سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں ۔ از ۔ زرقا مفتی

مجھے شاعری کرتے ہوئے ہمیشہ لگا کہ شاعری جسم و جاں کی سائنس ہے جس میں توازن اوزان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے روح کے سرگم چھیڑتا ہوا نکلتا ہے ۔۔ نغمہ جب تک دل سے نہ نکلے اس وقت تک رگ جاں کی کوئی رگ دہائی نہیں دیتی ۔۔ کوئی زبان واہ واہ نہیں کہتی ۔۔ نغمہ اس وقت تک پہچان نہیں بنتا جب تک وہ ہر روح تک نہ پہنچے. آپ سب کی نذر ایسی غزل ہے جس کا ایک ایک مصرعہ خون دل سے لکھا گیا ہے .. جو اپنی ایک اڑان رکھتا ہے اور روح در روح چیختا ہے …یہ غزل صرف زرقا مفتی کی نہیں ہم سب کی ہے ..

سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

جانتی ہوں ترے دل میں مری تصویر نہیں
تیری نظروں میں مرے جذبوںکی توقیر نہیں

سوچ پہروں میں ہے گو پاﺅں میں زنجیر نہیں
بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں

دل پہ ناکام اُمیدوں کے اندھیرے چھائے
بجھ گئی آرزو اور آس کی تنویر نہیں

غمِ فرقت میں تری ےاد کے پہرے کے تلے
قید ِتنہائی سے بڑھ کر کوئی تعزیر نہیں

جس حسیں شہر کو خوابوں سے تھا آباد کیا
اب مرے نام وہاں کوئی بھی جاگیر نہیں

کیوں خطا کار ہوئے رہِ اُلفت پہ جو چلے
کیا محبت سے بڑی دہر میں تقصیر نہیں

بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
موت بیماریءدل کے لئے اکسیر نہیں

ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں
(زرقا.مفتی.لاہور)

زرقا میری پیاری میری عزیز دوست تمہارا لکھا ایک ایک لفظ موتی ۔۔ایک ایک سطر نگینہ ۔۔ پتہ وہ کیوں ۔۔اس لئے کہ فغاں تو سب کرتے ہیں لیکن اس کی تصویر کشی اور منظر نگاری کسی کسی کے بس میں ہوتی ہے ۔۔ تمہارے قلم میں کڑوڑوں لوگوں کے دکھ بولتے ہیں ۔۔ یہی وہ امانتیں ہیں جو نہ لکھنے والا لکھنے والے کو دیتا ہے کہ وہ بات اس تک پہنچا دے جس کی ہیں ۔۔ اور ہم گواہ ہیں کہ تم نے ان کے دکھ اور امانتوں کو صداقت کے ساتھ پہنچایا ۔۔ ہم اشکبار ہیں اور دعاگو کہ ہمیں تم جیسے کئی اور سچے اور امانت دار لوگ عطا فرمائے ۔۔آمین

41 thoughts on “سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں ۔ از ۔ زرقا مفتی”

  1. بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
    موت بیماریءدل کے لئے اکسیر نہیں

    زرقا بہن۔ سلام مسنون۔
    زبر دست۔ خدا کرے زور قلم اور بھی زیادہ ہو۔ داد وصول کیجئیے۔
    نا چیز

  2. سوچ پہروں میں ہے گو پاﺅں میں زنجیر نہیں
    بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں

    بہت زبردست پروردگار سوچ میں اسی طرح وسعت عطا کرے۔ اآمین

  3. زرقا بہت کم گو مگر مستند لکھنے والی شاعرہ ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک کسی تمغہ حسن کارکردگی یا تمغہ امتیاز سے بچی ہوئی ہیں۔ وہ اس لیئے حسن کارکردگی انکو ملتا ہے جنکی کارکردگی تعلقات عامہ ہو ادب تخلیق کرنا نہیں اور تمغہ امتیاز تو ہے ہی امتیازی سلوک کی نشانی۔
    زرقا سے جب لاہور میں ملاقات ہوئی تھی تو درخواست کی تھی کہ اپنا مجموعہ کلام شائع کروا لیں۔ لیکن شاید ابھی میری خواہش یا رائے کو پزیرائی نہیں ملی۔
    یہ غزل ساری کی ساری خوبصورت ہے۔

  4. بہت عمدہ !

    سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
    کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

    جانتی ہوں ترے دل میں مری تصویر نہیں
    تیری نظروں میں مرے جذبوںکی توقیر نہیں

    سوچ پہروں میں ہے گو پاﺅں میں زنجیر نہیں
    بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں

    دل پہ ناکام اُمیدوں کے اندھیرے چھائے
    بجھ گئی آرزو اور آس کی تنویر نہیں

    غمِ فرقت میں تری ےاد کے پہرے کے تلے
    قید ِتنہائی سے بڑھ کر کوئی تعزیر نہیں

    جس حسیں شہر کو خوابوں سے تھا آباد کیا
    اب مرے نام وہاں کوئی بھی جاگیر نہیں

    کیوں خطا کار ہوئے رہِ اُلفت پہ جو چلے
    کیا محبت سے بڑی دہر میں تقصیر نہیں

    بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
    موت بیماریءدل کے لئے اکسیر نہیں

    ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
    لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں
    —————————————————
    واقعی یہ غزل صرف زرقا مفتی کی نہیں ہم سب کی ہے ..
    ھم سب کے دل کی آواز

    ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
    لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں

    انشااللہ وہ دن بھی آئے گا جب ظالم مٹ جائے گا اور حق باطل پہ غالب آجائے گا
    اور ہر سو گلوں کی تازہ مہک ہوگی

  5. کیوں خطا کار ہوئے رہ الفت پہ جو چلے
    کیا محبّت سے بڑی دہر میں تقصیر نہیں

    زرقا بیٹی بھئ واہ دل ہی تو جھوم اٹھا

    اتنی اچھّی اور معیاری شاعر ی نے سچ مچ روح کو ا چھّی غذا فراہم کر دی

    مزید کا ابھی سے انتظار ہے

    دعاگو زائرہ بجّو

  6. ماشااللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ ، مرحبا ، بہت اچھے ، بہت خوب
    اس غزل کے ہر شعر پر مکرر ارشاد کہنا پڑتا ہے ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  7. ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
    لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں

    ۔۔۔۔۔

    مرحبا، ماشاء اللہ بہت خوب ، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

    لیکن جو ہم پہ بیت رہی ہے اس کے مدنظر تو، معذرت کے ساتھ ، مایوسی و کفر کے یہی کلمات زباں پہ آ رہے ہیں :

    ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے صدیوں
    لگتا یہی ہے لکھ دیا کاتبِ تقدیر نے

    انتہائی معذرت کے ساتھ ۔

  8. زرقا ما شا اللہ بہت عرصہ بعد کوئی اچھی چیز پڑھنے کو ملی۔

  9. اسلام و علیکم

    بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
    موت بیماریءدل کے لئے اکسیر نہیں

    واہ واہ کیا بات ہے آج ہر صاحب دل کی یہ ہی صدا ہے ہر روح کی پکار یہ ہی ہے . ہر زندہ ضمیر یہ ہی کہہ رہا ہے . نجانے کتنے دلوں میں بسی بات کو یوں سرعام کہہ کر آپ نے ایسے تمام لوگوں کے جذبات کو بہترین لفظوں کی مالا سی بنا کر ایسا خوشنما بنایا ہے واہ …

    خدا کرے زورِ قلم اور زیادہ .

    سچ کہتے ہیں کہ شاعری سچ بولتی ہے ……..

    طالب دُعا

    ثمرین

  10. السلام علیکم
    زرقا آپی کی خوبصورت غزل کہ جس کا ہر ہر شعر دل و دماغ کے کئی دریچے وا کرتا ہے ، کچھ دریچے میرے پہلو میں بھی کھلے ہیں ، زرقا آپی اور آپ سب کی اجازت سے یہی بات میں کچھ یوں کہونگا ۔

    غیرت ملی گر پیشِ نظر ہر تحریر نہیں
    بے وقعت ہیں لفظ کوئی توقیر نہیں

    جانتا ہوں تیرے پہلو میں دھڑکتی ہے
    غیر ہے کوئی کسی اپنے تصویر نہیں

    تجھ کو مقدم ہوئے کچھ نئے عہد ِ وفا
    مرے اجداد کے خوابوں کی تعبیر نہیں

    کچھ تو ہے تم جس کو چھپاتے ہو
    تخریب ہی ہو گئی کوئی تعمیر نہیں

    وہ ہی مختار ہیں سو جو چاہے کریں
    جرم ثابت نہیں ، کوئی تعزیر نہیں

    اُن سے عقیدت ہے رسمِ الفت کی قسم
    وہ کچھ بھی کریں کوئی تقصیر نہیں

    خودی بیچ کے اُن کی غلامی لی ہے
    اور وہ کہتے ہیں جزبے میں تاثیر نہیں

    باندھ رکھا ہیں ہمیں کچھ ایسے یاروں
    پاؤں میں بظاہر تو کوئی زنجیر نہیں

    دیکھو کیسے ہیں میرے مقدر آصف
    خاک میں خاک ہوئے اور تشہیر نہیں
    آصف احمد بھٹی

  11. بہت زبردست زرقا آپ نے سچ لکھا اور دل سے لکھا ، اچھا فنکار وہ ہی ہے جو اپنے اردگرد کو محسوس کرے ، اور سچا فنکار تو سیسمو گراف ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ اسی سیسموگراف کا تحریری گراف ہے ۔ ۔۔ جو امید سے بھی بھرا ہے اور حالات کا آئنہ بھی

    بہت زبردست
    ماشااللہ

  12. بہت اچھی زرقا مفتی ۔ سلامت رھو۔ کیسی دل میں اترجانے والی شاعری ھے ھر ھر مصرعہ کتنا مرصع ھے اور ھم سبکی بے پناہ داد کا مستحق بھی ۔

    بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
    موت بیماریءدل کے لئے اکسیر نہیں

    ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
    لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں

    سنا ھے پرانے وقتوں میں ایسے اشعار سن کر بادشاہ املاک و جاگیروں سے زروجواھر سے نوازتے تھے ۔ کاش میں کسی اس قابل ھوتی کہ تمھارے دامن میں بہت سارے ستارے +دنیا بھر کے خوش رنگ اور خوشبو سے بھرے پھولوں ڈال دیتی ۔

    اور ھم سبکی بہت عزيز اور بہت اچھی بہن ڈاکٹر نگہت نسیم نے کتنے پراثر لفظون میں پتے کی بات کہہ دی ھے

    فغاں تو سب کرتے ہیں لیکن اس کی تصویر کشی اور منظر نگاری کسی کسی کے بس میں ہوتی ہے ۔۔

    اور براۓ کرم یہاں آیاکریں ھم سب کے چہرے خوشی سے کھل جاتے ھیں ۔آپکے مزیذ قیمتی افکار کے منتظر

    خوش رھو،خوش رھو بس خوش رھو

  13. بلاگ کے سارے ساتھیوں سے غیرحاضری پر معذرت کیونکہ ابھی ھمارا یعنی پاکستان ویمن فارم کا سالانہ ڈنر۔ + ایک مشاعرہ + 7 اپریل کو عمرے کےلیے روانگی ھے۔ اس لیے بستر بھی صبح 4 بجے سے پہلے میسر نیہن آتا ھے ۔ اور میں جو دل ھی دل میں ھر بلاگ پر تبصرہ کرتی ھوں آپ لوگ اس کا جواب کیوں نیہن دتیے ؟اپنی دعاوں میں یاد رکیھے گا۔ مجھہ گناہ گار کا وھاں سے بلاوا آیا ھے ابھی چند دن میرا زیور چوری ھوگیا ، اس لیے بھی دل بہت پریشان تھا مگر اب نیہن کیونکہ میرے معبود نے اپنے گھر میں بلا کر سارے ملال مٹادیۓ ھیں ۔

  14. شاہین رضوی صاحبہ مبارک ہو یہ سفر ِ خیر۔ اپنی دعاوٗں میں یاد رکھیئے گا۔
    دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو آپکا مسروقہ مال بھی لوٹا دے اور متاع دین و دنیا سے مالا مال کر دے۔ آمین بحق محمد وآلہ الطاہرین

  15. ابھی عمر سراج صاحب کے بلاگ میں پاکستانیوں کے مال کی پاکستانی ایرپورٹ کے عملے کےہاتھوں چوری کی واردات پڑھنےمیں آئی اور اب محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کی زیورات کی کوئیت جیسے مسلمان عرب ملک میں چوری کا حال پڑھکر بے حد افسوس ہوا ۔
    اللہ شاہین رضوی صاحبہ کی تمام مشکلیں آسان کردے اور انہیں تمام آفات اور بلاوں سے محفوظ رکھکر عمرہ کی سعادت عطا فرمائے : آمین
    فقط:
    دعا گو
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  16. آپ سب بہن بھایئوں سے اپنے دل کی بے چینی شئیر کرنی ہے .. زرقا سے میر ارابطہ نہیں ہو پا رہا .. نہ فون پر نہ کسی میل پر .. مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں .. زرقا کبھی بغیر بتائے کہیں نہیں جاتی .. یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ بلاگ میں اس کا زکر ہو اور وہ جواب نہ دے … میرے دل وہموں میں الجھنے لگا ہے … زرقا مجھے اتنی پیاری ہے کہ ا سکے بغیر میر ادل نہیں لگ رہا .. وہ پچھلے ایک ہفتے سے ادبی صفحہ پر بھی نہیں ہے .. کچھ سمجھ نہیں آ رہا .. بس اللہ کریم ہماری بہن ہماری دوست پر اپنا فضل کرے .. اور اس کی جانب سے خیر کی خبر آئے ..آمین ..آپ سب سے دعا کی التجا ہے ..

  17. تین بار آئت الکر سی پڑھ کر ہاتھوں پر دم کرو اور ہاتھ چہرے پر پھیر لو ،پھر اللہ تعا لٰ سے دعا کرو کہ مجھے زرقا کی جانب سے اطمنان کی خبر سنا دے ،اور میرے د ل کو اس کی جانب سے سکون عطا کر
    اس عمل سے ایک جانب دل کی بےقراری بھی تھمے گی اور دوسری جانب انشاللہ خیر کی خبر بھی مل جائے گی

    تمھارا آج کا عمران خان والا بلاگ پھر رہ گیا رات کے 2 بج رہے ہیں اور میں بہت تھک گئ ہوں زندگی بخیر ایک دن اور سہی

    دعاگو بجّو

  18. السلام علیکم
    انشاء اللہ ، نگہت آپی ، اللہ سب خیر کرے گا ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، زرقا آپی یقینا مصروف ہونگی ، آپ کوشش کرتی رہئے ، اور جلد ہی زرقا آپی کو ساتھ لیکر ہی آئیے گا ۔ اور پھر محترمہ سیدہ زائرہ صاحبہ نے آپ کو ایک آسان سا وظیفہ بتا بھی دیا ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  19. میری بہت عزیز اوربہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سلامت رھو،انشا اللہ زرقا مفتی باخیریت ھونگیں، اللہ پاک ان پر انکی والدہ پر انکے خانوادے پر اپنا خصوصی کرم فرماۓ آمین ثم آمین

    کبھی کبھی زنجیر وقت یوں جکڑتی ھے کہ بہادر سے بہادر، باھمت انسان بھی بے بس ھوجاتا ھے۔،۔ زرقا کی خوبصورت شاعری آپ سب کی نذر۔

    کڑی دھوپ میں سائباں کوئی تو ہو
    کوئی ہم نشیں، مہرباں کوئی تو ہو

    غموں کے فسانے،خوشی کے ترانے
    سنائیں کسے رازداں کوئی تو ہو

    کہاں سے ملے گی دوا دردِ دل کی
    کوئی چارہ گر ، آستاں کوئی تو ہو

    رُتوں کے بدلتے ہی لوٹیں گے پنچھی
    چمن میں بچا آشیاں کوئی تو ہو

    لگا لیں گلے موت کو بھی خوشی سے
    جو مرنے پہ چشمِ رواں کوئی تو ہو

    بھٹکتے پھریں گے کہاں تک جنوں میں
    نئی منزلوں کا نشاں کوئی تو ہو

    کہاں لے چلے وقت کے ہم کو دھارے
    جہا ں جا رکیں گے وہاں کوئی تو ہو

    نگاہیں اُٹھائیں مگر کس کی جانب
    زمیں پر جھکا آسماں کوئی تو ہو

  20. عزيز بہن اور بہت آچھی دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ اطمیان رکھو انشا اللہ ۔ زائرہ بجو کی بتائ ھو‏ئ دعا سے دل کو اطیمان اور قوت بھی ملے گی ۔اللہ پاک ھم سب پر رحم فرماۓ ، ھم سب کو صدمات سے آفات سے محفوظ ۔رکھے اور ھم سب کی عزيز دوست اور بہن زرقا مفتی کو ھمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین

    ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی
    سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی

    کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں
    سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی

    ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
    تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

    نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو
    کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی

    بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
    جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

    خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے
    حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی

    حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر
    ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی

    نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم
    اماں ملی کہیں ہم کو، نہ آشتی پائی

    چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے
    بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی

    میرے دل کو بھی بہت تقویت ملے گی کہ میں
    اپنے اس سفر کے دوران بہت اچھے اور ھم سب کے بہت عزيز بھائ سید مصباح حسین اور ھمارے بلاگز کو ھمشیہ اپنی قلمی ذکاوت سے سجانے والے محترم منظور قاضی صاحب
    کی دعاوں کے آھنی حصار میں رھونگی انشا اللہ

  21. میری دلی دعائیں اور نیک تمنائیں زرقا مفتی صاحبہ اور انکے خاندان کے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔

    اللہ ان کے علم سے ہم سب کو فیضیاب کرتا رہے : آمین

    میں ان کی شاعری پر عالمی اخبار میں ایک بلاگ بھی لکھ چکا ہوں۔ میرے لیے انکی شاعری کا مقام بہت بلند ہے ۔ میں انکا شمار ڈاکٹر پنہاں اور عرشی صاحبہ جیسے قادرالکلام سخنوروں کی صف میں کرتا ہوں ۔

    وہ جتنی اچھی شاعرہ ہیں اتنی ہی اچھی نثر نگا ر بھی ہیں ۔

    وہ کم سخن ہیں مگر وہ جو کچھ بھی کہتی ہیں وہ سونے کے حروف میں لکھنے کے قابل بات ہوتی ہے۔

    ایک اور خوبی ان میں یہ بھی ہے کہ وہ قرآن کے رموز کو سمجھنے میں کمال رکھتی ہیں۔

    وہ ایک مامتا بھری ماں بھی ہیں جو اپنے“ شور“ سے اپنےبیٹوں کی رہنمائی کیا کرتی ہیں۔

    وہ عالمی اخبار کے ادبی اور شاعری کےصفحات کو خوبصورت گلکاریوں سے مزین بھی کیا کرتی ہیں ۔

    اسکے علاوہ وہ “مضراب “ جیسے عظیم اور مستند ( اردو ؛ انٹر نیٹ ) رسالے کی مجلس ادارت میں بھی ہیں اور جناب سرور عالم راز سرور صاحب مدیر “مضراب “ کی اعانت بھی کرتی ہیں۔

    ہم سب کو انکی موجودگی پر ناز ہے۔ اللہ انہیں ہمیشہ تمام آفات اور بلاوں سے محفوظ رکھے آمین

    انکی اس بلاگ کی غزل کی تعریف میں ، میں انہیں اپنا ذاتی ای میل بھی بھجواچکا ہوں ۔ وہ اپنی فرصت میں مجھے اپنےخیالات سے مطلع کرسکتی ہیں ۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  22. زرقا صاحبہ سے رابطہ نہ ہو سکنا واقعی تشویش کی بات ہے کیونکہ وہ بتا کر جانے والی ہماری ساتھی ہیں۔مولا انکو اپنے تمام اہل خانہ سمیت اپنی امان میں رکھیں
    بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ بات اپنے بس میں نہیں ہوتی۔ میں خود بھی اس لمحے پریشان ہوں کہ جرمنی میں بیٹھا ہوا فیس بک پر بھی اپنے قریبی احباب کو پیغام لکھ رہا ہوں اور شاید ان کو نہیں ملا۔اور ایسے میں وہ یقینی طور پر پریشان ہو رہے ہوں گے۔

  23. آپ سب کی تسلی کے لئے ممنون ہوں … انشاللہ یقینا زرقا اپنے گھر والوں کے ساتھ خیر سے ہو گی ..آمین

  24. شاہین میری دلاری سلامت رہو خدا جانے تمہارا نام تمہارے امی ابا جی نے تسلی کیوں نہیں رکھا ..

  25. ابھی مصباح بھائی کا بھی فون آیا تھا .. ان کی فکر اپنی جگہ اور مجھے تسلی بھی دیتے رہے .. خوش رہئے … پوچھنے کے لئے بابا کی بھی جرمنی سے میل آئی ہے … انشاللہ ہم سب کی دعاؤں سے زرقا ضرور خیر سے ہو گی … آمین

  26. آج بلاگ کھولا تو زرقا مفتی کی شاعری پر تبصرے کے بجائے آپ سب کو زرقا بہن کے بارے میں پریشان دیکھا آپ لوگ یقینا بہت محبت کرنے والے افراد ھیں خدا بڑا رحمان ورحیم ھے محمد وآل محمد کے صدقے سے آپ سب کی بلکہ ھماری اس پریشانی کو دور فرمائے گا آمین
    نکہت بہن آپ کی محبت کی طاقت زرقا مفتی کو کھیچ لائے گی میں بھی اپنے رب کے حضور آپ سب کے ساتھ دعاگو ھوں اے بچھڑے ھوؤں کو
    ملانے والے اللہ جس طرح تو نے حضرت یعقوب علیہ سلام کو حضرت یوسفّ کی خبر دی اسی کے صدقے زرقا مفتی کی خبر سب تک پہنچا آمین

  27. اللہ کرے گا زرقا بہن کی خیریت کی اطلاع جلد مل جائے گی
    آپی آپ کے پاس ان کا لاہور کا پتہ ہو تو ھمیں بھیج دیں ھم لاہور میں ان کے گھر سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں ممکن ہے کسی اھم کام میں الجھی ہوئی ہوں
    انشاللہ مولا کرم کریں گے
    سب ٹھیک ہو جائے گا انشااللہ

  28. السلام علیکم
    ابھی ابھی پاکستان سے اطلاعات آئی ہیں کہ ملک کے طول و عرض میں کئی بڑے شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں ، اللہ ہم سب پر رحم کرے اور اپنا خاص کرم کرے ، ہم پر ہمارے اعمال کے سبب اپنی گرفت نہ کرے ۔ آمین ثم آمین ۔
    آصف احمد بھٹی

  29. نگہت جی
    السلام علیکم
    میرا پیارا ڈبو فوت ہو گیا تھا اس لئے کچھ روز آدھی ملاقات نہ ہوسکی. اسکے معالجین کا خیال تھا کہ ابھی اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہے اس لئے اسے ہوش میں لانے کی کوشش ہوتی رہی . مگر بے چارا ڈبو پل دو پل کے لئے آنکھ کھولتا اور پھر بے ہوش ہو جاتا. آج شام میں اسے ہوش میں لانے میں کامیاب ہو گئی مگر اس کی سانسیں ہموار نہ ہو سکیں . سو دل پر پتھر رکھ کر اسے الوداع کہا. اس کی جدائی میں سخت ڈپریشن ہو گیا تھا کیونکہ وہ اپنے ساتھ میرا قیمتی سرمایہ بھی لے گیا .
    جانے والے کب لوٹ کر آتے ہیں مگر کاروبارِ دُنیا کو تو رواں رہنا ہے
    وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ پرانے کرداروں کی جگہ نئے کردار آ جاتے ہیں . سو ایک نئے ڈبو نے پُرانے ڈبو کی جگہ لے لی ہے
    اب آپ سمجھ ہی گئی ہونگی کہ میرا کمپیوٹر بجلی کے جھٹکے سے فوت ہو گیا تھا اسے میں پیار سے ڈبو کہتی تھی
    غزل کی پذیرائی کے لئے آپ کی بے حد ممنون ہوں
    فون پر غیر حاضری کی اطلاع نہ دے سکی کیونکہ فون نمبر بھی کمپیوٹر پر ہی محفوظ تھے. اب سوچتی ہوں کہ قلم ہاتھ میں پکڑنے کی عادت تو بھول گئی مگر اپنی تخلیقات کے پرنٹ آوٹ تو لئے جا سکتے تھے
    خیر اب پچھتائے کیا ہوت
    والسلام
    زرقا

  30. شکر ہے بہن زرقا کی خیریت مل گئی ورنہ ھماری آپی کا کیا حال ہوتا سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے
    زرقا چی اب اپنے نئے ڈبو کو بجلی کے جھٹکوں سے بچا کر رکھیے گا ورنہ عالمی اخبار کے تمام ساتھیوں کو جھٹکے لگنے لگیں گے
    آپ کا خیر خواہ

  31. مصباح بھائی
    السلام علیکم
    آپکی حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں
    والسلام
    زرقا

  32. محترم ھمدانی صاحب
    تسلیمات
    ابھی شام کو ہی میں مفتی صاحب سے گلہ کر رہی تھی کہ آپ نے اوروں کی کتابیں بھی چھپوائیں اور ہوٹلوں میں فنکشن بھی کروائے ایک کتاب بیگم کی بھی چھپوا دیتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا.
    ایک دو ماہ قبل سارا کلام اکٹھا کیا تھا ایک ای بک بنانے کا ارادہ تھا مگر اب دوبارہ محنت کرنی ہوگی.
    ویسے غیر حاضری کا یہ فائدہ تو ہوا کہ سبھی احباب نے یاد کیا
    والسلام
    زرقا

  33. بہن زرقا اس طرح غائب نہ ہوا کرو سب لوگ پریشان ہو جا تے ہیں یہ ہی ایک کنبہ کا فرد ہونے کی پہچان ہے . خدا کا شکر ہے کہ خیریت سےہو.رہا آپکا ڈبو جہاں ہر چیز میں اتار چڑھاو وہاں ایک کمپیوٹر کی کیا بساط ہے اتنے دن جی لیا وہی بہت ہے؟

  34. اللہ کا لاکھہ لاکھہ بار شکر ھے کہ ھم سب کی بہت محترم اور بہت اچھی دوست زرقا بخیر ھیں ۔۔ وہ صرف اور صرف ڈبو کی وجہ سے غیر حاضر تیھں ۔ میں نے بھی منت مانگی تھی کہ جب تک زرقا کی خیریت کی خبر نیہں آتی جاگ کر زائرہ بجو والا عمل کرتی رھونگی ۔۔ ابھی شکرانہ بھی ادا کرنا ھے آپ جانتے ھونگے ناں۔۔،صبح تفصیل سے تبصرہ ھوگا ڈبو پر نۓ والے ۔ زرقا سہامت رھو

  35. الحمد للہ۔ زرقاء بہن کی طرف سے خیریت کی خبر آئی۔ دیکھیں اگر آپ کو کوئی ہارڈ وئیر کا بندہ مل جائے جو آپ کے ڈبو ء قدیمی کی معلومات نئی نسل کو منتقل کر دے، جس سے تخلیقات محفوظ ہو جائیں گی۔
    تخلیقات ایسی چیز ہیں جن کی مثل دوبارہ نہیں پیدا کی جا سکتی۔ اسی لئے اصل بچ جائے تو یہی بہتر ہے۔
    والسلام
    نا چیز

  36. محترمہ زرقا صاحبہ ،
    آپ کی خیریت کی اطلاع پاکر خوشی جبکہ آپ کے ڈبو کی ناگہانی وفات کی سن کر صدمہ ہوا ۔ میرے خیال میں آپ کا ڈبو مرا ہر گز نہیں ، وہ محض کسی ڈیپریشن کا شکار ہوکر کومے میں ہے ۔ آپ خود ہی خیال فرمائیں کہ وہ بچارا بے زبان ہی تو ہے ، بالکل گیلانی کی طرح ! ارے ارے وہ بے زبان کہاں ہوا ذرا سی انگلی کی جنبش ٹیڑھی ہوجائے تڑاخ تڑاخ ’ شور ‘ شروع کردیتا ہے ، بالکل باربر اعوان کی طرح ۔ گو اسکے کان نہیں ہیں یا کانوں کا کچا کہہ لیں ، بالکل نواز شریف کی طرح ، لیکن دماغی لحاظ سے تو وہ بالکل زرداری ہے بلکہ اسے بھی آگے ۔ ایسے شاطر ڈبو کے حوالے جب اتنا حساس کلام کیا جائے گا :

    سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
    کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

    تو آپ کا کیا خیال ہے وہ کسی بات کو پرسنل نہیں لے گا کیا ؟ یقیناً ایسا ہی ہوا کہ آپ کے ڈبو نے اس بات کو دل پہ لیا ہے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے ، سو آئندہ احتیاط کا مشورہ ہے ۔

    ڈبو کو صرف وائرس انفیکشن ہوئی ہے اور شقی القلب ڈاکٹروں نے اس کی موت کا پروانہ جاری کر دیا ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ ضرور اس کے اعضاء بیچ کر اپنی جیبیں بھریں گے ۔ اگر اس کا وہاں علاج نہیں تھا تو کم از کم ہم سے مشورہ کر لیا ہوتا ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یورپ ، برطانیہ ، امریکہ وغیرہ میں علاج معالجے کی تمام سہولیات میسر ہیں ۔ ابھی ہمارے شریف برادران بھی ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بعد ڈیپریشن کا شکار ہو کر یہاں وارد ہوئے ہیں ، یہ ڈبو بھی ان کے ہمراہ بھجوا دیتیں آگے میں خود سنبھال لیتا ۔

    بہرحال نیا ڈبو مبارک ہو اور ہاں اس کی دلجوئی کی خاطر اس میں سے محترمہ شاہین رضوی کا یہ شعر نکال دیں

    ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
    تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

    اللہ آپ کو اپنے نئے ڈبو سمیت بخریت رکھے ۔

  37. شاھین بہن اور قاضی صاحب
    السلام علیکم
    میں آپ دونوں کی بے حد ممنون ہوں ۔
    والسلام
    زرقا

  38. السلام علیکم
    زائرہ آپا اور جعفر بھائی
    اس بلاگ پر تشریف آوری کے لئے ممنون ہوں
    جیلانی بھائی
    انٹرنیٹ کی سیر کئے بنا کھانا ہضم نہیں ہوتا کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ غیر حاضری اتنی لمبی ہو جائے گی۔ اب ڈائری میں ضروری نمبر لکھ لئے ہیں تاکہ بروقت اطلاع دے سکوں
    آصف بھائی
    آپ کے مضامین اچھے ہیں مگر کچھ تکنیکی خامیاں ہیں
    ثمرین جی
    غزل پسند کرنے کے لئے شکریہ
    کیانی صاحب
    آپ کے تبصرے کے لئے شکریہ تھوڑی سی تصحیح فرما لیجئے
    شاھین بہن نے میری ہی دو مزید غزلیں یہاں نقل کی ہیں
    غزالہ جی بلاگ پر خوش آمدید تفصیلی تعارف ہو جائے تو اچھا ہے
    والسلام
    زرقا

  39. زرقا مفتی صاحبہ نے اپنی اس بہت ہی عمدہ غزل میں جن قافیوں کو باندھا ہے انکا اپنا انداز ہے ۔ انکی غزل کے ہر شعر میں سادگی کے ساتھ ساتھ گہرائی بھی ہے ۔ اس وجہ سے ہر شعر دل میں اترتا جاتا ہے ۔

    اسی غزل کی زمین میں غالب کا انداز بیاں ملاحظہ کیجئے کہ وہ کتنا دقیق ہے جس کی وجہ سے اسکی مندرجہ ذیل غزل کے چند ایک اشعار کو سمجھنے کےلیے لغت سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی ہے:

    مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
    ایک چکر ہے مرے پاوں میں زنجیر نہیں

    شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھکو کہ جہاں
    جادہ غیر از نگہ ء دیدہ ء تصویر نہیں

    حسرتِ لذتِ آزار رہی جاتی ہے
    جادہء راہِ وفا جز دمِ ِ شمشیر نہیں

    رنجِ نومیدی ء جاوید گوارا رہیو
    خوش ہوں گر نالہ زبونی کشِ تاثیر نہیں

    سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہوجائے
    لذتِ سنگ بہ اندازہ ء تقریر نہیں

    جب کرم رخصت بیباکی و گستاخی دے
    کوئی تقصیر بجز خجلتِ تقصیر نہیں

    غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ِ ناسخ
    آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  40. عزت ماّب جاوید اقبال کیانی صاحب ،اسلام علکیم،

    ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
    تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

    مجھہ جیسے کم فہم لوگوں کو ایسے اشعار کہنے کےلیے پوری صدی درکار ھے ۔ چونکہ یہ بلاگ ھماری بہت عزیز اور ادب پروردوست زرقا مفتی کےلیے تھا اس لیے انکی ھی شاعری پیش کی جارھی ھے ۔لیجے زرقا کی ایک اور بہت خوبصورت غزل آپ سب کی نذر

    ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیئے
    پُر خار حسرتوں کو جلا دینا چاہئیے

    جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا
    تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیئے

    ہر شخص ہے غلام یہاں اپنے نفس کا
    اخلاص کی روش کو بُھلا دینا چاہیئے

    برباد ہو چکا ہے مرے دل کا یہ چمن
    خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہیئے

    مانوس ہو چکے ہیں اندھیروں سے اس قدر
    تاروں کو اور قمر کو بجھا دینا چاہیئے

    اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے
    موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیئے

    پندار کی شکست نے بےحال کر دیا
    اپنی انا کے بُت کو گرا دینا چاہیئے

    آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
    احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

    ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

    ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
    اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے

    زرقا مفتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *