قائد اعظم محمد علی جناح کس دن پیدا ہوئے ؟؟

آج 25 دسمبرہے . قائد اعظم محمّد علی جناح کی پیداش کا دن ہے . یہ دن ہمیں اس مہربان اور شفیق ذات کی یاد دلاجاتی ہے جواس وقت ہمارے درمیان تو نہیں ہے مگر ان کی ان تھک محنت و لگن اور کوشش کے بعد ملا یہ ملک پاکستان ہمارے پاس ہے .
قائد اعظم محمّد علی جناح نے عَلامہ اقبال کے خواب کو پورا کرنے میں دن رات ایک کر دیا انہوں نے نہ اپنا آرام و سکون دیکھا اور نہ اپنا گھر بار دیکھا — ہر آسا ئیش کو ایک طرف کر کے مسلمانوں کے لے ایک علیحدہ ملک حاصل کیا –
.پاکستان کی قوم بہت خوش نصیب ہے جس کو ایسا قائد ملا جس نے آنے والے وقت کی تنگی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی صحت و زندگی کو داؤ پر لگا دیا اور اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کیا اور ہم کو ہمارا ملک پاکستان 14 اگست کے دن تحفہ کے طور پر دیا –
اس ملک کو حاصل کرنے کے لئے جن لوگوں نے ہجرت کی وہ آج بھی ہمارے درمیان ہیں اور انہوں ہی نے ہم سب کو اپنی دعاؤں کے سائے تلے چھپا رکھا ہے .ابھی بھی جب میرے ابّا جی موڈمیں ہوتے تو اکثر کہتے ہیں — تم لوگ تو خوش نصیب ہو تم نے ہجرت نہیں دیکھی — یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں — وہ وقت حقیقت میں مسلمانوں پر بہت کھٹن تھا جنہوں نے اپنے قائد کی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کیا اور دشمنوں کا مقابلہ اپنے تن ،من، دھن کی بازی لگا کر کیا تاکہ آزاد ملک کی آزاد نسلیں حاصل اپنے غم و خوشیاں ایک ساتھ منا سکیں .
ملک ہی تو زندہ قوموں کی پہچان ہوا کرتا ہے –
ہمارے آباؤاجداد نے اپنے کردار اور عمل سے سمجھایا کہ پاکستان کی اہمیت کیا ہے ؟؟
لیکن کیا ہم اپنی نسلوں کو یہ بتا پا رہے ہیں کے پاکستان کی بقا ہمارے لئے کیوں ضروری ہے ؟؟
اسی مناسبت سے آپ سب کو ایک ہلکی پھلکی بات بتاتی چلوں جو ایک لمحہ فکریہ بھی ہے —
اُستاد نے اپنے طالب علم سے پوچھا کے قائد اعظم محمد علی جناح کس دن پیدا ہوئے ؟؟
طالب علم نے کہا ! سروہ چھٹی کے دن پیدا ہوئے تھے ..
یہ ہے ہماری نسلوں کی اپنے ملک سے پہچان — جو پاکستان کی بقا کے ایک لمحہ فکریہ ہے –؟

8 thoughts on “قائد اعظم محمد علی جناح کس دن پیدا ہوئے ؟؟”

  1. آج کے جنگ اخبار میں انور شعور کا یہ مقطعہ بعنوان : آج ، حسبِ حال ہے :

    دیکھ کر حالات ملک و قوم کے
    کہ رہا ہے اُن کی پیدائیش کا یوم
    کیا یہی ہے قائدِ اعظم کا ملک ؟
    کیایہی ہے قائدِ اعظم کی قوم ؟

  2. قائدِاعظم کے مزار پر
    نظم ۔مشیر کاظمی

    قائد اعظم کی تربت سے ابھی آیا ہوں میں
    نظم کی لڑیوں میں کچھ موتی پرو لایا ہوں

    میں میں گیا تھا پھول لے کر وہ تو سب مرجھا گئے
    آپ بھی سنئے کہ آنسو آنکھ میں کیوں آگئے

    چند کلیاں فرش پر بکھری تھیں مرجھائی ہوئی
    قبر قائد پر تھی ایک اجڑی دلہن آئی ہوئی

    آرسی کے آئینے میں بال تھا آیا ہوا
    جگمگاتی کہکشاں کا رنگ کجلایا ہوا

    قبر سے مٹی اٹھا کر مانگ میں بھرتی تھی وہ
    رخ پہ گھونگھٹ کو گرا کر بین یوں کرتی تھی وہ

    سونے والے میں تمہارے خواب کی تعبیر ہوں
    قائد اعظم میں وہ جاگیر ہوں تصویر ہوں

    شاعر مشرق نے جس کی مانگ میں افشاں بھری
    – قائد ملت سے جس کے ہاتھ میں مہندی رچی

    گیت وحدت کا میری شادی کے دن گایا گیا
    چاند اور تارے کا آنچل مجھ پہ لہرایا گیا

    میں کہ یکجہتی کے گہنوں‌سے ہوئی آراستہ
    عزم و ایثار و اخوت سے ہوئی پیراستہ

    تھے کروڑوں مرد و زن شامل میری بارات
    میں سچ کی کلیاں سی کھلی تھں خون کی برسات میں

    نعرہء تکبیر کی شہنائیوں میں آئی تھی
    خون اور تلوار کی پرچھائیوں میں آئی تھی

    میرا ڈولا گھر میں لا کر آپ جا کر سو گئے
    آپ کے جاتے ہی اس گھر میں‌اندھیرے ہو گئے

    بعد میں کچھ رنگ بدلا اس طرح حالات کا
    جس طرح بارات میں ‌نوشہ نہ ہو بارات کا

    قائد اعظم گئے تو ہو گیا سونا وطن
    قائدملت گئے تو اس طرح اجڑا چمن

    باغبانوں نے گلستاں کی بہاریں لوٹ لیں
    کچھ لٹیروں نے شبستاں کی بہاریں‌لوٹ لیں

    جو بھی آیا جھولیاں پھولوں سے بھر کر لے گیا
    اور کوئی بلبلوں کے پر کتر کر لے گیا

    بلبلوں کےگیت جگنو کی چمک تک لے گئے
    –قطرہء شبنم کے چہروں کی دمک تک لے گئے

    چند بے دینوں کے گھر سونے کے مندر بن گئے
    خون پی پی کر چمن کا وہ سکندر بن گئے

    خان زادوں نے مجھے لونڈی بنایا بعد میں
    ہر سیا ‌ست دان نے مجھ کو نچایا بعد میں

    مشرق و مغرب میں میرا بانک پن لوٹا گیا
    تیری محنت کی کمائی کا چمن لوٹا گیا

    عظمتیں اسلاف کی سورج صفت ڈھلتی رہیں
    کرسیوں کی آرزو میں کرسیاں چلتی رہیں

    الغرض اس کشمکش میں مشرقی حصہ گیا
    آج میرے واسطے اک درد دائم رہ گیا

    تیرے کچھ بیٹوں نے اپنی ماں کا زیور کھو
    دیا ایک گوہر کان میں ‌ہے ایک گوہر کھو دیا

    حیف اس گھر کے اجڑنے پر کوئی رویا نہیں
    تیرے بیٹے کہہ رہے ہیں ہم نے کچھ کھویا نہیں

  3. نزہت نسیم صاحبہ. بہت اچھے سوالات آپ نے اٹھائے ہیں اور ان سب ہم وطنوں کی آواز ہے جنکے ہاتھ میں کچھ نہیں کیونکہ فیصلے کرنے والے اور ہیں اور ان فیصلوں کی بھینٹ چڑھنے والے اور. کس کس بات کو روئیں کہ لوگ ہم جیسوں کو اب یہی کہتے ہیں کہ انکا تو کام ہی رونا ہے. یہ تو اللہ نے قائد اعظم پر احسان کیا کہ انہیں جلد ہی اس دار فانی سے اٹھا لیا ورنہ یہ مفاد پرست ٹولے انکا بھی کوئی الگ حال نہ کرتے.
    ہمارے تعلیمی نصاب سطحی باتوں سے بھرے ہیں،ہمارے ریڈیو ٹی وی اور ذرائع ابلاغ ان لوگوں کے انٹرویو پیش کرتے ہیں جنہوں نے قائد اعظم کی ایک جھلک کئی میل دور سے دیکھی تھی اور جنہوں نے قائد کے ساتھ کام کیا تھا وہ کہیں رو پوش ہیں.
    ہم نے نئی نسلوں کو اور اپنے نوجوانوں کو کیا بتایا ہے قیام پاکستان اور اسکے قائدین کے بارے میں؟
    ہم اور ہم سے پہلے کی سب نسلیں مجرم ہیں اور یہ اسی جرم کی سزا ہے جو ہم اسوقت بھگت رہے ہیں.
    قائد اعظم کا مزار پھول چڑھانے ، گارڈ کی تبدیلی،قرآن خوانی اور مہمانوں کی کتاب پر دستخط کرنے کے لیئے رہ گیا ہے. وہ حکمران جنہوں نے قائد کے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں وہ بھی 25 دسمبر کو مزار پر جا کر فاتحہ پڑھتے تصویر اترواتے اور قائد کی روح پر احسان کرتے ہیں.
    کاش ان حاکموں نے قائد کے کسی ایک فرمان پر عمل کر لیا ہوتا تو آج ایسی ابتر حالت نہ ہوتی.
    بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرد اپنا اپنا فرض ادا کرے اور اپنے حصے کی شمع روشن کیئے جائے کہ اندھیرے کی ضد ہی روشنی ہے.

  4. مشیر کاظمی کی نظم “ قائد اعظم کے مزار پر “ حقیقت کی ترجمانی کرتی ہے۔
    ۔۔۔۔
    میرے مندرجہ بالا تبصرے میں انور شعور کاقطعہ کمپوزنگ کی غلطی کہ وجہ سے مقطعہ لکھا گیا ، تصحیح کرلیں ۔ شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔
    صفدر ھمدانی صاحب کی اس تجویز کی دل سے تائید کرتا ہوں کہ:
    “بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرد اپنا اپنا فرض ادا کرے اور اپنے حصے کی شمع روشن کیئے جائے کہ اندھیرے کی ضد ہی روشنی ہے.“
    ۔۔۔۔۔

  5. سلام مسنون
    یوم قائد گزر گیا اور ہم نے اس دن اس عظیم انسان کو خراج تحسین پیش کرنے، ان کی انتھک محنت اور شبانہ روز کاوشوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جس کا نوحہ مشیر کاظمی صاحب نے اپنی نظم میں کیا ہے.
    قائد اعظم محمدعلی جناح کی ساری زندگی، محنت و لگن، جہد مسلسل، دیانتداری اور بامقصدیت سے عبارت تھی. ابتدائی زندگی، زمانہ طالبعلمی اور پھر تحریک پاکستان کی کامیابی تک یہی اوصاف حمیدہ آپ کی خصوصیت رہے.
    اگرچہ ابتداء میں کانگریس کا حصہ رہے لیکن جب گاندھی اور اسے کے ساتھیوں کی عیاری بھانب گئے اور اندازہ ہو گیا کہ دو مختلف نظریات کی حامل قومیں جن کا رہن سہن، رسم و رواج اور طرز معاشرت بالکل مختلف ہو کبھی بھی اک جگہ نہیں رہ سکتیں تو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جدو جہد کا آغاز کیا اور بالآخر سروخرو ہو گئے.اور ایک ایسی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کر دکھایا جہاں مسلمان اپنی تعلیمات کے مطابق آزادی سے زندگی گزار سکیں. اقبال کےاس خواب کی تعبیر تو ہو گئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا، لیکن ہم نے ان قربانیوں کا کیا صلہ دیا؟
    ہم نے ترقی تو کیا کرنی تھی ہم تو قیام پاکستان کے بنیادی مقصد تک سے انکاری ہوگئے. دو قومی نظریے کو ماننے سے انکار کر دیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ اب تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام بھی ہمیں پسند نہیں.
    جو قوم اسلاف کی قربانیوں کو اس حد تک فراموش کر جائے کہ اس کے نظریات اور ان کے تجویز کردہ نام بھی برداشت نہ ہوں اس سے مزید کیا توقع رکھی جا سکتی ہے.

    نزہت نسیم صاحبہ آپ کا شکریہ کہ اس موضوع پر قلم اٹھایا اور ہمیں موقع دیا کہ ہم بھی کچھ حصہ ڈال سکیں

    و السلام
    راجہ اکرام

  6. اسلام و علیکُم ، آپ سب کا بہت بہت شکریہ
    آپ سب نے میری اس سوچ کو جو کہ میں اکثر سوچتی تھی کے قائد اعظم نے ہم مسلمانوں کو پاکستان جیسا خوبصورت تحفہ دیا۔ مگر ہم سب نے مل کر اس پاکستان کا حلیہ بگاڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔۔ کچھ ایسی باتیں اور بھی ہیں جن سے میں ابھی تک کشمکش میں ہوں
    کیا پاکستانی قوم کبھی قائد اعظم کا یہ احسان اتار پائے گی ؟؟ اگر ہاں تو کیسے ؟
    ہم کیا احسان فراموش قوم ہیں ؟؟
    اپنی دعا وں میں یاد رکھئے گا .
    نزہت نیسم

  7. سلام مسنون محترمہ نزہت نسیم صاحبہ
    آپ نے دو سوالات کئے جو کہ ایک دوسرے کے مکملات ہیں.
    دوسرا سوال پہلے آناچاہیے. اور اس کا جواب ہر ذی شعور اثبات میں دے گا. اب سوال ہے کہ اس احسان فراموشی کو ختم کے احسان مندی کا ثبوت کیسے دیا جائے؟
    تو اس کے لئے ہمیں اس مشن کی تکمیل کرنی ہو گی جس کے لئے قربانیاں دی گئیں، اس خواب کی تعبیر کو اور حسین بنانا ہوگا جو علامہ اقبال نے دیکھا. جس دن لا الہ الا الللہ کی بنیاد پر تشکیل پانے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر دنیا کےنقشےپر قائم ہوگا اس دن یقینا روح قائد و اقبال کو تسکین پہنچےگی.

    اب یہ ہم میں سے ہر فرد کا فرض ہے کہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اس کے جدو جہد کرے، کوشش کرے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *