مجھے آج متعدد ای میلز آئی ہیں جس میں مجھے نئے اسلامی سال کے آغاز پر کئی مبارکبادیں بھیجی گئی ہیں ۔ میراوہی ایک پرانا رونا اور دکھ ہے جو آج آپ سب کے ساتھ بانٹناچاھتی ہوں کیونکہ اس ازیت دینے والوں میں ادیب ، صاحب فکرودانش ،وکیل ، ڈاکٹر اور انجنئرز بھی شامل ہیں ۔ میں جان بوجھ کر ایسے لاعلم لوگوں کو اس میں شامل نہیں کر رہی جنہیں اس موقع پر “مبارکباد“ دینے یا لینے سے کوئی غرض نہیں ہے ۔
دوستو یہ تو “غم کا مہینہ ہے“ اور غم بھی اس خانوادے کا جن کے زکر کے بغیر درود مکمل نہیں اور وہ درود جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ۔ اس غم میں مبارکباد کیا معنی رکھتی ہے ۔ یہ تو سرا سر دل دکھانے والی بات ہے ۔۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا صاحب فکر و شعور کو غم کے آداب بھی نہیں آتے ۔۔ کیا ان کواسلاف سے یہی تربیت ہے کہ جب پوری فضا سوگوار ہو اور غم حسین سے بوجھل ہو ۔۔ اس موقع پر چمکیلے بھڑکیلے مبارکبادکے اشعار والے کارڈ ایک دوسرے کو بھیجے جائیں ۔
ہمارے تو ہجری سال کا آغازاور اختتام دونوں قربانی پر ہوتا ہے ۔۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم آج سے صرف ایک دوسرے کومبارکباد کی بجائے دعائیں بھیجا کریں اورایک دوسرے کے جذبات کا احترام کیا کریں ۔۔
پاکستان جیسے ملک میں انگریزی سال کے شروع ہونے پر ہیپی نیویئر کی تقریبات کے خلاف تحریکیں چلتی ہے اور اسلامی جماعتیں ڈنڈے کے زور پر بھی ایسی تقریبات کو روکتی ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ یہ اسلامی جماعتیں اس وقت کس سانپ کے غا رمیں روپوش ہیں جنہیں اس مہینے کی حرمت کی پامالی نظر نہیں آتی ۔
74 thoughts on “محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟”
Comments are closed.

السلام علیکم
محترم احبابِ محفل میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب نے محترمہ عنیقہ ناز کے تبصرے کا صرف ایک ہی پہلو سامنے رکھ لیا ہے جبکہ اُنہوں نے اپنے تبصرے میں نہایت ہی مناسب اور اچھی باتیں بھی رقم کی تھی ۔ محترمہ عنیقہ ناز صاحبہ نے اپنے تبصرے کا آغاز اِن جملوں سے کیا تھا ۔
مجھے افسوس ہے کہ ویسے تو ہم میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ مسلمان قوم فرقہ بندی سے دور ہوجائے۔ اور ہم ایک دوسرے کو برداشت کا سبق بھی پڑھاتے رہتے ہیں لیکن جب بھی اسکا عملی ثبوت دینا کا وقت آتا ہے تو ایک دوسرے کو کافر اور یزید کہنے سے نہیں چوکتے۔ حالانکہ یزید کی یہ شکست کم نہیں کہ آج مسلمانون میں چاہے وہ شیعہ فقہہ سے تعلق رکھے یا سنی سے کوئ اپنے بچوں کا نام ان پہ نہیں رکھتا۔
یہ باتیں نہایت ہی غور طلب تھی اور خصوصا ،
حالانکہ یزید کی یہ شکست کم نہیں کہ آج مسلمانون میں چاہے وہ شیعہ فقہہ سے تعلق رکھے یا سنی سے کوئ اپنے بچوں کا نام ان پہ نہیں رکھتا۔
مگر ہم سب ہر خود کو اور عالمی آخبار کو غیر جانبدار ظاہر کرنے میں لگ گئے ہمیں اُن کے تبصرے مین موجود بنیادی پیغام کو سمجھنا چاہیے ، محترمہ درست فرماتی ہیً کہ ،
جہاں تک بدعات کا تعلق ہے تو اسکی حدود اگر متعین کرنے بیٹھیں تو بہت ساری گرو ہ بندیوں کا کوئ جواز نہ رہے گا اور ایک سیدھا سادہ سا دین نکل آئے گا جو انسان کی فلاح اور انسانیت کو جوڑے رکھنے کے لئیے وجود میں آیا۔
میں خود سمجھتا ہوں کہ ہم نے ( ہر دو فرقوں نے ) دین پر اپنی خواہشات کا بوجھ ڈال رکھا ہے ورنہ دین نہایت ہی سادہ اور عام فہم ہیں ۔
لفظ مبارک کا مطلب ہے برکت ہو. خدا اس میں برکت دے. مبرکباد کہنا اتنا قابل افسوس نہیں ہو سکتا. ایک سال صرف وقت کے ایک سنگ میل کو ظاہر کرتا ہے اور آپکو یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ وقت کے اس یونٹ میں آپ نے کیا کیا اور آئندہ کے لئے کیا کر سکتے ہیں. جیسے ہمارا مالی سال جون میں شروع ہوتا ہے. دلچسپی کی بات یہ ہے کہ چین جنکا کوئ مذہب نہیں انکی بھی نئے سال کی تقریبات ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنے انداز میں مناتے ہیں. دنیا کی دیگر تہذیبوں میں فصل کے کٹنے یا بارش کے ساتھ تہوار وابستہ ہے کہ وہ خوشحالی کا پیغام لاتی ہے.دنیا کے ہر حصے میں مذہبی تہوار بھی ہوتے ہیں اور ثقافتی تہوار بھی اور قومی تہوار بھی. جیسے ہم جشن آزادی ، یوم دفاع، یوم پاکستان مناتے ہیں.
اب اپنے ان تمام ساتھیوں سے جس میں انہوں نے خوشی کی بات کی ہے. ان سے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ میں نے کب کہا کہ عیسائییوں کا نیا سال منایا جائے یا میں مناتی ہوں. یا یہ کہ مسلمانوں کا نیا سال منایا جائے یا میں مناتی ہوں. یہ بھی میں نے نہیں کہا کہ اسے رقص وخمر کی محافل سے آراستہ کیا جائے. ان دو کاموں میں سے کوئ کام میں خود بھی نہیں کرتی نہ کسی اور کے لئےپسند کرتی ہوں.لیکن اس وقت اس موضوع پہ جتنے دلائل پیش کئیے گئے. ان میں سوائے اس بات کہ کچھ نہیں کہ اسے افسوس سے منانا چاہئیے. حالانکہ رسول اللہ کی زندگی میں عام الحزن کا سال ایسا گذرا کہ وہ سال انکے لئے جذباتی طور پہ بےھد تکلیف دہ رہا. لیکن انکی زندگی میں ہم دوبارہ اس چیز کا تذکرہ نہیں سنتے.
یہی وہ فرق کا نکتہ ہے جہاں سے دو گروہ وجود میں آگئے. ہمارے لئے نواسہء رسول جرائت،عزم، استقامت اور حق پہ جمے رہنے والے پیکر ہیں. جن سے مسلمان ہی نہیں دنیا کا ہر شخص جرائت سیکھتا ہے.ہم اس مہینے انکی شخصیت کی عظمت کو سلام کرتے ہوئے اس چیز کا عزم کرنا چاہیں گے کہ ہم بھی اسی طرح حق کی راہ میں استقامت دکھائیں اور دوسرے گروہ کے لئے یہ غم کا مہینہ قرار پایا.
یہ ہر ایک کی بالکل ذاتی مرضی ہے کہ وہ اس واقعے کے پس منظر میں کیا دیکھتا ہے. مجھے تو اس چیز پہ بالکل اعتراض نہیں کہ آپ اسے کسطرح مناتے ہیں یا کیا کرتے ہیں، یا اسے کس طرح دیکھتے ہیں. درحقیقت میں سنیوں کی اس کثیر تعداد میں سے ہوں جو دس محرم کو مھفل شام غریباں ضرور ٹی وی پہ دیکھتے ہیں. مجھے صرف ایک چیز پہ اعتراض ہے اور وہ یہ کہ کسی بھی فقہہ کے لوگ اپنی عقیدت و محبت کو اس سطح پہ نہ لیجائیں جہاں دوسرا گروہ قابل تحقیر جانا جاتا ہے.اسی شدت محبت میں لوگ جب دلائل دینے پہ آتے ہیں تو یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ رسول اللہ کو زندگی نے مہلت نہ دی ورنہ وہ نئے سال کا فیصلہ بھی کر دیتے ایسا لگتا ہے جیسے رسول اللہ نعوذ باللہ نبی نہ ہوں. ایک سیاسی لیڈر ہوں.
اس موضوع پہ صرف اس تناظر میں گفتگو ہو سکتی ہےکہ کیا ہمیں ہر ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے؟ دوئم یہ کہ اگر ہمارے بچوں کو اسلامی سال کے مہینوں کے نام نہیں پتہ تو انہیں کیسے پتہ کروایا جائے؟
مزید باتیں جو میرے دماغ میں آئیں وہ یہ کہ کیا رسول اللہ کے زمانے میں عرب عیسائ کرسمس اسی طرح مناتے تھے جیسے آجکل مناتے ہیں اور کیا رسول اللہ انکی دعوتوں اور تہواروں میں بالکل شرکت نہیں کرتے تھے؟ چہارم کیا دوسرے مذاہب کے تہواروں اور انکی ثقافت کے بارے میں جاننا بالکل منادی ہے؟
مذہب سے ہٹ کر دنیا بھر میں کنزیومیرزم کو فروغ دینے کے لئے اس طرح کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسےبرتھ ڈیز، نیو اءیر، ویلنٹائنز ڈے، مدرز ڈے، فادرز ڈے. یہ سب اس لئیے ہے کہ اپنی پروڈکٹ کو زیادہ سے زیادہ بیچنے کے مواقع نکالے جائیں. اگر آپ اس اپروچ کے خلاف ہیں تو نہ کریں. مگر اسکا مذہب سے رشتہ جوڑنا مجھے سمجھ نہیں آتا.
آخر میں یہ کہنا ہے کہ جب معاملات وسیع تناظر میں دیکھے جا رہے ہوں تو فرد واحد کی اپنی مثال نہیں رکھی جا سکتی کہ میں یہ کرتا ہوں.دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں اور نظام میں اتنی لچک رکھنی پڑتی کہ وہ ہر طرح کے لوگوں کو سمو لے.
میں نے اس وقت اس بلاگ پہ لکھنا اس لئے ضروری سمجھا کہ میرے تبصرے سے پہلے سب لوگ صرف ایک بات کہہ رہے تھے اور اسکے لئے جو دلیل انکے سمجھ میں آرہی تھی دے رہے تھے. اس تصویر کے کئ رخ ہیں جنہیں میں نے اس میں ڈالنا ضروری سمجھا.
السلام علیکم
اس بلاگ پر خاموش رہنے کا ارادہ تھا. بھڑکیلے کارڈ بھیجتے وقت یہ ضرور دیکھ لینا چاہیئے کہ آپ جسے کارڈ بھیج رہے ہیں اُس کی دل آزاری کا سبب نہ ہو.
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضرت امام حسین رض کی قربانی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے . اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کے لیے قابلِ احترام ہیں.
تاہم بلاگ کے موضوع کے حوالے سے میرے کچھ سوالات ہیں
1. لفظ “مبارک” کس زبان سے نکلا ہے اس کے لغوی معنی کیا ہیں
کیا یہ برکت سے نکلا ہے. جب ہم کسی کو مبارک دیتے ہیں تو کیا اسے خیر و برکت کی دُعا دیتے ہیں یا ہلہ گلہ منانے کی دعوت.
2. اسلام میں کن مواقع پر مبارک دینا جائز ہے. اس سوال کا جواب دیتے وقت اگر اسوہء حسنہ سے حوالہ جات دئیے جائیں تو بہتر ہوگا.
3. ہم میں سے نوے فیصد لوگ اپنی نہیں تو اپنے بچوں کی سالگرہ ضرور مناتے ہیں. مبارکباد بھی دیتے ہیں یہ فعل مکروہات میں شامل ہے
یا گناہ ہے . کیا اسلام میںشادی کے موقع پر یا بچے کی پیدائش پر مبارک دینا جائز ہے یا نہیں.
4. ہمیں مغرب کی جانب سے تہذیبی یلغار کا سامنا ہے. نیو ائیر . برتھ ڈے ، اینیورسری، ویلنٹائن ، کرسمس جیسے تہوار دپنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اور اکثر مسلمان گھرانوں میں منائے جاتے ہیں. سو اسلام کی جانب مائل ہونے کچھ نوجوان اپنی الگ شناخت کے لیے اسلامی سال کے آغاز پر مبارک باد بھیجنے لگے . یہ اُن کی معصومانہ کوشش ہے . کوئی مذموم حرکت نہیں
5. معاشرے میں اسلامی شعائر کے مطابق سادگی کسی گھرانے میں نہیں پائی جاتی . ہم سب دنیا دار لوگ ہیں .
دُنیا سکڑ گئی ہے آپ مغرب کی رنگا رنگ تہذیبی یلغار کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں. اور نوجوانوں کو کیا مشورہ دیتے ہیں.
6. کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی کیلنڈر رائج نہیں ہو سکتا . جب تک کیلنڈر رائج نہیں ہو گا ہم سب اسلامی تاریخ اخبار سے ہی دیکھتے رہیں گے
والسلام
زرقا
خواتین و حضرات مجھے یقین ہے کہ یہ گفتگو علمی اور اکتسابی رہے گی اور ہم کسی کے عقیدے یا مسلک کو براہ راست نشانہ نہیں بنائیں گے.ایسی صورت میں ”خطرہ فساد” کے پیش نظر انتظامیہ کو اپنا ادارتی حق استعمال کرنا پڑے گا جو ہماری اولیں ذمیداری ہے کیونکہ یہ اخبار سب کا ہے کسی خاص گروہ،مسلک.نظریے یا فرد کا نہیں.
اخبار کے مدیر اعلیٰ کے طور پر ایسے بلاگوں میں خاص طور پر مجھے شرکت نہیں کرنی چاہیئے اور نہ ہی ادارتی عملے کے ارکان کو،کیونکہ ہمارے لکھے ہوئےکو اخبار کی پالیسی سمجھ لیا جاتا ہے اور اسطرح ہمیں ناکردہ گناہ کے طور پر مخصوص قسم کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. فی الحال اسوقت یہ خاکسار، نائب مدیر اعلیٰ ڈاکٹر نگہت صاحبہ اور بزرگوارم شمس جیلانی اس موضوع پر گفت و شنید کر رہے ہیں کہ کیا اس قسم کے بلاگوں میں جس میں مسلک.عقیدے اور مخصوص عینک سے دین کو دیکھا جائے…اس میں ادارتی عملے کو شامل ہونا چاہیئے یا نہیں. اگلے قدم کے طور پر اس معاملے پر باقی ادارتی عملے کی رائے بھی لی جائے گی کیونکہ ہمارے ہاں فیصلے سب کی آراء اور گفت و شنید سے ہوتے ہیں. یہ تو تھی ایک انتظامی وضاحت.
اب صرف چند نکات پر اپنی طالبعلمانہ رائے دینا چاہتا ہوں اور تبادلہ خیال کے معاملے میں آج سے نہیں برسوں سے میرا یہ عملی فلسفہ ہے کہ دوسرے فریق کو شعوری طور پر نشانہ بنائے بغیر اپنی بات کو کھُل کر کہا جائے اور دوسرے کی بات کو مکمل توجہ سے سنا جائے اور نہ میں آپکو مجبور کرؤں کہ آپ میری بات کو بس تسلیم کریں اور نہ آپ یہ چاہیں کہ فقط آپکا کہا ہی قرآن کا فرمان ہے اور اسے مانا جانا چاہیئے.
سب سے پہلی بات تو یہ کہ اکثر احباب بار بار یہ لکھ رہے ہیں کہ محرم میں سوگ ایک خاص فقہ یا فرقے کی بات ہے. دراصل کبھی دھڑکتے دل پر دایاں ہاتھ رکھ کر سنیں تو آواز آئے گی کہ یہ سوگ کسی فرقے،مسلک حتیٰ کہ کسی ایک دین کا نہیں بلکہ آفاقی اور آفاق کی حدود سے بھی ماورا سوگ ہے. بات صرف اور صرف احساس کی ہے اور احساس عطائے پروردگار ہے کہ اس کے بغیر سانس لیتا آدمی بھی ایک لاش ہی ہے. اگر ہم ذہنی اور قلبی طور پر اس بات کو مان لیں کہ حسین اور اہلیبیت کا غم ہم سبکا ہے اور ہم اپنے اپنے انداز میں احترام کے ساتھ اسے منائیں تو آدھے سے زیادہ مسائل ختم ہو جائیں گے.
میں چونکہ یہاں نام بنام نہیں لکھ رہا اس لیئے مجموعی تبصروں میں چند اہم نکات کا جواب یا وضاحت کر رہا ہوں وگرنہ کچھ احباب نے تو ایسے ایسے سوال کیئے ہیں اور نکات اٹھائے ہیں کہ انکے لیئے اس بلاگ کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور کم از کم میں اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کسی رخ سے بھی ان نکات کا جواب دینے یا ان پر روشنی ڈالنے کا اہل نہیں. ہاں آپ میں سے جن خواتین وحضرات کو علم قرآن، علم حدیث،تاریخ اسلام اور تقابل ادیان پر ید طولیٰ حاصل ہے وہ ضرور ان نکات پر بیان کریں.یا پھر جامع الاظہر سے رجوع کریں.
ایک بات اور یہ کیا ضروری ہے کہ ہر بات کا جواب میں یا اخبار کا کوئی فرد دے. آپ دوست بھی تو دوسروں کے نکات کی وضاحت کریں اور اس پر روشنی ڈالیں. یہ بلاگ کوئی عالمی اخبار کی انتظامیہ کو مخاطب کر کے نہیں لکھے جاتے کہ کچھ احباب ہم سے یہ مطالبہ کریں کہ فلاں نکتے کا اور فلاں مبصر کا جواب ہم نے کیوں نہیں دیا. یاد رکھیں کہ بلاگ بنیادی طور پر آپ لوگوں کا کام ہے ہمارا کام اسکی نگرانی اور اسے فساد کا موجب بننے سے بچانا ہے. یہ بھی اللہ کے لیئے اپنے دھیان میں رکھیں کہ یہ اخبار بنیادی طور پر روزنامہ ہے اور اسکے انیس بیس شعبوں کو روزانہ صرف تین چار لوگ لکھتے اور دن میں کم از کم تین بار اپ ڈیٹ کرتے ہیں. اس لیئے بلاگ میں لکھنا اور ہر بات اور نکتے کا جواب دینا نہ ہمارا فرض ہے اور نہ کام. یہ بس اس لیئے لکھتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے ساتھ شامل سمجھیں.
رہی بات لفظ مبارک کی،،،تو پہلی بات یہ کہ جو لوگ محرم کے ایام میں خوشی یا مسرت منانا چاہتے ہیں ضرور ایسا کریں.جب کوئی قرآن،حدیث اور فرامین رسول کا حکم نہیں مان سکتا تو پھر بھلا ہم آپکی اوقات کیا ہے. لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ غلط کام کو غلط نہ کہا جائے کیونکہ یہ حکم پروردگار بھی ہے اور اخلاقی تقاضہ بھی.
رہی بات لفظ مبارک کی…..تو اسوقت میرے سامنے تین مختلف لغات کی متعدد جلدیں موجود ہیں جن میں اس کا ایک نہیں کم از تیس پینتیس مطب لکھے ہوئے ہیں. ان میں سے چند میں یہاں تحریر کر دیتا یوں اور یہ مطالب ”مہذب اللغات کی جلد گیارہ اور صفحہ 406 سے 408پر موجود ہیں.
خوشی،تہنیت،خوشخبری،نیک،سعید،بھاگوان،منحوس کی جگہ،برکت،مژدہ وغیرہ. یہاں چونکہ ادبی یا لسانی بحث نہیں ہے اور ہم لفظ مبارک کو عربی پس منظر میں بھی نہیں دیکھ رہے.یہ مسلہ معاشرتی رواج اور رسوم کا ہے کہ ہمارے ہاں مبارک سے مرآد خوشی اور تہنیت ہی لی جاتی ہے.میں ایک بار پھر آپ سے دست بستہ پوچھتا ہوں کہ کیا ہم اپنے گھروں میں خدا نہ کرے کسی کی برسی، سوئم ،چہلم یا وفات کے حوالے سے مبارک کا لفظ استعمال کرتے ہیں؟ بس اسکا جواب آپ کے اپنے پاس پے.
رہی بات مغرب کی یلغار کے مقابلے کی تو وہ ہمیں کرنا ہے اور شاید ہم جیسے وہ لوگ جو مغرب میں رہ رہے ہیں اور اس فضا میں سانس لیتے ہیں انکو یہ مسلہ آپ سے زیادہ شدت سے درپیش ہے اور الحمد اللہ کم از کم پچاس فیصد سے زائد والدین اپنی اولاد کی تربیت میں کامیاب ہیں. ورنہ مجھ جیسا سال میں دو بار بھی پاکستان جانے والا انسان جانتا ہے کہ وطن مولد میں ایک نئی نسل کا اخلاقی، دینی ،لسانی اور سماجی حال کیا ہے. اسکو بچوں کی معصوم حرکت کہنے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن آپ نے روزمرہ زندگی میں دیکھا ہو گا کہ اکثر معصوم حرکتوں کے کیا نتائج نکلتے ہیں. یہی وہ مقام ہے جہاں پر زیرک والدین کو اپنا فرض ادا کرنا ہوتا ہے کہ وہ بچوں کو شروع میں ہی ایسی معصوم حرکت سے باز کریں تا کہ کل کو یہی مزموم حرکت نہ بن جائے. اسمیں کیا حرج ہے کہ بچے کو بتایا جائے کہ ایسے ایام میں مبارک یا گریٹنگز کے الفاظ کی بجائے کوئی دعائیہ لفظ یا فقرہ استعمال کر لیا جائے. یہ سارا معاملہ تہذیب و تربیت کا ہے.
رہی بات پاکستان میں اسلامی کیلنڈر رائج کرنے کی تو شاید یہ بہت سے دوسرے خوابوں کی طرح خواب ہی رہے لیکن میں برطانیہ سمیت کچھ مغربی ممالک کے بارے میں جانتا ہوں کہ جہاں اسلامی عدالتوں،اسلامی رسوم و رواج اور اسلامی کیلنڈر کچھ شعبوں میں مسلمانوں کواستعمال کرنے کی اجازت ہے اور وہ اپنے تمام اعلانات اور تقریبات اسلامی تاریخوں سے ہی مشتہر کرتے اور منعقد کرتے ہیں.
ایک اور نکتہ یہ کہ کچھ احباب کا یہ کہنا کہ اس دور میں کوئی بھی اپنے بچے کا نام یزید نہیں رکھتا. جناب میرے پاس کم ازکم پچاس مثالیں ایسی ہیں پاکستان میں بھی اور بیرون ملک بھی جہاں لوگوں کے نام یزید ہیں. میں ایک انتہا پسند مذہبی جماعت کا نام اسوقت نہیں لینا چاہتا جس کے صف اول کے ایک فرد کا نام یزید ہے. اور میرا خدا مجھے معاف کرے کہ میں نے برطانیہ کے شہر ڈڈلی میں دو سال قبل ایک ادبی دورے کے دوران ایک نوجوان کا نام ”یزید علی” سنا تھا.
آخر میں صرف اتنا عرض کرؤں کہ بات کو دیگر جہتیں دینے سے نئی نئی موشگافیاں نکلیں گی اور ہھر ہوسکتا ہے کہ یہ گفتگو ہم سب کے ہاتھ سے نکل جائے.
بس اس بات پر مرکوز رہیں تو بہتر ہے کہ کیا…اسلامی نئے سال کے آغاز پر ہمیں کم از کم مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا کی بجائے مبارکباد کہنی چاہیے؟ یا پھر ایسے چمکدار کارڈ بھیجنے چاہیئیں. کیا کریں جب ہم ایسی بات کی مخالفت کرتے ہیں تو ہمیں رجعت پسند کہہ دیا جاتا ہے.
بات اب واقعی میرے جیسے قارئین کی سطح سے کافی بلند ہو گئی ہے
نئے اسلامی سال کی مبارکباد دینے یا نہ دینے کے حوالے سے تو بات کافی ہو چکی. دونوں طرح کی آراء آ گئیں. اس پر مزید بھی عرض کیا جا سکتا ہے لیکن میرے خیال سے دل کو یہی کہنا مناسب ہے کہ ’’خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا‘‘.
کافی مفید گفتگو ہے، علم میں اضافہ ہوا، اگرچہ سب مندجات سے اتفاق نہیں.
البتہ ایک بات جو زرقا مفی صاحبہ نے کی اس حوالے سے اپنی طالبعلمانہ رائے عرض کرنا چاہ رہا تھا
3..( ہم میں سے نوے فیصد لوگ اپنی نہیں تو اپنے بچوں کی سالگرہ ضرور مناتے ہیں. مبارکباد بھی دیتے ہیں یہ فعل مکروہات میں شامل ہے
یا گناہ ہے . کیا اسلام میںشادی کے موقع پر یا بچے کی پیدائش پر مبارک دینا جائز ہے یا نہیں. )
سالگرہ منانا، نئے سال کی خوشی منانا ……………… یا اس طرح کے دیگر مواقع جسے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے
اس سلسلے میں ایک بات تو یہ مد نظر رکھنی چاہیئے کہ ہر وہ کام جو کسی خاص مذہب یا تہذیب کا خاصہ بن چکا ہو، بلکہ انہی کی طرف سے ابتدا ہوئی ، وہیں پروان ہوا، پلا بڑھا ہو اور ان کی زندگی اور رسم و رواج کا حصہ بن گیا ہو تو اس کام سے بحیثیت مسلمان اجتناب کرنا ضروری ہے.
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کام کے کرنے سے ہم ان کی مشابہت کرتے ہیں جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے.
سالگرہ منانے کی تاریخ سے آپ بخوبی آگاہ ہوں گے، کم از کم اسلامی کی ابتدائی کئی صدیوں تک میرے علم میں کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ سالگرہ منائی جاتی ہو.
بطور خاص وہ دور جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے ……… دور نبوت علی صاحبہا افضل التسلیمات اور عہد خلافت راشدہ
لہذا ان سے اجتناب ہی بہتر ہے
البتہ شادی یا بچے کی پیدایش پر مبارکباد دینا کسی کو دعا دینے کے زمرے میں آتا ہے، کیوں کہ مبارکباد کا اصل برکت ہے جو کہ عربی زبان سے ماخوذ ہے اور ہماری تعلیمات میں بے شمار مواقع پر خیر و برکت کی دعا دینے اور شر سے محفوظ رکھنے کے حوالے ملتے ہیں.
لہذا شادی پر کسی کو برکت کی دعا دینا کہ اللہ ان کی خوشیوں میں برکت یعنی اضافہ فرمائے خلاف اسلام یا مکروہ نہیں
لیکن ہر سال اس دن کو ایک رسم کے طور پر منانا، ہر سال شادی کی سالگرہ یا بچے کی سالگرہ منانا میرے خیال سے ہمارے روایات کا حصہ کبھی نہیں رہا.
اب یہ شروع ہوا ہے لیکن اتنا عام ابھی تک نہیں ہوا، اس لئے اس مشابہت اغیار سے بچنے کے لئے اس سے اجتناب بہتر ہے، اور اگر شر اغلب ہو تو یقینا مکروہ ہی نہیں بلکہ ناجائز ہو جائے گا.
راجہ اکرام بھائی ماشا اللہ۔بہت خوب۔ میں نے کہا تھا نا کہ میں آپ سب سے روزانہ کچھ نہ کچھ سیکھتا ہوں۔سو آج اپ بھی ہمارے استاد ہوئے۔اچھی بات کی ہے آپ نے کہ۔۔۔مشابہت اغیار سے بچنے کے لئے اس سے اجتناب بہتر ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی ایک کلید ہے ایسے کاموں سے بچنے کی۔ لیکن آپ کےاس فقرے سے بصد احترام اختلاف کا حق رکھتا ہوں کہ ۔۔۔’’خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا‘‘.
شکریہ راجہ صاحب
لیکن معاف کیجیے گا ہم یہ سب کرتے ہیں. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پچھلے 25 سال سے سالگرہ، شادی کی سالگرہ نیو ائیر کی مبارکبادیں ہماری ثقافت میں داخل ہو چکی ہیں.پچھلے پانچ سال سے ویلنٹائن ڈے بھی کسی فیشن طرح عام ہو گیا ہے. متشابہات سے کون اجتناب کرتا ہے . ہمارے لباس رہن سہن گفتگو تعلیم ہر اک بات میں ہم اُن کی پیروی کرتے ہیں.
آپ نے مبارکباد کا بھی بالکل درست مطلب بیان کیا
عید کا مطلب ہے خوشی اور
مبارک کے معنی باعث برکت نیک یا سعید ہے
اگر ہم کسی کو نئے سال کی مبارک باد دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اُسے خیر و برکت کی دُعا دے رہےہیں . اور دُعا تو ہر موقعے پر دی جاسکتی ہے
آخر میں یہی لکھنا چاہتی ہوں کہ میں پہلے اسی لیے خاموش تھی کہ کسی کی بھی دل آزاری نہیں کرنا چاہتی تاہم لفظ مبارک کے ماخذ اور اس کے معانی پر غور کرنے کے بعد جو سوالات میرے ذہن میں اُبھرے وہ پیش کئے .
والسلام
زرقا
لفظ مبارک کا فقط ایک معنی نہیں ہے یہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں. درجنوں معانی میں سے مروجہ عام معنی یہ بھی تو ہیں.خوشی،تہنیت،خوشخبری،نیک،سعید،بھاگوان،منحوس کی جگہ،برکت،مژدہ وغیرہ….مسلہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم کس موقع پراور کس نسبت سے کس مقصد کے لیئےاس لفظ کو استعمال کر رہے ہیں.اب ہم لسانیات کی بھول بھلیوں میں پڑ رہے ہیں. میں ّربی کے کچھ الفاظ ایسے لکھنا چاہتا تھا جنکے عربی میں معانی برے نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں مخصوص حوالوں سے انتہائی غلیظ معانی ہیں. مسلہ کسی لفظ کا بر محل استعمال ہے اور خاص طور کثیر المعانی الفاظ کا. میرا ابھی بھی یہ خیال ہے کہ اس مسلے کو بس یہ کہہ کر بات ختم کر سکتے ہیں کہ جو نئے اسلامی سال کے آغاز پر یکم محرم کو محفل موسیقی برپا کرنا چاپتا ہے یا محفل خمر کا اہتمام کرنا چاہتا ہے یا موسیقی سے مزین مبارکبادی کے رنگ برنگے کارڈ بھیجنا چاہتا ہے ضرور بھیجے یہ اسکا اپنا ذاتی وصف ہے اور ہر کسی نے اپنی قبر میں جانا ہے. لیکن بس درخواست اتنی سی ہے کہ اپنے ان احباب اور دوستوں کا بھی خیال رکھے جنکی اس سے دل آزاری ہو سکتی ہے اور انہیں ذہنی اور قلبی تکلیف پہنچ سکتی ہے. اسی کو تو کہتے ہیں. لکم دین کم ولی دین.
اتفاق کی بات ہے کہ 19 دسمبر بمطابق یکم محرم الحرام میری پیدایش کا دن بھی تھا مگر کسی کی کیا مجال کہ مجھے سالگرہ مبارک کہے۔
نہ میں نے کسی سے کچھ کہا اور نہ کسی نے مجھ سے کچھ کہا ۔
پورا دن حسین ( ع) کے قافلہ کی مصیبتوں اور قربانیوں پر غور کرتے ہوئے گذرگیا ۔
19 دسمبر کو میرے ذہن میں کسی شاعرکا یہ شعر بھی موجود تھا کہ:
غافل تجھے گھڑیا ل یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹادی
۔۔۔۔۔
اللہ خاتمہ بخیر کرے اور عاقبت بھی بخیر کرے
فقط:
اللہ کی مرضی پر راضی
منظور محی الدین قاضی
از جرمنی
محترم قارئین اسلام علیکم
طویل گفتگو کے بعد کسی طرح وہ مقام نہیں آیا کہ ہم ساری دنیا تو نہیں کم از کم اپنے چند احباب کے اختلافات کو کم کر سکیں غلطیاں دونوں جانب سے ہیں اگر ہم اپنی غلطیوں کا احساس کریں انہیں کم کرنے کی کوشش کریں تو مفاہمت کی کوئی صورت بن سکتی ہے.
سب سے پہلے تو میں اپنے زیادہ نہیں تو دو اہل تشیع دوستوں سے درخواست کرونگا کہ آپ ہمارے قابل احترام بزرگوں کے لئے ناپسندیدہ الفاظ نہ استعمال کیجئے اور ایسا کرنے والے کو دل سے برا سمجھئے اور اگر ہم میں سے ہر ساتھی صرف دو دوستوں کو کی توجہ اس جانب مبزول کرئے تو آہستہ آہستہ صورت بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ یہ اختلاف کی بڑی وجہ ہے.
اب میں آتا ہوں اپنے ہم عقیدہ احباب کی جانب. دیکھئے ہم نے بھی کبھی مقابلے میں دو قدم آگے بڑھنے سے گریز نہیں کیا اور ہر چیذ جب شروع ہوتی ہے تو بُری نہیں لگتی مگر آہستہ آہستہ اس کی اصلی شکل نظر آتی ہے کون جانے آج کا یہ سالِ نو مبارک اور مبارکباد کے یہ کارڈ کل کیا رنگ لائیں گے. اور کوئی تعجب نہیں کہ آج سے پندرہ سال بعد یہ سالِ نو کا جشن کلبوں میں رقص گاہوں میں اور اسبابِ تعیش و حرام کے درمیاں منایا جانے کا رواج ہوجائے اور آج نہیں روکیں گے تو کل روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا. اور آپ جو اس رسم کی بنیاد ڈالنے میں معاون یا اس کو روکنے سے باز رہنے والے ہیں اس کے ذمہ دار ہوں گے.
اس کی ایک مثال حاضر ہے اس خیال میں آپ مجھے شیعہ ہم خیال. کافر. یا پاگل کہنے سے پہلے دو مرتبہ صرف غور کرلیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ شخص صحیح کہہ رہا ہو.
آج سے چالیس سال پہلے میرے چند قابل احترام بزرگوں نے (جن کی قربت کا شرف و اعزاز مجھے حاصل رہا) یہ فیصلہ کیا کہ ہم بھی شیعہ حضرات کی طرح ایک جلوس نکا لیں اور یہ جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر نکالا جائے اور پھر شاید دنیا میں پہلی مرتبہ نور مسجد نزد جوبلی سینیما سے ایک ہاتھی اور اونٹوں پر سوار لوگوں کا جلوس نکلا جس کی قیادت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صاحب اور علامہ شفیع اوکاڑوی صاحب نے کی ..” ایک نئی رسم ” کوئی بات نہیں . گو کہ اس کےپیچھے صرف مقابلے کی خواہش پوشیدہ تھی. اور اب یہ حال ہے کہ یہ جلوس کم از کم پورے شہر کراچی میں اس طرح نکلتا ہے کہ دوسرا سار نظام درہم برہم ہوجاتا ہے. آپ کہیں گے تو پھر کیا ہوا ہمارے پیارے نبی صلعم کی ولادت کی خوشی کے موقع پر اگر ایک دن شہر کا نظام معطل ہو گیا تو کیا ہوا(جاری)
لیکن آپ کےاس فقرے سے بصد احترام اختلاف کا حق رکھتا ہوں کہ ۔۔۔’’خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا‘‘.
مکرمی جناب صفدر ہمدانی صاحب
یہ یقینا آپ کا بڑا پن ہے کہ آپ ہر وقت سیکھنے کے لئے تیار ہیں.. اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے.. آمین
البتہ جس بات پر آپ مجھ سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں وہ بجا لیکن میں یہ فقرہ کہنے پر بالکل حق بجانب ہوں… میری عمر، میرا علم اور میرا تجربہ انتہائی پسماندہ اور افلاس زدہ ہے، اور یہاں پر موجود افراد کے مقابلے میں ابھی میں بالکل طفل مکتب ہی نہیں بلکہ طفل قبل از مکتب ہوں.. البتہ آپ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا. انشاء اللہ
محتاج اصلاح و دعا
راجہ اکرام
زرقا مفتی صاحبہ نے عرض کیا
2. اسلام میں کن مواقع پر مبارک دینا جائز ہے. اس سوال کا جواب دیتے وقت اگر اسوہء حسنہ سے حوالہ جات دئیے جائیں تو بہتر ہوگا.
ایک بات تو یہ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مبارکباد دینے کے طریقے یقینا اس وقت وہ نہیں تھے جو اب رائج ہیں اس لئے اسوہء حسنہ سے بعینہ ایسی مثالیں نکالنا شاید مشکل ہو.اور نہ ہی ان مواقع کی فہرست بنائی جا سکتی ہے کہ کب دی جائے.
البتہ یہاں بھی ایک اصول اگر مد نظر رکھا جائے تو ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہےکہ کب مبارکباد دینا جائز ہے. یا دینی چاہیئے
مبارک کا معنی عمومی طور پر برکت ہی ہے جیسے جمعۃ المبارک، رمضان المبارک، وغیرہ…….. تو جب ہم کسی کو مبارک باد دیتے ہیں تو در اصل ہم اسے برکت کی دعا دے رہے ہوتے ہیں، یعنی کہ اللہ تعالی اس کے اس کام میں برکت عطا فرمائے، اگر کاروبار ہے تو اس میں برکت، اچھے کپڑے یا مکان، یا گاڑی لی ہے تو اللہ اس کو باعث خیر و برکت بنائے یعنی اس کے فوائد سے مستفید فرمائے.
شادی ہے تو اللہ اس کو بابرکت بنائے، اولاد ہے تو اللہ خوشیوں میں اضافہ فرمائے اور باعث برکت بنائے.
تاہم یہ بات ضرور ملحوظ خاطر رہے کہ وہ موقع واقعی خوشی کا ہو اور اس میں مبارکباد دینا عقلا یا شرعا نا مناسب نہ ہو….مشابہت اغیار کا پہلو نہ نکلتا ہو، علی ہذا القیاس
و السلام
محتاج دعا و اصلاح
راجہ اکرام
اب سنئے اس جلوس میں ٹرکوں پر سوار آدھا شہر نعرہء رسالت کی ضربیں لگاتا ہوا سارے دن شہر میں گھومتا ہے.. اب میری اس بات کو غور سے سنئے اُن محبانِ اسلام میں اسّی فیصد جی ہاں اسّی فیصد لوگ ظہر اور عصر کی نماز ادا نہیں کرتے جو کہ فرض ہے… جب ہم کسی واقف کار کی خوشی کا کوئی دن مناتے ہیں تو اُس دن کم از کم اُس دن تو اُس کی خوشیوں کا خاص خیال رکھتے ہیں کیا آج ہم نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیوں کا. ان کے احکامات و فرمودات کا اور ان کے مشن کا خیال کیا ہے.. چھوڑو یار جشن کے دن تو ایسی فضول باتیں مت کرو. نعرہء رسالت…. یا رسول اللہ…..
ایک اور بات… لیاقت آباد میں کئی جگہ مسجدِ نبوی کی شبیح بنائی جاتی ہے (جو تعزئیے کی نقل ہے).ِ جس کے سامنے اہلِ عقیدت ہاتھ باندھ کر اور جھوم جھوم کر یا نبی سلام علیک. پڑھ رہے ہیں میں کچھ بولا تو کسی نے کہا “شی” سواری آئی ہوئی ہے. کچھ لوگ ہاتھ اُٹھائے دعا کر رہے ہیں کچھ دور پر گتّے کا بنا ہوا خانہء کعبہ بنا ہوا ہے یقین کریں لوگ اس کے گرد طواف کررہے ہیں آپ کہیں گے کیا کہانی سنارہے ہو یقین نہ آئے تو اپنی آنکھوں سے جاکر دیکھ لیجئے گا یہ سب کیا ہے؟ بت پرستی صرف بت پرستی.
میں خود اور آپ سب. دوسرے فرقے کے خلاف کہتے ہیں کہ کل جو گھوڑا بگھی میں جتا ہوا تھا اور جسے چابک بھی پڑ رہے تھے آج وہ دلدل بنا پوا ہے اور لوگ اُس کو امامِ عالی مقام کا ذو الجناح (مرتجس) سمجھتے ہوئے ہاتھ لگا لگا کر چوم رہے ہیں یہ کیا ہے.
آب آپ دیکھیں گتّے کا بنایا ہوا خانہء کعبہ اور خاکہء مسجدِ نبوی صلعم کے سامنے دعائیں بت پرستی نہیں تو اور کیا ہے اور یہ تمام دن کی پکنک. غل غپاڑہ کئی جگہ ہنگامے کئی لوگ زخمی. نماز جیسی اہم فرض عبادت سے بے فکری .کیا اچھا طریقہ ہے اُس عظیم ہستی کے احکام کی تعمیل کا. اور آج کے مخصوص دن میں ا س کو خوش کرنے کا . ذرا چشمِ تصور کو وا کیجئے کہ وہ عظیم ہستی آپ کی جانب دیکھ رہی ہے اور پوچھ رہی ہے کہ میری وہ اُمت جس کو میرے احکام کا خیال ہونا چاہئے … کہاں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ کل کے جلوس اور آج کے جلوس کا فرق ہے اب آپ آج کے سالِ نو کا جشن اور بیس سال بعد کے سالِ نو کی مبارک سلامت اور جشن کی تصویر دیکھئے جب جشن میں خوشی ہے . رقص ہے. بوتل ہے اور جانے کیا کچھ .. خدا را مجھے اپنی آنکھیں زور سے بند کرلینے دیجئے نہیں نہیں نہیں یہ کیا ہوگیا.. روکنا ہے تو آج روکئے کل گاڑی گزر چکی ہوگی.
اسلام کے ابتدائی سو سال دیکھئے کہ رسول خدا موجود تھے اُن کے مخصوس صحابی تھے تابع تابعین تھے جنہوں نے اسلام پھیلانے والی ہستیء مبارک کو خود دیکھا اُپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب کچھ خود سیکھا ان کی سنتوں کو دیکھا. اور ان پر عمل کیا. کیا کہیں آپ کو سالِ نو کے جشن کی داستان ملتی ہے؟ کہیں پیارے نبی صلعم کی سالگرہ. کسی مخصوص صحابی کی سالگرہ. کسی اُم المومنین رضی اللہ کی سالگرہ. چاروں شہزادیوں کی سالگرہ. زوالنوریں حضرت عثمانِ غنی (رض) کی سالگرہ دوسرے دامادِ رسول حضرت علی(کرم) کی سالگرہ کی مثال ملتی ہے؟…نہیں… مثال کہاں ملتی ہے… کیک کہاں ملتا ہے… موم بتی کہاں ملتی ہے…. تالیاں اور رقص کہاں ملتا ہے جی ہاں غیر اسلامی عقائد میں. جو ہمارے لئے قابلِ تقلید ہے.
اب آپ کے پاس کہنے کو صرف ایک بات رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ یہ آدمی تو وہابی ہے .. جی جناب ہر صبح کی طرح آج بھی صبح پانچ بجے ایک سنی العقیدہ مسجد کا دروازہ کھول کر تہجد و فجر ادا کرکے احکامِ خداوندی بالکل سنّی عقائد سے تقریباّ سو لوگوں کے ساتھ فرض ادا کرکے آیا ہوں نبی صلعم کی سنّت کے مطابق رمضان اور شش عید کے علاوہ حسبِ توفیق ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہوں گذشتہ گیارہ سال سے اعتکاف کرتا ہوں جو امیرکا کی مصروف زندگی میں مشکل ہے لیکن کل میں بیمار بھی تو ہو سکتا ہوں اس وقت امریکا کی مصروف زندگی کا کیا ہوگا. اور کوں جانے کب یا جلد چار احباب مجھے ایک ویرانے میں چھوڑ آئیں اور تماشہ ختم.
آدمی مثلِ شجر ہے جو ہرا ہے کچھ برس
کٹ کے گر جائے گا اک دن کیوں کہ آرا ہے نفس
یہ سرِ ناپاک کیا ہے ایک ہڈی کا قفس
آ پھنسا ہے ہے جس میں دو دن کے لئے موجِ نفس
موت کا صیاد جب آئے گا شوقِ جبر میں
چُڑیا آُڑ جائے گی پنجرہ پھینک دیں گے قبر میں
آخر میں راجہ اکرام بھائی کا ایک جملہ یاد آیا “مسلمانوں کے لئے دنیا دار الامتحان ہے” کیا امتحان گاہ میں داخل ہونا کوئی بڑی خوشی کی بات ہے جسے تالیاں بجاتے ہوئے ہر سال دہرایا جائے. اللہ ہمیں عقل و شعور کے ساتھ نیک راہ پر چلنے اور اچھا مسلمان اور اچھا انسان ہونے کی توفیق عطا فرمائے. آمین ثم آمین. آپ سب کی دعاؤں اور محبتوں کا امین
کیا ضروری ہے کہ رنگ اس میں عداوت کا بھریں
اس سے پہلے کہ فسانہ کو ہوا دی جائے
کیوں نہ پیغام محبت کا وہاں پہونچا دیں
اس سے پہلے کہ یہ آواز دبا دی جائے
ہلاکو نے جب بغداد پر حملہ کیا تو اُسوقت کے مفتی اور علماء اس بحث میں مصروف تھے کہ اُلّو حلال ہے یا حرام۔
آج جب ساری دنیا ہمیں دہشت گرد ثابت کرنے میں یکجہت ہے تو ہم آپس میں اختلافی بحثوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اختلافی باتیں کرنا بہت آسان ہوتی ہیں۔ اتحاد کی باتیں کرنے کیلئے مواد کی ضرورت ہے۔ یہ کہد ینا بہت آسان ہے کہ کرسمس بدعت ہے۔ ٹلسا کے مسلمان بجائے اختلافی باتیں کرنے کے حکمت سے کام لیتے ہوئے کرسمس کے دن حضرت عیسی، پر اسلامی پروگرام کرتے ہیں۔ مسلمان، عیسائ اور یہودیوں میں جو باتیں مشترک ہیں اُن پر زور دینے میں کیا ہرج ہے ۔ دنیا کے دوسرے مزاہب میں اور اسلام میں جو انسانیت پر زور دیا گیا ہے اس پر بات کرنے میں کیا ہرج ہے۔ چاند پر پہچنے کی کوشش کرنے میں کیا ہرج ہے۔ لیکن یہ سارے کام کرنے کیلئے مواد کی ضرورت ہے جس سے ہم نا آشنا ہیں۔ ملا۔ بنڈت۔ پادری۔ رباعی۔ منک وغیرہ کا تو اختلاف باتیں کرنا ذریعہ معاش ہے۔ لیکن ہم لوگ اگر رواداری سے کام لے لیں تو آسمان کو چھو سکتے ہیں۔
حمایت علی شاعر کا ایک شعر یاد آرہا ہے :
اس کے غم کو، غمِ ہستی تو مرے دل نہ بنا
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا
۔۔۔۔۔۔
کیا محرم الحرام کے ان نازک ترین دنوں میں اس قسم کی بحث سے چودہ سو سال کے تمام مسائل طئے ہوجایینگے؟
۔۔
اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ضروری ہیں۔
۔۔۔
اگر کوئی نماز اور روزہ اور زکا ت اور حج وغیرہ کا پابند ہے تو وہ اللہ کے فر ائض کی تعمیل کررہا ہے اور اسکا تعلق صرف اور صرف اس فرد سے اور اللہ سے ہے۔ جو فرد اسلام کے ارکان کی پابندی کررہا ہے وہ کسی انسان پر یا اللہ پر احسان نہیں کررہا ہے ۔ یہ تو اسکا فرض ہے جس کو وہ پورا کررہا ہے۔ اور وہ اپنے اعمال کا حساب کتاب اللہ کو دینے والا ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کو یہ کہکر رعب جمانے کی ضرورت نہیں کہ میں چھ وقت کا نمازی ہوں اور روزہ ، زکات اور حج کیا ہوں وغیرہ وغیرہ ۔ اگر ایسا کیا ہے اور اللہ نے اسکی عبادت کو قبول کیا ہے اور اس کے محاسن کی تعداد اسکے گناہوں سے کم ہے تو وہ ضرور جنت میں جائے گا۔
۔۔۔۔
حقو ق العباد کا خیال نہ رکھنے سے انسانوں کا دل ٹوٹتا ہے اور محاورہ ہے کہ دل کا ٹوٹنا کعبہ کے ٹوٹنے کے برابر ہے۔
اسلام کے ارکان کی پابندی کرنے والے افراد اگر غیبت اور بغض و عناد کے جذبات کے تحت ایک دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہچاتے رہیں تو وہ جنت میں جانا تو کجا ، کبھی بھی خدا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے ۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔
میرا عالمی اخبار کی انتظامیہ کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اس قسم کے موضوعات کو کم ازکم محرم الحرام کے ان نازک دنوں میں معطل کردیں اور تمام مبصرین سے کہیں کہ وہ اپنے دل و دماغ کو صرف اور صرف حسین ( ع) اور انکے قافلے کے مصائب کے تذکروں پر منہمک رکھیں۔ اور کسی نئے بلاگ میں یہ تجاویز پیش کریں کہ پاکستان کے موجودہ یزیدوں سے نجات پاکر پاکستان کے عوام کی قسمت کو کس طرح سدھارا جاسکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ شیعہ سنی کا معاملہ نہیں ہے یہ پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔
شیعہ سنی اور انکے عقائد چودہ سو سال سے ختم نہیں ہوے اور وہ مزید چودہ ہزار سال تک چلتے رہینگے۔ شیعہ افراد امام حسین ( ع) اور اہل بیت کے مصائب کا ماتم کرتے رہینگے اور یزیدیت پر لعنت بھیجتے رہینگے ۔
۔۔۔۔۔
اسی طرح سنی فرقہ کے افراد اپنے اپنے عقائد کے مطابق جلسے جلوس اور عید میلاد النبی کی تقاریب کی محفلیں اورجلسے اور جلوس منعقد کرتے رہینگے ۔ خواہ کوئی ان پر کفر کا فتویٰ اور ہندوں کی نقالی کرنے کے الزامات ہی کیوں نہ لگائے ۔
۔۔۔۔۔۔
مگر یہ بات ضروری ہے کہ کسی بھی عقیدے کے افراد کی دل شکنی کا حق کسی دوسرے عقیدہ پر چلنے والوں کو نہیں ۔
سب ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کا احترام کریں تو ہی امن اور ہم آہنگی کی فضا برقرار رہ سکتی ہے ۔ ۔
۔۔۔
اس لیے :
“ زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا “
۔۔۔۔۔۔
عالمی اخبار نے پچھلے سال کا محرم جس قدر اس مہینے کے تقدس کو محفوظ رکھکر بسر کیا تھا اسی طرح اس سال کے محرم کو بھی نہایت احترام کے ساتھ بسر کرنا چاہیے ۔
یہ میرا اپنا مشورہ ہے ۔ باقی آ پ سب کی مرضی جو چاہے کیجئے۔
۔۔۔۔۔
فقط :
خیر اندیش
منظور قاضی از جرمنی
محاسن کی تعداد اسکے گناہوں سے “ زیادہ “ ہے پڑھیے شکریہ
اسی طرح کی کمپوزنگ کی غلطیوں کی معافی کے ساتھ :
منظور قاضی
قاضی صاحب آپ خاطر جمع رکھیں.آپ کی دعا سے محرم پورے عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے اور اس میں رخنہ دالنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو گی. اختلاف کوئی بری چیز نہیں اور اکثر اوقات اختلاف اتحار کی وجہ بھی بن جاتا ہے. عالمی اخبار سب کا ہے اور اخوت و محبت کت دائرے میں رہتے ہوئے سب کو اظہار کا حق ہے. سنی شیعہ اختلافات ضرور ہیں لیکن اسکا مطلب ایک دوسرے کیا جان لینا نہیں ہے. کبھی موقع ملا تو دلائل سے عرض کرؤں گا کہ نوے فیصد سے زائد یہ اختلافات فروعی ہیں یا مولوی ،ملاں اور انتہا پسندوں نے پیدا کیئے ہیں.
شعیوں اور سنیوں کی 100 میں سے نوے چیزیں ملتی ہیں جنکی بات نہیں کی جاتی اور جو8 یا 10 نہیں ملتی اس پر برسوں سے لاحاصل بحث جاری ہے. کاش یہ مسلمان علم حاصل کرے،مطالعہ کرے اور فی سبیل اللہ فساد کے داعی ملاں کے چنگل سے نکلے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہو.
میں قاضی صاحب تبصرہ سے سو فیصد متفق ہوں۔
مرحوم مولانا نورانی نےایک مرتبہ فرمایا کہ شیعہ سنی عقائد میں صرف ایک بال کے برابر فرق ہے۔ تو جماعتِ اسلامی نے جواب دیا کہ ایک کے برابر بھی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا قرآن ایک ہے۔
السلام علیکم
اہل عرب جب کسی کو کوئی تہنیتی پیغام دینا چاہتے ہیں تو وہ اپنے پیغام کی ابتداء لفظ ” مبروک “ سے کرتے ہیں جس کے معنی ہیں برکتیں نازل ہوں ، تہینیت وصول کرنے والا شخص جوابا ” اللہ بارک فی “ کہتا ہے جس کے معنی ہیں ( کم و بش ) تمام برکتیں اللہ کی طرف سے ہیں ۔ اپنی کم علمی کے باعث میں اب تک کی ساری بحث سے صرف یہی سمجھ سکا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے پیغام کو اپنی سمجھ کے مطابق معنی دے رہا ہے اور پھر جواب اپنا تبصرہ کر رہا ہے ،
محترمہ نگہت نسیم صاحبہ نے اِس بلاگ کی ابتداء اِن الفاظ سے کی تھی ۔
مجھے آج متعدد ای میلز آئی ہیں جس میں مجھے نئے اسلامی سال کے آغاز پر کئی مبارکبادیں بھیجی گئی ہیں ۔ میراوہی ایک پرانا رونا اور دکھ ہے جو آج آپ سب کے ساتھ بانٹناچاھتی ہوں کیونکہ اس ازیت دینے والوں میں ادیب ، صاحب فکرودانش ،وکیل ، ڈاکٹر اور انجنئرز بھی شامل ہیں ۔ میں جان بوجھ کر ایسے لاعلم لوگوں کو اس میں شامل نہیں کر رہی جنہیں اس موقع پر “مبارکباد“ دینے یا لینے سے کوئی غرض نہیں ہے ۔
محترمہ نے ایک نہایت ہی مناسب بات کی تھی جسے ہم سب نے نظر انداز کر دیا اور اب ہم لوگ اِس بلاگ میں دو فرقوں کی باہمی کشمکش تک پہنچ چکے ہیں اور اپنے اپنے عقیدے کے مطابق دلائل دے رہے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سامنے والا ہماری کسی بھی دلیل سے متفق نہیں ہوگا ( اِس سے میری مراد یہ ہر گز نہیں کہ ہمیں دلائل نہیں دینے چاہیے میں محض یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی سادہ سا بلاگ تھا جسے ہم سب نے خواہ مخواہ ہی پیچیدہ بنا دیا ہے )
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
سب سے پہلے تو کچھ مبصران یہ غلط فہمی دور کرلیں کہ یہاں دو مسالک کی اختلافی بحث جاری ہے۔
ہاں اتنا ضرور ہے کہ ایک غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
اس کے بعد محترم ترمذی صاحب سے بصد احترام گزارش ہے کہ نوجوانوں کے متعلق اُن کے اندیشے بے جا ہیں۔ کیونکہ یہ وہ نوجوان ہیں جو خود اپنی مرضی سے اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ آپ ہی کی طرح نمازی اور اسلامی شعائر کے پابند ہیں۔ ان میں سے اکثر مغربی رسومات کو ترک کر چکے ہیں برتھ ڈے اور نیو ایر نہیں مناتے ۔ ایک دوسرے کو خیر و برکت کی دُعا بھیجنے والے رقص و خمر کی محفلیں بپا کرنے لگیں گے؟؟؟؟؟؟
وہ جو انہی باتوں اور رسومات کو رد کر چکے ہیں؟؟؟؟
آپ میلاد کے جلوس کا حوالہ دیا تو یہ بتاتی چلوں کہ دین ِ اسلام کا مطالعہ کرنے والے نوجوانوں نے میلاد، قل، چالیسواں ایسی سب تقاریب کو بدعت قرار دیا ہے۔
والسلام
زرقا
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے جس طرح نیک نیتی اور صحیح طور پر اور بروقت ایک حساس موضوع پر یہ بلاگ شروع کیا اس پر تو
ستر 70 سے زیادہ تبصرے لکھے گئے مگر ان تبصروں نے پھر سے پچھلے سال کے مبصر افتخار اجمل بھوپال (بھوج پال ) صاحب کے تبصروں کی یاد دلادی جس میں انہوں نے شیعہ اور سنی عقائد کی تنقیص کی تھی ( تحقیق اور تصدیق کے لیے عالمی اخبار کے اس زمانے کے تبصرے پڑھیے اور اسکے بعد جو کھوتا کہانی شروع ہوئی اور جس طرح بھوجپال صاحب کے ساتھ بجا طور پر جو سلوک ہوا اسے بھی پڑھ لیجئے )
۔۔۔۔۔
اسی لیے ہم سب کو چاہئے کہ ایسے موضوعات جن کو چودہ سو سال سے حل نہیں کیا گیا ، انکو چھیڑ کر خواہ مخواہ کہ آ بیل سینگ مار جیسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے ۔ اورکم از کم محرم کے ابتدائی دس دنوں میں نہ کرکے ، ان باتوں کو کسی اور دن کے لیے اٹھا کر رکھ دینا چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
کتنی عجیب بات ہے ، آج پانچ 5 محرم ہے اور صفدر ھمدانی کے انتہائی پر اثر مرثیوں کے بلاگوں پر کسی نے اب تک ( میرے سوا ) کوئی تبصرہ نہیں لکھا مگر اس بلاگ پر تبصروں کی تعداد اس بلاگ کے شروع میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
ایک مبصر ( امین ترمذی صاحب ) ایسے جملے لکھکر لوگوں کے عقائد پر لکھنے میں اپنی توانائی صرف کررہےہیں :
“ میں خود اور آپ سب. دوسرے فرقے کے خلاف کہتے ہیں کہ کل جو گھوڑا بگھی میں جتا ہوا تھا اور جسے چابک بھی پڑ رہے تھے آج وہ دلدل بنا پوا ہے اور لوگ اُس کو امامِ عالی مقام کا ذو الجناح (مرتجس) سمجھتے ہوئے ہاتھ لگا لگا کر چوم رہے ہیں یہ کیا ہے.
آب آپ دیکھیں گتّے کا بنایا ہوا خانہء کعبہ اور خاکہء مسجدِ نبوی صلعم کے سامنے دعائیں بت پرستی نہیں تو اور کیا ہے اور یہ تمام دن کی پکنک. غل غپاڑہ کئی جگہ ہنگامے کئی لوگ زخمی. نماز جیسی اہم فرض عبادت سے بے فکری .کیا اچھا طریقہ ہے اُس عظیم ہستی کے احکام کی تعمیل کا. اور آج کے مخصوص دن میں ا س کو خوش کرنے کا . ذرا چشمِ تصور کو وا کیجئے کہ وہ عظیم ہستی آپ کی جانب دیکھ رہی ہے اور پوچھ رہی ہے کہ میری وہ اُمت جس کو میرے احکام کا خیال ہونا چاہئے … کہاں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟“‘“
۔۔
کیا یہ تمام باتیں دس محرم الحرام کے بعد نہیں ہوسکتی تھیں ؟
کیا یہ تمام باتیں اور بحثیں صرف محرم الحرام کے ابتدئی دنوں میں کرنے کی تھیں؟
۔۔۔۔۔
میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کی یاد دہانی کر غرض سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا مندرجہ بالا تبصرہ صرف اس قسم کے موضوع پر بحث و تکرار کو کم از کم محرم کے ابتدئی دس دنوں میں “ معطل “ کرنے کے لیے لکھا گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔
یہ صرف میرا مشورہ ہے ۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی از جرمنی
میرے خیال میں اب ہم اس مقام پر ہیں کہ اس بلاگ کو ختم کیا جائے. بات یہیں پر ختم ہوتی ہے کہ آپ ذاتی طور پر جو بھی پسند کریں قبول ہے. لیکن ہر عمل میں دوسرے کے جذبات ، نظریات اور عقائد کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے،اخلاقی طور پر بھی اور شرعی طور پر بھی.
ہم خوش قسمت ہیں کہ اس موضوع پر بات تو ہوئی اور سب نے نہایت تحمل اور بردباری سے اپنے خیالات اور نظریات کااظہار کیا. گفتگو اور بحث کا یہی مطلب ہوتا ہے نا کہ اپنی رائے کو دوسرے پر تھوپنا. اللہ تعالیٰ مجھ سمیت ہم سب کو اپنے درست کہے اور لکھے پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے.آمین
میرے اوپر کے تبصرےمیں صفدر ھمدانی صاحب پڑھیے شکریہ