افسانہ ۔۔ روشنی۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

’’ دِل میں اِک دِیا بھی جلتا رہے تو مسافر بھٹکنے نہیں پاتے۔

میرے ابا جی۔ سب کو اتنے مختلف اور اچھے لگتے کہ کوئی بات کہنے میں انہیں ڈر نہ لگتا تھا۔ میرے ابا جی ہمیشہ کہا کرتے۔

’’ میں نے اپنے دین اور کلچر کو امریکا میں آکر جانا ہے اور دِل میں بسایا ہے۔ وہاں تو میں نا شکرا تھا۔ اپنے رب کا بھی اور انسان کا بھی۔ خدا جانے لوگ یہ کیوں کہتے ہیں کہ پردیس انسان کو گم کر دیتا ہے۔ میں تو دیے کی طرح روشن ہو گیا ہوں۔ پور پور اپنے رب کو ماننے لگا ہوںاور اس کی رضا پر راضی رہنے کی دعائیں کرنے لگا ہوں۔ ‘‘ ان کی آنکھوں میں نمی سی تیر جاتی۔

نماز کا ہمیشہ اہتمام کرتے اور ہمیں بھی کہتے۔

’’ میں نہیں کہتا کہ پانچ نمازیں پڑھا کرو حالانکہ فرض ہیں اور نہ پڑھنے والوں کو سخت سرزنش ہے۔ لیکن یار ’’ ایک ‘‘ پڑھنے سے تو سٹارٹ کرو۔

میری بی بی جی کہتی ہیں۔ ’’ جو شخص ایک نماز بھی روز پڑھتا ہے وہ ایک روز پانچ بھی پڑھے گا۔ اللہ کی توفیق ہو گی اُسے۔‘‘

ان کے انتہا پسند دوست ان کی اس چھوٹ دینے پر خفا ہو جاتے تو وہ ہنس کر کہتے۔

’’ یار ‘ رحم کرو ان بچوں پر ‘ بھول گئے اپنا وقت۔ مسجد کے سامنے سے گزر جاتے تھے اور کبھی نماز نہ پڑھی تھی۔ لگا تار تین جمعے ادا کرنے بھی مشکل لگتے تھے۔‘‘

’’ یارو‘ اپنے بچوں میں دین سے پیار پیدا کرو‘ آسانیوں سے نہ کہ سختیوں سے۔ سختی سے سیکھا ہوا علم نہ پائیدار ہوتا ہے اور نہ ہی لگاتار۔ ‘‘

اُنہوں نے مذہب کو اتنا آسان اور پیارا بنا کر ہمیں سکھا یا تھا کہ ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ اتنا مضبوط تناور درخت بن گیا۔

شروع سے آخر تک پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے

23 thoughts on “افسانہ ۔۔ روشنی۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم”

  1. بہت ہی خوبصورت افسانہ ہے۔ میرے خیال میں یہ افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جسے افسانے کانام دیا ہے۔ اسلام واقعی آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے۔ اس کے لیءے میرے آقا کی زندگی لاتعداد مثالیں ہماری رہنماءی کےلیءے چھوڑگءی ہےاللہ سبحانہ تعا لیِ تمہیں مزید بصیرت عطا فرما ءے آمین

  2. ایک اور خوبصورت تخلیق. اب سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے افسانہ کہا جائے یا حقیقت. ڈاکٹر نگہت کے افسانوں کی خوبی ہی یہی ہے کہ اسمیں مکالمے مختصر.باتیں آسان آسان اور رشتوں کی ایک کہکشاں ہو تی ہے.
    بس اس ایک بات پر غور کر لیجئے تو کتنے مسلے حل ہو جاتے ہیں…..یارو‘ اپنے بچوں میں دین سے پیار پیدا کرو‘ آسانیوں سے نہ کہ سختیوں سے۔ سختی سے سیکھا ہوا علم نہ پائیدار ہوتا ہے اور نہ ہی لگاتار۔

  3. شمس بھائی تحریر پرآپ کی پسندیدگی میرے لئے اعزاز اور سند ہے آپ کی طرح میرا بھی یہی یقین ہے کہ اسلام واقعی آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے اور یہ کہانی اسی تناظر میں ایک ادنی سی کوشش تھی ۔ اللہ کریم سے دعا گو ہو کہ وہ مجھ سے اسے کام لے لے جو میری آخرت سنوار دے اور بخشش کا بہانہ ہو جائیں ۔۔الہی آمین

  4. جاوید بھائی آپ کا تبصرہ پرنٹ نہیں ہو سکا ۔ پلیز دوبارہ بھیج دیجئے ۔۔ انتظار رہے گا ۔۔ شکریہ

  5. ڈاکٹر نگہت کے افسانوں کی خوبی ہی یہی ہے کہ اسمیں مکالمے مختصر.باتیں آسان آسان اور رشتوں کی ایک کہکشاں ہو تی ہے بابا صاحب آپ کا لکھا ایک ایک لفظ میرے لیئے وہ سنہری حروف ہیں جو یقیننا اور انشاللہ میری افسانوں کی تیسری کتاب پر جگمگائیں گے ۔۔ آپ کی توجہ پر میں اللہ کے حضور اشکبار ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ وہ آپ کا سایہ شفقت ہم سب پر تا احیات رکھے ۔۔الہی آمین

  6. روشنی میں بہت سحر ھوتا ھے ، روشنی چاھے چاند کی ھو یا سڈنی میں مقیم ھماری بہت پیاری اور بہت عزيز بہن اور خوبصورت دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کا افسانہ ھو بہت اّثر انگیز افسانہ ھے دراصل ھر اچھی تحریر اور خاص کر ھر اچھی تخلیق افسانے میں ڈھلنے سے قبل حقیقت ھی ھوتی ھے ، سڈنی میں مقیم اعلی قلم کار اور طبیب صدا کار اور مایہ ناز تخلیق کار ڈاکٹر نگہت نسیم ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتی ھیں جہاں ادب محبت اور احترام ھو بچے کی گھٹی میں شامل ھوتا ھے ، انکے افسانوں میں ھمکو ایک خوبصورت محبت و تقدس کا ماحول نظر آتا ھے
    اور وہ بابل کی دھیلز پر تا دیر کھڑی اس اپنائنت بھری مہک کو اپنے اندر اتار کر اتنی ھنر مندی سے وہ جذبات اپنے قاری کے دل ودماغ میں منتقل کرتیں ھیں کہ انسان بے آختیار اپنے بزرگوں اور اپنے والدین کی قدم بوسی کو مچل جاتا ھے ، ھماری مشرقی روایات میں سب سے خوبصورت بات یہی احترام ھے ، وہ گھر کتنا با برکت اور پر سکون ھوتا ھے جہاں بزرگ ڈھال اور ڈھارس بنتے ھیں ، اور انکی زبان سے نکلا ھر لفظ بچوں کے دلوں میں گھر کرتا ھے اور یہی وہ ورثہ میں ملنے والا تہذیبی خزانہ ھوتا جو صرف باادب لوگوں کو نصیب سے ملتا ھے
    ان اقتباسات کی خوبصورتی کا کیا کہنا
    آیئۓ اس خوبصورت اور دل کو چھولینے والی تحریر کو ایک ساتھہ قرات کریں
    لفظ لفظ دل میں ایمان کی روشنی بھر دیتا ھے

    نماز کا ہمیشہ اہتمام کرتے اور ہمیں بھی کہتے۔

    ’’ میں نہیں کہتا کہ پانچ نمازیں پڑھا کرو حالانکہ فرض ہیں اور نہ پڑھنے والوں کو سخت سرزنش ہے۔ لیکن یار ’’ ایک ‘‘ پڑھنے سے تو سٹارٹ کرو۔

    میری بی بی جی کہتی ہیں۔ ’’ جو شخص ایک نماز بھی روز پڑھتا ہے وہ ایک روز پانچ بھی پڑھے گا۔ اللہ کی توفیق ہو گی اُسے۔‘‘

    ان کے انتہا پسند دوست ان کی اس چھوٹ دینے پر خفا ہو جاتے تو وہ ہنس کر کہتے۔

    ’’ یار ‘ رحم کرو ان بچوں پر ‘ بھول گئے اپنا وقت۔ مسجد کے سامنے سے گزر جاتے تھے اور کبھی نماز نہ پڑھی تھی۔ لگا تار تین جمعے ادا کرنے بھی مشکل لگتے تھے۔‘‘

    ’’ یارو‘ اپنے بچوں میں دین سے پیار پیدا کرو‘ آسانیوں سے نہ کہ سختیوں سے۔ سختی سے سیکھا ہوا علم نہ پائیدار ہوتا ہے اور نہ ہی لگاتار۔ ‘‘

    اُنہوں نے مذہب کو اتنا آسان اور پیارا بنا کر ہمیں سکھا یا تھا کہ ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ اتنا مضبوط تناور درخت بن گیا۔
    اللہ کرے زور قلم زور سخن زور فکر زور عمل اور زیادہ

  7. دین اسلام بہت آسان ہے: (صیح بخاری ) مگر افسوس ہم نے اس کو مشکل بنا دیا ہے۔
    ’’ اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اوروہ تمہیں مشکل اورسختی میں نہیں ڈالنا چاہتا ‘‘۔ [البقرۃ : ۱۸۵

    اسی سورہ میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے: ’’اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا‘‘۔ [البقرۃ:۲۸۶
    ماشا اللہ بڑا خوبصرت افسانہ ہے جس میں بیرون ملک رہنے والے مسلمانوں کی زندگی کی خوبصورت اور سادہ زبان میں بے ساختگی کے ساتھ عکاسی کی گئی ہے۔ یہ افسانہ، آج کی زندگی میں تازہ ہوا کا یک جھونکا ہے.

    ……………………………………………………………………………..

    میرا تازہ بلاگ : نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو‘

    http://www.awazepakistan.wordpress.com

  8. اسلام علیکم ساتھیو
    بہن نگہت خوش رہئے ۔
    آپ کی تحریر کی تازگی بالکل ایسی ہی ہے جیسے آج کل پھول کھل کر ہر طرف خوشبوئیں بکھیر رہے ہیں ۔اور مضمحل اور ناتواں پودے بھی لہلہانے لگے ہیں ۔
    آپ کی کہانی ،کہانی نہیں ایک حقیقت ہے اور انتہائی دل نشیں الفاظ اور ترکیبوں سے گند ھی ہوئی ۔
    مجھے ہر جملہ پیچھے لے گیا ،جب میں بچوں کو نماز کے لئے ڈانٹٹی تو والدہ کہتیں زور سے نہیں زبر دستی نہیں بس کہہ دو کہ نماز کا وقت ہے نماز پڑھ لو ۔ تم خود کھڑی ہو جاؤ وہ بھی پڑھ لینگے ۔ جب خود پڑھینگے تو دل سے پڑھینگے ورنہ تمہارے ڈر سے پڑھینگے دل سے نہیں ۔
    اور پھر سب ہی پڑھنے لگے چاہے گنڈے دار ہی صحیح ، واقعئی ہمارے مزہب میں سختی نہیں ہے اور جب دل اس کی طرف آجائیں تو پھر کوئی رکاوٹ نہیں رہتی ۔
    اللہ کرے کہ ہم ان باتوں کی روح کو سمجھ سکیں ۔
    جیتی رہئے ۔
    عالم آرا

  9. اسّلام علیکم ،محترم ساتھیوں ،

    ا ندازِ دل نشین سے کیا بات کہ گئے تم
    ہم سوچتے رہے یہ ،کیا یہ نصیحتیں ہیں

    یا دلربا فسانہ

    کچھ یاد ہئے زرا سا اپنا بھی وقت تم کو

    امّاں کا وہ بلانا ،

    دادا کا وہ بلانا

    آؤ نماز پڑھ لو ،اللہ کو یاد کر لو

    اور حال تھا تمھارا ،کنّی کتر کے جانا

    مسیحا بیٹی کے خوبصورت پیرائے میں دل کی گہرائ سے لکھے ہوئے یہ الفاظ بہت پر تاثیر ہیں ،،میں بھی اپنے گھر کے ننھے منّے

    اور کچھ زرا بڑے بچّوں میں نماز کا شعور بیدار کرنے کے لئے گزشتہ ایک سال سے بہت صبر سے محنت کر رہی تھی ،،پنجتن پاک کے صدقے میں محنت قبول ہوئ اور ماشاللہ سب بچّے مناسب عنوا ن سے نماز مع فجر پڑھ رہئے ہیں چار وقت کی تو ہورہی تھی

    ،مسلسل کئ دن تک فجر کی نماز کی اہمیت آہستہ آہستہ ان کی سماعت میں ڈالتی رہی اور اللہ کے فضل سے کامیاب ہو گئ ،

    جزاک اللہ بیٹی سلامت رہو یونہی علم کے فروغ میں حصّہ لے کر ثواب دارین کماؤ آمین

  10. اقبال بھائی افسانے کی پسندیدگی کے لئے بے حد ممنون ہوں

  11. آپا آپ نے کتنا اچھالکھا اپنے گھر کے بارے میں ۔۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ۔۔ پسندیدگی کے لئے بہت بہت شکریہ

  12. جزاک اللہ زئراہ بجو ۔۔ آپ کی دعائیں میرے لئے قیمتی سرمایہ ہیں ۔۔ سلامت رہئے

  13. باجی آپ کا ہی یہ کمال ہے ، سادہ لفظوں میں بڑی بات . . . اللہ آپ کو خوش رکھے ، آمین

  14. یہ ایک حقیقت ہے۔ہمارے اردگرد کی کہانی ہے۔ایک تحریر جو شروع سے آخر تک خوبصورت ہے،اس میں بہت عمدہ نصحیت بھی ہے۔اسلام ایک بہت ہی پیارا مزہب ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے۔ عیر ملکوں میں پروان چڑھتے ہوے انسان پر دہری زمہ داری ہوتی ہے۔
    آپی نگہت بہت ہی اعلی افسانہ ہے۔ پڑھ کر مجھے لگا کہ آپ نے میرے ہمسا یوں کی کہانی لکھا دی ہے۔

  15. اظہر صاحب آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ یہ آپی نگہت کا ہی کمال ہے۔ سادہ لفظوں میں بہت اعلی اور بڑی باتیں لکھنا ۔ ہمشیہ خوش رہیں میری آپی جان ! آمین۔

  16. بہت ہی اچھا افسانہ ہے. اور ہمیشہ کی طرح آغاز سے انجام تک متاء ثر کن.
    ًمیرا اپنا حال بھی یہی ہے کہ مغرب مجھے دین سے دور لے جانے کی بجاےء اور قریب لے آیا ہے.
    اور درحقیقت یہی اس دین مبین کی خوبی ہے کہ یہ دلوں میں گھر کر لیتا ہے.
    ہم جن باتوں کو سوچتے ہیں نگہت آپی جیسے اچھے قلمکار ان کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں .
    خوش رہئے.

  17. روشنی“ پیار محبت اور ایمان کے دیئے روشن کرتی تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر نگہت نسیم کے افسانے ”روشنی“پر ایک تاثر

    از۔ جویریہ بتول

    ”روشنی“ڈاکٹرنگہت نسیم کے بہترین افسانوں میں سے ایک نیا افسانہ ہے،جس میں ڈاکٹر صاحبہ نے وطن سے محبت،اپنی روایات،تہذیب اوردین کی ایک مسلمان کی زندگی میں اہمیت اور ضرورت کو موضوع گفتگو بنایا ہے اوریہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک اچھی اورکامیاب زندگی گزارنے کے لئے مذہب اور تہذیب کو ایک ساتھ لے کر چلنا کتنی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر پر دیس میں رہ کر اپنے وطن کی محبت،اپنی روایات اور مذہب کے پودے کو پروان چڑھانا کتنا مشکل کام ہے۔

    ”روشنی “میں ڈاکٹر صاحبہ نے رشتوں کی اہمیت اور اپنوں سے رابطے کی اہمیت کو بھی واضح کی ہے، جیسے اس افسانے کا یہ جملہ”رشتوں اور رابطوں کو نبھانا ہی تو اصل تربیت ہے۔ “ اِس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ اپنوں سے رابطہ اور رشتوں کا احترام کتنا ضروری ہے،بڑوں کی عزت،چھوٹوں سے پیار،اپنوں سے میل جول اگر یہ سب نہ ہوں تو انسان اس دنیا میں بالکل اکیلا اور تنہا ہوکر رہ جاتاہے ۔

    وطن سے دور رہ کر وطن کی محبت کا جذبہ اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے،بالکل ایسے جیسے جیسے کسی اور کے گھر میں ہمیں وہ آرام و سکون نہیں ملتا جو اپنے گھر میں میسر آتا ہے، ایسے ہی پردیس میں بھی اپنے وطن کی مٹی کی مہک نہیں ملتی،اسی طرح اپنی تہذیب اوراپنا کلچر دوسرے دیس میں بسانا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں،لیکن ڈاکٹر صاحبہ کا یہ افسانہ پڑھ کر اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے ڈاکٹر صاحبہ نے پردیس میں رہ کر اپنا وطن ،اپنا مذہب ،اپنی تہذیب کو اپنے اردگرد بسا رکھا ہے۔

    ”روشنی “ ڈاکٹر صاحبہ کی بہت ہی پیاری تحریر ہے جو مذہب ،تہذیب اور روایات کی مٹی سے گندھی اپنے پڑھنے والوں کووطن کی محبت اور رشتوں کی اہمیت و احترام سے آشنا کرواتی ہے،آپ کی اس تحریر میں آج کی نوجوان نسل کیلئے ایک سبق موجود ہے،آج کے اس مادی دور میں ہم اپنی بنیادی اساس یعنی اپنے مذہب ، اپنی تہذیب اور اپنی مشرقی روایات سے بہت دور ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ہم وطن میں رہ کر بھی اپنے وطن کی محبت اور اپنی مٹی کی وہ خوشبو اس طرح محسوس نہیں کو پا رہے جس طرح ڈاکٹر صاحبہ نے دیار غیر میں رہ کر محسوس کی اور اُسے اپنے افسانے ”روشنی“ کا موضوع بنایا،آپ کا یہ افسانہ آپ کے جذبات و احساسات کا آئینہ دار ہے ۔

    ”روشنی “اس لئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ اسے پڑھ کر ہمیں ا پنی کھوئی ہوئی تاریخ کو قریب سے جاننے اور سمجھے کا موقع ملتا ہے ،اس افسانے کے مطالعے سے اپنے مذہب و کلچر سے ہمارا رشتہ گہرا اور مضبوط ہوتا ہے ، مٹی کی محبت کا وہ جذبہ جو کہیں کھو گیا ہے ،اُسے بیدار کرنے اور رشتوں کی وہ دوریا ں اور فاصلے جس نے ہمیں تنہائی پسند بنادیا ہے، ”روشنی “ کے ذریعے زندگی میں اِن کی اہمیت واضح ہوئی ہے اور احساس ہوتا ہے کہ اصل زندگی وہ نہیں جو ہم گزار ہیں بلکہ وہ ہے ،جسے ہم نے کھودیا ہے اور جسے ڈاکٹر صاحبہ نے موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔

    آج کے نوجوان جو اپنے مذہب اور اپنی تہذیب سے دور ہوتے جا رہے ہیں، روشنی اُن کیلئے اصل حقیقت سے شناسائی کا بہترین ذریعہ ہے،اپنے وطن سے محبت ، اپنی تہذیب و تمد ن سے جڑے رہنااور اپنے مذہب سے اپنا مضبوط تعلق قائم رکھناڈاکٹر صاحبہ کی تحریر کی بنیاد واساس ہے،یہی وہ جوہر ہیں جو آج کے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرکے انہیں آنے والے کل کیلئے تیار کرسکتے ہیں،ڈاکٹر صاحبہ کی تحریریں یہ ذمہ دار ی احسن طریقے سے انجام دے رہی ہیں، میری دعا ہے کہ اللہ پاک ڈاکٹر صاحبہ کے اِس نیک مقصد اور مبارک مشن کو پورا فرمائے اورآپ ”روشنی “ جیسی زندہ وجاوید تحریروں کے ذریعے ہمارے دلوں میں پیار محبت اور ایمان کے دیئے روشن کرتی رہیں ……. (آمین)

    سلامت رہو جویریہ تمہارا تبصرہ پڑھ کر لگا جیسے میری محنت وصول ہو گئی ۔۔ خوش رہو بیٹی

  18. میں بڑے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جویریہ بنت احمد ترازی ایک اچھی تبصرہ نگار بن سکتی ہیں. اگر یہ انکا تحریر کردہ پہلا تبصرہ ہے تو کئی نقادوں اور مبصرین کی برسوں کی ریاضت سے بہتر ہے اور اگر پہلا نہیں ہے تو بھی سفر کی سمت متعین نظر آتی ہے. اللہ پاک جویریہ کو نقدونظر اور رائے دہی میں ”میزان” کرنے کی توفیق عطا کرے. آمین

  19. بابا یقینا یہ جویریہ بتول کا پہلا تبصرہ ہے آپ کی طرح میں نے بھی جب اسے پہلی بار دیکھا تو یقین نہیں آیا کہ یہ جویریہ نے لکھا ہے میں سب سے پہلے اس سے یہی سوال کیا کہ اس تبصرے کیلئے کس کتاب سے مدد لی تو اس نے کہا یہ میں نے بغیرکی مدد اور مطالعے کے لکھا ہے پھر اس بے بطور ثبوت مجھے وہ رف پیپر دکھائے جس پر میں نے اس کی بہت حوصلہ افزائی کی اور اسے ان پیج میں ٹائپ کرنے کا کہا جو اس نے کیا اور پھر یونی کوڈ میں ٹرانفسر کرکے باجی کو روانہ کیا اس عمل کی میں خود نگرانی کی
    بابا یہ سو فیصدی اس کے اپنے خیالات ہیں جس کی نوک پلک بھی میں نے درست کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اسے میں اس کے خیالات میں مداخلت سمجھتا ہوں انشاء امید ہے کہ وہ آئندہ بھی لکھتی رہے بس اسے حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی ضرورت ہے اور یہ کریڈٹ باجی کو جاتا ہے جو اسے عالمی اخبار کے صفحات تک لے آئیں ہیں

  20. ماشاللہ احمد بھائی جویریہ نے بہت بہت اچھا لکھا ہے ۔۔ بے شک بابا صاحب نے سچ لکھا کہ “اگر یہ انکا تحریر کردہ پہلا تبصرہ ہے تو کئی نقادوں اور مبصرین کی برسوں کی ریاضت سے بہتر ہے“ ۔۔۔ ماشاللہ اللہ کریم اپنے حبیب کے صدقے جویریہ کا قلمی سفر پوری آب وتاب کے ستاھ جاری رکھے ۔ الہی آمین ۔۔ میں خوش نصیب ہوں کہ احمد بھائی سارا کریڈٹ مجھے دے رہے ہیں حالانکہ یہ انہی کی سرپرستی ہے ۔۔

  21. جویریہ بیٹی ماشاللہ بہت بہت اچھا لکھا ۔۔ جیتی رہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *