سولہ دسمبر۔ ایک عظيم غلطي کي یاد

سولہ دسمبر کی تاریخ ہمیں ایک عظيم غلطي کي یاد دلاتي ہے جب کسي بھي ناگفتہ بہہ حالات کے تحت ہم نے ایک صوبے میں فوج بھیجی جس سے میرا پيارا وطن دو نيم ہوا اور آج اڑتیس سال گزرنے کے بعد بھي خون کے وہ دھبے نہيں دھل سکے۔ ہماري یاد داشت کمزور ہے ہم بھول گئے ہیں کہ اس وقت قوم کتنی سوگوار تھي کتنے گھروں میں چولہا نہیں جلا تھا ۔رات گئی بات گئي ۔ ذرا سوچیں آج پھرہم نےایک صوبے ميں فوج بھیجی ہوئی ہے کہیں یہ پراني غلظی تو نہيں ہے? خدا نہ کرے۔۔۔۔۔۔ اللہ پاکستان کا حافظ و ناصر ہو۔ اور ہمیں آئندہ نسل کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ آپ لوگوں نے تاریخ سے کچھ کیوں نہیں سیکھا

9 thoughts on “سولہ دسمبر۔ ایک عظيم غلطي کي یاد”

  1. امین بھائی.کیا کہیں.الفاظ ساتھ نہیں دیتے.لیکن یہ حکمران کیسے ناعاقبت اندیش اور تاریخ فراموش ہیں
    “>
    ………
    “>
    اسلامی تاریخ میں جب بھی مسلمانوں کے ناقابل تلافی عظیم سانحات لکھے جائیں گے
    تو ان میں سقوط غرناطہ اور سقوط بغداد کا حوالہ ضرور لکھی جائے گی۔اور جب پاکستان کی تاریخ میں نا قابل تلافی سانحہ کی بات آئے گی تو سقوط ڈھاکہ جیسے عظم قومی سانحے سے کبھی چشم پوشی نہ کی جا سکے گی۔16 دسمبر 1971 کا دن پاکستانی تاریخ کا وہ منحوس ترین دن ہے جب مشرقی بازو اپنے مغربی بازو سے کٹ گیا تھا اور جب صرف پاکستانی فوج کو ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کو دشمن کے ہاتھوں ایک نہایت توہین آمیز ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا۔اور نتیجے کے طور پر دنیا کے نقشے پر ایک نیا اسلامی ملک وجود میں آیا جسے آج کی دنیا بنگلہ دیش کہتی ہے اور جو کل کا مشرقی پاکستان تھا۔سقوط ڈھاکہ کا نام آتے ہی چاربر سر آوردہ سیاسی شخصیات کے نام آتے ہیں ،اندرا گاندھی،شیخ مجیب الرحمان،جنرل یحیی اور ذوالفقار علی بھٹو۔جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات پر ملکی سالمیت کو قربان کر دیا۔۔۔۔۔توصیف احمد خان

  2. السلام علیکم
    یوں تو یہ زخم ہمیشہ رستا رہے گا مگر ہر سال یہ دن خصوصا اِس کو منہ پھر سے کھول دیتا ہے ، یہ واقعہ میرے اور میری ہم عمر نسل سے بہت پہلے کا ہے یہ ہم پر بیتا نہیں ہے یہ ہم نے صرف پڑھا اور سنا ہے اور بیتنے اور سننے کے محسوسات میں بہت فرق ہوتا ہے شاید اِس لیے ہم جب کسی بزرگ کو اِس وقعے پر افسوس کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کچھ دیر کے لیے ملول ضرور ہوتے ہیں مگر یہ احساس وقتی ہوتا ہے ، اور کچھ دیر بعد ہم پھر سے کیبل پر ہندوستانی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے لگ جاتے ہیں ، کچھ دیر پہلے والا احساس جانے کہاں گم ہو جاتا ہے ، اور رہی اقتدار اور انا پرستی کی جنگ تو تاریخ کے ہر دور میں ہمیں کوئی نہ کوئی میر جعفر یا میر صادق مل ہی جاتا ہے ، جو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے سب کچھ کر گزرتا ہے ، اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اب تک ہونے والی جنگوں میں ہلاک ہونے والے مسلمان مقتولین کی کل تعداد کا تین چوتھائی آپسی خانہ جنگی میں ہی قتل ہوئے ہیں ، اور یہ صرف اقتدار کی ہوس کے سبب ہی ہوا ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. مشرقی پاکستان کا فاٹا ( فیڈرلی کنڑولڈ ٹرایبل ایریا ) سے مقابلہ کرنے سے پہلے ہم سب کو دونوں علاقہ جات کے فرق کو بھی سمجھنا ہوگا ۔
    مشرقی پاکستان ، مغربی پاکستان سے ہزاروں میل دور تھا۔
    مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان پاکستان کے دشمن بھارت موجود تھا۔
    مشرقی پاکستان میں قائد اعظم نے جاکر اردو کی برتری کا اظہار کیا تھا ۔
    مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی تنظیم کو بھارت کی را تنظیم کی سرپرستی حاصل تھی
    مشرقی پاکستان کا قائد مجیب الرحمٰن تھا اور مغربی پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھا۔
    مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں پر ایک شرابی کبابی بدمعاش اور خود غرض آمر حکومت کررہا تھا ۔ اس نے پاکستان کی فوج کو قربانی کا بکرا بنا کر مشرقی پاکستاں میں بھیج دیا اور سناگیا ہے کہ اس فوج نے مشرقی پاکستان پر ایک قابض فوج کی حیثیت حاصل کرلی تھی ۔
    مشرقی پاکستانیوں کو ہمیشہ مغربی پاکستان میں ایک اقلیت کی طرح سمجھا جاتا تھا اور ان میں ایک احساسِ ناتمامی پیدا کردیا گیا تھا۔ جس کا استحصال بھارت نے نہایت ہی کامیابی سے کیا۔
    ۔۔۔۔
    یہ تو چند خاص خاص باتیں ہیں جن کا علم سب کو ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔
    اب یہ جاننا چاہیےکہ کیا فاٹا کا مشرقی پاکستان کے مندرجہ بالا حالات سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
    ۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں دونوں کیفیات اور حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔
    تفصیل میں جانے سے اس تبصرےمیں خواہ مخواہ طوالت پیدا ہوگی ۔
    ۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں مشرقی پاکستان کے حالات کا اطلاق فاٹا یا بلوچستان یا سندھ یا پختون خواہ صوبوں سے کرنا غلط ہے اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ :
    “ ذرا سوچیں آج پھرہم نےایک صوبے ميں فوج بھیجی ہوئی ہے کہیں یہ پراني غلظی تو نہيں ہے? خدا نہ کرے۔۔۔۔۔۔ اللہ پاکستان کا حافظ و ناصر ہو۔ اور ہمیں آئندہ نسل کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ آپ لوگوں نے تاریخ سے کچھ کیوں نہیں سیکھا“
    ۔۔۔۔۔۔
    میرا خیال ہے کہ اگر پاکستانیوں نے ہمت اور شجاعت سے کام لے کر بھارت اور اسرائیل کی جاسوس تنظیموں کا مقابلہ فاٹا اور پاکستان کے دوسرے صوبہ جات میں نہیں کیا تو : ۔
    ہمیں آئندہ نسل کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا اور آئیندہ نسل پوچھے گی کہ : “ آپ لوگوں نے تاریخ سے کچھ کیوں نہیں سیکھا“
    ۔۔۔۔۔۔
    یہ میرا اپنا نقطہ ء نظر ہے۔
    فقط:
    پاکستان پائیند باد
    منظور قاضی از جرمنی

  4. مغربی پاکستان “ کا “ ذوالفقار علی بھٹو تھا ۔ پڑھیے : شکریہ

  5. فیڈرلی ایڈمنسرڈ ٹرائبل ایریا Federally Administered Tribal Area : FATA : پڑھیے : شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور ہوسکے تو لندن کے شاکر قریشی صاحب (جن کو میں بالکل نہیں جانتا ) کی تقریر کی یہ ویڈیو لنک بھی دیکھئے :
    http://siasat.pk/forum/viewtopic.php?f=16&t=14120 شاکر قریشی صاحب نے اللہ سے لگاو اور اس سے دعائیں مانگنے کی تلقین کی ہے تاکہ پاکستان کے حالات سدھر جائیں اور تمام عیوب اور بدکاریاں ختم ہوجائیں۔
    ۔۔۔۔۔
    اسی کے ساتھ میں پڑھنے والوں کو زرقا مفتی صاحبہ کے تبصرے میں ملاوں کی اسکیم کو بھی پڑھنے کی درخواست کرتا ہوں جس میں انہوں نے حسن بن صباح کی جنت کی طرح چند ایک کمرے جنت نما بنا کر کم عمر بچوں کو حوروں کےاور دودھ اور شہد کی نہروں کے عشق میں مبتلا کرنے اور انکے لیے اپنی جان دے کر دوسروں کی جان لینے کے لیے تیار کردیا ۔
    ۔۔۔
    ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے موجودہ فوجی کاروائیوں کو مشرقی پاکستان کے فوجی کاروائی کے برابر کہنا غلط فہمی پر مبنی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔
    آج کل پاکستان میں باہر سے آئے ہوئے شیطانوں اور انکے مریدوں اور شرپسندوں اور دہشت گردوں کو پاکستان سے ہمیشہ کے لیے نکالنے کی جنگ ہے۔

  6. پاکستان کی سالمیت دنیا کے ہر مسلمان کی خواہش ہے بجز پاکستانی سیاست دانوں کے۔

  7. پتہ نہیں کیوں ظفر جعفری صاحب نے اس بلاگ میں ہی اپنے تبصرے لکھکر اس بلاگ کے موضوع کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالنے کی بجائے اپنا ہی ایک بلاگ بعنوان “ سقوطِ ڈھاکہ کا پس منظر “ ، شروع کردیا !!!۔
    ظفر جعفری صاحب نے اپنے اس بلاگ میں تاریخی واقعات کا ذکر کیا ہے جو بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے اسباب بنے ۔
    ظفر جعفری صاحب کے بلاگ میں خواجہ اکرام صاحب کا تبصرہ موجودہ حالات کی روشنی میں ایک قابلِ مطالعہ تبصرہ ہے۔
    ۔۔۔۔
    بہر کیف موضوع غور طلب ہے ۔ چاہے کسی بلاگ میں ہو۔

  8. خواجہ اکرام صاحب کی بجائے راجہ اکرام صاحب پڑھیے ۔ شکریہ

  9. السلام علیکم
    سقوطِ ڈھاکہ بے شک ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہے.
    میں قاضی صاحب کی اس بات سے متفق ہوں کہ مشرقی پاکستان اور فاٹا کا تقابل نہیں ہو سکتا کیونکہ مشرقی پاکستان پہلے ہی ضغرافیائی طور پر ہم سے کٹا ہوا تھا. قیامِ پاکستان کے وقت ہی کچھ لوگ اسے
    geographic anomaly
    قرار دے چکے تھے.
    تاہم ہمیںامریکہ کی جنگ سے جلد از جلز لا تعلقی اختیار کر لینی چاہیئے
    اور مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیئے
    والسلام
    زرقا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *