محسن بھوپالی مرحوم : ایک عظیم شاعر Mohsin Bhopali a great poet

mohsin bohpaliقابل اجمیری کے حالیہ بلاگ میں محسن بھوپالی کا نام دیکھکر جی چاہا کہ اس پر ایک بلاگ شروع کروں اور محسن بھوپالی کی شاعری کے دلدادہ احباب سے گذارش کروں کہ وہ بھی محسن بھوپالی کی شاعری اور زندگی پر اس بلاگ میں کچھ ارشاد فرمائیں۔
محسن بھوپالی کی پیدائیش 1932 کی ہے اور اسکی وفات پاکستان میں 18 جنوری 2007 ء کو ہوئی۔

میرے پاس محسن بھوپالی کی کوئی کتاب نہیں ہے مگر اللہ بھلا کرے ہمارے عالمی اخبار کے معاونِ خصوصی جناب امجد شیخ صاحب کا کہ انکا ویڈیو پروگرام جو انہوں نے اردو لائف ڈاٹ کام کے تحت یو ٹیوب میں چسپاں کیا اور جس میں محسن بھوپالی کا وہ کلام موجود ہے جسےانہوں نےمشاعروں میں پڑھا ہے اور اگر انہوں ے بذاتِ خود اپنے گلے کی خرابی کی وجہ سے نہیں پڑھا تو انکے دوست حمایت علی شاعر نے ان کا کلام محسن بھوپالی کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا اور محسن بھوپالی نے حاضرینِ مشاعرہ سے داد پائی :

اس پروگرام کی مشمولات کی مدد سے میں اس بلاگ کا آغاز کررہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ محسن بھوپالی کی شاعری کے قدرداں اس بلاگ میں اپنے حصہ کی شمع جلاتے جائیں گے :

محسن بھوپالی کے قطعات حاضر ہیں:

تلقینِِ اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہِ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگئی سیاستِ دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوقِ پرواز تو ہے خوب مگر
حدِ پرواز پر نظر رکھو
جب بھی پاو کوئی نیا اعزاز
اپنے آغآز پر نظر رکھو
۔۔۔۔۔۔
وفا پرستوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں
روایتوں سے کبھی سر کشی نہیں ہوتی
محاذِ جنگ سے پسپائیاں تو جائز ہیں
محبتوں میں مگر واپسی نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وسائل بیچ کر غیروں کے ہاتھوں
مسائل کا مداوا ڈھونڈتے ہیں
ہماری سادہ لوحی کوئی دیکھے
اندھیرا کرکے سایہ ڈھونڈتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
سمجھ کر جاہ و حشم کو ہی آخری منزل
ہمیشہ خود کو نہ اونچی اُڑان میں رکھنا
تمام عمر اے دولت سمیٹنے والو !!
کفن میں جیب نہیں ہوتی دھیان میں رکھنا
۔۔۔۔۔

انتقاماََ مجھ کو وہ درسِِ وفا دے جائےگا
زخم دے کر اک دلِ درد آشنا دے جائے گا
کس قدر نادم ہوا ہوں میں بُرا کہ کر اُسے
کیا خبر تھی جاتے جاتے وہ دعا دے جاےگا
۔۔۔۔۔۔۔۔

محسن بھوپالی کی غزلوں کے چند اشعار :

کراچی کرچیوں میں بٹ گیا ہے
یہ اپنے آئینے سے کٹ گیا ہے

تسلط کی کشاکش میں بالآخر
یہ چشمہ خار و خس سے پٹ گیا ہے

ملی ہے یوں بھی دادِ تشنہ کامی
جو ہم پہنچے تو دریا ہٹ گیا ہے

کل آجائےگا وہ میرے مقابل
ابھی جو چوم کر چوکھٹ گیا ہے

اُسی کا سامنا ہر وقت ہے جو
بظاہر سامنے سے ہٹ گیا ہے

وطن اہل وطن کا کب ہے محسن
وطن اہلِ زمیں میں بٹ گیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ًمحسن بھوپالی کی ایک اور غزل کے کچھ اشعار:

اپنا آپ تماشہ کرکے دیکھونگا
خود کو خود سے مِنہا کرکے دیکھونگا

وہ شعلہ ہے یا چشمہ ہے بھید کھلے
پتھر دل میں رستہ کرکے دیکھونگا

کب بچھڑا تھا کون گھڑی تھی یا د نہیں
لمحہ لمحہ یک جا کرکے دیکھونگا

وعدہ کرکے لوگ بُھلا کیوں دیتے ہیں
اب کے میں بھی ایسا کرکے دیکھونگا

کتنا سچا پے وہ میری چاہت میں
محسن خود کو رسوا کرکے دیکھونگا
۔۔۔۔۔۔۔

اور اسکے یہ اشعار بھی :
لگتاہے جیسے کنجِ وحشت اثر میں آئے
ہم اجنبی کی صورت اپنے ہی گھر میں آئے

فکرِ معاش کیا ہے جُز دائرہ نوردی
دیوار و در سے نکلے دیوار و در میں آئے

کیفیت آج اپنی ایسی ہےجیسے کوئی
شعلوںسےجاں بچانے کاغذ کے گھر مین آئے
۔۔۔۔۔
محسن بھوپالی کے دو قطعات :

یونہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے

نہ دیکھا جان کے اُس نے کوئی سبب ہوگا
اسی خیال سے ہم دل بُرا نہیں کرتے
۔۔۔
صرف احسا س کا ہے کھیل یہاں
علم بھی جہل کے برابر ہے
کیا خبر لو بجھانے والے کو
روشنی تو دیئے کے اندر ہے
۔۔۔۔
یہ کب کہا کہ بھروسہ نہیں ہے وعدےپر
میں جی سکونگا ترا انتظار کرنے تک
خبر نہ تھی وہ مجھےقتل کرنے آیا ہے
مں اُس کو دوست سمجھتا تھا وار کرنے تک
۔۔۔۔
فی الوقت محسن بھوپالی کے ان اشعار پر اکتفا کرتا ہوں ، جیسےجیسے مجھے اس کا کلام کسی نہ کسی ذریعے سے حاصل ہوتا جائےگا اس بلاگ میں شامل کرتا رہونگا۔
اگر میری کمپوزنگ میں کسی کو کوئی غلطی نظر آئے تو مہربانی فرماکر اس کی نشاندہی اور تصحیح کردیجئے ۔
۔۔۔۔۔۔
محسن بھوپالی کا کلام بھی کئی ایک موسیقاروں نے گاکر داد حاصل کی ۔ اسکا کلام ’آوارگی “ اور اسکی غزل “چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری “ بھی تعارف کی محتاج نہیں ۔

فقط:
محسن بھوپالی کی شاعری کا دلدادہ
منظور قاضی
جرمنی سے

69 thoughts on “محسن بھوپالی مرحوم : ایک عظیم شاعر Mohsin Bhopali a great poet”

  1. مرحبا قاضی صاحب،
    ایسا معلوماتی اور لاثانی بلاگ، اچھوتی تحریریں، ماشاء اللہ کیا کہنے۔ محسن بھوپالی مرحوم ، اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے، کو اسے بہتر خراجِ عقیدت ہو ہی نہیں سکتا۔ اپنے اکابرین کے نام کو زندہ رکھنا اور ان کے چھوڑے ہوئے ورثے کو اگلی نسلوں تک پہنچانا ہی زندہ قوموں اور زندہ دل لوگوں کا کام ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو اور عالمی اخبار کوجزائے خیر عطا کرے۔
    لاعلمی کی انتہاٰ دیکھیں کہ جس کلام کو سُن سُن کے سر دُھنتے رہے اس کے خالق کے نام اور حالاتِ زندگی سے ہی بے خبر تھے ۔ یہ تو آپ کا کمال ہوا جو آپ نے ان کی یاد میں بلاگ شروع کیا جس میں ادبی دنیا کی نامور ہستیوں نے اپنا اپنا رنگ بھرا اور ہم کم علموں کی پیاس بجھائی۔

  2. محترم قاضی صاحب،
    آوارگی بلاشبہ محسن نقوی مرحوم کی ہی ہےایسے بہت سے اشعار ہیں جو مقطع میں محسن استمعال ہونے کی وجہ سے مغالتہ میں ڈال دیتے ہیں.محسن نقوی مرحوم بھی اپنے عہد کے منفرد شاعر تھے جنکے کلام کو بھلایا نہیں جا سکتا 1989 میں میں جب پہلی بار ممئی انڈیا گیا تھا اور وہاں غزل گائیکی کے تمام گلوکاروں سے ملاقات ہوئی تو جس پاکستانی شاعر کا سب کی زبان پر چرچا تھا وہ محسن نقوی مرحوم تھے اور انکی کتاب برگ صحرا.انکی فرمائش پر برگ صحرا کی کچھ جلدیں میں 1990 میں وہاں لے کر بھی گیا تھا.

  3. جاوید اقبال کیانی صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے اپنے تبصرے سے اس بلاگ کی رونق بڑھادی ۔
    میں جاوید اقبال کیانی صاحب کی شاندار اور جاندار تحریروں میں جو تازگی محسوس کرتا ہوں وہ بہت کم مبصروں اور بلاگ نگاروں کی تحریروں میں ہوتی ہیں۔ زندہ باد جاوید اقبال کیانی صاحب : جزاک اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بلاگ بھی دوسرے بلاگوں کی طرح ایک تاریخی بلاگ بنتا جارہا ہے جس میں محسن بھوپالی ( اور اب محسن نقوی ) جیسے اردو کے عظیم شعرا کی شاعری پر تبصرے ہورہے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر قابل صاحب کا یہ کہنا کہ انہوں نے اپنے انڈیا کے دورے میں محسوس کیا کہ محسن نقوی کے کلام کا چرچا سب کی زبان پر تھا تو اس بات پر میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے یہ درخواست کرونگا کہ وہ محسن نقوی کی زندگی اور شاعری پر بھی ایک بلاگ شروع کردیں تاکہ اس مقبول شاعر کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جاسکے۔

    ۔۔۔۔۔۔
    ظفر قابل صاحب شائد اس مہینہ کے کسی اتوار کو امین ترمذی صاحب کے ڈلس ٹیکسس امریکہ میں نشر ہونے والے ریڈیو پروگرام میں حصہ لینے والے تھے ،اس بروگرام کے بارے میں امین ترمذی صاحب سے اور ظفر قابل صاحب سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا وہ ہوچکا ؟ اگر نہیں ہوا تو کب ہوگا اور اگر ہوگیا تو کیا اسکی کوئی ریڈیو لنک بنی ؟ اگر وہ لنک اس بلاگ میں لگادی جائے تو ہم سب سن سکینگے ۔ ( حالانکہ یہ بلاگ محسن بھوپالی پر ہے مگر ظفر قابل صاحب کے والد قابل اجمیری مرحوم کا بلاگ تو بند ہوچکا ہے اس لیے اسی بلاگ میں وہ ریڈیو لنک لگادی جائے تو سب سن سکتے ہیں ۔ )

    ۔۔۔۔۔۔
    ظفر قابل صاحب اور محسن بھوپالی اور قابل اجمیری کی شاعری کے دلدادہ حضرات و خواتین اسی طرح اس بلاگ میں محسن بھوپالی مرحوم کی شاعری پر تبصرے اور اسکے مشاعروں کا آنکھوں دیکھا حال اس بلاگ میں عطا کرتے رہیں تو اس بلاگ میں جان پڑھتی رہے گی ورنہ آہستہ آہستہ یہ سب کی نظروں سے دور ہوتا جا ے گا ۔ (ویسے میری خواہش یہی ہے کہ یہ بلاگ کبھی بھی بند نہ ہو اور یہ دعا ئے جاریہ کی طرح کھلا رہے اور محسن بھوپالی اور قابل اجمیری کی یادوں کو تازہ کرتارہے ۔ )
    ۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  4. جناب منظور قاضی صاحب،
    قبلہ اس میں شکریہ والی کوئی بات نہیں۔ اگر کسی کو اس بلاگ میں حصہ ڈالنے کو کچھ نہیں تو کم از کم اسے کامیاب بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا تو عین فرض ہے۔ اللہ آپ کے دم سے یہ بہاریں اور علم کے ایسے دریا ہمیشہ جاری رکھے، آمین۔
    آپکی حوصلہ افزائی کا شکریہ۔

  5. محترم محسن بھوپالی کی ایک طرعی غزل

    فکر میں خون رگ جاں بھی ملا دیتے ہیں
    کوئی مضمون ہو ہم رنگ نیا دیتے ہیں

    حوصلے ان کے کبھی مات نہیں کھا سکتے
    زخم کھا کر بھی قاتل کو دعا دیتے ہیں

    کچھ ضروری بھی نہں راہ نما ساتھ رہے
    راہ ہزن خود بھی تو منزل کا پتا دیتے ہیں

    ان سے اظہار وفا کھل کے نہ کرنا اے دل
    لوگ اخلاص کو الزام بنا دیتے ہیں

    ق

    اے مرے ہم نفسو، ہم قلمو ، نغمہ گرو
    کتنے موضوع سرراہ صدا دیتے ہیں

    پیکر ذات سے باہر بھی نکل کر دیکھو
    کتنے ذرے ہیں کہ سورج کا پتا دیتے ہیں

  6. محترم منظور قاضی صاحب
    امین ترمزی صاحب کا پروگرام اگلے اتوار کا ہے مذید تصدیق دو تین روز میں ہو جائے گی۔
    برادرم راشد محسن یہ بلاگ دیکھ چکے ہیں لیکن غالبا یونی کوڈ میں لکھ نہیں پا رہے ہیں۔

  7. محسن بھوپالی مرحوم خوش ہورہی ہوگی کہ انکے دوست قابل اجمیری مرحوم کے بیٹے جناب ظفر قابل صاحب اس بلاگ میں محسن بھوپالی کا کلام شایع کررہے ہیں.

    ظفر قابل صاحب نے کہا ہے کہ محسن بھوپالی کی یہ غزل طرحی ہے. میری خواہش ہے کہ ظفر قابل صاحب طرحی مصرعہ اور اسکے شاعر کا نام بھی لکھد یں تاکہ یہ معلوم ہوجاے کہ محسن بھوپالی نے ا س طرح پر کیا گرہ لگائی تھی .

    اس کے علاوہ محسن بھوپالی کی اس غزل کے اس شعر کے دوسرے مصرعہ کی کمپوزنگ غور طلب ہے : :
    حوصلے ان کے کبھی مات نہیں کھا سکتے
    زخم کھا کر بھی قاتل کو دعا دیتے ہیں

    میرے اندازےکے مطابق پورا شعر اور خاص طور پر دوسرا مصرعہ شائد یوں ہے :
    حوصلے ان کے کبھی مات نہیں کھا سکتے
    زخم کھا کر بھی جو قاتل کو دعا دیتے ہیں
    …….
    میں ظفر قابل صاحب کے محسن بھوپالی کے اس بلاگ پر توجہ دینے پر انکی تعریف کرتاہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح محسن بھوپالی کا اور اگر ہو سکے تو اپنے والد قابل اجمیری مرحوم کا کلام بھی اس بلاگ میں شایع کر تے رہینگے .

    فقط:
    اس بلاگ کی نظامت کا ذمہ دار خادم
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  8. ً
    میرے اوپر کے تبصرے کے ابتدائی جملے میں ” محسن بھوپالی مرحوم کی روح خوش ہورہی ہوگی ” پڑھیے : شکریہ

  9. محترم منظور قاضی صاحب

    معرعہ ہے
    کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں

    میرے اندازےکے مطابق پورا شعر اور خاص طور پر دوسرا مصرعہ شائد یوں ہے :
    حوصلے ان کے کبھی مات نہیں کھا سکتے
    زخم کھا کر بھی جو قاتل کو دعا دیتے ہیں

    آپ کی اصلاح درست ہے مجھ سے لکھنے میں غلطی ہوئی تھی

  10. ہوسکے تو امین ترمذی صاحب اپنے ریڈیو فن ایشیا ء کے ظفر قابل صاحب کے انٹرویو کا ریڈیو لنک بناکر اس بلاگ میں چسپاں کرسکتےہیں .
    ظفر قابل صاحب کے اندازے کے مطابق اس پروگرام کے اتوار 18 جولائی کی ( ڈلس امریکہ کی شام ) کو ہونےکی توقع ہے.
    ……….
    ظفر قابل صاحب اگر محسن بھوپالی کے فرزند راشد محسن صاحب کو یونی کوڈ میں اردو لکھنا سکھا دیں تو بہت ممکن ہے کہ وہ بھی اپنے والد مرحوم کے اس بلاگ میں حصہ لے سکیں گے .
    ……….

  11. محترم منظور قاضی صاحب

    محترم محسن بھوپالی کے فرزند راشد بھائی سے بات ہوئی تھی وہ بلاگ پڑھ چکے ہیں لیکن یونی کوڈ میں لکھ نہیں پائے ان سے یہ طے ہوا ہے کہ وہ اپنا تبصرہ مجھے رومن میں ای میل کریں گے جو میں ہیاں یونی کوڈ می چسپاں کر دوں گا۔
    محترم محسن بھوپالی کے قریبی دوست محترم سید حسن ظہیر جعفری صاحب (محترم محسن بھوپالی نے اپنا آخری مجموعہ کلام منزل کا انتساب انہیں کے نام کیا ہے اور وہ حیدرآباد کے تمام واقعات کے دید شنید ہیں) سے بھی بات ہوئی ہے وہ بھی بلاگ پڑھ کر بہت خوش ہوئے ہیں مگر آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے لکھ نہیں پا رہے ان کے حکم کے مطابق ان کی کتاب میں شامل محسن صاحب پر مضمون میں جلد یہاں شامل کر دوں گا۔
    امین ترمزی صاحب سے کل بات ہوئی تھی اور انہوں نے اس اتوار یعنی 18 جولائی بوقت 7 بجے شام (امریکن وقت ) کا پروگرام کنفرم کر دیا ہے۔

  12. محترم محسن بھوپالی نے اپنے مجموعہ کلام منزل کا پیش لفظ اس غزل کی صورت میں لکھا

    عرض مصنف

    کیا ضروری ہے اب یہ بتانا مرا
    ٹوٹتی شاخ پر تھا ٹھکانہ مرا

    غم نہیں اب ملی ہیں جو تنہائیاں
    انجمن انجمن تھا فسانہ مرا

    جو بھی آیا ہدف پر وہ کب بچ سکا
    چوکتا ہی نہیں تھا نشانہ مرا

    اک زمانہ کبھی تھا مرا ہم نوا
    تم نے دیکھا کہاں وہ زمانہ مرا

    نے زمینی کا ملتا ہے طعنہ مجھے
    جرم ٹھہرا ہے بستی بسابا مرا

    ارض بھوپال سے تھا تعلق کبھی
    اب تو سب کچھ ہے یہ لاڑکانہ مرا

    ناتوانی پہ میری جو ہیں خندہ زن
    ان کو البم پرانا دکھابا مرا

    میرے جانے سے بہتر ہے محسن کبھی
    بزم شعر و سخن میں نہ جانا مرا

  13. محترم ظفر قابل صاحب کے 16 جولائی کے تبصروں سے یہ معلوم کرکے خوشی ہورہی ہے کہ :
    1. راشد محسن صاحب ، ظفر قا بل صاحب کو اپنےتبصرے رومن میں دینگے جنھیں ظفر قابل صاحب یونی کوڈ میں منتقل کرکے اس بلاگ میں چسپان کردینگے.
    میں اس سلسلے میں ظفر قابل صاحب کا ممنون ہوں کہ وہ راشد محسن صاحب کی اس سلسلے میں مدد کررہے ہیں.
    مجھے یقین ہے کہ اس بلاگ کے تبصرے اس بلاگ کے موضوع ( محسن بھوپالی کے افکار اور کلام ) پر ہونگے مگر ان کےساتھ ساتھ قابل اجمیری کا کلام بھی شامل ہوجائے تو اچھا رہے گا . ( چونکہ قابل اجمیری کا بلاگ بند ہوچکا ہے ، اس لیے محسن بھوپالی کے بلاگ میں قابل اجمیری مرحوم کے کلام پر تبصروں کی گنجائش ہے )

    2. سید حسن ظہیر جعفری صاحب کا وہ مضمون جو انکی کتاب میں محسن بھوپالی مرحوم پر ہے ، اس مضمون کی اس بلاگ میں اشاعت کی ذمہ داری ،جناب ظفر قابل صاحب نے قبول کرلی ہے . شکریہ : جزا ک اللہ

    ظفر قابل صاحب کے کہنے کے مطابق ، حسن ظہیر جعفری صاحب ، ” حیدرآباد کے تمام واقعات کے دید شنید ہیں” تو ضرور ان میں محسن بھوپالی مرحوم اور قابل اجمیری مرحوم کی شاعری اور انکی زندگیوں کا آنکھوں دیکھا حال بھی موجود ہوگا . اور یقینی طور انکا یہ مضمون انکی یادوں کے خزانے کا حامل ہوگا ( صرف اس بات کا خیال رہے کہ اگر اس مضمون میں کسی تیسری شخصیت جو ابھی دنیا میں زندہ ہے ، اس کی کوئی تنقیص ہو تو اس تنقیص پر اس تیسری شخصیت کا جواب بھی شامل ہو . اگر جواب شامل نہ ہو تو اس تنقیص کے حذف کرنے کی ذمہ داری ظفر قابل صاحب کی ہوگی ،)

    3. ظفر قابل صاحب کا 18 جولائی کا انٹرویو جو امین ترمذی صاحب ڈلس ، ٹیکسس سے نشر کرنے والے ہیں اسکا آڈیو لنک اس بلاگ میں شامل ہوجائے تو اس بلاگ کے پڑھنےوالے بھی اس انٹرویو کو اپنی اولین فرصت میں سن سکتے ہیں .

    4. ظفر قابل صاحب نے محسن بھوپالی کا کلام جو اسکی کتاب منزل کے شروع میں شایع ہوا اس کو پڑھکر لطف آگیا . لیکن اس کے دو اشعار کی کمپوزنگ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے:

    شعر یوں کمپوز ہوا ہے :
    نے زمینی کا ملتا ہے طعنہ مجھے
    جرم ٹھہرا ہے بستی بسابا مرا

    پہلا لفظ نے ہے یا بے ہے ؟
    دوسرے مصرعہ میں بسانا ہے یا بسایا ہے ؟
    …….

    ایک اور شعر یوں کمپوز ہوا ہے :
    ناتوانی پہ میری جو ہیں خندہ زن
    ان کو البم پرانا دکھابا مرا

    کیا دوسرا مصرعہ یوں ہے کہ :
    ان کو البم دکھانا پرانا مرا
    یا
    ان کو البم پرانا دکھا نا مرا


    مجھے خوشی ہے کہ ظفر قابل صاحب اس بلاگ پر توجہ دے رہے ہیں .
    دوسرے پڑھے والے تو اس بلاگ سے اپنی توجہ نئے نئے بلاگوں پر منتقل کرچکےہیں.
    …………

    میری تو خواہش یہی کہ بقول سلیم کوثر :
    یہ چراغ ہے تو جلا رہے

    فقط
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  14. موجودہ بلاگوں میں صرف اس بلاگ کی نظامت کی ذمہ داری مجھ پر ہے مگر افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ میں اس بلاگ کی نظامت 21 جولائی سے 9 اگست تک اس لیے نہیں کرسکونگا کہ میں اور میری بیوی ان دنوں اسپین میں ہونگے جہاں کمپیوٹر کے خاطر خواہ سہولت نہیں ہے ۔ ( اگر یہ سہولت ملے تو کبھی کبھی اسپین میں بھی اس بلاگ کو دیکھنے کی کوشش کرونگا )۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں جناب ظفر قابل صاحب کو اس کی اجازت دیتا ہوں کہ وہ اور انکے احباب میرے پسندیدہ شاعر قابل اجمیری اور انکے قریبی دوستت جناب محسن بھوپالی مرحوم کی شاعری پر جو کچھ بھی لکھنا چاہیں لکھتےرہیں تاکہ یہ بلاگ بھی دوسرے بلاگوں کی طرح یادوں کا خزانہ بن جائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں عالمی اخبار کی “نظر ثانی “ کرنے والی ہستیوں کی صوابدید پر پورے اعتماد سے یہ بلاگ 21 جولائی سے 9 اگست تک کےلیے چھوڑتا ہوں ۔

    فقط:
    اس بلاگ کا ذمہ دار خادم
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  15. محترم منظور قاضی صاحب
    آپ کا یہ دورہ خیریت سے گزرے اور اس دورے کے مقاصد پورے ہوں۔ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہوں گی۔
    آپ اپنے بلاگ کی جس طرح نگہداشت کرتے ہیں بہت کم لوگ اس طرح اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں ہم آپ کی واپسی کے منتظر رہیں گے جیسے جیسے مجھے مواد حاصل ہوتا رہے گا میں بلاگ میں شامل کرتا رہوں گا ویسے یہ پورا ہفتہ میری بھی مصروفیت کا ہے اس ہفتے مجھے بھی حیدرآباد کی بجائے سکھر جانا ہے۔
    محترم امین ترمزی صاحب کا پروگرام آج نشر ہو چکا ہے جیسے ہی اس پروگرام کی ریکارڑنگ کے ارسال کرنے کے فنی مسائل حل ہوں گے محترم امین ترمزی صاحب پروگرام کی ترسیل کر دیں گے۔

    نیک خواہشات کے ساتھ
    ظفر قابل

  16. میں ظفر قابل صاحب کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے تعریفی الفاظ سے یاد کیا ۔

    وہ جس قدر سعادت مندی سے اپنے والد قابل اجمیری مرحوم کے کلام اور اپنے والد کے دوست محسن بھوپالی کی شاعری کی اشاعت کررہے ہیں وہ قابلِ دید ہے ۔

    دل تو بہت چاہتا ہے کہ میں ظفر قابل صاحب کے کارناموں کی اشاعتت کے لیے ایک بلاگ صرف انکے نام کے عنوان سے شروع کروں تاکہ جیسے جیسے انہیں مواد حاصل ہوتا رہے اس کو وہ اپنے نام کے نئے بلاگ میں شامل کر تے رہین ۔

    ایسا کرنے سےپہلے میں ظفر قابل صاحب کی اجازت چاہوں گا ۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ انکے والد کی اور محسن بھوپالی کی اور خود انکی اور راشد محسن صاحب کی ادبی خدمات کو عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کی معلومات کے لیے ایک نیا بلاگ شروع کیا جائے تو وہ مجھے یا امین ترمذی صاحب یا عالمی اخبار کے ترجمان جناب سید مصباح جیلانی صاحب سے کہ سکتے ہیں ۔ چونکہ ان سب کو بلاگ لکھنے کی اجازت ملی ہوئی ہے اس لیے ان میں سے کوئی ایک فرد یہ نیک کام کرسکتا ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔
    اگر امین ترمذی صاحب انٹرویو کے آڈیو (صوتی) لنک کو اس بلاگ میں چسپان کردیں تو انکی مرضی ورنہ وہ خود ایک نیا بلاگ شروع کرکے وہ آڈیو لنک اس میں شامل کرسکتے ہیں۔
    ۔۔۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  17. اسلام علیکم
    میں آپ سے اپنا تعارف کروا دوں میں محسن بھوپالی کی کی بڑی بیٹی ہوں. مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ ڈیڈی جان کے پرستار ہیں اور ان کی شاعری کو فروغ دینا چاہتے ہیں. آپ کو مجھ سے کو ئی مدد درکار ہو میں حا ضر ہوں.
    محسن بھوپالی نے ایک نئی صنف سخن ایجاد کی اور اسے ” نظمانہ” کا نام دیا یہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے. چنف نظمانے ملاحظہ ہوں:
    شریک کار
    ڈکیتی مل کے ہوتی ہے
    اگر حصہ نہیں ملتا
    تو دوبارہ ڈکیتی میں
    وہ ڈاکو پکڑا جاتا ہے
    پکڑنے والے کا عہدہ بھی بڑھتا ہے
    کبھی تمغا کبھی انعام پاتا ہے
    اسی طرح سے ” کاروبار” چلتا ہے

    ماسی
    شوہر کام نہیں کرتا؟
    کرتا ہے جی!
    صبح چھوڑ کر جاتا ہے
    اور شام کو لینے آتا ہے

    زود پشیمان

    ترقی پسندوں نے
    جب یہ کہا تھا
    کہ سرمایہ داری ہے ایک لعنت
    تو فتوے ملے تھے کہ کافر ہیں یہ!

    غزل
    زمیں شاداب کرتا جارہا ہوں
    لہو سے رنگ بھرتا جارہا ہوں
    وہ کانٹے بو رہے ہیں ہر قدم پر
    میں ہنس ہنس کر گزرتا جا رہا ہوں

    زمانہ دیکھ کر حیرت زدہ ہے
    بگڑنے میں سنورتا جارہا ہوں

    نظر سے تم گراتے جارہے ہو
    مگر دل میں اترتا جا رہا ہوں

    اندھیرے راستہ روکیں گے کب تک
    میں سورج ھوں ابھرتا جارہا ہوں

    کوئی تو ھم سفر آئے برابر
    میں رستے میں ٹھہرتا جارہا ہوں

    مخالف نکتہ چینی میں لگے ہیں
    میں اپنے کام کرتا جارہا ہوں

    جو میرے شہر پر گذرے ہیں محسن
    وہ صدمے درج کرتا جارہا ہوں

  18. خوش آمدید محترمہ شاہانہ جاوید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے اپنا فون نمبر دیجئے ۔۔ میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔
    میر ای میل ایڈریس ہے
    dr.nighat.nasim@gmail.com

  19. محترمہ شاھانہ جاوید صاحبہ : سلام و دعا : یہ میری خوش قسمتی ھے کے میرے پسندیدہ شاعر محسن بھوپالی کی بیتی شاھانہ جاوید نے اپنی تحریر سے میرے اس بلاگ کو نوازا۔ اور محسن بھوپالی کے اشعار سے سرفراز کیا۔
    مجھے یقین ھے کے عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلی محترمہ نگہت نسیم صاحبہ اپ کا شکریہ ادا کرکے اپ سے محسن بھوپالی مرحوم کے مزید اشعار اور انکی زندگی کے بارے میں مزید معلومات اپ سے حاصل کرکے اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ کرینگی۔
    شکریہ
    منظور قاضی
    از ڈلس ، ٹیکسس، امریکہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *