یومِ آزادی مبارک

السلام علیکم
تمام اہلِ وطن کو میری جانب سے یومِ آزادی مبارک
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کی کمزوریاں دور کرے اور ہمیں یکسو ہونے کی توفیق دے

میں اپنے اردگرد دیکھتی ہوں تو اکثر ہم وطن معاشرے کی خرابیوں کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان خرابیوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتے متحد نہیں ہوتے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی مختلف قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔ لیکن ہم بازار جاتے ہیں تو منہ مانگے دام دے کر چیز خرید لیتے ہیں احتجاج نہیں کرتے ناجائز منافع خوری کی راہ بند نہیں کرتے۔ بلکہ دیکھا جائے تو ہم خود ناجائز منافع خوروں کی معاونت کرتے ہیں۔

کسی سرکاری دفتر کا رُخ کیجیے جائز کام کے لیے یا تو آپ کو مہینوں چکر لگوائے جائیں گے یا رشوت کی امید کی جائے گی یا سفارش کی ضرورت پیش آئے گی۔ عام آدمی اپنی سہولت کے مطا بق اور اپنی جیب کے مطابق رشوت دے کر اپنا کام کروا لیتا ہے اور پھر شور بھی مچاتا ہے کہ کرپشن بہت ہے۔ کرپشن کا راستہ روکنے ے لیے کوئی اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ۔ تو کیا وہ عام آدمی بھی شریکِ جرم نہیں۔

ہم اکثر اپنے ارد گرد بارسوخ افراد کو زیادتی کرتے دیکھتے ہیں۔ لیکن مظلوم کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے پر فائز رہنا پسند کرتے ہیں۔ برائی کی راہ روکنا تو دور برائی کو برائی بھی نہیں کہتے ۔ کیا ہم ایسے کمزور ایمان رکھنے والے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ کل کو جب ہمارے ساتھ زیادتی ہوگی تو ہمارے ساتھ کوئی کھڑا ہو گا۔ کیا ہم تنہا نہیں ہونگے۔ ہم میں سے کوئی ایک اگر برائی کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے تو ہم اُسے پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیتے ہیں یہ بتاتے ہیں کہ مقابل طاقتور ہے ، اپنی جان اور عزت بچاؤ۔ ہمارے معاشرے میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون کسی اور نے نہیں ہم ایسے کمزور افراد نے ہی نافذ کیا ہے۔

عدلیہ کی بحالی کی تحریک سے ایک اُمید جاگی تھی کہ شاید ہم نے اپنی مجرمانہ خاموشی توڑ دی ہے۔ اب ہم مشرف کو کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں۔ این آرو کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کی راہ روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا ہم خود بھی بدلنا چاہتے ہیں؟؟؟

والسلام
زرقا

60 thoughts on “یومِ آزادی مبارک”

  1. زرقا میں تمھاری سار ی باتوں سے سو فیصد متفق ھوں ۔ یقین کرو جب سے میں سڈنی آئی ھوں اپنے ملک کے ہجر میں دن رات جلتی ھوں اور کڑھتی ھوں ۔ پتہ کیا زرقا ۔۔ سچ تو یہ ھے کہ ھم خود کو بدلنا ھی نہیں چاھتے ۔ مجھے آج بھی یہی دکھ ھے جو تمہیں ھے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے اور کئی دکھ ھیں جو مجھے بہت رنجیدہ رکھتے ھیں ۔۔میں تقریبا ھر دو سال بعد پاکستان جاتی ھوں اور پہلے سے زیادہ حیران رھ جاتی ھوں ۔
    جیسے اب لوگ بہت زیادہ status concious ھو گئے ھیں ۔ دولت کابے دریغ استعمال ۔ جھوٹی شان کی نمائش سب اب طریقہ زندگی بن گیا ھے ۔ ھم کبھی اپنے مسائل کا حل اپنے وسائل میں نہیں تلاش کرتے ۔سستی اور کم قیمت پاکستان میں بنی ھوئی پاکستانی چیزیں خریدنا اپنی توھین سمجھتے ھیں ، معمولی اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانا گناہ سمجھتے ھیں ، سستے وکیل اور ڈاکڑوں کے پاس جانا جیسے ھتک ھو ۔حالانکہ ھم سب نے ایک ھی جیسے کالج سے تعلیم حآصل کی ھوتی ھے ۔ ھم خود ھی سنورنا نہیں چاھتے ۔۔ ھماری حد سے بڑھی ھوئی “میں ” نے خودسری اور خود نمائی نے اپنے ھی بہن بھایئوں کو ھم سے جدا کر دیا ھے ۔
    کہتے ھیں کہ اگر کسی ملک کی ٹریفک میں نظم اور ترتیب ھے تواس کی قوم بھی منظم ھو گی ۔۔ ھم میں سے کوئی ایک بھی منظم ھونے یہ کوشش کرتا ھے تو لوگوں کی جھڑکیوں کا نشانہ بن جاتا ھے ۔ میں سوچتی ھوں کہ یہ لوگ جب ایک شخص کو بھی اپنے گھر جانے کا راستہ نہیں دے سکتے ۔۔ گھر توجانا دور کی بات کسی ایمبولنس یا فائر برگیڈ کو کسی کی جان بچانے میں بھی مدد نہیں کر سکتے تو وہ کسی ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا وقت کیوں برباد کریں گے ۔۔
    پھر یہ بھی سوچتی ھوں کہ آخر کب تک ۔۔۔ بے حسی تو آگ ھے اور آگ تو آگ ھے ۔۔ بڑھے گی تو ھر گھر جلائے گی ۔۔
    مجھے یقین ھے کہ اگر ھم میں سے کوئی دو تین بھی اپنی طریقہ زندگی بدل لیں تو دیکھا دیکھی شائد مزید لوگ ھمت کر لیں ۔
    مجھے لگتا ھے جیسے جب تک ھر نہج پر ، ھر سطح پر ۔۔حکومت کے سرکاری لوگ ھوں یاحکومت سے باھر عوام ۔۔ جب تک ھم سب اپنے اچھے برے کاموں کی زمہ داری اپنے سر نہیں لیں گے اور جب تک اپنے ھر قابل مذمت فعل کے اقرار کی جرات اور ھمت نہیں کریں گے تب تک کچھ بھی بدلنا مشکل ھے ۔
    یہ ایسے ھی جیسے کوئی مریض پہلے تو یہ یقین کرے کہ اسے کوئی مرض بھی ھے ۔ اس لیئے کہ جب وہ یقین کر لیتا ھے کہ وہ مہلک مرض میں مبتلا ھے تو ھی وہ علاج کے لیئے آمادہ ھوجاتا ھے ۔ جب مریض آمادہ ھو جاتا ھے تو علاج کے کئی طریقے سامنے آ جاتے ھیں اور وہ آہستہ آہستہ شفا یاب ھونے لگتا ھے ۔
    سو جب تک ھم کو یہ بات نہیں سمجھ آجاتی کہ سازشیں ، جوڑ توڑ ، مفاد پرستیاں ، خود غرضیاں ، بے حسی اور جہالت ۔۔ روح کی مہلک بیماریاں ھیں ۔۔تب تک بھلا ان کا علاج کیسے
    ممکن ھو سکے گا ۔
    اللہ پاک سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کی کمزوریاں دور کرے اور ہمیں یکسو ہونے کی توفیق دے ۔۔ آمین۔۔

  2. زرقا بہن، و علیکم السلام۔
    بجا فرمایا آپ نے۔
    کسی کے جملے یہاں لکھنے سے بہتر ہے کہ کہ اپنا مشاہدہ لکھوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ : “ایک سیاستدان اور ایک مجرم میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ اگر سیاستدان بہتر ہوجاتا ہے تو وہ لیڈر کہلواتا ہے، اور اگر سیاست میں ناکام ہوجاتا ہے تو وہ مجرم ہوجاتا ہے۔”
    اور ہم؟ ہم وہ خاموش تماشائی ہیں جو کسی پر ظلم ہوتے ہوئے تسکین محسوس کرتے ہیں۔ میں نے کسی بلاگ میں لکھا تھا کہ ہم بنیادی طور پر “سیڈومیسوکسٹ” ہو چکے ہیں۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کے دل پر کیا کیا گذر رہا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ سوائے دعا دینے کے اور نیک خواہشات رکھنے کے میں کیا کر سکتا ہوں۔ میری اچھی بہن میں بہت شرمندہ ہوں۔
    اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا کرے۔
    آمین۔

  3. بہن زرقا سدا خوش رہیں خالق کائنات آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے آمین ثم آمین۔ربنا تقبل دعا۔
    بی بی آج کے اس مبارک دن کا ہمیں احترام کرنا چاہئے ایک دوسرے کو مبارک باد دینی چاہئے اپنی بھرپور خوشی کا اظہار کرنا چاہئے معانقہ۔مصافح۔ مبارک۔
    اس موقع پر اپنے زخموں کو چھپانا چاہئے ان تکالیف اور قربانیوں کو یاد کر نا چاہئے جنکے سبب آج ہم ایک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں اس مولائے کل کی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہئے آج تو یوم عید ہے اپنے دکھ کا اپنی تکلیف کا کرب کا اظہار کرنے کا دن آج نہیں ہے آپ کہیں گی آپ کا کیا ہے آپ تو موج میں ہیں امریکہ میں بیٹھے ہیں آپ کو ہمارے درد کا احساس کیونکر ہو سکتا ہے اس طویل عر صے میں آپ اس مجبوری اور گھٹن کا احساس کھو بیٹھے ہیں حاشا ایسا نہیں ہے دل و دماغ ہمارے وہیں پہ رہتے ہیں۔ جس کی دیواریں پکڑ کا مجھے چلنا آیا۔ وہ تو مثل مادر ہے آپ میری تمام تحریریں پڑھیں تو آپ کو ان میں اس وطن عزیز سے الفت و انس کی وہ محک ملے گی جس سے آپ کا دل و دماغ معطر ہو جائے گا انشاءاللہ ،،،مبارک مبارک مبارک تمہیں ۔وہ وطن ۔وہ چمن ۔میری میری پیاری بہن

  4. میرے چند اشعار:
    اے فلک تونے ہمیں یہ دن دِ کھا یا شکریہ
    شکریہ تونے مشرف کو ہٹا یا شکریہ

    تونے زرداری کو مسند پر بٹھا یا شکریہ
    تو نے دو فیصد کو سو فیصد بنا یا شکریہ

    شکریہ تونے شریفوں کو نواز ا شکریہ
    شکریہ تونے وطن کو سرفرازا شکریہ

    عدلیہ کو کردیا ‌آزاد تیرا شکریہ
    چودھری کا کردیا دل شاد تیر شکریہ

    اب وطن میں اک نیا سورج طلوع ہونے کوہے
    انتقا می دور کا دورہ شروع ہونے کو ہے

    ۔۔۔۔
    پاکستان کا یوم آزادی مبارک
    ۔۔
    منظور قاضی از جرمنی

  5. السلام علیکم
    شکریہ نگہت جی
    میں نے کسی غزل میں لکھا تھا

    دوڑ مادے کی اگر یوں نہ تھکائے ہم کو
    بے سکونی کی وبا بھی چلی جائے گھر سے

    ڈگریاں بکنے لگیں زر کے عوض مکتب میں
    علم کا جو بھی خریدار ہے آئے گھر سے

    ایک نجی محفل میں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آپ اپنے بیٹے کو کیا بنانا چاہتی ہیں میں نے جواب دیا کہ میں اُسے ایک اچھا انسان بنانا چاہتی ہوں
    اس پر میرے ایک عزیز سخت ناراض ہوئے کیونکہ اُن کے خیال میں بچے کے سامنے ایک میٹیریل گول ہونا چاہیے جسے حاصل کرنے کے لیے وہ ہر چیز کو بالائے طاق رکھ دے
    یعنی تعلیم کا مقصد مادی وسائل کا حصول رہ گیا ہے
    میری اپنی ایک عزیز جو ڈاکٹر ہیں نے شادی کے چوتھے دن اپنے سسرال میں اعلان کر دیا کہ وہ پاکستان میں نہیں رہنا چاہتیں کیونکہ اُن کو زندگی صرف ایک بار ملی ہے تو وہ کیوں نہ اس کو ایک ترقی یافتہ ملک میں بسر کریں۔

    ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اپنی اولاد میں حب الوطنی پیدا کرنے کی ضرورت ہے
    اس ملک کی بدولت ہم آزاد کہلاتے ہیں تو کیا حرج ہے اگر ہم خود کو اس کی محبت کا اسیر کر لیں

    والسلام
    زرقا

  6. السلام علیکم
    فیاض بھائی آپ کے تبصرے کے لیے ممنون ہوں
    اللہ ہم سب کو اپنے فرائض کو پہچاننے اور انہیں سر انجام دینے کی توفیق دے
    والسلام
    زرقا

  7. بلکل ھر پاکستانی کی پہچان پاکستان ھی سے ھے اور اس کی محبت میں اسیر ھونا خوش نصیبی ھے ۔۔ پر کبھی کبھی مجھے یہ شعر بھی اپنے حسب حال لگتا ھے ۔۔ جی چاہ رھا ھے کہ آپ سب کو بھی سناؤں ۔۔۔
    یہ ایک کھیل ھے ھم خوش عقیدہ لوگوں کا
    دیئے جلا کے ھوا کی اماں میں رکھنا
    پر میں بہت خوش گمان ھوں ۔۔ یہی یقین مجھے تسلی میں رکھتا ھے ۔۔ انشاللہ ھم نہ سہی ھماری نسلیں ضرور پاکستان کی بہاریں دیکھیں گے ۔۔۔۔ پر ان بہاروں کے بیج ھمیں ھی بونے ھیں ۔۔ اخلاق ، پیار اور وفاداری کے بوٹے ھمیں ھی لگانے ھیں ۔۔ بس اللہ پاک ھمیں اس فرض کو نبھانے کی ھمت عطا کرے ۔۔آمین

  8. السلام علیکم
    امین بھائی
    میں آپکے خیالات کا احترام کرتی ہوں
    میں سمجھتی ہوں کہ یومِ آزادی وہ دن ہے جب ہمیں اپنے ملک سے محبت اور وفاداری کا از سرِ نو عہد کرنا چاہیے
    یہ خود احتسابی کا دن بھی ہے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنا عہد کس حد تک نبھا رہے ہیں
    یہ دوسروں کو ترغیب دینے کا دن بھی ہے
    اور سوئے ہوئے احساس کو جگانے کا دن بھی ہے

    یہ تحریر سوئے ہوئے قومی ضمیر کو جگانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے

    والسلام
    زرقا

  9. نواز شریف صاحب کا ارشاد ہے کہ:
    ” قائد اعظم اگر یہ جانتے کہ ان کے بنائے پاکستان کے مقاصد پورے ہونے کی بجائےیہ اندھیروں میں چلا جائے گا تو وہ بھی اسے بنانے سے پہلے سوچتے”
    نواز شریف صاحب کے اس بیان کو 14 اگست 2009 کے جنگ کی اس لنک میں پڑھیے :

    http://www.jang.com.pk/jang/aug2009-daily/14-08-2009/u2390.htm
    سوال یہ ہے کہ قائد اعظم کیا سوچتے ؟ کہ اسے نہ بنا یا جائے ؟

  10. پاکستان کا یوم آزادی تمام پاکستانیوں کو مبارک ھو۔
    امن، انصاف، بیداری، خوشحالی، ایمانداری، روشن خیالی، ارتقاپذیری، امید، ھمت، عزم، حوصلے،برداشت، اخوت، احساس، تفکر، تدبر، وقار، عظمت، انسانیت، محبت، خوشی، سلامتی اور دنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ بہ سے بہتر دو طرفہ تعلقات کی دلی دعائوں کے ساتھ
    ۔
    دل و جان سے پاکستانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پنہاںؔ

  11. السلام علیکم نگھت آپا ۔ قاضی صاحب اور تمام بلاگ پڑھنے والوں کو میری طرف سے بھی دکھی دل کے ساتھ پاکستان کا جشن آزادی مبارک ہو !
    ماشااللہ بلاگ کا عنوان اتنا ذبردست ہے کے بنا لکھے رہا نا گیا تو یہ گستاخی کر رہی ہوں‌۔اگر کچھ جزبات میں کچھ ایسا لکھ دوں جس سے کسی کا دل دکھے تو اسکے لئیے معزرت ؟
    سب سے پہلے تو پنہاں جی کی معنی خیز لائن یہاں پیسٹ کر رہی ہوں جس میں انہوں نے بہت ہی شاندار طریقہ سے کچھ نا لکھتے ہوئے بھی سب کچھ لکھ دیا 🙂
    پاکستان کا یوم آزادی تمام پاکستانیوں کو مبارک ھو۔
    پنہاں جی اگر پاکستان میں آپ پاکستانی کو تلاش کو تلاش کرنے نکلیں نا تو چراغ تو بہت چھوٹی چیز ہے آپ بڑی بڑی سرچ لائیٹیں بھی لے کے گھومیں تو بڑی مشکل سے کوئی پاکستانی مل جائے تو معجزہ ہوگا ۔مگر پاکستان میں لوڈ شیڈ نگ کی وجہ سے سرچ لایٹس تو جلانا نصیب ہی نہیں ہونگی تو پاکستانی ملنا مشکل ہے اور اگر موم بتیاں تلاش کی جائیں تو اب تو موم بتیاں تک short ہیں پھر وہ پاکستانی کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں جس کو یوم آزادی کی مبارک باد دیں اور وہ دل سے مبارکباد قبول بھی کرے ؟
    میرا جہاں تک خیال ہے پاکستان سے اصل پاکستانی ذیادہ تر دیار غیر کوچ کر گئے ہیں جہاں وہ چین کی نیند سوتے ہیں اور وہ آزادی کے لمحات یاد کرتے ہیں جب پاکستان کو ہزاروں قربانیوں کے بعد آزاد کروایا گیا تھا ۔ مگر وہ دیار غیر میں بھی چین کی نیند نہیں سو سکتے کیونکہ ہر محب وطن پاکستانی چاہے پاکستان میں ہو یا دیار غیر میں پاکستان کو لٹیروں کے ہاتوں میں دیکھ کر ہر ہر لمحہ اپنے آپ میں مرتا ہوگا ۔
    وہ پاکستانی عوام جس نے پاکستان کو آزاد کروایا تھا اصل پاکستانی تو وہ تھے ۔آج تو پاکستان میں سندھی ۔پنجابی ۔ پٹھان ۔بلوچ اور مہاجروں کا راج ہے ۔
    اگر پاکستان میں کسی سے یہ سوال کیا جائے کے آپ کون ہیں تو وہ بے ساختہ اپنی کاسٹ بتائے گا کے جی میں پٹھان ہوں ۔میں پنجابی ہوں ۔ میں بلوچی ہوں میں مہاجر ہوں ۔کوئی یہ نہیں کہے گا کے میں پاکستانی ہوں
    بہت مشکل ہے پاکستانی ڈھونڈنا ۔جو پاکستانی تھے جن کے دل میں پاکستان بستا تھا یا تو وہ مر گئے یا وہ ملک چھوڑ گئیے ۔یا پھر اگر کوئی ہے تو وہ تقیہ کئے بیٹھا ہے ۔
    اتفاق سے اگر کسی پاکستانی کا پتہ چل بھی جائے نا اور اور اس تک رسائی بھی ہو جائے اور اس سے سوال کیا جائے کے آپ کون ہو ؟ تو وہ دل میں تو ضرور یہ کہے گا کے میں تو پاکستانی ہوں مگر منہ پر کبھی نہیں بولے گا ۔وہ منہ پر یہی کہے گا کے میں پنجابی ہوں۔مہاجر ہوں۔پٹھان ہوں۔سندھی ہوں۔کیونکہ آج کل جن کا راج ہے انہی کا راگ الاپنا پڑ تا ہے ۔اگر کہہ دیا کے میں پاکستانی ہوں تو وہ بے چارہ بے موت مارا جائے گا ۔کیونکہ اسکو تو کوئی جماعت قبول ہی نہیں کرے گی ۔ اسکا سوشل بائکاٹ ہو جائے گا کے یہ ہماری جماعت سے نہیں اسکا حقہ پانی بند کرو ۔
    قاضی صاحب آپ کا تو خون اس ملک کی ایک ایک اینٹ میں شامل ہے ؟آپ ہی بتائیں کیا میں غلط کہہ رہی ہوں‌؟
    اپنے بڑوں سے میں نے یہ مثال سنی ہے ” جیسی روح ویسے فرشتے ” 1947 میں جسی روح ملی ویسے ہی فرشتے ساتھ تھے ۔ اسکے بعد روح بدلتی گئی فرشتے بدلتے گئیے ۔ اور آج بھی جیسی روح ہے ویسے ہی فرشتے ہیں ۔
    کس بات پر پاکستان کی عوام اتنا شور کرتی ہے ؟کون سی کرپشن ؟کرپٹ بنانے والوں کے منہ سے کرپشن کی بات اچھی لگتی ہے کیا ؟
    کیسی لوڈ شیڈنگ ؟بجلی چوری کرنے والوں کے منہ سے لوڈشیڈنگ کی بات سمجھ آتی ہے آپ کو ؟
    ہمارے پاکستانی بھائی اگر پاکستان سے باہر کسی ایسے ملک جاتے ہیں جہاں اصولوں پر ملک چلتا ہے وہاں جا کر تو وہ ایک دم با اصول انسان بن کر ذندگی گزارتے ہیں مگر جب اپنے ملک میں جاتے ہیں تو اپنے ہی پاکستان کو گالیاں دتیے منہ نہیں تھکتا اور خود بھی وہی سب کر رہے ہوتے ہیں ۔
    ہماری پاکستان میں رہنے والی عوام اس سسٹم میں رہنے کی عادی ہے ۔ سوچنے والی بات ہے سیاست دانوں کے کہنے پر تو سڑکوں پر آ جاتے ہیں انکے مفادات کے لئیے اپنی موت کتےکی موت سے بدتر قبول کر لیتے ہیں مگر اپنے جائز حقوق کے لئیے آواز اٹھاتے کیوں ڈر لگتا ہے ؟وہ اس لئیے کے دل میں چور بسا ہے انکے ۔
    اگر کسی کے دل میں اگر چور ہوگا تو وہ بند کمرے میں بیٹھ کر شور تو کرینگے مگر جب کچھ کرنے کا وقت آئے گا تو کہیں چھپ جائینگے کے کہیںکسی ایسے نے دیکھ لیا جس کے ساتھ مل کر میں نے خود یہی کام کیا تو پنس نا جاوں۔
    میری نظر میں تو پاکستان میں پاکستانی کی تلاش ایک بہت بڑا کام ہے جو کے آج کے دور میں اگر نا ممکن نہیں تو اتنی تو مشکل ہے کے جیسے آسمان سے تارے توڑنا ۔وہ الگ بات ہے کے تارا خود ٹوٹ کر گر جائے تو وہ مجزہ ہے 🙂
    جس دن آپ میں سے کسی کو کوئی پاکستانی مل گیا تو مجھے بھی ضرور بتائے گا مجھے بہت شوق ہے ایک اصل پاکستانی سے ملنے کا اس سے باتیں کرنے کا اسکا جزبہ سمجھنے کا ۔کیونکہ پاکستان آزاد ہونا کوئی چھوٹی بات نہیں تھی اس کے پیچھے کیا جزبات تھے یہ کوئی اصل پاکستانی ہی بتا سکتا ہے 🙂
    اگر میری کسی بھی بات سے کسی کو بھی کچھ بھی برا لگا ہو تو بے حد معزرت ۔

  12. ماریہ جی
    السلام علیکم
    مختصرا اتنا ہی کہوں گی کہ پاکستان میں پاکستانی بہت ہیں
    بالفرض آپ کسی پاکستانی کو نہیں مل سکیں تو آئندہ پاکستان آمد پر مجھ سے اور میرے خاندان سے ضرور مل کر جائیے گا
    انشاللہ میں آپ کواپنے جیسے بہت سے پاکستانیوں سے ملواؤں گی
    ایسے پاکستانیوں کی کمی نہیں جن کا جینا اور مرنا پاکستان کے ساتھ ہے جنہوں وسائل اور مواقع کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان سے ہجرت نہیں کی
    جنہوں نے بے شمار نا انصافیوں کو برداشت کیا لیکن وطن کو نہیں چھوڑا
    جن کی اولادیں 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ میں بھی اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں
    وہ جو اپنی جان کی پروا کئے بغیر ملک سے فساد برپا کرنے والوں کا قلع قمع کر رہے ہیں
    وہ جو معمولی تنخواہ پر رشوت نہیں لیتے اور اسی پاداش میں کبھی او ایس ڈی بنا دیے جاتے ہیں اور کبھی دور دراز کے قصبے میں ٹرانسفر کر دیے جاتے ہیں
    میں ذاتی طور پر شریف برادران کی معتقد نہیں لیکن اُن کے ساتھ کئی ایسے ایماندار افسران کام کر رہے ہیں جو فل سیکریٹری کے عہدے پر ہوتے ہوئے بھی 20 گھنٹے روزانہ کام کرتے ہیں اور لنچ بریک میں گھر سے لایا ہوا سادہ کھانا کھاتے ہیں

    المیہ یہ ہے کہ اقتدار پر مفاد پرست ٹولے کا غلبہ ہے۔ سیاسی پارٹیوں پر شخصیات یا خاندانوں کی اجارہ داری ہے۔ جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے خود کو سندھی بلوچی پٹھان پنجابی یا مہاجر کہتے ہیں

    آپ بھی جانتی ہوں گی کہ ذات پات اور برادری کا ذکر زیادہ تر رشتہ داری جوڑنے کے وقت ہوتا ہے۔ میرے حلقہء احباب میں شاید صرف ایک فیصد لوگ ایسے ہیں جو رشتہ کرنے سے پہلے ذات یا برادری کا خیال رکھتے ہیں ورنہ یہی دیکھا جاتا ہے کہ خاندان تعلیم یافتہ ہے بچوں کی تعلیم اور روزگار ٹھیک ہے ۔ میں نہیں سمجھتی کہ دوستی یا میل ملاپ کے وقت کوءی کسی کی ذات برادی پوچھتا یا اپنی بتاتا ہے

    المیہ یہ ہے کہ اکثریت خاموش ہے جبکہ اسے اپنے حق کے لیے اُٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔ اس بلاگ کا مقصد اسی خاموش اکثریت کو جگانا ہے

    والسلام
    زرقا

  13. السلام علیکم
    زرقا جی آپ نے بہت اچھا کیا کے مجھے بتا دیا کے آج بھی پاکستان میں اصل پاکستانی موجود ہیں ۔اور یہ کوشش بھی بہت اچھی ہے ۔مگر برا مت مانئیے گا کیا یہ سب جو آپ نے لکھا کے ۔۔
    ایسے پاکستانیوں کی کمی نہیں جن کا جینا اور مرنا پاکستان کے ساتھ ہے جنہوں وسائل اور مواقع کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان سے ہجرت نہیں کی
    جنہوں نے بے شمار نا انصافیوں کو برداشت کیا لیکن وطن کو نہیں چھوڑا
    جن کی اولادیں 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ میں بھی اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں
    وہ جو اپنی جان کی پروا کئے بغیر ملک سے فساد برپا کرنے والوں کا قلع قمع کر رہے ہیں
    وہ جو معمولی تنخواہ پر رشوت نہیں لیتے اور اسی پاداش میں کبھی او ایس ڈی بنا دیے جاتے ہیں اور کبھی دور دراز کے قصبے میں ٹرانسفر کر دیے جاتے ہیں
    اس سب کو آپ کیا کہیں گی ؟کیا یہ پاکستانی ہونے کی سزا ہے ؟یا پھر جزا ؟
    شاید آپ میرے بلاگ کو اپنے اوپر لے گئیں اسکے لئیے بے حد معزرت بہت شرمندہ ہوں مگر میں یہ سب جو آپ نے لکھا یہ سب تو پاکستان میں رہنے ولا ہر انسان بھگت رہا ہے ۔آپ شاید میرے بلاگ کو اپنے اوپر لے گئیں ۔چلیں میں آپکو اور آپکے خاندان کو 100فیصد پاکستانی مان بھی لیتی ہوں جیسا کے آپ نے کہاں تو پلیز مجھے یہ بھی بتا دیں کےکتنا فیصد لوگ ہیں آپ جیسے اس وقت پاکستان میں‌؟
    آپ کہہ رہی ہیں کے وسائل کے باوجود بھی آپ لوگ پاکستان نہیں چھوڑ رہے ۔کوئی تبدیلی تو لائے ہونگے آپ لوگ ؟کیونکہ یہ انسانیت اور معاشرے کا اصول ہے کے اگر ایک انسان اپنے اندر تبدیلی لاتا ہے تو اس کا آہستہ آہستہ اثر معاشرے پر بھی پڑتا ہے ؟
    جیسا کے آپ نے کہا کے ماشااللہ آپ سمیت پورا خاندان سچا اور پکا پاکستانی ہے تو پورا شہر چھوڑیں ایک مخصوص تبقہ ۔ایک علاقہ کوئی تو تبدیلی آئی ہوگی نا وہاں ؟کیونکہ ایک سچا محب وطن پاکستانی کم از کم وہ تمام اصولوں پر چلتا ہے جن پر پاکستان بنا ؟
    قائد اعظم کا قول ہے کے آج ایک پیسہ بچاو کل دو پیسے ہونگے اسی طرح بڑھتے بڑھتے ایک سرمایہ بن جائے گا تو اس قول کو رقم کی جگہ معاشرے کی تبدیلی پر لیتے ہیں تو آپ کے بقول پورا خاندان ماشااللہ پاکستانی ہے تو پورے خاندان میں بزرگ بھی ہونگے ؟جن سے آپ نے وطن سے محبت سیکھی ؟(معزرت مجھے آپکی عمر کااندازہ نہیں اسلئیے ایسا لکھ رہی ہوں)
    آپ سب محب وطن پاکستانی ہیں ماشااللہ تو کوئی تو تبدیلی آئی ہوگی ؟کہیں کچھ تو اصولی تبدیلی ہوگی ؟آپ سب کی یہ وطن سے محبت آج کی تو نہیں کئی سالوں کی ہوگی ؟یا پھر تقییہ والی وطن سے محبت ہے ؟
    میری باتوں کو برا مت مانئے گا نا ہی میں یہاں تنقید برائے تنقید کر رہی ہوں ۔میں فقط یہ جاننا چاہتی ہوں کے اصل پاکستانی ہونے کا دعوے کرنے کا مقصد ایک بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جو کے قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ہر طرح سے ایک مکمل پاکستانی ؟
    اور اگر اصل پاکستانی ہیں تو اسکا مطلب پاکستان کی خدمت کرنا کسی بھی طرح‌ ۔ اس میں‌یہ سب ہرگز نہیں آتا کے کہیں تبادلہ کر دیا وہ تو ضد پر اور سفارش پر بھی ہو جاتا ہے کہیں کسی کا منہ چڑھا آ گیا تو کسی مسکین کو اٹھا کر کہیں ویرانے میں پھینک دیا اور اپنے چہیتے کو وہاں بٹھا دیا ۔ڈیموشن کر دیا ؟یہ سب تو ضد سفارش اور مفاد پرستی میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے کے مسکین ہمیشہ نقصان میں رہا ہے ۔جس کی سفارش بھاری اسکا راج ۔
    یا پھر 16 گھنٹہ لائٹ کے بغیر پڑھنے کو پاکستانی کہنا یہ تو پورا پاکستان ہی بھگت رہا ہے ۔
    کس جگہ احتجاج کیا اور کیا تبدیلی آئی آپ کے محب وطن ہونے سے ؟میں بس یہ جاننا چاہتی ہوں ؟
    آپ پلیز پلیز پلیز میری باتوں کو غلط مت لئیجے گا میں جو پوچھنا چاہ رہی ہوں آپ سمجھ رہی ہونگی کے اصل پاکستانی ہونے کا مطلب ہوتا ہے کے اپنے حقوق کے بلا جھجک جنگ ۔ پاکستان بنا اپنے بنیادی حقوق کے بحالی کے لئیے ؟
    اگر پاکستان میں پاکستانی موجود ہیں تو وہ اپنے بنیادی حقوق بحال کروا سکتے ہیں مگر حقوق بحال نہیں ہو رہے تو کہاں ہیں پاکستانی ؟ کیونکہ اصل پاکستانیوں نے تو انگریزیوں سے اپنا الگ وطن آزاد کروا لیا تھا تو آج یہ کیسے اصل پاکستانی ہیں کے ملک لٹیروں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہے اور پاکستان میں پاکستانی بے بس ہے ؟
    وہ ہمت وہ حوصلہ کہاں ہے جو پاکستان آزاد کرواتے وقت تھا ؟ اگر اصل پاکستانی ہیں تو ؟
    روٹی سستی کرنے سے شوگر ملز پر چھاپے مارنے سے ملکی مثائل حل نہیں ہوتے یہ سب سیاسی حربے ہیں آج کی محنت کل رنگ لائے والا حساب ہے ۔

  14. آپ سب کو پاکستان کا یوم آزادی مبارک ہو۔میں یہاں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں یوم پاکستان کی تقریب کے لیئے ہی آیا ہوں اور یہاں کی تقریب میں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی مخصوص تقریب نہیں تھی بلکہ ہر جماعت کا آدمی یہاں موجود تھا۔مائیں اپنے بچوں کو سبز ہلالی پرچم والے ملبوس پہنا کر لائی تھیں۔آپ کے اس موضوع کے حوالے سے یہاں بھی میں نے یہی بات کی تھی کہ ہمارے ہاں حکمران نہیں حاکم ہیں کیونکہ حاکم ہمیشہ محکوم پر ہوا کرتا ہے جبکہ حکمران ہونا اک بہت بڑی ذمیدای ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمارے حاکموں نے پہلے راجہ صاحب محمود آباد جیسے کتنے ہی تحریک پاکستان کے نامور اکابرین کو فراموش کروایا اور آہستہ آہستی بابائے قوم بھی قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔ہم جیسے اپنے ماضی سے شرمندہ ہیں۔ہم نے تاریخ پاکستان کا حال بھی تاریخ اسلام والا کیا ہے،یہاں جرمنی میں اپنے شاعروں،فلسفیوں اور رہنماؤں کے گھر،انکے قلم کاغذ حتیٰ کہ جوتے اور موزے تک سنبھال کر رکھے ہیں۔ہم نے اپنے کتنے محسنوں کی یادوں کو محفوظ کیا ہے۔قائد اعظم اور علامہ اقبال کے علاوہ کتنے ان جانثاروں کی قبروں کا علم ہے جنہوں نے ہمارے کل کے لیئے اپنا آج قربان کر دیا تھا۔ہم مجموعی طور پر احسان فراموش قوم ہیں۔62 برس مکمل ہوگئے۔ہم نے کیا پایا؟کرپٹ حاکم،مفاد پرست سیاست دان،منافق نسلیں،پانی کے لیئے ترسنا،بجلی کی لوڈ شیڈنگ،مہنگائی کا عفریت،بیروزگاری اور خط غربت سے نیچے رہنے والوں میں اضافہ،تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں برابر کمی،حاکموں کے بچوں کی کیمرج اور آکسفورڈ میں تعداد میں اضافہ،زراعت،تجارت اور صنعت کا گرتا ہو گراف۔
    زرقا جی آپ کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔میں اپنے اردگرد دیکھتی ہوں تو اکثر ہم وطن معاشرے کی خرابیوں کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان خرابیوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتے متحد نہیں ہوتے۔۔۔بصد احترام عرض کرؤں کہ اٹھاتے ہیں آواز لیکن ایسی آوازوں کو صداؤں سے محروم ہوتے دیکھا ہے ہم نے۔میں جانتا ہوں ایسے قلم کار،ایسے صحافی، ایسے استاد ایسے عام انسان جنہوں نے اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کی ہے لیکن شرار بولہبی نے انکے ساتھ جو سلوک کیا ہے۔اس معاشرے کی خرابیوں کا ذکر میں اور آپ نہیں کریں گے تو کیا مسٹر سمتھ یا مائیک الیگزینڈر کریں گے،رہی بات متحد ہونے کی تو مسلم امہ متحد نہیں،پاکستان میں مجموعی طور پر مثبت حلقے متحد نہیں تو پھرخرابیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے کہاں سے متحد ہوں گے۔یاد رکھیں کہ حاکم اور حاکموں کے گماشتے ایسی طاقتوں کو متحد ہونے ہی نہیں دیتے۔تعلیم تعلیم اور تعلیم یہ ہے کنجی ان خرابیوں کے خلاف شعور بیدار کرنے اور آواز اٹھانے کی۔سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ پہلے یہ سمجھا جائے کہ فلاں چیز خرابی ہے اور پھر ہی آواز اٹھے گی نا۔ہمارے ہاں غالب طبقے کو یہ ادراک ہی نہیں کہ خرابی ہے کیا۔ ہم حکومت پر تنقید کرتے ہیں اسے ریاست پر تنقید سمجھا جاتا ہے اور غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔تبدیلی عوام میں آنی چاہیئے،وڈیروں،جاگیر داروں،سرداروں اور خوانین کے ساتھ ساتھ جدی پشتی اور موروثی سیاست دانوں کو اسمبلیوں سے نکالنا ہو گا تا کہ غریب،مزدور،استاد،صحافی اور عام پاکستانی کا بیٹا بیٹی اسمبلی میں جا سکے۔وہاں تو وہ بیٹھے ہیں جنکے گھر کی بجلی نہیں جاتی،جن کے گھروں میں پانچ پانچ گاڑیاں ایسی کھڑی ہیں جو ہم لندن اور نیویارک میں نہیں رکھ سکتے،کون ہے ان سے یہ پوچھنے والا کہ تمہارے وسائل کیا ہیں اور اخراجات کیا ہیں۔ یوم آزادی تعطیل کا دن نہیں ہے ڈبل کام کرنے کا دن ہے،فجر کی فرض نماز کے ساتھ دو نفل شکرانے کے پڑھنے کا دن ہے کہ ہم آپ جیسے آزاد ملک کی آزاد فضا میں پیدا ہوئے۔یہ دن اپنے احتساب کا بھی،حاکموں کے احتساب کا بھی ہے اور معاشرے کے احتساب کا بھی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا اور پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟

  15. السلام علیکم
    ہم پاکستان میں ہیں اس سے کیا فرق پڑا یہ دیکھنے کے لیے آپ کو پاکستان کا سفر کرنا ہوگا۔ میں یہ سب لکھتے ہوئے شرمندہ ہوں کیونکہ کہیں نہ کہیں اس میں ذاتی تشہیر کا پہلو وابستہ ہے۔ تاہم آپ کی تشفی بھی ضروری ہے

    میرے شوہر سوشل ورکر ہیں اپنے علاقے کے لیے انہوں نے بہت خدمات انجام دیں ہیں
    ایک فری ڈسپنسری ایک کتب خانہ امدادِ باہمی سے بنوایا حکومت کو پروپوزل دے کر ایک گرلز کالج بنوایا
    ایک غریب بستی کے ہر گھر میں پانی کا کنکشن لگوایا
    اپنے علاقے سے ناجائز تجاوزات ختم کروائیں
    کچھ گھوسٹ سکول دوبارہ فعال بنائے
    اپنےعلاقہ میں 25 سال پرانی سڑک بنوائی
    کئی مسجدوں کی تعمیر میں حصہ ڈالا
    کئی غریب بچیوں کی شادی میں کھانا اور ضروری سامان دیا
    کئی بچوں کی تعلیم کا خرچ برداشت کیا
    کئی بیماروں کے علاج کا خرچ برداشت کیا

    ہمیشہ برائی کا راستہ روکا
    امید ہے میرے اس خط کے بعد آپ ان سب کاموں کا ثبوت بھی طلب کر لیں گی
    اسی لیے میں نے پہلے ہی لکھا اگلی بار پاکستان آنے پر ہم سے ضرور ملیے گا

    ہمارے خاندان کے اکثر افراد بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے گئے اور پھر وطن واپس آکر وطن کی خدمت کو ترجیح دی

    پاکستان میں بہت سے ایسے ادارے اور افراد کام کرتے ہیں جو کسی صلہ کی توقع کے بغیر اپنے وطن اور انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ جن کے کوئی سیاسی عزائم نہیں

    اب آپ بتایے کہ
    پاکستان سے ہجرت کرنے والے اصل پاکستانی کیسے ہیں۔ آپ ہی کا جملہ نقل کر رہی ہوں

    پاکستان سے اصل پاکستانی ذیادہ تر دیار غیر کوچ کر گئے ہیں جہاں وہ چین کی نیند سوتے ہیں

    کیاآزادی مقصد صرف چین کی نیند سونا تھا یا ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا بھی تھا۔ بہت سے ہم وطن سمجھتے ہیں کہ آزادی حاصل کر کے ہم منزلِ مقصود پر پہنچ گئے تھے اور آزادی کے بعد ایک صحتمند معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا بھول گئے تھے۔
    یہ بلاگ میں نے اپنی ذات کے لیے نہیں بنایا اور نہ ہی اسے اپنی طرف موڑنا چاہتی تھی لیکن چونکہ آپ کو اب تک کوئی محبِ وطن پاکستانی نہیں ملا تھا تو میں نے بشمول اپنے کچھ پاکستانیوں کی مثال پیش کی
    میں آپ کو نہیں جانتی کہ آپ پرورش پاکستان میں ہوئی یا بیرونِ ملک

    چلیے فرض کیجیے پاکستان نے آپ کو کچھ نہیں دیا آپ نے پاکستا ن کے لیے کیا کیا؟

    والسلام
    زرقا

  16. محترم ھمدانی صاحب
    تسلیمات
    میرے بلاگ کاموضوع عام آدمی ہے جو خاموش ہے ۔ اہلِ قلم تو ہر دور میں اپنی بساط کے مطابق آواز اُٹھاتے رہے ہیں اسی لیے بقول احمد فراز قلم سرخرو ہے۔ لیکن عام آدمی اپنے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھاتا۔ میں نے پہلے بھی لکھا کہ یہ بلاگ میں سوئے ہوئے قومی ضمیر کو جگانے کے لیے لکھا۔ دُنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ کسی ملک کے اشرافیہ یا دانشور انقلاب نہیں لا سکتے ۔ اشرافیہ ہمیشہ سٹیٹس کو کے حامی ہوتے ہیں اور دانشور صرف راستہ دکھا سکتا ہے انقلاب لانے کے لیے عوام کو ہی آواز اُٹھانا ہوتی ہے۔ اس لیے عوام کو ہی بدلنا ہو گا ۔ میرا بھی عوام سے یہی سوال ہے کہ
    کیا ہم خود کو بدلنا چاہتے ہیں؟

    والسلام

  17. زرقا جی
    میں نے بھی عوام والے انقلاب کی بات کی ہے اور اوپر یہی الفاط لکھے ہیں کہ۔۔۔تبدیلی عوام میں آنی چاہیئے،وڈیروں،جاگیر داروں،سرداروں اور خوانین کے ساتھ ساتھ جدی پشتی اور موروثی سیاست دانوں کو اسمبلیوں سے نکالنا ہو گا تا کہ غریب،مزدور،استاد،صحافی اور عام پاکستانی کا بیٹا بیٹی اسمبلی میں جا سکے۔وہاں تو وہ بیٹھے ہیں جنکے گھر کی بجلی نہیں جاتی،جن کے گھروں میں پانچ پانچ گاڑیاں ایسی کھڑی ہیں جو ہم لندن اور نیویارک میں نہیں رکھ سکتے،کون ہے ان سے یہ پوچھنے والا کہ تمہارے وسائل کیا ہیں اور اخراجات کیا ہیں۔۔۔۔۔آپ جسے ذاتی تشہیر کہتی ہیں میں اسے ذاتی سمجھتا تو ہوں لیکن یہ ایسی ذاتی تشہیر ہے جسے دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہیئے اور وہ اس لیئے بھی کہ اسی طرح تو شمع سے شمع جلتی ہے۔آپ اور آپ کے شوہر قابل تقلید ہیں لیکن اس سب کی تشہیر کیوں نہیں ہے؟
    دیکھئے انفرادی طور پر ایسی مثالیں ایک دو نہیں سینکڑوں ہیں لیکن مسلہ یہی ہے کہ یہ مثالیں سامنے نہ آنے کی وجہ سے دوسروں کو ترغیب نہیں دلوا سکی ہیں۔ حئی اللفلاح تو ہے ہی اس بات کا نام۔تاکہ دوسرون کو ادراک ہو سکے کہ یہ کام ہم اپنے وسائل میں رہ کر بھی کر سکتے ہیں اور اسکے لیئے یسی رشوت کے پیسے کی ضرورت نہیں۔ مثال یہ ہی دیکھ لیجئے کہ یہ بات میری زاتی تشہیر نہیں کہ میں یہ اتنی بڑی ویب سائٹ اپنے بچوں کا ،گھر کا اور زاتی کاموں کا وقت اور پیسہ کاٹ کر ایک مقصدی صحافت کے لیئے کسی مفاد اور غیر تجارتی طور پر چلا رہا ہوں اور اسے چلانے میں صرف آپ زرقا مفتی اور ڈاکٹر نگہت نسیم کا سو فیصد کل وقتی تعاون حاصل ہے۔کچھ دوست ہفتہ وار کالم یا ماہانہ کالم لکھ دیتے ہیں اور کچھ ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہیں۔ تو جب اپ کے سامنے مقصد اور ھدف ہو گا تو راستے کا شجر ثمر بار بھی نیت کی کھاد کے ساتھ قلب پر تاثیر کی زمین سے جنم لے گا۔
    اب آپ نے اہل قلم اور دانشور کی بات کی تو خود ہی دیکھ لیں کہ ایسے ضروری اور اہم موضوع پر کتنے لوگ لکھنے کو تیار ہیں یا لکھ رہے ہیں، میرے خیال میں تو اس موضوع پر کم از کم چار پانچ سو تبصرے ہونے چاہیئے تھے۔ یہ بھی ایک مسلہ ہے کہ حاکموں نے عوام کو سوچ سمجھ کر ”ٹاک شوز” اور ”کچن شوز” میں لگا رکھا ہے یا پھر چاروں طرف ”سلام پاکستان” جیسا بے معنی،مہمل اور صرف نعرے کی حد والا فقرہ بار بار نشر ہو رہا ہے۔
    حضور اس مملکت اسلامیہ کا کوئی ویژن ہے ہی نہیں۔ نہ انفرادی اور نہ ہی اجتماعی اور سرکاری سطح پر۔ ویژن کا تصور تو ڈاکٹر محبوب الحق کے ساتھ ہی دفن ہو گیا تھا۔ آج صرف نعرے ہی نعرے ہیں۔لفاظی اور کھوکھلے نعرے۔

  18. زرقا مفتی صاحبہ یقین کریں یا نہ کریں میں انکی اور انکی تحریر کی دل سے قدر کرتا ہوں اس لیے کہ اس میں ” حق گوئی اور بے باکی ” ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں پاکستان سے محبت کی مثالی اور قابل تقلید روح موجود ہے:
    میں صرف انکے مندرجہ ذیل نظریہ کو یہا ں نقل کررہا ہوں جس کا مجھے امین ترمذی صاحب کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دینا ہے :

    زرقا مفتی صاحبہ نے سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے تبصرہ کے جواب میں فرمایا :
    ” اب آپ بتائیے کہ :
    پاکستان سے ہجرت کرنے والے اصل پاکستانی کیسے ہیں۔ آپ ہی کا جملہ نقل کر رہی ہوں

    پاکستان سے اصل پاکستانی ذیادہ تر دیار غیر کوچ کر گئے ہیں جہاں وہ چین کی نیند سوتے ہیں

    کیاآزادی مقصد صرف چین کی نیند سونا تھا یا ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا بھی تھا۔ بہت سے ہم وطن سمجھتے ہیں کہ آزادی حاصل کر کے ہم منزلِ مقصود پر پہنچ گئے تھے اور آزادی کے بعد ایک صحتمند معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا بھول گئے تھے۔ ”
    ۔۔۔۔۔۔
    اوپر لکھے ہوئے خیالات پر مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ پاکستان میں رہنے والے ، پاکستان سے باہر جانے والوں کی بے لوث خدمات ( جو وہ پاکستان کے لیے کررہے ہیں ) اس کو بھلا دیدیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے باہر رہنے والے پاکستانی شیدائی ، پاکستان اور پاکستان میں رہنے والوں کو بھول کر آرام کی نیند سورہے ہیں۔
    کاش کہ پاکستانی بینکوں اور پاکستان کے متعلقہ وزیر خزانہ اعداد و شمار کی تحقیق کے بعد یہ سب کو بتادیں کہ باہر سے پاکستان میں آنے والا زرمبادلہ کتنا ہے : اور یہ بھی کہدیں کہ یہ رقم جو بیرونِ ممالک سے آرہی ہے اس میں پاکستانیوں کی رقومات کا کتنا حصہ ہے!
    پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانی شیدائی ، پاکستان کو اور اسکی بدحالی اور پریشانی کو ہرگز نہیں بھولے اور وہ دامے درمے اور سخنے پاکستان کی حسبِ استطاعت خدمت کررہے ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امین ترمذی صاحب نے ایسے ہی ایک نظریہ پر اپنے اوپر کے ایک تبصرہ میں ان تمام پاکستان کے شیدائیوں کے موقف کی ترجمانی کی ہے جو پاکستان سے باہر ہیں:
    ” آپ کہیں گی آپ کا کیا ہے آپ تو موج میں ہیں امریکہ میں بیٹھے ہیں آپ کو ہمارے درد کا احساس کیونکر ہو سکتا ہے اس طویل عر صے میں آپ اس مجبوری اور گھٹن کا احساس کھو بیٹھے ہیں حاشا ایسا نہیں ہے دل و دماغ ہمارے وہیں پہ رہتے ہیں۔ جس کی دیواریں پکڑ کا مجھے چلنا آیا۔ وہ تو مثل مادر ہے آپ میری تمام تحریریں پڑھیں تو آپ کو ان میں اس وطن عزیز سے الفت و انس کی وہ محک ملے گی جس سے آپ کا دل و دماغ معطر ہو جائے گا انشاءاللہ ،،،مبارک مبارک مبارک تمہیں ۔وہ وطن ۔وہ چمن ۔میری میری پیاری بہن “”
    ۔۔۔۔۔
    یہ تھا امین ترمذی صاحب کے تبصرہ کا اقتباس ، اس کے بعد میرا کچھ کہنا غیر ضروری ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    پاکستان سے باہر رہنےوالا پاکستانی شیدائی
    منظور قاضی از جرمنی

  19. محترم ہمدانی صاحب
    تسلیمات
    آپ کے دوبارہ تبصرے کے لیے ممنون ہوں
    اور آپ کی تمام باتوں سے متفق ہوں
    والسلام
    زرقا

  20. محترم قاضی صاحب
    السلام علیکم
    بلاگ یا کالم میں ہم جو بات کرتے ہیں وہ اکثریت کو مدِ نظر رکھ کر کرتے ہیں
    بہت سے ایسے تارکینِ وطن ہیں جو اپنے خاندان کو باہر سے رقوم بھجواتے ہیں یہ رقوم ہمارے لیے قیمتی زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں

    کچھ تارکین وطن ایسے بھی ہیں جو وطن کی محبت کی شمع دل میں جلائے رکھتے ہیں ان میں سے کچھ اپنے آبائی شہروں یا قصبوں کے لیے ترقیاتی کام بھی کرواتے ہیں۔
    کچھ تارکینِ وطن جب واپس آتے ہیں تو غیر شعوری طور پر یہاں کے رویوں اور حالات کا تقابل غیر ممالک سے کرنے لگتے ہیں اور بد دل ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اُن کو اپنی ہجرت سے قبل کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں تقابل کرنا چاہیے

    پاکستانی قوم میں قحط الرجال نہیں ہے اجتماعیت اور نظم کا فقدان ہے
    اگر اپنے قائد کے صرف ایک فرمان ایمان اتحاد تنظیم کو اپنا شعار بنا لیتے تو بہت سی قوموں کے لیے مثال بن چکے ہوتے

    آپ نے میرے وہ جملے نقل کیے جو میں نے ایک مبصر کو جواب میں لکھے

    خیر لگتا یہی ہے کہ ہم بلاگ کے اصل مقصد سے دور نکل گئےہیں

    والسلام
    زرقا

  21. میں اس بلاگ کے مقصد کو مدِ‌نظر رکھتے ہوئے زرقامفتی صاحبہ کے بلاگ کے ابتدائی جملوں میں جو دعا ہے اور اس کے بعد پنہاں صاحبہ کی جو دعا ہے ان سب دعاوں پر آمین کہتا ہوں۔
    اللہ پاکستان کے آنے والے باسٹھ ہزار سال پچھلے باسٹھ سالوں سےبہتر بناد ے ۔ آمین

    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  22. زرقا مفتی صاحبہ
    آپ اور آپ کا کنبہ اور آپ کے خاوند ، اور آپ جیسے اور بھت سے لوگ پاکستان کی، پاکستانیوں کی، اور انسانوں کی جو خدمت، اور جتنی خدمت ، جن بد ترین حالات میں رھتے ھوئے کر رھے ھیں اسکے بدلے میں آپ کا قصر جنت میں تو تعمیر ھوھی رھاھے لیکن دنیا میں بھی اس کا صلہ اتنا عظیم ھے کہ اس عظمت کو سلام کرتے ھوئے بھی خود اپنا وجودِ احقر کچھ معتبر سا محسوس ھونے لگتا ھے ۔ وہ عظیم صلہ یہ ھے کہ ۔ ۔ ۔ پاکستان آج تک قائم ھے ۔ ۔ ۔ اور یہ صرف آپ جیسے لوگوں کے دم سے ھی قائم ھے۔ خدا آپ جیسے لوگوں کو قائم و دائم رکھے تاکہ پاکستان قائم و دائم رھے، جس کے ساتھ ہماری سانسوں کے تار بھی جڑے ھیں ۔ آمین
    آپ جیسے تمام پاکستانیوں کو میرا سلام
    ۔
    احقر ۔ ۔ ۔ پنہاںؔ

  23. بہن زرقا اور تمام قارئین عالمی اخبار اسلام علیکم
    بہن میری مجھے یہ تحریریں اور آپ سب کے خلوص و محبت سے بھر پور جذبات پڑھ کر اور جان کر جو فرحت و انبساط حاصل ہوا ہے اس کا اظہار صرف ایک بات سے کرسکتا ہوں کہ یہ بلاگ پڑھ کر حاشا مجھے اپنے آنسو پونچھنے پڑے ہم تارکین وطن گو اس مادر وطن کی گود کی حدت سے محروم ہیں ہماری پیشانیاں اس خاک وطن کے لمس سے محروم ہیں لیکن ہم جہاں جہاں ہیں اگر ہم سب نہیں تو ہم میں سے کچھ اپنے حصے کی شمع روشن رکھنے کے لئے کوشاں ہیں آپ کی تحریروں میں جو سب ہلالی پرچم لہلہاتا ہوا نمایاں ہے خدا اسے دوام بخشے یہاں ایک مختصر سا مضمون جو یہاں پاکستان ایسوسی ایشن کے تازہ مجلے میں طبع ہوا آپ کو سناکر بلکہ پڑھا کر اپنے حصے کی شمع دکھا نا چاہتا ہوں یہ چند سطور تارکین وطن کے لئے ہیں اس مضمون کا عنوان کچھ یوں لکھا ہے۔ پیوستہ رہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انسان فطری طور پر آسائش و سکون کا متلاشی رہا ہے۔اس خواہش کے سبب ہم نے اپنا وطن’ گھر’ عزیز’ سوسائٹی اوراپنے دوستوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور دنیا کے مختلف حصوں میں زندگی کی راحتوں سے فیضیاب ہورہے ہیں لیکن ان سب کی مثال ایک درخت کے پتوں اور پھل پھول کی طرح ہے جو کبھی ہے اور کبھی نہیں۔ لیکن درخت کی جڑ وہ چیز ہے جو ہر موقع پر درخت کی زندگی اور اس کی بقا کی ضامن ہوتی ہے جس درخت کا تعلق اس کی جڑ سے ختم ہو جائے وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا۔سوکھ جاتا ہے گر جاتا ہے یا گرادیا جاتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اپنی جڑوں سے تعلق ختم نہیں کر نا چاہئے۔ ہمارا وطن ہمارے لئے جڑ کی مثال ہے۔ ہمیں تمام آسائشوں اور اچھی زندگی میں بھی اپنے وطن سے اپنی ثقافت سے اور اپنی زبان سے لا تعلق نہیں ہونا چاہئے۔
    تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں کئی مرتبہ لوگوں کو اپنی عارضی جائے سکونت سے بے دخل ہونا پڑا۔برما سے لوگوں نے اپنے بھرے پُرے گھروں کو چھوڑا جبکہ وہ وہاں طویل عرصے سے مقیم تھے۔ یوگنڈا سے تارکین وطن کو فرار ہونا پڑا کہ زندگی بچانے کا یہی ایک راستہ تھا۔بنگلہ دیش سے لوگوں کو زندگی گنوا کر اور زندگی بچاکر جن حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ ایک انمٹ تاریخ ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ جرمنی میں یہودی شاندار مالی حالات میں رہ رہے تھے راقم الحروف کو طویل عرصے جرمنی میں رہنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ وہاں کے مقامی لوگ کس کسمپرسی کا شکار تھے اور آج تک جرمن آلو خور کہلاتا ہے کیونکہ اس زمانے میں انہیں کچھ اور میسر ہی نہ تھا۔مگر ا سکے باوجود اس طاقتور معاشی حالات والی قوم یہود کو وہاں زندگی بچانا محال ہوا۔ ان باتوں سے ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ ایک مسکن’ ایک ٹھکانا ایک گھر کہیں ہونا چاہئے اور وہ گھر پروردگار کا عطا کردہ بزرگوں کے خون’بہنوں کی عصمتوں اور ماؤں کی ردا کی بے حرمتی کے بعد حاصل ہونے والا خطہ زمین ہے۔ میرا اور آپ سب کا گھر؛ گھونسلہ “پاکستان” موجود ہے ۔کیا ہم اسے یاد رکھے ہوئے ہیں؟ کیا ہمارا اس سے تعلق ہے؟ کیا ہم نے اپنے بچوں میں اس کی محبت کو بیدار رکھا ہوا ہے؟ اگر خدانخواستہ ہماری زندگی میں یا ہمارے بچو‫‫ں کی زندگی میں تاریخ اپنے آپ کو دہرائے تو ہمیں یا انہیں ایک گھر کا راستہ یاد ہے۔
    آپ کہیں گے وہاں سکون نہیں ہے’ وہاں ڈاکہ ہے’ وہاں چوری ہے’ رشوت ہے’ بے ایمانی ہے’خون خرابہ ہے۔ لیکن وہ میرا ہے۔ اگر آپ کے گھر کو آگ لگی ہوئی ہو تو آپ دوسروں کو یہی بتائیں گے کہ وہ میرا گھر جل رہا ہے آپ اس جملے سے ‘میرا’ نہیں نکال سکتے۔ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ وہ ایک گھر جل رہا ہے۔ اس ‘میرا ‘ کے تعلق کو قائم رکھنے کے لئے آپ کیا کر سکتے ہیں۔
    شکوہء ظلمتٍ شب سے تو یہی بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
    آج ملک کی آزادی کے موقع پر ہمیں یہ یاد رہنا چاہئے ہے کہ۔
    ہزاروں پھول سے چہرے جھلس کے خاک ہوئے
    بھری بہار میں اس طرح اپنا باغ جلا
    ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں
    جو لاکوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا
    ہمیں اس چراغ کو جلائے رکھنا ہے۔ جس کے لئے ہمارے بزرگوں کی دستار اور سر دونوں خاک میں مل گئے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے وطن سے اپنا تعلق برقرار رکھیں گے۔ اپنے بچوں کو گاہے گاہے وہاں لے جاتے رہیں گے۔ انہیں اس وطن اور اہلٍ وطن کی محبت کا درس دیتے رہیں گے۔ اس سے اپنا رابطہ برقرار رکھیں گے اور اقبال کے اس قول کو ذہن نشین رکھیں گے۔۔۔پیوستہ رہ شجر سے امیدٍ بہار رکھ ۔
    ( یہ میرے حصے کی شمع نہ سہی جگنو ضرور ہے )

  24. السلام علیکم زرقا جی
    آپ نے جو مثالیں دیں بے شک نا قابل فراموش ہیں ۔ آپ نے اتنا سب کچھ جو لکھا وہ سب کام ہوئے بھی ھونگے بے شک ہوئے ہونگے ۔ مگر یہ سب کام کرنے کے لئیے کس کس کی سفارش کتنے کتنے چکر لگانے پڑے ہونگے وہاں کے با اثر لیڈران کے پاس ۔ بات یہاں انفرادی نہیں اجتمائیت کی ہو رہی ہے ۔ آپ کے شوہر جیسے کتنے لوگ ہیں اس وقت ؟
    آپ کے شوہر سچے اور پکے پاکستانی ہیں ۔آپ کا پورا خاندان محب وطن ہے بے شک کوئی شک نہیں ۔مگر کیا یہ سب کرنے میں اور کرنے کے بعد انکا کردار ایک آزاد پاکستانی ہے‌؟یا پھر ذاتی مفادات اور شہرت حاصل کرنے جیسے الزامات نہیں آئے ؟
    کونسی سیٹ ہے آپ کے پاس ؟ضلعی سطح پر ؟صوبائی سطح پر ؟یا پھر نیشنل اسمبلی میں ؟اور اگر آزاد امیدوار کی حیثیت سے کہیں آ‌بھی گئیے تو کونسی جماعت سے الحاق کیا ؟اگر خود کسی نشست پر کوئی سچا پاکستانی نہیں ہے آپ کے خاندان کا تو کس سیاسی جماعت کی حمایت میں آپ نے اپنے ووٹ ڈلوائے ؟اور اپنے حمائیتی امیدوار کو جتوانے کے بعد کیا فوائد حاصل ہوئے ؟اور کس طرح حاصل ہوئے؟
    آپ کہتی ہیں نا کے پاکستان میں سچے اور با ہمٹ پاکستانی ابھی بھی موجود ہیں‌؟تومعزرت ذرقا جی یہ باتیں منہ سے کہنا بہت آسان ہیں مگر ایک سچے پاکستانی کی پہچان کے لئیے جو پیمانہ ہونا چائیے کیا اس پیمانے پر آپ لوگ اترتے ہیں ؟
    ہر انسان کہیں نا کہیں کسی نا کسی مفاد کی خاطر اپنی سو چیزیں قربان کر کے اپنے مفادات حاصل کرتا ہے ۔
    آپ کے شوہر سوشل ورکر ہیں شاید وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہوں کے اپنے علاقے میں کیا کیا کام کروانے کے لئیے کس کس جگہ کس کس کے سامنے کس کس طرح چاہتے نا چاہتے اسکی جائز اور نا جائز حمایت کرنا پڑتی ہے ؟
    بے حد معزرت کہنے میں اور ہونے میں بے حد فرق ہوتا ہے ۔
    اور جہاں تک آپ میری بات کرتی ہیں تو میری پیدائیش یہاں کی ہی ہے میرا پاکستان سے واسطہ اپنے ماں باپ کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے پاکستان میں جوان ہوئے پھر یہاں آئے ۔
    میرے جیسے لڑکے اور لڑکیاں جو یورپ میں پیدا ہو کر یہاں ہی جوان ہوئے وہ ذیادہ تر اپنے آپ کو پاکستانی مانتے ہی نہیں مگر میں اپنے آاپ کو پاکستانی مانتی ہوں کیونکہ میرا اصل وجود پاکستان کی وجہ سے ہے میں چاہے یہاں جوان ہوئی مگر جب جب پاکستان گئی تو کبھی یہ تقابل نہیں کیا کے یورپ اچھا اور پاکستان برا ہے ۔ میرے ماں باپ نے مجھے ہوش سمبھالتے ہی یہ بات سب سے پہلے سمجھائی کے ہم پاکستانی ہیں ۔ہمارے پاسپورٹ چاہے یہاں کے ہوں مگر ہمارا اصل وجود پاکستان کی وجہ سے ہے ۔ ہماری پہچان پاکستان ہے ۔
    میں نے کسی بھی بلاگ میں کہیں بھی یہ نہیں کہا کے مجھے پاکستان نے کیا دیا ۔کیونکہ مجھے پاکستان سے کچھ چاہئے ہی نہیں ۔مجھے پاکستانی ہونے کی جو شناخت ملی ہے میرے لئیے یہی کافی ہے۔
    بس دکھ ہوتا ہے تو یہ دیکھ کر کے جس پاکستان پر ہم یہاں بیٹھ کر فخر کرتے ہیں اپنی پہچان جس ملک کو سمجھتے ہیں وہاں کے کرتا دھرتا اس ملک کا حال کیا بنا رہے ہیں‌؟
    اور جہاں تک آپ یہ کہتی ہیں کے میں نے پاکستان کو کیا دیا ؟:) تو اسکا بس اتنا ہی جواب دے سکتی ہوں کے میں نے پاکستان کو اپنے جزبات دئیے جس کی وجہ سے میں یہاں اتنا کچھ لکھتی بھی ہوں۔ورنہ مجھے اس سے کیا مطلب ؟میں اپنا مستقبل اگر یہاں کے حساب سے دیکھوں تو مجھے کوئی پروا نہیں ہونا چاہئے ۔مگر پھر بھی مجھے پروا ہے کیونکہ پاکستان سے میرا نا ٹوٹنے والا رشتہ ہے
    پھر بھی اگر آپ کو یہی کہنا ہے کے میرا یہ سب کہنا فضول ہے تو ظاہر سی بات ہے ایک دن آئے گا جب میں بھی تھک جاونگی ۔میرے ماں باپ نے مجھے ہوش سمبھالتے ہوئے پاکستانی ہونے کی پہچان دی مگر میں اپنے بچوں کو پاکستان سے وابسطگی کا رشتہ تو دونگی مگر انکو پاکستانی ہونے کی پہچان دینے سے پہلے کافی سوچونگی کے کہیں ایسا نا ہو کے میرے بچے بھی پاکستان کی محبت میں پاکستان کے لئیے دل میں درد تو رکھیں مگر پاکستان میں‌رہنے والے پاکستانی انکو یہی کہہ دیں کے آپ لوگ اتنا پاکستان پاکستان کرتے ہو مگر آپ لوگوں نے پاکستان کو دیا کیا ؟)

  25. السلام علیکم
    پنہاں جی اور قاضی صاحب
    میں آپ دونوں کی بے حد ممنون ہوں
    والسلام
    زرقا

  26. امین بھائی
    السلام علیکم

    آپ کا خط جن جذبات کی عکاسی کرتا ہے
    اقبال کا ایک شعراُس کے مطابق ہے

    ملّت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ
    !پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

    میرے بلاگ کا یہی مقصد تھا جو آپ نے احمد فراز کے اس شعر کے ذریعے بیان کیا

    شکوہء ظلمتٍ شب سے تو یہی بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

    یعنی عام آدمی ہر طرف شکوہ کرتا نظر آتا ہے خود کچھ بدلنے کی کوشش نہیں کرتا
    میرا خیال ہے کہ بیرونِ ملک محبِ وطن پاکستانیوں کو مغرب کی نظر میں پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے موثر لابنگ کرنی چاہیے۔
    یہ وطن کی بہت بڑی خدمت ہوگی اور کسی جہاد سے کم نہیں

    مجھے یقین ہے بہت سے پاکستانی یہ کام کر رہے ہونگے لیکن جتنا شدید پراپیگنڈا ہے اتنی موثر لابنگ نہیں ہے۔
    والسلام
    زرقا

  27. السلام علیکم
    ماریہ جی
    آپ کے خطوط سے اندازہ ہوا کہ آپ بے حد جذباتی ہیں یہ ایک اچھی بات ہے ۔میرا مطمع نظر امین بھائی نے خوب بیان کیا ہے

    شکوہء ظلمتٍ شب سے تو یہی بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

    آپ کے جذبات آپ کو مبارک لیکن ہمارا یہی خیال ہے کہ پاکستان کو جذبات کی نہیں عمل کی ضرورت ہے

    اپنے گھر کو جلتا دیکھ کر کوئی شخص یہ واویلا کرتا رہے کہ دیکھو میرا گھر جل رہا ہے فلاں کی کوتاہی ہو گی فلاں کی لا پرواہی ہوگی فلاں نے احتیاط نہیں کی ہوگی لیکن آگ بھجانے کے لیے خود کوئی کوشش نہ کرے تو کیا فایدہ

    آپ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ ہم نے پاکستان کی کیا خدمت کی
    میرا جواب آپ کی تشفی کے لیے تھا

    اب اگر آپ یہ کہیں کہ اس کے بدلے ہم نے کوئی سیاسی یا ذاتی مفاد حاصل کیا تو آئیے پاکستان اور ہمارا سادہ طرزِ زندگی دیکھیے۔
    رہی یہ بات کہ کسی کام کو کروانے کے لیے کتنے دفتروں کے چکر لگائے یا کس کس کی سفارش کروائی

    تو آپ بتایےکہ مفادِ عامہ کے کسی کام کے لیے حکومتی اداروں کی امداد حاصل کرنا یا سیاسی نمائندوں سے افسران کو کہلوانا ناجائز ہے۔ آپ کی کچھ باتیں بچگانہ ہیں۔

    لیکن ہم نے بہت سے کام امدادِ باہمی کے تحت کئے۔ جیسے نئی سٹریٹ لائٹس اور علاقے کے لیے نیا ٹیوب ویل لگوانا۔ بہت سے کام اپنی جیب سے کئے ۔ اور کچھ کام حکومت سے کروائے ۔ لوگوں کو صرف موٹی ویٹ اور منظم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ امید ہے کہ آپ کو معلوم ہو گا کہ سیالکوٹ کے صنعت کاروں نے امدادِ باہمی کے تحت اپنے شہر میں ایر پورٹ بنایا ہے۔ آپ کہیں گی کہ انہوں نے اپنے مفاد کے لیے کیا لیکن انہوں نے حکومت کا بوجھ ہلکا کیا اور اپنے شہر کے لیے قومی فریضہ انجام دیا۔

    اسی طرح ہم بھی اپنی بساط کے مطابق اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور اپنے حق کے لیے حتی المقدور لڑتے ہیں ۔ اگر سب شہری اپنا فرض ادا کریں اور اپنے حق کے حصول کے لیے کوشش کریں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آئے گی

    لیکن اگر ہم میں سے اکثر اپنے فرض کو بھولے رہیں اور اپنا حق پورا نہ ملنے کا واویلا کرتے رہیں تو کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی

    والسلام
    زرقا

  28. اس بلاگ کے موضوع کے سلسلہ میں َ، میں نے 14 اگست کو اپنے تبصرے میں جنگ اخبار ( اردو ) کے 14 اگست کے اخبار کی ایک اہم خبر بعنوان ” آئین تونے والوں کو سزا دینگے : کی لنک کو پیش کیا تھا ( جو اوپر دیکھی جاسکتی ہے ) جس میں ملک کی صف اول کے قائد نواز شریف صاحب کے یہ بیا نات موجود تھے:
    1۔” جنھوں نے پاکستان کے آئین کو توڑا اور ججوں کو گرفتار کیا ، انہیں سزا دینی ہوگی ”
    2۔” اگر ملک میں خونی انقلاب روکنا ہے تو حق کو حق کہنا ہوگا۔”
    3۔ ” قائد اعظم اگر یہ جانتے کہ ان کے بنائے پاکستان کے مقاصد پورے ہونے کی بجائےیہ اندھیروں میں چلا جائے گا تو وہ بھی اسے بنانے سے پہلے سوچتے”
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نواز شریف صاحب کے ان بیانات کی اہمیت : غور طلب اور تجزیہ اور تبصرہ طلب ہے : ۔
    ۔۔
    اس بیان میں نواز شریف صاحب اگر ” بغضِ ” کی بجائے “حبِ پاکستان ” کے تحت یہ بیان دے رہے ہیں تو اسکی تہ تک پہنچ کر نہ صرف مشرف کو بلکہ پورے پاکستان کو چونکنے کی ضرورت ہے ۔

    پاکستانیوں کو اس کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ نواز شریف صاحب ، مشرف کو سزا دینے کی تجویز ، آیندہ کسی آمر سے پاکستان کو بچانے کے لیے کررہے ہیں یا “انتقام ” کی آگ کی شدت سے متاثر ہوکر کررہے ہیں ۔ اگر وہ انتقام کی آگ سے متاثر ہو کر یہ بات کہ رہے ہیں تو پھر یہ سوال درپیش ہے کہ کیا پاکستان اس قسم کی مہم پر اپنی ذہنی توانائی صرف کرنےکے لیے تیار بھی ہے یا نہیں؟ ۔ اس لیے کہ چیف جسٹس نے اس بات کو تو پارلیمنٹ کے اوپر چھوڑ دیا مگر سیاسی لیڈر کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بحث و تکرار کرنےکی ضرورت نہیں ۔ بس مشرف کو پکڑو اور گولی سے اڑادو یا سولی پر لٹکا دو۔ یا عمر بھر کے لیے جیل میں ڈال دو۔ ( پی پی پی تو ان آر او سے فائدہ اٹھاکر حکومت کررہی ہے مگر اس کو بھی نواز شریف صاحب اور عمران خان کے بیانات کی وجہ سے شش و پنج میں پڑی ہوئی ہے کہ کیا کیا جائے۔)
    دوسری پارٹیوں کے لیڈ ر سنجیدگی سے اس بات پر غور نہیں کررہے ہیں۔ زرداری صاحب تو ابھی تک 58 بی ٹو کی طاقت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں ۔ ممکن ہے نواز شریف صاحب اس اختیار کو انکے ہاتھ سے چھین کر پارلیمنٹ کے دامن میں ڈال دینگے ۔

    پاکستانیوں کو نواز شریف صاحب کی اس تنبیہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ” اگر ملک میں خونی انقلاب کو روکنا ہے تو حق کو حق کہنا ہوگا ”
    سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ابھی تک حق کو حق نہیں کہا گیا؟ اور اگر نہیں کہا گیا تو باسٹھ سال میں اب تک ” خونی انقلاب ” کیوں نہیں آیا؟
    نواز شریف ” خونی انقلاب” کی بات کررہے ہیں شاید اس اعتماد پر کہ انکی جماعت کے افراد ” یا امیر المومنین : آپ کا فرمان بالکل درست ہے ” کہکر خونی انقلاب شروع کردینگے۔

    پاکستانیوں کو یہ بھی غور کرنا ہوگا کہ بقول نواز شریف صاحب:

    ” قائد اعظم اگر یہ جانتے کہ ان کے بنائے پاکستان کے مقاصد پورے ہونے کی بجائےیہ اندھیروں میں چلا جائے گا تو وہ بھی اسے بنانے سے پہلے سوچتے”
    نواز شریف صاحب کا یہ بیان 14 اگست 2009 کے جنگ کی اس لنک میں موجود ہے جو اوپر میرے تبصرےمیں لکھی ہوئی ہے)

    سوال ابھی تک یہی ہے کہ قائد اعظم کیا سوچتے؟ کیا قائد اعظم کے پاس پنجاب، سندھ ، سرحد ،بلوچستان اور مشرقی بنگال کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان کے قیام کے تصور کے سوا کیا کوئی اور حل بھی موجود تھا ؟ کیا قائد اعظم یہ سوچتے کہ ” یہ ملک اندھیروں میں چلاجائےگا ” اس لیے اس کے قیام کا منصوبہ ترک کردینا چاہئے ؟
    ۔۔۔۔۔
    نواز شریف صاحب کے مندرجہ بالا بیانات غور طلب اور تبصرہ اور تجزیہ طلب ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں اوپر اپنی ایک نظم کو اللہ تعالی کے شکریہ کے ساتھ لکھا ہوں جس کے آخری اشعار یہ تھے :
    شکریہ تونے شریفوں کو نوازا شکریہ
    شکریہ تونے وطن کو سرفرازا شکریہ

    عدلیہ کو کردیا آزاد تیرا شکریہ
    چودھری کا کردیا دل شاد تیرا شکریہ

    اب وطن میں اک نیا سورج طلوع ہونے کو ہے
    انتقامی دور کا دورہ شروع ہونے کو ہے
    ۔۔۔۔۔
    اپنی اس نظم میں میں اپنے یہ دو اشعار شامل کررہا ہوں:
    اب نیا دستور آئے گا برائے انتظام
    جس کی بنیادوں میں ہوگا دشمنوں سے انتقام

    ملک مِٹتا جائے‌گا اب عدلیہ کی آڑ میں
    حاکموں کو کیا غرَض گر ملک جائے بھاڑ میں
    ۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  29. بہت بہت حجتوں کے ساتھ اپنا تبصرہ شامل کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، اس امید پر کہ گراں نہیں گذرے گا.
    بیتاب کی ایک غزل کے چند اشعار ہیں کہ:
    کاٹی کہیں پہ رات تو کاٹی سحر کہیں
    راہٍ وفا میں چین نہ پایا مگر کہیں!
    وہ سن رہے ہیں یوں میری افسانہٍ حیات
    دل ہے کہیں، خیال کہیں اور نظر کہیں!
    منزل قریب آئی تو اے دوست کس طرح
    راہی کہیں ہے راہ کہیں راہبر کہیں!
    دل میں پنپ رہی ہے یہی ایک آرزو
    بیتاب کوئی ہم سے ملے ہمسفر کہیں!
    ………
    بات نکلی تھی یومٍ آزادی کی مبارکباد پر اور راہی کہیں ہے راہ کہیں راہبر کہیں کے مصداق ملکی صورتحال، این آر او، مشرف، نواز شریف، زرداری وغیرہ وغیرہ سے بھی کچھ بلاگ آگے نکل رہا ہے.
    ایک عرض رکھ رہا ہوں. خدارا دل میں نہ کیجیئے گا، یہاں میں چند کتب کے حوالے دے رہا ہوں، آپ سب مبصر حضرات ماشاءاللہ سے صاحبٍ سرعت ہیں. انہیں خرید کر ضرور مطالعہ کیجیے گا. ایسا ہوسکتا ہے کہ شاید آپ خواتین و حضرات نے پڑھ لیے ہونگے لیکن پتہ نہیں کیوں میں تبصرہ جات پڑھ کر یہ خیال کر رہا ہوں کہ نہیں نظر سے گذرے ہونگے:
    . Reconciliation: Islam, Democracy, and the West, By Benazir Bhutto
    . سب سے پہلے پاکستان، از پرویز مشرف
    . غدار کون، از سہیل وڑائچ (سوانح عمری میاں نواز شریف)
    . Miltary Inc, By Ayesha Siddiqa
    ……………..
    کتب کی فہرست بہت لمبی ہوجائی گی، لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ وطنٍ عزیز کے موجودہ حالات جاننے کا اگر کوئی واقعی مشتاق ہو تو ان کتب میں آپ کو بہترین حقائق مل جائیں گے. آپ تقابلی جائزہ بھی لے سکتے ہیں کہ کون سیاستدان غلط بیانی کر رہا ہے اور کون کیا کیا چاہ رہا ہے.
    …………….
    ہمارے ساتھ سب سے بڑا المیہ (خصوصی طور پر یہاں عالمی اخبار کے مبصر خواتین و حضرات کے لیے) یہ ہے کہ کم و بیش اسی فیصد سے زیادہ ملک سے باہر رہ رہے ہیں. جہاں ان کی معلومات کا ذریعہ میڈیا (الیکٹرونک میڈیا) ہے، جو میں سمجھتا ہوں کہ بارہ آنہ سوائے بلاغت، اور بزنس کو چمکانے کے لیے ڈیکوریٹیڈ نیوز دیتے ہیں، جن کا حقیقت کے ساتھ کچھ ایسا ہی تعلق ہے کیسا جارج بش کا جمہوریت سے تھا.
    پرویز مشرف کی کتاب پڑھنے کے بعد آپ کو خود ہی اس کے اصل کرتوتوں کا پتہ چل جائے گا، کہ وہ کس طرح اپنی باتوں کو باور کرانے کے لیے فوجی طریقے استعمال کرتا تھا. جو خود ہی کہ رہا تھا کہ ریفریڈم کرانا غلط تھا لیکن مجھ سے یہ ہوگیا، جس میں کافی میرے چاہنے والے کیپٹن وغیرہ وغیرہ نے جعلی ووٹ دیے. (آپ خود ہی پڑھیے اس کی نام نہاد کتاب)
    میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو جس طرح اس نے تگنی کا ناچ نچانا چاہا تھا، (جو کہ کافی حد تک وہ کامیاب بھی رہا) اس طرح سے شاید ہی کسی نے نقصان پہنچایا ہو.
    جو صدر کے عہدے پر رہ کر شیرافگن کے ساتھ کی گئی زیادتی کا بدلہ بارہ مئی والے کراچی میں خون کی ہولی کے ساتھ کچھ یوں فرما رہا تھا کہ ” ایسا نہیں ہوگا تو پھر کیسا ہوگا!”
    ارے سائیں! چھوڑیے! یہاں ایک بلاگ میں محترم شعیب صفدر صاحب نے کراچی کے ان داتا محترم الطاف حسین کے بارے میں کچھ لکھا تو سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی!
    اب لائقٍ احترام زرقا مفتی صاحبہ نے جشنٍ آزادی کی مبارکباد کا یہ بلاگ لکھا تو اسے کیا کیا رخ دیا جا رہا ہے، وہ آپ سب جانتے ہیں.
    میری ایک مؤدبانہ گذارش ہے کہ اگر کسی صاحب یا صاحبہ کو کسی ایک پارٹی پر بولنا یا سننا ہے تو اس کے لیے ایک جدا بلاگ بنایا جائے تو بہتر ہوگا. ورنہ سچ تو یہ ہے کہ بلاگ کے اصل جوہر کے ساتھ ہم نا انصافی کر رہے ہیں. برا مت مانیے، پلیز…..
    میں آپ سب کا گناہگار
    فیاض امر

  30. ” عدلیہ کی بحالی کی تحریک سے ایک اُمید جاگی تھی کہ شاید ہم نے اپنی مجرمانہ خاموشی توڑ دی ہے۔ اب ہم مشرف کو کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں۔ این آرو کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کی راہ روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا ہم خود بھی بدلنا چاہتے ہیں؟؟؟ ”
    —————————————————————————-

    مندرجہ بالا جملہ کس کا ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کیسی سیاست ہے کہ ” لائقِ احترام ” بلاگ نگار مصنفہ کے دل میں دوسروں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کے لیےاور اسکے دل میں جگہ حاصل کر نے کے لیے ، دوسرے بے گناہوں کو اپنی تنقیص کا نشانہ بنا یا جائے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بڑی بڑی کتابیں پڑھنا الگ بات ہے مگر اس بلاگ کو بھی شروع سے آخر تک پڑھنا اور متواز ن قسم کا اور غیر جانبدارانہ بات کرنا دوسری بات ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرا تبصرہ ایک قومی لیڈر جو تین بار ملک کا وزیر اعظم رہچکا ہے اس کے بیان پر تھا جو میں جنگ اخبار کی 14 اگست کے شمارہ سے لیا ہوں ۔ یہ کوئی خیالی الزام تراشی نہیں تھی : یہ لنک میں پھر سے یہا ں پیش کررہا ہوں :

    http://www.jang.com.pk/jang/aug2009-daily/14-08-2009/u2390.htm
    کیا مجھ پر تقید کرنے والے صاحب نے ، اس لنک کو پڑھکر اس میں نواز شریف صاحب نے جو اعلانات کیے ہیں ان پر بھی کچھ غو ر کیا ہے ؟ یہ کوئی میری من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ ” ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے؟ ” والی بات ہے ۔
    اس لنک کو پڑھیے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیجیے ۔ اور اس سلسلے میں میرے مندرجہ بالا تبصرے کو بھی پڑ ھیے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے تمام تبصرے اس بلاگ کے موضوع پر ہی ہیں اور ان سے ہی متعلق ہیں ۔

    فاضل بلاگ نگار مصنفہ نے فرمایا ہے کہ ” عدلیہ کی بحالی کی تحریک سے ایک امید جاگی تھی کہ شاید ہم نے اپنی “مجرمانہ خاموشی ” تو ڑ دی ہے ۔”
    یہ بات فاضل بلاگ نگار مصنفہ نے اس بلاگ کے پڑھنے والوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام اور اسکے قائدین (جن میں نواز شریف بھی شامل ہیں ) اور اس کے حکام کے لیے بھی کہی تھی۔
    اس کے بعد انکا یہ کہنا کہ :
    ” اب ہم مشرف کو کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں ، این آر او کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، ظلم اور زیادتی کو راہ روکنا چاہتے ہیں ”
    کیا اس جملہ میں “اب ہم ” کا اطلاق ہم سب پر اور نواز شریف جیسے قائد پر نہیں ہوتا ؟
    اس کے بعد قابل بلاگ نگار نے یہ سوال پوچھا کہ:
    ” لیکن کیا ہم خود بھی بدلنا چاہتے ہیں ؟؟؟ ”
    اس سوال کا اطلاق بھی کیا ہم سب پر اور نواز شریف جیسے قائد پر نہیں ہوتا ؟
    ان سوالات کے جوابا ت کے بعد ہی کوئی مزید تبصرہ کیا جا سکتا ہے ۔
    یہ کسی ایک پارٹی کی طرفداری یا مخالفت پر تبصرے نہیں ہورہے ہیں ۔ یہ تبصرےایک حقیقت کے اظہار کےلیےہیں جن کا اس بلاگ کے” اصل جوہر ” اور موضوع سے تعلق ہے۔
    اگر فاضل مبصر اپنے مطلب کے کسی موضوع پر اپنا الگ بلاگ بنا نا چاہیں تو انکی مرضی۔
    فقط:
    ایک غیر جانبدار مبصر
    منظور قاضی از جرمنی

  31. قبلہ جناب منظور قاضی صاحب! السلام علیکم۔
    امید ہے خیریت سے ہونگے۔ آمین۔
    سرکار پاؤن پہ ہاتھ رکھ کر عرض کر رہا ہوں کہ آپ ہم سب کی بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بچے ہیں۔ آپ کے چھوٹے ہیں۔
    جو فرمایا آپ نے ٹھیک فرمایا۔
    گستاخی کی معافی چاہتا ہوں۔
    دعاگو
    آپ کا گناھگار
    فیاض امر

  32. ” ارے سائیں! چھوڑیے! یہاں ایک بلاگ میں محترم شعیب صفدر صاحب نے کراچی کے ان داتا محترم الطاف حسین کے بارے میں کچھ لکھا تو سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی! ”

    یہ جملہ کس کا ہے ؟ اور اسکا اس بلاگ سے کیا تعلق ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔
    بہتر تو یہ تھا کہ ” کراچی کے ان داتا ” الطاف حسین کے بلاگ میں ” سوالات کی بوچھاڑ ” پر ان سوالات کے جوابات کی بوچھاڑ ہوتی ۔ مگر اُس بات کا اِس بلاگ میں تذکرہ کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔
    پاکستان کا یوم آزادی پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے جذبات کے احترام کرنے کا دن ہے اور علاقائی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے با لا تر ہو کر ایک دوسرے کو گلے لگانے کا دن ہے نہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    امید کہ فیاض امر صاحب میری اس تحریرسے خوش ہوگئے ہونگے ۔
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  33. منظور بھائی یہی بات تو آپ کو سب سے الگ کرتی ھے کہ آپ بہت ھی بڑے دل کے مالک ھیں ۔ آپ کبھی کسی کے لیئے دل میں میل نہیں رکھتے ۔۔ اب بھلا فیاض بھائی کی کیا مجال جو آپ سے خوش نہ ھوں ۔۔۔ اللہ پاک آپ کو خوشیوں میں رکھے ۔۔آمین ،

  34. مشکل یہ ہے کہ میرے تبصرےکی اشاعت کے بعد میر ی نظر اس بلاگ پر پڑھتی ہے تو مجھے اپنی جلد بازی پر شرم آتی ہے کہ میں نے جو کچھ کہا اس کا جواب نہایت ہی موثر انداز میں فیاض امر صاحب نے تو دے ہی دیا ہے ۔
    فیاض امر صاحب کی اس انتہائ پرخلوص تحریر کے بعد میں ” نظر ثانی ” کرنے والی ہستی سے درخواست کرتا ہوں کہ میرا ” کراچی کے ان داتا الطاف حسین ” والا تبصرہ حذف کردیے۔( چونکہ یہ تبصرہ ابھی تک ” نظر ثانی کا منتظر ہے ” اس لیے یہ بروقت اقدام اچھا رہے گا۔
    فیاض امر صاحب اپنے علم کے لحاظ سے ہم سب سے بہت اونچے مقام پر ہیں ۔ اس لیے میں‌انکا دل سے احترام کرتا ہوں ۔
    میں بھی ان سے معافی چاہتا ہوں کہ انکے حساس دل کو ٹھیس پہنچائی ۔ افسوس صد افسوس ۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  35. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ( بہن ) : یہ آپ کی اور صفدرھمدانی صاحب کی محبت ہے کہ مجھے نومبر 2008 سے آپ سب کے دلوں کے قریب لے آئی ہے ۔ میں نے ہمیشہ سے یہی سمجھا ہے کہ جب کوئی مجھے ” بھائی ” کہ کر مخاطب کرتا ( کرتی ) ہے تو وہ بے شک صدقِ دل ہی سے مجھے اپنا بھائی ہی سمجھ کر کہ رہا ( کہ رہی ) ہے۔ رسمی طور پر نہیں ۔ آپ سب کی ہمت افزایانہ تحریروں کا دلی شکریہ ۔ بس اسی طرح اپنی دعاوں میں یاد رکھئے ۔ اللہ حافظ
    ۔۔۔۔۔
    یہ زرقا مفتی صاحبہ کا بلاگ ہے اس لیے میں اب اس بلاگ کے موضوع سےہٹ کر کوئی اور بات نہیں لکھونگا۔
    ۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  36. محترم سامعین اسلام علیکم
    میری حب الوطن بہن زرقا نے یوم آزادی کا بلاگ لکھا اس میں زمانے بھر کی غیر متعلق گفتگو شروع ہو گئیں۔ ہم احمقوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں سر کا ر اور ذرائع ابلاغ ہمیں جدھر ہانک دیتے ہیں ہم سب اسی طرف چل پڑتے ہیں آج کل کا اہم موضوع پرویز مشرف اور کٹھرا چل رہا ہے ہم یہ نہیں سوچتے کہ کون پرویز مشرف کو کٹھرے میں لانے کا حامی ہو گا کیا وہی شخص جسے اپنے بنائے ہوئے کٹھرے میں کل خود کھڑا ہونا ہے زرا غور کریں وقت کا زیاں ہے کوئی اور اچھی اور ملک اور قوم کی بہتری کی بات کریں بھیڑ چال سے پرہیز کریں
    دوسری ایک اہم بات یوں شروع کرونگا کہ میں اپنے آپ کو کوئی فاضلٍ اردو سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ سیکھنے کے مراحل میں ہوں مگر اس سیکھنے کے مراحل میں ‘دردیلے انسان ‘ قسم کے الفاظ سیکھنا نہیں چاہتا میں یہ بھی نہیں کہونگا کہ میں میر تقی میر کی طرح منہ پر کپڑا لپیٹ کر بیٹھ جاوں کہ غلط زبان سننے سے اپنی زبان خراب ہوتی ہے۔ میرے ایک دوست ریڈیو پر اردو پروگرام کرتے تھے اور اپنے حت الا علم خراب اردو بولنے میں سند رکھتے تھے ایک دن ملے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ فرانسیسی زبان میں پروگرام کیوں نہیں کرتے تو بولے کہ مجھے فرانسیسی نہیں آتی تو ہم نے پوچھا کہ پھر اردو میں کیوں کرتے ہیں؟۔۔ ہم انگریزی بولنے میں پوری احتیاط کرتے ہیں اس لئے کہ وہ ہمارے آقاؤں کی زبان ہے اس کے قواعد پر ہم بھر پور توجہ دیتے ہیں لیکن اچھی یا درست اردو لکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ ذرا غور کریں ۔۔لکھنے کو تو بہت ہے پر نہ سنا جائے گا تم سے یہ فسانہ ہرگز۔۔ ۔ ایک گستاخ

  37. السلام علیکم
    میری خواہش کے برعکس پاکستان میں رہائش پذیر پاکستانیوں نے ماسوائے فیاض امر صاحب کے اس بلاگ پر تبصرہ نہیں کیا
    اس بلاگ کا مقصد عام آدمی میں تبدیلی کی خواہش کو بیدار کرنا تھا۔
    میری ذاتی رائےاور مشاہدے کے مطابق شریف برادران اپنے مفاد کو پہلی ترجیح پر رکھتے ہیں
    اور بقول نواز شریف صاحب “ہم بات دل میں رکھ لیا کرتے ہیں”
    تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک میں کی گئی سرمایہ کاری کو وہ مشرف کے مواخزے کی صورت وصول نہ کریں

    فیاض صاحب کی تجویز کردہ کتب میں سے
    In the line of Fire
    by Pervaiz Musharaf
    میں نے پڑھ رکھی ہے

    سہیل وڑائچ صاحب غیر جانبدار نہیں ہیں وہ جدہ میں نواز شریف کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں

    البتہ ڈاکٹر عائشہ کی کتاب پڑھ کر ہی تبصرہ کر سکتی ہوں

    باقی رہی یہ بات کہ قائدِ اعظم پاکستان کا مستقبل دیکھ سکتے تو کیا کرتے
    قائداعظم عمل پیہم پر یقین رکھتے تھے پیش گوئیوں پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے
    والسلام
    زرقا

  38. معاف کیجئے اوپر کی تحریر میں قارئین کی جگہ سامعین لکھ گیا تصحیح۔۔۔۔۔۔۔۔دراصل ریڈیو کا آدمی ہوں اور سامعین کہنے کی عادت ہو گئی ہے

  39. امین ترمذی صاحب عام طور پر اپنے تبصرے ” آپ کی محبتوں کا امین ” کے الفاظ پر ختم کرتے ہیں مگر اوپر کا تبصرہ انہوں نے ” گستاخ” کے لفظ پر ختم کیا۔
    خدا بھلا کرے اس کا جس نے انہیں ” دردیلا انسان”کی اصطلاح سکھانے کی ناکام کوشش کی اور انکو اس بلاگ کے موضوع سے ہٹ کر اردو زبان کے موضوع پر لکھنے پر مجبور کیا۔

  40. السلام علیکم : میرے محترم سائیں منظور قاضی صاحب!
    کوئی بات نہیں ہے۔ میں پھر عرض رکھ رہا ہوں کہ ہم سب آپ کے بچے ہیں۔ اور چونکہ گھر کے بڑے ہونے کو ناتے ہم آپ سے سب طرح کی حجتیں کرتے رہتے ہیں، تاکہ آپ کو یہ احساس ہو کہ پ ہمارے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ باقی خیال اور اظہار کا اگر تھوڑا بہت فرق ہوتو ہ ایک فطری بات ہے۔ ہم آپ سے کافی باتیں سیکھتے ہیں۔ سو در گذر کرتے رہیے، تو احسان آپکے۔ اللہ سائیں آپ کو سدا سلامت رکھے اور صحتٍ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔
    دوسری بات آپ نے خود ہی زرقا بہن کے ایک بلاگ بعنوان “پاکستان کا اصل مسئلہ” میں لکھا تھا کہ آپ ملک سے باہر ہیں لہٰذا آپ سے زیادہ ملک کے اندر رہنے والے بہتر طور پر لکھ سکتے ہیں، (یاد ہے؟) میں بار بار یہی عرض رکھ رہا ہوں کہ عرصہ دراز سے باہر رہنے کی وجہ سے یہاں بلاگی خاندان کے اسی فیصد سے زیادہ افراد حق تو یہ ہے کہ پاکستان کے صحیح طرح سے نبض شناسی شاید نہ کر پائیں۔ اس لیے میں نے کچھ عرض رکھے تھے۔
    باقی میں آپکی کس بات سے نا خوش ہوسکتا ہوں؟ توبہ توبہ! مجھے اپنی عاقبت خراب نہیں کرنی سرکار! آپ ہمارے محترم ہیں، ہم سدا سے آپ کے لیے دعاگو تھے، ہیں اور رہینگے۔ آمین

  41. امین بھائی آپ بھی نہ یونہی خفا ھو جاتے ھیں ۔۔لیجیئے اب منظور بھائی کو بھی فکر ھوئی کہ آپ نے محبتوں کا امین کی بجائے “گستاخ ” لکھا ۔۔ کوئی بات نہیں بھائی ھم سب ایک نہ ایک دن آپ جیسی اردو سیکھ ھی جایئنگے ۔۔ بس اب جلدی سے کہہ دیں کہ آپ خفا نہیں ھیں ورنہ منظور بھائی کاتو آپ کو پتہ ھے ۔۔ اور انہیں آپ کافون نمبر بھی معلوم ھے ۔ پھر نہ کہیئے گاکہ ھمیں خبر نہ ھوئی ۔۔

    ۔ اور سنیں ھماری ھمشیرہ تلمیذ فاطمہ کہاں ھیں ۔۔ انہیں ھر وقت جگانا کیوں پڑتا ھے ۔۔ لگتا ھے کہ بہت مصروف ھیں ۔۔

  42. نگہت بہن اسلام علیکم
    نہیں بی بی ناراضگی کی بات نہیں ہے بات یہ ہے کہ جو لوگ یہاں لکھ رہے ہیں ۔علاوہ میرے ، انکا شمار اچھے پڑھے لکھے لوگوں میں ہوتا ہے ان میں سے اکثر اپنی روزمرہ کی زندگی میں اردو بولتے ہیں تو یہ کوشش کیوں نہیں کرتے کہ صحیح اردو بولیں اور جب ٹوکو تو کہتے ہیں اب چلنے دیں انگریزی میں چلنے دیں نہیں کہتے آپ پچھلے پانچ سو تبصرے پڑھ لیں جہاں کسی نے انگریزی لکھی ہے درست لکھی ہے کبھی کوئی نہیں لکھتاکہ we is going جبکہ آپ کیا کر وہے ہو قسم کے جملے آپ کو روزسننے کو ملتے ہیں اس زبان کی گرامر کی کسی کو فکر نہیں ہے کوئی نہیں کہتا کہ بھائی درست لکھو ورنہ مت لکھو اپنے آقاؤں کی زبان ہی بولو اور لکھو۔ تلمیذ بہن نے بھی مجھ سے کہا ہے کہ بھئی بہت خراب زبان پڑھنے کو ملتی ہے اب روز روز تو شکایت نہیں کی جاتی مگر کبھی ایک بار ہماری بھی سن لیجئے،چلئے خیر بات ختم کرتے ہیں مگر سوچئے گا ضرور کہ کیا میں نے غلط کہا ہے مجھے افسوس ہے کہ اس اچھے سے بلاگ میں یہ باتیں ہو گئیں ویسے میں نے اس بلاگ کے ساتھ اور اس پہلے حب الوطنی کے اشعار والے بلاگ کے ساتھ پوری وفا کی اور کیوں نہ کرتا یہاں بات تھی میری سوہنی دھرتی کی۔پڑھئے اور دیکھئے کہ ایک شخص جو پینتیس سال سے پاکستان سے باہر ہے اب بھی وہیں رہتا ہے ۔ یورپ امیریکہ نے میرا کچھ نہیں بگاڑا ۔ نہ میرے کپڑوں کاسٹائل بدلا۔ نہ بالوں کا۔ نہ گفتگو کا ۔ امریکہ میں شاید میں اکیلا آدمی ہوں جس نے کبھی جینز کی پتلون نہیں پہنی جس طرح کسی امیریکن سے اردو میں بات نہیں کرتا اسی طرح کسی دیسی سے انگریزی میں بات نہیں کرتا اسی لئے مجھے خراب زبان پڑھ کر اور سن کر تکلیف ہوتی ہے۔ ہر دور میں کچھ دیوانے ہوتے ہیں ایک مجھے بھی برداشت کر لیجئے ‘ معذرت ۔ آپ سب کی محبتوں کا امین

  43. یہ بلاگ پاکستان کی ” یومِ آزادی مبارک ” کے عنوان پر اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہا رکے لیے ہے ۔ مگر چونکہ اردو زبان پاکستان کی قومی زبان ہے اس لیے اس کی بقا اور اسکی ترقی اور ترویج بھی پاکستان سے منسلک ہے۔ اور اسکا تذکرہ کرنا بھی میرے خیال میں اس بلاگ کے موضوع کے مطابق ہے پھر بھی اس کا فیصلہ اس بلاگ کی مصنفہ ہی کرسکتی ہیں کہ اس ذیلی موضوع کو اس بلاگ میں شامل کرے یا نہ کرے ۔

    اگر امین ترمذی صاحب کسی مبصر کی اردو پر مطمئن نہیں‌ہیں اور اس پر بے باک تبصرہ اور تنقید کرنا چاہتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ میں انکی اجازت سے اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کی تائید کے بعد ایک بلاگ شروع کرنا چاہتا ہوں ۔جس کی وجہ سے زرقامفتی صاحبہ کا یہ بلاگ ایک ذیلی موضوع پر تبصروں سے بچ جائے گا ۔
    میرے متوقع بلا گ کا موضوع ہوگا ” آئیے صحیح اردو بولنے اور لکھنے کی کوشش کریں” ۔ بشرطیکہ امین ترمذی صاحب اسکی ذمہ داری لیں کہ وہ جب بھی کسی مبصر کی اردو تحریر میں ” دردیلا ” یا ” آپ کیا کررہے ہو ” جیسےالفاظ اور گرامر دیکھیں تو اسکی نشاندہی اور تصحیح کردیں۔ مگر امین ترمذی صاحب کو اس بات کی تحقیق کرنی ہوگی کہ ایسے الفاظ اور ایسی ترکیبیں غلط کمپوزنگ کا نتیجہ تو نہیں !!!! اسلیے کہ خود امین ترمذی صاحب اپنی اردو کی کمپوزنگ میں بھی غیرا رادی طور پر غلطی کرسکتےہیں ( اس بات کی تصدیق کے لیے وہ خود اپنے گذشتہ تبصروں پر نظر ثانی کر سکتے ہیں)
    .
    اگر کسی نے “دردیلا ” کا لفظ اپنے کسی تبصرےمیں لکھا ہے تو شاید اس نے شرم سے شرمیلا ، چھب سے چھبیلا ، غصہ سےغصیلا اور پھر اسی قافیہ پر زہریلا، نخریلا ، پھرتیلا ، چمکیلا ، جوشیلا ، پتھریلا کی مثالیں دیکھکر درد سے ” دردیلا ” لکھدیا تو اس پر اعتراض کرنے سے پہلے اس مبصر سے پوچھ لیا جائے کہ اس نے “دردیلا ” جیسی ترکیب کس وجہ سے استعمال کی؟ ممکن ہے کہ لفظ ” پنگا” کی طرح ” دردیلا ” بھی روز مرہ کی اردو کا حصہ بن جائے۔

    اردو کا وسیع دامن دوسری زبانو‌ں کی امتزاج سے اورنئی ئئی اصطلا حات اور نئے نئے الفاظ سے دن بدن مالا مال ہوتا جارہا ہے ۔
    جس طرح شاہی انگریزی کے مقابلے میں امریکی انگریزی بھی کافی سے زیادہ نئے نئے الفاظ کو قبول کررہی ہے۔
    ایک زندہ زبان کی یہ خوبی ہے کہ وہ نئے نئے الفاظ کو قبول کرتی ہے ۔
    ۔۔
    اس تبصرے کو مختصر کرتےہوئے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اوپر لکھی ہوئ میری شرائط کےمطابق اگر امین ترمذی صاحب ذمہ داری لیں اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحب اجازت دیں تو میں ایک نیا بلاگ صرف اردو کے موضوع پر شروع کر سکتا ہوں۔
    فقط:
    اردو زبان کا طالب علم ۔
    منظور قاضی از جرمنی

  44. فیاض امرصاحب کا میںمشکور ہوں کہ وہ میرے تمام تبصرے غور سے پڑھتے ہیں ۔ میں تو یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ میرے تبصروں اور میرےبلاگوں کو اتی اہمیت نہیں دیتے کہ انکا مطالعہ کریں
    فیاض امر صاحب کے تبصرے اور انکے بلاگ ہمیشہ ایک نئے موضوع پر ایک نئے انداز میں روشنی ڈالتےہیں ۔ ان کی تحریر میں عمق ہے گہرائی ہے ۔ اور اسلیے وہ ہمیشہ قابل قدر اور قابل مطالعہ رہی ہے ۔وہ نئے نئے عنوانات پر اپنے بلاگ لکھتےہیں اور پڑھنے والوں کی عقل کو جھنجوڑ نے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ انکی یہ خداداد صلاحیت قابل ستائش ہے۔
    چونکہ وہ پاکستان میں ہی رہتے ہیں اس لیے پاکستان کے ہر ہر پہلو کو غور سے دیکھنے اور اسکا تجزیہ کرنےکی قابلیت رکھتےہیں ( اور مجھے یقین ہے کہ وہ علاقائی اورلسانی اور دیگر تعصبات سے بالاتر ہوکر اپنی باتیں لکھتےہیں) ۔
    میں انکے علم کی قدر کرتا ہوں ۔ ان سے اتنی گذارش کر ونگا کہ وہ اپنی تحریر پر کسی کی تعمیری تنقید کا دل پر اثر نہ لیا کریں ۔
    فقط :
    خیر اندیش : منظور قاضی از جرمنی

  45. قاضی صاحب اسلام علیکم
    ارادہ نیک ہے اور میں آپ کے ساتھ ہوں مگر اس کام کا مجھے صرف شوق ہے استادی کا کوئی دعوا نہیں ہے مگر کئی لوگ مل کر کام کریں گے تو کچھ ہو ہی جائے گا اور پھر سب سے بڑی طمانیت تو یہ ہے کہ جائے استاد خالی “نیست” کیونکہ ہماری پنہاں بجیا تو موجود ہیں بس پھر فکر کی کیا بات ہے بسم اللہ۔ آپ سب کی محبتوں کا امین

  46. السلام علیکم
    میرا خیال ہے کہ اُردو روز مرہ کے عنوان سے ایک بلاگ شروع کرتے ہیں جس میں کسی شخصیت کی طرف اشارہ کئےبغیر روزمرہ کی اغلاط کو درست ہجوں اور استعمال کے ساتھ درج کیا جائے
    جو خواتین و اصحاب سمجھتے ہیں کہ اُن کی املا کمزور ہے یا اُن کے پاس الفاظ کا ذخیرہ کم ہے اس بلاگ سے رجوع کر سکتے ہیں
    والسلام
    زرقا

  47. بہن زرقا اسلام علیکم
    اچھا خیال ہے مگر روزمرہ کے استعمال میں تو لوگ بہت سے غلط الفاظ بولتے ہیں کیا ہم اس کی اصلاح نہیں کریں گے۔ اس دردیلے کو ہی لے لیجئے اس کی جگہ پُر درد موجود ہے تو اس کو شرمیلا یا چھبیلا کی طرح استعمال نہیں کیا جاسکتا جو لفظ لغت میں نہیں ہے وہ لفظ غلط ہے اب ہم اس طرح الفاظ ایجاد کرنے لگیں تو زبان چوں چوں کا مربہ بن جائے گی میں نے ایک جگہ سترنگی لکھ دیا تھا اس پر اعتراض ہوا کہ ہفت رنگی کہنا چاہئے میں تسلیم کیا اور اپنی سعادت مندی کی وجہ سے نہیں بلکہ بات غلط تھی تو غلط تھی اور میں اپنی غلطی کا اعتراف کرونگا تو آئندہ کے لئے لفظ یاد ہوگا اور دوبارہ غلطی نہیں کرونگا دیکھئے ہم نے انگریزی لفظ بور کے ساتھ جوڑ لگا کے بوریت بنا لیا ایک صاحب کہنے لگے کہ بھائی صاحب کی کمیت پر پتہ چلے گا میں نے کمیت کی وضاحت چاہی تو انہوں نے انہوں نے انتہائی استادانہ اندازسے اسے انگریزی لفظ come کی اضافت بتایا اب ایسے بھی موجد نہ بنیں یہاں ٹائپ کرنے میں ح اور ہ اور ھ کا فرق تو ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ مستقل ھم اور ھجرت اور ھمسایہ لکھیں گے تو ہمیں بتانا پڑے گا کہ اردو کا کوئی لفظ جی ہاں کوئی لفظ دو چشمی ھ سے نہیں شروع ہوتا اور جو لکھتا ہے غلط سمجھ کر لکھے بالکل اسی طرح بھاری اور بہاری یا کھا اور کہا کے فرق کا بھی خیال رکھنا ہو گا اگر ہم وزنی چیز کو بہاری لکھیں گے تو وہ غلط اردو ہے اب آپ کہیں گے کہ بھئی یہ تو بہت مشکل ہے تو آپ کو یہ مشکل انگریزی میں کیوں نہیں ہوتی وہاں تو آپ کاما اور فل اسٹاپ کا بھی خیال کرتے ہیں کبھہی کسی عورت کے ذکر میں his mother نہیں لکھتے ہمیشہher mother پر توجہ رکھتے ہیں مگر اردو میں گرامر یا اعراب کا خیال نہیں کرتے کیوں ؟ چلئے اب ہمت کرکے بلاگ شروع کیجئے اور درست اردو سیکھنے میں منہ نہ بنائیے گا بحث نہ کیجئے گا جو لغت میں لکھا ہے وہ درست ہے یہ نہیں کہ ہم تو ایسے یہ بولتے آئے ہیں اور بھئی یا تو آپ صحیح زبان سیکھنااور بولنا چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے اور نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں مگر ہمیں اسے غلط کہنے سے نہ روکیں۔لیجئے میں نے اتنا ڈرا دیا ہے کہ اب اس بلاگ کے شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے معذرت چاہتا ہوں مگر ہم بولے گا تو بولوگے کہ بولتا ہے آپ سب کی محبتوں کا امین

  48. معاف کیجئے اوپر ست رنگی لکھ دیا جو درست ہے اصل میں میں نے غلط لفظ ست عیبی لکھا تھا جو غلط تھا وہ ہفت عیبی ہونا چایئے تھا ” تصحیح “

  49. السلام علیکم
    امین بھائی
    آپ ہی ایک بلاگ شروع کر دیجئے
    اس بلاگ کی محفل میں لکھے گئے خطوط سے ہی کوئی سے دس غلط الفاظ لے لیجیے
    اس کے بعد ہم میں سے جو بھی کہیں غلطی دیکھے گا
    بلاگ میں غلط اور صحیح دونوں درج کر دے گا
    اس طرح کسی کی بھی دل آزاری نہیں ہو گی
    والسلام
    زرقا

  50. امین ترمذی صاحب کو اگر عالمی اخبار کی انتظامیہ نے بلاگ شروع کرنے کا اختیا ر اور شناختی لفظ دےدیا ہے تو بہتر ہے کہ وہ زرقا مفتی صاحبہ کے کہنے کے مطابق اپنی مرضی کے بلاگ شروع کرتے رہیں اور عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کی معلوما ت میں اضافہ کرتے رہیں۔

    اگر وہ نہیں شروع کرسکیں تو میں اپنے اوپر کے ایک تبصرے میں اس قسم کا بلاگ شروع پر رضامندی کا اظہار تو کرچکا ہوں۔مگر میرا ایسا کرنا اندھوں کی رہنمائی کی ذمہ داری کسی اندھے کے سپرد کرنے کےبرابر ہے۔ اس لیے میرے بلاگ میں امین ترمذی صاحب اور زرقا مفتی صاحبہ کا حصہ لینا ضروری ہوگا۔
    ۔۔۔۔
    اگر امین ترمذی صاحب یہ نیک کا م کریں تو عالمی اخبار کی تاریخ میں ایک ” انمٹ ” روایت پیدا ہوجائےگی ۔ ( میں” انمٹ ‘ کا لفظ شکریہ کے ساتھ امین ترمذی صاحب کے اس بلاگ کے 15 اگست کے تبصر ے سے لیا ہوں )
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *