پاکستان میں اٹھائیس دسمبر دوہزار نو بروز پیر یوم عاشور کے موقع پر کراچی میں ایک کربلا برپا ہو گئی
ہائے مولا حسین ۔ ہائے میرا حسین
حسین میرے بیٹے میرے پاس آ
سن میری جان آج عاشور کا دن ہے
آج عزاداری کا دن ہے
لوگ کہتے ہیں کہ آج ماتمی جلوس میں دہشت گردی کا امکان ہے
حسین ہوشیا رہنا ۔۔
اچھا ماں ۔۔
سن حسین ۔۔آج نہ جا ۔۔۔
کیا ماں ۔؟ نا ماں ۔۔ نا ۔۔
آج عاشور کا دن ہے
آج فکر حسین کو بچانے کا دن ہے
میرے بیٹے تجھ پر ماں واری
چشم بدور تجھ میں ہے جاں نثاری
کالے کپڑوں میں تو شہزادہ لگتا ہے
اچھا ماں چلتا ہوں
سن ماں اپناخیال رکھنا
میں نے جو سبیل لگائی تھی اس کا دھیان رکھنا
میرے امام کے پرچم کو ہمیشہ بلند رکھنا
حسین ۔۔ میرے چاند سن ۔۔ میری جان
توں بھی زرا دھیان سے رہنا
عاشور کا دن ہے
ماتممی جلوس ہے
دشمن گھات میں ہے
تفرقہ اور نفاق بھی تاک میں ہے
سن ..میرے حسین … حسین کو بٹنے نہ دینا
سن میرے بیٹے ۔۔ ۔۔ میرے بچے .. حسین سب کا ہے
اگر شعیہ سنی حسین کو بانٹ لیں گے
تو پیغام حسینی یزید وقت لوٹ کر لے جائے گا
میرے بیٹے دھیان سے رہنا
پیار اور سلوک سے رہنا
عزاداری میں دوسروں کو بھول نہ جانا
اور سن میرے حسین بس جلدی لوٹ آنا
پھر
میرا حسین گھر نہ آیالوگو
سنا ہے کہ ایم اے جناح روڈ پر ماتمی جلوس میں خود کش دھماکہ ہوا ہے
پیتیس شہید ہوئے اور اسی زخمی ہوئے
کربلا کی یاد میں کربلا مچ گئی لوگو
ہائے میرا حسین کہاں ہے لوگو
ہائے میرا بابا ۔۔ سکینہ نے کہیں سے پکارا ہے لوگو
ہائے میرابھائی ۔۔ زینیب خیمے سے پھر دوڑی ہے لوگو
ہائے میرا حسین ۔۔ جنت سے بنت رسول پھر پکاری ہے لوگو
کیسی دہائی ہے لوگو
یزید وقت نے پھر کہہ دیا کہ جو سر کٹا ملا ہے وہ دہشت گرد باغی ہے لوگو
یہ خون آشام وقت ہے لوگو
گھر گھر سجی شام غریباں ہے لوگو
نہیں خبر اب کہ
دوکانیں جلی کہ خیموں میں آگ لگی ہے
بس ایک بار پھر بیبیاں ننگے سر خیموں سے باہر نکلی ہیں
بچے ننگے پیر وحشت میں دوڑے ہیں
کہاں ہے میر احسین ۔۔ ہائے میر احسین ۔۔ گھر نہں آیا ۔۔
اے زہرا بنت رسول گواہ رہنا
میں نے تیرے حسین پر اپنا حسین لٹا دیا
(نگہت نسیم۔سڈنی)

فوری تاثر کی حامل ایک منفرد نظم. پرتاثیر بھی اور فکر انگیز بھی. قلم کی طاقت کا اندازہ کیجئے.بس ضمیر زندہ ہونا چاہیئے قلم خود بخود چلتا ہے.ماشااللہ
کراچی کا یہ واقع ہمارے سامنے کا ہے ہم لوگ جلوس کی زیارت کر کے واپس پلٹے ہی تھے کے یکدم ایک دھماکہ سنائی دیا اور ہر طرف کہرام مچ گیا۔اتنی بھگدڑ میں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا کریں ۔ہم لوگ اس وقت تو سیدھا گاڑی میں بیٹھ کر گھر آ گئے مگر وہاں کے وہ چند لمحے میں کبھی نہیں بھول سکتی ۔میڈیا نے اس معاملے میں اپنی دانست میں بہت احتیاط سے کام لیا مگر اتنے بڑے واقع کے بعد رد عمل لازمی تھا جو کے ابھی تک ہم لوگ نیوز میں دیکھ رہے ہیں ۔پورا کراچی سوگوار ہے ہر طرف شام غریباں کا سا سماں ہے بس پروردگار عالم معصومین(ص) کے صدقے میں رحم کرے ۔کل شہدا کی نماز جنازہ ہے اس موقع پر بس ایک شعر ہی لکھ سکتی ہوں
صبر شبیر (ع) یاد آتا ہے
اپنا مرتا ہے جب جواں کوئی
محتاج دعا
ماریہ علی
ماریہ تم نے کتنی سچی بات ایک شعر میں کہہ دی کہ
صبر شبیر (ع) یاد آتا ہے
اپنا مرتا ہے جب جواں کوئی
سلامت رہو ۔۔اللہ پاک سب کو اپنے حفظ واماں میں رکھے ۔۔آمین
ہمارے سروں پہ آپ کا سایہ مہربان رہے بابا ۔۔ روشن ضمیری کی سلامتی کے لئے بھی آپ جیسے روشن ضمیر کی قدردانی ضروری ہوتی ہے ۔۔
اللہ پاک ہم سب کو زندہ ضمیر والوں میں رکھے ۔۔آمین
میں مساجد اور امام بارگاہوں میں تو اُسوقت سے جارہا ہوں جب میں ایک شیرخوار تھا۔ لیکن 1964 سے میں گرجہ، سناگوگ، مندر اور گردواروں میں بھی جاتا رہا ہوں۔ گرجہ، سناگوگ، مندر اور گردواروں میں میں نے لوگوں کو اپنے عقیدہ کی تعریف کرتے ہوئے اور دعائیں مانگتے ہوئے تو ضرور دیکھا ہے لیکن میں نے کبھی دوسرے عقیدہ کا مزاق اُڑتے ہوئے یا دوسروں کو برا بھلا کہتے ہوئے نہیں سنا یا دیکھا۔ اسکے برعکس اپنے عبادت خانوں میں میں نے دوسروں کیلئے جتنی بدعائیں سنی ہیں ،جتنا دوسروں کے عقائد کامزاق اُڑاتے ہوئے اور جتنی دوسروں پر لعن طعن کرتے ہوئے اپنے بھائیوں کو دیکھا ہے وہ بے مثال ہے۔ آج دھماکہ جو کراچی میں ہوا ہے اس کا مجھے بے حد افسوس ہے اور خدا سب شہیدوں کے متعلقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ لیکن مجھے اس پر تعجب نہیں ہوا۔ عالمی اخبار کے رواں بلاگ جسکا تعلق سالِ نو پر مبارک باد سے ہے اسے میں نے بار بار پڑھا ہے۔ یہ ایک دکھ کی بات ہے کہ خود مسلمان دوسرے مسلمانوں پر، خود ایک ہی مسلک کے لوگ اپنے ہم مسلک لوگوں پر بت پرستی کے فتوے صادر کر رہے ہیں۔ یہ ناروادری نہیں تو اور کیا ہے اور اس ہی قسم کی نارواری کی ایک انتہا کراچی کا سانحہ ہے۔
آپ کی یہ نظم پڑھ کے دل دُکھ سے رودیا …
تصحیح
نارواداری
السلام علیکم
(اللہ تمام شہداء کو اپنے خاص جوار رحمت میں جگہ دے اور ہم سب کو صبر کی تو فیق عطا فرمائے)
محترمہ آپکی نظم سانحے کا پر اثر ردعمل ہے اور جیسا کہ جناب صفدر ہمدانی صاحب نے فرمایا ہے ،
( .بس ضمیر زندہ ہونا چاہیئے قلم خود بخود چلتا ہے.ماشااللہ ) یقینا اُن کی بات صد فیصد درست ہے،
آصف احمد بھٹی
بے گناہ غم حسین میں ڈوبے ہوئے عزاداران حسن کا خون ناقابل معافی جرم ہے، اس المناک سانحہ پر مجھے بے حد افسوس ہے ہماری خدا سے دعا ہے کہ وہ سب شہیدوں کے متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور صبر کی توفیق دے ۔
اس سانحہ کے ردعمل میں لائٹ ہاوس سے ٹاور تک جو ہزاروں دکانوں کو آگ لگائی گئی اور اربوں روپوں کا نقصان کیا گیا اللہ انہیں بھی اس عظیم نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے اور اپنے گھروں کو خود آگ لگانے والوں کو عقل سلیم عطا فرمائے
یہ سب انتہائی افسوسناک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کربناک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شرمناک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اف میرے خدا ۔۔۔۔۔۔درندوں کی بستی میں انسانوں کا رہنا۔۔۔۔۔۔ناممکن ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔میرے خدا نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ہمارے حال پر رحم فرما۔۔۔۔۔۔۔ہمارے جرموں کو معاف فرما اور ہیمیں معافی دے دے ۔۔۔۔۔۔۔۔اب تو اپنا رحم فرمادے کہ اب تو تیرے پیاروں کی یاد میں نکلنے والے بھی محفوظ نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔رحم رحم رحم یا میرے رب کریم ۔۔۔۔۔۔معافی معافی معافی اپنے حبیب کے صدقے میں۔۔۔۔۔۔
آصف بھائی اس بات کو وہی جان سکتے ہیں جو خود زندہ ضمیر ہیں ۔۔
نزہت سچ پوچھو تو میرا دل ابھی تک رو رہا ہے ۔۔ اور اسی طرح سے افسردہ ہے جیسے ہر خؤد کش حملے کے بعد ہوتا ہے ۔۔ پر اس بار تو دکھ سے نڈھال ہوں ۔۔
افسوس صد افسوس کہ کراچی کا شہر اب کربلا بن گیا ۔
شہرِ کراچی کسی زمانے میں روشنی کا شہر کہلاتا تھا ۔
لوڈ شیڈ نگ کی مصیبت سے یہ اندھیر نگری تو بن گیا مگر خود کش حملوں نے اسے اور بھی ایک تاریک غار میں پھینک دیا ۔
حسین ( ع) کی شہادت کے غم کو ملعون یزید کی شرمناک حرکتوں نے اور بھی غمگین بنا دیا۔
افسوس صد افسوس :
منظور بھائی سچ کہااب افسوس ہی رہ گیا ہے کرنے کو ۔۔ مایوسی بھی اور تاریکی بھی ۔۔۔اللہ پاک ہم سب پر اپنا رحم فرمائے ۔۔ بقول بابا کے کہ ہمارے گناہوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اللہ سے رحم کی توقع کرنا خود اس کی رحمت کی آزمائش ہے ۔۔ لیکن سوچتی ہوں کہ ہم سب کا اس کی زات کے سوا ہے بھی کون ۔۔۔ کس سے مانگیں ۔۔ کس کو سنائیں ۔۔ بس سب دعاؤں میں ایک دوسرے کو یاد رکھیں اور اس مشکل وقت میںسارے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کا سہارا بنیں ۔۔
تازہ بتازہ
درد کی ٹیس اٹھی ہے دل میں
اور تاریکی بڑھی ہے دل میں
شہر پر ہول کا منظر ہے عجیب
کربلا آن بسی ہے دل میں
سرخ آندھی جو چلی کربل میں
پھر وہی آندھی چلی ہے دل میں
لاش اک اور پڑی آنگن میں
قبر اک اور بنی ہے دل میں
آگ خیموں میں لگی تھی جیسی
آگ ویسی ہی لگی ہے دل میں
ہے جو شبیر کی خاطر درکار
اس محبت کی کمی ہے دل میں
تھی جو کربل میں لب اصغر پر
اب وہی پیاس اگی ہے دل میں
رو رہا ہے مرا مولا جس پر
کس کی یہ لاش پڑی ہے دل میں
نوحہ اکبر کا جو لکھنے بیٹھا
ایک برچھی سی لگی ہے دل میں
گزری زینب پہ کو شب کربل میں
میں نے وہ رات لکھی ہے دل میں
کون قاتل ہے عزاداروں کا؟
ایک ماں روتی رہی ہے دل میں
سر یزیدوں نے اٹھایا ہے پھر
کربلا اور بنی ہے دل میں
موت آئے تو نجف میں صفدر
کیسی خواہش یہ چھپی ہے دل میں
سبحان اللہ بابا ۔۔۔ایک ایک شعر سچا اور دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ۔۔
گزری زینب پہ کو شب کربل میں
میں نے وہ رات لکھی ہے دل میں
کون قاتل ہے عزاداروں کا؟
ایک ماں روتی رہی ہے دل میں
ماحول کواور بھی سوگوار کر گئی آپ کی یہ غزل ۔۔ یہی سوگواری آپ کے لکھے ہوئے سچ کی دلیل ہے ۔۔ سلامت رہیں ۔۔
مجھے آج29 دسمبر کو دوپہر میں متحدہ عرب امارات سے ”مجاہد” نامی کسی شخص کا فون موصول ہوا جس نے گالیوں کی صورت میں انعام کی بے پایاں بارش کے بعد ارشاد فرمایا کہ ”کراچی میں مرنے والوں کا تم لوگوں کو اتنا غم ہے کہ روتے اور لکھتے ہوئے تھک نہیں رہے ہو لیکن وزیرستان میں جو اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں ان پر تم لعنتی خاموش ہو تمہارے قلم خاموش ہیں”.
اس سے قبل کہ میں اس نام نہاد ”مجاہد” کو کوئی جواب دیتا اس نے ایک اور گالی اور بد دعا کا تمغہ دیکر فون بند کر دیا.
اب آپ بتائیں میں اس پر کیا لکھوں؟
صفدر بھائی ، جس کے پاس جو دینے لیئے ہو تا ہے وہی دیتا ہے ۔آپ گا لیوں سے دلبر داشتہ نہ ہوں کہ کتوں کے بھونکنے سے قافلے رکا نہیں کر تے اور آپ تو میر کارواں ہیں ۔لہذا آپ پر دہری ذمہ داری ہے جب آپ نے نبیوں کا راستہ اختیار کیا ہے تو پتھر ہی آئیں گے پھول نہیں بر سویں گے۔ رہا یہ کہ اس نام نہاد مجا ہد نے کیا کہا؟ بھول جا ئیے اور اپنا مشن جا ری رکھیئے۔آج کا دور وہ دور ہے جس میں کوئی کسی کاذمہ نہیں لے سکتا بھائی کا بھائی بھی نہیں ؟۔جبکہ یہ ہی دور موسیٰ علیہ السلام پر جب گذرا تھا تو ان کے پاس کہنے کے لیئے یہ یقین تو تھا کہ میں صرف اپنی ذات اور اپنے بھائی کا ذمہ دار ہوں ؟ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اللہ آپ کا حامی اور نا صر ہو۔ بس اس راستے میں نبی اور شہدا ء جیسا صبر ہی کام آتا ہے۔کاش بکنے کی والے کی کو ئئی زبان پکڑ سکتا؟اور اگر میرے بس میں ہوتا تو اس کو پھانسی پر چڑھادیتا ؟ مگر اس بے داد دنیا میں داد کی امید کہاں؟
شمس جیلانی بھائی.سلامت رہیں. میں نے یہ راستہ اپنی مرضی اور خوشی سے منتخب کیا ہے. اور جس کے ساتھ آپ جیسے صاحبان با عمل ہوں اسکو کس کی پرواہ. میں حق اور سچ کے راستے پر گامزن ہوں اور میثم و قنبر کی طرح اس وقت تک رہوں جب تک میرے پروردگار کو منظور ہے. خوش رہیں. ایسے لوگوں کو ”کتا” کہنا بھی کتے کی تذلیل ہے کیونکہ کتا تو گھر کی رکھوالی کرتا ہے گھر کو آگ نہیں لگاتا. کتا تو بنیائی سے محروم کو راستہ دکھاتا ہے اسکی بینائی بنتا ہے ،گھروں کے چراغ گلُ نہیں کرتا. یہ تو جانور بھی نہیں ہیں.
بہت بہت ہی پر اثر نظم ہے آپی جی۔۔۔اللہ ذوق سلامت رکھے۔۔دردل دل کو ہوا دے۔۔زورقلم کرے اوربھی زیادہ۔۔۔۔آمین۔۔میں باربارپڑھ رہا ہوں دل میں اتاررہا ہوں ۔۔۔اورغم میں ڈوبا جارہاہوں
۔۔۔
میرا حسین گھر نہ آیالوگو
سنا ہے کہ ایم اے جناح روڈ پر ماتمی جلوس میں خود کش دھماکہ ہوا ہے
پیتیس شہید ہوئے اور اسی زخمی ہوئے
کربلا کی یاد میں کربلا مچ گئی لوگو
ہائے میرا حسین کہاں ہے لوگو
ہائے میرا بابا ۔۔ سکینہ نے کہیں سے پکارا ہے لوگو
ہائے میرابھائی ۔۔ زینیب خیمے سے پھر دوڑی ہے لوگو
ہائے میرا حسین ۔۔ جنت سے بنت رسول پھر پکاری ہے لوگو
کیسی دہائی ہے لوگو
یزید وقت نے پھر کہہ دیا کہ جو سر کٹا ملا ہے وہ دہشت گرد باغی ہے لوگو
یہ خون آشام وقت ہے لوگو
گھر گھر سجی شام غریباں ہے لوگو
نہیں خبر اب کہ
دوکانیں جلی کہ خیموں میں آگ لگی ہے
بس ایک بار پھر بیبیاں ننگے سر خیموں سے باہر نکلی ہیں
بچے ننگے پیر وحشت میں دوڑے ہیں
کہاں ہے میر احسین ۔۔ ہائے میر احسین ۔۔ گھر نہں آیا ۔۔
اے زہرا بنت رسول گواہ رہنا
میں نے تیرے حسین پر اپنا حسین لٹا دیا
(نگہت نسیم۔سڈنی)
۔۔۔۔
اور ہمدانی صاحب۔۔آپ نے تو آنسو بہانےپرمجبورکردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر پر ہول کا منظر ہے عجیب
کربلا آن بسی ہے دل میں
سرخ آندھی جو چلی کربل میں
پھر وہی آندھی چلی ہے دل میں
لاش اک اور پڑی آنگن میں
قبر اک اور بنی ہے دل میں
آگ خیموں میں لگی تھی جیسی
آگ ویسی ہی لگی ہے دل می
سلامت رہیں ناصر بھائی ۔۔ آپ کہاں تھے اتنے دنوں سے ۔۔ ہم سب نے بہت یاد کیا آپ کو ۔۔
نہیں حالِ دلی سنانے کے قابل
یہ قصہ ہے رونے رلانے کے قابل
اُجاڑے لٹیروں نے وہ قصر اس کے
جوتھے دیکھنے اور دکھانے کے قابل
نہ گھر ہے نہ در ہے بچا اک ظفر ہے
فقط حالِ دلی سنانے کے قابل
السلام علیکم
محترم صفدر ہمدانی صاحب ، میں آپ سے کم علم اور ناسمجھ (مجاہد) کی بد تمیزی کے لیے معافی مانگتا ہوں یقینا جزبات میں آکر یوں اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
ممکن ہے میں اب جو بات کرنے جا رہا ہوں اُس سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو اور میں اُن تمام احباب سے پیشگی معزرت کے ساتھ (کہ اختلافِ رائے کا حق تو سب کو ہے) میں کبھی بھی کسی بھی قسم کی شدت پسندی کا حامی نہیں رہا ہوں اِسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ باہمی مسائل کا سب سے بہترین حل مذکرات ہے اور با مقصد مذکرات ہیں ۔
محترم صفدر ہمدانی صاحب آپ نے اپنے دو دن پہلے کے کالم کی ابتداء اِن الفاظ کے ساتھ کی تھی
پاکستان میں اٹھائیس دسمبر دوہزار نو بروز پیر یوم عاشور کے موقع پر کراچی میں ایک کربلا برپا ہو گئی۔ جن لوگوں نے یہ مناظر ٹیلی ویژن پر دیکھے ہیں انکو یہ احساس ہو رہا ہو گا کہ کاش عوام کو پر امن رہنے کی اپیل کرنے والوں کو یہ ادراک ہو سکتا کہ ان جاں بحق ہونے والوں کی جگہ اللہ نہ کرے کہ انکا کوئی بیٹا یا بھائی ہوتا اور ان سے پر امن رہنے کو کہا جا رہا ہوتا تو انکا رد عمل کیا ہوتا۔
اور یہی بات میں اور میرا کم علم بھائی (مجاہد) (جسے اِس فورم کے ایک محترم نام نے کتے سے تشبیہہ دی ہے ) اپنے انداز میں کہتے ہیں ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے ردعمل مین ہی ہو رہا ہے ، وہاں جن کے بھائی بیٹے قتل ہو رہے ہیں وہ بھی تو ہماری طرح انسان ہیں اگر ہم لوگ جو شہروں میں رہتے ہیں جنہیں ہر سہولت حاصل ہے اور جو یقینا پڑھے لکھے بھی ہیں اگر اِس طرح کا ردعمل دے سکتے ہیں تو اپن اجڈ قبائلیوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے ؟
میں ایک بار پھر واضع کرنا چاہونگا کہ میں کسی طرح کی بھی شدت پسندی کا قائل نہیں ہوں ۔
آصف احمد بھٹی
برادرم آصف۔میرے ساتھ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ میں تو وہ آدمی ہوں جو آمر مطلق جنرل ضیا الحق کے مظالم برداشت کر چکا ہے اور خود اپنے ادارے ریڈیو پاکستان میں بھی مطعون رہا ہوں۔ ایسے فون اس لیئے بھی آتے رہتے ہیں کہ میرا موبائل ویب سائٹ پر موجود ہے اور میں کسی ایک ایسے فرد کی وجہ سے بہت سے اچھے لوگوں کو اپنے سے رابطے سے کیوں محروم رکھوں۔اگر آپ میرے کالم،بلاگ،تبصرے،تصنیفات اور تحقیقی مضامین کے علاوہ میری مجالس و محافل کی ریکارڈنگ سن چکے ہوتے تو ایک انداز سے مجھے بھی انتہا پسندوں میں شامل نہ کرتے۔میں تو یہ لکھ لکھ کر تھک گیا ہوں کہ اپنا نکتہ نظر خوب وضاحت سے بتاؤ اور دوسرے کا نکتہ نظر صبر اور کشادہ دلی سے سنو اور یہ نہ چاہو کہ بس آپکی ہی بات مانی جائے۔ یہ تو لکم دین کم ولی دین والا معاملہ ہے۔ ہمیں تو برادرم ان بلاگوں میں لوگ انعامات دشنام دے جاتے ہیں اور ہم آزادی اظہار کے علمبردار اسے بھی شائع کرتے ہیں۔ میرے اپنے گھر میں تین لوگ ان انتہا پسندوں اور انسان دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن کے اپنے بچے یتیم کروا چکے ہیں۔
جان برادر ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم ہمسائے کے گھر کی آگ کو اپنی آگ نہیں سمجھ رہے اور اس احساس سے عاری ہیں کہ یہ آگ اب ہمارے گھر تک بھی پہنچنے والی ہے۔آپ کو اختلاف رائے کا حق مجھ سے بھی سو گنا زیادہ ہے اور اسی حق کے لیئے تو ہم جیسوں نے صعوبتیں برداشت کی ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ یقین جانیں اگر قلم اور ضمیر بیچ چکے ہوتے جس کے مواقع اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی ملے۔۔۔تو ہم بھی مشیر ہوتے۔۔۔۔۔لیکن کیاکہیں عزت دار لوگ ہیں۔ اپنے نام کے ساتھ ایسے سابقے لاحقے نہ اچھے لگے ہیں اور نہ انشااللہ لگیں گے۔
برادرم آپ نے میرے کالم کی ابتدا کا حوالہ دیا۔ آپکے محسوسات کی قدر کرتا ہوں لیکن وہ آدمی جو ایک گھر کی تین لاشین دفنا کر آئے گا اس سے آپ کیا سننا پسند کریں گے۔ یہ بجلی تو ان عوام پر گر رہی ہے جو پہلے ہی ان حاکموں کے ہاتھوں مرے ہوئے ہیں۔آپ نے کس صدر،وزیر اعظم یا ایسے ہی فرد کے کسی بچے یا گھر والے کو اس طرح لقمہ اجل بنتے دیکھاہے۔ اللہ کے لیئے بے نظیر کو اس فہرست میں شامل نہ کیجئے گا۔ یہ ایک قتل جو اب شہادت بن چکا ہے اپنے ہی خانہ نشینوں کی داستان ہے۔
رہی کتے والی بات تو میں پہلے ہی ”کتوں” کا دفاع کر چکا ہوں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ بھی انتہا پسند نہیں۔کبھی وقت ملا تو اس انتہا پسندی کی اصطلاح پر بھی بات کریں گے کہ یہ کہاں سے آئی اور اسکو کہاں کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
آپ نے تو اسے بھی اپنا”کم علم بھائی مجاہد” کہہ دیا۔ اب مزید کچھ لکھنے کی گنجائش اس لیئے نہیں کہ ہمارے نکتہ نظر یکسر مختلف ہو گئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم سب کی زندگی موت اس کے ہاتھ میں ہے جو خالق موت و حیات ہے اور میں تو 89 میں اپنے قیام جاپان سے لیکر لندن میں سکونت تک اپنی صاف گوئی کے ہاتھوں ایسے ہی مراحل سے گزر رہا ہوں۔ خود کو کوئی ہیرو بنا کر پیش نہیں کرنا چاہتا لیکن میرے بہت قریبی احباب مجھ سے اور میرے نکتہ نظر سے بخوبی واقف ہیں۔ ہاں اپنے کو کسی رخ سے بھی انتہا پسند کہلوانا نہیں چاہتا چاہے یہ انتہا پسندی ”محبت” کے معانی میں کیوں نہ ہو۔
السلام علیکم
محترم ، اختلاف رائے ہونا کوئی بری بات نہیں ، انسان سمجھنے کی خواہش اور نیت رکھتا ہوں تو اختلافِ رائے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے ، اور میں ہمیشہ سیکھنے کی سعی میں رہتا ہوں ، اور رہی بات اُس شخص کی جس نے آپ سے بدتمیزی کی تھی تو میں نے اُسے پاکستانی سمجھ کر اپنا بھائی کہا تھا (میں ایک بار پھر اُس کی طرف سے آپ سے معافی چاہتا ہوں ) اور اُسکا نام مجاہد آپ نے ہی لکھا تھا ورنہ میں نے اُسے مجاہد سمجھ کر بھائی نہیں کہا ۔
سب سے پہلے میں ایک بار پھر کراچی کے سانحے کی پر زور مزمت کرتا ہوں ۔
آپ نے فرمایا کہ !
برادرم آپ نے میرے کالم کی ابتدا کا حوالہ دیا۔ آپکے محسوسات کی قدر کرتا ہوں لیکن وہ آدمی جو ایک گھر کی تین لاشین دفنا کر آئے گا اس سے آپ کیا سننا پسند کریں گے۔
میں بھی تو آپ سب سے یہی کہہ رہا ہوں کہ جب آپ جیسا پڑھا لکھا سمجھدار اور صاحب علم شخص صبر کا دامن چھوڑ بیٹھا تو وہ کم علم اور ناسمجھ نوجوان جنہیں سوائے انتقام کے کچھ آتا ہی نہیں جب ڈراؤن اُنکے گھروں پر حملہ کرتا ہوگا جس میں اُنکے بچے ، بزرگ اور گھریلوں خواتین کی ایک بڑی تعداد قتل ہو رہی ہے ، اُن کا رد عمل کیا ہوتا ہوگا ؟ کیا اِس کے بعد بھی اُنہین کسی جنت کی یا کسی حور کی لالچ دی جاتی ہوگی ، وہ تو خود رضاکارانہ طور پر یہ کام کرتے ہونگے اور دہشت گردوں کو بغیر کسی محنت کے چلتے پھرتے بم دستیاب ہو رہے ہیں ، آپ یقینا مجھ سے بہتر طور پر جانتے ہیں کہ اِن ڈراؤن حملوں میں ایک بڑی تعداد بے گناہوں کی ہلاک ہوئی ہے ، اب یقینا بہت سے لوگ یہ کہینگے کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ سب اِن ڈراون حملوں کا ردعمل ہے تب بھی عام عوام کا اِس میں کیا قصور ہے دہشت گرد اُنہین کیوں تارگٹ کر رہے ہیں تو میرا جواب بلکل سیدھا سادہ سا ہے کہ کل کراچی میں خود کش حملہ تو دہشت گردوں نے کیا ہے مگر کراچی کے پڑھے لکھے لوگوں نے مقامی اور بے گناہ اپنے ہی بھائیوں کی دوکانوں کو کیوں جلا دیا ، مشہور مقعولہ ہے کہ کمزور کی گالی ہی ہوتی ہے ، جس سے جو بن پڑتا ہے وہ کرتا ہے ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
معافی چاہتا ہوں پہلی بار آپ کی تحریر سرسری پڑھ کر جواب لکھ دیا تھا اب دبورہ غور سے پڑھی ہے تو کچھ باتیں وضاحت طلب محسوس ہوئیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا ہے کہ
اگر آپ میرے کالم،بلاگ،تبصرے،تصنیفات اور تحقیقی مضامین کے علاوہ میری مجالس و محافل کی ریکارڈنگ سن چکے ہوتے تو ایک انداز سے مجھے بھی انتہا پسندوں میں شامل نہ کرتے۔
سب سے پہلے تو میں نے آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میری کسی بات سے آپ نے یہ تائثر لیا ہے کہ میں آپ کو انتہا پسندوں میں شامل کرتا ہوں ، میں نے یہ بات کسی بھی معانی میں کبھی نہیں لکھی چاہیں تو آپ میرے پچھلے تمام تبصرے دوبارہ پڑھ لیں ،
آپ نےمزید فرمایا کہ !
جان برادر ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم ہمسائے کے گھر کی آگ کو اپنی آگ نہیں سمجھ رہے اور اس احساس سے عاری ہیں کہ یہ آگ اب ہمارے گھر تک بھی پہنچنے والی ہے۔
میں بھی ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ اب ہمیں آنکھین کھولنا ہونگی ، ہمیں جاگنا ہوگا آگ ہمارے گھر کو جلا رہی ہے اور ہم ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں ۔
آپ نے مزید فرمایا کہ
آپ نے تو اسے بھی اپنا”کم علم بھائی مجاہد” کہہ دیا۔ اب مزید کچھ لکھنے کی گنجائش اس لیئے نہیں کہ ہمارے نکتہ نظر یکسر مختلف ہو گئے ہیں۔
میں اِس بات کی وضاحت پہلے بھی کر چکا ہوں مگر ایک بار بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں اُس شخص کو نہ تو جانتا ہوں اور نہ ہی اُسے کسی معانی میں مجاہد مانتا ہوں بلکہ آپ نے ہی اپنے 29 تاریخ کے پیغام مین لکھا تھا
مجھے آج29 دسمبر کو دوپہر میں متحدہ عرب امارات سے ”مجاہد” نامی کسی شخص کا فون موصول ہوا جس نے گالیوں کی صورت میں انعام کی بے پایاں بارش کے بعد ارشاد فرمایا کہ ”کراچی میں مرنے والوں کا تم لوگوں کو اتنا غم ہے کہ روتے اور لکھتے ہوئے تھک نہیں رہے ہو لیکن وزیرستان میں جو اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں ان پر تم لعنتی خاموش ہو تمہارے قلم خاموش ہیں”.
اور میں سمجھا کہ اُس کا نام مجاہد ہے اِسی سبب اُسے مجاہد لکھا اور بحیثیت پاکستانی وہ میرا بھائی بھی ہے ۔
اُمید ہے آپ میری وضاحتوں سے مطمئن ہو گئے ہونگے ۔
آصف احمد بھٹی
برادر عزیز آصف بھٹی. میں آپکی وضاحت سے بقلب صمیم مطمئن ہوں. سلامت رہیں.فکری اور قلمی جہاد جاری رکھیں مشترکہ دشمن کے خلاف.
:
آصف احمد بھٹی صاحب کے تبصروں میں “ معافی چاہتا ہوں “ جیسے جملوں کی بھرمار کیوں ہوتی ہے؟
مثال کے طور پر :
“میں آپ سے کم علم اور ناسمجھ (مجاہد) کی بد تمیزی کے لیے معافی مانگتا ہوں یقینا جزبات میں آکر یوں اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے“
۔۔۔
کیا آصف احمد بھٹی صاحب اپنے “ کم علم بھائی “ “ مجاہد “ کے وکیل ہیں کہ اسکی بدتمیزی کی صفدر ھمدانی صاحب سے معافی مانگ رہے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔
اسی بلاگ کے ایک اور تبصرے کی ایک اور مثال :
“معافی چاہتا ہوں پہلی بار آپ کی تحریر سرسری پڑھ کر جواب لکھ دیا تھا اب دبورہ غور سے پڑھی ہے تو کچھ باتیں وضاحت طلب محسوس ہوئیں ہیں “
آصف احمد بھٹی صاحب کو یاد ہوگا کہ وہ ایک دوسرےبلا گ میں بھی “ تحریر سرسری پڑھکر “ جلدی جلدی میں ایس باتیں کرچکے ہیں جس کے لیے انہوں نے “ معافی چاہتا ہوں“ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔
ہم سب کو اپنے لکھنے اور ‘تبصرہ ارسال کریں “ کے الفا ظ کو کلک کرنے سے پہلے اپنے تبصروں کو غور سے پڑھنا ہوگا تاکہ کوئی غلطی ہوجائے تو اسکی بر وقت تصحیح کرسکیں۔
۔۔۔
اسی بلاگ کے ایک تبصرے سے تیسری مثال :
“ سب سے پہلے تو میں نے آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میری کسی بات سے آپ نے یہ تائثر لیا ہے کہ میں آپ کو انتہا پسندوں میں شامل کرتا ہوں ، میں نے یہ بات کسی بھی معانی میں کبھی نہیں لکھی چاہیں تو آپ میرے پچھلے تمام تبصرے دوبارہ پڑھ لیں “ ،
۔۔۔۔۔
آصف احمد بھٹی صاحب کی تحریر نے صفدر ھمدانی صاحب کو یہ سمجھنے پر کیوں مجبور کیا کہ وہ انہیں“ انتہا پسند وں “ میں شمار کررہے ہیں ؟ کیا یہ صفدر ھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے سمجھ کا قصور تھا یا آصف احمد بھٹی صاحب کی تحریر کا ؟
۔۔۔۔۔۔۔
بہر کیف: صفدر ھمدانی صاحب نے اپنی وسیع القلبی سے کام لے کر یہ کہد یا ہے کہ :
“ برادر عزیز آصف بھٹی. میں آپکی وضاحت سے بقلب صمیم مطمئن ہوں. سلامت رہیں.فکری اور قلمی جہاد جاری رکھیں مشترکہ دشمن کے خلاف “
۔۔۔۔۔
صفدر ھمدانی صاحب تو مطمئن ہیں مگر ہم سب کو ( جن میں میں بھی شامل ہوں ) اس ڈایئلاگ ( مکالمے ) سے استفادہ کرنا ہوگا ۔
۔۔۔۔۔
میں اس سلسلے میں اپنا ہی ایک شعر لکھنےکی جرائت کررہا ہوں :
غلط باتیں اگر سوچوں تو فوراً ٹوک دیتی ہے
الہی شکریہ تیرا کہ دی ایسی زباں مجھ کو
۔۔۔۔۔
السلام علیکم
منظور قاضی صاحب کہیے کیسے مزاج ہیں ؟
آپ نے فرمایا !
آصف احمد بھٹی صاحب کے تبصروں میں “ معافی چاہتا ہوں “ جیسے جملوں کی بھرمار کیوں ہوتی ہے؟
مزید آپ نے فرمایا کہ !
اسی بلاگ کے ایک اور تبصرے کی ایک اور مثال :
“معافی چاہتا ہوں پہلی بار آپ کی تحریر سرسری پڑھ کر جواب لکھ دیا تھا اب دبورہ غور سے پڑھی ہے تو کچھ باتیں وضاحت طلب محسوس ہوئیں ہیں “
آصف احمد بھٹی صاحب کو یاد ہوگا کہ وہ ایک دوسرےبلا گ میں بھی “ تحریر سرسری پڑھکر “ جلدی جلدی میں ایس باتیں کرچکے ہیں جس کے لیے انہوں نے “ معافی چاہتا ہوں“ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔
ہم سب کو اپنے لکھنے اور ‘تبصرہ ارسال کریں “ کے الفا ظ کو کلک کرنے سے پہلے اپنے تبصروں کو غور سے پڑھنا ہوگا تاکہ کوئی غلطی ہوجائے تو اسکی بر وقت تصحیح کرسکیں۔
ارے بھائی صاحب اپنی کم علمی کا اعتراف کرنا اور اپنی اصلاح چاہنا کیا بری بات ہے ؟
یا اپنے سے کسی بڑے کی تعظیم کرنا اور اُس سے ایک سے زیادہ بار معافی مانگ لینا بری بات ہے ؟
آصف احمد بھٹی
آصف احمد بھٹی صاحب :میں خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت خداوندِ کریم سے نیک چاہتا ہوں۔
آپ کو اللہ نے قلم دیا ہے اس کو استعمال کرکے لکھتےجائیے اور اپنے علم سے دنیا کو مستفید کرتے جائیے ۔
میرا مشورہ یہی تھا کہ “تبصرہ ارسال کریں “ یا “ جواب لکھیں “ کے الفاظ کو کلک click کرنے سے پہلے اپنی تحریر کو بار بار بار بار پڑھ کر ہر ایسی بات کو حذف کردیں جو یا تو غلط ہو یا پھر اس کے ارسال کرنے کے بعد “ معافی چاہتا ہوں “ کے الفاظ لکھنے کی ضرورت موجود ہو ۔۔
جیسا کہ میں کہ چکا ہوں یہ مشورہ آپ کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی ہے ۔
آپ نے یہ فرمایا کہ : “ اپنے سے کسی بڑے کی تعظیم کرنا اور اُس سے ایک سے زیادہ بار معافی مانگ لینا بری بات ہے ؟“
میر ا خیال یہ ہے کہ اگر آپ غلطی پر ہیں تو کیا بڑا کیا چھوٹا ہر ایک سے معافی مانگنا اور اسکی“ تعظیم کرنا “ کوئی “ بری بات “ نہیں ۔
خیر اندیش :
منظور قاضی از جرمنی
اوپر کے تبصرےمیں:
آپ نے فرمایا کہ “ کیا “ اپنے سے کسی بڑے کی تعظیم کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بری بات ہے ؟ “ پڑھیے۔ شکریہ :
السلام علیکم
محترم منظور قاضی صاحب ، آپ کا ہر ہر مشورہ سر آنکھوں پر ۔
ایک بار پھر آپ سب میری طرف سے نئے سال کی نیک خواہشات قبول کیجئے ۔
آصف احمد بھٹی
عزیزم آصف. دلوں کے بھید جاننے والا. نیتوں سے واقف رہنے والا اور چلتی سانسوں کو ترنم عطا کرنے والا پروردگار آپکو،آپکے اہل خانہ کو، آپکے احباب اور دوستوں کو اپنی امان میں رکھے اور اس نئے سال میں کامیابی و ترقی عطا کرے. دعا تو مومن کا ہےہتھیار ہے. ہم فقیروں کو بھی اپنی دعائے سحر میں یاد رکھیں. پلیز