ذرا سوچئے

اسلام نے بیک وقت چار بیویوں کی اورحرم کی اجازت دی ہے ۔ لیکن مسلمانوں کا اگر ہم جائزہ لیں تو 95 فیصد سے زیادہ ایسے مرد نظر آتے ہیں جنکی زندگی میں ایک ہی عورت رہی ہے۔ دوسری طرف مغرب میں بیک وقت صرف اور صرف ایک بیوی کی اجازت ہے۔ لیکن مغرب میں ایسے مرد بہت کم نظر آتے ہیں جنکی زندگی ایک عورت تک محدود ہو۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ پابند یاں انسان کو روکتی کم ہیں اور اُکساتی زیادہ ہیں اور اسلام نے اس فطرتِ انسانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیک وقت صرف ایک بیوی کی پابندی عائد نہیں کی۔ بلکہ چار بییوں کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے حرم کی بھی اجازت دیدی ہے۔

16 thoughts on “ذرا سوچئے”

  1. مگر برادر بزرگ ظفر بھائی اسلام نے یہ چار شادیوں کی اجازت بس چلتے پھرتے،بلاوجہ،کسی شرط یا وجہ کے بغیر دے دی ہے. مسلمان نبی آخر کی کوئی اور سنت پوری کرے یا نہ اس سنت کو پورا کرنے کے لیئے جیسے بیقرار رہتا ہے اور سب سے زیادہ وہ بیقرار ہے جسے تا دم آخر ایک ہی بیوی کے ساتھ رہنا ہے

  2. صفدر ھمٰدانی صاحب

    میں نادیہ بخاری کے بلاگ میں ایک بیوی کی وکالت کرچکا ہوں۔ میں نے یہاں اپنا مشاہدہ پیش کیا ہے جس پر بہت سے سوال پیدا ہوتے ہیں۔

  3. تعجب ہے کہ فاضل بلاگ نگار نے وہی موضوع اپنے بلاگ میں چھیڑ دیا جسے نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے اپنے بلاگ میں سیر حاصل تبصروں کے لیے شامل کردیا تھا۔
    ساری رات یوسف زلیخا کا قصہ پڑھنے کےبعد یہ سوال کیوں کہ :
    زلیخا مرد تھا یا عورت تھی؟

  4. کچھ عرصہ پہلے میں نے مولانا نفیس احمد مصباحی کا ایک معلوماتی مضمون پڑھا تھا جسے آپ دوستوں سے بھی شیئر کرتا ہوں۔ مسلکی نکتہ نظر سے ممکن ہے میں خود بھی انکے مکمل مضمون کے متعدد نکات سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن فکری اور تعقلی سطح پر انکے نکات میں وزن ہے۔وہ لکھتے ہیں۔

    ‘‘اسلام نے ایک سے زائد بیوی رکھنے کی اجازت بطور آرٹیکل نہیں دی بلکہ ایک عملی ضرورت سمجھ کر دی ہے ، چنانچہ تعدد ازدواج کے سلسلہ کی ایک آیت ہے : ’’وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتٰمیٰ فانخحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و رباع ، فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ او ما ملکت ایمانکم ذلک ادنیٰ ان لا تعولواo‘‘
    اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑ کیوں میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں انہین نکاح میں لاؤ دودو، تین تین ، چار چار ، پھر اگر ڈرو کہ دو بیویوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے تم سے ظلم نہ ہو ۔
    یہ آیت غزوہ احد کے بعد اتری ۔اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوگئے ، اس کی وجہ سے اچانک سترگھرمدینہ میں مردوں سے خالی ہوگئے ۔اس کے نتیجے میں یہ صورت حال پیش آئی کہ وہاں بہت سے بچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں ۔اب سوال پیدا ہوا کہ س معاشی مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے اس وقت قرآن کی مذکورہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جولوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کر کے یتیم کو اپنی سرپرستی میں لے لیں ۔
    یہان یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ عربوں میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کا رواج تھا ۔اس آیت کاپیش منظر یہ ہو گا کہ ایک سے زیادہ شادیاں بے قید نہ ہوں بلکہ ان کی تعداد چار تک محدود ہونی چاہئیے اس سے زیدہ کچھ نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے اس آیت کو اجازت تعداد ازدواج کے ساتھ ہی ساتھ تحدید ازدواج کے مفہوم میں بھی لیا ہے‘‘۔

  5. سلام مسنون
    مکرمی ظفر جعری صاحب آپ کا مشاہد واقعی قابل غور ہے.

  6. محترم جناب ظفر جعفری صاحب ! آپ کی بات حقیقت پر مبنی ہے، جہاں چار کی اجازت ہے وہاں ایک ہی پر اکتفا ہے اور جہاں ایک کی اجازت ہے وہاں ہر ایک کے تعلقات وسیع ہیں-

    ہمدانی صاحب قبلہ ! اگرچہ میری بھی رائے، مولانا نفیس احمد مصباحی صاحب کے مضمون کے چند نکات کے بارے میں ذرا مختلف ہے
    لیکن مجموعی طور پر ان کا یہ تجزیہ واقعی بہت معقول ہے کہ

    ایک سے زیادہ شادیاں بے قید نہ ہوں بلکہ ان کی تعداد چار تک محدود ہونی چاہئیے اس سے زیدہ کچھ نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے اس آیت کو اجازت تعداد ازدواج کے ساتھ ہی ساتھ تحدید ازدواج کے مفہوم میں بھی لیا ہے-

  7. میں بھائی صفدر کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں ۔ کہ یہ اجازت کسی بھی ہنگامی ضرورت کے تحت ہے۔
    مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہم آئے دن کثرتِ ازدواج کے طعنے تو اہلِ یورپ سے سنتے رہتے ہیں ۔ مگر ابھی تک جو ٹیپ کا بند ہے وہ کسی عالم نے بطور جواز پیش نہیں کیا؟ وہ یہ برتری ہے کہ خواتین کے سلسلہ میں پہلی دفعہ اسلام نے ہی تعدادِازدواج پر پابندی لگا ئی، اس سے پہلے کوئی حد مقرر نہ تھی ۔ خواتین بھیڑ اور بکریوں کی طرح ملکیت شمار ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کی ننیانوے بیویاں تھیں ۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک ہزار؟
    جبکہ اسلام نے چار تک کی جو اجازت دی ہے اس کی وجہ ایک تو وہی ہے جو ھمدانی صا حب نے بیان فرما دی ہے، دوسری وجہ یہ ہےکہ اسلام معاشرے کی آباد کاری پر زور دیتا ہے ۔ تباہی اور بربادی پر نہیں ۔
    اگر اسلام میں بھی ایک شادی سے زیادہ کی اجازت ہی نہ ہوتی تو بہت سی مشکلات پیدا ہوسکتی تھیں ان میں کچھ فطری تھیں؟
    ا۔ پہلی بیوی اگر ضعیف ہوتی اورشوہرجوان تو شوہر کے لیئے سوائے اس کے، کوئی چارہ نہ تھا کہ پہلی والی کو طلاق دے، پھر دوسری شادی کرے؟
    ب۔اگرمیاں بیوی جنسی اعتبار سے ایک سطح پر نہ ہوتے توبھی یہ ہی مشکل پیش آتی۔
    ج۔ ابھی یہ دنیا جس مسئلہ سے عنقریب اس مسئلہ سے دوچار ہو نے والی ہے؟ یعنی خواتین کا تناسب آبادی بڑھ رہا ہے جو کہ اکیاون فیصد ہوچکا ہے ۔ اس کا بھی کوئی حل نہ ہو تا۔
    د۔ اگر کوئی خاتون پیدا ئشی طور پر بانجھ ہوتی ،تو بھی اسے طلاق مل جاتی۔
    ان سب کا حل اسلام نے چار تک کی اجازت دیکر پیش تو کیا۔ مگر جس آیت میں چار تک کی اجازت دی ،وہاں یہ بھی کہہ دیا کہ ا بشرط ِ تم انصاف کر سکو ؟ اور پھر یہ کہہ کر انسانی کمزوری مزیداجاگر کردی کہ تم انصاف نہیں کر سکوگے۔ لہذا با الفاظِ دیگر اللہ سے ڈرنے والوں کے لیئے، غلط استعمال کی اجازت بالکل نہ چھوڑی ؟

  8. میں اپنے سوال دہرانا چاہونگا

    ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰکیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ پابند یاں انسان کو روکتی کم ہیں اور اُکساتی زیادہ ہیں اور اسلام نے اس فطرتِ انسانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیک وقت صرف ایک بیوی کی پابندی عائد نہیں کی۔ بلکہ چار بییوں کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے حرم کی بھی اجازت دیدی ہے۔ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰ

    کیا یہ ایک نفسیاتی عمل ہے?

  9. محترم جناب ظفر جعفری صاحب ! میرے خیال میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہو گا کہ ۔ ۔ ۔

    ایسا ہو بھی سکتا ہے اور یہ ضروری بھی نہیں کہ ایسا ہی ہو، یعنی شریعت کے کس حکم کے پیچھے کیا مصلحت ہے یہ ہم ہمیشہ نہیں جان سکتے، ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ شاید فلاں حکم اس لیے نازل ہوا کیوں کہ ایسا یا ویسا ہوا ہوگا یا فلاں چیز کی حرمت یا فلاں شے کی حلت کی وجہ یہ یا وہ ہوسکتی ہے، حتماً اگر کوئی وجہ بتائی جاسکتی ہے تو صرف وہ جس کو خود اللہ اور اس کے رسول نے ہم پر آشکار کر دیا ورنہ ہمارے قیاس صرف قیاس ہی رہیں گے۔

    ایک اور بات یقین سے کہی جاسکتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالٰی نے ہم پر ہر اچھی چیز کو حلال اور ہر نقصان دہ شے کو حرام قرار فرما دیا ہے، روٹی حلال ہے، لیکن ایک سیر شکم کے لیے اس کا کھانا مکروہ ہے اور کسی حالت میں (اگر اس کے کھانے سے جان کا خطرہ لاحق ہو) حرام بھی ہو سکتی ہے۔

    اگرچہ ان دو نکات کا آپ کے سوال سے براہء راست کوئی تعلق نہیں لیکن سوال کے جواب کے تمہیدی پس منظر کی حیثیت سے پیش کیے ہیں۔

  10. برادرم مناف.جزاک اللہ. فکر اور علم میں تازگی اور عمیق گہرائی کا ہمیں پہلے سے بخوبی ادراک تھا لیکن اب ماشااللہ استدلال اور تحریر میں بھی نکھار آتا چلا جا رہا ہے. یہی وہ بات ہے جسے ہم فقیر لوگ مشق سخن کہتے ہیں اور عام لوگ اس سے مرآد شعر لکھنا سمجھتے ہیں.آپ کا یہ فرمانا کم از کم مجھ جیسے طالب علم کی فکر کی دلالت ہے کہ……..شریعت کے کس حکم کے پیچھے کیا مصلحت ہے یہ ہم ہمیشہ نہیں جان سکتے، ہم قیاس کر سکتے ہیں………سچ پوچھیں تو قیاس بھی عام آدمی کام نہیں.لیکن اعجاز قرآن ہے کہ ہر کس ناکس قرآن کریم کے احکامات کی تشریح اپنی خواہش اور اپنی مرضی کے مطابق کررہا ہے. یہ رویہ آپ قرآن ناطق کے سامنے روا نہیں رکھ سکتے اور یہی فرق ہے قرآن ناطق اور قرآن سامت کا۔

  11. عبدالمناف صاحب

    ٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰ شریعت کے کس حکم کے پیچھے کیا مصلحت ہے یہ ہم ہمیشہ نہیں جان سکتے، ہم قیاس کر سکتے ہیں کہ شاید فلاں حکم اس لیے نازل ہوا کیوں کہ ایسا یا ویسا ہوا ہوگا یا فلاں چیز کی حرمت یا فلاں شے کی حلت کی وجہ یہ یا وہ ہوسکتی ہے، حتماً اگر کوئی وجہ بتائی جاسکتی ہے تو صرف وہ جس کو خود اللہ اور اس کے رسول نے ہم پر آشکار کر دیا ورنہ ہمارے قیاس صرف قیاس ہی رہیں گے۔ٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰ ماشاء اللھ ، بہت اچھا جواب ہے۔

    لیکن تحقیق اور تلاشِ حق کا جاری و ساری رہنا ضروری ہے۔ اگر کوئ کافر بھی تلاشِ حق میں مرے تو وہ مومن ہوتا ہے۔

  12. بہت شکریہ ہمدانی صاحب ! ایک شاگرد کے لیے استاد کی حوصلہ افزائی سے بڑھ کر کچھ اور نہیں.

    برادرِ محترم جناب ظفر جعفری صاحب ! تحقیق اور تلاشِ حق کا جاری و ساری رہنا ضروری ہے . . . بے شک و بلا شبہ
    میری اوپر تحریر کردہ عرض کا مطلب بھی بالکل یہی ہے، اس بات کے دو مطلب ہیں . . .

    دین کے سلسلہ میں “تحقیق اور تلاشِ حق” کا پہلا مطلب یہ ہے کم ہم جستجو کریں اور ڈھونڈیں کہ کسی مسئلہ پر رسول اللہ اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے کیا وضاحتین اور تشریحات ہم کو تعلیم فرمائیں ہیں یا ان کے بعد علماء نے اس سلسلہ میں کیا تحقیقات کی ہیں.

    دوسرا مطلب وہی ہے کہ ہم اپنی سمجھ اور فہم سے کسی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کریں- اگرچہ مجھے سو فی صد یقین ہے کہ آپ نےدرج ذیل واقعہ پڑھا سنا ہوا ہے، لیکن قارئین کے لیے عمومی طور پر یہ واقعہ تحریر کرنا چاہتا ہوں (اپنے الفاظ میں) جو اس نکتہ کی وضاحت کے لیے اچھی مثال ہے:

    امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (جنہیں امامِ اعظم بھی کہا جاتا ہے) ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے سلسلہ کے چھٹے امام جعفر صادق کے شاگرد تھے، ایک دن امام جعفر علیہ السام نے ابو حنیفہ کو بلایا اور پوچھا کہ تم فتوٰی کس طرح دیتے ہو ؟ ابو حنیفہ نے کہا کہ “میں پہلے قران، پھر حدیث اور پھر تاریخ میں دیکھتا ہوں کہ کسی مسئلہ پر آج سے پہلے اللہ ، اس کے رسول (ص) یا خلفہء راشدین کا کیا حکم یا کیا فیصلہ رہا ہے، پھر اسی کے مطابق میں بھی فتوٰی دیتا ہوں”
    امام جعفر نے پوچھا “اور اگر قران حدیث یا تاریخ میں اس درپیش مسئلہ کے بارے میں کوئی حکم نہ ملے پھر کیا کرتے ہو؟ ” جناب ابو حنیفہ نے جواب دیا “پھرمیں اپنے قیاس سے فیصلہ کرتا ہوں”

    امام جعفرعلیہ السلام نے فرمایا ” کیا تمہارا خیال ہے کہ تم اللہ کے بنائے قانون کو سمجھ سکتے ہو؟ اللہ کی شریعت میں، (جس کے سلسلہ میں نہ تو جبرئیل اور نہ ہی خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس میں اضافہ ، کمی یا اور ردوبدل کریں) تم اپنی سمجھ اور فہم سے کچھ بنا سکتے ہو؟ وہ شریعت جس کو اللہ تعالٰی سے جوں کا توں حاصل کرکے امت تک پہنچا دینے ہی کی بنا پر جبرئیل علیہ السلام اور خود رسولِ اکریم (ص) کا بھی لقب “امین” قرار پایا ہے؟ اگر یہ بات ہے تو بتاؤ کہ . . .
    + قتل بڑا گناہ ہے یا زنا ؟ . . . قتل پر دو گواہ اور زنا پر چار گواہوں کا مطالبہ کیوں ہے اور
    + پیشاب زیادہ نجس ہے یا منی ؟ . . . پیشاب کے اخراج پر استنجا کیوں کافی ہے اور منی کے اخراج پر غسل کیوں واجب ہے؟

    امام ابو حنیفہ(رح) نے جب ان سوالات کے جوبات پیش کرنے سے عاجزی کا اظہار کردیا تو امام جعفر(ع) نے فرمایا ” سنو، قتل میں ایک ظالم یا مجرم ہے، مقتول تو ہے ہی مظلوم، اس لیے دو گواہوں کی شہادت طلب کی گئی ہے، جبکہ زنا میں دو مجرم ہیں ہر ایک پر دو گواہ یعنی چار گواہ ضروری ہیں، اور پیشاب کا تعلق چونکہ صرف مثانہ کے ساتھ ہے اس لیے صرف اتنی جگہ کا دھو لینا ہی کافی ہے مگر منی کا تعلق چونکہ پورے جسم کے ساتھ ہے اس لیے غسل کو واجب قرار دیا گیا ہے، خبردار آئندہ دین کے معاملات میں قیاس نہ کرنا کہ عقلِ انسانی، قانونِ اِلٰہی کے احاطہ سے قاصر ہے”.

    عین ممکن ہے کہ اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام نے چار بیویوں کی اجازت والے معاملہ کی وضاحت میں کبھی کچھ ارشاد فرمایا ہو، جو میرے علم میں نہیں، لیکن اگر آپ یا قارئین میں سے کسی کے علم میں ایسی کوئی حدیث ہے تو میں درخواست کروں گا کہ ضرور تحریر فرمائیں.

  13. عبدالمناف صاحب
    آپ نے جومثال تحریرکی اس سے زہن کے دریچے واہوئے۔۔۔علم میں اضافہ ہوا۔۔جزاک اللہ خیر

  14. ایک سے زیادہ شادیوں کیلئے عدل شرط ہے جو ایک عام شخص کے بس کی بات نہیں۔ اصولِِ دین کا توحید کے بعد سب سے بڑا رکن عدل ہے ۔ نبوت امامت قیامت اس کے بعد آتے ہیں۔ طلاق کے سلسلہ میں حدیث ہے کہ اللہ نے اسکی اجازت دی ہے لیکن اللہ کو یہ عمل سخت نا پسند ہے۔ اس ہی طرح چار شادیوں کیلئے عدل شرط ہے جو ایک عام شخص کے بس کی بات نہیں۔ اگر اس کی جگہ اللہ یا رسول یہ کہتے کہ تمکو بیک وقت ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت ہے لیکن اللہ کو یہ عمل ناپسند ہے تو کیا ایک مومن کیلئے یہ عمل خامخواہ کو کرنا مناسب ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں اسلام نے طلاق اور بیک وقت ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت ضرور دی ہے لیکن اسے discourage کیا ہے۔ اور اب تو یہ بات ثابت بھی ہوچکی کہ یہ عمل فطرتِ انسانی کے خلاف ہے ورنہ 95 فیصد سے زیادہ مسلمان ایک بیوی پر کیوں اکتفا کرتے۔ اُس زمانہ میں لوگ بیک وقت درجنوں بیویاں رکھتے تھے تو اسلام نے چار کی پابندی لگادی۔ آج جب ایک بیوی کا معاشرہ ہے تو میں سمجھتا ہوں ہمیں اجتہاد کی ضرورت ہے۔

  15. برادرِ بزرگ محترم ظفر جعفری صاحب ! آپ نے فرمایا کہ
    “اور اب تو یہ بات ثابت بھی ہوچکی کہ یہ عمل فطرتِ انسانی کے خلاف ہے”

    جعفری بھائی ! اسلام دینِ فطرت ہے، اور جو عمل فطرتِ انسانی کے خلاف ہو اسلام اس کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا اور دوئم : جس عمل کو رسول اللہ اور ائمہ معصومین علیہم السام انجام دیتے رہے ہوں اسے ” فطرتِ انسانی کے خلاف عمل ” کہنا میری ناقص رائے میں تجاوز ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *