ڈلس ، ٹیکسس امریکہ سے میرے ایک محبوب شاعر سرور عالم راز سرور صاحب نے رومن اردو میں جو خط میرے اور اردو انجمن کے شیداییوں کے نام جو خط بھجوایا ہے اسے میں یہاں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں اس لیے کہ اردو کی ترویج اور ترقی ہم سب کا نصب العین ہے۔
a’zeez-e-mukarram: aadaab!
yeh Khat^ maiN apne tamaam karam-farmaa,oN ko bhej rahaa hooN. yeh mumkin hai keh is kee har baat kaa it^laaq aap par nah hotaa ho. us Soorat meN iltimaas hai keh chashm-poshee iKhtiyaar farmaaYeN. aaj ke daur meN itnaa waqt kahaaN hai keh farda” farda” har dost ko likhaa jaaYe!
Urdu Anjuman aap jaise eHbaab ke lut^f-o-karam se hee aaj kee kaamyaabee se aashnaa huyee hai aur aa,indah bhee aap hee kee tawajjuh kee marhoon-e-minnat rahe gee. idhar kuchh muddat se aap Anjuman meN yaa to bohat kam naz^ar aa rahe haiN yaa b.ilkul hee dikhaayee naheeN dete haiN. mujh ko aap kee maSroofiyaat kaa usee qadar eHsaas hai jitnaa apnee maSroofiyat kaa hai. so meree is darKhwaast ko shikaayat nah Khayaal farmaaYeN bal.k ek dost kee dast-bastah guzaarish hee samjheN aur Anjuman meN apnee aamad se us kee raunaq meN wohee chaar chaaNd lagaaYeN jo aap kee maujoodagee se is meN jagmagaate the!
aaKhir meN Masteer Madan kee gaayee huyee mash,hoor Ghazal kaa mat^la’ duhraaYe detaa hooN, is ummeed ke saath keh meraa yeh Khat^ Sadaa-ba-SeHraa naheeN caabit ho gaa aur ham ko jald hee Anjuman meN aap kaa sharaf-e-mulaaqaat HaaSil ho gaa:
yooN nah reh reh kar hameN taRpaa,iYe
aa,iYe, aa jaa,iYe, aa jaa,iYe!
۔۔۔۔۔
سرور عالم راز سرور صاحب نے ماسٹر مدن کا گایا ہوا ساغر نظامی کا جو شعر لکھا ہے وہ بہت ہی خوب ہے ۔ اس ہی غزل میں یہ بھی ایک شعر موجود ہے :
میری دنیا منتظر ہے آپ کی ۔۔۔اپنی دنیا چھوڑ کر آجائیے
۔۔
مگر میرے لیے عالمی اخبار کی دنیا کو چھوڑنا ممکن نہیں ۔ میں اردو انجمن کو بھی پسند کرتا ہوں اس لیے کہ اس میں صرف اور صرف اردو کے بقا اور اسکی ترقی اور ترویج کی بات کی جاتی ہے۔
سرور عالم راز سرور صاحب ایک مستند شاعر بھی ہیں اور اردو کے ایک رہنما بھی ۔ انکی ادبی تخلیقات قابل مطالعہ ہیں۔۔
میں اردو انجمن کی انتظامیہ جس میں زرقا مفتی صاحبہ بھی شامل ہیں اس کے کارناموں پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میرا یہ بلاگ اسکی تمام تر کتابی غلطیوں کے ساتھ شایع ہوجاے گا۔
آخر میں سرور عالم راز سرور صاحب سے یہ التجا کرتا ہوں کہ آپ یونی کوڈ اردو فانٹ ( جس کو آپ چوپالی زبان ) کہتے ہیں اس کو اردوانجمن میں جگہ دیجیے اور ایک حصہ اس اردو فانٹ کے لیے بھی مختص کیجییے۔ میرے لیے رومن اردو لکھنا انتہائی مشکل ہے ۔ ویسے اس بلاگ لکھنے کی علوی نستعلیق بھی میرے لیے کافی مشکل ہ اس لیے کہ میرے بہت سارے حروف مستطیل نما اشکال میں لکھے جارہے ہیں اور مجھے معلوم نہیں کہ میں اندھیرے میں کہاں جارہا ہوں اور کیا لکھ رہا ہوں۔
بہرحال :
اردو کا شیدائی
منظور قاضی از جرمنی

قاضی صاحب۔عالمی اخبار سے آپکے بے لوث اورقابل تکریم تعلق اور اسکے برملا اظہار پر میں ذاتی طور پر اپنی جانب سے اور ادارے کے تمام اراکین کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
میں سرور عالم راز سرور کے نام نامی سے بھی واقف ہوں،انکے کام سے بھی اور انکی تخلیقات سے بھی۔ دراصل ہم سب احباب کا مقصد،مدعا،ھدف اور منزل اردو زبان کے حوالے سے ایک ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نیتوں سے واقف ہے کہ تجارے شاید ہمارے خون میں نہیں کہ اس عالمی اخبار کو تجارت بنا سکتے جبکہ اسی نیٹ کی دنیا میں ”چیتھڑا” اخبار بھی تجارت کر رہے ہیں۔ ویسے جنکے خون میں تجارت ہے وہ تو قوم کو بھی سستے داموں بیچ دیتے ہیں۔
کیسا اچھا ہوتا کہ مکرمی و محبی سرور عالم راز سرور اس خط کو اردو میں لکھ دیتے تو ہماری شادمانی دو چند کیا چہار چند ہو جاتی۔ میں تو ان لوگوں میں شامل ہوں جو ببانگ دہل اس ”رومن” کا مخالف ہوں کہ نہ تو یہ کوئی زبان ہے اور نہ ہی رسم الخط،اور پھر ہم لوگ اپنی ویب سائٹوں پر جو خالص اردو کی ہیں اپنے خرچ پر ”رومن” کی مفت تشہیر اردو رسم الخط کو قربان کر کے کرتے ہیں۔
میں اردو ادب کے نام نہاد ایسے بڑے نام بھی جانتا ہوں جس کا استدلال ہے کہ اردو جدید ٹیکنالوجی کا ساتھ نہیں دے پاتی۔ دراصل یہ لوگ اپنی کمزوری اور جدید ٹیکنالوجی سے نابلد ہونے وار کوشش نہ کرنے کا الزام اردو پر رکھتے ہیں۔
ہم نے عالمی اخبار کے بلاگ میں ”ڈیجیٹل کی بورڈ” کا بھی اہتمام کیا ہے اور یوں بھی دنیا کے کسی بھی خطے میں آپ کے پاس کسی زبان کا کی بورڈ ہو آپ اس بلاگ میں کسی سافٹ ویئر کے بغیر اپنے کی بورڈ سے اردو لکھ سکتے ہیں حتیٰ کہ جس کی بورڈ سے ”رومن” لکھتے ہیں اسی سے اردو لکھ سکتے ہیں۔ اب کیا جواز ہے اردو نہ لکھنے کا اور رومن کو فروغ دینے کا کہ جس کا نہ کوئی ضابطہ ہے اور نہ کوئی اصول۔
قبلہ منظور قاضی صاحب۔
سلام مسنون۔ اردو کی ترویج کے حوالہ سے آپکی کوششوں کا جہاں میں بالعموم معترف ہوں، وہیں پر رومن اردو سے کنارہ کشی پر بالخصوص متاءثر ہوں۔ خود میرے لئے اس رسم الخط میں لکھنا پڑھنا تقریبا نا ممکن ہے۔
آپ اردو نستعلیق کے لئے علوی اور جمیل نوری نستعلیق کو اپنے کمپیوٹر میں انسٹال کر لیں تو پھر آپ مائیکرو سافٹ ورڈ میں لکھ سکتے ہیں، اور پھر کاپی پیسٹ سے تمام مراحل آسان ہوجاتے ہیں۔
بہتر ہے کہ آپ اردو فونیٹک کیبورڈ بھی انسٹال کر لیں۔ اس سے لکھنا پڑھنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ خود مائیکرو سافٹ کی ویب سائیٹ سے آپ کو عربی فونٹ کے شعبہ کے ذیل میں کئی ممد فونٹ مل جائیں گے۔ اسکے علاوہ جنگ، بی بی سی اردو، اور http://www.itdunya.com کی ویب سائیٹس سے بلا شمار فونٹ اور اردو ایڈیٹر بمعہ کیبورڈ و ہدایات مل سکتے ہیں۔
محترم صفدر ھمدانی صاحب اور جناب سید مصباح حسین صاحب کے تبصروں سے دنیا بخوبی واقف ہوگئی ہوگی کہ ہم سب عالمی اخبار کی سہولیات سے فائدہ اٹھا کر یونی کوڈ اردو فانٹ میں اردو لکھنا اورپڑھنا پسند کرتے ہیں۔
یونی کوڈ اردو فانٹ ( ان پیج سافٹ ویر کے مقابلہ میں) ایک آسان سی فانٹ ہے جس کو بغیر کی بورڈ دیکھے صرف اپنی انگلیوں کی مدد سے لکھا جاسکتا ہے۔ جہاں پر انگریزی کا اے ہے وہیں پر اردو کا الف بھی ہے ، اور جہاں انگریزی کا بی حرف ہے وہاں اردو کا بے بھی موجود ہے اور اسی طرح جہاں انگریزی کا ڈی ہے وہیں پر اردو کا حرف دال بھی ہے۔ اسی طرح بس اپنی انگلیوں کو بینائی دینی کی ضرورت ہے وہ خود بخود لکھنے والے کے حکم پر اپنی آنکھوں سے صحیح حروف کو ٹٹول کر لکھائی جاری رکھ سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔
عالمی اخبار کی انتظامیہ کا شکریہ کہ اس نے میرے اس بلاگ کو شایع کردیا۔ مجھے علم تھا کہ سرور عالم راز سرور صاحب کی رومن اردو ، عالمی اخبار کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی مگر سوچا کہ کوشش کرکے انکی رومن اردو سب پڑھ ہی لینگے مگر احتیاط کے طور پر میں نے سرور عالم راز سرور سے مندرجہ ذیل درخواست بھی کی تھی کہ :
“آخر میں سرور عالم راز سرور صاحب سے یہ التجا کرتا ہوں کہ آپ یونی کوڈ اردو فانٹ ( جس کو آپ چوپالی زبان ) کہتے ہیں اس کو اردوانجمن میں جگہ دیجیے اور ایک حصہ اس اردو فانٹ کے لیے بھی مختص کیجییے۔ میرے لیے رومن اردو لکھنا انتہائی مشکل ہے“
۔۔۔۔۔
میرے خیال میں اردو انجمن کسی اشتہار یا تجارتی انداز میں نہیں چل رہی ہے اس لیے میں نے اس انجمن سے متعلق اس بلاگ کو عالمی اخبار میں شروع کیا ۔ ورنہ بہت ساری دوسری اردو کی ویب سائیٹیں محض پیسا کمانے کی خاطر الٹے سیدھے اشتہارات چھاپ دیا کرتی ہیں اور اردو کے کاندھے پر اپنا اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں ۔ ان جیسی ویب سائٹوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔
بہرحال :
اللہ کی مرضی پہ راضی
منظور قاضی
از جرمنی
محترم قارئینِ عالمی اخبار اسلام علیکم
آپ نے ہمدانی صاحب کا اردو دوست تبصرہ پڑھا لیکن میں نے اسے پڑھنے سے پہلے ہی پڑھ لیا تھا اس لئے کہ اس کو پڑھے بغیر بھی اگر میں لکھتا تو یہ ہی لکھتا جو انہوں نے لکھا ہے اس لئے کہ ع میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
محترم سرور عالم راز صاحب یقیناً عالِم ہیں میں انکی علمیت کاقائل و معترف و مشتہر ہوں بحمد اللہ ہمارے شہر میں رہتے ہیں کئی شعری اور نثری کتب کے خالق ہیں میں نے ان کی توصیف میں کسی محفل میں ایک جملہ کہا تھا کہ میں خود کو اگر ان کی علمیت کا
عُشرِ عشیر بھی کہوں تو گویا میں اپنی شیخی بگھاروں گا اور یہ حقیقت ہے اور میں آج بھی اسی خیال پر نازاں ہوں لیکن ہمدانی بھائی کی بات بہر حال درست ہے کہ یہ کیسی محبت جو کی تو کسی اور سے جارہی اور جتائی مجھ سے جارہی ہے رومن میں اردو کی تشہیر میری نظر میں اردو کا قتل ہے ایک مثال آپ کے سامنے ہے کہ ترکی میں زبان کا قتل اس طرح ہوا کہ آج وہاں کے لوگ اپنے آبائی رسم الخط سے بالکل نابلد ہیں اور اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ وہ قرآن شریف بھی نہیں پڑھ سکتے. میں جرمنی میں طویل عرصے رہا ہوں اور وہاں ترکوں سے قربت رہی تو انہرں نے بتایا اس اس تحریک کا مقصد ہی لوگوں کو قرآنی رسم الخط سے دور کرنا تھا جس میں وہ کامیاب ہوگئے اب اگر ہم بھی رومن زبان کی تحریر کی تشہیر اور اسے عام کرنے کی کوشش میں لگ جائیں تو ہم اس کوشش کا حصہ ہوں گے ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ یہ ہر بات میں قرآن اور مزہب کیوں آجاتا ہے تو ہمارا جواب ہوگا کہ ہم قرآن اور مذہب کو چھوڑنے کے لئے قطعی تیار نہیں ہیں کیوں کہ یہی تو کوشش ہے. راز صاحب کی چاروں کتب اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو معذرت اردو زبان ہی میں ہیں اگر ہم رومن زبان یا طرزِ تحریر کو عام کریں گے تو موصوف کی کتابیں تو ضائع ہو جائیں گی اور یہ ہی اس تحریک کا مقصد ہے
ہمارے مصباح بھائی نے راز صاحب کو کمپیوٹر پر اردو رسم الخط لوڈ کرنے کا جو طریقہ بتایا اس سے بہت سے لوگوں نے استفادہ کیا لیکن ہمارے راز صاحب تو انجینیر بھی ہیں اور ان کے پاس اردو رسم الخط کا بہترین پروگرام بھی موجود ہے وہ ایک اردو رسالے مضراب کے مدیر بھی ہیں جس میں ہماری محترمہ بہن زرقا مفتی صاحبہ کا قلمی تعاون بھی حاصل ہے راز صاحب شاعری اردو میں کرتے ہیں گفتگو اردو میں کرتے ہیں میں نے انہیں بحیثیت اردو دوست کے اپنے ریڈیو پر بھی انٹرویو کیا ہے ہے لیکں ای میل صرف رومن میں کرتے ہیں . جانے کیوں. یہاں اس تمام کاروائی کا مقصد خدانخواستہ راز صاحب کی مخالفت نہیں بلکہ دوسرے احباب کو اس اردو دشمنی عمل سے روکنا اور اس کی خامیوں کی نشان دہی کرنا ہے. کسی سے محبت کی پہچان یہ ہے کہ اسے اپنے خیالوں میں بسالو بس کچھ ایسا ہی اردو کے بارے میں کیجئیے اگر آپ کو اس سے محبت ہے تو آپ اردو میں ہی سوچئے .اردو لکھئے .اردو پڑھئیے . اردو بولئے. اردو میں سوچئے کہ آج کے دور میں اردو کے قتل کی کوششیں تو بہت ہو رہی ہیں اگر آپ سستی برتیں گے تو آپ بھی ان لوگوں کے معاون ہوں گے کوشش کی ضرورت ہے اردو کی بقاء کے لئے ترویج و ارتقاء کے لئے اردو جہاد کی ضرورت ہے اسے اپنا نصب العین بناکر اردو دوست بنئے اردو دوست بنائے اور ایک بہت بڑے اردو کتب کے قابلِ فخر ذخیرہ کو ردی کی ٹوکری میں جانے سے بچائے جس میں بہت بڑا مزہبی علوم کا ذخیرہ بھی موجود ہے اللہ ہماری زبان و ادب کا محافظ ہو.آمین ثم آمین آپ سب کی محبتوں کا امین
نوٹ. راز صاحب کی اس تمام تحریر سے ایک عام قاری پر یہ بات آشکار یا کم ازکم مجھ پر اس کی وضاحت نہیں ہو پائی کہ انجمنِ اردو کیا ہے .کہاں ہے. اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں آسٹریلیا میں رہنے والا ایک اردو دوست اس میں کیونکر شامل ہو سکتا ہے وضاحت طلب ہے دراصل یہی دوسری زبان کا سہارا لینے کی معزوری ہے. میں اپنی زبان میں اپنا عرضِ مدعا کم الفاظ میں اور بخوبی بیان کرسکتا ہوں کم ازکم انجمنِ اردو کے اغراض و مقاصد تو اردو میں بیان کئے جائیں شکریہ
محترم قاضی صاحب
السلام علیکم
آپ نے جناب راز صاحب کا خط بلاگ میں لگایا ہے. یہ خط انہوں نے شاید انجمن کے سبھی ارکان کو لکھا ہے. رومن اردو میں خط لکھنے کی صرف ایک وجہ ہے کہ بیشتر ہندوستانی ارکان عربی رسم الخط میں اردو پڑ ھنے سے قاصر ہیں.
چونکہ میں بھی انجمن کی منتظم ہوں اس لیے یہ لکھ دوں کہ انجمن کے ہر سیکشن میں یونی کوڈ اردو میں نگارشات ارسال کی جا سکتی ہیں اور کی جاتی ہیں اب یہ ارکان کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ عربی رسم الخط میں لکھیں رومن میں یا تصویری شکل میں. بہت سے بھارتی ارکان صرف رومن میں لکھتے ہیں ہم انہیں عربی رسم الخط نہیں سکھا سکتے. راز صاحب کا آبائی وطن بھارت ہے.
میں ذاتی طور پر رومن میں لکھنے پڑھنے میں دشواری محسوس کرتی ہوں اور محترم ھمدانی صاحب اور مصباح بھائی کی تائید کرتی ہوں
کہ ہمیں اردو رسم الخط کو فروغ دینا چاہیے
ترمذی صاحب کے لیے انجمن کا لنک
والسلام
زرقا
ابھی ابھی مجھے سرور عالم راز سرور صاحب نے اپنا یہ ذاتی برقی خط بھجوایا ہے جسے میں انکی اجازت لیے بغیر اس لیے اس بلاگ میں چسپاں کررہا ہوں ، کہ پڑھنے والوں کو اور خاص طور پر امین ترمذی صاحب کو یہ معلوم ہوجائے کہ سرور عالم راز سرور صاحب یونی کوڈ میں اردو لکھ سکتے ہیں اور وہ بھی اردو کی ترقی اور ترویج کے سلسلے میں پوری توانائی کے ساتھ اسی طرح کوشش کررہے ہیں جس طرح امین ترمذی صاحب اور دوسرے اردو نواز اور اردو کے دوست اور احبا ب کررہے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔
سرور عالم راز سرور صاحب کے برقی خط کا متن ملا حظہ ہو :
“ برادرم منظور صاحب:سلام
انشا اللہ نہ صرف میں آپ کے بلاگ پر جائوں گا بلکہ اس کو اردو انجمن میں بھی مشتہر کروں گا۔ ہم مل جل کر اردو کے کام کو بڑھا سکتے ہیں اور ایسا ہی کریں گے بھی۔ آپ نے جتنے کاموں کا حکم دیا ہے وہ سب ہو جائیں گے۔ شاید دو ایک دن لگ جائیں کیونکہ میری منھ کی سرجری ایک آدھ دن میں ہونے والی ہے۔ اس سے فارغ ہو کر میں اس کام سے لگ جائوں گا۔
آپ کی اردو انجمن میں شرکت ہمارے لئے باعث مسرت وعزت ہوگی۔ ضرور آئیے اور احباب سے بھی سفارش کیجئے۔شکریہ۔
سرور عالم راز سرور “
۔۔۔۔۔۔
آئیے ہم سب مل کر سرور عالم راز سرور صاحب کی کامیاب سرجری کے لیے اللہ سے دعا ئیں مانگیں۔
۔۔۔۔۔۔
اردو انجمن کی منتظمہ زرقا مفتی صاحبہ نے اپنے تبصرے میں بہت سارے سوالات کا موثر جواب دے دیا ہے ۔ امید کہ پڑھنے والے ، سرور عالم راز سرور صاحب کی نیک نیتی اور اردو کی خدمت کے لیے رومن اردو کے استعمال کا مقصد ، زرقا مفتی صاحبہ کے اس جملے سے سمجھ گئے ہونگے کہ “بہت سے بھارتی ارکان صرف رومن میں لکھتے ہیں ہم انہیں عربی رسم الخط نہیں سکھا سکتے. راز صاحب کا آبائی وطن بھارت ہے.“
۔۔۔۔
چونکہ عالمی اخبار کی انتظامیہ نے اس بلاگ کو اپنے اپنے مشوروں کے ساتھ قبول کرکے شایع کر ہی دیا ہے اس لیے اس کے ارشادات
سر آنکھوں پر مگر دوسرے مبصروں کو جو اپنے آپ کو اردو کے صحیح خادم اور سرپرست سمجھتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اپنے
ذاتی خیالات اور شکایات کو بذریعہ ذاتی برقی خط سرور عالم راز سرور صاحب کو بھجوادیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
اس بلاگ کےخادم ( ناظم ) کی حیثیت سے امید کرتا ہوں کہ اس بلاگ میں سرور عالم راز سرور صاحب کی نیک نیتی اور انکی اردو سے بے انتہا محبت کو صرف اس لیے تنقیص کا نشانہ نہیں بنا یا جاے گا کہ وہ برقی خط صرف رومن اردو ہی میں لکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
فقط :
اردو کا ایک ادنیٰ خادم
منظور قاضی از جرمنی
سرور عالم راز سرور صاحب کو پروردگار صحت کاملہ اور عاجلہ عطا کرے.اس عہد بے بصر میں ان جیسے صاحبان علم وفضل ایک نعمت ہیں. اس طالب علم نے رومن کے حوالے سے جو بات کی تھی تو روئے سخن ہر گز بزرگوارم کی طرف نہیں تھا بلکہ ایک عمومی بات تھی اور آپ احباب اس سے آگاہ ہیں کہ میں ضمن میں برابر لکھتا رہتا ہوں. زرقا صاحبہ عالمی اخبار کی بھی قابل عزت و تکریم اور نہایت فعال رکن ہیں اور عالمی اخبار کے روزاول سے ادنی صفحے کی نگرانی نہایت احسن طریقے سے کر رہی ہیں. ان کے ارشادات سے قطعی طور پر کوئی اختلاف نہیں. ویسے ایک بات میرے ذاتی تجربے کی ہے اس لیئے عرض کر رہاہوں کہ بھارت میں سب محبان اردو ایسے نہیں ہیں جو اردو رسم الخط سے نا بلد ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بڑے بڑے اردو شاعری کرنے والے اردو رسم الخط میں نہ لکھتے ہیں اور نہ پڑھتے ہیں.
کیا ہم سب مل کر ایسی سعی کر سکتے ہیں کہ بھارت پا پاکستان میں جو لوگ اردو نہیں لکھ سکتے انکو اس جانب راغب بھی کریں اور انکے لیئے کوئی نظام وضع کیا جائے؟
جناب صفدر ھمدانی صاحب کے انتہائی مدبرانہ تبصرے میں جو سوال پیش کیا گیا ہے اس پر وہ تمام اردو داں خواتین و حضرات قلم اٹھا سکتے ہیں جو اس بلاگ کو پڑھ رہے ہیں ۔
جہاں تک پاکستان کےان افراد کا معاملہ ہے جو اردو لکھ نہیں سکتے ، انکے لیے تعلیمِ بالغاں جیسے اسکول اور مدرسے موجود ہیں جو اپنے استادوں سے اور اپنے رشتہ داروں اور احباب سے فارسی رسم الخط میں اردو لکھنا سیکھ سکتے ہیں۔
ویسے یسرنا القران جیسی بنیادی کتابیں اس سلسلے میں نہ صرف قرآن شریف بلکہ اردو اور فارسی رسم الخط سیکھنے کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔
لیکن بھارت کا معاملہ بالکل مختلف ہے :
جہاں تک بھارت کے مسلمانوں کا معاملہ ہے وہ تو قرآن شریف پڑھنے کے لیے عربی رسم الخط سے واقف ہوجاتے ہیں اور اگر وہ کوشش کریں تو اردو رسم الخط بھی سیکھ سکتے ہیں اور اردو فانٹ میں اپنے مضامین بھی تحریر کرسکتے ہیں مگر اردو کے وہ شیدائی جو مسلمان نہیں وہ یا تو دیو ناگری رسم الخط میں اردو اور ہندی لکھ پڑھ سکتے ہیں یا پھر رومن اردو میں ۔
انہوں نے غالب اور میر کو صرف دیوناگری رسم الخط میں پڑھا ہے ۔( سنتے ہیں کہ جاوید اختر بھی دیوناگری رسم الخط میں ہی اردو، ہندی لکھ سکتے ہیں۔ واللہ عالم باالصواب )
خود انگلینڈ اور امریکہ کی نئی پود کی ایک کثیر تعداد اردو رسم الخط سے آشنا نہیں۔ ( اس خامی کے ذمہ دار خود اس نئی پود کے بزرگ ہیں )
بہرحال صفدر ھمدانی صاحب کا سوال اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ :
“ کیا ہم سب مل کر ایسی سعی کر سکتے ہیں کہ بھارت پا پاکستان میں جو لوگ اردو نہیں لکھ سکتے انکو اس جانب راغب بھی کریں اور انکے لیے کوئی نظام وضع کیا جائے ؟ “
قاضی صاحب اسلام علیکم
آپ بلاگ شروع کرتے وقت یہ شرط بھی لگا دیا کیجئے کہ میرے بلاگ میں کسی قسم کی تنقید نہ لکھی جائے کیوں کہ میں اسے تنقیص سمجھتا ہوں ۔آخر مبصرین لکھیں گے تو اپنی رائے لکھیں گے نہ کہ آپ کی۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ میں نے کسی طرح راز صاحب کی عزت و علمیت کو کم کرنے کی کوشش کی تھی تو آپ میرے تبصرے کو پھر سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں چند سطور دیکھئے جوں کی توں نقل کر رہا ہوں اور مجھے طمانیت ہے کہ مجھے راز صاحب کے سامنے کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہے
محترم سرور عالم راز صاحب یقیناً عالِم ہیں۔ میں ان کی علمیت کا قائل و معترف و مشتہر ہوں بحمد اللہ ہمارے شہر میں رہتے ہیں کئی شعری اور نثری کتب کے خالق ہیں میں نے ان کی توصیف میں کسی محفل میں ایک جملہ کہا تھا۔کہ اگر میں خود کو ان کی علمیت کا عُشرِ عشیر بھی کہوں تو گویا میں اپنی شیخی بگھاروں گا اور یہ حقیقت ہے اور میں آج بھی اس خیال پر نازاں ہوں
اب ذرا سوچئے کہ تنقیص ان الفاظ میں کی جاتی ہے میں نے ایک چوبیس سطور کا تبصرہ لکھا تھا جس کو لکھنے میں لگ بھگ ایک گبھنٹے سے زیادہ لگا تھا لیکن میں نے اسے بیک جنبشِ قلم تلف کردیا کہ اس سے پہلے کہ میں اسے بھیجتا میں نے آپ کا تبصرہ پڑھ لیا تھامحض اس لئے کہ جس عدالت کا قاضی اتنا قوی ہو وہاں فریاد کرنا وقت کا زیاں ہے مجھے اپنی اس تحریر کا افسوس ہے جو ضائع ہو گئی کئی خیالات ذہن میں بر وقت آتے ہیں ہر وقت نہیں آتے۔ آپ کی بہت سی محبتوں کا مقروض
اب انشااللہ خود ہی ایک بلاگ کھولوں گا جس میں آپ کی تنقید و تنقیص کو خوش آمدید کہوں گا تاکہ آپ وہ لکھ سکیں جو آپ چاہتے ہوں نہ کہ ہز ماسٹرس وائس۔۔
مکرمی امین ترمذی صاحب.مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اپنا لکھا تبصرہ ضائع کردیا. میں عرض کرؤں کہ ہر آدمی اپبنا مزاج ہے اور اب ہم لگ بھگ سب کے مزاج سے خاصے واقف ہیں تو ایسے میں آپ بے لاگ طور پر اپنی آراء تحریر کریں. قاضی صاحب نے جو لکھا آپ اس کا بھی جواب دیں اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر احباب کو اپنے خیالات سے محروم نہ رکھیں. بلاگ کا یہی کمال ہے کہ یہ ”ہائیڈ پارک” اور ہر آدمی رائے کا حق ہے.تنقیص کے معاملے میں مجھے آپکی آراء کی تائید کرنی ہے
امین ترمذی صاحب کی اردو دانی اور انکی قابلیت کا میں دل سے قائل ہوں ۔انکی اپنی تحریر یں سادہ بھی ہوتی ہیں اور معنی خیز بھی۔
مگر انکا یہ کہنا کہ
“آپ بلاگ شروع کرتے وقت یہ شرط بھی لگا دیا کیجئے کہ میرے بلاگ میں کسی قسم کی تنقید نہ لکھی جائے کیوں کہ میں اسے تنقیص سمجھتا ہوں “
انکی غلط فہمی کی عکاسی کررہا ہے ۔ ان سے یہ عرض ہے کہ وہ مجھے اس قسم کے غلط مشورے کبھی نہ دیں :
۔۔۔۔۔۔
میں نے تعمیری تنقید کو تنقیص کبھی نہیں سمجھا اور نہ یہ شرط لگائی کہ مبصرین میرے بلاگ میں کسی قسم کی تعمیری تنقید کبھی نہ لکھیں :
میں نے امین ترمذی صاحب سے اور تمام قارئین سے اور اس بلاگ کے مبصرین سے یہی درخواست کی کہ اگر وہ کسی کو اسکے ذاتی طرز عمل پر کچھ کہنا چاہیں تو مہربانی فرماکر برقی خط استعمال کریں ۔( کیا میں نے یہ کوئی قابل اعتراض بات کی تھی ؟ ) :
۔۔۔۔۔۔۔۔
میری اس تجویز کے محرک امین ترمذی صاحب کے یہ ارشادات تھے :
“ راز صاحب شاعری اردو میں کرتے ہیں گفتگو اردو میں کرتے ہیں میں نے انہیں بحیثیت اردو دوست کے اپنے ریڈیو پر بھی انٹرویو کیا ہے ہےلیکں ای میل صرف رومن میں کرتے ہیں . جانے کیوں. یہاں اس تمام کاروائی کا مقصد خدانخواستہ راز صاحب کی مخالفت نہیں بلکہ دوسرے احباب کو اس اردو دشمنی عمل سے روکنا اور اس کی خامیوں کی نشان دہی کرنا ہے.“
اس کے بعد امین ترمذی صاحب نے اپنے قاریین سے جن میں سرور عالم راز سرور صاحب بھی شامل ہیں ، یہ ارشاد فرمایا :
“ سوچئے کہ آج کے دور میں اردو کے قتل کی کوششیں تو بہت ہو رہی ہیں اگر آپ سستی برتیں گے تو آپ بھی ان لوگوں کے معاون ہوں گے کوشش کی ضرورت ہے اردو کی بقاء کے لئے ترویج و ارتقاء کے لئے اردو جہاد کی ضرورت ہے اسے اپنا نصب العین بناکر اردو دوست بنئے اردو دوست بنائے ِِِِِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
اصل بات یہ ہے کہ مجھے اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایسے تبصروں سے خوف آتا رہتا ہے کہ تبصرے کی تمہید میں تو کسی کی بے حد تعریف کی جائے اس کے بعد “لیکن “ کا لفظ استعما ل کرکے اسی انسان کو کچھ سبق بھی دیا جائے کہ اگر وہ ایسا کرینگے تو وہ بھی“ اردو کے قتل “ کے م“ معاون “ سمجھے جائینگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امین ترمذی صاحب کا “ لیکن “ دہرا نا ضروری سمجھتا ہوں :
“ لیکں ای میل صرف رومن میں کرتے ہیں . “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممکن ہے کہ سرور عالم راز سرور صاحب امین ترمذی صاحب کی کسی بات کا اپنی اعلی ظرفی اور وسیع القلبی کے باعث ببرا نہ منائیں مگر میراجو فرض تھا وہ میں نے اد ا کیا ۔ (اگر اس کے باوجود برقی خطوط کے ذریعہ یا ٹیلی فون کے ذریعہ امین ترمذی صاحب
اور سرور عالم راز سرور صاحب ایک دوسرے سے بات چیت کریں تو ان دونوں کی مرضی )۔
۔۔۔۔۔
امین ترمذی صاحب سےاپنے ناکردہ گناہوں کی معافی کی درخواست کے ساتھ ۔
فقط:
خیرا ندیش :
منظور قاضی از جرمنی
برادر ذی شرف جناب امین ترمذی صاحب۔
سلام مسنون۔ بھئی یہ کیا بات ہوئی کہ ناراض کسی سے اور اظہار کسی سے۔ ہمیں کیوں آپ اپنی تحریر سے محروم کر رہے ہیں۔
ویسے قاضی صاحب نے شاید کوئی قد غن بھی نہیں لگائی کہ تنقیص نہ کی جائے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے خود ہی رومن اردو کی مخالفت کی ہے۔ تاہم یہ رائے صائب ہی ہے کہ جو شخص یہاں خود موجود نہیں، اسکو ہم اگر کوئی ذاتی رائے دینا چاہیں تو براہ راست برقنامے سے بھجوا دیں۔ کیونکہ اگر راز صاحب خود یہاں موجود ہوں تو ہم ان پر کھل کر تبصرہ کریں تو بہتر ہوگا، لیکن انکی عدم موجودگی میں ان پر کچھ کہنا( توصیف یا تنقید)مناسب نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ قاضی صاحب کی تحریر پر جو مناسب ہو، وہ سب کہا جا سکتا ہے۔ اس لئے اس شکر رنجی کو چھوڑ کر یہیں اپنے تبصرے سے ہمیں مستفید فرما دیں تو سب کے لئے اچھا ہوگا۔ الگ بلاگ بنانا آپکاحق ہے، لیکن مجھ سا کم کاست عالمی اخبار کو وقت نہیں دے پاتا تو اور کہاں جا سکے گا؟ یوں الگ بلاگ سے اگر کوئی مستفید بھی ہوا تو مجھ سے محروم بھی رہ جائیں گے۔
اچھا اب غصہ تھوک چکئے اور اپنا تبصرہ مزید ایک گھنٹہ صرف کر کے ہمیں مہیا فرا دیں۔
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ چند انصاف پسند اور غیر جانبدار ہستیاں اپنے بے باک تبصروں سے اس بلاگ کو سرفراز فرمارہی ہیں ۔
ایسے بے لاگ تبصروں سے ہی بلاگ کا وقار قائم رہتا ہے۔
میں بھی جناب صفدر ھمدانی صاحب کے مشورہ کی تائید کرتا ہوں اور جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا یہ مشورہ دہراتا ہوں کہ : :
“اب غصہ تھوک چکئے اور اپنا تبصرہ مزید ایک گھنٹہ صرف کر کے ہمیں مہیا فرا دیں۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات عرض کر نا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے ڈاکٹر پنہاں کے ساتھ ساتھ امین ترمذی صاحب کو بھی عالمی اخبار میں تشریف لاکر اپنے خیالات اور تبصروں سے عالمی اخبار کی رونق بڑھانے کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود قبول کیا تھا ۔
چونکہ امین ترمذی صاحب ہم سب کی محبتوں کے امین ہیں اس لیے امید کرتا ہوں کہ وہ اس امانت کی حفا ظت کرتے رہینگے ۔ ۔
۔۔۔۔۔
چلیے آئیے اس بلاگ کی افادیت بڑھانے کی خاطر سرور عالم راز سرور صاحب کی ان خدمات کو سراہیں جو وہ اردو کی ترویج اور ترقی کے لیے کررہے ہیں۔
جہاں تک امین ترمذی صاحب کے ایک تبصرے کے آخری سوال کا تعلق ہے ، میرے خیال میں اس کا جواب اردو انجمن کی ایک اہم رکن زرقا مفتی صاحبہ بھی دے سکتی ہیں : ( یہ میرا اپنا خیال ہے ) :
امین ترمذی صاحب کا سوال یہ تھا :
“ انجمن اردو کیا ہے .کہاں ہے. اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں آسٹریلیا میں رہنے والا ایک اردو دوست اس میں کیونکر شامل ہو سکتا ہے وضاحت طلب ہے دراصل یہی دوسری زبان کا سہارا لینے کی معزوری ہے. میں اپنی زبان میں اپنا عرضِ مدعا کم الفاظ میں اور بخوبی بیان کرسکتا ہوں کم ازکم انجمنِ اردو کے اغراض و مقاصد تو اردو میں بیان کئے جائیں شکریہ“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقصد صرف اور صرف اردو کی ترقی اور ترویج ہے ۔
فقط :
خیر اندیش
منظور قاضی از جرمنی
اب چونکہ یہ بلاگ اردو انجمن کے منتظمین کی نگارشات کا انتظار کررہا ہے اس لیے اس انتظار کی گھڑیوں کی گھٹن کو دور کرنے کے لیے میں اس بلاگ میں جناب سرور غزالی صاحب کے اس تبصرہ کو جو انہوں نے دراصل محترمہ نزہت نسیم صاحبہ کے بلاگ“ قیامت کب آئیگی میں 5 دسمبر کو امین ترمذی صاحب کے جواب میں تحریر کیا تھا ، اس بلاگ میں جوں کا توں شایع کررہاہوں ۔
۔۔۔۔۔
سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس میں ایک آڈیو لنک بھی موجود ہے جس میں اقبال بانو کی گائی ہوئی غزلیں اور نظمیں موجود ہیں ۔
میں چونکہ میونخ کے ایک قریبی گاوں میں ایک غیر اردو دنیا میں رہتا ہوں ، اچھے اچھے اردو شعرا کے کلام کو اچھے اچھے موسیقاروں کی زبانی سن کر اپنی روح کو خوش کرلیا کرتا ہوں:
سرور غزالی صاحب فرماتے ہیں :
December 5, 2009 بوقت 7:22 pm
ترمذی صاحب
املا درست حوالے کے لئے
ہاں اس بوڑم کی بورڈ کا کیا کروں
http://www.nonstopmp3.com/music/channel/Pakistani%20-%20Ghazals#url:/music/Pakistani+-+Ghazals/albums/Iqbal+Bano
خدا حافظ سرور غزالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امید کہ اس بلاگ کے پڑھنے والے اس آڈیو لنک کے ذریعے اقبال بانو کی گائی ہوئی وہ غزل سنینگے جس کا مطلع ہے :
وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے
ہزار بار ملو پھر بھی آشنا نہ لگے
میں اپنے اس تبصرے کو جو محترمہ نزہت نسیم صاحبہ کے بلاگ “ قیامت کب آئے گی “ میں شایع ہونے کے لیے “ نظر ثانی کا منتظر ہے “ اس بلاگ میں شامل کررہا ہوں تاکہ اس بلاگ کی افادیت میں بھی اضافہ ہوجائے۔
۔۔۔۔۔
خدا بھلا کرے سرور غزالی صاحب کا کہ انہوں نے اپنے 5 دسمبر کے تبصرے میں ( جس کے متعلق میں اپنے اوپر کے تبصرہ میں تذکرہ کرچکا ہوں ) اقبال بانو کی گائی ہوئی کئی غزلیں اور نظمیں ایک لنک کے ذریعہ شامل کی ہیں۔
آج انکی دی ہوئی لنک کے ذریعہ اقبال بانو کی گائی ہوئی ناصر کاظمی کی غزل کے مندرجہ ذیل چار اشعار سننے میں آئے ، دل خوش ہوگیا ، سوچا کہ کیوں نہ ان چار اشعار کو یہاں کیوں نہ لکھدیا جائے :
وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے
ہزار بار مِلو پھر بھی آشنا نہ لگے
دکھاوں داغِ محبت جو ناگوار نہ ہو
سناوں قصہ ء فرقت اگر برا نہ لگے
وہ رنگ دل کو دیے ہیں لہو کی گردش نے
نظر اٹھاوں تو دنیا نگار خانہ لگے
لیے ہی جاتی ہے ہر دم کوئی صدا ناصر
یہ اور بات سراغِ نشانِ پا نہ لگے
۔۔۔۔۔۔
اتفاق سے یہ غزل ناصر کاظمی کی تصنیف برگِ نئے میں موجود ہے ؛ اس کے بقیہ اشعار یہ ہیں:
کبھی وہ خاص عنایت کہ سو گماں گزریں
کبھی وہ طرزِ تغافل کہ محرمانہ لگے
وہ سیدھی سادی ادائیں کہ بجلیاں برسیں
وہ د لبرانہ مروت کہ عاشقانہ لگے
بہت ہی سادہ ہے تو اور زمانہ ہے عیار
خدا کرے کہ تجھے شہر کی ہوا نہ لگے
بجھا نہ دیں یہ مسلسل اداسیاں دل کو
وہ بات کہ کہ طبیعت کو تازیانہ لگے
جو گھر اجڑ گئے ان کا نہ رنج کر پیارے
وہ چارہ کر کہ یہ گلشن اجاڑ سا نہ لگے
عتابِ اہلِ جہاں سب بھلا دیے لیکن
وہ زخم یاد ہیں اب تک جو غائبانہ لگے
عجیب خواب دکھاتے ہیں ناخدا ہم کو
غرض یہ ہے کہ سفینہ کنارے جا نہ لگے
ایک بات بہت ہی عجیب اور دلچسپ معلوم ہوتی ہے کہ ہم سب اردو کو یونی کوڈ یا ان پیج ہوم اردو فانٹ میں لکھنا پسند کرتے ہیں مگر اردو کی آڈیو لنک ( مثال کے طور پر اوپر لکھی ہوئی جناب سرور غزالی صاحب کی آڈیو لنک ) صرف اور صرف رومن طرز تحریر میں ہی لکھی جاتی ہے۔ ( یہ بات سب پر عیاں ہے )
میرا خیال ہے کہ جب تک یونی کوڈ کی اردو فانٹ میں اتنی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی کہ وہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی دنیا میں رومن طرز تحریر کو غیر ضروری بنادے ، ہم سب کو رومن طرز تحریر کو بھی فی الوقت قبول کرنا ہوگا۔
جیسا کہ میں اوپر کے تبصروں میں لکھ چکا ہوں میری ترجیح یونی کوڈ اردو فانٹ ہے اور میرے لیے رومن طرز تحریر میں لکھنا اور پڑھنا بے حد مشکل ہے مگر میں اس کو فی الحال قابلِ قبول سمجھتا ہوں ۔
میں بھی ترکی کئی بار جاچکا ہوں اور اردو اور فارسی اور عربی رسم الخط کا اتاترک کے ہاتھوں قتل کا نتیجہ دیکھ چکا ہوں ۔ اس لیے میں صرف اور صرف رومن طرز تحریر کا حامی نہیں۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ چند اردو نواز ہستیوں نے یونی کوڈ میں اردو فانٹ ایجاد کردی ہے ۔ اس لیے اردو کا قتل کبھی نہیں ہوسکتا ۔
میرا یہ بھی خیال ہے کہ اگر اتاترک کے زمانے میں ترکی بھی یونی کوڈ کے ذریعہ فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی تو اتا ترک بھی ترکی کو رومن طرز تحریر میں ہی لکھنے کا حکم نہ دیتا ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس قسم کی غلطی کا شکار اردو نہیں بن سکتی ۔
۔
آج مجھے جناب سرور عالم راز سرور صاحب کا یہ عنایت نامہ وصول ہوا جسے میں انکی ہدایت پر جوں کا توں اس بلاگ میں شامل کررہا ہوں :
From: Sarwar Raz
To: Manzoor Quazi
Sent: Monday, December 21, 2009 8:14 AM
Subject: گزارش احوال واقعی
قبلہ قاضی صاحب: سلام
ایک خط نیچے دے رہا ہوں۔ اس کو آپ مناسب طور پر فورمیٹ کر کے اپنے بلاگ میں شائع فرمادیں تو کرم ہوگا۔
سروررازسرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکرم بندہ قاضی صاحب: سلام علیکم
میں اپنی حالیہ علالت طبع کی وجہ سے آپ کی محفل میں حاضر نہیں ہو سکا تھا۔ ہر چند کہ اب بھی مکمل طور پر صحت نہیں ہوئی ہے لیکن خود کو اس قابل پاتا ہوں کہ مختصرا چند ایسی باتوں کی وضاحت کر دوں جو اردو انجمن کے حوالے سے یہاں لکھی گئی ہیں ۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی سوال جواب طلب رہ جائے تو از راہ بندہ نوازی مجھے آگاہ فرمادیں۔ انشاللہ کوشش کر کے میں جواب ضرور دوں گا۔ آج کی تحریر میں میرا مقصد مخدومی جناب امین ترمزی صاحب کے ان سوالات کے جواب دینا ہے جو انھوں نے اپنے ایک خط میں لکھے ہیں۔ وہ سوال حسب ذیل ہیں:
اردو انجمنِ کیا ہے .کہاں ہے. اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں آسٹریلیا میں رہنے والا ایک اردو دوست اس میں کیونکر شامل ہو سکتا ہے وضاحت طلب ہے دراصل یہی دوسری زبان کا سہارا لینے کی معزوری ہے. میں اپنی زبان میں اپنا عرضِ مدعا کم الفاظ میں اور بخوبی بیان کرسکتا ہوں کم ازکم انجمنِ اردو کے اغراض و مقاصد تو اردو میں بیان کئے جائیں شکریہ
اگر موصوف اردو انجمن میں قدم رنجہ فرما کر اس کے مشمولات کا ایک سرسری جائزہ بھی لے لیتے تو ان کو یہ سوالات کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اہل فکر و نظر انجمن کے مشمولات کی روشنی میں اس کے اغراض و مقاصد اور اردو کی خدمت میں اس کی مساعی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ میں موصوف کے سوالات کے جوابات لکھےدیتا ہوں تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آویں۔
اردو انجمن کئی سالوں سے انٹر نیٹ پر اردو کی مختلف خدمات کے سلسلہ میں قائم ہے اور بفضلہ نہایت کامیابی سے اپنی راہ پر گامزن ہے۔ اس کا مقصد اردو کی ترویج، ابلاغ اور اردو شعروادب کی ممکنہ خدمت ہے۔ جو کام وہاں اس وقت ہو رہا ہے اس کی مختصر روداد یہ ہے:
١: وہاں اساتذہ، آج کےنئے اور پختہ مشق شعرا اور ادبا کی شعری اور ادبی تخلیقات پیش کی جاتی ہیں۔ اہل قلم ان پر اظہار خیال اور تبصرہ کرتے ہیں اور اس حوالے سے سیکھنے سکھانے کا کام جاری ہے۔
٢: وہاں بہت سی دیگر اردو محفلوں کی طرح صرف غزل گوئی پر ہی اکتفا نہیں کی جاتی ہے بلکہ بہت شد و مد سے اردو نثر اور ادبی مضامین، مقالات، افسانے، خاکے، انشاءیے، مزاح وغیرہ پیش کئے جاتے ہیں اور آج کے لکھنے والوں پر مستقل یہ بات زور دے کر واضح کی جاتی ہے کہ اردو کی فلاح، بقا، اور عالمی منظر نامہ میں اس کی پیش رفت صرف غزل کہنے، غزل سنانے یا غزل پر رسمی واہ واہ کرنے سے ممکین نہیں ہے بلکہ اس کے لءے سنجیدہ، تعمیری اور بلند پایہ نثری ادب بھي نہایت اہم ہے اور اس کے بغیر اردو دنیا کی زبانوں میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکتی ہے جس کی وہ مستحق ہے۔
۳: اردو انجمن میں ایک ماہانہ طرحی مشاعرہ منعقد ہوتا ہے جس کا مصرع طرح وہاں شرکت کرنے والے اراکین کثرت رائے سے خود تجویز کرتے ہیں۔ وہاں دی جانے والی غزلوں پر ہر ایک کو سنجیدہ اور شاءستہ نیز تعمیری رائے دینے، تنقید کرنے اور تبصرہ کی آزادی ہے۔ اس سلسلہ میں کسی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
٤: اردو انجمن میں علم عروض پر مضامین کا ایک سلسلہ بعوان آسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں جاری ہے اور اب تک اس کے دس مضامیں آ چکےہیں۔ اس سلسلہ کی تکمیل کے بعد انشااللہ اس کو نظر ثانی کے بعد ایک کتاب کی شکل دی جائے گی جو یا تو باقاعدہ شاءع ہو گی یا کسی دوسری مفید مطلب شکل میں دنیائے اردو کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔
٥: ۔وہاں نو آموز اور نئے شاعروں کے کلام پر اصلاح دی جاتی ہے، ان کی اغلاط کی نشاندہی اساتذہ کی اسناد کے توسط سے کی جاتی ہے اور اس طرح فن شاعری کی بنیادی باتیں اور اس کے جملہ رموز آنے والی نسل تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کام میں راقم الحروف کے علاوہ جناب سہیل ملک صاحب بھی خدمات انجام دے رہے ہیں او اس کے بہت اچھے نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ الحمد للہ
٦: اردو انجمن میں ان کاوشوں کے علاوہ اور بھی ایسے کام کئے جا رہے ہیں جن سے اردو کی ترقی، ابلاغ اور فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ از راہ کرم آپ وہاں جا کر خود ہی تفصیل ملاحثہ فرما لیں۔ شکریہ۔
جو لوگ انٹر نیٹ کی دنیا سے واقف ہیں انھیں علم ہے کہ وہاں اردو کی بیشتر محفلیں اپنے کام میں اردو کے علاوہ رومن اردو کا بھی استعمال کررہی ہیں۔ اردو انجمن میں فی الوقت اردو ، انگریزی، یونی کوڈ اردو اور رومن اردو میں لکھنے کی سہولت موجود ہے۔ انگریزی میں لکھا تو جا سکتا ہے لیکن اس کی اجازت عام نہیں ہے۔ جو لوگ اردو انجمن پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ رومن اردو کے استعمال سے اردو کا قلع قمع کرنے کا اہتمام کررہی وہ ایک انتہائی بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اردو انجمن ہو یا کوئی اور اردو محفل وہاں کے منتظمین کی ایک مجبوری یہ بھی ہے کہ شرکائے انجمن میں ایک طبقہ ایسے احباب کا بھی ہے جس کو اردو شعر وادب سے عشق ہے، جو اردو میں لکھنا چاہتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ تو اردو سیکھنا بھی چاہتے ہیں لیکن ابھی وہ یا تو اردو رسم خط سے نا واقف ہیں یا بہت ہی کم واقف ہیں۔ رومن اردو ان کے لئے اردو میں شعر و ادب کی تخلیق اور ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے۔ اس وسیو القلبی اور فراخ دلی کے نتائج بہت اچھے نظر آئے ہیں۔ میں ایسے دس اشخاص کو جانتا ہوں جنھوں نے ہماری کوششوں سے رومن لکھتے لکھتے خود کو اردو سکھائی ہے اور اب اردو میں شاعری کر رہے ہیں۔ ایک اردو انجمن ہی کیا کسی بھی اردو کی محفل کو اردو میں ہی کام کرنے میں مطلق اعتراض یا قباحت نہیں ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے ان کا دائرہ عمل و اثر ایک حد تک محدود ہو جائے گا۔ اسی مصلحت کے پیش نظر رومن اردو ابھی مدت تک اردو کے قدم بقدم چلے گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یونی کوڈ اردو سے قبل اردو لکھنے کا واحد ذریعہ ان پیچ یا اسی قبیل کے دوسرے سوفٹ ویر تھے ۔ ظاہر ہے کہ یہ نہ تو ہر شخص کے پاس موجود تھے اور نہ ہی ہر ایک ان کو خریدنے کے لئے تیار تھا۔ غیر ممالک میں رہنے والے لوگ خاص طور پر اس مشکل کا شکار تھے۔ اب جب کہ یونی کوڈ میسر ہے اس کا استعمال بتدریج بڑھ رہا ہے اور بڑھتا ہی چائے گا۔ ہم ہر ممکنہ حد تک اس کام میں پیش رفت کریں گے اور اردو پر صرف تقریریں کرنے کے بجائے اس کا کام ٹھوس اورتعمیری طریقے پر آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔انشا للہ
قبلہ ترمزی صاحب کو یہ بہت شکایت ہے کہ میں ای میل رومن میں زیادہ لکھتا ہوں۔ شاید ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ میں اس وقت انٹر نیٹ پر تین ویب سائٹ چلا رہا ہوں جن میں ایک اردو سہ ماہی رسلی مضراب بھی شامل ہے۔ میں اردو کی ان خدمات کے سلسلہ میں بلا مبالغہ دن کے چودہ پندرہ گھنٹے کمپیوٹر پر گزارتا ہوں۔ مجھ کو ای میل بہت بڑی تعداد میں لکھنے ہوتے ہیں ۔ اگر ہر ای میل کو میں اردو اور رومن دونوں میں لکھوں تو اس میں جو محنت اور وقت درکار ہے وہ فی الوقت میرے پاس نایا ب ہیں۔ رومن میں جلدی لکھنا قدرے آسان ہے۔ چنانچہ میری یہ بدعت اسی مصلحت کے تحت ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ آپ مجھ کو جو خطوط لکھتے ہیں وہ انگریزی میں ہوتے ہیں جب کہ آپ اردو میں لکھنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ اپنے پچھلے خط میں
آپ نے اپنی مجبوری بیان کی تھی اور میں آپ کو اس سلسلہ میں ہر گز متہم نہیں کر سکتا ہوں۔ ہر شخص کے پاس ایک محدود وقت اور قوت ہے۔ اس کا بہتر سے بہتر استعمال کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں کہا جا سکتا ہے۔۔ میں قبلہ و کعبہ ترمزی صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ میر ی طرح چودہ پندرہ گھنٹے کمپیوٹر پر روز گزار کر ایک ہفتہ میں خود ہی فیصلہ کریں کہ اس کے لئے کس جہاد ، محنت، جاں سوزی اور دماغ کاوی کی ضرورت ہے۔ شکایت کرنا اور تنقید کرنا تو بہت آسان ہے۔ ہاں تعمیری سنجیدہ اور معیاری کام کرنا اور کرتے رہنا اور ہی چیز ہے۔ آزمائش شرط ہے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے؟
خط کچھ طویل ہو گیا۔ امید ہے کہ آپ معذرت قبول فرمائیں گے۔ ارباب عالمی اخبار کی خدمات میں میرا سلام عرض کر دیجئے۔ میں نے ترمزی صاحب کے اس سوال کا جواب نہیں دیا ہے کہ آسٹریلیا سے کوئی اردو انجمن میں کیسے آسکتا ہے۔ سوال اس قدر بچکانہ ہے کہ اس کا جواب بھی بچکانہ ہوتا اور میں خود کو اس کا اہل نہیںپاتا ہوں۔ویسے یہ عرض کردوں کہ نیو زی لینڈ سے ایک کرم فرما ہماری انجمن میں تشریف لاتے ہیں۔ سو آسٹریلای سے آنا بھی ایسا مشکل تو نہ ہوگا۔
سرور عالم راز سرور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : میں اس بلاگ کے خادم کی حیثیت سے جناب سرور عالم راز سرور صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی صحت کر خرابی اور اپنی گونا گوں مصروفیا ت کے باوجود اس بلاگ میں اپنے خیالات اور جوابات شایع کیے ۔
مجھے سرور عالم راز سرور صاحب کی تحریر پر کچھ زیادہ کہنا نہی، سوائے اس کے کہ میں خود اپنی فنی کمزوری کے باعث کسی امریکی شہری اور کسی بھی انگریزی داں فرد کو ای میل ( برقی خط ) لکھتا ہوں تو انگریزی میں لکھنے میں آسانی محسوس کرتا ہوں تاکہ انگریز ی داں فرد میری ٹوٹی پھوٹی انگریزی کو سمجھ لیے۔ جب میں یونی کوڈ کی اردو فانٹ میں برقی خط لکھنے کے قابل ہوجاونگا تو ضرور اردو ہی میں بڑے ہی شوق سے برقی خطوط لکھونگا ۔
۔۔۔۔۔
اگر کوئی قاری اس بلاگ میں سرور عالم راز سرور صاحب کے مندرجہ بالا خط پر کوئی تبصرہ لکھنا چاہے تو یہ بلاگ حاضر ہے۔
۔۔۔۔۔
فقط :
سرور عالم راز سرور صاحب کو دلی شکریہ کے ساتھ
خیر اندیش
اردو کا شیدائی
منظور قاضی از جرمنی
میں اس بلاگ کو نہایت نیک نیتی کے ساتھ “ اردو انجمن “ کے تعارف کے لیے اسکے سرپرست جناب سرور عالم راز سرور صاحب کے خطوط کے ساتھ اس بلاگ کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔
مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سرور عالم راز سرور صاحب کے 21 دسمبر کے تفصیلی جواب کے بعد کسی نے کوئی تبصرہ لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔
،۔۔۔
چونکہ سرور عالم سرور راز صاحب کا جواب زیادہ تر جناب امین ترمذی صاحب کے تبصرہ سے متعلق تھا، اس لیے میں امین ترمذی صاحب کو بھی ای میل (برقی خط ) کے ذریعہ سرور عالم راز سرور صاحب کے جواب کی نقل بھجوادیا ہوں تاکہ یہ دونوں کرم فرما آپس میں ( برقی خط کے ذریعہ ) اس موضوع پر تبادلہ خیال کرلیں ۔ یا اگر اس بلاگ میں ہی کچھ لکھنا چاہیں تو وہ یہ بھی کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔
اگر کوئی صاحب یا صاحبہ 28 دسمبر تک اپنا تبصرہ اس بلاگ میں نہ لکھے تو یہ سمجھیے کہ یہ بلاگ ختم ہوگیا ۔
فقط:
بلاگ کا خادم
منظور قاضی از جرمنی