کاش یہی سپریم کورٹ اب بدعنوان سیاستدانوں کو ایک ایک کر کے ننگا کر دے

اے کاش یہی سپریم کورٹ آگے چل کر ایسے تمام لوگوں کا غیر ضروری استثنا بھی ختم کرنے کہ جنہیں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے مواقع بھی اور وسائل بھی حاصل ہیں۔ بھائیو یہ صدرموزیراعظم، یہ وزرا یہ کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہم آپ جیسے بلکہ سچ پوچھیں بہت سے حوالوں سے ہم آپ سے بھی کم تر لوگ ہیں پھر ایک عام چور اور جیب کترے کو تو ایک سو یا پانچ سو روپے کی چوری پر جیل ہو جائے اور اربوں ڈالر لوٹنے اور چوری کرنے والوں کو ایوان صدر یا پارلیمنٹ میں بٹھا کر اسکے سر پر استثنا کا تاج سجا دیا جائے
مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

4 thoughts on “کاش یہی سپریم کورٹ اب بدعنوان سیاستدانوں کو ایک ایک کر کے ننگا کر دے”

  1. محترم صفدررضا ھمدانی صاحب ۔۔۔ اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے آمین ھماری شکتہ قوم کو 16 دسمبر 2009 کی رات جاتے جاتے ایک تاریخ ساز دن کی خوشخبری دیے گی ۔ آیئن کی بالا دستی آزاد عدلیہ ھماری منقسیم اور منتشر قوم کو یکجا کر دیگی۔
    جاگو جاگو ھوا سویرا۔۔۔۔۔۔ یہ کوئ خواب تو نیہں ھے۔۔ اللہ کرے آپ کی کہی یہ بات بھی پوری ھو کہ عدلیہ چوربد عنوان سیاست دانوں کو ایک ایک کرکے ننگا کردے وہ دن دور نیہں جب ھماری قوم انشا اللہ سب سے بڑے چور کو ایک بارپھر جیل کی آھنی دیوار کے پیچھے بھجیئگی ۔۔ مللک و قوم` کا پیسہ لوٹنے والے چوروں سے اب عوام خود نبٹ لیگی سپریم کورٹ کے اس بےمثال فیصلے سے مروہ قوم کے جسم میں جیسے نئ روح پھونک دی گی ھے۔۔ساری قوم کو مبارک ۔۔ پاکستاں زندہ باد

  2. سقوطِ ڈھاکہ کا پس منظر

    سقوطِ ڈھاکہ محض ذولفقار علی بھٹو یا یحیٰٰٰ خان کی وجہ سے نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے پیچھے چوبیس سال کی تاریخ ہے۔
    چوتھائ صدی کا قصہ ہے
    دو چار برس کی بات نہیں

    کچھ اہم نکات یہ ہیں

    1937 کے انتخابات میں مسلم لیگ صرف بنگال میں اکثریت حاصل کرپائ تھی
    1945 کے اتخابات میں مسلم لیگ کو اکثریت صرف بنگال اور سندھ میں ملی
    بنگال میں سہروری اور مولوی فضلِ حق اور سندھ میں یہ کامیابی جی ایم سید کی مرہونِ منت تھی۔ جو حشر تخلیقِ پاکستان کے بعد ان تین رہبروں کا ہوا اسکی گواہ ہماری تاریخ ہے۔
    بلوچستان کا پاکستان سے الحاق حاکم علی زرداری کی وجہ سے ہوا۔
    لیاقت علی خان مشرقی پاکستان کے کوٹہ پر آئے
    تخلیق پاکستان سے قبل بنگال کے وزیرِ اعلیٰٰ فضلِ حق تھے۔ اس زمانہ میں جب بہار میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو فضلِ حق نے للکارا کہ ہندؤں کے خلاف بنگال میں فساد ہوسکتا ہے ۔ اس پر بہار میں قتلِ عام رُک گیا۔
    قائدِ اعظم نے بنگالیوں کی مرضی کے خلاف اُن پر اُردو کو مسلّط کیا۔
    لیاقت علی کے قتل کے بعد خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل کے عہدہ سے ہٹاکر انہیں وزیرِ اعظم بنا دیا گیا اور گورنر جنرل غلام محمد ہوگئے جو مطلق العنان تھے۔
    ایوب خان کمانڈر انچیف تھے جنکی نظریں تخت پر تھیں۔ ایوب خان نے کمانڈرانچیف ہوتے ہوئے خود کو Gun Point پر وزیرِ دفاع بنوایا اور اسطرح فوج سیاست میں داخل ہوگئ۔ جب 1958 میں ایوب خان نے مارشل لاء لگایا اسوقت 90 فیصد سے کہیں زیادہ فوج مغربی پاکستان سے تھی۔
    ایوب خان نے اپنا آہنی ہاتھ استعمال کرتے ہوئے سہروردی اور دوسرے بنگالی رہنماؤں کو سیاست سے EBDO یعنی بلیک لسٹ کردیا۔
    ایوب خان کے دورِ حکمومت میں بنگالیوں کے ساتھ تعصب بڑھتا گیا اور بنگلالیوں میں یہ احساس بھی بڑھتا چلاگیا کہ وہ مغربی پاکستان کی کالونی ہیں۔
    بنگالی چاہتے تھے کہ قائدِ اعظم کا بنایا ہوا دارالحکومت کراچی رہے۔ لیکن ایوب خان GHQ سے قریب رہنا چاہتا تھا اسلئے وہ Gun Point پر دارالحکومت پہلے پنڈی پھر اسلام آباد لے گیا۔ اس پر بنگالیوں نے ڈھاکہ کو دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کیا۔ شیخ مجیب کے چھ نکات میں سرِفہرست ڈھاکہ کو دارالحکومت بنانا تھا ۔ ایوب خان نے آرمی کے ذریعہ وہ سب کچھ کیا جو ایک درندہ دشمن کے ساتھ کرتا ہے۔
    جنرل روئیداد خان 1961 میں جب سیکریٹری داخلہ تھے فرماتے ہیں کہ ایوب خان نے جب ڈھاکہ میں اُن سے پوچھا کہ بنگالیوں کو کیا تکلیف ہے تو روئیداد خان نے جواب دیا کہ مشرقی پاکستان تو پاکستان سے الگ ہوچکا ہے۔ یہ 1961 کی بات ہے۔
    ایوب خان کی ایسی telephone calls بھی intercept کی گئیں جن میں ایوب خان نے کہا کہ انہیں مارو یہ لاتوں کے بھوت ہیں۔

    مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی وجہ اور پاکستان میں آمریت کا سہرا ایوب خان کے سر ہے۔ یحیٰ خان اور بھٹو غلط وقت پر غلط جگہ تھے۔

  3. گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935ء کے تحت 1937 میں منعقد صوبائی انتخابات میں مسلمانوں کے لئے مختص 486 نشستوں میں مسلم لیگ کو صرف 102 پر کامیابی حاصل ہوئی ۔البتہ گیارہ میں سے آٹھ صوبوں میں کانگرسی وزارتوں نے اقتدار کے نشہ میں مخلوط حکومتیں تشکیل دینے سے انکار کر دیا۔دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر ڈھائی سالہ کانگرسی وزارتوں کے استعفے سے مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا ۔
    دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ ہندوستان کے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرے۔ اس صورتِ حال میں برطانوی حکومت نے عوامی رجحانات کا پتہ چلانے کی خاطر عام انتخابات کا اعلان کیا۔ دسمبر 1945 ء میں مرکزی اسمبلی اور جنوری 1946 ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے کا فیصلہ ہوا۔ تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔
    مرکزی اسمبلی میں مسلم سیٹوں کی تعداد 30تھی جو کہ مسلم لیگ نے تمام تر مخالف محاذکے باوجود تمام سیٹیں جیت لیں ۔
    اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلم سیٹوں کی مختص تعداد 495 تھی ۔مسلم لیگ نے 434 سیٹیں جیتیں۔
    مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کی گئی اور محمد علی جناح قائد۔
    وہی مسلم لیگ 1937 کے صوبائی انتخابات میں تقریبا 20% نشستیں جیت پائی تھی اور اب سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت بن کر ابھر کر سامنے آئی۔
    انتخابات کے نتائج

    مرکزی قانوں ساز اسمبلی کے انتخاب دسمبر 1945 میں کروائے گیے۔ یہ جداگانہ طریق انتخاب کی بنیاد پر منعقد ہوئے۔ پورے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے 30 نشستیں مخصوص تھیں۔ مسلم لیگ نے ہر نشست پر اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ 1946 میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔
    مرکزی اسمبلی میں مسلم سیٹوں کی تعداد: 30
    مسلم لیگ کی جیتی ہوئی سیٹیں: 30
    صوبائی اسمبلیوں میں مسلم سیٹوں کی مخصوص تعداد: 495
    مسلم لیگ کی جیتی ہوئی سیٹیں: 434
    مسلم لیگ کو مسلمانوں کے ووٹوں کا 86.6 فیصد ملا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *