یہ لہو کی ارزانی کیوں ؟

السلام علیکم
محترم جناب رضا حیدر صاحب کی شہادت انتہائی تکلیف دہ اور قابل مزمت ہے مگر اُس کا ردعمل انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے ، کیا کوئی مجھے یہ بتائے گا کہ ہلاک ہونے والے اُن 63 معصوم لوگوں کا کیا قصور تھا ؟ اُن 63 ( اب تک ) لوگوں میں کون جناب رضا حیدر صاحب کی شہادت کا ذمہ دار تھا ؟
اور اب جبکہ رحمان فرشتہ صاحب پہلے طالبان ، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سے ہوتے ہوئے اب محض سپاہ صحابہ کو اُن کا قاتل قرار دے چکے ہیں ۔ ہمارے حکمران اور خصوصا کراچی سے تعلق رکھنے والے تمام سیاست دان چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ، کیا یہ لوگ اِس سب کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟
آصف احمد بھٹی

58 thoughts on “یہ لہو کی ارزانی کیوں ؟”

  1. السلام علیکم
    جعفری صاحب بات پھر بڑھ جائے گی ۔ آپ نے کہا کے میں اپنے perception کو سوفیصد صحیح سمجھتی ہوں تو ایسا بلکل بھی نہیں ہے ۔ میں قائل ہونگی مگر دلیلوں سے نا کے خوشبخت شجاعت، نسرین جلیل یا کشور فاطمہ کی اس پارٹی میں شمولیت سے ۔ آپ نے تو یہ بہت چھوٹے نام لئیے ۔ ایک نام میں بھی یہاں لیتی ہوں ۔ علامہ عباس کمیلی صاحب قبلہ جو کے ایک عالم دین ہیں انہوں نے بھی اسی پارٹی میں شمولیت اختیار کی مگر ہوا کیا ؟ ایک عالم دین کمیلی بھائی بن ک رہ گیا ۔ اب آپ بتائیں جن صاحب کے ساتھ ہمیشہ قبلہ ۔ علامہ صاحب یا اس طرح کے دیگر القابات لگتے آئے تھے بڑھاپے میں انہوں نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اس پارٹی کی طرف سے سنیٹر بھی بن گئے مگر اپنی مٹی پلیت کروا لی اور بعد میں انکی شیعت میں کیا عزت رہ گئی ؟ خیر آپ نہیں مانیں گے یہ بھی ۔ آپ بھی موجودہ حکومتی اہلکاروں کی طرح ایک ہی راگ الاپیں گے ‘‘ نہیں نہیں انکی تو عزت اور بڑھی ہے اس جماعت میں آ کر ۔ انکو تو 100 درجہ اوپر ہو گئے اس جماعت میں شامل ہو کر ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اس لئیے بے حد معزرت جعفری صاحب سیٹ اور عہدے کا نشہ بہت برا ہوتا ہے اس میں اچھا خاصہ انسان اپنی سالوں کی بنی بنائی عزت گنوا بیٹھتا ہے ۔
    اور رہی بات ایسے لوگوں کی تو آج کل میڈیا اتنا تیز ہے اس پر فیس کرنے کے لئیے بھی کچھ بظاہر پڑہے لکھے سمجھدار لوگ سامنے آنا ضروری ہے۔ اس لئیے ایسے لوگوں سے ڈیل کر کے شامل کیا جاتا ہے کے نام تمہارا ہم استعمال کریں گے اس کے بدلے میں سیٹ ہمارے پلیٹ فارم سے ہم دیں گے اس جیسے بہت سے ایسی باتیں ہیں جس پر بحث اور طویل ہو جائے گی۔۔
    خیر میں بحث کو یہاں ہی ختم کرتی ہوں کیونکہ مجھے یہ معلوم ہے کے آپ مجھے قائل اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب آپکے پاس اس جماعت کے مثبت کارنامے ہوں جو کے نہیں ہیں۔ اب کراچی کی ڈیولپمنٹ لے کرمت بیٹھ جائیے گا پلیز کیونکہ وہ مشرف کی مہربانی تھی جو ہو گیا ۔ اور وہ مشرف تھا ذرداری نہیں وہ جس طرح دیتا تھا حساب بھی اسی طرح لینا جانتا تھا اسی لئیے آج کی حکومت اس کے دور کی کوئی بہت بڑی کرپشن نہیں پکڑ سکی ۔ چھوٹی چھوٹی کرپشن تو خیر پاکستانی ہیں کہیں نا کہیں ثبوت تو دینا ہوتا ہے)
    خیر یہ بات اور بحث میری طرف سے یہاں ہی ختم ۔
    رہی بات نقاش کاظمی صاحب کی تو شاید آپ کو کچھ غلط فہمی ہو رہی ہے نقاش کاظمی صاحب سے ڈائرکٹلی نا تو میرا کوئی رشتہ ہے نا ہی علی کا ۔ہاں وہ علی کے والد کے دوستو ں میں ضرور ہیں اور کاظمی بھی ہیں اور بہت ہی قابل عزت انسان ہیں
    باقی ملنے کی بات ہے تو سر آنکھوں پر جب آپ آنا چاہیں ڈنمارک تو ہم ضرور ملیں گے ۔ اور آپ کہاں رہتے ہیں یہ مجھے علم نہیں کے میں یہ کہہ سکوں کے جب ہم آئیں گے تو ملیں گے
    اپنی دعاؤں میں یاد رکھئیے گا پلیز

  2. السلام علیکم
    میں یہاں محترمہ خوشبخت شجاعت صاحبہ کے بارے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اُن کو ممبر قومی اسمبلی بنانے کے لیے جیسی دھاندلی کی گئی تھی وہ بھی ایک ریکارڈ ہے ، ایک وہی کیا اور بھی بہت سے ممبران ہیں مگر چونکہ اُن کا نام لیکر جماعت کی ساکھ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اِس لیے یہاں صرف اُن کا ہی ذکر کیا ہے ۔
    پس تحریر : – محترمہ نسرین جلیل کی بحیثیت نائب ناظمہ انتخاب بھی مشکوک قرار دیا گیا تھا ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. ماریہ صاحبہ
    آپ جیتیں میں ہار گیا۔ آپکو بہت بہت مبارک ہو۔ میں اوکلا ہوما سٹی میں مقیم ہوں۔ یقیناً نقاش کاظمی قابل انسان ہیں۔ اللہ اُنہیں صحت دے۔ علی کے والد کا کیا نام ہے۔

    عالم آراء بہن
    آپ بہت ہی ٹھنڈے ذہن کی مالک ہیں۔

    بھٹی صاحب
    اختلافِ رائے نہ ہو تو گھڑی کی سوئ رک جائے گی۔ نیوٹن جیسے سائنسداں کو آئنسٹائن نے غلط ثابت کردیا۔ ہم کیا ہماری اوقات کیا۔ ان باتوں سے تھوڑا سا بریک مل جاتا ہے۔

  4. نہیں میرے بھائی ظفر جعفری ۔دماغ میرا بھی کھولتا ہے ۔
    لیکن بس میری سوچ آپ ہی کی طرح یہ ہے کہ غلط کو غلط ضرور کہا جائے کہ اپنی خا میوں کا ادراک کرنا اور ان کو سننا بہت بڑے دل گردے کا کام ہے کہ ہم سب خود کو فرشتوں کی صف میں شامل سمجھنے لگے ہیں ۔جبکہ ہم سب ہی اشرف المخلوقات ہیں کہ غلطی بھی کرتی ہے اسکا احساس بھی کرتی ہے اسکے خلاف بولتی بھی ہے اور خود کو ٹھیک کرنے کے طریقے بھی تلاشتی ہے سوائے ہمارے لیڈروں کے معزرت کے ساتھ ۔
    اور یہ ہی ہمارا آپ کا سب سے بڑا منصب ہے ۔اختلاف اگر نہ ہو تو زندگی بے رنگ ہوجائے اور ہمیں اچھے اور برے سے آشنائی بھی نہ ہو ۔
    اس بلاگ پر جتنی باتیں ہوئیں انہوں نے نہ صرف بہت کچھ پردے اُٹھائے بلکہ یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا کہ اگر خامیوں پر پردہ پڑا رہے تو اور بڑی خرابیان پیدا ہوتی ہیں ۔
    آپ سب کی باتیں اتنی حقیقت پر مبنی ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ ہم ان برائیوں کو دور کرلیں جو ہمارے سسٹمز میں موجود ہیں ۔اے کاش ہم ایمانداری سے جیتیں ۔اے کاش ہم اچھے اور اعتماد کے قابل لوگوں کو کامیاب کرائیں ۔کہ ہمارا ووٹ بھی ہماری زمے داری ہے اے کاش ہم یہ سمجھا سکیں اپنے عوام کو کہ اب بس اچھے کو ووٹ دو ۔جسے تم بھُگت چکے اس سے بچ جاؤ ۔
    جس دن ہم سب سنور گئے اور ان کی راہیں روک لیں اس دن ملک شادمان ہو جائگا ۔میرے جوان بدل دینگے اس ملک کی قسمت اور آپ جیسے ہوشمند راہ نہ دینگے برائی کو ،میلوں دور ہی سے صحیح مگر جگاتے رہینگے ۔
    پھر ہم بحث کرینگے مزیدار ٹاپکس پر ۔ہنسنے کے لئے ہنسانے کے لئے ۔کہ ابھی تو کسی بات پر ہنسی آجائے تو سیلابمین بہتے گھر دیکھ کر حلق ہی مین رک جاتی ہے ۔
    چینلز کی بندش دیکھ کر دل کو تکلیف ہوتی ہے کہ کیا ان کے بند کر دینے سے کوئی خبر باہر نہ نکلے گی ،یا ہم یوں ہی شتر مرغ بنے رہینگے ،ہر بات کی تردید ہو رہی ہے اور ہر تردید شدہ بات کی تصدیق بیرونی میڈیا کر رہا ہے ۔کیا اس کا کوئی حل ہے ۔
    اللہ ہمیں عقل اور سمجھ عطا کرے ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے
    سلامت رہئے خوش رہئے اور لکھتے رہئے بغیر یہ سوچے کہ اختلاف ہے یا اتفاق کہ سوچ ابھی آ زاد ہے ۔اور ہمیں حق ہے اپنی بات کرنے کا اور دوسرے کی بات سننے کا ۔
    اگر کوئی بات کوئی جملہ بار خاطر ہو تو در گزر کیجئے گا ۔
    عالم آرا وینکور

  5. السلام علیکم
    محترم ظفر جعفری صاحب ، میں خود اختلاف رائے کا قائل ہوں اور اختلاف رائے کا احترام بھی کرتا ہوں مگر محض اختلاف رائے سے حقیقتیں نہیں بدلتی ۔ محترمہ عالم آرا صاحبہ درست فرماتی ہیں ۔ ہمیں غلط کو غلط کہنے کی ہمت رکھنی چاہیے اور اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا حوصلہ ۔
    آصف احمد بھٹی

  6. السلام علیکم جعفری صاحب
    علی کے والد کا نام تنویر کاظمی ہے وہ کراچی میں ہی ہوتے ہیں ۔
    اپنی دعاوں میں یاد رکھیے گا
    ماریہ علی

  7. بھٹی صاحب

    اختلاف رائے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ایک فریق جس بات کو صحیح سمجھتا ہے دوسرا یا دوسرے فریق اُسے غلط سمجھتے ہیں۔ اختلافِ رائے دو ایسے مجتحد وں میں بھی ہوتا ہے جنکی قابلیت پر کسی کو شبہ نہیں ہوتا۔ اختلافِ رائے چار اماموں میں بھی رہا ہے۔ ہم کس گنتی میں ہیں۔ صدر اوباما نے فوجی جنرل کو یہ کر برخاست کیا تھا کہ اختافِ رائے صحتمند چیز ہے لیکن تفرقہ کو میں برداشت نہیں کرسکتا۔

Comments are closed.