نوبل پرائز یا فتہ : مسلمان صرف نو اور یہودی ایک سوانتیس : سوچنے کا مقام ہے

مندرجہ ذیل اطلاع کے مطابق دنیا کے آبادی میں مسلمانوں کی تعداد بیس فی صد ہے اور انہوں نے نوبل پرائز کی ابتدا( 1901 ) سے آج تک صرف نو نوبل پرائز حاصل کیے ہیں ۔ مگر
یہودیوں کی آبادی صرف عشاریہ صفر دو فی صد ہے اور انہوں نے نوبل پرائز کی ابتدا سے آج تک ، ایک سو انتیس نوبل پرائز حاصل کیے ہیں:
سوچنے کا مقام ہے۔—
Jews and Muslims

( The Jews and the Muslims (an interesting point of view .)

The Global Islamic population is approximately (1,200,000,000) ONE-BILLION TWO-HUNDRED MILLION, or 20% of the world’s population.

They have received the following Nobel Prizes:

Literature :
1988 – Najib Mahfoo

Peace:
1978 – Mohamed Anwar El-Sadat
1994 – Yaser Arafat:
1990 – Elias James Corey
1999 – Ahmed Zewai

Economics: (zero)

Physics: (zero)

Medicine:
1960 – Peter Brian Medawar
1998 – Ferid Mourad

اس فہرست میں یہ پانچ نام بھی شامل کرلیں :
محمد یونس : بنگلہ دیش : 2006 امن
محمد البر ادائ : مصر 2005 امن
شیرین عبادی : ایران 2003 امن
عبدالسلام ( احمدی ) جس نے پاکستان کی طرف سے فیزیکس میں 1979 میں نوبل پرائز انعام حاصل کیا
اور حان پامک : ترکی ۔ لیٹریچر 2006
اس لحاظ سے بارہ نام کی فہرست بنتی ہے ( شائد یہ بھی نامکمل فہرست ہے اگر کسی قاری کو اور کوئی نام یا د ہو تو وہ لکھدے۔
یہ فرض کیا گیا ہے کہ اوپر کی فہرست میں پیٹر براین میڈاوار اور الیاس جیمس کوری اور فرید مراد کا مذہب اسلام تھا مگر گوگل سرچ کے مطابق یہ عیسائی تھے ۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو صرف نو مسلمانوں کے نام اس فہرست میں رہ جاتے ہیں۔ ۔
____________________________________________________________________________

The Global Jewish population is approximately (14,000,000) — Only FOURTEEN MILLION Or about 0.02% of the world’s population.

They have received the following Nobel Prizes:

Literature:
1910 – Paul Heyse
1927 – Henri Bergson
1958 – Boris Pa sternak
1966 – Shmuel Yosef Agnon
1966 – Nelly Sachs
1976 – Saul Bellow
1978 – Isaac Bashevis Singer
1981 – Elias Canetti
1987 – Joseph Brodsky
1991 – Nadine Gordimer World

Peace:
1911 – Alfred Fried
1911 – Tobias Michael Carel Asser
1968 – Rene Cassin
1973 – Henry Kissinger
1978 – Menachem Begin
1986 – Elie Wiesel
1994 – Shimon Peres
1994 – Yitzhak Rabin

Physics:
1905 – Adolph Von Baeyer
1906 – Henri Moissan
1907 – Albert Abraham Michelson
1908 – Gabriel Lippmann
1910 – Otto Wallach
1915 – Richard Willstaetter
1918 – Fritz Haber
1921 – Albert Einstein
1922 – Niels Bohr
1925 – James Franck
1925 – Gustav Hertz
1943 – Gustav Stern
1943 – George Charles de Hevesy
1944 – Isidor Issac Rabi
1952 – Felix Bloch
1954 – Max Born
1958 – Igor Tamm
1959 – Emilio Segre
1960 – Donald A. Glaser
1961 – Robert Hofstadter
1961 – Melvin Calvin
1962 – Lev Davidovich Landau
1962 – Max Ferdinand Perutz
1965 – Richard Phil lips Feynman
1965 – Julian Schwinger
1969 – Murray Gell-Mann
1971 – Dennis Gabor
1972 – William Howard Stein
1973 – Brian David Joseph son
1975 – Benjamin Mottleson
1976 – Burton Richter
1977 – Ilya=2 0Prigogine
1978 – Arno Allan Penzias
1978 – Peter L Kapitza
1979 – Stephen Weinberg
1979 – Sheldon Glashow
1979 – Herbert Charles Brown
1980 – Paul Berg
1980 – Walter Gilbert
1981 – Roald Hoffmann
1982 – Aaron Klug
1985 – Albert A. Hauptman
1985 – Jerome Karle
1986 – Dudley R. Herschbach
1988 – Robert Huber
1988 – Leon Lederman
1988 – Melvin Schwartz
1988 – Jack Steinberger
1989 – Sidney Altman
1990 – Jerome Friedman
1992 – Rudolph Marcus
1995 – Martin Perl
2000 – Alan J. Heeger

Economics:
1970 – Paul Anthony Samuelson
1971 – Simon Kuznets
1972 – Kenneth Joseph Arrow
1975 – Leonid Kantorovich
1976 – Mil ton Friedman
1978 – Herbert A. Simon
1980 – Lawrence Robert Klein
1985 – Franco Modigliani
1987 – Robert M. Solow
1990 – Harry Markowitz
1990 – Merton Miller
1992 – Gary Becker
1993 – Robert Fogel

Medicine:
1908 – Elie Metchnikoff
1908 – Paul Erlich
1914 – Robert Barany
1922 – Otto Meyerhof
1930 – Karl Landsteiner
1931 – Otto Warburg
1936 – Otto Loewi
1944 – Joseph Erlanger
1944 – Herb ert Spencer Gasser
1945 – Ernst Boris Chain
1946 – Hermann Joseph Muller
1950 – Tadeus Reichstein
1952 – Selman Abra ham Waksman
1953 – Hans Krebs
1953 – Fritz Albert Lipmann
1958 – Joshua Lederberg
1959 – Arthur Kornberg
1964 – Konrad Bloch
1965 – Francois Jacob
1965 – Andre Lwoff
1967 – George Wald
1968 – Marshall W. Nirenberg
1969 – Salvador Luria
1970 – Julius Axelrod
1970 – Sir Bernard Katz
1972 – Gerald Maurice Ed elman
1975 – Howard Martin Temin
1976 – Baruch S. Blumberg
1977 – Roselyn Sussman Yalow
1978 – Daniel Nathans
1980 – Baruj Benacerraf
1984 – Cesar Milstein
1985 – Michael Stuart Brown
1985 – Joseph L. Goldstein
1986 – Stanley Cohen [& Rita Levi-Montalcini]
1988 – Gertrude Elion
1989 – Harold Varmus
1991 – Erwin Neher
1991 – Bert Sakmann
1993 – Richard J. Roberts
1993 – Phillip Sharp
1994 – Alfred Gilman
1995 – Edward B. Lewis

TOTAL: 129 ONE HUNDRED TWENTY NINE!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈیا کے نوبل پرائز حاصل کرنے والو ں کی تعداد آٹھ ہے ۔
امریکہ کے نوبل پرئز حاصل کرنے والوں کی تعداد 309 ہے۔
۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : اگر اس فہرست میں کوئی کمی بیشی ہو تو قاریین اس بلاگ میں تصحیح کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایک زمانہ پہلے مسلمانوں نے الجبرا ایجاد کیا اور دنیا میں علم و فن کی ترویج اور ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مگر کیا وجہ ہے کہ وہ نوبل پرائز حاصل کرنے میں یہودیوں سے بہت ہی پیچھے رہے؟
کیا نوبل پرائز دینے والے یہودی ہیں یا متعصب عیسائی ہیں جو یہودیوں ہی کی سر پرستی کرتے رہتے ہیں؟
کیا مسلمانو ں میں علم اور فن کی تحقیق اور اختراع اور ایجاد اور تجسس کی صلاحیت باقی نہیں ہے ۔؟
کیا مسلمانوں کی توجہ علم و فن کی بجائے ایک دوسرے سے لڑنے اور ایک دوسرے کی تباہی کے منصوبے بنانے یا پھر عیش و عشرت میں علم اور عقل ضائع کرنے میں ہی لگی ہوئی ہے ؟
کیا مسلمانو‌ں میں ریاضی، سائنس اور ٹیکنو لوجی کو سیکھنے اور ان علوم میں آگے بڑھنے کی صلاحیت بالکل مفلوج ہوگئی ہے ؟
کیا مسلمانوں میں علم و فن کے سلسلے میں دوسری قوموں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور ہمت نہیں ہے؟
۔۔۔۔۔۔
سوچنے کا مقام ہے !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب اس بلاگ کو پڑھ رہے ہیں تو وہ اپنے تبصرے سے ہم سب کو نواز سکتے ہیں۔

فقط :
علم کا خواہاں
منظور قاضی از جرمنی

نوٹ: میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ مجھےاس بلاگ کے فہرست کے اعداد و شمار میں تبدیلی کا بروقت موقع عنایت کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
( ماخذ: گوگل سرچ )

.

22 thoughts on “نوبل پرائز یا فتہ : مسلمان صرف نو اور یہودی ایک سوانتیس : سوچنے کا مقام ہے”

  1. مسلمان اس وقت زوال پذیر ہیں اور یہ لمحہء فکریہ ہے۔ لیکن دوسری اقوامِ عالم کی طرح مسلمان بھی انشاء اللہ واپس عروج کی طرف جائیں گے۔ عیسائ رومنس کے آخری دور میں عروج پر تھے پھر زوال پذیر ہوئے اور آج عروج پر ہیں ۔ چینی عروج پر تھے پھر زوال پذیر ہوئے اور آج عروج کی طرف گامزن ہیں۔ ان دونوں قوموں کی طرح مسلمانوں کی بھی عروج کی تاریخ ہے جنہیں مغرب آج کی سائنس کے Founding Fathers کہتا ہے۔ اگر آٹھ سو بندرہ سو برس پہلے نوبل پرائز ہوتا تو نوبل پرائز یافتہ کی فہرست مسلمانوں سے بھری ہوتی۔ اُس وقت کے مسلمان scientists کو عیسائیوں اور یہودیوں نے بعد میں درسگاہ سمجھ کر آج یہ مقام حاصل کیا ہے۔ انشاء اللہ مسلمان بھی ایک دن دل کی گھرائیوں سے مغرب کو بجائے فتنہ کے درسگاہ مان کر آگے ضرور بڑھیں گے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو میں نے امپیریل کالج میں قریب سے دیکھا ہے اور وہ ایک درسگاہ تھے۔

  2. الفریڈ نوبل خود بھی ظاہراً یہودی تھے اور یہ انعام مسلمانوں میں بھی صرف ان لوگوں کو دیا گیا ہے جو کسی نہ کسی طرح صہیونیت کی تقویت کا باعث بنے ہیں جن میں یہودی اور بہائی نواز ایرانی خاتون شیرین عبادی بھی شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انعام یہودیوں کا ہے اور یہودیوں کے لئے ہے۔

  3. مسلمانوں میں ایک دو اور بھی نام ہیں۔

    Younos Khan – Ecomnomics
    Dr. Abdus Salam?-Theoretical Physics

    یہودیوں کی تعداد ARY نے 171 بتائ ہے۔ لیکن 129 بھی بڑا نمبر ہے قابلِ تعریف اور قابلِ رشک ہے۔

  4. السلام علیکم قاضی صاحب
    بہت ذبردست ۔سچ میں بہت معلوماتی بلاگ شروع کیا ہے آپ نے:)

  5. سلامٌ علیکم
    میں فرحت حسین سے بالکل متفق ہوں کہ

    حقیقت یہ ہے کہ یہ انعام یہودیوں کا ہے اور یہودیوں کے لئے ہے۔

    یاد رہے اگر ہم مرزائیوں کو غیر مسلم تسلیم کرچکے ہیں تو اگر ان میں سے کوئی خواہ کیسا بھی انعان حاصل کرلے ہم اس کا شمار مسلمانوں میں نہیں کرسکئیں گے۔

  6. یہ اگر چہ سوچنے کا نہیں عملی طور پر کچھ کرنے کا مقام ہے۔ فرحت حسین کا نظریہ بھی کوئی یکسر غلط نہیں ہے لیکن 100 فیصد ایسا بھی نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے گرامین بنک والے یونس خان اسکی ایک مثال ہیں۔دراصل یہ سچ ہے کہ یہ ساری لابی یہودیوں کی ہے لیکن ہم اپنے گریبان میں بھی تو جھانکر کر دیکھیں کہ مسلم ممالک میں تعلیم کی حالت کیا ہے۔ جب تعلیم ہی نہیں تو نوبل انعام جہالت پر تو ملتا نہیں،ہاں اگر جہالت کا نوبل انعام شروع ہو جائے تو پھر دیکھتے ہیں کہ کس مائی کے لال کی ہمت ہے کہ ہم سے نوبل انعام جیتے۔

  7. مسئلہ نوبل انعام کا پا لینا ہے یا کچھ کر دکھانا ہے؟۔۔۔۔یہ بیچارہ مسلمان نہ انعام کے لالچ میں آتا ہے نہ کچھ کر دکھانے کی سعی کرتا ہے۔ ہاں البتہ اگر آپ پاکستان میں اعلان کر دیں کہ سب سے اچھی تخلیق والے صاحب کو ماورائے قانون قرار دے دیا جائے گا تو ممکن ہے سبھی کسی کوشش میں مشغول ہو جائیں۔یا جیسا کہ ہمدانی صاحب نے فرمایا کہ جہالت کا انعام تو اپنا ہی ہے۔ ۔۔۔۔ باقی مسلم امہ کی تر جیحات تا حال طاؤس و رباب سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ اگر کوئی جاگ بھی جاتا ہے تو اسکی راہ تعمیر کی بجائے فساد فی سبیل اللہ کی طرف نکل جاتی ہے۔ ۔۔۔
    ہم تو ابھی تک کافر کافر کے فتؤں میں یوں گم ہیں کہ کبھی عبد السلام کے فرقے کو کافر قرار دیتے ہیں تو اسکی ذات کے طفیل اسے مسلمانوں میں گن لیتے ہیں۔ ان تمام مسائل کی جڑ جہالت ہے اور تعلیم ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ وہ کس طرح پوری ہو،ابھی تک اسکا حل نظر نہیں آ سکا۔۔تاہم اسکا فیصلہ جسٹس افتخار چوہدری از خود نوٹس سے حل کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ آخر قوم اب آئے دن انہی از خود نوٹسز کی ہی تو منتظر رہتی ہے۔ ہمیں خود کچھ کرنے سوچنے کی ضرورت ہی کہاں ہے۔

  8. کیا مسلمانوں کے باس آج اتنی تعلیم ہے جتنی عیسائ اور یہود کے باس ہے۔۔۔۔۔۔بالکل نہیں۔ کیا دنیا میں کوئ ایسی قوم ہے جس کے پاس آج مسلمانوں سے کم تعلیم ہے۔۔۔۔۔۔ اگر کوئ ایسی قوم ہے تو میں اُسکا نام جاننا چاہونگا۔ لیکن اقوام کا عروج و زوال ہو تا رہتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب کوئ قوم عرشِ معلیٰٰٰٰٰ پر پہنچ جاتی ہے تو زعم کی وجہ سے وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے اور جب زعم کی دیمک اُسے چاٹ لیتی ہے تو پھر اسکی باقیات کو ہوش آتا ہے اور ہوش کے ناخن اُسے جھنجوڑتے ہیں۔ جیسا کہ میں اوپر لکھ چُکا ہوں یہی عیسائیوں اور چینیوں کے ساتھ ہوا اور انشاء اللہ یہی مسلمانوں کے ساتھ ہوگا۔ ابھی تو ہمیں زُعم کی دیمک چاٹ رہی ہے۔ جب انتہا ہو جائیگی تو ہمارا بھی زُعم ختم ہوجائے گا اور ہمیں بھی ہوش آجائیگا اور ہم بھی ترقی پذیر ہوجائیں گے۔ ایسا ہی عیسائیوں اور چینیوں کے ساتھ بھی ہوا ۔ پہلے وہ ترقی پذیر ہوئے پھر زوال پذیر ہوگئے اور آج پھر ترقی پذیر ہیں۔

    کچھ اور بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوا
    مایوس تو نہیں ہیں طلوعِ سحر سے ہم

  9. سب سے پہلے تمام مبصرین حضرات اور محترم منظور قاضی صاحب کو سلام پیش کرتا ہوں. ساتھ میں میرا اپنا “تیسرا نقطہ نظر” بھی پیش کرونگا جو ممکن ہے کہ بہت ہٹ کر ہو.
    بھائی بات یہ کہ سویڈن کے اس صنعتکار محترم نوبل صاحب کی اولاد یعنی مسٹر الفرڈ نوبل صاحب نے اپنی وصیت کے مطابق جو کہ اس نے ستائیس نومبر 1895ع میں لکھی تھی، اپنی 94 فیصد جائداد و ملکیت اس نوبل انعام پر وقف کی، جو کہ در حقیقت اس کے دل میں اس ندامت کی عکاس ہے جو اس نے ڈائنامائیٹ جیسی تباہ کن چیز ایجاد کر دی تھی. مانا کہ اس نے یہ ایجاد پہاڑوں کے سینوں کو چھلنی کر کے “ڈولومائیٹ” نکالنے کے لیے کی تھی، یا لوہے کو پگھلا کر اس کے مختلف کلاس بنانے کے لیے کی تھی (جیسے اسٹین لیس اسٹیل، مائلڈ اسٹیل وغیرہ وغیرہ)، لیکن اس کا استعمال جب انسان کے سینوں کو چھلنی کرنے کا محترم الفرڈ نوبل کو آیا، تب اسے ندامت ہوئی. اور چونکہ وہ ایک ٹھیک ٹھاک پئسے والا تھا تو اس نے یہ کارٍ خیر کا کام سر انجام دیا.
    سوچتا ہوں کہ اچھا ہی کیا، اس صاحب نے. ورنہ اس کا نام بھی میخائیل کلاشنکوف کی طرح لعنتیر کرداروں میں شامل ہوتا جو کہ اس مہلک ہتھیار کا موجد تھا.
    خیر یہ تو تھی اس نوبل انعام کی ایک تاریخی جھلک. اب آتے ہیں مسلمانوں کو کتنے نوبل انعام ملے ہیں، اور معزز بلاگ نگار کے سوالات پر.
    لیکن اس سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے. (بے انتہا معافی کے ساتھ محترم ظفر جعفری صاحب سے جنہوں نے اپنے تبصروں میں یہ بات عیاں کی ہے کہ مسلمان ایک قوم ہے. مجھے اس بات پر اعتراض ہے.
    اول تو کسی مذہب کے نام پر کوئی قوم پنپ نہیں سکتی، ہاں ایک ملت بن سکتی ہے. لہٰذا یہ کہا جائے کہ مسلمان ایک قوم ہے تو یہ عمرانی علوم کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہوگی. اگر میں غلط ہوں تو مجھے درست کردیجیے گا، مہربانی کرکے.
    دوسری بات: میں تاریخ پر جب نظر گھماتا ہوں تو ایک عجیب بات سامنے نظر آتی ہے. پورا یورپ جب “تاریک دور” سے گذر رہا تھا، تب مسلمان ابنٍ خلدون ہو یا بو علی سینا، یوسف ہو، یا جابر بن حیان، رازی ہو یا الخوارزمی، علم و تکنیک کے دریا بہا رہے تھے. یہ گھڑی کس نے ایجاد کی؟ ایک مسلمان ہی تھا.
    لیکن لیکن، سوال یہ ہے کہ اپنے وقت کے بادشاہوں نے ان کے ساتھ کیا کیا سلوک کیے؟ یہ انتہائی اہم سوال ہے.
    میں یہاں پوچھ سکتا ہوں کہ جب مسلم دنیا کی “نشاطٍ ثانیہ” کے ادوار چل رہے تھے تب کتنے سائنسدان، کتنے مفکر، کتنے عالم، کتنے ولی تختٍ دار پر لٹکائے گئے؟
    کتنے عالی مرتب انسانوں کو زہر پلا کر شہید کردیا گیا؟
    اور ستم یہ کہ وہ کوئی یہودی نہیں خود ہمارے اپنے ہی تھے. یعنی حضرت ظلٍ سبحانی اور پھر آگے الفاظ کے ہار پروئے کمینے نام نہاد بادشاہ، اور طاقت کے نشے میں دھت اپنے محسن کش.
    جب اپنوں کے ادوار میں، اپنے مسلم دانش کدے گھٹ گھٹ کر دم دے رہے تھے تب ہم اب کیوں یہود و نصار سے کچھ توقع کریں؟
    …………
    اب ذرا ہمارے وقت کی منافقانہ چال دیکھیے.
    جب پاکستان میں سائنس کی بات آتی ہے تو ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ “گرانڈ یونیفکیشن تھیوری” دینے والا اور نوبل یافتہ ڈکٹر عبدالسلام ہمارا پاکستانی مسلمان تھا.
    لیکن جب لعنت کی باری آی ہے تو بلا ججھک ان پر ملامت شروع کردیتے ہیں. کیا یہاں میں یہ جسارت کر سکتا ہوں کہ محترم طاہر کی کتاب “رویلیشن” کتنے دوستوں نے پڑھی ہے؟ کیا کہتا ہے وہ؟
    …………
    تو جناب اب اگر یہ نوبل انعام کی تعداد گن رہے ہیں تو اپنے کرتوت پہلے سامنے رکھیں. ہمارے ہاں کافی بہترین ذہن موجود ہیں. ہم کوئی پاتال سے برآمد نہیں ہوئے. ہم بھی اسی دھرتی کے سکونت پذیر ہیں.
    میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہم کوئی انعام نہیں رکھ سکتے؟
    نوبل انعام کے مدٍ مقابل! کیوں ہم اپنی پذیرائی کے لیے پھر انہی پر تعصب گروہوں کی طرف دیکھتے ہیں؟ آخر اتنی احساسٍ کمتری کیوں ہے ہمیں؟
    اگر نہیں دے رہے وہ، (چاہے پھر اس کی کوئی بھی وجہ ہو، تعصب ہو یا عدم تحقیق، لیکن پھر ہم کیوں یہ کہتے ہیں کہ جیسے : “دادا جان! دیکھو، جگا ڈاکو، مجھے خیرات نہیں دے رہا!”

  10. سیدہ ماریہ علی صاحبہ نے اس بلاگ کی پذیرائی کی : شکریہ
    ظفر جعفری صاحب نے مسلمانو ں‌کے عروج اور زوال کی بات کی اور انعام نہ پانے کےایک طویل دور ( گہن ) سے بالاخر ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کے ایک تابناک مستقبل کی پیش گوئی کی۔
    سید مصبا ح حسین صاحب نے تعمیری انداز میں مسلمانوں میں علم و انعام سے لا پروائی اور بیزاری کی بات کی۔ اور مسائل کی جڑ جہالت اور تعلیم کی کمی کو انعام پانے کی کمی کی وجہ بتایا ۔
    صفدر ھمدانی صاحب نے مسلمانوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھکر جہالت میں مسلمانو ں کو اول نمبر کے انعام کا مستحق سمجھا ۔
    فرحت حسین صاحب اور عبدالمناف غلزئی صاحب نے شاید اپنی کسی تحقیق کی بنیا د پر یہ کہدیا کہ الفرڈ نوبل ” ظاہراً یہودی تھا اور ” یہ انعام یہودیوں کا ہے اور یہودیوں کے لیے ہے ” ۔ کاش کہ یہ دونوں مبصر اپنے اس نتیجہ کے ماخذ کا بھی حوالہ اپنے تبصرےمیں لکھ دیتے ۔
    گوگل اور وکی پیڈیا میں اس بات کا ثبوت تو مجھے اب تک نہیں ملا ۔
    الفریڈ نوبل کی آخری وصیت جو کمپیوٹر کے خزانےمیں موجود ہے اس میں یہ الفاظ شامل ہیں: ترجمہ :
    ” میری یہ وصیت ہے کہ یہ انعام بلا کسی امتیاز کے اور بلا کسی قومیت کے لحاظ کے ، صرف اسی کو دیا جائے جو میرے بتائے ہوئے علوم میں انعام کا مستحق سمجھا جائے، خواہ وہ غیر سویڈن قومیت ہی کا کیوں نہ ہو ”
    کمپیوٹر کی دنیا میں یہ بات پڑھنے میں نہیں آئی کہ الفرڈ نوبل یہودی تھا ۔
    میں اس سلسلہ میں فرحت حسین صاحب اور عبدالمناف غلزئی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی تحقیقات کے ماخذ کو لکھدیں تاکہ نوبل انعام کے سمجھنےاور مسلمانوں کے اس انعام کےعدم حصول کا راز معلوم کرسکیں۔
    یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسرائیلی لابی ، ناروے اور سویڈن کی اس تنظیم پر حاوی ہوگئی ہو جو نوبل انعام پانے والوں کا انتخاب کرتی ہے ۔
    مگر صرف اس ہی قیاس آرائی کو مسلمانوں کے انعام نہ پانے کی وجہ بتا نا ” انگو ر کھٹے ہیں ” کہنے کےبرابر ہے۔
    ۔۔۔۔۔
    گوگل کی دنیا میں نوبل انعام کی تاریخ اور اسکے حاصل کرنے والوں کے بارے میں بہت کچھ مواد موجود ہے جو قابلِ مطالعہ ہے ۔ اس کے ہر ہر پہلو پر تبصرہ موجود ہے ۔
    ایک بات قابلِ غور ہے کہ نو بل انعام یافتہ مسلمانوں‌میں سے چار کو امن کا نوبل پرائز ملا ہے ۔ دو کو لٹریچر کے سلسلے میں اور تین کو علم و فن اورادویہ کی ایجاد کے سلسلے میں ملا ہے ۔ ( محمد یونس خان جو بنگلہ دیش سے تعلق رکھتےہیں انہیں معاشیات پر نہیں بلکہ امن پر انعام دیا گیا ہے۔)
    عبدالسلام صاحب کو کمپیؤٹر کی دنیا میں مسلمانوں کی فہرست میں شمار کیا گیا ( میرے خیال میں یہ 1976 میں اس انعام کے وصولی کے زمانہ میں نوبل انعام کمیٹی انہیں پاکستان کی اقلیت کی قوم کا فرد نہیں سمجھتی تھی ا س لیے وہ مسلمانوں کی فہرست میں اب تک موجود ہیں ۔ اگر عبد المناف غلزئی صاحب کے تبصرہ کے مطابق ( جو پاکستان کے ترمیم شدہ آئین اور قانون کے مطابق ہے ) انکو غیر مسلم کہا جائے تو دنیا کے نوبل انعام پانے مسلمانوں کی تعداد نو کی بجائے آٹھ ہوجائے گی ۔ اور اگر شیریں عبادی کو بہائی ( غیر مسلم ) قرار دیا جائے تو نوبل انعام یافتہ مسلمانوں کی تعداد صرف سات ہوجاےگی ۔
    بہر حال :
    زمانہ قیامت کی چال چل کر علم وفن کے معاملہ میں قیامت کی چال چل کر آگے بڑھتا جارہا ہے مگر مسلمان ابھی تک اپنےپانچ سو سال قبل کے گم کردہ ماضی کے ” زعم میں” ابھی تک آرام کی نیند سورہے ہیں ۔
    اقبال کا شعر ایک دو الفاظ کے تبدیلی کے ساتھ:
    تھے تو آبا وہ ہمارے ہی مگر ہم کیا ہیں
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں
    ۔۔۔۔۔
    یہ بلاگ اس اہم موضوع پر غور وفکر اور اس اہم مسئلہ کی وجوہات اور ان کے حل کےلیے ہے۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  11. میرے اوپر کے تبصرے کے شایع ہونے تک فیاض امر صاحب کا تذکرہ اس بلا گ میں موجود نہیں تھا اس لیے میں ان کے تبصرہ پر کوئ تبصرہ نہ کرسکا ۔

    فیاض امر صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اس بلاگ کو اپنے تبصرے سے نوازا اور اپنے قیمتی خیالات سے آگاہ کیا۔ ان کا نقطہء نظر بھی قابل قدر ہے کہ مسلمان کیوں غیروں سے انعام کی توقع اور خوہش رکھتےہیں ؟ ۔ وہ خود کیوں نوبل انعام کے مد مقابل اپنا کوئی پروگرام کیون نہیں بناتے؟
    ۔۔۔۔۔
    فیاض امر صاحب نےاپنی تحقیق کے مطابق فرمایا کہ الفریڈ نوبل نے اپنے ضمیر کی ملامت کی وجہ سے نوبل انعام کا پروگرام بنا یا ،
    ۔۔۔۔۔
    کا ش کہ مسلمانوں میں بھی کوئی صاحبِ علم اور با ثروت مسلمان گذشتہ سو دو سو سالوں میں پیدا ہوجاتا جو اپنے ضمیر کی ملامت ہی کی وجہ سے علم و فن کے شعبوں میں ایجادات کرنے والوں کو اپنی جائداد او ر کاروبار کے منافع سے انعام عطا کرکے ثوابِ جاریہ حا صل کر لیتا ۔
    ۔۔۔۔۔
    جب تک ایسا پروگرام مسلمان خود نہیں بنا لیتے اس وقت تک نوبل پرائز ایک معیار بن گیا ہے جس پر اترنے کی کوشش ہر قوم اور ملک کا فرد کرتا رہتا ہے اور اسکو حاصل کرنے کی خواہش کرتا رہتا ہے۔ اس اعزاز کے مقابلہ میں ابھی تک کوئی الگ معیار کسی قوم اور ملک نے نہیں بنا یا۔
    یہ انعام مانگا نہیں‌ جاتا بلکہ نوبل پرائز کمیٹی کی طرف سے تحقیق اور تفتیش کے بعدعطا کیا جاتا ہے۔
    اگر مسلمان اپنی تحقیق اور ایجادات کا لوہا دنیا سے منواتے تو انکو بھی یہ اعزاز اور یہ عطیہ عطا کیا جاتا ۔مگر سو سال سےزیادہ ہوگئے صرف پانچ مسلمانوں نے یہ اعزاز حاصل کیا ( باقی کے پانچ نے امن قائم کرنے کی کوشش کی وجہ سے یہ اعزاز حاصل کیا ) ۔

    ۔۔۔۔۔۔
    اس کےبرخلاف کتنے یہودیوں نے اور کتنے ہندوستانیوں نے اور کتنے امریکیوں نے یہ اعزاز حاصل کیا اس کا تذکرہ اور اعداد و شمار اس بلاگ کی ابتدا میں پیش کردیے گئے ہیں۔
    کاش کہ مسلمان بھی اس میدان میں آگے بڑھ جائیں ۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  12. السلام علیکم قاضی صاحب ۔
    اتنا مشکل بلاگ اور اسقدر علمی باتیں اس بلاگ میں ہیں کے مجھے لکھتے ہوئے کچھ ڈر سا لگ رہا ہے کیونکہ یہاں سب پائے کے عالم بلاگ لکھ رہے ہیں مگر پھر بھی میں یہ جانتی ہوں کے آپ سب میری بچکانہ باتوں کو نظرانداز کر دیں گے ۔
    قاضی صاحب یہاں نوبل انعام کی بات ہو رہی ہے تحقیق کی بات ہو رہی ہے کس کو کم کس کو ذیادہ ملا کو ن مسلمان تھا کون غیر مسلم ۔
    آپ سب سے بے حد معزرت کے ساتھ کیا مسلمان آج تک آگے بڑھے ہیں ؟
    یہ سب لوگ جنکو اسطرح کے انعامات ملے ہیں وہ یہودی ہیں عیسائی ہیں مرزائی ہیں جو بھی ہیں انہوں نے اپنے آپ کو منوایا کے ہم اس قابل ہیں ۔ ہماری قوم نے کیا کیا ؟
    قاضی صاحب یہ نوبل انعام تو بہت چھوٹی چیز ہے اگر ہم مسلمان پروردگار کے ایک تحفہ(قرآن شریف) پر ہی تحقیق کر لیں تو پوری کائینات ہم پر ایسے افشاں ہو جائے کے دنیا کا ہر انسان ہم پر نظریں جمائے بیٹھا ہو کے اب قدرت کا کون سا نیا راز کھلنے والا ہے۔
    مگر یہ کام بھی کون کر رہا ہے ؟انگریز
    اور ہم کیا کر رہے ہیں ؟ہم قرآن کو ایسے غلاف میں چھپا کر رکھتے ہیں جیسے کے ایک ماں اپنے نومولود بچے کو چھپاتی ہے۔
    ہم مسلمان جو کے 72 فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ہم پہلے 1400 سال پرانی تاریخ سے تو باہر آ جائیں پھر آگے کا سوچیں گے ۔
    کیا ہم مسلمان آج تک مسواک شریف ۔لمبی ذولفیں ۔سر پر عمامہ ۔ہاتھ پر گھڑی نا باندھنا ۔ایسی باتوں سے تو باہر آ جائیں پھر تو دنیا میں کسی فن میں اپنا نام کمائیں گے ؟
    ہاں یہ ضرور ہے کے ہم مسلمانوں پر اگر تحقیق کی جائے تو ضرور انگریز اس پر بھی 10سے 15 نوبل انعامات جیسے دیگر انعامات جیت لے گا ۔
    ہم مسلمانوں کو پرورگار نے کیا نہیں دیا ؟ہم نے کس پر تحقیق کی ؟آج تک ہم شعیہ ۔سنی ۔ دیوبندی۔بریلوی۔اہلنست ۔اھلحدیث وغیرہ وغیرہ جیسے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ہم ان سب سے باہر آجائیں تو ہم سے بڑا محقق کوئی نہیں ۔کیونکہ ہمارے پاس اثاثہ ہے مگر ہم میں جستجو نہیں ہے ۔ جن کے پاس جستجو ہے وہ ہمارے اثاثوں سے آج حاصل کر رہے ہیں اور دنیا میں اپنی تحقیق سے قدرت کے وہ وہ راز افشاں کر رہے ہیں جو کے ہم کو کرنا چاہیے تھے
    اور جہاں تک یہ بلاگ جو کے فرحت حسین صاحب نے لکھا کے۔۔
    الفریڈ نوبل خود بھی ظاہراً یہودی تھے اور یہ انعام مسلمانوں میں بھی صرف ان لوگوں کو دیا گیا ہے جو کسی نہ کسی طرح صہیونیت کی تقویت کا باعث بنے ہیں جن میں یہودی اور بہائی نواز ایرانی خاتون شیرین عبادی بھی شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انعام یہودیوں کا ہے اور یہودیوں کے لئے ہے۔
    یہ بات میں نہیں مانتی ۔
    اس پر ایک گھسا پٹا شعر یہاں لکھ رہی ہوں ۔
    اوروں کے خیالات کی لیتے ہیں تلاشی ۔
    خود اپنے گریبان میں جھانکانہیں کرتے۔
    ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کے اگر ہم خود کچھ نا کر سکیں تو اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں کے یہ یہودی سازش ہے یہ صہونی سازش ہے ۔
    اگر ہمارے خلاف کوئی سازش کرتا ہے تو کیوں‌ کرتا ہے ؟کیونکہ ہم اس قابل ہیں مگر ہم ناکارہ قوم ہیں جو آج تک سنت ۔واجب ۔ فرض۔شرک ۔جیسے معاملات سے ہی باہر نہیں نکلے تو آگے کیا کریں گے‌؟
    ہمارے اثاثے ہمارے ورثے سے ہم خود تو فائدہ اٹھا نہیں رہے اگر کوئی اٹھا رہا ہے تو اسکو ہم برا بھلا بھی کہہ رہے ہیں سازش کا نام بھی دے رہے ہیں امتیازی سلوک بھی کہہ رہے ہیں
    برا مت مانئیے گا ۔جو انسان عظیم کام کرتا ہے اسکو کسی ایوارڈ کی ضرورت نہیں پڑتی ۔اسکے پاس اس طرح کے ایوارڈز خود چل کر آتے ہیں ۔
    بہر حال لکھنے کو تو بہت کچھ ذہن میں آ رہا ہے مگر ڈر بھی لگ رہا ہے کے آپ سب لوگ اسقدر با علم ہیں کہیں میری ان بچکانا باتوں سے تنگ نا آ جائیں اس لئیے میں اپنا بلاگ یہاں ہی ختم کرتی ہوں
    اگر میری بات کسی کو بری لگی ہو تو بے حد معزرت
    ماریہ علی

  13. سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ جب بھی لکھتی ہیں خوب لکھتی ہیں اور بے باکی سے اپنے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی بات کو صاف صاف الفاظ میں لکھدیتی ہیں۔ ( یقینی طور پر وہ اپنے شوہر نامدار علی کاظمی صاحب سے بھی اسی طرح باتیں کرکے انکا دل خوش کردیتی ہونگی۔ )‌

    میں انکی تحریر کی روح سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
    ان سے صرف یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے تبصروں کو “ا گر میری کسی بات کسی کو بری لگی ہو تے بےحد معذرت ” پر ختم نہ کرتی رہیں۔ اس لیے کہ انکی بات کا مقصد سب کو معلوم ہے اور سب یہ جانتے ہیں کہ وہ کسی کی ذاتیات پر تنقید اور کسی کی تحریر کی تنقنیص نہیں کررہی ہیں ۔وہ تو اپنا نقطہ نظر پیش کررہی ہیں جس سے متفق ہونا ہر ایک کے لیے ضروری نہیں۔

    ماریہ علی صاحبہ نے مسلمانوں میں فرقوں وغیرہ جیسے موضوعات پر بحث و تکرار پر بحث کرکے وقت اور توانائی ضائع کرنے کی بات کی ہے۔
    وہی تحقیق کرکے یہ بتا سکتی ہیں کہ ان پانچ مسلمانوں نے جو علم و فن کی بنیاد پر نوبل انعام حاصل کیا ان کے کیا فرقے تھے اور وہ کس مسلک سے تعلق رکھتے تھے؟

    میں جان بوجھ کر یہ تجزیہ اس بلاگ میں نہیں کیا اس لیے کہ مجھے ڈر ہے کہ اس کے جواب میں بے شمار تبصرے ہر فرقے اور ہر مسلک کے قاری اس بلاگ میں پیش کردینگے اور یہ ثابت کردینگے کہ اس فرقے کے افراد نے ان وجوہات کی بنا پر نوبل انعام زیادہ یا کم حاصل کیے ۔

    صرف نو مسلمانو ں نے نوبل پرائز حاصل کیا حالانکہ انکی تعداد دنیا کی آبادی کی بیس فیصد کے برابر ہے۔
    سوچنے کا مقام ہے !!!!
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  14. السلام علیکم !!
    قاضی صاحب آپکی ہمت افزائی کا بہت شکریہ !
    قاضی صاحب مسلمانوں کی اکثریت میں یہ جراثیم پائے جاتے ہیں ۔ اسی لئیے صرف 5 افراد ایسے نکلے جنہوں نے اپنا نام بنایا ۔ اگر یہی سب اکثریت کی سوچ ہوتی کے ہمکو فرقہ بندیوں سےہٹ کر آگے کی طرف دیکھنا ہے تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کے یہ صرف پانج نا ہوتے یہ پانچ سو سےبھی ذیادہ ہوتے ۔
    ہم جن پانچ پر فخر کرتے ہیں یہ شرم کی بات ہے کے جو کام ہماری قوم کا بچہ بچہ کر سکتا تھا وہ صرف 5 ہی کر سکے )

  15. سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے مثبت خیالات کا شکریہ۔
    مسلمانوں نے سات آتھ سو سال پہلے علم و فن کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے ان دنوں شاید عیسائی اور یہودی آرام کی نیند سورہےتھے ۔ اسکے بعد کا دور مسلمانوں کی نیند سے سونے کا ہے۔
    نوبل انعام کی ابتدا 1901 میں ہوئی اس کےبعد اب تک 108 سال گذر چکے مگر صرف نو مسلمانوں نے یہ انعام حاصل کیا۔ اسکے برخلاف یہودیوں نے اور امریکہ اور انڈیا نے جتنےانعامات حاصل کیے انکی تعداد اوپر کے تبصروں میں موجود ہے۔
    کیا مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مسلکوں کے قائدین نے اس موضوع پر کچھ غور کیا اور اپنے ماننے والوں کو اس بات کا احسا س دلا کر علم وفن کی دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے اکسایا ؟
    شاید اقبال نےکہا تھا :
    اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
    دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
    ۔۔
    فقط :
    منظور قاضی ازجرمنی

  16. یہ بلاگ اور خصوصا” اس کا موضوع اک لمحہء فکریہ ھے۔ آپ نے اپنے حصہ کی شمع جلا دی۔ مبارک ھو۔ ۔
    ۔
    پنہاںؔ

  17. آپا آپ کہاں چلی جاتی ھیں ۔۔ جو بس ایک جھلک دکھاتی ھیں اور پھر ایک لمبے عرصے کے لیئے غائب ۔۔ آپ نے صیح کہا کہ منظور بھائی کے ساتھ ساتھ سب نے اپنے حصے کی شمع جلائی ھے اپنے تبصروں کی صورت ۔۔ اللہ پاک ھم سب کو سیکھنے والوں میں رکھے ۔۔آمین

  18. پیاری نگہت نسیم
    ۔
    ” آپ اپنے حصے کی شمع جلادی”
    اس جملے سے میری مراد ” اس بلاگ کے موضوع کا انتخاب ” ھے اور تھا۔
    اس لئے میں نے اس میں سب کو شامل نہیں کیا تھا ۔ میں نے اس موضوع کے انتخاب پر بلاگ نگار کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی تھی۔
    یہ موضوع میرے اپنے دل کے بہت سے ناسوروں میں سے ایک ھے اس لئے وہ ایک سطر لکھنے پر مجبور ھو گئی تھی۔
    باقی اور ساری شمعوں کا شمار بھی کرنا چاہئے۔ اور کیا کیا کرنا چاہئے تھا جو میں ہنہیں کرسکی ، یہ فہرست تو میری بقیہ سانسوں سے بھی زیادہ طویل ھے۔
    ۔
    ( چلتے چلتے ایک اور بہت اہم بات ۔ ۔ ۔ آپ کی اور فیض امر صاحب کی تحریروں میں دن بہ دن ایسا نکھار آتا جا رھا ھے کہ داد نہ دے پانے پر دل کڑھتا ھے )
    ۔
    پنہاںؔ

  19. تصحیح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض امر صاحب (فیض کے بجائے ) معذرت
    آپ اپنے ( آپ نے اپنے )
    ۔
    پنہاں ؔ

  20. آپا آداب۔۔۔
    نم آنکھوں سے آپکا شکر گزار ہوں۔ بس انہی دعائوں میں یاد رکھیے تو شاید دنیا کے ساتھ عاقبت بھی سنور جائے۔
    آپکا اپنا
    فیاض امر

  21. آپا آپ نے درست فرمایا کہ آپ نے منظور بھائی کی جلائی ھوئی شمع کی بات کی تھی ۔۔ بہت شکریہ ۔۔ واقعی یہ بلاگ ایک لمحہ فکریہ تھا ۔ ۔ اور سب نے اپنے اپنے حصے کہ شمع جلانے کی پوری کوشش کی ۔۔ آپ کی دعاؤں‌کی ھر وقت ضرورت رھے گی ۔۔

  22. میں انتہائ ادب اور احترام سے ڈاکٹر پنہاں صاحبہ اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ہمت افزائی کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
    اس بلاگ کے پڑھنے سے اگر کسی مسلمان کے دل ودماغ میں ا س موضوع پر غور وفکر کرنے کا احسا س پید ا ہوگیا تو میں سمجھونگا کہ اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا ۔
    فقط:
    منظور قاضی ا ز جرمنی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *