3 thoughts on “پھر بشر باطل کے آگے سرنگوں ہے یا حسین۔جوش ملیح آبادی کی ایک نایاب وڈیو ریکارڈنگ”
واہ ۔۔سبحان اللہ ۔۔ کیا نایاب کلام ہے ۔۔
شبیر حسن خان نام تھا اور جوش ملیح آبادی تخلص تا ریخ پیدائش کیہں پر 1896اور کیہں 1898 مکتوب ھے پیدا ھوۓ مردم خیز علاقے ملیح اباد آنکھیں کھولیں مگر بعد ازاں قیام زیادہ تر حیدرآباد دکن اور دلی میں رھاتقسیم ھند کے بعد کر اچی آگئے جوش کو عربی فارسی ھندی اور انگریزی زبانوں کے ساتھہ اپنی پیاری زبان اردو زبان پر بہت عبور حاصل تھا اول اول اپنے شعری اظہار کے لیے عزیز لکھنوی سے اصلاح لی اور پھر اپنے وجدان ذوق کو ھی رھبر نباتے ھوۓ کمال فن حاصل کیا جوش کی خداداد لسانی صلاحیتوں کی جھلک آپکی تصانیف میں دیکھی جاسکتی ھیں شاعر انقلاب طبعا ازاد اور بے دھڑک قسم کے انسان تھے لفظوں پر ان کو گہری دسترس حاصل تھی الفاظ زوردار اور معنویت سے پر ھوتے انکی تصانیف میں روح ادب ،نقش و نگار،حرف و حکایت،
جنون وحکمت، شاعر کی راتیں،فکر و نشاط، موجد ومفکر ،طلوع و فکر قطرہ قلزم ۔سنبل و سلاسل ،آوازہ
حق ،نوادر جوش،الہام و افکار،نجوم و جواھر،جوش کے مرثیے ،عروس ادب ،دیوان جوش۔عرفا نیات جوش،مکالمات جوش۔مقالات جوش،اوراق زریں،محراب و مصراب،سیف و سبو،پیغمبر اسلام شلعہ و شبنم ، آیات و نغمات، عرش و فرش، حسین اور انقلاب، سرور و خروش،سموم و صبا رامش و رنگ۔۔۔
جو صاحب معراج نبوت تھا وہ حسین
جو وارث ضمیر رسالت تھا وہ حسین
جو خلوتی شاھد قدرت تھا وہ حسین
جس کا وجود فخر مشیت تھا وہ حسین
سانچے مین ڈھالنے کے لیے کا ئنات کو
جو تولتا تھا نوک مژہ پرحیات کو
ھاں اب بھی جو مینارہ عظمت ھے وہ حسین
جس کی نگاہ مرگ حکومت ھے وہ حسین
اب بھی جو محو درس بغاوت ھے وہ حسین
آدم کی جو دلیل شرافت ھے وہ حسین
واحد جو ایک نمونہ ھے ذبح حسین کا
شاھد ھے جو خدا کے مذاق سلیم کا
جس کی جبیں پہ کج ھے خود اپنے لہو کا تاج
جو مرگ و زندگی کا ھے اک طرفہ امتزاج
سردے دیا مگر نہ دیا ظلم کو خراج
جس کے لہو نے رکھہ لی تمام الابنیا کی شان
سنتا نہ کو ئ دھر میں صدق و صفا کی بات
جس مرد سرفروش نے رکھہ لی خدا کی بات
سبحان اللہ، کیس در- نایاب کا کس جوہر نایاب کے لئے کیا نایاب کلا ہے. واہ.
واہ ۔۔سبحان اللہ ۔۔ کیا نایاب کلام ہے ۔۔
شبیر حسن خان نام تھا اور جوش ملیح آبادی تخلص تا ریخ پیدائش کیہں پر 1896اور کیہں 1898 مکتوب ھے پیدا ھوۓ مردم خیز علاقے ملیح اباد آنکھیں کھولیں مگر بعد ازاں قیام زیادہ تر حیدرآباد دکن اور دلی میں رھاتقسیم ھند کے بعد کر اچی آگئے جوش کو عربی فارسی ھندی اور انگریزی زبانوں کے ساتھہ اپنی پیاری زبان اردو زبان پر بہت عبور حاصل تھا اول اول اپنے شعری اظہار کے لیے عزیز لکھنوی سے اصلاح لی اور پھر اپنے وجدان ذوق کو ھی رھبر نباتے ھوۓ کمال فن حاصل کیا جوش کی خداداد لسانی صلاحیتوں کی جھلک آپکی تصانیف میں دیکھی جاسکتی ھیں شاعر انقلاب طبعا ازاد اور بے دھڑک قسم کے انسان تھے لفظوں پر ان کو گہری دسترس حاصل تھی الفاظ زوردار اور معنویت سے پر ھوتے انکی تصانیف میں روح ادب ،نقش و نگار،حرف و حکایت،
جنون وحکمت، شاعر کی راتیں،فکر و نشاط، موجد ومفکر ،طلوع و فکر قطرہ قلزم ۔سنبل و سلاسل ،آوازہ
حق ،نوادر جوش،الہام و افکار،نجوم و جواھر،جوش کے مرثیے ،عروس ادب ،دیوان جوش۔عرفا نیات جوش،مکالمات جوش۔مقالات جوش،اوراق زریں،محراب و مصراب،سیف و سبو،پیغمبر اسلام شلعہ و شبنم ، آیات و نغمات، عرش و فرش، حسین اور انقلاب، سرور و خروش،سموم و صبا رامش و رنگ۔۔۔
جو صاحب معراج نبوت تھا وہ حسین
جو وارث ضمیر رسالت تھا وہ حسین
جو خلوتی شاھد قدرت تھا وہ حسین
جس کا وجود فخر مشیت تھا وہ حسین
سانچے مین ڈھالنے کے لیے کا ئنات کو
جو تولتا تھا نوک مژہ پرحیات کو
ھاں اب بھی جو مینارہ عظمت ھے وہ حسین
جس کی نگاہ مرگ حکومت ھے وہ حسین
اب بھی جو محو درس بغاوت ھے وہ حسین
آدم کی جو دلیل شرافت ھے وہ حسین
واحد جو ایک نمونہ ھے ذبح حسین کا
شاھد ھے جو خدا کے مذاق سلیم کا
جس کی جبیں پہ کج ھے خود اپنے لہو کا تاج
جو مرگ و زندگی کا ھے اک طرفہ امتزاج
سردے دیا مگر نہ دیا ظلم کو خراج
جس کے لہو نے رکھہ لی تمام الابنیا کی شان
سنتا نہ کو ئ دھر میں صدق و صفا کی بات
جس مرد سرفروش نے رکھہ لی خدا کی بات
سبحان اللہ، کیس در- نایاب کا کس جوہر نایاب کے لئے کیا نایاب کلا ہے. واہ.