چند دن پہلے یہاں جینا شروع کیجئے کے نام سے ایک بلاگ جاری تھا، جہاں ہم لوگ بونگی کے نام پر مختلف تخلیقات لے لے کر حاضر ہو رہے تھے، جس میں کئی بڑے علمی و ادبی جملے پڑھنے کو ملے۔ برا ہو ریمنڈ ڈیوس کا کہ ا س نے توجہات چھین لیں۔ لیکن آج ایک بزرگ سے بات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ عزیزی یہ کیا ہے کہ آپ لوگ ہر وقت سیاست وغیرہ پر ہی لکھتے ہو، اپنی تخلیقات کو محدود مت کرو اور انشاء نگاری، شاعری، علم و ادب، نظم و سخن اور مزاح سمیت سبھی جہات ادب پر توجہ دو۔ سو اس خیال سے پھر سے اس بلاگ کو شروع کیا ہے کہ آپ لوگ اپنی اپنی نگارشات سے یہاں پھر سے ہلکی پھُلکی گفتگو کا آغاز کریں۔ موضوع کچھ بھی نہیں ہے، سو جو بھی علم و ادب کے دائرہ میں ہو، وہ یہاں ضرور لکھئیے۔ یہ صفحات حاضر ہیں۔یہاں آپ اپنی تخلیقات کے علاوہ دیگر لوگوں کی تخلیقات اور اقوال بھی نقل کر سکتے ہیں۔ بس کوشش کریں کہ باتیں غیر سیاسی ہی ہوں۔ چلیں جی بسم اللہ کریں۔

چلیں جی پہلے ہم ہی اپنی تحریر پیش کرتے ہیں:
عنوان:
اس سر کو دیکھا تو سنگ یاد آیا۔۔۔۔!
—————————————-
غالب نے کہا تھا کہ:
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا ……لیکن اپنی بات تھوڑی مختلف ہے اور وہ یوں کہ
اس سر کو دیکھا تو سنگ یاد آیا، ۔
بات یہ ہے کہ آج ڈبو کہ کہانی زرقاء بہن سے سنی تو فورا ہمیں اپنا ڈبو یاد آیا۔ ایک تو ڈبو ڈبو ہوتا ہے، لیکن پھر ہمارے ڈبو میں ایک الگ بات ہے اور وہ یہ کہ ہمارا ڈبو وہ ڈبو ہے جو کہ حقیقت میں ہمارا نہیں ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیا بات ہوئی تو بھئی سیدھی سی بات ہے کہ ہم اسکو اپنا ڈبو اس لئے مانتے ہیں کیونکہ وہ اور کسی کو کاٹے نہ کاٹے، لیکن ہمیں دیکھ کر جب اسکا جی چاہتا ہے وہ بھونکنے کاٹنے کی کی تمام توفیقات کو فوراً بروئے کار لے آتا ہے۔ اس لئے کچھ خاص ہے ہم دونوں کے بیچ!!!!
ہم نے محلہ کمیٹی سے کئی بار اسکی شکایت کی، لیکن جواب یہی ملتا ہے کہ بھائی یہ اس محلے میں آپ کے ساتھ ہی آیا تھا، اس لئے ہم کیسے نکالیں۔ کل ہی میں نے کمیٹی والوں سے کہا کہ اس سے جان چھڑوا دیں تو بولے کہ بھئی اسے گولی ماردو۔ ہم ٹھہرے شریف آدمی، اب گولی کہاں سے لائیں۔ بڑی سوچ بچار سے اسکو ڈسپرین کی ایک گولی گوشت میں ملا کر دے دی، جس سے اسکی طبیعت میں تھوڑا عرصہ سکون سا آ گیا تھا۔ لیکن اصل سکون تو اسی گولی سے سے ملے گا جو روز آٹھ دس بندے سکون سے گرا دیتی ہے۔ کسی کو اگر پتہ ہو تو ہمیں بھی خبر کر دیں کہ یہ گولی کس کے پاس ملے گی۔
ہاں بات ہو رہی تھی کہ کمیٹی سمجتھی ہے کہ ہم اسے ساتھ لائے ہیں۔ قسم سے یہ حقیقت ہے کہ ہم اسے ساتھ نہیں لائے تھے، لیکن صرف اکٹھے ورود کو ساتھ سمجھ لیا گیا ہے۔ حالنکہ ساتھ ہونا اور ساتھ رہنے میں کتنا فرق ہے! اب دیکھیں ناں مشتبہ حضرات جو تھانوں میں رات کاٹتے ہیں تووہ پولیس کے ساتھی تھوڑی ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ایک زمان و مکان میں ہونا ساتھ کی دلیل تھوڑی ہے۔ہم محلے میں اپنی بے مکانی چھپانے آئے تھے، اور یہ نجانے کس چکر میں وارد ہو گیا۔ ورنہ اسکا ہمارا ساتھ کہاں؟ نہ وہ ہماری زبان سمجے نہ ہم اسکی۔ اسکی غذا الگ اور ہماری الگ۔ اسکی ترجیحات الگ اور ہماری الگ۔ اس لئے اسے ہمارا ساتھی سمجھنا ایک زیادتی ہے۔
دوسری طرف دیکھیں کہ بسا اوقات مکان و زمان الگ ہوتے ہیں، لیکن ساتھ پھر بھی نہیں چھوٹتا۔
اب زرقاء بہن کے ڈبو کو ہی لیں، وہ انکے ساتھ نہیں بھی رہا تو بھی انہیں اسکا افسوس ہے، کیونکہ وہ ان کے ساتھ تھا۔ ان کی تخلیقات میں ممد و معاون اور دنیا جہان سے رابطوں کا ایک سبب۔ جبکہ ہمارا ڈبو؟ ہماری تخیلقات کیا، لگتا ہے اسے تو ہماری اپنی ہی خلقت سے چڑھ ہے۔ گھر سے دوکان تک نہیں جانے دیتا، اس لئے ہمارے روابط کو محدود کرنے پر تُلا ہے۔ کئی دفعہ صرف دوکان تک جانے کے لئے پاؤ بھر گوشت اسے بطور بھتہ دینا پڑ جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی محلے دار ہمیں اسکا بہی خواہ سمجھتے ہیں۔ ہم جو جان بچانے کو اسے بھتے دیتے ہیں تو لوگ ہمیں اسکا طرفدار سمجھتے ہیں۔ ہمیں تو بس اب یہ خوف ہے کہ یہ ڈبو ہمارے ساتھ رہتے رہتے ساتھ شمار بھی نہ ہوجائے، اگلے جہان بھی۔ اس لئے اب ہمیں کردار و عمل سے خود کو اس سے الگ ثابت کرنا ہے۔ اس کے لئے ہم ایک سنگ کا سنگ درکار ہے۔
ڈبو حملہ ہر وقت نہیں کرتا۔ اس لئے ہمہ وقت تیار رہنا مشکل ہے۔ شروع شروع میں ہم نے ہاتھ میں ایک سنگ رکھنا شروع کیا بھی تھا، لیکن اس سے ڈبو تو ڈرتا یا نہ، محلے دار ہم سے بچ بچا کر چلنے لگے۔ ایک دن اپنے پیچھے بچوں کی قطار دیکھ کر اندازہ ہوا کہ سنگ ہاتھ میں رکھنے سے بہتر ہے ڈبو سے ہی کٹوا لیا جائے۔ لیکن اب جب کبھی ڈبو سامنے آتا ہے تو اسکا سر دیکھتے ہی ہمیں سنگ ضرور یاد آتا ہے۔ ایک دفعہ تو سوچا کہ اسی ڈبو کو کہتے ہیں کہ یار اپنے لئے ایک سنگ بھی ساتھ رکھ لیا کرو۔
جی مصباح بھائ ،اللہ ان بزرگ کو اور بزرگی عطا کرے جنہوں نے ہم بلا گر ز کے کچھ منہ کا زائقہ بدلنے کے لئے آ پ کو راہ سجھائ ،ورنہ تو میرا پکّا ارادہ بن گیاتھا کہ روحانی شفا خانے پر پیری کی پیڑھی سنبھا ل کر چپ چاپ بیٹھ جاؤن گی
حیرت کی بات ہے تیس بتّس سال کی پیری مریدی پر بھی کسی درخت کے پتّے پر یا کسی اور ہی شے پر میری شبیہ کیوں نہیں آ سکی یہ با ت تو ہما ری نسیم بیٹی بتائے گی کہ کہیں میں بھی کسی دماغی مالیخو لیا کے مرض کا شکار تو نہیں ہو چکی ہوں ،اور اب مجھ کو بھی بغرض علاج سڈنی چلا جانا چاہئے تاکہ میرا بھی زہنی علاج کما حقّہ ہو سکے
چلئے یہ فیصلہ میری مسیحا بیٹی ہی کر سکے گی میں آپ سب کی خدمت میں اپنی ٹامک ٹو ئیاں پٹاری سے کچھ الفاظ پیش کرتی ہوں ،عنوان ہے ایک لفٹ میں ہونے والی ملاقات کا احوال
لفٹ کا دروازہ کھلا
اور دو اجنبی
مسافر و ں کی ملاقات ہوئ
بات اتنی سی ہوئ
آپ کہا ں سے آئے
ساتھ اتنا سا ہوا
لفٹ ر كی
دروا زہ پھر سے کھلا
اور دونوں نے کہا
اچھّا خدا حافظ
دل بھی کیا شے ہے کہ دیوانہ ہوا جاتا ہے
پھر سے ملنے کے لئے ضد سی کئے جاتا ہے
کیسے سمجھاؤں اسے
لوگ ملتے ہیں کہاں
ساتھ نباہنے کے لئے
ختم شد
لو جی ایک اور سلسلہ شروع ہو گیا بونگیوں کا،اوہ،معاف فرمایئے گا بونگیوں کا نہیں ہلکی پھلکی تحریر کا. ویسے حصول علم کی خاطر پوچھوں کیا بونگی مارنا کوئی بہت آسان کام ہے؟ یا پھر بونگی لکھنا کوئی خالہ جی کا ویہڑا ہے. چلو جی نہیں مارتے بونگیاں.فلسفے اور منطق کی باتیں کرتے ہیں. لیکن نہیں یہ اس موضوع کا بلاگ نہیں ہے. چلو فی الحال اسی بات پر بات ختم کرتے ہیں کہ….زرقا مفتی کا ڈبو کچھ ٹھیک ہو گیا اور باقی بھی ٹھیک ہو جائے گا لیکن اپنا ”ڈبو” سوال ہی نہیں ہوتا کہ سدھر جائے اور یہ بات مصباح بھائی بھی جانتے ہیں. کچھ ”ڈبو” ہوتے ہی ایسے ہیں.
مجھ سے کل شب کہہ گئے ابو
ٹھیک نہیں اب ہو گا ڈبو
لکھے گا جسے لکھنا آئے
سجا ہو یا پھر ہو کھبو
مت ڈریئے بیکار میں اتنا
مت بنیئے اب اتنے دبو
صفدر صاحب بہتر ہے یہ
آپ بھی اب بن جایئے ببو
آغا جی دیکھیں ہم نے تو ڈسپرین بھی دے کی دیکھی اور کونین بھی۔ پر اپنا ڈبو جو کسی کا نہیں ابو، یا جسکا نہیں معلوم ابو، ٹھیک ہونے کا نام نہیں لیتا۔
یہ باقی لوگ کہاں ہیں نجانے؟ نگہت آپی، عالم آرا آپا، آصف بھٹی، کیانی صاحب، اظہر نسیم، زرقا مفتی، ظفر جعفری صاحب اور منظور قاضی صاحب۔ بھائی سب آئیں ناں اور تھوڑا تھوڑا منہ کا ذائقہ ہی بدل لیں۔۔۔۔۔ آغا جی لگتا ہے کسی انعام یا ایوارڈ کا علان کرنا پڑے گا۔ چلیں ڈبو ہی انعام میں رکھ دیتے ہیں۔
“جمہوریت کے نام پر” مجید لاہوری
عہدہ و منصب دلا جمہوریت کے نام پر
تخت پر مجھ کو بٹھا جمہوریت کے نام پر
“آیتُ الکرسی” کا کرتا ہوں وظیفہ رات دن
بخش کرسی اے خدا جمہوریت کے نام پر
فاقہ کش لٹتے رہیں، پِٹتے رہیں، مٹتے رہیں
مجھ کو ڈکٹیٹر بنا جمہوریت کے نام پر
بھولی بھالی قوم کوئی اور مل سکتی نہیں
قوم کو الّو بنا جمہوریت کے نام پر
جور و استبداد شاہی دفن زیرِ خاک ہے
جاگ کر اس کو جگا جمہوریت کے نام پر
اے کہ ہے بنگال کا جادو پٹاری میں تری
فتنہء محشر اٹھا جمہوریت کے نام پر
پہلے تو دے آتشِ صوبہ پرستی کو ہوا
تیل پھر اس پر گرا جمہوریت کے نام پر
یہ اگرچہ “شر” ہے لیکن اس میں تیری خیر ہے
پھوٹ کی پھوٹے وبا، جمہوریت کے نام پر
اتحادِ قوم ہے “ڈینجر” برائے اقتدار
قوم کو باہم لڑا جمہوریت کے نام پر
تعرہء تکبیر بھی اچھا ہے لیکن اس کے ساتھ
اور اِک نعرہ لگا جمہوریت کے نام پر
دَور اب بھی دُور ہے سلطانیء جمہور کا
خوب ابھی “گھپلا” چلا جمہوریت کے نام پر
“اسپِ تازی” سر کے بل جو دو قدم چل کر گرا
بڑھ گیا آگے گدھا، جمہوریت کے نام پر
کیا ہوا جمہور کو روٹی اگر ملتی نہیں
تو “ڈنر” اور “لنچ” اڑا ، جمہوریت کے نام پر
التجا ہے تیرے رمضانی کی اے ربَّ ِمجید
اس کو بھی کرسی دلا، جمہوریت کے نام پر
تری شان جِلّ جلالہ۔مجید لاہوری
انہیں تو نے بخشی ہیں کوٹھیاں تری شان جِلّ جلالہ
میں ہوں لالو کھیت میں لامکاں تری شان جِلّ جلالہ
وہ کہ تیرے دین سے دور کا بھی نہیں جنہیں کوئی واسطہ
وہ ہیں تیرے دین کے پاسباں تری شان جِلّ جلالہ
کوئی فاقہ کرکے بھی ہے مگن، کوئی دال بھات پہ مطمئن
ہیں کسی کے پیٹ میں مرغیاں تری شان جِلّ جلالہ
تو یہ جانتا ہے کہ تیرے بندوں نے دہر میں ترے نام پر
وہ ستم کئے ہیں کہ “الاماں” تری شان جِلّ جلالہ
کہیں دورِ جامِ شراب ہے کہیں رقصِ حسن و شباب ہے
کہیں نامرادی ہے نوحہ خواں تری شان جِلّ جلالہ
یہ ترا مجید ترے سوا کہے کس سے درد کا ماجرا
تو ہی غم کی سُنتا ہے داستاں تری شان جِلّ جلالہ
جلوہء ڈالری۔۔۔۔مجید لاہوری
کوئی مولوی ہو کہ پیر ہو، کوئی شیخ ہو کہ ہو چودھری
یہ قتیلِ “غمزہء چرچلی” وہ شہیدِ “جلوہء ڈالری”
نہ اسے خیالِ منسٹری نہ اُسے “جنونِ گورنری”
تری بارگاہ سے مل گئی جسے کوئی “مِل” کوئی “فیکٹری”
یہ خدا کے نام پہ بن گئے جو خدا کے دین کے چودھری
ابھی کل کی بات ہے کر رہے تھے صنم کدے میں “ہری ہری”
یہ سفارشیں، یہ گذارشیں، یہ نمائشیں، یہ نوازشیں
یہ صدارتوں کی گداگری، یہ سفارتوں کی گداگری
نہ ہم اپنی وضع بدل سکے نہ وہ اپنا رنگ بدل سکے
وہی اُن کی شانِ تونگری، وہی اپنی شانِ قلندری
السلام علیکم
کل نیٹ پر ہی ایک لطیفہ نما واقعہ پڑھا اب سب بھی سنیں ۔
تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو
( تحریر ۔ سند باد جہازی )
خواجہ حسن نظامی نے ایک مرتبہ ”منادی ” میں لکھا کہ میں ڈاکٹر اقبال کو ہندوستان کا شاعر اعظم نہیں سمجھتا۔اسی زمانے میں خواجہ صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے پاس فاسفورس کا تیل بھیجا۔ڈاکٹر صاحب کے گھٹنے میں درد تھا،انھوں نے فاسفورس کا تیل استعمال کیا ،درد کم ہو گیا۔انھوں نے خواجہ صاحب کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ آپ نے جو تیل بھیجا تھا میں نے اسے استعمال کیا اور مفید پایا۔ دوسرے دن ”منادی”میں ڈاکٹر صاحب کا یہ خط چھپ گیا۔اس کے ساتھ جلی حروف میں چار کالمی عنوان تھا” فاسفورس کے تیل کے بارے میں ہندوستان کے شاعر اعظم کی رائے”
ڈاکٹر صاحب کو ان باتوں کی پروا نہیں تھی لیکن میں نے ”منادی”کے دونوں پرچے انھیں دکھائے تو ہنس کے کہنے لگے خواجہ صاحب بھی سچے ہیں ۔فاسفورس کا تیل استعمال کرنے سے پہلے میں کچھ نہیں تھا،اس تیل نے مجھے شاعر اعظم بنا دیا
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
( کرنل محمد خان کی تحریر سے اقتباس )
ایئر ہو سٹس
’’ ہر چند کہ اس کے رخ و گیسو پر پی آئی اے کی مفت کریموں اور او ڈی کلونوں کا فیاضانہ چھڑکاوء کیا گیا تھا ،تا ہم وہ بات پیدا نہ ہو سکی جو سماوی ما ہ سیماوءں کا خاصہ ہوتی ہے ۔بجھا بجھا سا ہونہار چہرہ،لحیم گال،سقیم آنکھیں اور ضخیم ہونٹ جن تک مسکراہٹ کی رسائی مونٹ ایورسٹ سر کرنے سے کم نہ تھی اور جن کی وسعت میں لپ سٹک نے تھک ہار کر دم توڑ دیا تھا
کسی دل جلے نے غصے میں آکر ائیر ہوٹس کو براہ راست ڈائن کہہ دیا،جو بہت غلط تو نہ تھا لیکن بہت پارلیمانی بھی نہ تھااس پر ایک نستعلیق سے پولیس افسر برداشت نہ کر سکے تو بپھر کر پچھلی سیٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے پر رعب انداز میں بولے
”ائیر ہو سٹس کو ڈائن کس نے کہا ہے ؟”
ادھر سے اتنا ہی با رعب جوابی سوال آیا
” ڈائن کو ائیر ہو سٹس کس نے کہا ہے ؟”
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
( کرنل محمد خان کی تحریر سے اقتباس )
ہائے میں مر گئی
”بجنگ آمد ”کو شائع ہوئے بہت عرصہ نہیں گزرا تھا کہ راول پنڈی کے ایک معروف ادارے نے ہمارے ساتھ ایک شام منانے کا فیصلہ کیا۔اب پنڈی کی گلیوں میں ہم برسوں سے گھوم رہے ہیں لیکن عام گم نام سپاہیوں کی طرح ۔حلقہء یاراں میں ہماری بزم آرائیاں اپنی جگہ لیکن باہر کی دنیا میں اول تو کوئی ہمیں جانتا ہی نہ تھا اور جو دور سے پہچانتے تھے ،ہمیں بالکل بیبا بلکہ بے زبان سا آدمی سمجھتے تھے لیکن شاید ”بجنگ آمد ”کی رو سے ہماری تاثیر کچھ مختلف تھی ۔ہال میں پہنچ کر حاضرین کی طرف منہ کر کے سٹیج پر بیٹھا ہی تھا کہ پہلی یا دوسری صف کی ایک خاتون کے منہ سے ایک حیرت کے عالم میں پنجابی آواز نکلی جو میرے سمیت کئی دوستوں نے سنی اور جو آج تک کانوں میں گونج رہی ہے ۔محترمہ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا:
” ہائے میں مر گئی ! ایہہ کتاب اس گھگھو نے لکھی اے ۔اُ توں کنا بھولا لگدا سی تے وچوں کنا میسنا نکلیا”
(ترجمہ:ہائے میں مر گئی ! یہ کتاب اس اُلّو نے لکھی بہ ظاہر کس قدر سادہ لوح لگتا تھا اندر سے کس قدر چالاک نکلا”
آصف احمد بھٹی
مصباح بھائی ہمیں آپ کا ڈبو کبھی شر پسند لگا تو کبھی دہشت گرد — اب بھلا دہشت گردی کے لئے کسی ملک کا ہونا یا بدیسی ہونا کوئی ضروری تھوڑی ہے .. کبھی کبھی ہم جنہیں جتنی محبت سے پالتے ہیں وہی خون جلاتے ہیں .. جب دل کرے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں .. یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے میرے مریض ہوتے ہیں .. ان پر بھروسہ کرنا سائیکاٹرسٹ کی سب سے بڑی بھول ..
لیجئے مجھے بھی ایک ڈبو نما مریض یاد آ گیا .. گئے دنوں میں سے کسی ایک دن کی بات ہے میں ڈبو کو ایڈمٹ کرنے کا پروانہ دے کر خود نرسنگ اسٹیشن پر آ کر نوٹس لکھنے میں مصروف ہو گئی .. کچھ ہی دیر بعد مجھے محسوس ہو جیسے کوئی میرے پیچھے بہت ہی قریب ہے .. دیکھا تو جانے کب ڈبو نرسنگ اسٹیشن کو الانگتا ہوا میری کرسی کے پیچھے آ کھڑا ہو تھا .. اور اب سرگوشی میں کہہ رہا ہے “I will kill you doctor” یہ سننا تھا اپنی مسیحائی پر رونا آیا جو ہر ایک پر دل و جاں سے نچھاور ہو جاتی ہے .. اور اب ہم اپنی جاں کیسے بچائیں .. ایک لمحے کو ڈبو کے تیور دیکھ کر دبو بن گئے.. خدایا ..اب کیا کریں..؟
ایک دم ایسے جیسے کوئی آسمان سے فرشتہ اترا اس نے ہمیں سمجھایا کہ پیار سے بات کر .. ڈرو نہیں .. سو ڈبو سے کہا کہ ہم مرنے کو تیار ہیں لیکن مہاراج ڈبو جی کوئی قصور بھی تو ہو .. اور ساتھ ہی اسے مشورہ دیا کہ اچھے بچے سامنے آ کر وار کرتے ہیں .. بیک ڈور سے مارنا کوئی بہادری ہے بھلا .. ڈبو یہ سنتے ہی ہمارے سامنے آ گیا اور مسکرا کر کہا کہ ارے میں تو مذاق کر رہا تھا .. اور ہنسنے لگا .. ایسے جیسے ابھی ابھی کچھ ہوا ہی نہ تھا ..
دل میں سوچا بھلا مارنے مار دینے والا کیا مذاق ہے …اور شاکیانہ سی نظر ڈبو پر ڈالی ..اس نے ہمارے دل کی باتیں شائد جان لی تھیں .. بڑی محبت سے گویا ہوا .. ڈبو پر کبھی اعتبار نہ کرنا چاہے وہ سامنے بھی آ جائے .. .. سو جب سے ہم بھی ڈبو کو دیکھتے وقت اپنی مسیحائی کا ڈبہ آہستہ آہستہ ہی کھولتے ہیں ..جانے کب وار ہو جائے اور ہم مر جائیں …
صاحبو ہمیں تو یہ سمجھ آیا کہ ڈبو کوئی ذات نہیں .. نام نہیں .. ڈبو تو کیفیت ہے جو کسی پر بھی آ سکتی ہے .. …
ہمیں تو یہ سمجھ آیا کہ ڈبو کوئی ذات نہیں .. نام نہیں .. ڈبو تو کیفیت ہے جو کسی پر بھی آ سکتی ہے …..واہ کیا بات ہے اس جملے کی۔
آپ کی بات سے یہ پتہ چلا ہے کہ ہر ایک کا اپنا اپنا ڈبو ہوتا ہے۔۔۔۔خدائے بچائے ان ڈبویات سے۔
لو جی بابا کا ڈبو شائد گوشت ترکاری لینے جا رہا ہے جبھی ڈالری شاعری کر رہا ہے .. دیکھا آپ نے ڈبو ایک کیفیت ہے جو ڈالر پر بھی آتی ہے ..
آصف بھائی مزا ٓ گیا۔ زبر دست۔ واقعی وہ سچی تھی کہ ہائے میں مر گئی، کتنے سیدھے سادھے ڈبو کیسی کیسی تیڑھی کھیر پکاتے ہیں۔
ڈبو کو دیکھ کر ایک شعر یاد آگیا
تم سے مل کر زندہ ہیں
جان بہت شرمندہ ہیں
کسی دل جلے نے غصے میں آکر ائیر ہوٹس کو براہ راست ڈائن کہہ دیا،جو بہت غلط تو نہ تھا لیکن بہت پارلیمانی بھی نہ تھااس پر ایک نستعلیق سے پولیس افسر برداشت نہ کر سکے تو بپھر کر پچھلی سیٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے پر رعب انداز میں بولے
”ائیر ہو سٹس کو ڈائن کس نے کہا ہے ؟”
ادھر سے اتنا ہی با رعب جوابی سوال آیا
” ڈائن کو ائیر ہو سٹس کس نے کہا ہے ؟”
واہ واہ ..مزہ آ گیا ڈائن کا .. اوہ … میرا مطلب ہے ائر ہوسٹس کا ..
آدھا خالی گلاس
ہمیں ایسے لوگ سخت زہر لگتے ہیں جنہیں مثبت سوچنے کا مرض لاحق رہتا ہے .. اب جب گلاس آدھا خالی ہے تو اسے آدھا بھرا ہوا کیسے کہا جا سکتا ہے .. ایسے ہی مثبتی سے ہمارے پروفیسر مائیکل ہیں .. زہر لگتے ہیں .. :فیو چر کنسلٹنٹ کہہ کہہ کر پورے وارڈ کے مریضوں کے اچھے برے فیصلے ہم پر چھوڑ دیتے ہیں .. اور جبکہ مریضوں کے تمام اچھے برے فیصلے کرنے کے سارے پیسے ان کے اکاؤنٹ میں جاتے ہیں .. طرہ یہ کہ میٹینگ میں سب کے سامنے کہتے ہیں کہ ہم جیسا اچھا سیکھنے والا شاگرد کم ہی کسی استاد کو میسر ہوتا ہے .. سب ہمیں رشک سے دیکھتے ہیں اور ہمارا خون کھول جاتا ہے .. دیکھو بھلا پڑھے لکھے لوگوں کے کام نکالنے کے طریقے … توبہ …
جی باجی میں آ گیا
اب ڈبو والی کیفیت طاری ہو چکی ہے اور کچھ ہو ہا کرنے کا دل کر رہا ہے
ویسے ابھی انتظار ہے کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا ڈبو خطاب کرے اور باقی ڈبے بجائیں اور عوام ناچیں ، میں کوئی سیاسی بات تو نہیں کی نا ؟؟؟
مولانا روزانہ صبح سویرے اٹھ کر نماز پڑھنے کے بعد اپنا چہرہ بیگم کو دکھا کر پوچھتے تھے کہ بیگم کیا ہمارے چہرے پر نور آ گیا، اور بیگم بیچاری سر ہلا کر اپنی نہ کو ہاں بنانے کی کوشش کرتیں۔ ایک دن مولانا نے اندھیرے میں تیمم توے کی پچھلی جانب کر لیا اور چہرہ مبارک توے کی سیاہی سے یک رنگ ہو گیا۔ مولوی صاحب نے نماز سے فارغ ہو کر بیگم سے پوچھا کہ نور آ گیا تو اس دن بیگم نے بلا تامل کہا کہ جی آج تو نور گھٹا باندھ کے آیا ہے۔
ویسے پٹھان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی قوم نہیں کیفیت ہے جو کبھی بھی کسی پر طاری ہو سکتی ہے
جی آج تو نور گھٹا باندھ کے آیا ہے .. ہاہاہاہاہاہا ..
باجی ڈبو بننا زیادہ اچھا ہے ، انسان بننا مشکل ہے ، ویسے انسان میں ڈبو میں فرق کیا ہے ، ڈبو اگر انسان کو کاٹے تو انسان کو ٹیکے لگتے ہیں اور اگر انسان ڈبو کو کاٹے تو بریکنگ نیوز تو بن سکتی ہے ، مگر ڈبو کو ٹیکے نہیں لگیں گے ، کیونکہ ڈبو زندہ رہے گا تو نا ۔ ۔ ۔
ویسے ٹیکے کے اوپر یاد آیا ، آج کل میرا دل کر رہا ہے کہ میں عشق کا ٹیکا لگوا لوں بہت دل کر رہا ہے رانجھا بننے کا ، اسکی وجہ ہیر نہیں بلکہ میوزک چیلنج ہے ۔ ۔ ۔ کہ آجکل سب سے زیادہ آمدن اسی میں ہے ۔ ۔۔ ۔ اور عشق کے ٹیکے سے ہی بندہ رانجھا بنتا ہے ۔ ۔ ۔ ویسے تو مججھے ہیر کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ مجھے ہیر کو تلاش کر کہ مار تو نہیں کھانی نا بیگم سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اچھے بھائ سید مصباح حسین سلامت رھیں ڈبویات پر مشتمل یہ شگفتہ تحریریں پڑھ کر آپ سب لوگوں کی خوش طبعی اور زندہ دلی کا خوب اندازہ ھوا۔ اور اتنے افسردہ ماحول میں ھنسی سے محروم چہرے پر مسکراھٹ بھلی لگی ۔
مگر ابھی تو مجھے آپ کے اس انتہائ خوبصورت جملے کی داد دینی ھے
ایک زمان و مکان میں ھونا ساتھہ کی دلیل تھوڑی ھے ۔واہ واہ جی دل خوش ھوگیا ۔ زرقا کے ڈبو نے سب کو اپنے اپنے ڈبوز کی یاد تازہ کرادی ۔
مرزا حاتم علی بیگ مہر کو انکی بہت عزیز شخصیت چنا جان کی وفات پر تعزیت کرتے ھوۓ غالب نے لکھا تھا
سنو صاحب : شعراء میں فردوسی
فقراء میں حسن بصری
عشاق میں مجنوں
یہ تین آدمی تین فن میں سردفتر اور پیشواء ھیں ،شاعر کا کمال یہ ھے کہ فردوسی ھوجاۓ ،فقیرکی انتہاءیہ ھےکہ حسن بصری سے ٹکر کھاۓ ،عاشق کی نمود یہ ھے کہ مجنوں کی ھم طرحی نصیب ھو،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، بھّی مغل بچے بھی غضب ھوتے ھیں
جس پر مرتے ھیں اس کو مار رکھتے ھیں ۔
اور یہی کمال ڈبو کا بھی کہ ڈبو کا ڈسا نہ ادھر کا رھتا ھے نہ ادھر ۔ صرف اور صرف ڈبو کا ھی رھتا ھے ۔ اب دیکھیے ناں نۓ خوبصورت ڈبو کی موجودگی میں بھی ھماری زرقا پرانے ڈبو کے لیے اداس ھیں ، اور یہی اداسی انکی تخلیقات کو کتابی شکل میں لانے کا محرک بنے گی انشا اللہ
رنج سے خوگر ھوا انساں تو مٹ جاتا ھے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھہ پر کہ آساں ھوگیں
شاہین میری دلاری تمہارا لیپ ٹاپ بھی اپنے زمانے کا ڈبو ہی ہے … جانے کب خفا ہو بیٹھے .. مزاج یار کی طرح اندازوں پر چلتا ہے ..
لو جی اظہر آپ کا تو رانجھا بننے کا خیال غالب نے ایک عرصہ پہلے ہی ریجکٹ کر دیا تھا اور اس کی یاد دہانی شاہین نے کر دی ہے .. سنو بنو تو مجنوں ورنہ ڈبو ہی ٹھیک ہے ..
لیجئے اظہر بھائی پاکستان کے ”ڈبو” صدر کی تقریر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔ مملکت خداداد پاکستان کا صدر،اپنی قومی زبان اردو کی بجائے،مری ہوئی انگریزی میں ڈرا سہما ہوا خود سے ہی خطاب کر کے جا چکا۔
تقریر میں زر مبادلہ اور ترقی کے حوالے سے جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ شاید امریکہ یا جرمنی کی ہے
بھائی جان انسان جھوٹ بولے تو خوب ”رج” کر بولے
بابا اگر ہمارے صدر اردو میں تقریر کرتے تو ان کو ووٹ دینے والوں کو سمجھ آ جاتا کہ وہ اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں ووٹ دئے جائیں ۔۔ اب چونکہ خطاب انگریزی میں ہوا ہے سو اس سے اتنا تو ہو گا کہ لوگ کم از کم یہ تو کہیں گے کہ اپنا صدر پڑھا لکھا ہے ۔۔ بس یہی ضروری ہوتا ہے صدر کے لئے کہ چار ایمبیسیڈروں کے لئے انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر پڑھ لے ۔۔ باقی رہا کام تو اللہ کس لئے ہے ۔۔ وہ جانے اور اس کا ملک جانے ۔۔ قائد اعظم نے کیا صدر زرداری سے پوچھ کر پاکستان بنایا تھا ۔۔ علامہ اقبال نے کیا زرداری سے پوچھ کر خواب دیکھا تھا ۔۔ نہیں نہ ۔۔ تو پھر صدر زرداری کا مسلہ تو نہیں ہے نہ کہ پاکستان کیسے چلے گا ۔۔ آپ لوگ بھی نہ خود خوش ہوتے اور نہ کسی کو دیکھ سکتے ہیں ۔۔
میری بہت عزیز اور بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ذرا آھستہ بولو،،، کہ ھمارے ڈبو کے کان اور ناک بھی ھے جو ھمارے خود پسند ڈبو نے سن لیا تو بس قیامت کبری سے قبل قیامت صغراء آجاۓ گی ھم کسی سے نیہن ڈرتے مگر بگڑے شاھی مزاج والے ڈبو سے بہت ڈرتے ھیں ، اور اظہر بھائ کو رانجھے کا بے وقت خیال کیوں آگیا ھے ، اب تو اصلی رانجھے بھی اس خیال سے توبہ کرتے ھیں ، کیا اظہر بھائ ڈبو سے نیہن ڈرتے؟
،سلامت رہو،خو ش رہو،ساتھیوں ،نگہت بیٹی صبح صبح قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا ،علّامہ اقبال نے کیا زرداری سے پوچھ کر خواب دیکھا تھا ۔۔۔نہیں نہ۔۔۔تو پھر زردا ری کامسلہ تو نہیں ہے نہ کہ پاکستان کیسے چلے گا ،،،آپ لوگ بھی نہ خود خوش ہوتے ہیں نہ کسی کو دیکھ سکتے ہیں ،،،
ہاہا۔۔۔ہاہا۔۔ہاہا۔۔ہاہاہ
پاکستان کیسے چلے گا یہ صرف عوام کا مسلہ ہے ،زرداری کو تو سرے محل میں جا کر بیٹھنا ہے
بابا آپ بھی نہ ۔۔ چین ، روس ، ایران کوئی پڑھے لکھے ہیں جو انگریزی میں تقریر کریں ۔۔ آنکھیں کھولیں ملتان آ گیا ہے ۔۔۔۔ رائے ونڈ میں “ ن لیک “ بن گئی ۔۔ مسلم لیگی تک “ ہم خیال “ ہو گئے ۔۔ مسلمان ترقی کر کے دہشت گر دبن گئے ۔۔زرداری نے انگریزی سیکھ لی ۔۔ قسم سے نہیں بدلے تو آپ لوگ ۔۔وہی قومیت کا رونا ۔۔ وہی سوچنے کا بہانہ ۔۔۔۔آپ لوگ مجھے ڈیپریشن میں لگ رہے ہیں ۔۔ لگتا ہے اللہ نے میری سن لی مجھے بہت سارے مریض ملنے والے ہیں ۔۔ او مائی گوڈ ۔۔ کوئی اپنی فیس گھر بھول کر نہ آئے ۔۔ رکیں میں زرا زرداری کو “ تھینکس کا کارڈ “ بھیج دوں ۔۔ اور یہ بھی لکھ دوں کہ جب عوام سکھی ہو جائیں تو صدر کو ڈیپریشن ہو سکتی ہے اس لئے کوشش کرے کہ ڈیپریشن جیسی موزی مرض سے دور رہے اور اپنی بلا عوام کے سر ٹالتا رہے ۔۔
اظہر میرے ویر اسی کو کہتے ہیں “سانوں کی “ ۔۔۔ اور یہ بھی کہ “سانوں کی “ ۔۔ یعنی ادائے بے نیازی ۔۔ اس ادا کی یہی خوبی ہے کہ وہ سب سے بے نیازی سکھاتی ہے ۔۔ سو تسی وی من جاؤ ۔۔ کندھے اچکاؤ ۔۔ زرا سا منہہ بناؤ ۔۔ اور کہہ دو “ سانوں کی “ ۔۔ پھر دیکھو کیسا افاقہ ہوتا ہے ۔۔۔ یقین کر سارے بڑے لوگ یہی کرتے ہیں ۔۔ اوباما کی ٹریننگ اسی بات کی تو ہوئی ہے کہ کوئی بھی بات ہو چاہے دنیا بھوک جنگ میں ختم ہو رہی ہو تم نے “ سانوں کی “ ہی کہنا ہے ۔۔۔ دیکھو اسے کیسے کندھے اچکائے ہر جگہ یہی کہتا نظر آتا ہے ۔۔ آج زرداری نے کہہ دیا تو کیا ہوا ۔۔ ساڈاں صدر کوئی اوبامے سے کم ہے جی ۔۔
لیجئے صاحب مصباح بھائ نے ہلکی پلھکی گفتگو کو کیا کہا ھمارے صدر صاحب نے فورا عمل کر دیکھایا کوئ اور کرے یا نہ کرے انھوں نے عوام پریشان نہ ھوں کوئ مسلہء اٹھایا ھی نہیں ھاں کچھ باتوں کا اعادہ ضرور کر لیا جیسے دہشت گردی نمٹا جائے گا وغیرہ
دیکھا صدر نے سب کو سیاسی باتوں پر لگا دیا
ایک بار کسی مشاعرے میں ایک نو آ موز شاعر وزن سے آزاد اور ردیف قافیئے سے بے نیاز بے تکی سی غزل سنا رہا تھا ۔ جو ش ملیح آ بادی داد کے ڈونگرے بر سا رہے تھے۔
تھو ڑی دیر تک تو گو پی ناتھ امن بر داشت کرتے رہے پھر ان سے نہ رہا گیا
اور انہوں نے حیرانی سے پوچھا:
جوش صاحب یہ کیا کر رہے ہیں۔
جوش نے بر جستہ جواب دیا:
منافقت۔
وہ تو تھے جوش جو کہہ کر منافقت کر رہے تھے
ھمارے ملک کی اسمبلی کے ممران نے اور خود وزیرِ اعظم نے آج جو منافقت کی اس کی بھی مثال ملنی مشکل ہے ؟؟؟؟؟؟
جوش ملیح آبادی سے یاد آیا اکبر الہٰ آبادی بھی کمال کے شاعر تھے اور بہترین نقاد بھی تھے مگر کبھی کبھی بازی الٹ بھی جاتی ہے
ایک مرتبہ اکبر صاحب بازار جارہے تھے کچھ خواتین نظر آیئں جو بے پردہ تھیں
ان خواتین نے جو جواب پرجستہ دیا اس کو اکبر صاحب نے اس طرح بیان کیا
بے پردہ نظر آیئں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا
اک شعر :
ای میل بھیجا امن کا پیغام سمجھ کر
اس نے ڈیلیٹ کردیا اسپام سمجھ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور شعر :
اور بھی دکھ ہیں زمانےمیںبلاگوں کے سوا
راگ کچھ اور بھی ہیں بے سُرے راگوں کے سوا
ہائے میرا ڈبو!!!!!!!!!
اسلام علیکم پیارے بھائیو اور بہت عزیز بہنوں اللہ آپ سب کو خوش و خرم رکھے اور آپ سب کھلکھلاتے رہیں آمین
کیا کروں آج دل بہت اُداس ہے کہ آج میری پاک کتاب کی بے حرمتی کی گئی امریکہ میں جس کے ایک قاتل کو ہم نے اسی کتاب کے قانون کا حوالہ دے کر معاف کیا تھا اور اس کی جان بخشی کی تھی ۔
بتاؤ کس طرح ہنسوں اور کس طرح اس دُکھ پر آنسو روکوں ، مگر ذندگی یہ ہی ہے شاید کہ غم اور خوشی ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ اس لئے ایک بہت ہی خوبصورت نظم مجھے میری ایک عزیز دوست نے بھیجی آپ سب کے لئے حاضر ہے معزرت کے ساتھ کہ میں نے بونگیوں میں تھوڑا سا خلل ڈال دیا ۔آج میں نے بھی ہمت باندھی تھی کہ زبردست قسم کی بونگی لکھونگی ،مگر افسوس ایک تو اپنی پارلیمنٹ میں فرنگی زبان کے خطاب نے منہ کا مزہ کڑوا کردیا اور پھر اس خبر نے رہا سہا چین چھین لیا خیر چلیں لیجئے یہ نظم پڑھیں
تونے جس وقت یہ انسان بنایا یا رب
اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یارب
اس لئے میں نے نہ سر اپنا جھکایا یا رب
لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یارب
عقل مندی ہے اسی میں کہ اب توبہ کر لون
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
ابتداََ تھی بڑی نرم طبیعت اس کی
قلب و جان پاک تھے شفاف تھی طینت اس کی
پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پہ مُسلط ہے شرارت اس کی
اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں
ایک ایک سانس ہے اب صورت شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں
اپنا آتش کد ءہ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
اب تو یہ خون کے رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے بھائی سے بیٹوں سے بھی لڑ جاتا ہے
جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے
خود مرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے
اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کم تر
مجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کترتا ہے یہ لیڈر بن کر
شیطنیت چھوڑ کر میں بھی یہ ہی دھندا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
اب جھجکتا ہے نہ ڈرتا ہے نہ شرماتا ہے
نت نئی فتنہ گری روز یہ دکھلاتا ہے
اب یہ ظالم میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں برا سوچتا رہتا ہوں یہ کر جاتا ہے
کیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
اب جگہ کوئی نہیں میرے لئے دھرتی پر
میرے شر سے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شر
اب تو لگتا ہے یہ ہی فیصلہ مجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سوپر پاور
میں کسی اور ہی سیارے پہ قبضہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نت نئے پیچ عقائد میں بھی ڈالے اس نے
کر دئے قید اندھیروں میں اُجالے اس نے
کام جتنے تھے مرے سارے سنبھالے اس نے
اب تو خود کو میں ہر اک بوجھ سے ہلکا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
استقامت تھی کبھی اس کی مصیبت مجھ کو
اپنے ڈھب پر اسے لانا تھا قیامت مجھ کو
کرنی پڑتی تھی بہت اس پہ مشقت مجھ کو
اب یہ عالم ہے کہ دن رات ہے فرصت مجھ کو
اب کہیں گوشہ نشینی میں گزارہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
مست تھا میں تیرے انسان کی حقارت کر کے
خود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کر کے
کیا ملا مجھ کو مگر ایسی حماقت کر کے
کیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کر لوں
اپنے کھوئے ہوئے رتبے کی تمنا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
یہ سید طالب خوند صاحب کی کاوش ہے جو مجھے میری بہت پیاری دوست نے پڑھنے کے لئے بھیجی ۔مجھے پتہ ہے کہ یہ یہاں اس بلاگ کے لئے بالکل مناسب نہیں ہے مگر کبھی کبھی بونگی حقیقت بھی ہوتی ہے اسے بونگی ہی سمجھ لیں ۔ اگر کچھ بارِ خاطر ہو تو در گزر کی استدعا ۔
آج کیا دعا دوں سوائے اس کے کہ ان بونگیوں میں سے بھی اللہ ہمیں کچھ اچھا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور دکھوں کو ہم سے دور کر دے آمین
دعاؤں کی طالب
عالم آرا
میں تمام قارئین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عالمی اخبار کی ایک بہترین ادیبہ ثمرین بخاری صاحبہ کے ایم اے پارٹ 1 کے امتحان میں کامیابی کےلیے دعا کریں۔:
انکے یہ الفاظ عالمی اخبار کے ایک بلاگ میں موجود ہیں :
“جی میرے ایم .اے پارٹ 1 کے امتحان ہیں .
دُعا میں یاد رکھیئے گا پلیز.
طالب دُعا
ثمرین بخاری“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ :
میرا مشاہدہ بھی ہے اور تجربہ بھی کی دعاوں میں تاثیر ہوا کرتی ہے۔
عالم آرا آپاء سلام مسنون۔ یہ نظم آپ نے بہت بر محل پیش کی ہے۔ طالب خوند میری صاحب سے نظم ہمیں براہ راست سننے کا موقع بھی ملا اور مشاعرے میں لوگ ہر دفعہ ہی ان سے اسکی فرمائیش کرتے ہیں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ثمرین بخاری صاحبہ کو زندگی ہے ہر امتحان میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین بجاہ محمدٍ و آلہ الطاہرین
ڈاکٹر صاحبہ ، آپ کے ’ سانوں کی ‘ سے یاد آیا کہ ایک برطانیہ پلٹ میراثی بال کٹوانے حجام کے رحم و کرم پہ بیٹھا تھا اور اردو میں انگریزی بولتے ہوئے اسے ہدایات دے رہا تھا ۔ گلابی انگریزی سے اکتائے باربر ، بابر اعوان نہیں ، نے موضوع بدلنے کی خاطر کہہ دیا کہ صاحب جی سنا ہے آج ڈبو کی تقریر ہے ۔ میراثی فوراً بولا ’ سانوں کی ‘ ۔ باربر نے کہا لیکن صاحب جی سنا ہے ڈبو اردو میں انگریزی بولے گا ۔ میراثی بولا ’ تے فیر تہانوں کی ‘۔
۔۔۔۔۔
کہتے ہیں صدر زرداری کا کانوائے گذرتے ہوئے ایک اصلی ڈبو گاڑی کے نیچے آگیا ۔ صدر صاحب جلدی میں تھے لہذا گذر گئے ۔ ایوانِ صدر پہنچ کر انہوں نے اپنے سٹاف افسر کو حکم دیا کہ ڈبو کے مالک کو ہرجانہ بھجوا دیا جائے ۔ اب ہر کوئی ڈر رہا تھا کہ یہ نہ ہو کہ ڈبو کا مالک ہرجانہ لے کے جانے والے پہ پہلے ہی حملہ کردے ۔ ایک خان صاحب کو اپنی دلیری پہ بڑا ناز تھا ۔ فوراً حامی بھر لی کہ ہرجانہ وہ جاکر ادا کر آئیں گے ۔ خان صاحب کی واپسی میں کچھ دیر ہوگئی تو سارا سٹاف فکر مند ہوگیا ۔ ابھی ان کے لئے گارڈ بھیجنے کی تیاری ہورہی تھی کہ خان صاحب ہاروں سے لدے واپس آپہنچے ۔ سب کو بڑی حیرت ہوئی ۔ خان صاحب سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے۔ خان صاحب گویا ہوئے ، ہم جیسے اُدھر گیا ، ہم نے بولا کہ خوچہ ہم زرداری کا ڈریور ہے ، خوچہ کتا گاڑی کے نیچے آگیا ہے۔۔۔۔خوچہ ہمارا بات پورا بھی نئیں ہوا کہ اُدھر کا لوگ ہار لے کر ہمارے گلے میں ڈالتا گیا۔۔۔ڈالتا گیا ۔۔۔۔ڈالتا گیا ۔
واہ جی واہ کیانی صاحب۔ کیا بات ہے ڈبو کی۔ ہر ایک کا ڈبو اپنا اپنا۔
اسلام علیکم ساتھیو
وعلیکم اسلام جیتے رہئے بھائی مصباح حسین یقیناَ، اس نظم کو سننے کا مزہ ہی کچھ اور ہوگا ۔
بہن ثمرین بخاری کے لئے کامیابی کی د عا کرتی ہو ں ۔
اللہ تعالیٰ سب امتحان دینے والوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے آمین
ایک شخص سے کسی نے اُس کی خوشی کا راز پوچھا ۔کہنے لگا جب سے میں نے کان ،آنکھیں اور زبان بند کی ہے سکون ہی سکون ہے ، اب کچھ بھی ہوتا رہے میری بلا سے ، وہ شخص بہت خوش ہوا کہنے لگا یہ تو بہت آسان نسخہ ہے ۔اپنے سب ساتھیوں کو بتا ؤنگا ، کچھ ہی عرصے میں خوش رہنے والوں میں بہت اضافہ ہو گیا تھا ،سب اپنے اپنے ڈبو کی رسی پکڑے ہنستے پھر رہے تھے ۔
اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین
عالم آرا
کہتے ہیں فوج میں موج ہے ۔ فوجی جہاں جائیں جنگل میں منگل کر دیتے ہیں ، جنگل کے علاوہ کہیں دل نہیں لگتا اور منگل کے علاوہ کوئی دن نہیں بھاتا شاید ’ منگل سُوتر ‘ کی وجہ سے ۔ فوج میں پوسٹنگز کا ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ اچھے سٹیشن کے بعد کسی دور دراز جگہہ بھیج دیا جاتا ہے ۔ دورانِ سروس میری پوسٹنگ اسلام آباد سے بہاولپور ہوئی ۔ بٹالین کی ایک کمپنی ڈیرہ نواب صاحب ( احمد پور شرقیہ ) میں تھی ۔ مجھے وہاں کا کمپنی کمانڈر بنا کر بھیج دیا گیا ۔ ڈیرہ نواب صاحب کے حُسن کا اندازہ یہاں سے کر لیں کہ ویک اینڈ پہ اگر دل بہلانے کبھی بہاولپور آ جاتے تو شہر میں داخل ہوتے ہی میرا چہیتا بیٹا فہد ، جسے ہم باتونی ہونے کی بنا پہ پیار سے بَٹ صاحب بھی کہا کرتے تھے ، شکرانے کا سانس لیتے ہوئے اپنی توتلی زبان میں کہتا ، ” شُکڑ ہے ڈیڑُو نوابُو شاحبُو سے جان چھوٹی“ ۔
دورانِ ہفتہ وہاں سے روزانہ ایک ٹرک بہاولپور آتا جو لوکل ویلفیئر شاپ کے لئے چیزیں خرید کے لاتا ۔ مختلف فیملیز اپنی اشیائے ضروریہ کی لسٹ بھی دے دیتیں جو سٹاف خرید کر لاتا ، جنھیں ہر ایک کے ’ بیٹمین ‘ آکر وصول کر لیتے ۔ بیگم صاحہ نے ایک دفعہ پیزا کا آرڈر دیا ۔ شام کو ٹرک کی واپسی کے وقت اپنے بیٹمین ، منظور گُل کو بھیجا کہ منظور گُل ٹرک والے سٹاف سے اپنا پیزا لے آؤ ۔ منظور گُل کوئی آدھ گھنٹہ بعد رونی صورت لئے واپس لوٹا اور آتے ہی خوشخبری سنائی ، باجی وہ فلم نہیں ملی ۔ پوچھا ، منظور گُل کس فلم کی بات کر رہے ہو ؟ منظور گُل بڑی معصومیت سے بولا ، باجی وہ پاکیزہ فلم جو آپ نے لینے بھیجا تھا ۔
السلام علیکم
اب تو ہم بہت مصلحت پسند ہو گئے ہیں معمولی سے معمولی بات پر دسیوں مرتبہ سوچتے ہیں مگربہت سال پہلے جب میں اسکول میں تھا تب طبیعت کچھ کھلنڈری سی تھی میں شرارتی تو کبھی نہیں رہا مگر بیوقوفی کی حد تک دلیر یا تجسس پسند تھا ( حالانکہ اب اِن خامیوں پر میں نے قابو پالیا ہے ) اکثر ایسی ایسی حرکتیں کر جاتا تھا کہ بعد میں خود بھی حیران ہوتا تھا ، ہماری والدہ صاحبہ بلکل انپڑھ ہیں نہ ہی وہ قرآن پڑھی ہیں بیچ میں ایک بار کوشش کی تھی مگر پھر جانے کیوں چھوڑ دیا ، مگر اپنی کم علمی بلکہ لا علمی کے باوجود اُن کی کوشش ہمیشہ یہ ہی رہی کہ ہم بھائی بہن کچھ پڑھ لکھ جائیں ، مجھ پر خصوصا ( کہ میں سب سے بڑا ہوں ) کچھ زیادہ ہی نظر رہتی تھی میری عمر اُس وقت تقریبا تیرہ چودا سال تھی کہ شب رات کے رات والدہ صاحبہ نے مجھے محلے کے باقی لڑکوں کے ساتھ قیام لیل کے لیے مسجد بھیجا ، ہم لوگ آدھی رات تک تو مسجد میں نوافل ادا کرتے رہے پھر ایک ایک کر کے نکل آئے اور گلی کے نکڑ پر بنے تھڑے پر بیٹھ کر گپیں لگانے لگے ہمارے علاقے کو دو قبرستان لگتے ہیں ایک ہمارے شمال مین ہے اور دوسرا جنوب میں دونوں قبرستان ہم سے دو ڈھائی کلو میٹر دور ہیں شمالی قبرستان قدرے چھوٹا ہے اور ابھی اُس میں مزید قبروں کی کافی جگہ تھی اِس لیے زیادہ تر لوگ اپنے مردے وہیں دفناتے تھے جبکہ جنوبی قبرستان بہت پرانا اور بڑا ہے اور کافی عرصے سے بند ہے ہم سب بڑے قبرستان کی طرف چل پڑے ہم آٹھ لڑکے تھے اور دو دو کی ٹولیون میں آگے پیچھے چل رہے تھے میں اور میرا سواتی ( ولی محمد ) دوست سب سے پیچھے تھے پختہ سڑک قبرستان کے درمیان سے گزرتی ہے اور دونوں طرف قبریں ہے اُس روز بہترین چاندنی رات تھے اور سڑک پر لگے کھمبوں کے سب بلب بھی سلامت تھے ، قبرستان کے بیچوں بیچ لب سڑک ایک چھوٹا سا مزار بھی ہے جس کے باہر پانی کی ایک سبیل بھی ہے ہم لوگ مزار کے باہر بیٹھ کر پانی پینے لگے میرا سواتی دوست کچھ مذہبی سا تھا وہ اور میں اُٹھ کر مزار اور دوسری قبروں پر فاتحہ خوانی کرنے لگے باقی اُٹھ کر یونہی ٹہلنے لگے ، اچانک وہ سب چیخنے لگے اور قبرستان سے باہر کی طرف بھاگنے لگے ہم دونوں حیران و پریشان ہو گئے میں نے لپک کر سب سے پیچھے والے لڑکے کو پکڑ لیا اور اُس سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ وہ ایک طرف اشارہ کر کے کہنے لگا ، وہاں ایک بہت بڑی قبر ٹوٹی ہوئی ہے اور اُس میں سے دھواں نکل رہا ہے ، اور خود کو مجھ سے زبردستی چھڑا کر باہر کی طرف بھاگ گیا ، میرا دوست کہنے لگا کہ کوئی چرسی بیٹھا چرس پی رہا ہوگا یہ لوگ یونہی ڈر گئے ہیں ، میں نے کہا چلو دیکھتے ہیں ، قبرستان میں کیکر کی بہتات تھی ہم نے دو بڑی بڑی جھاڑیاں توڑ لیں اور دونوں اُس سمت چلے گئے دور سے ہی ہمیں ایک قبر کے پیچھے سے دُھواں اُٹھتا نظر آیا ہم قریب گئے تو دیکھا کہ قبر کے بلکل پاس ایک بہت بڑا گڑھا تھا جو لمبائی اور چوڑائی میں تین قبروں کے برابر تھا ، دھواں اُس میں سے نکل رہا تھا کچھ دیر تو ہم لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر مین نے آگے بڑھ کر گڑھے میں جھانکا میرا دوست بھی پاس آگیا ، وہ ایک ادھیڑ عمر عورت تھی انتہائی کالی سیاہ اور بد شکل اُس نے ایک دم کالے سیاہ کپڑے پہنے ہوئے تھے اور قبر کے مردے ( ڈھانچے ) کے ساتھ آنکھیں بند کئے لیٹی ہوئی تھی اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ رہی تھی اُس کے پیروں میں مٹی کی ہنڈیاں دبی ہوئی تھے جس میں کوئلے جل رہے تھے اور انتہائی بدبودار دھواں نکل رہا تھا اُسے ہمارا بلکل بھی پتہ نہیں چلا وہ یونہی عجیب عجیب الفاظ بولتی جا رہی تھی ، ہم لوگ گڑھے کے کنارے بیٹھ گئے میں نے جھک کر اُسے اپنے ہاتھ میں پکڑی جھاڑی سے ٹہوکا دیا اُس نے آنکھیں کھولی اور ہمیں دیکھ کر ایسی دہشت ناک چیخ ماری کے ہم دونوں بھی ڈر گئے اور گھبرا کر پیچھے ہو گئے وہ ایک جھٹکے سے اُٹھی اور گیند کی طرح اچھل کر گڑھے سے باہر آئی ہمارے سنبھلنے تک وہ ایک طرف دوڑ لگا چکی تھی ہم بھی اُس کے پیچھے دوڑے مگر وہ ایسے بھاگ رہی تھی کہ جیسے اُس کے پیر زمین پر ہی نہ لگ رہے ہوں وہ چیختی جا رہی تھی اور بھاگتی جا رہی تھی دو منٹ میں ہی وہ ہماری نظروں سے اُوجھل ہو گئی قبرستان کے باہر کھڑے ہمارے دوست بھی ڈر گئے قریبی آبادی کے بھی کئی لوگ گھروں سے نکل آئے ہم دونوں باہر نکلے تو اچھا خاصا مجمع اگھٹا ہو گیا تھا ہم نے اُنہیں ساری بات بتائی سب لوگ ہمارے ساتھ قبرستان میں آئے ہنڈیاں اب بھی گڑھے نما قبر میں اُلٹی پڑی تھی اگلے دن لوگوں نے اُس گمنام قبر کو پھر سے بند کیا ، اُس کے بعد امی نے مجھے کئی دن تک گھر سے نکلنے نہیں دیا ۔
آصف احمد بھٹی
اللہ کریم ثمرین کو ہر امتحان میں کامیاب کرے ..آمین
السلام علیکم
عمر گل نے کرس گیل کو شاہد آفریدی کے ہاتھوں کیچ کروا کر اور محمد حفیظ نے سمیتھ اور براؤو کو ایل بی ڈبلیو کروا کر پویلن بھیج دیا ہے ، ویسٹ انڈیز 19 پر تین ،اور دس آورز کا کھیل ہو چکا ۔ کیوں ۔ کیسا ؟
ایسے ہی ۔ پھر سے جینا شروع کریں ۔
آصف احمد بھٹی
آصف بھائی آپ نے گفتگو کو ایک اچھا موڑ دیا ہے۔ یہ جادو ٹونے والے لوگ مردوں کے ساتھ اور ویرانوں میں اسطرح کے شیطانی عملیات کرتے ہیں، اور اکثر لوگ اپنی سادہ دلی سے اس کو حقیقی بد روح مان لیتے ہیں۔ تاہم جو لوگ جادو ٹونے اور سفلی عملیات کی شوقین ہیں، وہ واقعی جیتی جاگتی بد روحیں ہیں۔ جو شیطانی ارواح ان سفلی عاملین کے پاس حاضر ہوتی ہیں وہ بھی بد روحیں ہی ہوتی ہیں۔ تاہم اہل ایمان کو اللہ کی اعانت خاص حاصل ہوتی ہے اس لئے یہ بدروحیں خاص نقصان تو نہیں پہنچا سکتیں۔ تاہم جادو ٹونے کے اثرات نیک و بد سبھی کو متاثر کرتے ہیں، جن سے بچاؤ کے لئے آیت الکرسی الٰی ھم فیھا خالدون، اور قل ھائے شریف خصوصاً سورہ فلق کا ورد تواتر سے کرنا چاہیئے۔
السلام علیکم
محترمین محفل ، آپ سب کو میری طرف سے پاکستان کی آج کی جیت بہت بہت مبارک ہو ، آفریدی الیون نے قوم کو یوم پاکستان پر ایک بہترین تحفہ دیا ہے ، کامران اکمل اور محمد حفیظ نے نہایت ہی شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور اُس سے پہلے خود آفریدی ، عمر گل ، عبدالرزاق ، وہاب ریاض ، اور سعید اجمل نے بھی شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا ، اور سچ مچ امن کا چھکا لگا دیا ، آپ سب کو ایک بار پھر پاکستانی ٹیم کا سیمی فائنل مین پہچنا مبارک ہو ، مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان شاید دُنیا کی وہ واحد ٹیم ہے جو چھٹی بار سیمی فائنل کھیلے گی ۔ آفریدی الیون زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد
آصف احمد بھٹی