والسلام
    نا چیز

  23. میں نے آج صبح اٹھ کر یہ بلاگ دیکھا تو اس پر دوسرے سا تھی اتنا کچھ لکحھ چکے ہیں کہ میرے خیال میں مزید کچھ لکھنے کی گنجا ءش نہیں رہی،اس پر بہن نگہت کی کوششیں اور ھمدانی صاحب کا شعر بہت کافی ہے میں بھی انہیں کا اتباع کرتے ہو ءےصرف اپنا ؟ایک بہت پرانا شعر پیش کر رہا ہوں۔
    اک شاتم رسول سے مومن کا واسطہ ؟
    “تو حق کا ہے نقیب “ وہ “ شر کا گماشتہ“

  24. واقعی مصباح بھائی کی مصروفیت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا …پر ….. مجھے یقین تھا کہ بھائی اس بلاگ پر ضرور آئیں گے .. لیکن مصباح بھائی نجھے اس بات سے اتفاق نہیں کہ “فدوی کو اپنی کم مائیگی کا احساس اہل علم کی محفل میں خاموش رہنے پر مجبور رکھتا ہے ۔ اس لئے اکثر لکھنے لکھانے کی نوبت نہیں آتی ”

    نا بھائی ایسے نہیں …. عالمی بلاگ گھرانے میں جو آپ کا مقام اور احترام ہے وہ آپ ہی کا ہے اور ہمارے دل میں آپ کے لئے جو دعائیں اور پیار ہے وہ آپ ہی کی محبت اور شفقت سے ہے ..عالمی بلاگ فیملی کی اکائی بنائے رکھنے کے لئے سب کا ہونا بہت ضروری ہے بھائی .. .. جیسے ہی فرصت ملا کرے بس آ جایا کریں ..

  25. شمس بھائی واہ واہ سبحان اللہ کیا کہنے ..
    اک شاتم رسول سے مومن کا واسطہ ؟
    “تو حق کا ہے نقیب “ وہ “ شر کا گماشتہ“
    شمس بھائی آپ کب واپس وینکوور پہنچ رہے ہیں …

  26. یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے ، جنھیں تو نے بخشا ہے زوقَ خُدائی
    دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ انکی ھیبت سے رائی

    جب کوئی شخص دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو سنت رسول صلی اللہ و عیلہ وصلم یہی ہیکہ اسکے نام کو بُرا نہ کہا جائے، اور اسکے عیبوں پر پردہ ڈالا جائے. لیکن جب کوئی ملعون ہو اور گستاخ رسول ہو اب اگر وہ اپنا نام اسلامی رکھے تو اسکے واصل جہنم ہونے کے بعد اسکے نام کو لیکر اسکی گُستاخی کو بیان کرنے سے اس نام کے اصل وارث کی شان میں گستاخی ہے. دوسری بات کے سکار دو عالم صلی اللہ و عیلہ وصلم کے گُستاخ کا نام کُچھ بھی ہو، گستاخی کے بعد وہ اپنے نام سے نہی اپنی حرکت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے. اور ایسے ملعوں کو جہنم رسید کرنے والا نہ صرف اپنے نام سے بلکہ غازی، شیہد اور کروڑوں لوگون کی دعاوں کے ساتھ تاریخ میں امر ہو جاتا ہے، جیسے سلمان تاثیر سے ملعون کتا اور ممتازقادری سے غازی ممتاز قادری.
    اللہ اس بطلَ جلیل کو ہمت اور استقامت عطا فرمائے اورامت مسلمہ کے ایسےغازیوں سے بھردے . آمین

  27. اکیسیویں صدی کا اور شائد پاکستان کا پہلا شاتم رسول کو واصل جہنم کرنے والا غازی علم الدین شیہد۔ ۔ جیسا جوش ایمانی رکھنے والا ایلیٹ فورس کا قابل فخر جوان ملک ممتاز حسین قادری ۔کو سیلوٹ کرتے ھیں جس نے
    ۔توھین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے وا لے ملعون گورنر سلمان تاثیر کو ایک نیہں دو نیہں پوری 26 گولیاں سے چھنی کیا،

    اور

    بڑے وقار اور فخرسے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیا۔

    ھر شاتم رسول کی سزا موت ھے اور عبرت ناک قتل ھے اور ایسی ھر زبان کو فورا قطع کردینا چاھیے۔

    چاھے وہ شاتم رسول سلمان تاثیرھو یا سلمان رشدی

    شاتم رسول کےلیے عبرت ناک سزا کا حکم ھے ۔

    اللہ کے سب سے برگزیدہ نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو واصل جہنم کرنا چاھیے ۔

    وہ پاک نبی جو ساری دنیا کے لیے سراپا رحمت بن کے آۓ ، انکی شان میں کوئ گستاخی کرے اسکی گردن زدنی کرنی چاھیے ۔جس ناپاک زبان سے کوئ معلون جہنمی آپکی شان میں کوئ نازیبا بات کہے اس زبان کو کاٹ دینا چاھیے اور قتل کردینا چاھیے

    شاتم رسول ابن حنطل جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ھجو کرتا تھا اور اسکی زرخرید لونڈیاں ان اشعار کو گاتی تھیں

    مجھے فتح مکہ کے دن حضرت ابو زرغفاری نے اللہ کے رسول کے حکم پر ملعون ابن حنطل کو حرم مکی سے نکال کر جہنم واصل کیا

    محترم جاوید اقبال کیانی صاحب سلامت رھیں۔ اجرکم اللہ
    آپکی بات سے 100٪ متفق ھوں
    دنیا کو ہم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے ۔ یہی دنیا جن طالبان کو آج دہشت گرد کہتے نہیں تھکتی کبھی انہیں مجاہدین کے القابات نوازتے نہیں تھکتی تھی ۔ باقی کن اعمال کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے اور کن کی دل شکنی تو یہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر پوچھ لیں کہ کیا شاتمانِ رُسل (ص) کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے یا دل شکنی ؟ باقی بحث اس کے بعد ہوگی

    شاتم رسول چاھے وہ مسام ھو یا کافر اسکی سزا صرف اور صرف موت ھے

    تو ھین رسالت کا قانون اللہ کے رسول کا خود بنایا ہوا ہے۔ تمام مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ وغیرہ کا توحین رسالت کی سزا پر مکمل اتفاق ھے اور اس قانون کو پوری شدت سےلاگو ھونا چاھیے۔

    اس بلاگ میں شامل قابل صد احترام مبصرین کے تبصروں پڑھ کر بے اختیار دل سے دعا نکلی

    عزیز بھائ محمد احمد ترازی صاحب

    عزیز بھائ عبدالمناف صاحب

    عزيز اور بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم

    اپکی تحریروں نے دل ودماغ کو روشن کیا سلامت رھیں

    یا رسول اللہ ھماری جانیں آپ پر قربان

    یا شافع محشر ھم آپ سے شرمندہ ھیں

    اے اللہ کے محبوب ترین بنی ھم کو روزمحشر اپنی شفاعت سے محروم نہ کیجیے گا۔

    اس معاملے پر کوئ کمپرومائز نیہں کرسکتے،

    اس جملے کو پڑھ کر عجیب سے حالت ھوئ رونے کا مقام ھے یا ھنسنے کا ؟
    یہ بھی خدا کی قدرت کا شاہکار ہی ہے جو لوگ ایک شاتمہء رسول کی پشت پناہی کرنے والے کی فاتحہ خوانی میں بھی وہی غلط صورۃ اخلاص پڑھ کر آجائیں گے

    جس کی نام نہاد روشن خیالی اور دین سے دوری کا اس سے بڑا ثبوت کیا ھوگا کہ کسی بدبخت باپ کے بارے میں بیٹا کہے

    ” ڈیڈی pork وغیرہ سے بھی کم ہی پرہیز کرتے ہیں “

    تو اس کا مطلب ھے ناں کہ وہ واقعی ملعون تھا

  28. اللہ سچ تک رسائی دے میں تذذب کا شکار ہو آیا ہیرو کون؟ قاتل یا مقتول؟

  29. قاتل مقتول میں کون ہیرو ہے .. میرے بھائی یہ جاننا تم وکیلوں کا کام ہے . .. ہمیں تو جو لگا ہم نے لکھ دیا ہے … بس زرا اتنا سوچنا کہ سلمان تاثیر جیسے بدمعاش کا جب جب نام لیا جائے گا اسے شاتم رسول اور شاتم رسول کی پشت پناہی کرنے والوں میں لیا جائے گا .. کیا اب بھی اللہ کریم کے اس فیصلے سے نہیں پتہ چلا کہ کون کیا ہے …..

  30. محترم جناب سیدمصباح حسین شاہ صاحب ،

    آپ کی دوبارہ حاضری اور پذیرائی کا بے حد شکریہ ۔

    ” جہاں تک سلمان تاثیر کی ذات کا مسئلہ ہے تو میں کسی مردار کے بارے میں مزید کچھ کہنے کو غیر ضروری سمجھتا ہوں، جبکہ اسکی زندگی بھی مردار کے سوا کچھ نہ تھی ۔۔۔۔۔ سب دوستوں سے یہ درخواست ہے کہ یہ لمحات اور جذبات یہیں رک نہیں جانے چاہئیں۔۔۔۔ کیونکہ غازی ممتاز قادری کو ابھی ایک طویل مصیبت کا سامنا بھی کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے اس غازی کی حمایت کا سلسلہ جاری رہنا چاہئیے اور شاید ہم سب کو مل کر ان کے دفاع کی کوششوں میں بھی حصہ لینا ہوگا “

    ملعون تو مرا ، واصلِ جہنم ہوا لیکن صدمہ اس بات بھی کا ہے کہ ساتھ ہی میری قوم کا ضمیر بھی مر گیا جو مردود کو ” شہید “ کہتے نہیں تھک رہی یا پھر مصلحت کا شکار ہوکر اس کے فعل پہ مذمت کا ایک لفظ بھی نہیں کہہ پا رہی ۔ماشاء اللہ ، کتنی عظیم سوچ پیش کی آپ نے کہ غازی ممتاز قادری صرف ایک بندہء خدا نہیں ، محض ایک عاشقِ رسول (ص) نہیں ، بلکہ ایک تحریک ہے جو مجھ جیسے کروڑوں کمزور و بے بس دلوں کی آواز ہے ۔ ہمارے جذبات واقعی اس تحریک کو آخری شاتم کی موت تک جاری رکھنے کے ہونے چاہئیں اور غازی ممتاز حسین قادری کے پیچھے پوری قوم کو کوہِ ہمالیہ بن کر ڈٹ جانا چاہیئے تاکہ محبان رسول (ص) کی طاقت کا غلط اندازہ لگانے والے سامراجی گماشتے اور گستاخانِ رسول (ص) ابھی سے عبرت پکڑ لیں ، گو ان کے دلوں پہ مہریں لگا دی گئی ہیں پھر بھی انہیں بھاگنے کا ایک موقعہ ضرور دینا چاہئیے ۔

    بخدا میں نے آپ کی غیر حاضری پہ کچھ لکھنے کی جسارت کی بجائے اس انتہائی اہم موقعہ پہ حاضری پہ خدا کا شکر ادا کیا ہے کہ عشاق رسول (ص) کی محفل میں تشریف لائے اور ہم سب کے علم میں اضافے کے ساتھ حوصلہ افزائی فرمائی جس کے لئے آپ کا بے حد شکریہ ۔

  31. محترم جناب شمس جیلانی صاحب ،

    اک شاتم رسول سے مومن کا واسطہ ؟
    “تو حق کا ہے نقیب “ وہ “ شر کا گماشتہ“

    مرحبا قبلہ ، بلاگ کو زینت بخشنے کا بے حد شکریہ ۔

    ’ حق “ اور ’ شر ‘ کی عہدِ حاضر کی لڑائی بھی ایک تماشہ بنی کہ ’ شر ‘ نے تو ’ شہادت ‘ کی چادر اوڑھ لی جبکہ ’حق‘ ڈوب مرا تعزیراتِ پاکستان میں !

  32. محترم جناب شعیب صفدر صاحب ،

    ”اللہ سچ تک رسائی دے “
    میری بھی یہی دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو سچ تک رسائی دیتے ہوئے سچ کہنے ، سچ سننے اور سچ لکھنے کی ہمت اور توفیق دے ۔

    ” میں تذذب کا شکار ہوں “

    میرے عزیز بھائی ، یہ عقل اور عشق کی جنگ ہے ، تذبذب اس کا لازمی جزو ہے ، لہذا آپ کو کچھ دوش نہیں۔

    ” ہیرو کون؟ قاتل یا مقتول؟ “

    آپ تھوڑی دیر کو کالے کوٹ سے باہر نکلیں ، معاملے کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 اور 304 سے ہٹ کر پرکھیں ، بات عیاں ہوجائے گی کہ ’ غازی ‘ کون ہے اور نام نہاد ’ شہید ‘ کون ؟

  33. بھائ شعیب صفدر۔ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔

    تذبذب کیسا اور کیوں ۔ ھر شے روز روشن کی طرح واضع ھے ۔ شاتم رسول کا عبرت ناک قتل اس بات کی بات کی دلیل ھے کہ اللہ اپنے بہت پیارے اور محبوب نبی کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو دیر یا سویر سزا ضرور دیتا ھے۔ ملعون کی مغفرت کی دعا سے محرومی اور لوگوں کا اسکی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار؟

  34. جناب محمود بن سعید صاحب ،

    سب سے پہلے توعالمی اخبار کی بلاگ فیملی بالخصوص عشاقِ رسول (ص) کی محفل میں تشریف لانے پہ خوش آمدید ۔

    یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
    جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خُدائی
    دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا
    سمٹ کر پہاڑ انکی ھیبت سے رائی

    مرحبا ، یہی ہر عاشق کے دل کی آواز ہے ۔

    ” جب کوئی شخص دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو سنت رسول صلی اللہ و عیلہ وصلم یہی ہے کہ اسکے نام کو بُرا نہ کہا جائے، اور اسکے عیبوں پر پردہ ڈالا جائے “

    بالکل بجا فرمایا ، یہ بلاگ مرنے والے کی خوبیوں یا خامیوں پہ چرچے کے لئے ہر گز نہیں ۔

    ” لیکن جب کوئی ملعون ہو اور گستاخ رسول ہو اب اگر وہ اپنا نام اسلامی رکھے تو اسکے واصل جہنم ہونے کے بعد اسکے نام کو لیکر اسکی گُستاخی کو بیان کرنے سے اس نام کے اصل وارث کی شان میں گستاخی ہے “

    میرے محترم بھائی ، آپ کے سوال کا جواب بھی آپ کے سوال میں ہی پنہاں ہے کہ جب ایک اسلامی رکھنے والا واصلِ جہنم ہوا تو پھر نام کی لاج کیا رہ گئی ؟ یہاں بات کسی نام پہ نہیں بلکہ ’ کرتوتوں ‘ پہ ہورہی ہے ۔ ایک چور ڈاکو کیسا بھی اسلامی نام رکھتا ہو وہ بٹہ تو خود اس نام کی لاج کو لگاتا ہے ، معاشرہ تو اسے دئے گئے نام سے ہی یاد رکھے گا ناں ۔ اور آپ نے خود بھی جواب دے دیا ہے کہ ، ” حضور صلی اللہ و عیلہ وصلم کے گُستاخ کا نام کُچھ بھی ہو، گستاخی کے بعد وہ اپنے نام سے نہیں اپنی حرکت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے “.

    ” ایسے ملعون کو جہنم رسید کرنے والا نہ صرف اپنے نام سے بلکہ غازی، شیہد اور کروڑوں لوگوں کی دعاؤں کے ساتھ تاریخ میں امر ہو جاتا ہے “

    ماشاء اللہ ، یہی ہم سب کے دل کی آواز ہے ۔

    آپ کے جاندار تبصرے کا بہت شکریہ ۔ عالمی اخبار پہ باقاعدگی سے آتے ہوئے اپنی قیمتی آراء شیئر کرتے رہا کریں ۔

  35. بھائی جاوید اقبال کیانی صاحب!
    آپ نے بہت اچھے اور مدلل جوابات سے نوازا، لیکن چند غلط فہمیوں کا ازالہ ناگزیر ہے

    1۔ میں نے کسی کو کوئی طعنہ نہیں دیا اور نہ میں اس کا حق رکھتا ہوں اگر میری کسی بات سے ایسا تاثر ملا ہے تو معافی کا طلب گار ہوں۔

    2۔ عقل اور عشق کے مقابلہ میں ہمیشہ جیت اسی عشق کی ہو گی جس کے پیچھے عقل کارفرما ہو، دوسرے الفاظ میں یہ عقل اور عشق ایک دوسرے کی ضد ہرگز نہیں بلکہ عقل ہی کے استعمال سے انسان عشق کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے، اور صرف عشق کو کوئی اور نام دے دینا چاہیے۔ (اختصار کے مدِ نظر امثال سے گریز ہے)

    3۔ اگر اللہ کے رسول نے رحمت اللعالمین ہونے کی وجہ سے کسی سے بدلہ نہ لیا، تو ہم پر کس کی سنت پر عمل واجب ہے ؟؟؟؟ ہم کس کی پیروی میں زندگی کا ہر کام انجام دے رہے ہیں؟ یہاں ہم اپنے اور اللہ کے حبیب کے عمل کو اپنے لیے باعثِ تقلید کیوں نہیں سمجھ رہے ؟؟

    4۔ آپ نے پوچھا کہ عصرِ حاضر میں مسلمان قیدیوں پہ ابو غریب یا قندھار جیل یا پھر گوآنٹاناموبے کیمپ میں یُو این او یا جینیوا کنونشن میں اسلامی جنگوں اور نتیجے میں ہونے والے قیدیوں کی مثال کیوں لاگو نہیں ہوتے ؟ میرے بھائی عرض ہے کی بنی اکرم کی سنت پر عمل، ہم مسلمانوں پر واجب ہے، کافروں اور مشرکوں سے آپ کس طرح اس کی توقع کر سکتے ہیں۔

    5۔ آپ نے فرمایا کہ “ہمارا کسی طرح نافذ کیا گیا ناموس رسالت (ص) پہ ایک بل ہی دنیا کو ہضم نہیں ہورہا تو ایسے میں پورے اسلامی قوانین کو کون برداشت کرتا ؟” تو میری ناقص رائے یہی ہے کہ کسی کو اسلامی قانون ہضم ہو یا نہ ہو ایک بل حلق سے اُترے یا نہ “ہم پر دینِ محمدی کے نفاذ کے لیے کوششیں واجب ہیں”۔

    6۔ آپ کی اس بات کا کہ “لیکن اس بات کی اجازت کہاں سے آگئی کہ اپنے ہی ملکی قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی شاتم کو کھلی چھٹی دے دی جائے یا اس کی پشت پناہی کی جائے اور پھر خود ہی اپنے ہی نافذ کردہ قانون کو ہی کالا قانون کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جائے ؟” جواب بھی وہی ہے کہ اگر دوسرے غلط حرکت کریں، عدل و انصاف کو بالائے طاق رکھ دیں، شیطان کے ساتھ مل جائیں پھر بھی بطور مسلمان ہمیں اس کی اجازت ہرگز نہیں۔

    7۔ آپ کو اس بات پر حیرت ہے کہ ایک شاتمہء رسول (ص) کی پشت پناہی کرنے والے ، اس کی سزائے موت کو معاف کروانے والے اور ناموسِ رسالت (ص) قانون کو کالا قانون کہنے والے شخص کا آپ کے نزدیک شاتمِ رسول ہونا کہیں ثابت نہیں ہو رہا ؟
    عرض ہے کہ میں یہ سارا کیس نہیں جانتا، میں اخباریں باقاعدگی سے نہیں پڑھ سکتا، جب تک میں اس سارے کیس کی تفصیلات سے آگاہی حاصل نہیں کر لیتا، اس وقت تک کسی کے بارے میں بھی کوئی رائے قائم کرنے سے معذور ہوں۔ صرف اپنے حلقہء احباب یا میڈیا کی اطلاعات پر سو فی صد بھروسہ کا قائل نہیں، یہ بات یقیناً قابلِ حیرت ہے لیکن میرا محدود وقت اور محدود وسائل اس بات کا سب سے بڑا سبب ہیں، اسی لیے اپنی کم علمی بلکہ لا علمی کا اعتراف وقتاً فوقتاً بلاجھجک کرتا رہتا ہوں۔

    8۔ بھائی یہ سلمان رشدی والی بات کا آپ نے بہت اچھا جواب دیا کہ وہ سخت حفاظت میں ہونے کی وجہ سے بچا ہوا ہے، بالکل یہی بات ہے ورنہ شاید تیس سال پہلے ہی واصلِ جہنم ہو چکا ہوتا، لیکن اس مثال سے مراد بھی میری یہی تھی کہ
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔”ہمیں باطل کے اثرات پر فکر مند ہونے کی بجائے وجوہات کا قلع قمع کرنے کی کوششیں کرنی چاہیے اور بدی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی سوچنی چاہیے”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    اور یہی میری اس طویل عرض کا خلاصہ ہے، اور اگر میری بات کو گستاخی نہ سمجھا جائے تو عرض کروں گا کہ ہم ان وجوہات اور بدی کے اس منبع سے ابھی تک لا علم ہیں۔

    9۔ یہ بات کہ”” اگر مجھ میں، جذبہء ایمانی ہے تو میں اس اہم ترین کام کے لیے تگ و دو کیوں نہیں کرتا ؟؟” دراصل میں نے خود کو بطور مثال کہا ہے، میرا مطلب تمام امت مسلمہ ہے، جس کی اکثریت فرد اً فردا آج کے حالات پر کڑھتی بھی ہے اور اپنی سی ہرشخص کوشش بھی کرتا رہتا ہے لیکن اجتماعی سطح پر ماضی قریب سے آج تک ایک بھی تحریک کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی (ایک استثناء مدِنظر ہے)، تمام اسلامی ممالک کی حکومتیں بکی ہوئی ہیں اوپر سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بہت کچھ کہتی ہیں لیکن عملاً کچھ نہ کرنا، ثبوت ہے کہ درپردہ کہانی کچھ اور ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    میں برادرِ عزیز جاوید اقبال کیانی صاحب اور دیگر تمام قارئین کی خدمت میں یہ استدعا کرتا ہوں کہ میری بات کو کسی خاص نظریہ، کسی کی سوچ وغیرہ کی مخالفت نہ سمجھا جائے اور نہ ہی میری نیّت کج بحثی کی ہے، میں صرف اور صرف یہاں اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہوں جس کے غلط ہونے کے امکانات 50% سے کہیں زیادہ تسلیم کرتا ہوں۔

  36. محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ،

    ”قاتل مقتول میں کون ہیرو ہے .. میرے بھائی یہ جاننا تم وکیلوں کا کام ہے “

    ہوئی موت جو تہذیب کی اُٹھا عدل کا جنازہ
    اقبال تیرے آنسو دامن بھگو رہے ہیں
    ۔۔۔دھیرے رو اے عافیہ ، تیرے بھائی سو رہے ہیں !

    یہ خوابِ خرگوش ہے یا خوابِ غفلت ، اے اللہ ہمیں بیداری دے ، آمین ۔

  37. بہت ہی عزیز اور محترمہ بہن شاھین حیدر رضوی صاحبہ ،

    ” اکیسیویں صدی کا اور شائد پاکستان کا پہلے شاتم رسول کو واصل جہنم کرنے والا غازی علم الدین شیہد۔ ۔ جیسا جوش ایمانی رکھنے والا ایلیٹ فورس کا قابل فخر جوان ملک ممتاز حسین قادری کو سیلوٹ کرتے ھیں “

    بے شک ، غازی ممتاز قادری جیسے سرفروش ہی دھرتی ماں کا فخر ، بہنوں کے سر کی چادر اور پوری ملت کے سلیوٹ کے مستحق ہوتے ہیں ۔ غازی مرید حسین ( ضلع چکوال ) اس دھرتی کے پہلے مجاہد تھے جنھوں نے لاہور پیدل پہنچ کر ایک ہندو شاتم کو واصلِ جہنم کیا تھا ۔

    ” توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے وا لے ملعون گورنر سلمان تاثیر کو ایک نیہں دو نیہں پوری 26 گولیاں سے چھلنی کیا“

    اور بہن ، مجھے افسوس ہو رہا ہے 25 گولیاں ضائع ہونے کا جو کسی اور شاتم کا کلیجہ پھاڑتیں ۔

    ” یا رسول اللہ ھماری جانیں آپ پر قربان “۔۔۔آمین ، ثمہ آمین

    ”یا شافع محشر ھم آپ سے شرمندہ ھیں “۔۔۔۔تھے ، مگر اب نہیں کہ راکھ کے اس ڈھیر میں کچھ شعلے ، کچھ چنگاریاں ابھی باقی ہیں۔

    ”اے اللہ کے محبوب ترین بنی ھم کو روزمحشر اپنی شفاعت سے محروم نہ کیجیے گا “۔۔۔۔آمین ، ثمہ آمین ۔

    آپ کا بے حد شکریہ ۔

  38. محترمہ شاھین حیدر رضوی صاحبہ ،

    ” ملعون کی مغفرت کی دعا سے محرومی اور لوگوں کا اسکی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار؟ “

    یہ مستند خبر ہم تک پہنچانے کا شکریہ ۔ یہ خدائی فیصلہ ہے جو اپنے محبوب کی کبریائی پہ کبھی حرف نہیں آنے دیتا ، ہم فقط ظاہر کی آنکھ سے ، اور وہ بھی آدھا ، دیکھنے کے عادی ہیں ۔

  39. محترم عبدالمناف صاحب ،
    محترم بھائی ، مجھے آپ کی کوئی بات طعنہ نہیں لگی لیکن اس امکان کے پیشِ نظر کہ شاید کسی اور خاموش قاری کی سوچ بھی کہیں اگلی ڈگری تک نہ ہو میں نے سرسری طور ایسی لفاظی استعمال کردی جس کا بخدا آپ سے کوئی برائے راست تعلق نہیں ۔

    آپ کے مزید نکات کا جواب ڈاکٹر صاحبہ کے پیش کئے گئے پروفیسر ساجد میر صاحب کے مضمون میں تفصیل سے موجود ہے ۔

    آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ ۔

  40. اسلام علیکم ساتھیوں!
    کل شام سے ہی پاکستان کے تقریبآ تمام ٹی وی چینلز پر گورنر پنجاب کے قتل کی خبریں چل رہی تھیں اور ابھی تک جاری ہیں، کوئی ااس قتل پر آنسو بہا رہا ہے تو کوئی خوشیاں منا رہا ہے، آج ابھی عالمی اخبار کا ورق الٹا تو جناب کیانی صاحب کا ایمان افروز بلاگ پوری آب و تاب سے جلوہ گر پایا اور اس میں معزز حضرات گرامی قدر کے تبصروں کے بعد کچھ کہنے کو الفاظ ہی کہاں رہے البتہ جناب مصباح حسین بھائی کے اس جملے کی تایئد ضرور کریں گے جیسا آپ نے فرمایا کہ:

    جہاں تک سلمان تاثیر کی ذات کا مسئلہ ہے تو میں کسی مردار کے بارے میں مزید کچھ کہنے کو غیر ضروری سمجھتا ہوں، جبکہ اسکی زندگی بھی مردار کے سوا کچھ نہ تھی۔

    حقیقت ہے کہ جب انسان ہر اچھائی سے مبرا ہو جائے اور صرف اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھنے لگے تو اس کا انجام اسی طرح کا ہوتا ہے ۔
    ملک ممتاز حسین قادری کو پوری ملتِ اسلامیہ کی جانب سے سلام اور اس عظیم اور زندہ دل بہادر کے لیے دعائیں کہ اس کو منزل با منزل دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔ اس کے پاس تو ہتھیار تھے بقولِ علامہ اقبال
    مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شاتمِ رسول کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے تاکہ صیہونی اور یہودی سازشیں ناکام ہو سکیں

  41. تاریخ کے اوراق میں ایسی بہت سی مثالیں جہاں لوگوں نے اپنے کیے کی سزا بگھتی ہے۔ خدا سب راست اسلامی شعور عطا فرمائے۔

  42. اسلام علیکم
    ایک مسلمان سے یہ سوال ہی کہ اُسے حضور پاک سے کتنی محبت ہے اس کے ایمان کی جانچ ہے ،میں سمجھتی ہوں کہ مسلمان تو مسلمان ہی نہیں اگر اپنی جان سے زیادہ عزیز نہ رکھے اپنے پیارے نبی کی محبت کو ۔کہ
    کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
    اس بلاگ پر جو کچھ لکھا گیا پڑھنے کے بعد لکھنے کے لئے کچھ نہیں ہے ،سوائے اس کے کاش ہمارے پیارے نبی کی محبت اور سنت پر عمل واقعئی ہمارے لئے آسان ہو جائے اور ہم اپنی زندگیاں اس محسن انسانیت کی تعلیمات سے خوبصورت بنا لیں ۔
    کہ جس سے محبت کی جاتی ہے اس کی ایک ایک روش پر عمل کی کوشش بھی کی جاتی ہے ۔محبت کا مطلب خود کو اپنے پیارے نبی کی سنت پر عمل کرنے والا اور ان کے اسوہ پر سر جھکانے والا ہونا چاہئے ۔
    اللہ ہم سب کو اپنے پیارے نبی کی سنت پر عمل کرنا آسان کرے اور ہمارے دل اپنے نبی کی محبت سے سرشار رہیں ،
    اللہ ہمیں شر اور فساد سے بھی بچاتا رکھے ۔
    عالم آرا

  43. السلام علیکم
    صاحبِ علم خواتین و حضرات سے درخواست ہے کہ احادیث کی روشنی میں وضاحت کریں کہ کس قسم کے رویے یا گُستاخی پر کسی شخص کو شاتمِ رسول قرار دیا جا سکتا ہے. نگہت جی نے جو مراسلہ پیش کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش کے ہجو گو شعراء کو شاتمِ رسول قرار دیا گیا.
    شعیب صفدر صاحب سے درخواست ہے کہ توہینِ ارسالت کے قانون کے مرکزی نکات کو آسان الفاظ میں یہاں نقل کردیں.
    والسلام
    زرقا

  44. بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
    عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
    (اقبال )

    ََملِک ممتاز حسین قادری نے سلمان تاثیر کو ہلاک کرکے پاکستان کی تاریخ میں اپنا مقام ہمیشہ کے لیے پیدا کرلیا ۔

    اقبال نے ہی کہا ہے کہ :
    بہ مصطفےٰ بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
    اگر بہ او نہ رسیدی ، تمام بولہبی است

    ہر مسلمان کے لیے ناموسِ رسالت سے بڑھکر کوئی مقدس بات نہیں ہے ۔ اس کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
    افسو س کہ سلمان تاثیر نے اس سلسلے میں اسلام کے اہم ترین موضوع کی اہانت کرکے تمام مسلمانوں کے عتاب کا شکارہوگئے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ سلمان تاثیر کے والد محمد دین تاثیر ہی نے غازی علم الدین شہید کےجنازے کی تیاری اور اس کی تجہیز و تکفین میں نمایاں حصہ لیا تھا ۔ افسو س کہ ایسے باپ کا بیٹا اس قدر اسلام سے بے بہرہ نکلا کہ اس نے ناموسِ رسالت کی حفاظت کے قانون کو کالا قانون کا نام دیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بلاگ میں جو مقالے لکھے گئے ہیں خاص طور پر بلاگ نویس جاوید اقبال کیانی صاحب اور احمر ترازی صاحب کے علاوہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور محترمہ شاہین رضوی صاحبہ اور جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کے مقالے بار بار پڑھنے کے قابل ہیں ۔ ان مقالوں میں سلمان تاثیر کے سبق آموز انجام کے تمام جواز موجود ہیں :

    ان مقالوں کے ساتھ ساتھ جناب عبدالمناف غلزئی کا انتہائی متوازن مضمون بھی پڑھنے کے قابل ہے جس میں “ عقل کے محوِ تماشائے لب بام ابھی “ کا منظر نامہ پیش کیا گیا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں اس بلا گ میں کوئی اضافہ نہیں کرسکونگا اس لیے کہ میرا علم اتنا وسیع نہیں کہ اس قدر جذباتی موضوع پر کسی اور پہلو سے کوئی نئی بات لکھ سکوں ۔ ۔۔ ہاں میرے دماغ میں جتنے خوف اس وقت جمع ہورہے ہیں ان کو یہاں پر لکھ سکتا ہوں :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مھے اس بات کا خوف ہے کہ پاکستان میں ٹارگیٹیڈ کلنگ ( اپنے اپنےدشمنوں کو چُن چُن کر مارنے کی وبا ) میں مزید اضافہ نہ ہوجائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ابھی تو شائد محترمہ شری رحمان بھی اس قسم کی ٹارگیٹیڈ کلنگ کا شکار بن سکتی ہیں کیونکہ ( کسی نے کہا ہے کہ ) وہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں توہینِ رسالت کے موجودہ قانون کی ترمیم کا بل پیش کرنےکا منصوبہ بنارہی ہیں ( شائد یہ بات غلط ہو ) ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے اس بات کا بھی خوف ہے کہ پی پی پی کے “ جیالے “ اپنے سیاسی مخالفین کو اور خاص طور پر مولوی قسم کے رہنماوں کو بھی اپنی اپنی حقارت اور اپنی اپنی گولیوں کا نشانہ نہ بنادیں ۔ اور اس طرح پاکستان مذہبی اور غیر مذہبی جنگ میں نہ الجھ جائےا ور اپنی سالمیت کھو بیٹھے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک اور بات کا بھی خوف ہے کہ پاکستان کی عدلیہ بالکل بے اثر نہ ہوجائے اس لیے کہ ہر کوئی قانون کو اپنےہاتھوں میں لے کر اپنی اپنی مرضی سے اپنے اپنےدشمنوں کا صفایا کرنےپر تلا ہوا ہے :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بات کا بھی خوف ہے کہ آزاد میڈیا بھی مذہبی اور غیر مذہبی طاقتوں کے ہاتھوں میں بٹ کر اپنے غیر جانبدارانہ موقف کو چھوڑ نہ دے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کل ہی امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی اور لندن میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر شائد نام زاہد حسین ہے (جن کا نام بھول رہا ہوں ) نے کہا ہے کہ یہ سب پاکستان کی سالمیت کو مذہب کے نام پر تباہ کرنے کی سازش ہے ۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کا قانوں جنرل ضیا کے زمانےکے“ انسانوں“ نے بنا یا تھا اور اسے موجودہ اسمبلی کے “ انسان“ ہی بدل سکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    افسو س کہ پاکستان کے دائمی دشمن ممالک ( ہندستان اور اسرائیل ) کی ایجنسیاں بھی ایسے مواقع کو اپنے اپنے گھناونے مقصد کے لیے استعما ل کرسکتی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس لیے عشق کو “ بے خطر آتشِ نمرود میں کود پڑنے سے پہلے “ ہر ہر خطرہ سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

    میں شکیل کا یہ شعر یاد کررہا ہوں کہ :

    مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلو ں کا ڈر نہیں
    مجھے خوف آتش ِ گُل سےہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  45. ا سّلا م علیکم ،میرے معزز ہم نشینون بیٹوں ،بیٹیوں ، ایک شاتمہ رسو ل کا سچّا پشت پنا ہ بن جانے والا شخص بجائے خود ہی شاتم رسول کہلائے جانے کا حقدار ہے ،،اگرشاتم رسول جیسے ملعو نوں کو اللہ تعا لیٰ بچانا چاہتا تو تو آپ نبی اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم کا حکم نا ہوتا کہ کہ یہ غلاف کعبہ سے چمٹ بھی جائیںتب بھی ان کو قتل کر دو،،اللہ تعا لیٰ نے کیو ں نہیں کہا کہ تم اس کو پکڑ کر قاضی کے حوالے کرنا خود نہیں مارنا ،جب کہ ہر جرم کی سزا کا تعین ،قران کریم میں اللہ تعا لیٰ نے خود کیا ہے ،کیو نکہ نبی اللہ جو کچھ فرماتے وہ اللہ کا فرمان ہوتا تھا ،،،اب اس مکروہ انسان کے لئے جو شاتمہ رسول کی خوشنودی کے لئے اور اس کو بچانے کے لئے حرمت رسول (صلعم) کے لئےبنائے جانے والے خالص اسلامی قا نون کو کالا قانون کہے وہ تمام عالم اسلامی کے اس تشخص کادشمن ہے جو اللہ نے ہمارے لئے ہمارے رسول برحق کا مقام عالی طے کر دیا ہے ہمارے عشق کا منتہیٰ ،ہما رے دین کا مرکز آ خر صرف اور صرف آپ کی زات گرامی ہے ،،اب جو بھی ان تعلیمات اسلامی سے عاری ہے وہ خدا را آپ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم کی شان گرامی کی عظیم المرتبت ہستی کو جاننے کے لئے کتاب اللہ کو سمجھ کر پڑھے تاکہ اس کا قلب بھی ہدائت یافتہ ہو جائے ، ورنہ آنے والے کل میں وہ بھی کسی مجرم کو ہیرو اور کسی منصف کو تختہ دار کا حق دار جان سکتا ہے

  46. محترم ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب ،

    ” تاریخ کے اوراق میں ایسی بہت سی مثالیں جہاں لوگوں نے اپنے کیے کی سزا بھگتی ہے “

    لیکن ستم کی بات یہ ہے کہ عبرت کسی نے بھی نہیں پکڑی ۔ خدا تمام شاتمین کے دلوں کو اپنے خوف اور قہر سے لرزا دے ، آمین

    بلاگ کو زینت بخشنے کا بہت شکریہ ۔

  47. ۔محترم جناب جعفر حسین صاحب ،

    ” حقیقت ہے کہ جب انسان ہر اچھائی سے مبرا ہو جائے اور صرف اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھنے لگے تو اس کا انجام اسی طرح کا ہوتا ہے “
    محترم بھائی ، عبرت کی ایسی داستانوں سے نہ صرف پوری تاریخ سیاہ ہے بلکہ خدائے بزرگ و بر تر کی آخری کتاب بھی جا بجا ایسے فرعونوں کے قصوں سے بھری پڑی ہے ۔

    ”ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شاتمِ رسول کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے تاکہ صیہونی اور یہودی سازشیں ناکام ہو سکیں “

    جی بالکل صحیح فرمایا ، اس وقت ایسے ہی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ ابلیس و دجال کے ایجنٹ عبرت حاصل کریں ۔

    آپ کا بہت شکریہ ۔

  48. محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،

    آپ نے وضاحت تو صاحب علم خواتین و حضرات سے طلب کی ہے جو یقیناً اپنی قیمتی آراء سے ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں گے لیکن مجھ جیسے کم علم کی نظر میں اگر کسی انسان کے کسی فعل ، جیسے مصوری ، کارٹون یا نقش نگاری ، تحریر و تقریر وغیرہ ، سے ہمارے نبیء آخرالزمان (ص) ، یا کسی بھی بنی یا پیغمبر کی شان میں گستاخی کا پہلو نکلتا ہو تو وہ گستاخِ رسول یا شاتمِ رسول گردانا جائے گا ۔
    اور کسی شاتمِ رسول کا پشت پناہ بھی ، یہ صرف میری ذاتی رائے ہے اور امید کرتا ہوں کہ اگر میں غلط ہوں تو صاحبانِ علم میری راہنمائی اور تصحیح فرمائیں گے ، بھی شاتمِ رسول ہی کہلائے گا ۔

    سلمان تاثیر نے جس طرح ایک شاتمہ رسول کی رہائی کے لئے ذاتی دلچسپی لی ، مختلف فورمز پہ ناموسِ رسالت قانون کی مخالفت میں لابننگ کرتا رہا ، حتاکہ اسے تضحیک کا نشانہ بناتا رہا ، اس کی روشنی میں وہ خود بھی گستاخیء رسالت کا مرتکب ہوا ۔ گو عُلماء ِ وقت نے بر وقت کوئی فتویٰ نہ دیا لیکن اس کے قتل کے بعد سے ان کے اب تک کے بیانات اسی بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔

    شعیب صفدر صاحب اگر توہینِ رسالت کے قانون کے مرکزی نکات کو آسان الفاظ میں یہاں نقل کردیں تو یہ واقعی ہم سب پہ احسان ہوگا۔

    آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ ۔

  49. محترمہ عالم آ را صاحبہ ،

    ” کاش ہمارے پیارے نبی کی محبت اور سنت پر عمل واقعئی ہمارے لئے آسان ہو جائے اور ہم اپنی زندگیاں اس محسن انسانیت کی تعلیمات سے خوبصورت بنا لیں ۔ کہ جس سے محبت کی جاتی ہے اس کی ایک ایک روش پر عمل کی کوشش بھی کی جاتی ہے ۔محبت کا مطلب خود کو اپنے پیارے نبی کی سنت پر عمل کرنے والا اور ان کے اسوہ پر سر جھکانے والا ہونا چاہئے “

    ماشاء اللہ ، کتنی خوبصورت بات ہے ، کیا ہی خوب ہو کہ ہم عملی طور پہ بھی اپنے نبی کے سچے پیرو کار بن کر ایک نمونہ پیش کریں کہ جسے دیکھ کر کسی کو ان کی شان میں گستاخی کا حوصلہ ہی نہ ہوسکے ۔

Comments are closed.