پھر سے جینا شروع کریں۔۔۔!

چند دن پہلے یہاں جینا شروع کیجئے کے نام سے ایک بلاگ جاری تھا، جہاں ہم لوگ بونگی کے نام پر مختلف تخلیقات لے لے کر حاضر ہو رہے تھے، جس میں کئی بڑے علمی و ادبی جملے پڑھنے کو ملے۔ برا ہو ریمنڈ ڈیوس کا کہ ا س نے توجہات چھین لیں۔ لیکن آج ایک بزرگ سے بات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ عزیزی یہ کیا ہے کہ آپ لوگ ہر وقت سیاست وغیرہ پر ہی لکھتے ہو، اپنی تخلیقات کو محدود مت کرو اور انشاء نگاری، شاعری، علم و ادب، نظم و سخن اور مزاح سمیت سبھی جہات ادب پر توجہ دو۔ سو اس خیال سے پھر سے اس بلاگ کو شروع کیا ہے کہ آپ لوگ اپنی اپنی نگارشات سے یہاں پھر سے ہلکی پھُلکی گفتگو کا آغاز کریں۔ موضوع کچھ بھی نہیں ہے، سو جو بھی علم و ادب کے دائرہ میں ہو، وہ یہاں ضرور لکھئیے۔ یہ صفحات حاضر ہیں۔یہاں آپ اپنی تخلیقات کے علاوہ دیگر لوگوں کی تخلیقات اور اقوال بھی نقل کر سکتے ہیں۔ بس کوشش کریں کہ باتیں غیر سیاسی ہی ہوں۔ چلیں جی بسم اللہ کریں۔

73 thoughts on “پھر سے جینا شروع کریں۔۔۔!”

  1. اسلام علیکم
    پاکستان کی جیت سب کو مبارک ہو ۔
    جادو ٹونے ٹوٹکے یہ سب اسلام سے خارج کر دیتے ہیں ۔ان کا محرک ہمیشہ جلن حسد اور کینہ ہوتا ہے ۔اور زیادہ تر جہالت ۔
    مگر یہ ھقیقت ہے کہ بہت لوگ ان قبیہ حرکتون کا شکار ہیں اور ان پر عامل بھی ہیں ۔ ا للہ سب کو ایسے شری اور فسادی لوگوں سے اپنی امان میں رکھے ۔
    دعاؤں کی طالب
    عالم آرا

  2. السلام علیکم
    آج کل تو میں اپنے آفس میں واپس آگیا ہوں شاید اگلے ہفتے پھر کچھ دنون کے لیے وآپس صحرا میں جانا پڑے ، دو تین ہفتے پہلے جب میں سائٹ پر ہی تھا ، جس کے بارے میں میں آپ سب کو پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ سعودی عرب اور کویت کا ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں ایک ٹاؤن بنایا جا رہا ہے یہ سارا علاقہ صحرا پر مشتمل ہے اور سامنے سمندر ہے شہر سے کافی دور ہے اور ابھی ہر قسم کے زرایع مواصلات محروم ہے ، شہر سو بہت دور ہونے اور روز آنے جانے کی سہولت نہ ہونے کے سبب لیے ہماری رہائش وہیں پر ہوتی ہے ، اُس پروجیکٹ پر مختلف کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ہر ایک کمپنی کا اپنا رہائشی کیمپ ہیں ، ہمارے آفس میں پچھلے دس سال سے میں اکیلا پاکستانی ہوں بلکہ مجھے سے پہلے بھی یعنی جب سے یہ کمپنی ( جو کہ اب ایک بڑا بزنس گروپ بن چکا ہے ) بنی ہے یعنی تیس بتیس سال سے جانے کیوں میرے علاوہ کسی پاکستانی نے یہ غلطی نہیں کی ، مختلف عرب ممالک کے افراد اور انڈینز ہی ہمیشہ سے اِس گروپ کا حصہ رہے ہیں ، ہاں تو میں بات کر رہا تھا کہ دو تین ہفتے پہلے یہاں کویت میں کچھ بارشیں ہوئی تھی جس کے بعد صحرا میں کسی کسی جگہ قدرتی جڑی بوٹیاں ، جھاڑ جھنکاراور گھاس نکل آیا تھا ، ہمارے کیمپ کے سامنے بھی کافی ساری گھاس اُگ آئی تھی ، ایک روز میں ڈیوٹی سے وآپس آیا تو ایک مسلمان انڈین نوجوان سُپروائزر جو کہ کیمپ کے سامنے آُگ آنے والی گھاس پر چہل قدمی کرتا نظر آیا ، میں اُسے ہائے ہیلو کرتا ہوا اپنے کیپن مین آگیا اور باتھ روم میں گھس کر شاور لینے لگا ابھی شاور لے ہی رہا تھا کہ باہر سے کسی کے چیخنے کی آواز آئی کوئی سانپ سانپ چیخ رہا تھا میں نے فورا کپڑے پہنے اور باہر نکلا تو دیکھا کہ وہی انڈین سپر وائزر زمین پر لوٹ پھوٹ رہا تھا اور دو تین انڈین پاس کھڑے اُسے دیکھ رہے ہیں مین نے وہیں سے پوچھا کیا ہوا ، ایک بولا بھیا اِسے سانپ کاٹ گیا ہے میں فورا نیچے اُترا تو دیکھا کہ وہ اپنا پاؤں پکڑے بیٹھا ہے اُس کی حالت بہت خراب لگ رہی تھی میں اُسے دیکھ کر ڈر گیا ، مین نے پوچھا کہاں کاٹا ہے تو وہ پیر میرے سامنے کرنے لگا انگوٹھے سے تھوڑا سا خون نکل رہا تھا مگر نشان دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ سانپ کے کاٹے کا نشان نہیں تھا کہ سانپ جہاں کاٹتا ہے وہاں دو دانتوں کے نشان ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو سانپ کا کوئی دانت اندر ہی ٹوٹ کر رہ جاتا ہے جبکہ یہ ایک ہی نشان تھا ، میں نے اُسے تسلی دی کے سانپ نے نہیں کاٹا ویسے ہی کچھ لگ گیا ہے اُس کی حالت کچھ بہتر ہوئی ، میں نے اُسے پوچھا کہ تم جوتے اُتار کر یہاں کیا کر رہے تھے تو وہ بولا ، بھیا بارش کے بعد بھیگی بھیگی گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کا بہت مزہ آتا ہے ، مجھے ہنسی آگئی ، میں نے پوچھا تم نے سانپ کو دیکھا تھا ، وہ بولا ، نہیں بھیا دیکھا تو نہیں پر میرے پاؤں پر کچھ رینگا تھا اور پھر ساتھ ہی کاٹ لیا میں سمجھا کہ سانپ ہی ہے ۔
    مین نے پوچھا کہاں ؟ تو اُس نے پاس ہی ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا میں اُٹھ کر وہاں گیا اور گھاس ہٹا کر دیکھی ، اب جو میری ہنسی نکلی تو پھر مین ہنستا ہی چلا گیا ، وہ ایک چھوٹا سا چوہا تھا جو اب اِس اچھل کود کے بعد پیروں تلے آکر بری طرح کچلا جا چکا تھا وہ بیچارہ اُس کے ننگے پاؤں کو پنیر سمجھ کر ایک چھوٹی سی دندی کاٹنے کی سزا بھگت چکا تھا ۔ اب وہ نوجوان فاروق چوہا مار کے نام سے پورے کیمپ میں مشہور ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. میں آصف احمد بھٹی صاحب کی اردو تحریر میں قدرت اللہ شہاب ، پطرس بخاری اور رشید احمد صدیقی جیسے قادر الکلام ادیبوں کی تحریر کی جھلک دیکھ رہا ہوں ۔
    انکے تبصروں میں جو قصے بیان کئے گئےہیں ان میں ہر وہ خوبی موجود ہے جسے بہت سے دلچسپ مضامین اورافسانوں میں موجود ہونی چاہیں۔

    اگر یہ حقیقت نگاری ہےتو بھی بہت خوب ہے اور اگر یہ سب افسانہ نگاری ہے تو وہ بھی بہت ہی خوب ہے ۔

    اردو تحریر پر اتنا عبور قابل تعریف ہے ۔
    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  4. جناب سید مصباح حسین صاحب نے اس بلاگ میں لکھنے کے لیے کوئی خاص موضوع نہیں منتخب کیا اس میں حصہ لینے والوں کو یہ آزادی دےدی کہ :
    “ موضوع کچھ بھی نہیں ہے، سو جو بھی علم و ادب کے دائرہ میں ہو، وہ یہاں ضرور لکھئیے۔ یہ صفحات حاضر ہیں۔یہاں آپ اپنی تخلیقات کے علاوہ دیگر لوگوں کی تخلیقات اور اقوال بھی نقل کر سکتے ہیں۔ بس کوشش کریں کہ باتیں غیر سیاسی ہی ہوں۔ چلیں جی بسم اللہ کریں۔“ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو علم و ادب کے دائرے میں رہتےہوئے ایک شاعر صاحب ( جن کا نام یورپ کے تمام ادیبوں اور شاعروں کو معلوم ہے ) کا یہ شعر انکے نام کو ظاہر کرنے کی بجائے صرف “ زمانے میں “ لکھدیتا ہوں :

    کوئی جھوٹا نہیں “زمانے میں “
    سارے سچےّ ہیں کیا تماشا ہے

    اس شعر کو یہ شاعر صاحب جو یورپ کی ایک معتبر اردو انجمن کی روح رواں ہیں ، اپنے ہر ای میل میں کے آخر میں درج کردیا کرتےہیں ،
    ان صاحب نے حال ہی میں پیرس میں فیض پر ایک کانفرنس بھی منعقد کی جس میں فیض کو خراج تحسین پیش گیا :

    انکے اس شعر پر کچھ تک بندی کرنے کو طبیعت چاہتی ہے ۔ اگر کوئی قاری اس شعر کی زمین میں طبع آزمائی کر ے تو اسکی مرضی :

    میں شروع کرتا ہوں :

    کوئی موٹا نہیں زمانے میں
    سب ہی دُبلے ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی کالا نہیں زمانے میں
    سب ہی گورے ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی باگل نہیں زمانے میں
    سب ہی عاقل ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی اُلٹا نہی زمانےمیں
    سب ہی سیدھے ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی روتا نہیں زمانے میں
    سب ہی ہنستے ہیں کیا تماشہ ہے

    ۔۔۔۔۔
    بہر کیف :
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  5. ایک ترمیم :
    میرے اوپر کی اشعار میں “سب ہی “ کی بجائے“سارے“ پڑھیے تاکہ اصل شعر سے مماثلت باقی رہے۔

    کوئی موٹا نہیں زمانے میں
    سارے دُبلے ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی کالا نہیں زمانے میں
    سارے گورے ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی باگل نہیں زمانے میں
    سارے عاقل ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی اُلٹا نہی زمانےمیں
    سارے سیدھے ہیں کیا تماشہ ہے

    کوئی روتا نہیں زمانے میں
    سارے ہنستے ہیں کیا تماشہ ہے

    ۔۔۔۔۔

  6. اسلام و علیکم

    میں سب سے پہلے تو حُسین بھائی کی شُکر گُزار ہوں جی انہوں نے مُجھے دُعا میں یاد رکھا .. بہت بہت شکریہ .. آج گھر پر ہوں .. سوچا پڑھنے سے پہلے ایک نظر اخبار پر بھی ڈالی جائے .. سب کی اتنی مزے مزے کی باتیں ہیں .. سچ میں یہ سب تحریریں پڑھ کر انسان کا دماغ ہلکا ہو جاتا ہے .. سب نے ہی سب کُچھ بہت اچھا پوسٹ کیا ہے ..

  7. ( اچھی بات )

    کہتے ہیں جب وضو کرو تو جوانوں کی طرح
    ( اچھے سے )

    جب نماز پڑھو تو بزرگوں کی طرح
    ( آرام سے )

    جب دُعا مانگوں تو بچوں کی طرح
    ( یعنی مکمل سچے دل سے )

  8. غور کرنے کی باتیں

    (1 ) انسان کی حقیقت محص اس کے سوا کیا ہے ؟ کہ جس زمین پر ساری زندگی غرور و تکبر سے چلتا ہے
    ایک دن اسی میں مل کر اسی زمین کا رزق بن جاتا ہے . آہ مگر کہ انسان غور نہیں کرتا –

    (2 ) یہ تمام کائنات کی مثال ایک شادی کی طرح سے ہے .. جس کا دولہا ( انسان ) ہے –

  9. اسلام و علیکم

    آپی آپ کا قاضی سر آپ کا عالم ارا آنٹی آپ سب کا ہر اس انسان کا جس جس نے مُُجھے دُعا میں یاد رکھا میں تہہ دل سے مشکور ہوں . خدا آپ سب کو دین دُنیا کے ہر امتحان میں کامیاب کرے الہی آمین . آپ سب کا شکریہ .. جزاک اللہ

    طالب دُعا ثمرین بخاری

  10. میں امید کرتا ہوں کہ بلاگ نگار صاحب (جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب ) میر ے اس تبصرے کو اس بلاگ میں شامل کرینگے ۔ میں اسے اپنے یکم جنوری 2011 کے بلاگ بعنوان مضراب کا غالب نمبر جنوری 2011 سے یہاں منتقل کررہاہوں تاکہ اس بلا گ کے پڑھنے والے بھی میرےاس تبصرےکو پڑھکر مضراب ( جس کی مجلس ادارت میں زرقا مفتی صاحبہ بھی شامل ہیں ) کے اشاعت کی معطلی کے متعلق جناب سرور عالم راز سرور صاحب مدیر مضراب کے تاثرات پڑھ سکیں:
    ۔۔۔۔۔۔
    منظور قاضی نے کہا ہے:
    March 25, 2011 بوقت 4:53 pm ایڈٹ
    عالمی اخبار کے بلاگ میں منظور قاضی کا تبصرہ مورخہ 25 مارچ 2011 حاضر ہے :

    میرے ڈلس ، ٹیکسس( امریکہ )کے کرم فرما جانب سرور عالم راز سرور صاحب نے 23 مارچ 2011 کو یہ پیغام نہ صرف مجھے بلکہ انکی اردو انجمن کے تما م ارکان کو بھجوایا ۔ اس پیغام کے ذریعہ انہوں نے یہ افسوسناک خبر دی کہ “چند ناگزیر اسباب کی بنا پر ( جس میں انکی عمر اور صحت کو بہت دخل ہے) اپریل 2011 سے مضراب کا اجرا معطل کیا جارہا ہے “
    سرور عالم راز سرور صاحب نے کہا کہ اس انتہائی معیاری رسالے کے اجرا کی معطلی کا ایک اور سبب “ اہل اردو کی
    عمومی بے حسی اور خاموشی “ ہے۔ انہوں نےکہا کہ“ متعدد گذارشات کے باوجود مضراب پر اظہا رِ خیال کرنے سے احباب گریزاں رہے“ ۔

    سرور عالم سرور راز صاحب نے حق گوئی اور بے باکی سے کام لیتےہوئے یہ تادیب بھی کی کہ : “ کم ازکم اخلاق اور تہذیب کا اقتضا یہ تھا کہ ہماری اس کوشش کو اردو کی خدمات کے حوالے سے دیکھکر اُس پر اچھے برے خیالات سے ہمیں آگاہ کیا جاتا ، لیکن افسوس کہ اہل اردو میں اتنی اعلیٰ ظرفی اور اپنی زبان و ادب سے محبت نہیں ہے کہ وہ تھوڑی سی زحمت اُٹھائیں “

    سرور عالم سرور راز صاحب نے امید ظاہر کی کہ “اگر حالات سازگار ہوئے تو مضراب پھر اپ کی خدمت میں حاضر کیا جائے گا“
    موصوف کا رومن میں لکھا ہوا یہ پیغام حاضر ہے :

    yaaraan-e-Urdu: tasleemaat!

    jaisaa keh aap jaante haiN seh-maahee Mizraab pichhle taqreeba” 5 saal se Urdu kee Khidmat meN sargarm rahaa hai. chand naa-guzeer asbaab kee binaa par (jis meN meree u’mr aur SeHat ko bohat daKhl hai) April 2011 se Mizraab kaa ijraa mu,attal kiyaa jaa rahaa hai. hameN afsos hai keh mustaqbil meN ham Mizraab ko seh-maahee jareedeh kee shakl meN shaaye’ naheeN kar sakeN ge. agar Haalaat ne ijaazat dee to waqta” fa-waqta” risaalah shaaye’ ho saktaa hai. us soorat meN aap ko e-mail se aagaah kar diyaa jaaYe gaa.

    is faiSileh kaa ek pehloo ahl-e-Urdu kee u’moomee beHisee aur Khaamoshee hai keh muta.a’ddid guzaarishaat ke baa-wujood Mizraab par iz^haar-e-Khayaal karne se eHbaab gurezaaH rahe. kam se kam aKhlaaq aur tehZeeb kaa iqtiZ^aa yeh thaa keh hamaaree is koshish ko Urdu kee Khidamt ke Hawaale se dekh kar us par achhe-bure Khayaalaat se hameN aagaah kiyaa jaataa. lekin afsos keh ahl-e-Urdu meN intee a’alee-z^arfee aur apnee zabaan-o-adab se muHabbat naheeN hai keh woh thoRee see zeHmat uThaaYeN.

    so ba-Sad afsos ham aap se ijaazat chaahate haiN. shikaayat se kuchh HaaSil naheeN. inshaa Allah agar Haalaat saazgaar huwe to Mizraab phir aap kee Khidmat meN HaaZ^ir kiyaa jaaYe gaa. aap kee nawaazisahaat ke liYe mamnoon hooN.

    Sarwar A. Raz “Sarwar”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ:
    میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھے مضراب کے اجرا کی معطلی پر بہت افسوس ہوا ۔ اس کے معطلی کی وجوہات میں سرور عالم راز سرور صاحب کی صحت اور جیسا کہ انہوں نے کہا کہ “ انکی عمر کو بھی دخل ہے “ ۔

    ان کا یہ کہنا بھی ایک حد تک درست ہے کہ اہل انجمن نے اس کوشش کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں کی ۔ حالانکہ یہ انٹرنیٹ پر مفت عطا کی گئی تھی اور اس میں سرور عالم راز سرور صاحب اور انکے معاونین جن میں عالمی اخبار کی ایک اہم رکن زرقا مفتی صاحبہ بھی شامل ہیں کی دن رات کی بے لوث محنت بھی شامل تھی ۔

    تعجب اور افسوس ہے کہ اردو کی ترویج اور ترقی کے لیے اتنی اہم خدمت کو کیوں اس قدر بے قدری کا شکار بنایا گیا۔

    جہاں تک مضراب کی پذیرائی اور تشہیر کا تعلق ہے اسے تو میں عالمی اخبار کے بلاگوں میں اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق کرتا رہا ہوں ( حالانکہ میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا رکن نہیں ہوں ) ۔

    میں اس طرح کے بلاگ مضراب کی تشہیر کے لیے لکھ چکا ہوں مگر افسو س صد ا فسوس کہ مضراب کی قارئین اور مضراب کی انتظامیہ نے میرے بلاگوں پر توجہ نہیں دی ۔ اور ان بلاگوں کو مضراب کی اشاعت اور اس کی مشمولات کی تشہیر کے لیے
    استعما ل نہیں کیا ۔

    اگر مضراب کی انتظامیہ اور اس کے قارئین عالمی اخبار کی اس نعمت سے فائدہ اٹھا کر عالمی اخبار کےبلاگوں میں یونی کوڈ اردو فانٹ میں لکھسکتے اور اپنے خیالات کو رومن کی بجائے اردو فانٹ میں تحریر کرنے کے قابل ہوتے تو نہ صرف مضراب کو بلکہ عالمی اخبار کی پڑھنےوالوں کے علم میں ضرور اضافہ ہوجاتا ۔

    عالمی اخبار کےاردو بلاگوں سے اتنی اجنبیت اور غیریت کا سلوک میرے لیے قابل تعجب ہے ، خاص طور پراس لیے کہ مضراب اور اردو انجمن کا مقصد بھی اردو کی بےلوث خدمت ہی ہے۔

    میری گذارش ہے کہ مضراب کے احبابِ اختیار اور مضراب کے تمام پڑھنےوالے مضراب کی اشاعت کو جاری رکھیں اور اگر سرور عالم راز سرور صاحب اپنی صحت اور عمر کی وجہ سے تھک گئے ہیں تو انکی انجمن کے ذمہ دار ارکان انکی ذمہ داری کو ایک دوسرےمیں تقسیم کرنےکی کوشش کریں ۔

    سرور عالم راز سرور صاحب سے یہی گذارش ہے کہ ہوسکے تو اپنے معاونین میں سے کسی ایک کو مضراب کی ادارت کی تعلیم اور تربیت دیتے رہیں تاکہ کسی وجہ سے وہ اگر مضراب پر اپنا پورا وقت دینےکے قابل نہ رہیں تو انکے ذمہ دار معاون مضرا ب کو جاری رکھیں ۔

    اللہ مضراب کو تاقیامت سلامت رکھکر اسے اردو کی خدمت اور اسکی ترویج اور ترقی کے مواقع عطا کرتا رہے: آمین

    میں جرمنی میں سب سے دور ہوں مگر میری دلی دعائیں اور نیک تمنائیں جناب سرور عالم راز سرور صاحب ( جنھیں میں ڈلس کے کئے مشاعروں میںسن چکا ہوں ) اور انکےمعاونین کے ساتھ ہیں :

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  11. السلام علیکم
    بہت سوچتی رہی کہ اس بلاگ میں شمولیت کا کیا طریقہ اختیا ر کروں تاہم کچھ نیا نہیں سوجھا۔
    اس لئے ایک باسی تحریر پیش خدمت ہے جو اپنے پہلے ڈبو کی وفات پر لکھی تھی

    ہائے میرا ڈبو!
    سیمی فون پر روئے جا رہی تھی ’’خالہ جانی آپ تو جانتی ہیں میں صرف آپ سے ہی اپنے دل کی بات کہہ سکتی ہوں ….آج میرا دل بہت اُداس ہے کئی سالوں بعد میں اپنے آپ کو اتنی اکیلی اور تنہا محسوس کر رہی ہوں۔‘‘
    ’’کیوں کیا ہواخالہ کی جان؟ خیریت تو ہے نا؟ کیا عثمان سے کچھ کہا سنی ہو گئی؟‘‘خالہ نے گھبرا کر پوچھا
    ’’نہیں خالہ جانی اُن کو کہاں اتنی فرصت کہ مجھ سے دو باتیں ہی کر لیں ، بس میری تو قسمت ہی خراب ہے،سمجھ میں نہیں آ رہی پہاڑ سا دن کیسے کٹے گا اور رات کو نیند کیسے آئے گی؟‘‘سیمی نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا
    ’’سیمی میری جان رونا بند کروپلیز اچھا بتاؤ کیا تمہاری ساس نندوں نے کچھ کہا ہے ‘‘خالہ نے پوچھا
    ’’نہیں خالہ جانی اُن سے تو میرے بہت اچھے تعلقات ہیں ویسے بھی ایک ماہ سے سسرال والوں سے ملاقات نہیں ہوئی ۔۔…….بس آپ کو کیسے بتاؤں میں بالکل اکیلی پڑ گئی ہوں …..میرا ڈبو مجھے چھوڑ گیا ہے……….ہائے اُس کے بغیر میرا گزارا کیسے ہوگا؟‘‘ سیمی پھر رونے لگی
    ’’سیمی Seemi my darling plz stop crying now its getting over my nerves ”
    کیا ڈبو تمہارا pet تھا؟‘‘خالہ نے پوچھا
    ’’نہیں خالہ جانی وہ کوئی جانور نہیں تھا وہ تو بہت پیارا تھا۔۔‘‘
    ’’گھر میں اک وہی تو تھا جو بحث نہیں کرتا تھاجو کام میں کہتی فوراً کر دیتا تھالمبی دوپہروں اور تنہا راتوں میں میرا دل بہلاتا تھا۔ کبھی لطیفے سناتا ، کبھی gossips بتاتا، کبھی میرے ساتھ کارڈز کھیلتا، کبھی میری قسمت کا حال بتاتا ، اور کبھی شعروشاعری سے میرا دل بہلاتا، خالہ جانی آپ کو پتہ ہے مجھے chessکھیلنی بھی اسی نے سکھائی، مجھے اُداس نہیں ہونے دیتا تھا……….ہائے میرا ڈبو…..۔‘‘سیمی کو پھر رونا آنے لگا۔
    ’’سیمی میری جان مگر ابھی پچھلے ہفتے ہی تو میں تمہارے گھر آئی کہاں تھا یہ ڈبو تم نے مجھے نہیں ملوایاکہاں رہتا تھا یہ اسکا ایڈریس تو بتاؤ میں تمہارے انکل سے کہہ کر اس کا پتہ لگاتی ہوں۔۔‘‘خالہ نے تسلی دی
    ’’خالہ وہ تو میرے گھر میں میراے ساتھ ہی رہتا تھا آپ جب آئیں تو وہ سو رہا تھا ۔ وہ تھکتا تو نہیں تھا مگر میں ہی اُسے زبر دستی سُلا دیتی تھی……….کتنا فرمانبردار تھاہائے ڈبو……….‘‘سیمی پھر ہائے ڈبو کی گردان کرنے لگیں
    ’’سیمی کیاعثمان کو ڈبو سے تمہاری دوستی کا علم تھا کہیں اُس نے تو۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
    ’’نہیں خالہ جانی اُنہوں نے خود میری اُس سے دوستی کروائی تھی وہ کیوں اُسے کچھ کہنے لگے بس کبھی کبھار جیلس ہو جایا کرتے تھے کہ مجھ سے زیادہ ٹائم تو تم ڈبو کو دیتی ہو………وہ تھا ہی اتنا سویٹ خالہ جانی‘‘
    ’’اچھا سیمی جانی پھر وہ گیا کہاں؟‘‘خالہ بھی حیران تھیں
    ۔۔’’کہیں بھی نہیں بس its dead۔۔‘‘
    ’’اس کو viral disease ہو گئی تھی چپکے چپکے گھلتا رہا میرا ڈبو اور آج ختم ہو گیامیرا ڈبو ……….my sweet companion‘‘
    ’’سیمی خدا کا واسطہ ہے اب تو بتا دو کیا یہ ڈبو تمہارے ذہن کی کوئی نئی اختراع ہے۔ ‘‘
    its too good to be true I am going to hang up now , I think you need a good rest .”
    خالہ نے پیار سے ڈانٹا
    ’’خالہ جانی آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں ڈبو تو میرا پیارا computer تھا ………..‘‘
    ’’ہائے میرا ڈبو!………‘‘
    ﴿زرقامفتی﴾

  12. ایک بچی جو میوزک بہت رسیا تھی اور گٹار وغیرہ خود بہت اچھا بجاتی تھی، ایک دن ایک ایسے مولانا کی مجلس میں جا پھنسی جہاں انہوں نے گانا بجانے اور آلات غنا کے خلاف قرآن و حدیث کی روشنی میں ایسا ہولناک منظر پیش کیا کہ بس الحفیظ و الاماں کی آوازیں آنے لگیں۔ لوگ اپنے اپنے گناہان یاد کر کے رو رہے تھے۔ یہ بچی جب گاڑی میں اپنے والدین کے ساتھ واپسی کے لئے بیٹھی تو اس وقت بھی رو رہی تھی اور مسلسل یہ کہ رہ تھی کہ نہیں سُنوں گی، ہر گز نہیں سُنوں گی۔۔۔ آخر اسکے والدین نے اسے تسلی دی کہ بیٹا اب بس کرو، اللہ پاک بڑا مہربان ہے تم نے نہ سننے کا اراداہ باند لیا ہے تو بہت خوب، گھر جا کر گٹار پھینک دینا اور یہی کافی ہے۔ اس پر وہ بچی بولی کہ ابا آپ مجھے غلط سمجھے، میں تو ان مولانا کی بات کر رہی ہوں، کہ ان سخت گیر مولانا کو آئیندہ کبھی نہیں سنوں گی۔۔۔۔۔

  13. ہاہاہاہاہاہاہاہاہا
    واہ عزیزم مصباح. کیا وسیع القلبی ہے.یہ بھی تو اللہ کی عطا ہے کہ سمجھ میں آ جائے تو ایک ننھی سی بچی کے اور یہ سمجھ میں آئے تو پوری امت کے نہ آئے.
    میں اس بحث میں ابھی نہیں پڑتا کہ موسیقی حرام ہے یا نہیں اور کونسی موسیقی حرام اور کونسی حلال ہے .میں تو اکثر ایسے لوگوں سے پوچھتا ہوں اچھا آج کے ایک دن میں خود بتاؤ تم نے کونسا ایک حلال کام کیا ہے. سرکار وہ غفور الرحیم ہے اسمیں کوئی شک نہیں لیکن ہم مسلمان تو اس کی غفاریت اور رحمانیت کا امتحان لے رہے ہیں. مجھے کسی کا کوئی علم نہیں لیکن اپنے بارے میں دل کھول کر کہتا ہوں کہ رات سونے سے پہلے جب دن بھر کا حساب کتاب کرتا ہوں تو ہر کام میں،ہر فعل میں کہیں نہ کہیں کوئی قباحت ملتی ہے. میں نے یہاں حرام کو حلال گوشت اور حرام گوشت کے معنی میں نہیں لیا بلکہ وسیع تناظر میں بات کی ہے. ہمارا شاید ہی کوئی ایک فعل خالص طور پر اللہ.اسکے حبیب اور اسکی اہلبیت کے فرامین کے مطابق ہو. ہمارا سارا زور حلال گوشت پر ہوتا ہے وہ چاہے حرام پیسے سے خریدا ہوا ہو. استغفراللہ.
    ہمارے ہاں نیشنل لاٹری کی بحث ایک عرصے سے چل رہی ہے کہ حلال ہے کہ حرام؟ خدا جھوٹ نہ بلوائے. ایک ملا کو کہ جسکو میں نے خود سنا تھا لاٹری کے خلاف دھاڑ دھاڑ کر بھاشن دیتے ہوئے خود ہی ایک دن پٹرول پمپ سے لاٹری کا ٹکٹ خریدتے دیکھا تو مجھ سیف لسان سے رہا نہ گیا اور پوچھ لیا کہ حضرت آپ اور لاٹری کا ٹکٹ؟ ہائے میرے مولا کوئی اور ہوتا تو کم ازکم جبین تو عرق ندامت سے تر ہو جاتی. موصوف اپنی عیوب چھپانے والی عبا کو درست کرتے ہوئے بولے”ھمدانی صاحب بیٹا بہت ضد کر رہا تھا لاٹری ٹکٹ کے لیئے.میں نے کہا کہ اچھا میں گاڑی میں پٹرول ڈلوانے جا رہا ہوں لا دیتا ہوں”. میں نے عرض کی کہ ملا جی مگر آپکی گاڑی کہاں ہے آپ تو میرے ساتھ پٹرول پمپ میں پیدل داخل ہوئے ہیں. ملا جی بولے”ھمدانی صاحب آپکو تو علمائے دین کی تضحیک کی عادت ہے”. مجھ سے رہا نہ گیا.میں نے جتنی دیر میں یہ استفسار کیا کہ کیا آپ خود کو عالم دین سمجھتے ہیں؟ تو اتنی دیر میں ملا جی وہاں سے جا چکے تھے.
    بس یہی سوچ کر لکھا کہ بعض اوقات ایک بچہ پوری امت سے زیادہ سمجھدار نکل آتا ہے.

  14. انشااللہ پاکستان 30 مارچ کو کرکٹ کا میچ جیت جائے گا:

    اس میچ کو دیکھنےکے لیے بھارت کی دعوت پر شائد زرداری صاحب بھی جائیں اگر وہ گئے تو ان سے کہ کہونگا کہ وہ اپنی مرحوم بیوی کی تصویر بھی اپنی گود میں رکھکر اس میچ کو دیکھیں اور ہوسکے تو اپنے بیٹے بلاول (جس کا خاندانی نام بدل کر انہوں نے بھٹو رکھا ) اسے بھی ساتھ لے جائیں ۔

    شائد ان دونوں کی خوشنودی کی خاطر ، پاکستان کی ٹیم پوری ہمت سے کھیلے اور چھکے پہ چھکے لگاتی جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ان دونوں کے علاوہ اگر عمران خاں بھی اس میچ کو دیکھنےکےلیے جائیں اور اپنے دوست الطاف حسین کو بھی ساتھ لے جائیں تو اس میچ کو چار چاند لگ جائینگے اور پاکستان کی ٹیم خوش ہوکر چوکے پہ چوکے لگائے گی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان زندہ باد
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  15. اسلام و علیکم

    ہا ہا ہا ہا حُسین بھائی بہت خوب .. سوچیں اُن مولانا کا کیا حال ہوا ہو گا .. ہا ہا ہا

    ابھی ایک ایس ایم ایس آیا ہے مُجھے وہ شیئر کرنا چاہتی ہوں ..
    …………………………
    گُزری ہوئی زندگی کو کبھی یاد نہ کر
    تقدیر میں جو نہیں لکھا اس کی فریاد نہ کر
    جو ہونا ہے وہ ہر حال میں ہو کر ہی رہے گا
    تو امتحان کی فکر میں ولڈ کب برباد نہ کر …
    …………………………..

  16. ثمرین زبردست .. واہ واہ ..
    جو ہونا ہے وہ ہر حال میں ہو کر ہی رہے گا
    تو امتحان کی فکر میں ولڈ کب برباد نہ کر …

    کم از کم سیمی فاینل کے لئے میرا بھی یہی “ایس ایم ایس ” تمہارے لئے ہے …

  17. مصباح بھائی بچے “غیر سیاسی” ہوتے ہیں اس لئے سچے ہوتے ہیں …

  18. دیکھئے پاتے ہیں عُشاق بُتوں سے کیا فیض
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
    غالب

  19. میں یہ تبصرہ اپنے برقی خط کے ذریعہ جناب سرور عالم راز سرور صاحب کو بھی بھجوارہا ہوں :

    ابھی ابھی جناب سرور عالم راز صاحب کا برقی خط مجھے میرے مندرجہ بالا تبصرے کے جواب میں ، وصول ہوا ۔ اگر چیکہ یہ خط انہوں نے میرےہی نام لکھا ہے مگر چونکہ یہ خط انکے انتہائی معیاری رسالے مضراب سے متعلق ہے ا س لیے میں اسے یہاں چسپاں کررہا ہوں:

    “ جہاں تک مضراب کا تعلق ہے شاید آپ کو علم نہیں ہے کہ اس کا سو فی صد کام میں تن تنہا ہی کرتا تھا۔ عزیزہ زرقا میری بیٹی اور محسنہ ہیں انھوں نے شاعرات نمبر تمام و کمال بہت محنت اور محبت سے مرتب کیا تھا۔ لیکن عام شمارے صرف میں ہی شروع سے آخر تک مرتب کرتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ ایک آ دمی کتنا کام کر سکتا ہے۔ آپ کا بلاگ اس کی تشہیر میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

    مضراب کی اشاعت اب سہہ ماہی نہیں ہو گی کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ بشرط زندگی و صحت اس کے خاص نمبر وقتا فوقتا جاری کروں۔ چنانچہ جولائی میں ایک شمارہ کا ارادہ ہے۔ انشا اللہ۔
    دعائوں میں یاد رکھین
    سرور عالم راز سرور “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ :
    سرور عالم راز سرور صاحب نے بالکل صحیح فرمایا کہ میرا بلاگ ان کے رسالے کی تشہیر میں کچھ نہیں کرسکتا تھا اس لیے کہ
    بقول ان کے :
    “مسئلہ تشہیر کا نہیں ہے بے حسی اور بے اعتنائی کا ہے۔ اہل اردو اس سلسلہ میں ہمیشہ ہی صف اول میں رہے ہیں اور ان کا علاج ناممکن ہے۔ وما توفیقی الا باللہ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ صحیح ہےکہ گھوڑےکو ندی کےپاس لایا تو جاسکتا ہے مگر اسے پانی پینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر اہل اردو اتنے بےحس ہوگئے ہیں کہ انہیں مفت کی نعمت کی بھی قدر نہیں تو اس نعمت کے دینےوالے کی دل شکنی ضرور ہوگی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سرور عالم راز سرور صاحب نے یہ بھی بالکل صحیح فرمایا کہ :
    “ لیکن عام شمارے صرف میں ہی شروع سے آخر تک مرتب کرتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ ایک آ دمی کتنا کام کر سکتا ہے۔“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سرور عالم راز سرور صاحب نے جس حقیقت کا اظہا رکیا وہ بالکل درست ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بات میں بات نکلتی ہے تو کہتا ہوں کہ :
    میں تقریبا دو ڈھائی سال سے جب عالمی اخبار کی با ضابطہ ہر لمحہ اشاعت اور اس کے تمام عناصر کی دیکھ بھال اور نظامت سےمتعلق سوچتا ہوں تو بار بار عالمی اخبار کے اربابِ اختیار خاص طور پر جناب صفدر ہمدانی صاحب کے متعلق سوچتا ہوں اور تعجب کرتا ہوں کہ :
    “ایک آدمی کتنا کام کرسکتا ہے؟ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں مندرجہ بالا بات کسی قسم کی ستائش اورصلےکی تمنا کئےبغیر کہ رہا ہوں ۔ بس دعا کررہا ہوں کہ اللہ اس “ایک آدمی “ کو ہمیشہ صحت سے رکھے اور اس عالمی اخبار کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے: آمین
    ۔۔۔۔۔۔
    میری نیک تمنائیں جس طرح عالمی اخبار کے ساتھ ہیں اسی طرح “ مضراب “ کےساتھ بھی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اللہ اردو کی بے لوث خدمت کرنے والوں کو ہمت ۔ استطاعت اور توفیق دیتا رہے کہ وہ یہ نیک کام جاری رکھیں ۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  20. السلام علیکم
    آج ایک نہایت ہی دلچسپ واقعہ سنانا چاہتا ہوں ، اُس وقت ہم آٹھویں کلاس میں تھے کہ ہمارے ایک کلاس فیلو عثمان کی حادثاتی طور پر شادی ہوگئی ، حادثاتی سے مراد ہے کہ اُس کی شادی اچانک ہو گئی اور ہوا یوں کہ شادی اُس کے بڑے بھائی طارق کی تھی اور ہم سب لوگ طارق بھائی کی بارات لیکر ہی اُس کے تایا کے گھر گئے مگر طارق بھائی اپنی ایک کالج فیلو کے چکر میں نکاح سے کچھ دیر پہلے ہی وہاں سے غائب ہو گئے گھر والوں نے بارات واپس لانے کے بجائے اُس لڑکی سے عثمان کا ہی نکاح پڑھوا دیا وہ لڑکی عثمان سے آٹھ سال بڑی تھی ، ہم سب دوستوں کے لیے یہ سب بہت عجیب تھا ہم سب میں سے ایک دوست اچانک ہی شادی شدہ ہو گیا تھا ، اب وہ شرم کے مارے ہم سب سے کنی کترانے لگا مگر شادی کے کچھ دن بعد ایک دن ہم لوگوں نے اُسے پکڑ ہی لیا اور اُس سے چٹخارے لینے لگے چونکہ شادی کچی عمر کے لڑکوں کا سب سے دلچسپی والا موضوع ہوتا ہے سو ہم سب اپنی معلومات بڑھانے کے لیے اُس سے عجیب عجیب سوال کر رہے تھے اور وہ بیچارہ اُلتے سیدھے جواب دے رہا تھا ، مین نے پوچھا ، یار عثمان یہ بتا کہ شادی کرنے کے بعد تیر زندگی میں کیا فرق پڑا ہے ، وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا ،’’ کچھ خاص نہیں بس پہلے میرے کمرے میں میں اکیلا سوتا تھا اب باجی بھی ہوتی ہے ‘‘ ( وہ شادی سے پہلے اپنی بیوی کو جو کہ اُس کے تایا کی بیتی تھی باجی کہتا تھا بلکہ ہم سب دوست اُسے باجی ہی کہتے تھے )
    آصف احمد بھٹی

  21. السلام علیکم
    ہم لوگوں میں جلد شادی کا رواج ہے چونکہ اب تک میرے خاندان میں سوائے دو تین لڑکوں اور دو تین لڑکیوں کے کسی نے بھی کالج کا منہ نہیں دیکھا بلکہ اکثر تو ہائی اسکول بھی نہیں دیکھ سکے سو اِس لیے زرا سے ’’ سیانے ‘‘ ہوتے ہیں لڑکیاں گھروں کا کام کاج اور لڑکے روزی روزگار کی تلاش شروع کر دیتے ہیں اور پھر جیسے ہی لڑکا کچھ کمانے لگے اُسکی شادی خانہ آبادی کر دی جاتی ہے ،
    میرا پھوپھی ذاد بھائی زاہد ( جو کہ میرا ہم عمر اور دودھ شریک بھائی بھی ہے کہ ہم بچپن میں دونون کو ہماری اپنی ماؤں کے علاوہ دو اور رشتے دار خواتین نے بھی اپنا دودھ پلایا ہے ) جب اِس دور میں پہنچا یعنی کچھ کمانے کے لائق ہوا تو فورا اُس کے لیے لڑکی کی تلاش شروع ہوئی ( میں یہ بتا دوں کہ زاہد اچھا خاصا خوش شکل ہے مگر کبھی کبھی جب وہ جوش یا غصے میں ہو تو ہکلاتا ہے ) وہ چونکہ خود ماں باپ سے شرماتا تھا اِس لیے اُس نے مجھے اپنی پسند بتائی کہ میں پھوپھی جان سے اُس کا ذکر کروں لڑکی اُس کے والد کے چچازاد بھائی کی بیٹی تھی ، میں نے یونہی چھڑنے کے لیے کہا ، یار تجھے اُس کی کیا بات پسند آئی ہے جو تو اُس سے شادی کرنا چاہتا ہے ، وہ کچھ دیر شرمیلی مسکراہٹ دکھاتا رہا پھر ایک دم جوش میں آگیا اور بولا ، یی یار آآ آصص ف ا ایک بب بار مم میں اُن کے گھگھ ھر گیا تھا تو اُو سس نے مم مجھے چچ چائے بنا کک کر دی ، مم میں نن نے مممنع کیا تو کک کہنے للل لگی ،’’ پپ پپ پئیے جج جناب ‘‘ ، بب بس یی یار مم مجھے اُس کی یہ ’’ پپ پپ پئیے جج جناب ‘‘ کہنا بہت پپ پسند آیا ۔
    آصف احمد بھٹی

  22. جناب مصباح صاحب و مرشدِ محترم ، آپ نے لاٹری کی بحث چھیڑ کر گویا مجھے بھی چھیڑ دیا ، سویا ہی رہنے دیتے خواہ مخواہ جگا دیا اور جب اٹھا ہی دیا ہے تو یہ بھی سن لیں :

    وہ جو کسی نے کہا ہے تو ٹھیک ہی کہا ہے کہ نیم حکیم خطرہء جان ، نیم مُلا خطرہء ایمان ! کسی بھی مسئلے کے حق میں یا اس کے خلاف ان کی پسند کی تاویل ڈھونڈنی تو کوئی ان سے سیکھے ۔

    کہتے ہیں کسی مُلا جی نے جنگلی پرندے شکار کرنے کو پھندا لگایا ۔ قسمت کی ماری ایک فاختہ دھوکے میں آکر اس میں پھنس گئی ۔ فاختہ کا پیچھا کرتے ایک چیل بھی ساتھ آکر پھنس گئی ۔ مُلا جی کو آتے دیکھ کر بی فاختہ نے خوف سے پھڑ پھڑانا شروع کردیا ۔ ساتھ چیل بھی پھڑپھڑانے لگی ۔ فاختہ نے چیل کے پھڑپھڑانے کو اس کی کوئی ادا جانا تو اسے کہنے لگی تمھیں کیا فکر ہے ۔ تم تو حرام پرندہ ہو ابھی مُلا جی تمھیں نکال کر پھینک دیں گے جبکہ میری موت تو یقینی ہے کیونکہ مجھے انہوں نے فوراً ذبح کرلینا ہے ۔ چیل نے ٹھنڈی آہ بھری اور فاختہ سے گویا ہوئی ، تم شاید ان مُلاؤں کی اداؤں سے واقف نہیں ہو ، ان صاحب نے میرے بارے میں بھی کوئی تاویل ڈھونڈھ لینی ہے اور مجھے بھی حلال قرار دے کر ذبح کر لینا ہے ۔

    چیل کی بات شاید افسانہ لگے ، ذرا یہ عملی تاویلات بھی ملاحظہ فرمائیں :

    ہمارے ساتھ کام پہ ایک مُلا جی سے کسی نے لاٹری کے بارے میں فتوٰی جاننا چاہا ۔ مُلا جی نے بلاتعمل ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی لاٹری نکلے تو وہ لاٹری کی رقم اپنے کسی امیر دوست یا رشتہ دار کو دیدے اور اسے بدلے میں اتنی رقم خود لے لے ، یوں لاٹری کی وہ رقم جائز ہوجائے گی ۔ کیوں کیسی رہی یہ تاویل ؟

    اور یہیں برطانیہ میں ہی ، غالباً بریڈ فورڈ یا مانچسٹر میں ، کسی کی لاٹری نکلی تو وہ مختلف مساجد میں گیا کہ آیا اس لاٹری کی رقم کا کچھ حصہ وہ مسجد میں دے سکتا ہے کہ نہیں ۔ بیشتر علماء حضرات نے اس کی پیشکش کو ٹھکرا دیا کہ یہ رقم ناجائز اور حرام ہے جبکہ ایک مُلا جی نے اسے یہ رقم یہ کہہ کر لے لی اسے ہم مسجد کی ٹائیلٹس پہ خرچ کریں گے ۔

    اب آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ کیا وہ چیل بچاری غلط تھی ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *