حضرت علی علیہ السّلام (599 – 661) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد السلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا ۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی ۔
آپ کی شادی مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہزادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے ہوئی اور آپ کی گھریلو زندگی طمانیت اورراحت کا ایک بے مثال نمونہ تھی ۔
حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن علیہ السّلام، امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام، جبکہ ایک صاحبزادی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا بھی حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے تھیں۔
غزوہ بدر ،غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے . تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا ۔حضرت علی علیہ السلام مسلمانوں کے پہلے امام اور چوتھے خلیفہ تھے ۔
جتنے اقوال مبارک حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں ۔۔ سبحان اللہ .. چند احادیث مبارک کی روشنی میں مولائے کائینات و متقیان حضرت علی علیہ السلام کی شان مبارک دیکھئے …
1.علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں
2. میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے
3.تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے
4. علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی
5.علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔
6.علی خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں
7. مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا.
8.عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے لئے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا.
9.جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا
10.غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔
حضرت علی علیہ السّلام کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی وفات ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔
اقوال مولا علی علیہ السلام ۔۔۔ فرماتے ہیں ۔۔
1. جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں ….
2. گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔
3. جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے ….. .
4. ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ,جو اس شخص میں ہے …..
5. تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے. …..-
اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤ, تو وہ اسی قابل ہوں گی .
– تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے
– اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خو ف نہ کھائے .
— اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے و ہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا
– اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں
— صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے.اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے ,یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں .
6. عفت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے .
7. تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے .
8. کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد.
9. ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث.
10. جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا.


جزاک اللہ۔نیک کام میں اولیت اور پہل بذات خود باقی نیکیوں کی نسبت بڑی نیکی ہے اور اللہ پاک کا احسان ہے۔یہ سعادت وہ جسے چاہے بخش دے۔
ولادت علی (ع) کے سلسلہ میں علماء، مؤرخین و محدثین اہل سنت کا نظریہ
حضرت علی علیہ السلام
حاکم نیشابوری
امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ خانہ کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے یہ روایت تواتر کی حد تک ہے ۔ (1)
حافظ گنجی شافعی
امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر شب جمعہ ۳۱رجب ، ۰۳ عام الفیل کو پیدا ہوئے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی بیت اللہ میں پیدا نہ ہوا ۔ یہ مقام و منزلت و شرف فقط حضرت علی علیہ السلام کو حاصل ہے ۔ (2)
علامہ ابن صبّاغ مالکی
علی بن ابی طالب علیہ السلام شب جمعہ ۳۱رجب ،۰۳عام الفیل، ۳۲سال قبل از ہجرت مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔حضرت علی علیہ السلام کی جلالت وبزرگی اور کرامت کی وجہ سے خداوند عالم نے اس فضیلت کوان کے لئے مخصوص کیا ہے ۔ (3)
احمد بن عبد الرحیم دہلوی
شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم د معروف محدث دہلوی نقل کرتے ہیں:
”بغیر کسی شک و شبہ کے یہ روایت متواتر ہے کہ علی بن ابی طالب علیہ السلام شب جمعہ ۱۳رجب ،۳۰عام الفیل، ۲۳سال قبل از ہجرت ،مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر فاطمہ بنت اسد کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے ۔ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد کوئی بھی شخص خانہ کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا ۔ حضرت علی (ع) کی جلالت وبزرگی اور کرامت کی وجہ سے خداوند عالم نے اس فضیلت کوان کے لئے مخصوص کیا ہے “ (4)
علامہ ابن جوزی جنفی کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے
”جناب فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کررہی تھیں کہ وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اسی وقت خانہ کعبہ کا دروازہ کھلا اورجناب فاطمہ بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہوگئيں ۔اسی جگہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی علیہ السلام پیدا ہوئے ۔“ (5)
ابن مغازلی شافعی زبیدہ بنت عجلان سے نقل کرتے ہیں :
”جس وقت فاطمہ بنت اسد پر وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اور درد شدت اختیار کرگیا ، تو جناب ابو طالب(ع) بہت زیادہ پریشان ہوگئے اسی اثناء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہاں پہنچ گئے اور پوچھا چچا جان آپ کیوں پریشان ہیں! جناب ابو طالب (ع) نے جناب فاطمہ بنت اسد کا قضیہ بیان کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فاطمہ بنت اسد کے پاس تشریف لے گئے ۔ اور آپ (ص) نے جناب ابو طالب (ع) کا ہاتھ پکڑکر خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہو گئے ،فاطمہ بنت اسد بھی ساتھ ساتھ تھیں ۔ وہاں پہنچ کر آپ نے فاطمہ بنت اسد کو خانہ کعبہ کے اندر بھیج کر فرمایا : ”اجلسی علیٰ اسم اللّٰہ “ اللہ کا نام لے کر آپ اس جگہ بیٹھ جائیے ۔ پس کچھ دیر کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت و پاکیزہ بچہ پیدا ہوا ۔ اتنا خوبصورت بچہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ جناب ابوطالب (ع) نے اس بچہ کا نام ” علی “رکھا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس بچہ کو ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر فاطمہ بنت اسد کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے ۔ (6)
علامہ سکتواری بسنوی
اسلام میں وہ سب سے پہلا بچہ ہے جس کا تمام صحابہ کے درمیان ”حیدر “ یعنی شیر نام رکھا گیا ہے۔ وہ ہمارے مولا اور سید و سردار حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔ جس وقت حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابو طالب (ع)سفر پر گئے ہوئے تھے ۔ حضرت علی علیہ السلام کی مادر گرامی نے ان کا نام تفأل کرنے کے بعد”اسد“ رکھا ۔ کیوں کہ” اسد“ ان کے والد محترم کا نام تھا۔ (7)
علامہ محمد مبین انصاری حنفی لکھنوی(فرنگی محلی)
حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی بھی اس پاک و پاکیزہ اور مقدس جگہ پر پیدا نہ ہوا ۔ خدا وند عالم نے اس فضیلت کو فقط حضرت علی (ع) ہی سے مخصوص کیا ہے اور خانہ کعبہ کو بھی اس شرف سے مشرف فرمایا ہے۔ (8)
صفی الدین حضرمی شافعی لکھتے ہیں
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ۔آپ (ع) وہ پہلے اور آخری شخص ہیں جو ایسی پاک اور مقدس جگہ پیدا ہوے ۔ (9)
حافظ شمس الدین ذہبی
حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذہبی ” تلخیص مستدرک “ میں تحریر فرماتے ہیں: یہ خبر تواتر کی حد تک ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ (10)
آلوسی بغدادی
یہ واقعہ اپنی جگہ بجا اور بہتر ہے کہ خدا وند عالم نے ارادہ کیا ہے کہ ہمارے امام اور پیشوا کو ایسی جگہ پیدا کرے جو سارے عالم کے مومنین کا قبلہ ہے ۔ پاک و پاکیزہ ہے وہ پر وردگار کہ ہر اس چیز کو اسی کی جگہ پر رکھتا ہے ۔وہ بہترین حاکم ہے ۔ (11)
وہ آگے لکھتے ہیں:
جیسا کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بھی چاہتے تھے کہ خانہ کعبہ جس کے اندر پیدا ہونا ان کے لئے باعث افتخار تھا اس کی خدمت کریں۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے بتوں کو بلندی سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا ۔ حدیث کے ایک ٹکڑے میں آیا ہے کہ خانہ کعبہ نے بارگاہ خداوندی میں شکایت کرتے ہوئے کہا : بار الٰہا کب تک لوگ میرے چاروں طرف بتوں کی پوجا کرتے رہیں گے۔ خداوند عالم نے اس سے وعدہ کیا کہ اس مکان مقدس کو بتو ں سے پاک کرے گا۔ (12)
1- مستدرک حاکم نیشاپوری ،ج۳ص۴۸۳۔۵۵۰( حکیم ابن حزام کے شرح میں) و کفایۃ الطالب،ص۲۶۰
2- کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷
3- الفصول المہمۃ ،ص۳۰
4- ازالۃ الخلفاءج۲ص۲۵۱
5- تذکرۃ الخواص ،ص۲۰
6- مناقب ابن مغازلی ،ص ۶، ح۳ ۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰
7- محاضرۃ الاوائل ،ص۷۹
8- وسیلۃ النجاۃ ،محمد مبین حنفی ،ص۶۰( چاپ گلشن فیض لکھنو )
9- وسیلۃ المآل ،حضرمی شافعی ، ص۲۸۲
10- تلخیص مستدرک ج۲ص۴۸۳
11- غالیۃ المواعظ ،ج ۲ص۸۹ و الغدیر ،ج۶ ، ص۲۲
12- ازاحۃ الخلفاءعن خلافۃ الخلفاء،ص۲۵۱
تحریر : مولانا صفدر حسین یعقوبی
جتنے اقوال مبارک حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں ۔۔ سبحان اللہ .. چند احادیث مبارک کی روشنی میں مولائے کائینات و متقیان حضرت علی علیہ السلام کی شان مبارک دیکھئے …
1.علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں
2. میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے
3.تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے
4. علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی
5.علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔
6.علی خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں
7. مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا.
8.عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے لئے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا.
9.جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا
10.غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔
حضرت علی علیہ السّلام کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی وفات ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔
اقوال مولا علی علیہ السلام ۔۔۔ فرماتے ہیں ۔۔
1. جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں ….
2. گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔
3. جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے ….. .
4. ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ,جو اس شخص میں ہے …..
5. تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے. …..-
اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤ, تو وہ اسی قابل ہوں گی .
– تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے
– اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خو ف نہ کھائے .
— اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے و ہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا
– اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں
— صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے.اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے ,یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں .
6. عفت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے .
7. تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے .
8. کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد.
9. ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث.
10. جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا.
ڈاکٹر نگہت نسیم سڈنی
عالمی آخبار کے سال گذشتہ سے اقتباس ،
ھم سب کو رجب کامہینہ مبارک ھو، اھل اسلام کو جشن ولادت مولاۓ کائنات بہت مبارک ھو،
اللہ پاک ڈاکٹر نگہت نسیم کی سعی کو قبول فرماۓ آمین ثم آمین اور دارین میں اجر کثیر عطا فرماۓ آمین ثم آمین
اللھم صلی علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم
مدح کائنات مولا حضرت علی مشکل کشاء علیہ السلام
شب ہجرت علی نے بھی عجب خدمت گزاری کی
مَلک بھی جس سے حیراں ہو گئے وہ جاں نثاری کی
تمہارا اے علی مرتضی واللہ کیا کہنا
ادا کرتے ہیں یوں حقِ اُخّوت واہ کیا کہنا
جو بندے تابع حکم شہ ابرار ہوتے ہیں
وہ یوں بیخوف مرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں
جری و مرد میدانِ تہور ایسے ہوتے ہیں
شجاعت اس کو کہتے ہیں بہادر ایسے ہوتے ہیں
نبی کا سُن کے حکمِ پاک سیدھے اُن کے گھر آئے
اگرچہ سامنے تھی موت لیکن بے خطر آئے
کہیں آزردہ ہوسکتے ہیں مرد ایسے ملالوں سے
وہ تھے شیر خدا کیا خوف کرتے ان شغالوں سے
علی کے مرتبوں کا حال کوئی اور کیا جانے
جناب سرور کونین جانیں یا خدا جانے
علی سرور وان گلشن رشد و ہدایت ہے
علی مولائے امت ہے علی شاہ ولایت ہے
علی کی ذات والا وجہ فخر زہد و طاعت ہے
علی کا روئے انور دیکھنا عین عبادت ہے
علی وہ ہیں جنہوں نے چیر کر پھینکا ہے ازدر کو
علی وہ ہیں اکھاڑا ہے جنہوں نے باب خیبر کو
علی ہیں والدسبطین و زوج حضرت زہرا سلام اللہ علیہا
علی ابن ابی طالب ہیں داماد شہہ والا
علی وہ ہیں جو یکتا فن تیغ آزمائی میں
علی وہ ہیں نہیں جن سا کوئی مشکل کشائی میں
علی دنیا کے مولا ہیں علی اُمت کے والی ہیں
علی اعلٰی و اکمل ہیں علی اولٰی و عالی ہیں
نہ ملے گا علی سا ایک بھی لاکھوں ہزاروں میں
علی ہیں پنجتن میں اور علی ہیں چار یاروں میں
وہ ہیں خاص رسول حق ہے زینت ہر طرف اُن سے
ولایت کو ہے ان پر فخر امامت کو شرف ان سے
علی ہیں نفسِ پیغمبر علی ہیں ساقیء کوثر
علی ہیں قاتل مرحب علی ہیں فاتح خیبر
علی درجے میں اعلٰی ہیں علی رتبہ میں بالا ہیں
علی مقبول درگاہ خدا وند تعالی ہیں
علی تھے اس قدر مقبول سرکارِ پیمبر میں
کہا ہے لحمک لحمی علی کی شان برتر میں
کبھی اپنی ردائے پاک اڑھا کر شاد فرمایا
کبھی من کنت مولاہ سے اُن کو یاد فرمایا
کبھی آشوب سخت چشم سے اُن کو اماں بخشی
کبھی شمیشر ذوالفقار جاں ستاں بخشی
ذرا دیکھے تو کوئی کیا معظم کیا مؤقر ہیں
نبی ہیں شہر علم اور مرتضی اُس شہر کی در ہیں
یہ مانا اُن کا درجہ اِس سے اعلٰی اس سے اونچا ہے
یہ اُن کی مدح میں پھر بھی کسی نے خوب لکھا ہے
علی کا نام بھی نامِ خدا کیا راحتِ جاں ہے
عصائے پیر ہے تیغ جواں ہے حرز طفلاں ہے
علی ہیں اہل بیت مصطفی میں یہ روایت ہے
وہی ہے مومن کامل جسے اُن سے محبت ہے
خدا کے گھر میں پیدایش ہوئی جن کی علی وہ ہیں
سخی وہ ہیں غنی وہ ہیں جری وہ ہیں ولی وہ ہیں
خدا کی راہ میں جاؤ، علی علی کہہ کر
نبی کی شان سناؤ، علی علی کہہ کر
ابو تر اب کو جاؤ کہیں سے لے آؤ
زمیں پہ پھول بچھاؤ، علی علی کہہ کر
تمھاری راہ میں باطل اگر کوئی آئے
اسے پچھاڑ کے جاؤ، علی علی کہہ کر
غدیر خم کو چلو سب نبی بلاتے ہیں
بلاؤ سب کو بلاؤ، علی علی کہہ کر
فلک سے آئی صدا دین کی کرو تکمیل
نبی ! علی کو اٹھاؤ، علی علی کہہ کر
وہ جس نے سن لیا اوروں کو بھی سنائے گا
ثواب خوب کماؤ ، علی علی کہہ کر
سماں ہو عید کا یوں ایک دوسرے سے ملو
دلوں کی کھوٹ مٹاؤ، علی علی کہہ کر
فرشتو باد صبا کو ہواؤں میں گھولو
ستارو ارض پہ آؤ، علی علی کہہ کر
جہاں ہو ذکر علی، علی علی کہہ کر
سب اپنا فرض نبھاؤ، علی علی کہہ کر
گوگل سرچ
اعلان فضائل علی کی ایک جھلک
فضائل و امتیازات امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کی ایک جھلک
جوکہ علمائے اہل سنت اور اہل تشیع کی کتابوں میں مرقوم ہیں
1ـ خانہ کعبہ میں ولادت: « ان فاطمه بنت اسد ولدت علی ابن ابی طالب فی جوف الکعبه»؛ فاطمہ بنت اسد نے علی کو خانہ کعبہ میں جنم دیا.”مستدرک الصحیحین جلد 3″
2ـ آپ عالم اسلام میں پیغمبر خدا کے بعد پہلے مسلمان ہیں: « علی اول من اسلم»؛ علی (علیه السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا.”تاریخ ابن جبیر طبری جلد2″
3ـ پیغمبر علیہ السلام کے ساتھ پہلے نماز پڑھنے والے: « اول من صلی مع رسول العلی»؛ پہلے شخص جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑی علی (علیه السلام) ہیں.”صحیح ترمزی جلد2″
4ـ پیغمبر علیہ السلام کے بھائی: یا علی انت اخی فی الدنیا و الآخره ” اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ صحیح ترمزی جلد2″
5ـ وصی و جانشین رسول اکرم: «هذا اخی و وصیی و خلیفتی فیکم فاسمعوا له و اطیعوه»؛ یہ علی (علیه السلام) تمہارے درمیاں میرا بھائی وصی اور جانشین من ہے پس اس کی بات سنو اور اطاعت کرو.”کنز العمال جلد6″
6ـ امت کے دانا ترین شخص بعد از پیغمبر علیہ الصلوة والتسلیم: « اعلم امتی من بعدی علی ابن ابی طالب (علیه السلام)». ” میرے بعد میری امت کا دانا ترین شخص علی ہے۔ کنز العمال جلد 6″
فضائلِ علی علیہ السلام غیر مسلم مفکرین کی نظر میں
امیر الموٴمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیرسبھی مفکرین اور دانشمند متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ جس کسی نے اس عظیم انسان کے کردار،گفتار اور اذکار میں غور کیا، وہ دریائے حیرت میں ڈوب گیا۔ غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے جب امام المتقین علیہ السلام کے اوصاف کو دیکھا تو دنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے افکارِ علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیکھا کہ آپ میں کمالِ طہارت، جادوبیانی، حرارتِ ایمانی، بلندیٴ روحِ انسانی، بلند ہمتی، نرم خوئی جیسی صفات موجود ہیں۔ ایک اور سکالر نے کہا کہ علی علیہ السلام روشن ضمیر، شہید ِمحراب اور عدالت ِ انسانی کی پکار تھے۔ وہ مولا علی کوستاروں سے بلند مقام پر سمجھتا ہے۔
ایک محقق لکھتا ہے کہ علی علیہ السلام وہ پہلی شخصیت ہیں جن کا پورے جہان سے روحانی تعلق ہے۔ وہ سب کے دوست ہیں اور اُن کی موت پیغمبروں کی موت ہے۔ دوسرا محقق لکھتا ہے کہ علی علیہ السلام روح و بیان میں ایک لامتناہی سمندر کی مانند ہیں اور ان کی یہ صفت ہر زمان اور ہر مکان میں ہے۔
امیر الموٴمنین علی علیہ السلام کی ان تمام صفات کو استاد شہریار ایک شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:
نہ خدا تو انمش گفت نہ بشرتو انمش خواندمتحیرم چہ نامم شہ ملکِ لافتیٰ را
”میں(علی علیہ السلام)کو نہ تو خدا کہہ سکتا ہوں اور نہ ہی بشر کہہ سکتا ہوں۔ میں حیران ہوں کہ اس شہ ملک ِ لافتیٰ کو کیا کہوں!“
آئیے اب غیر مسلم مفکروں کے نظریات کو دیکھتے ہیں:
شبلی شُمَیِّل)ایک عیسائی محقق ڈاکٹر)
”امام علی ابن ابی طالب علیہما السلام تمام بزرگ انسانوں کے بزرگ ہیں اور ایسی شخصیت ہیں کہ دنیا نے مشرق و مغرب میں، زمانہٴ گزشتہ اور حال میں آپ کی نظیر نہیں دیکھی“۔
حوالہ
کتاب ادبیات و تعہد در اسلام، مصنف: محمد رضا حکیمی، صفحہ250۔
۔۔۔۔۔
ولتر)فرانسیسی فلاسفر اور رائٹر ،اٹھارہویں صدی)
ولتر نے اپنی کتاب جو آداب و رسومِ اقوام کے بارے میں لکھی، اُس میں رقمطراز ہے کہ خلافت ِ علی برحق تھی اور اسی کی وصیت پیغمبر اسلام نے کی تھی۔ آخری وقت میں پیغمبراکرم نے قلم دوات طلب کی کہ حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کو خود اپنے ہاتھ سے لکھ دیں۔ ولتر اس بات پر پشیمان ہے کہ پیغمبر اسلام کی یہ وصیت کیوں نہ پوری کی گئی۔ جبکہ اُن کا جانشین علی کومقرر کردیا گیا تھاتوپیغمبر اسلام کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کو کیوں خلیفہ چن لیا تھا؟
۔۔۔۔۔
تھامس کارلائل)ایک انگریز فلاسفر اور رائٹر)
تھامس کارلائل لکھتا ہے:
”ہم علی کواس سے زیادہ نہ جان سکے کہ ہم اُن کو دوست رکھتے ہیں اور اُن کو عشق کی حد تک چاہتے ہیں۔ وہ کس قدر جوانمرد، بہادر اور عظیم انسان تھے۔ اُن کے جسم کے ذرّے ذرّے سے مہربانی اور نیکی کے سرچشمے پھوٹتے تھے۔ اُن کے دل سے قوت و بہادری کے نورانی شعلے بلند ہوتے تھے۔ وہ دھاڑتے ہوئے شیر سے بھی زیادہ شجاع تھے لیکن اُن کی شجاعت میں مہربانی اور لطف و کرم کی آمیزش تھی۔۔۔۔۔
اچانک کوفہ میں کسی بہانے سے اُنہیں قتل کردیاگیا۔ اُن کے قتل کی وجہ حقیقت میں اُن کا عدلِ جہانی کو درجہٴ کمال تک پہنچانا تھا۔ وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح عادل تصور کرتے تھے۔ جب علی سے اُن کے قاتل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں زندہ رہا تو میں جانتا ہوں(کہ مجھے کیا فیصلہ کرنا چاہئے) ۔اگر میں زندہ نہ بچ سکا تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے۔اگر آپ نے قصاص لینا چاہاتو آپ صرف ایک ہی ضربت لگا کر سزا دیں اور اگر اس کو معاف کردیں تو یہ تقویٰ کے نزدیک تر ہے“۔
حوالہ
کتاب ”داستانِ غدیر“، صفحہ294،نقل از کتاب صوت العدالۃ،صفحہ1229۔
۔۔۔۔۔
نرسیسان(ایک عیسائی عالم جو بغداد میں سفارتِ برطانیہ کا انچارج بھی تھا)
”اگر یہ بے مثال اور عظیم خطیب(علی علیہ السلام) آج بھی منبر کوفہ پر آکر خطبہ دیں تو مسجد ِ کوفہ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود یورپ کے تمام رہبران او رعلماء سے کھچا کھچ بھرجائے گی۔یہ رہبراور علماء اس لئے آئیں گے کہ وہ اپنے علم کی پیاس اس درِ شہر علم کے بیکراں سمندر سے بجھا سکیں“۔
حوالہ کتاب”داستانِ غدیر“،نقل از کتاب”ماہونہج البلاغہ“،صفحہ3۔
۔۔۔۔۔
سلیمانِ کتانی)ایک عیسائی لبنانی دانشور)
”مہاجرین کی اوّلین شخصیات میں سے علی علیہ ا لسلام سب سے زیادہ معروف تھے۔ انہوں نے بہت سی جنگوں اور معرکوں میں فتح حاصل کرکے اپنے نام کا سکہ بٹھادیا تھا۔ لیکن ان کامیابیوں سے بھی قیمتی چیز یہ تھی کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے دل میں ایک مقام بنالیا تھا۔ وہ پیغمبر اسلام ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ اُن کے دوست بھی تھے۔ ایسے ساتھی بھی تھے جو کبھی جدا نہ ہوئے۔ وہ (حضرت علی علیہ السلام) پیغمبر اسلام کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ہمسر بھی تھے۔ پیغمبر اسلام کی عظیم بیٹی جو اپنے والد کو سب سے زیادہ عزیز تھی، وہ(علی علیہ السلام) حسن و حسین کے والد ِ بزرگوار بھی تھے جن سے نسلِ پیغمبر چلی۔ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے۔ وہ دین کے سب سے طاقتور محافظ ، شجاع ترین حامی اور مستحکم جنگجو تھے۔ وہ سب سے زیادہ عقلمند،حالات کی نزاکت کو سمجھنے والے رہبر، بے نظیرمقرر اور دین کا بہترین دفاع کرنے والے تھے۔ان تمام حقیقتوں کو دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلام خدا سے دعا کرتے ہیں:
’پروردگار! ہرکوئی جو علی کو دوست رکھے، تو بھی اُسے دوست رکھ اور جو اُس سے دشمنی رکھے، تو بھی اُس سے دشمنی رکھ۔ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ علی قرآن سے ہے اور قرآن علی سے ہے‘
حوالہ کتاب’امام علی ، مشعلی و د ژی‘، مصنف:سلیمان کتانی، ترجمہ جلال الدین فارسی،
۔۔۔۔۔
جبران خلیل جبران)ایک معروف عیسائی مصنف) مولاۓ کائنات ،علی ابن ابی طالب علیہ اسلام کے بارے میں لکھتے ھیں
”میرے عقیدے کے مطابق ابو طالب کا بیٹا علی علیہ السلام پہلا عرب تھا جس کا رابطہ کل جہان کے ساتھ تھا اور وہ اُن کا ساتھی لگتا تھا۔ رات اُس کے ساتھ ساتھ حرکت کرتی تھی۔ علی علیہ السلام پہلے انسان تھے جن کی روحِ پاک سے ہدایت کی ایسی شعائیں نکلتی تھیں جو ہر ذی روح کو بھاتی تھیں۔ انسانیت نے اپنی پوری تاریخ میں ایسے انسان کو نہ دیکھا ہوگا۔ اسی وجہ سے لوگ اُن کی پُر معنی گفتار اور اپنی گمراہی میں پھنس کے رہ جاتے تھے۔ پس جو بھی علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہے، وہ فطرت سے محبت کرتا ہے او رجو اُن سے دشمنی کرتا ہے، وہ گویا جاہلیت میں غرق ہے۔
علی علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن خود کو شہید ِاعظم منوا گئے۔ وہ ایسے شہید تھے کہ لبوں پر سبحانَ ربی الاعلیٰ کا ورد تھا اور دل لقاء اللہ کیلئے لبریز تھا۔ دنیائے عرب نے علی علیہ السلام کے مقام اور اُن کی قدرومنزلت کو نہ پہچانا،یہاں تک کہ اُن کے ہمسایوں میں سے ہی پارسی اٹھے جنہوں نے پتھروں میں سے ہیرے کو چن لیا۔
علی علیہ السلام نے ابھی تو اپنا پیغام مکمل طو رپر اہلِ جہان تک نہ پہنچایا تھا کہ ابدی دنیا کی طرف راہی ہوگئے۔ لیکن میں اس چیز پر حیران ہوں کہ قبل اس کے کہ علی علیہ السلام اس خاکی دنیا کو خیرباد کہتے، اُن کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔
حضرت علی علیہ السلام کی موت اُن پیغمبرانِ خدا کی موت کی طرح تھی جو اس دنیا میں آئے۔اُن لوگوں کے ساتھ ایک مدت زندگی بسر کی جو اُن کے قابل نہ تھے اور آخر ِ وقت وہ تن تنہا اور خالی ہاتھ تھے“۔
حوالہ ”داستانِ غدیر“، صفحہ295۔
۔۔۔۔۔
ایلیا پاولویچ پطروشفسکی)روسی موٴرخ)
”علی ،محمد کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ دین اسلام کے حد درجہ وفادار تھے۔ علی علیہ السلام عشق کی حد تک دین کے پابند تھے۔ وہ سچے اور صادق تھے۔ اخلاقی معاملات میں انتہائی منکسر المزاج تھے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ اُن کے وجودِ پاک میں اولیاء اللہ ہونے کیلئے لازم تمام صفات موجود تھیں“۔
حوالہ ”داستانِ غدیر“،صفحہ297جو ”اسلام در ایران“باب اوّل سے نقل کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔
میخائل نعیمہ)مشہور عیسائی عرب مصنف)
”امام علی علیہ السلام کی قوت و شجاعت کا سکہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ صفاتِ الٰہی یعنی طہارت، حرارتِ ایمانی، تقویٰ، نرم خوئی ، بلند ہمتی، دردِ انسانی، جادوبیانی، مددِ محروم و مظلوم اور حمایت ِحق میں بھی یکتا تھے۔
وہ ہر حال اور ہر صورت میں دین حق کی سربلندی چاہتے تھے۔ اُن کی یہی قوتِ ایمانی ہمیشہ متحر ک اور لوگوں کیلئے چراغِ راہ بنی رہی ہے۔ اگرچہ دن بہ دن ، ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال گزرتے رہے، آج بھی اور کل بھی ہمارا یہ شوق بڑھتا ہی جارہا ہے کہ اُن کی تعمیر کردہ حکمت و دانائی کی عمارت تک پہنچ جائیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کوئی موٴرخ یا مصور چاہے کتنا ہی عقلمند اور دانا کیوں نہ ہو، مردِ عظیم مثلِ علی کی شخصیت کی صحیح عکاسی نہیں کرسکتا، وہ چاہے ہزار صفحے پر ہی محیط کیوں نہ ہو۔ یہ اس لئے کہ علی ایسے اسرارو رموز کے مالک ِیکتا عرب انسان تھے جنہوں نے کثیر غوروفکر کیا ۔ جو کہا،اُس پر عمل کیا۔ اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایسا راز و نیاز قائم کیا جس کو نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی آنکھ نے دیکھا۔ اُن کی شخصیت اُس سے کئی ہزار گنا بلند تر ہے جو زبان یا قلم نے ظاہر کیا ہے۔
پس علی علیہ السلام کی جو بھی تصویر کھینچی جائے، وہ اصل کے مقابل میں ناقص ہی نظر آئے گی۔ علی علیہ السلام ہر زمان و مکان میں بے مثل و بے نظیر ہیں“۔
حوالہ
کتاب ”امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام“،تالیف: عبدالفتاح عبدالمقصود،جلد1،
صفحہ17،مقدمہٴ کتاب۔
۔۔۔۔۔
بارون کارادوو)معروف فرانسیسی موٴرخ ومحقق)
”علی علیہ السلام ایسے بلند ہمت، شجاع اور بہادرانسان تھے جو پیغمبر اسلام کے ہمراہ اُن کے قدم بہ قدم دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑتے رہے اور آپ نے بڑے بڑے معجز نما کام انجام دئیے۔ معرکہٴ بدر میں علی علیہ السلام 20سالہ جوان تھے کہ اپنے ایک ہی وار میں قریش کے ایک گھڑ سوار کو دو ٹکڑے کردیا۔ جنگ ِ اُحد میں پیغمبر اسلام کی تلوار(ذوالفقار) کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دشمن کے سروں کے خود کو کاٹ دیا۔ اُن کی زرہوں کو پھاڑ دیا۔ جنگ ِخیبر میں ایک ہی حملے میں یہودیوں کے قلعہ کے بہت ہی وزنی دروازے کو اپنے ایک ہاتھ سے اکھاڑ دیا اور اُسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ پیغمبر اسلام اُن کو بہت عزیز رکھتے تھے اور اُن پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ ایک دن پیغمبر نے علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
”مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌ مَوْلَاہُ“
حوالہ
کتاب”امام علی “، تالیف: عبدالفتاح عبدالمقصود،جلد1،صفحہ16،مقدمہٴ کتاب۔
۔۔۔۔۔
جارج جُرداق)ایک معروف مسیحی مصنف)
”تاریخ اور حقیقت ِانسانی کیلئے یکساں ہے کہ کوئی علی علیہ السلام کو پہچانے یا نہ پہچانے،
تاریخ اور حقیقت ِ انسانی خود گواہی دے رہی ہے کہ علی علیہ السلام کا ضمیر زندہ و بیدار تھا۔ وہ شہید ِراہِ خدا تھے اور شہداء کے جد تھے، عدالت ِ انسانی کی فریاد تھے۔ مشرق کی ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت تھے۔
ایک کُلِ جہان! کیا تیرے لئے ممکن ہے کہ باوجوداپنی تمام قوتوں کے ، اپنی ترقیِ علم و ہنر کے علی جیسا ایک اور انسان جو علی جیسی عقل رکھتا ہو، اُسی جیسا دل ، ویسی ہی زبان اور ویسی ہی تلوار رکھتا ہو، اس دنیا کو دے دیتی؟“
حوالہ
کتاب ”امام علی “، تالیف: عبدالفتاح عبدالمقصود،جلد1،صفحہ18،مقدمہٴ کتاب۔
۔۔۔۔۔
”علی علیہ السلام کا وجود اُس گروہِ انسانی کیلئے انقلابی تھا جو اسلام کے اجتماعی نیک اہداف کے خلاف تھا۔ وہ گروہ اسلام کو منحرف کرنا چاہتا تھا۔ در حقیقت علی علیہ السلام حضرتِ محمد بن عبداللہ کے بعد اس انقلاب کے نمائندہ اور بانی تھے۔ اس کے اصولوں اور قوانین کو قائم کرنے والے وہی تھے۔ اس کے اہداف کو مشخص اور روشن کرنے والے تھے۔ علی تاریخ انسانی میں انقلابی ترین شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی گفتاروکردار سے اس راہ میں بھرپور کوشش کی۔
علی کے اقوال، ارشادات، گفتار اور خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے ہر فرد کے اندرونی اور بیرونی احساسات سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عادلانہ معاشرتی نظام کو قائم رکھنے کیلئے تہذیب ِ اخلاق انتہائی ضروری ہے اور معاشرے میں ہر فرد کو سرگرمِ عمل رکھنے کیلئے صحیح نظامِ حکومت بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔
علی کا افراد کی شخصیت پر اعتماد اور اطمینان اُسی طرح تھا جس طرح افراد کی شخصیت کو اعتماد عقلِ روشن، قلب ِ مہربان اور دل عشق حقیقی میں غلطاں دیتا ہے اور یہ تمام صفات علی علیہ السلام کے گرداگرد اکٹھی ہو گئی تھیں۔ اسی لئے اس اعتماد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علی کا فرمان ہے:
’اگر کوئی تجھ پر نیک ہونے کا گمان کرے تو تو اُس کے گمان کی(اپنے عمل سے) تصدیق کر‘۔
۔۔۔صبرو بُردباری کی یہ فضیلت وہ عظیم فضیلت ہے جس کو تم اخلاق و صفاتِ علی ابن ابی طالب علیہما السلام میں سب سے نمایاں پاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا علی علیہ السلام اُن افراد کے مقابلے میں جو اُن کے خون کے پیاسے تھے، صابر و بردبار نہ تھے؟ کیا علی علیہ السلام نے اُن کے ساتھ فراخدلانہ اور مشفقانہ سلوک نہ کیا تھا کہ وہ اُن کی اس فضیلت کو پہچان سکتے؟ کیا وہ اُن کے ساتھ محبت و عاطفت کے ساتھ پیش نہ آتے تھے؟ کیا علی علیہ السلام اُن کے ساتھ برادرانہ برتاؤ نہیں کرتے تھے؟ کیاحضرت علی علیہ السلام نے کبھی اُن کے ساتھ گلہ و شکوہ کیا؟ کیا انہیں کبھی شرمندہ کیا؟ کیا علی علیہ السلام نے دشمنوں کے سخت رویے اور تکلیف دہ اقدامات کا مردانہ وار صبرواستقامت سے مقابلہ نہیں کیا؟کیاحضرت علی علیہ السلام کی تمام زندگی صبرواستقامت کی زندگی نہ تھی جب ہر طرف سے اُن کے مقابل طوفان اٹھتے رہے؟کیا یہ شرفاء اور روٴساء کی ہوس پرستی نہ تھی کہ دنیا والوں کے ساتھ مل کر اُن کی طرف پشت کرلی تاکہ اُن کے فضائل و کمالات کو چھپایا جاسکے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی علیہ السلام نے ہمیں اُس طرح کی طرزِ زندگی دکھائی ہے جو سادگی، پیارومحبت اور مہرووفا کے پیکر میں خوبصورت ترین نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی علیہ السلام خود شناسی یا معرفت ِنفس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنے نفس کو نہ پہچاننااپنے آپ کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔ اُن کا قول ہے:
”جس انسان نے اپنے نفس کو نہ پہچانا، وہ ہلاک ہوگیا“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہج البلاغہ(حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، اقوال، ارشادات پر مبنی کتاب) کے جس حصے کا بھی مطالعہ کریں، اُس میں تسلسل و ترتیب ِمنطقی و اصولی نظرآئے گی۔ اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام کی بلندیٴ سوچ اور کمالِ ذہانت چھلکتی ہوئی نظر آئے گی۔ دوسری
خصوصیت یہ ہے کہ دو نظریات کے درمیان فکری ہم آہنگی ووحدت نظر آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام علی علیہ السلام کی لامتناہی فکری سوچ کی وجہ سے وہ الفاظ کا سہارا نہیں لیتے بلکہ وہ الفاظ اور کلمات خود انسان کو مزید سوچ و بچار کی دعوت دیتے ہیں۔ تم اُن کی کسی عبارت کو نہیں پاؤ گے مگر جس سے تمہاری فکر سوچ کیلئے نئے اُفق پیدا نہ ہوجائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی علیہ السلام اپنے سچے کردار اور سچائی کی وجہ سے دنیا میں پہچانے گئے اور حقیقت میں صدق و راستی اور سچائی ہی وہ واحد صفات ہیں جن سے کسی کے کردار کی شناخت کی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان دھوکہ نہیں کھاسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی ابن ابی طالب علیہ السلام منبر پر بڑے اطمینان اور اعتمادِ کامل کے ساتھ اپنے ارشاداتِ عادلانہ کا پرچار کرتے اور تقریر کرتے۔ وہ بہت سمجھ دار اور جلد نتیجہ پر پہنچنے والے انسان تھے۔ وہ لوگوں کے دلوں کے رازوں سے آگاہ تھے اور اُن کی اندرونی ہوس و خواہشات سے بھی واقف تھے۔ علی علیہ السلام سینے میں ایسا دل رکھتے تھے جو محبت و مہربانی سے مالا مال تھا اور آزادی اور فضائلِ انسان سے پُر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے دور میں جب ایسے حالات پیدا کردئیے گئے ہیں جو اقوام کی بدبختی کا باعث ہیں اور دنیا جنگ کے شعلوں کے قریب ہے، یقینا واجب ہے کہ ہم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ارشادات و اقوال پر کان دھریں اور اُن کو مشعلِ راہ بنالیں اور اُن کے آگے سرِ تعظیم خم کردیں“۔
حوالہ
کتاب”امام علی صدای عدالت ِ انسانی“، تالیف: جارج جرداق،ترجمہ: سید ہادی خسروی خسروشاہی، جلد4،صفحہ470۔صفحات:,468,442,325,296,248,247,13
فضائلِ علی علیہ السلام خلفاء کی نظر میں
حضرت علی علیہ السلام کی ذاتِ اعلیٰ کی معرفت کا ایک بہترین ذریعہ کلامِ خلفاء ہے۔ چند وجوہات کی بناء پر ان کا جاننا نہایت ضروری ہے۔
پہلی اہم وجہ تو یہی ہے کہ یہ کلام اُن شخصیات کا ہے جنہیں اصحابِ رسولِ خدا کہلانے کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے خود علی علیہ السلام کی بزرگی اور عظیم منزلت کی معرفت کیلئے فرموداتِ پیغمبر اسلام سنے۔ اس سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کیا ہوسکتا ہے؟
دوسری وجہ یہ ہے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والے ان کے کلام کو پڑھ کر زیادہ اثر قبول کریں گے اور تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ افراد شناخت ہوجائیں گے جنہوں نے پیغمبر اسلام کی زندگی مبارک کے بعد اُن کی نصیحتوں اور وصیتوں کو جو علی علیہ السلام کے بارے میں کی گئی تھیں، یکسر بھلا دیا اور حضرت علی علیہ السلام کو خلافت و ولایت کے حق سے محروم کردیا۔ اسی بحث کے دوران حضرتِ عائشہ کے فرمودات کا بھی تذکرہ کریں گے جنہوں نے علی علیہ السلام کی عظمت کیلئے کہے تھے:
کلامِ حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ
(الف)۔ ۔۔۔۔۔فَقٰالَ اَبُوبَکر:صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ قٰالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ لَیْلَةَ الْھِجْرَةِ،وَنَحْنُ خٰارِجٰانِ مِنَ الْغٰارِ نُرِیْدُ الْمَدِیْنَةَ:کَفِّی وَ کَفُّ عَلِیٍّ فِی الْعَدْلِ سِوَاءٌ۔
”حضرت ابوبکر بن قحافہ کہتے ہیں کہ خدا اور اُس کے رسول نے سچ کہا۔ہجرت کی رات ہم غار سے باہر تھے اور مدینہ کی طرف جارہے تھے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا:’میرا ہاتھ اور علی کا ہاتھ عدل میں برابر ہیں‘۔“
حوالہ جات
1۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، حدیث170،صفحہ129۔
2۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں،باب حالِ امام علی ،جلد2،صفحہ438،آخر ِ حدیث953
(شرح محمودی)۔
3۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب مناقب السبعون،ص277،
حدیث17،صفحہ300۔
4۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج11،ص604(موٴسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)
(ب)۔ عَنْ عٰائِشةَ قٰالَتْ:رَأَیْتُ اَبَابَکْرِالصِدِّیْقَ یُکْثِرُ النَّظَرَ اِلٰی وَجْہِ عَلِیِ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ،فَقُلْتُ یٰا أَبَةَ اِنَّکَ لَتُکْثِرُالنَّظَرَاِلٰی عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طالِبْ؟ فَقٰالَ لِی:یٰا بُنَیَّةُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَقُوْلُ ”اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْہِ عَلِیٍ عِبَادَة“۔
”حضرتِ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے باپ ابوبکر کو دیکھا جو علی علیہ السلام کے چہرئہ مبارک کو بکثرت دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا:بابا جان! آج آپ علی علیہ السلام کے چہرئہ مبارک کو کیوں دیکھ رہے ہیں؟ حضرت ابو بکر نے کہا :”اے میری بیٹی! میں نے رسولِ خدا سے سنا ہے جنہوں نے فرمایا ہے:”علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے“۔
حوالہ جات
1۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد7،صفحہ358۔
2۔ سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ172۔
3۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، صفحہ210،حدیث252،اشاعت ِ اوّل۔
4۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ،جلد2،صفحہ391،حدیث895
(شرح محمودی)و دیگر۔
(ج)۔ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ قٰالَ:قٰالَ اَبُوْبَکْرٍ الصدیق:اِرْقِبُوْامُحَمَّداً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم فِی اَھْلِ بَیْتِہ اَیْ اِحْفِظُوْہُ فِیْھِمْ فَلٰا تُوْذُوْھُمْ۔
”ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرنے کہا کہ حضرت محمد کا اور اُن کے اہلِ بیت کا دھیان رکھیں(یعنی اُن کی عزت و حرمت کا) اور اُن کے اہلِ بیت کی حفاظت کریں۔ اُن کو اور اُن کے اہلِ بیت کو اذیت نہ پہنچائیں“۔
حوالہ جات
1۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب54،صفحہ194،356۔
2۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج13،ص638(موٴسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)
(د)۔ حارث بن اعور روایت کرتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسے شخص کا پتہ دیتا ہوں جوعلم میں حضرتِ آدم علیہ السلام ،فہم و ادراک میں حضرت نوح علیہ السلام اور حکمت میں حضرتِ ابراہیم علیہ السلام جیسا ہو۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ علی علیہ السلام وہاں تشریف لے آئے، حضرت ابوبکر نے عرض کی:
یٰارَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم اِقْتَسْتَ رَجُلاً
بثَلاٰثَۃٍ مِنَ الرُّسُلِ۔بَخٍ بَخٍ لِھٰذاالرَّجُلِ۔مَنْ ھُوَیٰا رَسُوْلَ اللّٰہ؟ قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم اَوَلَا تَعْرِفُہُ یٰااَبَابَکْرٍ؟قٰالَ:اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ۔قٰالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم ھُوَ اَبُوْالْحَسَنِ عَلِیِّ بْنُ اَبِیْ طَالِبْ فَقٰالَ اَبُوْبَکْرٍ بَخٍ بَخٍ لَکَ یٰا اَبَاالْحَسَنِ وَاَیْنَ مِثْلُکَ یٰااَبَاالْحَسَن۔
”یا رسول اللہ! آپ نے اُس شخص کو تین رسولوں کے برابر کردیا۔ واہ واہ! وہ شخص کون ہے؟ نبی اکرم نے فرمایا:اے ابوبکر! کیا تو اُس شخص کو نہیں جانتا؟ حضرت ابو بکر نے عرض کی:خدا اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ابوالحسن علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہے۔ پس ابوبکر نے کہا:مبارک مبارک! یا اباالحسن! تمہاری مثال کون ہوگا اے اباالحسن !“
حوالہ
بوستانِ معرفت، سید ہاشم حسینی تہرانی، صفحہ447،نقل ازخوارزمی، باب7،ص45۔
(ھ)۔ قٰالَ الشَّعْبِیْ:بَیْنَااَبُوْبَکْرٍجٰالِسٌ اِذْطَلَعَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طالِبْ مِنْ بَعِیْدٍ فَلَمَّارَاَہُ اَبُوْبَکْرٍ قٰالَ مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی اَعْظَمِ النّٰاسِ مَنْزِلَةً وَاَقْرَبِھِمْ قَرٰابَةً وَاَفْضَلِھِمْ دٰالَّةً وَاَعْظَمِھِمْ غَنٰاءً عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم فَلْیَنْظُرْاِلٰی ھٰذَاالطّٰالِعِ۔
”شعبی نے کہا کہ ابو بکر اپنی جگہ پر تشریف فرما تھے کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام دور سے نظر آئے۔ جب ابوبکر نے اُن کو دیکھا تو کہا کہ ہر کسی کو خوش ہوجانا چاہئے کیونکہ وہ سب سے عظیم انسان کو دیکھے گا ۔ جو مرتبہ میں سب سے اعلیٰ اور (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قرابت داری میں سب سے زیادہ نزدیک ہے اور انسانوں میں سب سے زیادہ بلند ہے اور لوگوں سے بے نیازی میں سب سے زیادہ بے نیاز ہے اور یہ چیز اُس کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ملی ہے۔ پس اُن پر نگاہ کرو جو دور سے نظر آرہے ہیں“۔
حوالہ جات
بوستانِ معرفت،صفحہ650، نقل از ابن عساکر، تاریخ امیر الموٴمنین ،جلد3،صفحہ70،
حدیث1100اور مناقب ِ خوارزمی، باب14،صفحہ98۔
(و)۔ عَنْ زَیْدِ ْبنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْن قٰالَ:سَمِعْتُ اَبِیْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْن یَقُوْلُ:سَمِعْتُ اَبِی الْحُسَیْن بنِ عَلِیْ یَقُوْلُ قُلْتُ لِاَبِیْ بَکْرٍ یَا اَبَابَکْرٍ مَنْ خَیْرُ النّٰاسِ بَعدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ؟فَقٰالَ لِی:اَبُوْکَ۔
”زید بن علی بن الحسین سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے اپنے بابا علی ابن الحسین سے سنا،وہ فرماتے تھے کہ انہوں نے اپنے بابا حسین بن علی علیہما السلام سے سنا کہ انہوں نے حضرت ابوبکرسے پوچھا:اے ابابکر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟انہوں نے جواب دیا:تمہارے والد بزرگوار“۔
(ز)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسٰارٍ الْمُزْنِی قٰالَ:سَمِعْتُ اَبَابَکْرٍالصِّدِّیْقَ یَقُوْلُ:عَلِیُّ عِتْرَةُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم۔
”معقل بن یسار مزنی روایت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبکر سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ علی علیہ السلام اہلِ بیت سے ہیں اور خاندانِ رسولِ خداسے ہیں“۔
حوالہ کنزالعمال،جلد12،صفحہ489(موٴسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)۔
(ح)۔ (الریاض النظرةج2،ص163)قٰالَ:جٰاءَ اَبُوبَکرٍوَعَلِی یَزُورٰانِ قَبْرَالنَّبِی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم بَعْدَ وَفٰا تِہ بِسِتَّةِ اَیَّامٍ،قٰالَ عَلِیٌّ عَلَیْہِ السَّلَام لِاَبِی بَکْرٍ تَقَدَّمْ فَقٰالَ اَبُوْبَکْرٍ مٰاکُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ رَجُلاً سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَقُوْلُ:عَلِیٌ مِنِّی بِمَنْزِلَتِیْ مِنْ رَبِّی۔
”کتاب ریاض النظرہ،جلد2صفحہ163پر لکھتے ہیں کہ ابوبکر اور حضرت علی علیہ السلام بعد از وفاتِ پیغمبر اسلام متواتر چھ روز تک زیارتِ قبر کیلئے جاتے رہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر سے کہا کہ آپ آگے آگے چلیں توحضرت ابوبکر نے کہا کہ میں ہرگز اُس شخص کے آگے نہیں چلوں گا جس کے بارے میں خود رسول اللہ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ علی علیہ السلام کی منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو میری منزلت خدا کے سامنے ہے“۔
(ط)۔ عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسٰارِالْمُزْنِی یَقُوْلُ:سَمِعْتُ اَبٰابَکْرٍالصِّدِّیْقَ یَقُوْلُ لِعَلِیِّ ”عُقْدَةُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم“۔
”معقل بن یسار مزنی روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکرصدیق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام عقدئہ رسول اللہ ہیں“۔
”عقدہ“ بمعنی وہ شخص جو لوگوں سے رسول اللہ کیلئے بیعت منعقد کروائے۔
حوالہ ابن عساکر،تاریخ دمشق میں، شرح حالِ امام علی ،جلد3،حدیث1092،ص54
۔۔۔۔۔
(ی)۔ عَنْ قَیسِ بْنِ حٰازِمٍ قٰالَ:اِلْتَقٰی اَ بُوْبَکْرٍالصِّدِّیْقُ وَعَلِیٍُّ فَتَبَسَّمَ اَبُوْبَکْرٍ فِی وَجْہِ عَلِیٍّ فقٰالَ لَہُ مَالَکَ تَبَسَّمْتَ؟قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ”لَا یَجُوْزُ اَحَدٌ الصِّرٰ اطَ اِلَّامَنْ کَتَبَ لَہُ عَلِیُّنِ الْجَوٰاز“۔
”قیس بن حازم سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت علی علیہ السلام سے ملاقات کی اور انہوں نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چہرے کو دیکھا اور مسکرائے۔ حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا کہ مسکرانے کی وجہ کیا ہے؟ تو حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں نے پیغمبراسلام سے سنا ہے کہ کوئی بھی پل صراط سے نہ گزرسکے گا مگر جس کو علی علیہ السلام نے گزرنے کیلئے پروانہ(اجازت) لکھ کر دیا ہو“۔
حوالہ جات
نقل از مقدمہ کتاب”پھر میں ہدایت پاگیا“، مصنف:ڈاکٹر سید محمد تیجانی سماوی، صفحہ2،بمطابق نقل از ابان السمان درالموافقہ، صفحہ137اور ابن حجر،کتاب صواعق محرقہ،صفحہ126اور ابن مغازلی شافعی، کتاب مناقب ِعلی علیہ السلام،صفحہ119۔
(ک)۔ حضرت ابوبکر نے بہت دفعہ برسرِ منبر مسلمانوں کی کثیر تعداد کے سامنے کہا:
”اَقِیْلُوْنِی،اَقِیْلُوْنِی وَلَسْتُ بِخَیرٍ مِنْکُمْ وَعَلِیٌ فِیْکُمْ“
”مجھے چھوڑ دو،مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں تم سے بہترنہیں ہوں جب علی علیہ السلام تمہارے درمیان ہوں“۔
حوالہ جات
جناب محمد رازی، کتاب ”میں کیوں شیعہ ہوا“،صفحہ332میں بنقل از فخر رازی،کتاب نہایة العقول۔ اسی طرح طبری،تاریخ طبری میں،بلاذری کتاب انساب الاشراف میں۔سمعانی کتاب فضائل میں۔ غزالی کتاب سرالعالمین میں۔سبط ابن جوزی کتاب تذکرہ قاضی بن روز بہان اور ابی الحدید اور دوسرے۔
حضرت ابوبکر کے کلمات کی تصدیق نہج البلاغہ میں امیرالموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطبہ سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:
’فَیٰاعَجَبَابَیْنٰاھُوَیَسْتَقِیْلَھَافِی حِیَاتِہِ اِذْعَقَدَھٰالِآخِرَبَعْدَمَمٰاتِہِ‘۔
”یہ کتنی تعجب کی بات ہے کہ ابوبکر اپنی خلافت کے زمانہ میں خود خلافت سے استقالہ(بیزاری) کرتے رہے لیکن اس دنیا سے جاتے ہوئے خلافت کسی اور کے سپرد کرگئے“۔
۔۔۔۔۔
کلامِ حضرتِ عمر بن خطاب
(الف)۔ عَنْ عُمَرَبنِ الْخَطَّابِ قٰالَ:کُنْتُ وَ اَبُوْبَکْرٍ وَ اَبُوْعُبَیْدَةٍ وَ
جَمٰاعَۃٌ اِذ ضَرَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم مِنْکَبَ عَلِیٍّ فَقٰالَ:یٰاعَلِیُّ اَنْتَ اَوَّلُ الْمُوٴْمِنِیْنَ اِیْمٰاناً وَاَوَّلُھُمْ اِسْلٰاماً وَاَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ھٰارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی۔
”عمر بن خطاب سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہاکہ میں،ابوبکر ،ابوعبیدہ اوربعض دوسرے افراد تھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے شانہ پرہاتھ رکھا اور کہا:یا علی !تم موٴمنوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے اوّل ہو اور اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے بھی اوّل ہو اور تمہاری منزلت کی نسبت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی منزلت کی نسبت موسیٰ علیہ السلام سے تھی“۔
حوالہ جات
شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة،صفحہ239،اشاعت ِقم،سال1371ء اور تقی ہندی،کنزالعمال ،جلد13،صفحہ122اور123(موٴسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)۔
۔۔۔۔۔
(ب)۔ عَنْ عمَّارَالدُّ ھْنِی عَن سَالِم بِنْ اَبِیْ الْجَعْد قٰالَ:قِیْلَ لِعُمَرَ:
اِنَّکَ تَصْنَعُ بِعَلیٍ شَیْئاً لٰا تَصْنَعُہُ بِأَحَدٍ مِنْ اَصْحٰابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم قٰالَ:اِنَّہُ مَوْلٰایَ۔
”عماردھنی،سالم بن ابی جعد سے روایت کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر سے پوچھا کہ آپ حضرت علی علیہ السلام سے جس طرح کا(اچھا) سلوک کرتے ہیں، اُس طرح کا(اچھا) سلوک کسی اور صحابیِ پیغمبر سے نہیں کرتے۔ اس پر حضرت عمر نے جواب دیا :بے شک علی علیہ السلام میرے مولیٰ ہیں“۔
حوالہ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، بابِ حالِ امام علی ،ج2،ص82،حدیث584،شرح محمودی
۔۔۔۔۔
(ج)۔ عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ قٰالَ:نَصَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم عَلِیاً عَلَماً فقٰالَ:مَنْ کُنْتُ مَوْلٰاہُ فَعَلِیٌ مَوْلٰاہُ،اَلَّلھُمَّ وَالِ مَنْ وَالٰاہُ وَعَادِمَنْ عٰادٰاہُ وَاخذُلْ مَنْ خَذَلَہُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَہُ اَلَّلھُمَّ اَنْتَ شَھِیْدِی عَلَیْھِمْ قٰالَ عُمَرُ۔ وَکَانَ فِی جَنْبِی شَابٌ حَسَنُ الْوَجْہِ،طِیِّبُ الرِّیْحِ،فَقٰال:یٰاعُمَرُ لَقَدْعَقَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم عَقْداً لٰا یَحِلُّہُ اِلّٰا مُنٰافِقٌ فَاحذَرْاَنْ تَحِلَّہُ۔قٰالَ عُمَرُ:فَقُلْتُ یٰارَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم اِنَّکَ حَیْثُ قُلْتَ فِی عَلِیٍ(مٰاقُلْتَ)کَانَ فِیْ جَنْبِی شَابٌ حَسَنُ الوْجَہِ طَیِّبُ الرِّیْحِ قٰالَ کذٰاوکَذٰا۔
قٰالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم نَعَمْ یٰاعُمَرُاِنَّہُ لَیْسَ مِنْ وُلْدِآدَمَ لَکِنَّہُ جِبْرَئِیْلُ اَرٰادَ اَنْ یُوٴَکَّدَعَلَیْکُمْ مٰا قُلْتُہُ فِیْ عَلِیٍّ۔
”عمر بن خطاب سے روایت کی گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ رسولِ خداحضرت علی علیہ السلام کو سب سے بہتر اور بزرگ جانتے تھے۔پس رسولِ خدا نے فرمایا کہ جس کامیں مولا ہوں،اُس کا علی مولا ہیں۔پروردگار!تو اُس کو دوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھے اور اُس کودشمن رکھ جو علی سے دشمنی رکھے اور اُس کو ذلیل و رسوا کر جو علی علیہ السلام کو رسوا کرے اور اُس کی مدد فرما جو علی کی مدد کرے۔ پروردگار! تو اس پر میرا گواہ رہنا۔
حضرت عمر نے کہا کہ ایک خوش شکل نوجوان جس سے پاکیزہ خوشبو آرہی تھی، اُس نے مجھ سے کہا کہ یا عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔ اب اس کو کوئی نہیں توڑے گامگر منافق۔اے عمر! تو بھی محتاط رہ کہ اس کو نہ توڑے۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے رسولِ خدا کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! جب آپ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمارہے تھے تو وہ خوش شکل، اچھی خوشبو والا جوان مجھ سے اُسی طرح کہہ رہا تھا۔ حضرتِ رسولِ خدا نے فرمایا:ہاں، اے عمر! وہ آدم کی اولاد سے نہ تھابلکہ وہ جبرائیل تھا اور چاہتا تھا کہ جو میں نے علی علیہ السلام کے بارے میں کہا ہے،وہ تجھ سے تاکیداً کہے“۔
حوالہ جات
1۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة(بابِ مودّت الخامسہ)صفحہ297۔
2۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق میں،بابِ حالِ علی ،جلد2،صفحہ80(شرح محمودی)نقل از
بخاری تا ریخ کبیر سے،جلد1،صفحہ375اور دوسرے۔
۔۔۔۔۔
(د)۔ عَنْ عَمّٰارِالدُّھْنِیْ عَنْ اَبِی فٰاخِتَةَ ، قٰالَ: اَقْبَلَ عَلِیٌ وَعُمَرُ
جٰالِسٌ فِی مَجْلِسِہِ فَلَمَّارَاٰہُ عُمَرُ تَضَعْضَعَ وَتَوٰاضَعَ وَتَوَسَّعَ لَہُ فِی الْمَجْلِسِ،فَلَمَّاقٰامَ عَلِیٌ،قٰالَ بَعْضُ الْقَوْمِ:یٰااَمِیْرَالْمُوٴْمِنِیْنَ اِنَّکَ تَصْنَعُ بِعَلِیٍ صَنِیعًا مٰاتَصْنَعُہُ بِاَحَدٍ مِنْ اَصْحٰابِ مُحَمَّدٍ قٰالَ عُمَرُ:وَمٰارَأَیْتَنِی اَصْنَعُ بِہِ؟قٰالَ:رَأَیْتُکَ کُلَّمٰارَأَیْتَہُ تَضَعْضَعْتَ وَتَوٰاضَعْتَ وَاَوْسَعْتَ حَتّٰی یَجْلِسَ قٰالَ:وَمٰایَمْنَعُنِی،وَاللّٰہِ اِنَّہُ مَوْلٰایَ وَمَوْلٰی کُلِّ مُوٴْمِنٍ۔
”عمارِدھنی، ابی فاختہ سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بیٹھے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو جب حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام کوآتے دیکھا تو لرزے اور استقبال کیا اور اپنے پاس بیٹھنے کیلئے جگہ بنائی۔جب علی علیہ السلام چلے گئے تو ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا کہ اے میرے آقا! آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے ایسا سلوک کیا ہے جوآپ کسی دوسرے صحابیِ پیغمبر سے نہیں کرتے۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے کونسا ایسا سلوک کیا ہے جو تو نے دیکھا؟ اُس شخص نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ جیسے ہی آپ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی تو آپ لرزے اور اُن کا استقبال کیا اور اُن کے بیٹھنے کیلئے جگہ مہیا کی کہ وہ بیٹھ جائیں۔ حضرت عمرنے کہا کہ مجھے کونسی چیز اس سلوک سے باز رکھ سکتی ہے! خدا کی قسم! حضرت علی علیہ السلام میرے بھی مولیٰ ہیں اور تمام موٴمنین کے بھی مولیٰ ہیں“۔
حوالہ
ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب شرح حالِ امام علی ،جلد2،صفحہ82،حدیث585 (شرح محمودی)۔
(ھ) قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّاب:لَقَدْ أُعْطِیَ عَلِیٌ ثَلاٰثَ خِصٰالٍ لَأَنْ تَکُوْنَ لِی خَصْلَۃٌ مِنْھَا اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْطِیَ حُمُرَ النَّعَمِ،فَسُئِلَ وَمٰاھِیَ؟قٰالَ تَزْوِیجُ النَّبِیِّ اِبْنَتَہُ وَسُکْنٰاہُ الْمَسْجِدَ لَایَحِلُّ لِاَحَدٍ فِیْہِ مٰایَحِلُّ لِعَلیٍ وَالرّٰایَۃُ یَوْمَ خَیْبَرٍ۔
”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تین سعادتیں عطا فرمائی ہیں کہ اُن میں سے ایک بھی سعادت مجھے ملتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں کی قطاروں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ پوچھا گیا کہ وہ کونسی سعادتیں ہیں؟ حضرت عمر نے جواب دیا:
پہلی: پیغمبر اسلام کی بیٹی سے شادی کرنا۔
دوسری: مسجد کے اندر حضرت علی علیہ السلام کے گھرکا دروازہ کھلناجو کسی دوسرے کیلئے جائز نہ تھا مگر علی علیہ السلام کے لئے جائز تھا۔
تیسری: جنگ ِخیبر میں پیغمبر اسلام کا علی علیہ السلام کو عَلَم عطا کرنا۔
حوالہ جات
1۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ،کتاب ینابیع المودة،باب سوم،صفحہ343۔
فشار قبر تو منزل مرے شباب کی ہے
میں مطمئن ہوں مجھے فکر کب عذاب کی ہے
رہوں گا قبر میں تا روزحشر میں محفوظ
زمیں کے سینے میں خوشبو ابوتراب کی ہے
شاعر اھلبیت محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے قلم سے نکلے ھوۓ جوھر پارے
ا مام دنیا ،امام عقبٰی علی مولا علی مولا
دیکھا ہئے بیتاللہ نے ایک جلوہء جانفزاء
لائے تشریف ہیں جان نشین ہدا (ص)
مرحبا مرحبا ،مرحبا مرحبا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
پیاری مومنہ مسیحا بیٹی ،جیو شادو آباد رہو ،بہت ہی پیاری تحریر لگائ ہئے ،میری جانب سے تمام عالم کے مسلمانو ں کو یہ عید سعید یعنی جشن مولا علیہالسّلام بہت بہت مبارک ہو
دعاگو زائرہ بجّو
سبحان اللہ اآپی مولا اآپ کو جزائےخیر عطا فرمائیں
مولا علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت تمام مومنین کو اور عالم اسلام کو بہت بہت مبارک ہو
ھم ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جو 13 رجب امام کی ولادت کےموقع پر خانہء کعبہ کی زیارت کے لیئے حرمِ کعبہ میں موجود ہونگے
ھماری کل صبح 9 بجے کی فلائٹ ہے انشاء اللہ ھم کل ظہرین کی نماز حرمِ کعبہ میں پڑھیں گے
ایک بار پھر سب احباب کو جشنِ امام المتقین علیہ السلام بہت بہت مبارک ہو
————————
سب احباب سے دست بدستہ گزارش ہے کہ ھماری خطاوں کو درگزر فرمائیے گا
والسلام
بندہ حقیر
جعفر حسین
30مئی 2012
http://www.youtube.com/watch?v=YCCEUi2idnQ
http://www.youtube.com/watch?v=oQR6lMUaGfU&feature=related
http://www.youtube.com/watch?v=7DJHpYaMnVw&feature=related
نصرت فتح علی خان مولا علی کی شان میں
http://www.youtube.com/watch?v=CAqThta2y-s
قصیدہ مولا علی علیہ السلام
http://www.youtube.com/watch?v=ljkxjmTcFuE
مولا متقین امام المبین مولاۓ کائنات شیرخدا ناصر رسول و سب کا مولا ومشکل کشا حضرت علی ابن ابی طالب ، تاريخ کي وہ بے مثال ھستی ھیں جس نے صديوں سے صاحبان فکر کو اپني طرف متوجہ کر رکھا ہے تاريخ کے تسلسل ميں دنيا کي عظيم ہستياں آپ کے گرد طواف کرتي ہيں اور آپکو اپني فکر و دانش کا کعبہ قرار ديا ہے ۔دنيا کے نامور اديب آپکي فصاحت وبلاغت کے سامنے ہتھيار ڈالے ہو ئے نظر آتے ہيں اور مردان علم و دانش آپکے مقام علمي کو درک کر نے سے اظہار عجز کرتے ہو ئے دکھا ئي ديتے ہيں، مصلحين عالم آپ کے کمال کي عدالت خواہي و انصاف پسندي کو ديکھکر دنگ رہ جاتے ہيں، خدمت خلق کرنے والے انسان ،آپکي يتيم پروري و غريب نوازي سے سبق حاصل کرتے ہيں دنيا کے معروف حکمران و سياستمدار کو فہ کے گورنر مالک اشتر کے نام آپ کے لکھے ہو ئے خط کو عادلانہ اور منصفانہ سياسي نظام کا منشور سمجھتے ہيں دنيا ئے قضاوت آج بھي آپکے مخصوص طريقہٴ کا ر کي قضاوت اور مسائل کو حل و فصل کے انداز سے انگشت بدندان ہے انساني سماج کے کسي بھي طبقہ سے وابستہ جو بھي فرد آپکے در پر آيا فضل و کمالا ت کے ايک عميق دريا سے روبرو ہو ا اور زبان حال سے سب نے يہ شعر پڑھا :
رن ميں غازي کھيت ميں مزدور منبر پرخطيب اللہ اللہ کتنے رخ ہيں ايک ہي تصوير ميں
يہ جارج جر داق ہے ايک مسيحي صاحب قلم اور اديب، علي کي ذات سے اس قدر متاٴثر ہے کہ زمانے سے ايک اور علي پيدا کرنے کي يو ں فرياد کرتا ہے :
” اے زمانے ! تيرا کيا بگڑتا اگر تو اپني پوري توانائي کو بروي کار لاتا اور ہر عصر و زمانے ميں علي جيسا وہ عظيم انسان عالم بشريت کو عطا کرتا جو علي کے جيسي عقل، علي جيسا دل، علي کے جيسي زبان اور علي کے جيسي شمشير رکھنے والا ہوتا“[1]
اور يہ شکيب ارسلان ہے عصر حاضر ميں دنيائے عرب کا ايک معروف مصنف و صاحب قلم لقب بھي ”امير البيان “ ہے مصر ميں ان کے اعزاز ميں ايک سمينار بلا يا گيا اسٹيج پر ايک صاحب نے يہ کہا کہ تا ريخ اسلام ميں دوشخص اس بات کے لائق ہيں کہ ان کو ”امير سخن “کہا جا ئے ايک علي بن ابيطالب اور دوسرے شکيب ارسلان ،شکيب ارسلان يہ سنکر غصہ ہو تے ہيں اور فوراً کھڑے ہو کر اسٹيج پر آتے ہيں اور اس شخص پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہيں:
”ميں کہاں ! اور علي بن ابيطالب کي ذات والا کہاں! ميں تو علي کا بند کفش بھي شمار نہيں ہو سکتا ہوں۔ “[2]
یا امیر المومین علی بن ابیطالب
شہيد مطہري جو کہ عصر حاضر ميں عالم اسلام کے فکري، علمي اور اصلاحي مفاخر ميں سے ايک قيمتي سرمايہ شمار ہو تے ہيں آپ نے اپنے تمام آثار و کتب ميں ايک منفرد اور نئے انداز ميں علي کي شخصيت کے بارے ميں بہت کچھ لکھا ہے آپ نے تمام مباحث اور مو ضوعات ميں چاہے وہ فلسفي ہوں يا عرفاني اخلاقي ہوں يا اجتماعي، سياسي ہوں يا ثقافتي، تربيت سے متعلق ہوں ہو يا تعليم سے، کلام ہو يا فقہ، جامعہ شناسي ہو يا علم نفسيات، ہر موضوع کے سلسلے ميں علي کي ذات، شخصيت گفتار و کردار کو بطور مثال پيش کيا اور علي کي زندگي کے ان پہلووٴں کو اجاگر کيا ہے کہ جن کے بارے ميں کسي نے آج تک نہ کچھ لکھا ہے اور نہ کچھ کہا ہے ۔
تلخ اعتراف :
آپ نے اپنے آثار و کتب ميں جا بجا اس بات کا افسوس کيا ہے کہ وہ قوم جو کہ علي کي پيروي کا دم بھرتي ہے نہ وہ خود علي کي شخصيت سے آشنا ہے اور نہ وہ دوسروں کو علي سے آشنا کرا سکي آپ فر ما تے ہيں ”ہم شيعوں کو اعتراف کر نا چاہيئے کہ ہم جس شخصيت کي پيروي پر افتخار کرتے ہيں اس کے بارے ميں ہم نے دوسروں سے زيادہ ظلم يا لا اقل کو تا ہي کي ہے حقيقت يہ ہے کہ ہماري کو تا ہي بھي ايک ظلم ہے ہم نے علي کي معرفت اور پہچان يا نہيں کرنا چاہي يا ہم پہچان نہيں کر سکے، ہمارا سب سے بڑا کا رنامہ يہ ہے کہ ان احاديث و نصوص کو دہراتے ہيں جو پيغمبر نے آپ کے بارے ميں ارشاد فرما ئے ہيں اور ان لو گوں کو سب و شتم کرتے ہيں جو ان احاديث کا انکار کرتے ہيں ہم نے علي کي حقيقي شخصيت پہچاننے کے بارے ميں کو ئي کوشش نہيں کي[3]
اس مضمون ميں ہم علي کي زندگي کے بعض اہمترين پہلووٴں اور گو شوں کا ذکر کريں گے جن پر شہيد مطہري نے ايک خا ص اور جديد انداز ميں بحث کي ہے، کہا جا سکتا ہے کہ ان گو شوں پر بحث کرنا آپ کي فکر کا ابتکار ہے۔
علي انسان کامل :
دنياکے تقريباً تمام مکاتب فکر ميں انسان کامل کا تصور پا يا جا تا ہے اور سب نے زمانہ قديم سے ليکر آج تک اس موضوع کے بارے ميں بحث کي ہے فلسفي مکاتب ہو ں يا عرفاني، اجتماعي ہوں يا سياسي، اقتصادي ہوں يا دوسرے ديگر مکاتب سب نے انسان کا مل کا اپنا اپنا ايک خاص تصور پيش کيا ہے انسان کامل يعني مثالي انسان، نمونہ اور آئيڈيل انسان۔ اس بحث کي ضرورت اس لئے ہے کہ انسان ايک آئيڈيل کا محتاج ہے اور انسان کا مل اس کے لئے ايک بہترين نمونہ اور مثال ہے جس کو سامنے رکھکر زندگي گذاري جا سکتي ہے ۔يہ انسان کا مل کو ن ہے ؟ اس کي خصوصيا ت اور صفات کيا ہيں ؟ اس کي تعريف کيا ہے ؟ان سوالا ت کا جواب مختلف مکاتب فکر نے ديا :
فلاسفہ کہتے ہيں انسان کامل يعني وہ انسان ہے جسکي عقل کمال تک پہونچي ہو ۔
مکتب عرفان کہتا ہے انسان کا مل وہ انسان ہے جو عاشق محض ہو (عاشق ذات حق )
سو فسطائي کہتے ہيں کہ جسکے پاس زيادہ طاقت ہو وہي انسان کامل ہے ۔
سوشليزم ميں اس انسان کو انسان کا مل کہا گيا ہے جو کسي طبقہ سے وابستہ نہ ہو خاص کر اونچے طبقہ سے وابستہ نہ ہو
ايک اور مکتب بنام مکتب ضعف يہ لوگ کہتے ہيں انسان کامل يعني وہ انسان جسکے پاس قدرت و طاقت نہ ہو، اس لئے کہ قدرت تجاوز گري کا موجب بنتي ہے ۔
شہيد مطہري فرماتے ہيں ان مکاتب ميں انسان کے صرف ايک پہلو کو مد نظر رکھا گيا ہے اور اسي پہلو ميں کمال اور رشد حاصل کرنے کو انسا ن نام اور کا کمال سمجھا گيا جبکہ انسان مختلف ابعاد و پہلو کا نا م ہے۔ انسان ميں بہت سي خصوصيات پائي جا تي ہيں جن تمام پہلووٴں اور خصوصيات کا نام انسان ہے لہذا صرف ايک پہلو کو نظر ميں رکھنا ان سب مکاتب کا مشترکہ عيب اور نقص ہے ۔
یا امیر المومین علی بن ابیطالب
شہيد مطہري کي نظر ميں انسان کامل :
آپ انسان کامل کي تعريف يو ں کرتے ہيں کہ ”انسان کامل يعني وہ انسان جسميں تمام انساني کمالات اور خصوصيات نے بحد اعلي اور تناسب و توازن کے ساتھ رشد پايا ہو ۔“[4]
”انسان کامل يعني وہ انسان جو تمام انساني قدروں کا ہيرو ہو ،وہ انسان جو انسانيت کے تمام ميدانوں ميں مر د ميداں اور ہيرو ہو۔“[5]
”انسان کامل يعني وہ انسان جس پر حالات و واقعات اثر انداز نہ ہوں “[6]
علي کيوں انسان کامل ہيں ؟
شہيد مطري اس بات کي تاکيد کر تے ہيں کہ علي بن ابيطالب پيغمبر اکرم کے بعد انسان کامل ہيں آپ بيان کرتے ہيں کہ:
”علي انسان کامل ہيں اس لئے کہ آپ ميں انساني کمالات و خصوصيات نے بحد اعلي اور تناسب و توازن کے ساتھ رشد پا يا ہے “[7]
دوسري جگہ آپ نے فرمايا :
”علي قبل اس کے کہ دوسرے کے لئے امام عادل ہوں اور دوسروں کے ساتھ عدل سے کام ليں خودآپ شخصاً ايک متعادل و متوازن انسان تھے آپ نے تمام انساني کمالات کو ايک ساتھ جمع کيا تھا آپ کے اند ر عميق اور گہرا فکر و انديشہ بھي تھا اور لطيف و نرم انساني جذبات بھي تھے کمال روح و کمال جسم دونوں آپ کے اندر پا ئے جا تے تھے رات کو عبادت پروردگار ميں يو ں مشغول ہو جا تے تھے کہ ماسوا اللہ سب سے کٹ جاتے تھے اور پھر دن ميں سماج کے اندر رہ کر محنت و مشقت کيا کيا کرتے تھے دن ميں لو گوں کي نگاہيں آپ کي خدمت خلق، ايثار و فداکاري ديکھتي تھيں اور ان کے کان آپ کے موعظہ، نصيحت اور حکيمانہ کلام کو سنتے تھے رات کو ستارے آپ کے عابدانہ آنسووٴں کا مشاہدہ کرتے تھے اور آسمان کے کان آپ کے عاشقانہ انداز کے مناجات سنا کرتے تھے ۔آپ مفتي بھي تھے اور حکيم بھي ،عارف بھي تھے اور سماج کے رہبر بھي، زاہد بھي تھے اور ايک بہترين سياستمدار بھي، قاضي بھي تھے اور مزدور بھي، خطيب بھي تھے اور مصنف بھي خلاصہ آپ ہر ايک جہت سے ايک انسان کامل تھے اپني تمام خوبصورتي اور حسن کے ساتھ۔“[8]
یا امیر المومین علی بن ابیطالب
آپ نے علي کے انسان کامل ہو نے پر بہت سي جگہوں پر بحث کي اور متعدد دليليں پيش کيں ہيں آپ ايک جگہ لکھتے ہيں کہ ”ہم لوگ علي کو انسان کامل کيوں سمجھتے ہيں ؟ اس لئے کہ آپ کي ”ميں “”ہم “ميں بدل گئي تھي اس لئے کہ آپ اپني ذات ميں تمام انسانوں کو جذب کرتے تھے آپ ايک ايسي فردانسان نہ تھے جو دوسرے انسانوں سے جداہو ؛نہيں !بلکہ آپ اپنے کو ايک بدن کا ايک جزء، ايک انگلي، ايک عضو کي طرح محسوس کرتے تھے کہ جب بدن کے کسي عضو ميں درد يا کو ئي مشکل آتي ہے تو يہ عضو بھي درد کا احساس کرتا ہے ۔[9]
”جب آپ کو خبر دي گئي کہ آپ کے ايک گورنر نے ايک دعوت اور مہماني ميں شرکت کي تو آپ نے ايک تيز خط اس کے نام لکھا يہ گورنر کس قسم کي دعوت ميں گيا تھا ؟کيا ايسي مہماني ميں گيا تھا جہاں شراب تھي ؟يا جھاں ناچ گانا تھا ؟يا وہاں کوئي حرام کام ہو رہا تھا ؟نہيں، تو پھر آپ نے اس گورنر کو خط ميں کيوں اتني ملامت کي، آپ لکھتے ہيں :۔
گورنر کا گناہ يہ تھا کہ اس نے ايسي دعوت ميں شرکت کي تھي جسميں صرف امير اور مالدار لو گوں کو بلايا گيا تھا اور فقر اء و غربا ء کو محروم رکھا گيا تھا [10]
شہيد مطہري مختلف انحرافي اور گمراہ فرقوں کے خلاف جنگ کو بھي آپ کے انسان کامل ہو نے کا ايک نمونہ سمجھتے ہيں آپ فرماتے ہيں :
”علي کي جامعيت اور انسان کامل ہو نے کے نمونوں ميں سے ايک آپ کا علمي ميدان ميں مختلف فرقوں اور انحرافات کے مقابلہ ميں کھڑا ہو نا اور ان کے خلاف بر سر پيکار ہو نا بھي ہے ہم کبھي آپ کو مال پر ست ،دنيا پرست اور عياش انسانوں کے خلاف ميدان ميں ديکھتے ہيں اور کبھي ان سياستمدار وں کے خلاف نبرد آزما جنکے دسيوں بلکہ سيکڑوں چہرے تھے اور کبھي آپ جاہل ،منحرف اور مقدس مآب لو گوں سے جنگ کرتے ہو ئے نظر آتے ہيں ۔“[11]
علي ميں قوت کشش بھي اور قوت دفع بھي :
یا علی یا علی یا علی
یا علی علی یا علی
؎امام صادق{ع} نے فرمایا: “حضرت نوح{ع} رجب کی پہلی تاریخ کو کشتی میں سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس دن روزہ رکھیں اور فرمایا: جو شخص اس دن روزہ رکھے گا جہنم کی آگ ایک سال تک اس سے دور رہے گی اور جو شخص اس مہینہ میں سات دن روزے رکھےگا، اس پر جہنم کے سات دروازے بند ہوں گے اور آٹھ دن روزے رکھے تو بہشت کے آٹھ دروازے اس پر کھل جائیں گے اور جو شخص پندرہ دن روزے رکھے خداوندمتعال اس کی حاجتیں پوری کرے گا اور جو شخص اس سے زیادہ روزے رکھے خداوندمتعال اس کے لیے اس سے زیادہ عنایتیں کرے گا۔
۲۔ امام کاظم{ع} نے فرمایا: ” رجب، بہشت میں ایک دریا کا نام ہے جو دودھ سے سفید تر اور شہد سے شیرین تر ہے۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھے، خداوندمتعال اسے اس دریا کا پانی پلائے گا۔
۳۔ امام کاظم{ع} نے فرمایا ہے: ” رجب کا مہینہ، ایک عظیم مہینہ ہے، اس میں {اجر و ثواب} حسنات کئی گنا ہوتے ہیں اور {انسان کے} گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھے، جہنم کی آگ ایک سو سال تک دور ہوتی ہے اور جو {اس مہینہ میں} تین دن روزہ رکھے، اس کے لیے بہشت واجب ہوتی ہے
رجب کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایتیں ہیں اور ہم یہاں پر اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
مخصوص، اذکار و اوراد:
۱۔ رسول خدا{ص} نے فرمایا ہے: ” جو شخص رجب کے مہینہ میں اس ذکر کو سو مرتبہ پڑھے: “أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ” اور اس کے بعد کچھ راہ خدا میں دیدے، تو خداوندمتعال اسے رحمت و بخشش عطا کرے گا اور ۔ ۔ ۔ جب وہ قیامت کے دن خداوندمتعال سے ملاقات کرے گا، خداوندمتعال اس سے فرمائے گا: تم نے میری سلطنت کا اقرار کیا ہے، پس جو چاہتے ہو مانگو میں اسے قبول کروں گا اور میرے علاوہ کوئی تمھاری حاجتوں کو پورا نہیں کر سکتا ہے
۲۔ آنحضرت{ص} نے ایک دوسری روایت میں فرمایا ہے: ” جو شخص اس مہینہ میں ایک ہزار مرتبہ “َلا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” پڑھے، خداوندمتعال اس کے نامہ اعمال میں ایک لا کھ اجر و ثواب لکھے گا و ۔ ۔ ۔
اس مہینہ کے اذکار و اوراد بھی بکثرت ہیں، جو دعاوں کی کتابوں میں درج ہیں، جن کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔
ب۔ رجب کے مہینہ کے مخصوص اعمال:
اس مہینہ کے مخصوص اعمال میں سے کچھ نمازیں ہیں جنہیں ہر شب میں پڑھا جاتا ہے ان کی کیفیت روایتوں میں ذکر کی گئی ہے
اس مہینہ کے مخصوص اعمال میں پہلی شب، پندرھویں شب اور رجب کے مہینہ کی آخری شب میں غسل کرنا ہے، ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ { لیلة الرغائب} کی نمازیں ، تیرھویں شب ، چودھویں شب اور پندرھویں شب { لیالی البیض} کی نمازیں، عمرہ بجا لانا، امام حسین{ع} کی زیارت، اور امام رضا{ع} کی زیارتاس مہینہ کے مخصوص اعمال میں شامل ہے۔
اسلام علیکم ساتھیو
بہئت خوبصورت بلاگ اور اتنی ہی حسین معلومات ۔
جزاک اللہ خیر۔
ان تحریروں میں اتنا علم ہوتا ہے کہ لکھنے والوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے ۔ کہ اللہ کرے علم و فضل اور زیادہ۔
جتنا لکھا جائے اتنا کم
اللہ ہمارے دلوں کو اپنے پیارے نبی اور اہلِ بیت کی محبت سے سر شار رکھے ۔آمین
عالم آرا
بہن نگہت بہت بہت مبارکب ہو کہ تم سب سے بازی لے گئیں ع یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے۔ میں بھی تمہارا اتباع کرتے ہو ئے یہ قطعہ پیش کر رہا ہوں۔ ہم انشا اللہ ٣ جون کو یوم ِ پدا ئش منا رہے ہیں کیونکہ یہاں اس دن تیرہ رجب المرجب ہے۔ ویسے ہر مہینہ کی تیرہ تاریخ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر میری تقریر ہو تی ہے۔ مگر اس مہینے میں بڑا پروگرام ہو تا ہے۔
باب اور شہر کا رشتہ ۔۔ از شمس جیلانی
ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ گایانہیں کرتے
آئینے کو آئینہ کبھی شمس دکھایا نہیں کرتے
ان کے ہےسوا کوئی نہیں قرب کاذریعہ
گزرے بنا باب سے،شہر کو پایا نہیں کرتے
آپاصاحبہ ۔تیرہ رجب ، مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام کا یوم ظہور مبارک کے عنوان سے جوآپ نے بلاگ تحریرکیاہے ، لاجواب ہے اوراتناخوش طبیعت موضوع ہے جس پرجتنالکھاجائے کم ہوگا۔ سب کومولائے کائنات حضرت علی علیہ سلام کایوم ظہوربہت بہت مبارک۔تمام حضرات نے زریں خیالات اوراطلاعات فراہم کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کوخوش رکھے۔آمین!
مجھے بے حد پسند ہے ۔۔سبحان اللہ
نجف سے کوسوں ہوں دور شاید
مگر یہ دوری بھی کیا ہے دوری
اگر وہ مجھ کو بلانا چاہے
تو فاصلہ ، فاصلہ نہیں ہے
علی کا دربار ہے وہ جس سے
ہے بارور حاجتوں کی دنیا
مرادیں پوری نہ ہوں تو سمجھو
سمجھو سلیقہ التجا نہیں ہے
مولا علی علیہ السلام کی شان اور ان کے مرتبے پر زرا دل پر ہاتھ رکھ کر تصور تو کیجئے ۔۔
ایک ایسے نوزائیدہ بچے کا جس نے اپنی آنکھیں اس وقت کھولیں جب حضور اکرم محمد مصطفی صلی اللہ ولیہ وآلیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا ۔۔
پہلا زائقہ حضور اکرم کے لعب دہن کا چکھا ۔۔
پہلی نماز حضور کی امامت میں ادا کی ۔۔
اسلام کا پہلا داعی بچہ جس نے کہا میں ایمان لاتا ہوں کہ آپ ہی اللہ کے آخری رسول محمد ہیں ۔۔
دنیا کے نقشے پر پہلی مواخات ہوئی جس میں سب سے پہلے مولا علی کو حضور اکرم نے اپنا بھائی کہہ کر پکارا ۔۔
سب سے پہلا عالی مرتب اللہ کا ولی جو حضور اکرم کی چادر اوڑھ کر سب کا امانت دار رہا ۔۔۔
سب سے پہلا بہادر جس کو حضور اکرم نے جھنڈا عطا کیا ۔۔۔
سب سے پہلا جید جسے چادر کے نیچے حضور کے ساتھ کھڑے ہو کر اہل بیت ہونے کا شرف ملا ۔۔۔
سب سے پہلے امام جسے حضور نے غدیر کے موقع پر سب مومنوں اور مومنات کا مولا ہونے کا اعلان کیا ۔۔
رسول خدا کی سب سے لاڈلی اور برگزیدہ بیٹی سیدہ فاطمہ زہرا کے شریک حیات ہونے کا اعزاز عطا ہوا ۔۔۔
یوں لگتا ہے جیسے مولا علی علیہ السلام حضور اکرم پرنورمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سایہ تھے ۔۔۔ ۔۔۔ اے اللہ ہمارے عقیدے کو راسخ کر دے اور ہمارے علم میں اضافہ فرمایئے ۔۔الہی آمین
مولائے متقیان ، امیر مولا و آقا امام علی علیہ السلام کے حضور نزرانہ عقیدت … آج ہی ابھی ابھی ان کی اجازت سے رقم ہوا ہے .. حضور کے صدقے اور واسطے سے ان کی خدمت میں پیش کرتی ہوں ..
اب بھی وقت ہے ۔۔ دل کی گرہیں کھولو ۔۔
مجھ سے
میرے مولا علی کی شان پوچھتے ہیں لوگ
نادان ہیں
جو سورج کا پتہ پوچھتے ہیں لوگ
سچ تو یہ ہے کہ
اللہ کے محبوب ا ور پیارے ہیں علی
اللہ کےحبیب کے راج دلارے ہیں علی
انبیاء واولیاء کے سہارے ہیں علی
اور میر اایمان کہ
محشر میں
مجھ گنہگار کی ازن شفاعت ہیں علی
زرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر تو دیکھو
کون تھاجس نے ۔۔۔۔
غلام قوموں کو سر اٹھا کر جینا اور مرنا سکھادیا
درس زندگی ، ہنر آگہی، راز بندگی سمجھا دیا
اپنے نور العین دے کر دین محمد ہم تک پہنچا دیا
خلافت ، امامت ،ولایت لازوال کی حقانیت کو بتا دیا
اب ۔۔
اہل مصر کی غلامی ہو
کہ فارس پر جور و ستم
اہل افریقہ کا قدیم عبودیت ہو
کہ مغلوں کے مظالم
استبداد روم ہو
کہ عام مسلمان پر ظلم
رجعت پسندی کاتغیر ہو
کہ باطل کے مدو جزر
تاریخ کہتی ہے
آج کے فرنگیوں کے حرص و ہوس کے شاخسانے
فرعون کی گرفت ہو یا باب فتح کے افسانے
تلواروں کے سائے ہوں کہ تیروں کے نشانے \
ہوائیں ، کہسار ، وادیاں ،بہتا پانی
چرند پرند ، خوشبو ، پھول ، چاند ستارے
سب پڑھتے ہیں میرے مولا علی کے ترانے
سنو ۔۔
علی کو تقسینم نہ کرو
کہ تقسیم علی ، رسول اور خدا کی تقسیم ہے
یہ بھی یاد رہے ۔۔
تم شعیہ سنی کو بانٹ بھی دو تو کیا ہوگا
عربی کو عجمی سے لڑا بھی دو تو کیا ہو گا
اس دنیا سے امن کو مٹا بھی دو توکیا ہو گا
بھلا علی کا وکیل انسان کیا ہوگا
سچ تو یہ ہے
ایک نام جو سارے فرق مٹا دیتا ہے
سرد دلوں میں ایک آنچ دہکا دیتا ہے
وہ نام میرا ،تمہارا ، ہم سب کا ہے علی
ہمارے نصیب کا درخشاں ستارہ ہے علی
دونوں جہاں میں کونین کو پیارا ہے علی
ابھی بھی وقت ہے
پہچان لو
دل کی گرہیں کھولو ۔۔۔ سنو جہان والو
علی نفس رسول ہیں
حق ہیں ۔۔ اصول ہیں ۔۔
آیات محبت کا نزول ہیں
(نگہت نسیم .سڈنی)
سنو ۔۔
علی کو تقسینم نہ کرو
کہ تقسیم علی ، رسول اور خدا کی تقسیم ہے
یہ بھی یاد رہے ۔۔
تم شعیہ سنی کو بانٹ بھی دو تو کیا ہوگا
عربی کو عجمی سے لڑا بھی دو تو کیا ہو گا
اس دنیا سے امن کو مٹا بھی دو توکیا ہو گا
بھلا علی کا وکیل انسان کیا ہوگا
سچ تو یہ ہے
ایک نام جو سارے فرق مٹا دیتا ہے
سرد دلوں میں ایک آنچ دہکا دیتا ہے
وہ نام میرا ،تمہارا ، ہم سب کا ہے علی
ہمارے نصیب کا درخشاں ستارہ ہے علی
دونوں جہاں میں کونین کو پیارا ہے علی
ابھی بھی وقت ہے
پہچان لو
دل کی گرہیں کھولو ۔۔۔ سنو جہان والو
علی نفس رسول ہیں
حق ہیں ۔۔ اصول ہیں ۔۔
آیات محبت کا نزول ہیں
(نگہت نسیم .سڈنی)
بسم الله الرحمن الرحيم
اللهم صل على محمد وآل محمد
سبحان اللہ ، یہ مودت مولاۓ کائنات کی خوشبو سے مکہتے اشعار ھیں اور یہ اللہ پاک کی عطا ھے، اللہ کرے زور قلم ،علم ،عمل زور سخن اور زیادہ
سلامت رھو خوش رھو،
علی تو ھر ایک کا مولا ھے ۔
علی کو سب نے مشکلوں میں پکارا ھے
علی کا تعارف رسول عربی نے کرایا ھے
علی نے سجدے میں سر دیکر اسلام کو بچایا ھے
آل علی وبتول نے اللہ کے دین کو بچایا ھے
آج سڈنی میں تیرہ رجب کی صبح ہے ۔ جشن ظہور مولا علی علیہ السلام آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ تازہ قطعہ پیش کرتی ہوں
تیرہ رجب کاجشن منانا نصیب ہے
یہ دن نبی پاک کے دل کے قریب ہے
بغض علی میں سانس جو لیتا ہے بد نصیب
اس کو خبر نہیں علی شان حبیب ہے
(نگہت نسیم ۔سڈنی )
نجف سے کوسوں ہوں دور شایدمگر یہ دوری بھی کیا ہے دوری
اگر وہ مجھ کو بلانا چاہیں تو فاصلہ ، فاصلہ نہیں ہے
علی کا دربار ہے وہ جس سےہے بارور حاجتوں کی دنیا
مرادیں پوری نہ ہوں تو سمجھو سلیقہ التجا نہیں ہے
(نامعلوم)
تیرہ رجب کاجشن منانا نصیب ہے

یہ دن نبی پاک کے دل کے قریب ہے
بغض علی میں سانس جو لیتا ہے بد نصیب
اس کو خبر نہیں علی شان حبیب ہے
باغ ۔ ولا میں آمد ۔ فصل ۔ بہار ہے
ہر گل پہ تازگی ہے کلی پہ نکھار ہے
منظر بڑا حسیں ہے برا ساز گار ہے
مہکا ہوا چمن ہے فضا خوشگوار ہے
جشن ۔ نزول ۔ خیدر ۔ عالی وقار ہے
کعبے کی چھت پہ رحمت ۔ پروردگا ر ہے
کعبے کے عین وسط میں وہ شاہکار ہے
جس کا خدا کی مملکت پر اختیار ہے
وہ جو رسول ۔ دین کے دل کا قرار ہے
دین ۔ خدائے پاک کا جو اعتبار ہے
حلا ل ۔ مشکلات کے قد کی برابری
بس وہ کرے جو دوش ۔ نبی کا سوار ہے
مدحت کا فن ملا ہے در ۔ بوتراب سے
یہ افتخار باعث ۔ صد افتخار ہے
افتخار حیدر
آمد۔ نور کے تصور سے
شب کی چادر ہے جھلملا اٹھی
وارث۔ دین۔ مصطفےٰ آئے
دیکھ دیوار مسکرا اٹھی
مجید اختر
جشن۔ ولادت۔ مولائے کائنات مبارک ہو
خدا کے فضل کا یہ اہتمام باقی ہے
ابھی جہاں میں امامت کا جام باقی
ہزار شکر ہدایت کا راستہ ھے کھلا
ہمارا ہادی ہمارا امام باقی ہے
یہی ہیں وجہ خدا، وجہ کائنات بھی ہیں
اسی بنا پہ یہ سارا نظام باقی ہے
امام وقت کے پیچھے پڑھیں گے جو عیسٰی
وہ اک نماز ھے باقی قیام باقی ہے
نہ جانے کب ہو ظہور شبیہ ختم رَسُلﷺ
اس انتظار میں دنیا تمام باقی ہے
تیرا ظہور ھو آنکھوں سے دیکھ لوں مولا
درود بھیجتے ہیں اور سلام باقی ہے
دعا قبول نہ میری ہو، ھے یہ ناممکن
کہ کائنات میں میرا امام باقی ہے
سہیلہ کیوں ہو تجھےخوف روز محشر کا
کنیز زہرا ٔ ھے، تجھ پہ انعام باقی ہے
سہیلہ حسن
تیرہ رجب کاجشن منانا نصیب ہے
یہ دن نبی پاک کے دل کے قریب ہے
بغض علی میں سانس جو لیتا ہے بد نصیب
اس کو خبر نہیں علی شان حبیب ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم کے تحریر کردہ محبت مولاۓ کائنات کی حوشبو سے مہکتے اشعار کی مہک سے دل وجاں معطر ھوگیۓ ھیں
جزاک اللہ ، اللہ کرے زور قلم زور سخن اور زیادہ
جنت میں اک قیصر بنایا ھے نگہت نے
حضرت امام علی علیہ السلام کی شان میں چالیس احادیث
ـ ۱۔ عنوان صحيفة المؤمن حبّ على بن ابى طالب علیہ السلام
صحیفہ مومن کا عنوان محبت علی بن ابی طالب علیہما السلام ہے
ـ ۲۔ قل لمن أحبّ علياً يتهيأ لدخول الجنة
کہہ دو جو علی سے محبت کرے جنت میں جانے کے لئے تیار ہوجائے
ـ ۳۔ كفّى و كفّ علىٍّ فى العدل سواء
میں اور علی عدل کرنے میں مساوی ہیں
ـ ۴۔ القرآن مع علىّ وعلىّ مع القرآن
قرآن علی ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ
ـ ۵۔ من اذى علياً فقد اذانى
جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت اور تکلیف دی
ـ ۶۔ انا و علىّ من شجرة واحدة والناس من شجر شتّى
میں اور علی ایک ہی شجر(درخت) سے ہیں جبکہ باقی لوگ مختلف درختوں سے ہیں
ـ ۷ ۔ انا المنذر وعلىّ الهادى و بك يا علىّ يهتدى المهتدون
میں ڈرانے والا اور علی ہادی ہیں اور تجھ سے ہی اے علی ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے
ـ ۸۔ علىّ منى بمنزلة الرأس من بدنى
علی کی مجھ سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے
ـ ۹۔ علىّ فى الجنة كالكوب الصبحة لاهل الدنيا
علی کی مثال جنت میں ایسی ہے جیسے دنیا والوں کیلے صبح کا ستارہ
ـ ۱۰۔ علىّ باب من دخل منه كان مؤمنا و من خرج عنه كان كافرا
علی ایک دروازہ ہے جو اس میں داخل ہوگیا وہ مومن اور جو اس سے خارج ہوگیا وہ کافر ہے
ـ ۱۱۔ ذكر علىّ عبادة
ذکر علی عبادت ہے
ـ ۱۲ ۔ النظر الى وجه علىّ عبادة
علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے
ـ ۱۳۔ لو لم يخلق علىّ لم يكن لفاطمة كفو
اگر علی نہ ہوتے تو فاطمہ کا کوئی ہمسر نہ ہوتا
ـ ۱۴۔ لو اجتمع الناس على حب علىّ لما خلق اللّه النار ابداً
اگر تمام لوگ محبت علی پر جمع ہوجاتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرتا
ـ ۱۵۔ يسئل الناس يوم القيامة عن الاقرار بولاية علىّ
قیامت کے دن لوگوں سے ولایت علی کے اقرار کے بارے میں سوال ہوگا
ـ ۱۶۔ سيكون من بعدى فتنة فاذا كان ذلك فالزموا عليّا فانه الفارق بين الحق والباطل
عنقریب میرے بعد فتنہ پیدا ہو گا جب ایسی صورت حال پیدا ہو تم پر علی کا ساتھ واجب ہے کیوں کہ علی حق اور باطل میں فرق کرنے والا ہے
ـ ۱۷۔ علىّ منّى وأنا منه وهو ولىّ كل مؤمن و مؤمنة
علی مجھ سے ہے اور میں علی سے اور وہ ہر مومن ومومنہ کے ولی ہیں
ـ ۱۸۔ علىّ وشيعته الفائزون يوم القيامة
قیامت کے دن علی اور ان کے شیعہ ہی کامیاب ہیں
ـ ۱۹۔ علىّ خير البشر من ابى فقد كفر
علی خیر البشر(سب سے اعلیٰ انسان) ہیں جواس کا انکار کرے اس نے فقط کفر کیا
ـ ۲۰۔ مثل علىّ فى الناس كمثل قل هو اللّه احد فى القرآن
علی کی مثال لوگوں میں ایسے ہی ہے جیسے قرآن میں سورہ قل ھو اللہ احد
ـ ۲۱۔ لكل نبىّ صاحب سرّ و صاحب سرّى على بن ابى طالب
ہر نبی کاایک صاحب اسرار(رازدان) ہوتاہے اور میرے رازدان علی بن ابی طالب ہیں
ـ ۲۲۔ انا مدينة العلم وعلىّ بابها ومن اراد المدينة فليأتها من بابها
میں علم کا شہر ہوں اور علی اس دروازہ پس جو شہر میں آنا چاہے دروازے سے داخل ہو
ـ ۲۳۔ انّ الله جعل ذريّة كل نبى فى صلبه وجعل ذرّيتى فى صلب على بن ابيطالب
بیشک اللہ نے ہر نبی کے صلب میں ہی اس کی ذریت کو قرار دیا ہے اور میری ذریت کو صلب علی بن ابی طالب میں قراردیاہے
ـ ۲۴۔ قسّم الحكمة عشرة اجزاء فاعطى علىّ تسعة والناس جزءً واحدا
حکمت کے دس اجزاء ہیں علی کو نو جز اور باقی لوگوں کو ایک جز دیا گیا ہے
ـ ۲۵۔ لكل نبىّ ووصىّ وارث وان عليّا وصيّى و وارثى
ہرنبی کا ایک وصی و وارث ہے اور میرے وارث و ولی علی ہیں
ـ ۲۶ ۔ انا وعلىّ هذا حُجّة الله على خلقه
میں اور علی خدا کی طرف سے اس کی مخلوق پر حجت ہیں
ـ ۲۷۔ سئل النبى: من عنده علم الكتاب؟ قال: انما ذلك علىّ
نبی سے سوال کیا گیا من عندہ علم الکتاب کس کے پاس علم کتاب ہے ؟ آپ نے فرمایا بیشک وہ علی ہیں
ـ ۲۸۔ حبّ علىّ يأ كل الذنوب كما تأكل النار الحطب
حب علی گناہوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے آگ خشک لکڑیوں کو
ـ ۲۹۔ مثل اهل بيتى كمثل سفينة نوح، من ركبها نجى ومن تخلف عنها غرق
میرے اہل بیت کی مثال سفینہ نوح کی طرح ہے ، جو اس میں سوار ہوگیا اس نے نجات پائی اور جس نے منہ موڑا ہلاک ہوگیا
ـ ۳۰۔ مثل اهل بيتى كمثل باب حطّة، من دخل غفر له
میرے اہل بیت کی مثال باب حطۃ کی طرح ہے جو داخل ہوگیا بخشا گیا
ـ ۳۱۔ إنّا اهل بيت اختار اللّه لنا الآخرة على الدنيا
ہم اھل بیت کیلے اللہ کی ذات نے دنیا کی بجائے آخرت کو انتخاب کیا ہے
ـ ۳۲۔ سئلت ربى ان لايدخل احدا من اهل بيتى النار فاعطانيها
میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری اھل بیت میں سے کسی کی جھنم میں نہ ڈالنا خدا نے میری یہ دعا قبول کی
ـ ۳۳۔ اللهم انّ هؤلاء اهل بيتى ولحمتى، يؤلمنى ما يؤلمهم
اے پروردگار یہ میرے اھل بیت اور میرا گوشت ہیں اس نے مجھے رنج دیا جس نے انہیں رنج پہنچایا
ـ ۳۴۔ حبّ آل محمد يوما خير من عبادة سنة
آل محمد سے ایک دن کی محبت سال کی عبادت سے افضل ہے
ـ۳۵ ۔ حبّ علىّ براءة من النار
علی کی محبت آگ سے نجات دلاتی ہے
ـ ۳۶۔ من مات فى حب آل محمد فقد مات شهيداً و من مات فى بغض آل محمد مات ميتة جاهلية
جوشخص محبت اھل بیت میں مرا وہ شہادت کی موت مرا اور جو بغض اھل بیت میں مرا وہ جاھلیت کی موت مرا
ـ ۳۷۔ اللهم لاتمتنى حتى ترينى وجه علىّ
اے پروردگار اس وقت تک کسی کو موت نہ آئے جب تک وہ علی کے چہرے کو دیکھ نہ لے
ـ ۳۸۔ من ذكر فضيلة من فضائل علىّ(ع) مقراً بها غفراللّه له ما تقدم من ذنبه وما تأخر
جس نے فضائل علی میں سے ایک فضیلت کواقرار کرتے ہوئے بیان کیا تو اس کے گذشتہ اور آنے والے گناہ معاف کردیئے جائیں گے
ـ ۳۹۔ لو أنّ الرياض أقلام والبحر مداد والجن حُسّاب والانس كتّاب ما احصوا فضائل علىّ بن ابيطالب
اگر درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائیں اور جن و انس ملکر فضائل علی کو شمار کریں تو شمار نہ کر پائیں گے
۔ ۴۰۔ ضربت علی فی یوم الخندق افضل من عبادۃ الثقلین
خندق کے دن علی کی ایک ضرب ثقلین کی عبادت سے افضل ہے
گوگل سرچ
خدا مومن کو جب عشقِ علی میں تول دیتاہے
علی کا نام گرہیں دل کی ساری کھول دیتا ہے
بھرم اس نام سے کھلتا ہے سن لو ہر منافق کا
علی حیدر کہیں تو دودھ ماں کا بول دیتا ہے
(صفدر ہمدانی )
اُس کی عطا یہ بات ہے اپنی کہی نہیں
عشقِ علی کی ناؤ کبھی ڈوبتی نہیں
حُبِ علی نہیں ہے تو پھر زندگی ہے یوں
چہرے پہ جیسے آنکھ تو ہے روشنی نہیں
صفدر ھمدانی
اسلام علیکم
اتنے خوبصورت اور علمی بلاگ پر سب لکھنے والوں کے لئے جزاک اللہ خیر
بہت خوب بہن نگہت نسیم جیتی رہئے سلامت رہئے ۔
عالم آرا
مولودِ کعبہ
داخلِ کعبہ ہوئی بنتِ اسد
میزباں خود بن گئ ذاتِ اَحد
منہ کے بل اصنامِ کعبہ گر پڑے
لمیلد کے گھر ہوا پیدا ولد
———————————
علی سے عقیدت مجھے اسقدر
نصیری نہ کہلاؤں لگتا ہے ڈر
مُقامِ علی اللہ اللہ ظفر
وہ شیرِ خدا باب علم وہنر
علی کا ہو گھر یا محمد کا گھر
ہیں فخرِ مسلماں یہ دونوں ہی گھر
رسولِ خدا نے کہا عمر بھر
عبادت ہے ذکرِ علی اے بشر
علی کا تقابل کسی سے نہ کر
ولایت ملی ہے علی کوبشر
تُو کھوجائے حب علی میں اگر
تو کھل جائیں فردوس کے در پہ در
سب ہی نے علی کو کہا شیرِ نر
نبی ہوں صحابہ یا جن وبشر
غضبناک تھی چارسو ذولفقار
ہو خیبر یا خندق ، اُحد یا بدر
جہادِ علی تھا جہادِ نبی
وہ صفین ہو یا نہرواں کا شر
تھے چادر میں پنہاں فقط پنجِتن
قرآں دیرہا ہے یہ کُھل کے خبر
خدا ہی نے بھیجے ہیں جن پر درود
وہی میرے مولا، وہی راہبر
علی ہی علی یا علی یا علی
یہی وِرد مولا ہے شام وسحر
علی نامِ حق اور ہے نامِ خدا
کہوں کیوں نہ مولا کو مولا ظفر
بتاؤں کہ ہیں کیا شیعانِ علی
وہ ہیں اہلِ سنّت وہی ہے ظفر
سبحان اللہ ظفر بھائی ۔۔ میں آپ کا یہ کلام پچھلے سال کے بلاگ میں بھی پڑھ رہی تھی اور آپ کو یاد بھی کرتی جا رہی تھی ۔۔ میرے پاس آپ کا کوئی نمبر نہیں تھا اس لئے نہیں پوچھ سکی کہ آپ کیسے ہیں اور کہاں ہیں ۔۔ ۔۔ میل اس لئے نہیں کہ آپ کو چند ایک بار کے علاوہ نہیں دیکھا ۔۔ اور جب بھی دیکھا یہی سوچا کہ آپ مصروف ہونگے ورنہ آپ ہم سب کو کیسے بھول سکتے ہیں ۔ بھائی اپ ہمیشہ دعاؤں میں رہتے ہیں ۔۔ اور آپ کی کمی بھی بہت ستاتی ہے لیکن سوائے خواہش کے میں بھلاکر بھی کیا سکتی ہوں ۔۔ میری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ ہم ایک کنبے کی طرح مل جل کر رہے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دیں ۔۔ آپ کو مولائے کائینات کا جشن ظہور بہت بہت مبارک ہو ۔۔
نسیم بہن
آپ کی بے لوث محبت پر میں خدا کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ میں نے جب سے جرمن فلسفی کی ایک بات سنی ہے اُس وقت سے مباحثوں میں حصہ لینا بند کردیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ
اگر پاگل پن individuals میں تلاش کیا جائے تو بہت کم ملے گا۔ لیکن پاگل پن اگر groups میں تلاش کیا جائے تو یہ ہر گروپ کا rule ہوتا ہے۔
آپ کا نفسیات میدان ہے اس لئے مجھ سے زیادہ آپ اس بات کو سمجھ سکتی ہیں۔
ظفر بھائی جگ جگ جیئں ۔۔ بھائی ہم کہاں گروپ ہو گئے ۔ چند گنے چنے افراد کی فیملی ہے ۔ کوئی ایک بھی کم ہو جائے تو کمی شدید ہو جاتی ہے ۔ آپ آیا ضرور کریں چاہے کم کم ہی آیا کریں ۔۔ مل جل کر رہنا ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا ٰۃ یہ سب ہم اپنے بڑوں سے ہی سیکھ پائیں گے ۔۔۔ پھر ہمیں آپ کے تجربات سے بھی تو کچھ نوٹس لینے ہیں ۔۔ مجھے آپ کی مسلسل آمد کا انتظار رہے گا