سلیم کوثر کی یہ غزل میں سلیم کوثر کی زبانی ڈلس ،ٹیکسس میں سن چکا ہوں ۔ آج جب مجھے کہ معلوم ہوا کہ وہ 14 جنوری کی شام سات اور نو بجے کے درمیان اہل قلم ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر ایک ریڈیو مشاعرہمیں اپنا کلام سنائےگا تو بے اختیار اس پر ایک مختصر سا بلاگ لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ ۔
:
چونکہ بلاگ لکھنے کی اردو فانٹ میر ےلیے مشکل ہے اس لیے میں اس بات کو یہیں پر ختم کرتا ہوں ِِ

سال کی آخری شب۔ سلیم کوثر
سال کی آخری شب
میرے کمرے میں کتابوں کا ہجوم
پچھلی راتوں کو تراشے ہوئے کچھ ماہ و نجوم
میں اکیلا مرے اطراف علوم
ایک تصویر پہ بنتے ہوئے میرے خدوخال
ان پہ جمتی ہوئی گردِ مہہ و سال
اک ہیولا سا پسِ شہرِ غبار
اور مجھے جکڑے ہوئے خود مری بانہوں کے حصار
کوئی روزن ہے نہ در
سو گئے اہلِ خبر
سال کی آخری شب
نہ کسی ہجر کا صدمہ نہ کسی وصل کا خواب
ختم ہونے کو ہے بس آخری لمحے کا شباب
اور افق پار دھندلکوں سے کہیں
کھلنے والا ہے نئی صبح کا باب
اس نئی صبح کو کیا نذر کروں
ہر طرف پھیلا ہوا تیز ہواؤں کا فسُوں
اور میں سوچتا ہوں
در و دیوار میں لپٹے ہوئے سہمے ہوئے لوگ
گلی کوچوں میں نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں
میں انہیں کیسے بتاؤں کہ یہی موسم ہے
جب پرندوں کے پَر و بال نکل آتے ہیں
غزل: سلیم کوثر
جنہیں خوابوں سے انکاری بہت ہے
ان آنکھوں میں بھی بیداری بہت ہے
نہایت خوبصورت ہے وہ چہرہ
مگر جذبات سے عاری بہت ہے
اُسے میں یاد رکھنا چاہتا ہوں
مگر اِس میں بھی دشواری بہت ہے
سبَب ہو کوئی تو بتلائیں بھی ہم
کہ گریہ رات سے طاری بہت ہے
بہت مصروفیت کی جَا ہے دنیا
مگر لوگوں میں بےکاری بہت ہے
مجھے بھی مہلتِ یک دو نفس دے
مجھے بھی زندگی پیاری بہت ہے
اِدھر اعضاء بکھرتے جا رہے ہیں
اُدھر دشمن کی تیاری بہت ہے
یہی نانِ جویں محنت ہے میری
اسی محنت میں سرشاری بہت ہے
اِسی مٹی میں ہیں افلاک میرے
اِسی میں خوئے سرداری بہت ہے
انہی لوگوں میں ہیں کچھ لوگ میرے
مرے لوگوں میں خودداری بہت ہے
سُخں کا بوجھ کیسے اٹھ سکے گا
جو پتھر ہے یہاں بھاری بہت ہے
مرے ساحل سمندر روکتے ہیں
سلیم اتنی وفاداری بہت ہے
میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا
وہ کم سُخن، سُخن آرائیوں کے بعد کُھلا
وہ میرے ساتھ ہے اور مُجھ سے ہمکلام بھی ہے
یہ ایک عمر کی تنہائیوں کے بعد کُھلا
میں خود بھی تیرے اندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا
ترا وجود بھی پرچھائیوں کے بعد کُھلا
عجب طلسمِ خموشی تھا گھر کا سناٹا
جو بام و در کی شناسائیوں کے بعد کُھلا
میں آب و خاک سے مانوس تھا، پر کیا کرتا
درِ قفس مری بینائیوں کے بعد کُھلا
مجھے یہ جنگ بہرحال جیتنی تھی، مگر
نیا محاذ ہی پسپائیوں کے بعد کُھلا
مجھے بھی تنگئ آفاق کا گلہ ہے سلیم
یہ بھید مجھ پہ بھی گہرائیوں کے بعد کُھلا
عمران نیر صاحب: ماشااللہ آپ سلیم کوثر کا کلام باضابطگی سے اس بلاگ میں شایع کررہے ہیں : جزاک اللہ
اس بلاگ کے ناظم کی حیثیت سے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کی وجہ سے میرا یہ دو سال پرانا بلاگ ابھی تک اپنی آب و تاب کے ساتھ انٹر نیٹ کی دنیا میں جگمگا رہا ہے :
انٹرنیٹ کی اس خوبی کا شکر گذار ہوں کہ عالمی اخبار کے تمام بلاگ اب انٹرنیٹ کے خزانے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے ہیںِ ۔اور محقیقین کے لیے علم و ادب کا سرچشمہ بن گئے ہیںِ ،
شکریہ ، مہربانی عنایت
فقط
منظور قاضی از میونخ جرمنی
چاہا تو بہت کچھ تھا یہاں پر نہیں بدلا
تصویر بدلنے سے بھی منظر نہیں بدلا
خوف آتا ہے اُمید ہی رستہ نہ بدل لے
جب اتنی تباہی پہ بھی یہ گھر نہیں بدلا
ممکن ہے کہ منزل کا تعین ہی غلط ہو
اب تک تو مری راہ کا پتھر نہیں بدلا
تاریخ تمھاری بھی گواہی کبھی دیتی
نیزہ ہی بدل جاتا اگر سر نہیں بدلا
پیروں میں زمیں، آسماں سر پر ہے ابھی تک
چادر نہیں بدلی، مرا بستر نہیں بدلا
کیسے ترے کہنے سے بدل جاؤں کہ اب تک
دریاؤں کی خواہش پہ سمندر نہیں بدلا
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر
دیکھ اب وہ بھی اُتر آیا اداکاری پر
میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر
آدمی، آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر
کبھی اِس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر
تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر
مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر
کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر
بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اُتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر
پرندے اُجڑے ہوئے آشیاں پہ بیٹھے ہوئے
زمیں کو دیکھتے ہیں آسماں پہ بیٹھے ہوئے
وہ خوابِ امن دکھایا گیا کہ خوش ہیں بہت
ہم اپنے عہد کے آتش فشاں پہ بیٹھے ہوئے
مژہ سے قطرہء خوں کی طرح ٹپکتے ہیں
ستارے کشتی ء آبِ روں پہ بیٹھے ہوئے
زمانہ جن کے تجسس میں سرگراں ہے وہ لوگ
ہوئے ہیں سنگ ترے آستاں پہ بیٹھے ہوئے
نہ اہلِ دیر ہی خوش ہیں، نہ جن سے اہلِ حرم
کچھ ایسے حرف ہیں میری زباں پہ بیٹھے ہوئے
وہ کون تھے جو کہیں گردِ رہ گُزر ٹھہرے
یہ کون ہیں درِ آئندگاں پہ بیٹھے ہوئے
سلیم کوثر
سلیم کوثر کےکلام کے شیدائی جناب عمران نیر خان صاحب :زندہ باد
کیا کہنے ہیں عمران نیر خان صاحب آپ کے انتخاب کےِ !! مجھے یقین ہے کہ سلیم کوثر صاحب اگر اس بلا گ کو پڑھرہے ہیں تو وہ خود تمھیں اپنے گلے سے لگا کر تمھارا شکریہ ادا کرینگے کہ تم ان کے تازہ غزلوں کو اس بلاگ میں عطا کررہے ہو اورسلیم کوثر کے کلام کے عاشقوں کے اعلی ذوق کی تسکین کررہے ہیں۔
میں میونخ جرمنی میں رہتا ہوں جہاں پر اردو دارالمطالعہ نہیں ہے اور نہ کوئی اردو کتاب گھر ، اس لیے سلیم کوثر کی کتابوں کا دیدار یہاں نا ممکن ہے: آپ کا شکریہ کہ آپ سلیم کوثر کی تازہ غزلیں اس بلا گ میں شایع کررہےہیں۔
میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا بھی شکر گذار ہوں کہ اس نے اس بلاگ کو زندہ رکھا ۔
عمران نیر خان صاحب: جیسا کہ سلیم کوثر نے کہا ہے ”یہ چراغ ہے تو جلارہے”
اللہ آپ کو آپ کے نیک کام کا نیک اجر دے :آمین
فقط:
منظور قاضی
اس بلا گ کا ناظم
از : میونخ ،جرمنی
9 جنوری ع۲013
آپ کے کلمات میرے لئے باعث افتخار ہیں منظور صاحب
سلیم کوثر کے آپ جیسے قدردانوں کے لیے ہی کچھ نہ کچھ پوسٹ کرتا رہتا ہوں۔۔ جو بیرون ملک میں ہیں۔۔
دعاؤں میں یاد رکھیئے گا
بہت خوش رہیئے
دعاگو
عمران نیر خان
10 جنوری۔2013
غزل
اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
خیمہء خاک سے روشنی کی سواری نکلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
کیا ہوا جو ہوائیں نہیں مہرباں، اک تغیّر پہ آباد ہے یہ جہاں
بزم آغاز ہونے سے پہلے یہاں، شمع جلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
دامنِ دل ہو یا سایہ ء چشم و لب، دونوں بارش کی طرح برستے ہوں جب
ایسے عالم میں پھر بھیگ جانے کی خواہش مچلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
ابر کے سلسلے اور پیاسی زمیں ، آگ بجھتی ہے پانی سے سورج نہیں
کہساروں پہ جمتی ہوئی برف اک دن پگھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
عشق ایجاد ہم سے ہوا ہے سو ہم، اس کے رمز و کنایہ سے واقف بھی ہیں
تیرے بیمار کی یہ جو حالت ہے آخر سنبھلنی تو ہے، رُت بدلنی تو ہے
سلیم کوثر
توفیق بنا دل میں ٹھکانہ نہیں ملتا
نقشے کی مدد سے یہ خزانہ نہیں ملتا
پلکوں پہ سُلگتی ہوئی نیندوں کا دھواں ہے
آنکھوں میں کوئی خواب سہانا نہیں ملتا
ملتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ ملنے کا بہانہ نہیں ملتا
تم جانتے ہو وقت سے بنتی نہیں میری
ضد کس لئے کرتے ہو کہا نا، نہیں ملتا
کیا یہ بھی کوئی رسمِ رقابت ہے کہ جس میں
تم ملتے ہو مُجھ سے تو زمانہ نہیں ملتا
سلیم کوثر
وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی
اُس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کی
اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے
ہم نے پہلے بھی محبت میں سیاست نہیں کی
تم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے
تم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی
دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سمٹ آئی تھیں
وہ بھی خاموش تھا، ہم نے بھی وضاحت نہیں کی
رات کو رات ہی اس بار کہا ہے ہم نے
ہم نے اس بار بھی توہینِ عدالت نہیں کی
گردِ آئینہ ہٹائی ہے کہ سچائی کھلے
ورنہ تم جانتے ہو ہم نے بغاوت نہیں کی
بس ہمیں عشق کی آشفتہ سری کھینچتی ہے
رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی
آ! ذرا دیکھ لیں دنیا کو بھی، کس حال میں ہے
کئی دن ہو گئے دشمن کی زیارت نہیں کی
تم نے سب کچھ کیا، انسان کی عزت نہیں کی
کیا ہوا وقت نے جو تم سے رعایت نہیں کی
(سلیم کوثر کی کتاب “دنیا مری آرزو سے کم ہے” سےانتخاب)
محترم عمران نیر خان صاحب : آپ کے انتخاب کی داد حاضر ہے جناب: ماشااللہ آپ سلیم کوثر کا اشعار اس بلا گ میں عطا کرکے ان حضرات او ر خواتین کے ادبی ذوق کی تسکین کررہے ہیں جوسلیم کوثر کی شاعری کے دلدادہ اور شیدائی ہیں۔
؛اللہ آپ کو اس تحفہ کا نیک اجر دے:آمین
مجھے یقین ہے کہ عالمی اخبار کے ارباب۔ اختیار اور اس بلاگ کے پڑھنے والے آپ کی انتخابات سےمیری طرح لطف اندوز ہورہے ہونگےِ۔
شکریہ ، مہربانی ، نوازش
فقط:
منظور قاضی
از : میونخ ، جرمنی
نہ کوئ نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرا
بس اپنی آب و ہوا ہی پہ ہے گزارا مرا
مری زمیں پہ ترے آفتاب روشن ہیں
ترے فلک پہ چمکتا ہے اک ستارا مرا
جو چاہتا ہے وہ تسخیر کر لے دنیا کو
کسی بھی شے پہ نہیں ہے یہاں اجارہ مرا
میں ہم کنار ہوا،ایک لہر سے اور پھر
کنارے میں ہی کہیں گم ہوا کنارا مرا
بس ایک لمحہء بے نام کی گرفت میں ہیں
نہ جانے کیسا تعلق ہے یہ تمھارا مرا
تو پھر جو نفع ہے میں اس میں کیوں نہیں شامل
اگر یہاں کا خسارہ ہے سب خسارا مرا
جو دھیان تک نہیں دیتا ہے میری باتوں پر
سمجھ رہا ہے وہی شخص تو اشارہ مرا
کہیں خوشی کی نمائش میں رکھ دیا جا کر
کل اس نے بستہء غم طاق سے اتارا مرا
وہی ہے تل، وہی رخسار وہی تو ہے
مگر نہیں ہے سمر قند اور بخارا مرا
میں بادباں سے آتش کشید کرتا ہوں
کہ آب و خاک کی تمثیل ہے ادارہ مرا
اب آگیا ہوں تو سوچا صدا لگاتا چلوں
کسے خبر یہاں آنا نہ ہو دوبارہ مرا
درون_خانہ کوئ بھی نہیں کسی کا سلیم
پہ دیکھنے میں تو لگتا ہے شہر سارا مرا..
***********
سلیم کوثر
https://www.facebook.com/urduclasikshairi/photos/a.299017490249379.1073741827.299001973584264/499432003541259/?type=1
رستے کئی نکل پڑے، منزل کے بعد بھی
لاحاصلی کی گرد ہے، حاصل کی بعد بھی
کتنے چراغ جلتے رہے ، کتنے بجھ گئے
محفل کا رنگ رہتا ہے محفل کے بعد بھی
اِک دل تھا، اُس کی نذر کیا میں نے اور اب
مجھ میں دھڑک رہا ہے کوئی دل کے بعد بھی
حیرت ہے کیسے اپنے موقف پر ڈٹ گیا
وہ انکشافِ نیتِ قاتل کے بعد بھی
قدموں سے آ کے ریت لپٹتی رہی سلیم
اِک لہر ڈُھونڈتی رہی ساحل کے بعد بھی
***
سلیم کوثر