مجھے صدر کے حاسدوں کا پتہ چلوانا ہے کہ کون ہیں۔ اب سوچیں کہ کسی کو کسی سے حسد کیوں ہوتی ہے اور حسدکی بینادی وجہ مشترکہ مفادات ہوتے ہیں۔ اب میرے یا بھائی شمس جیلانی کے یا پھر منظور قاضی کے تو ایسے کوئی مشترکہ مفادات صدر زرداری کے ساتھ ہیں ہی نہیں اس لیئے الحمد اللہ ہم تو کوئی وکیل کیئے بغیر ہی صدر زرداری کے حاسدوں کی فہرست سے خارج بلکہ باعزت خارج ہو گئے۔
اب ایسے میں مجھے عینک کے بغیر اور عینک سمیت بھی جو انکے حاسد نظر آتے ہیں تو وہ انکے وہی مشیر،وزیر اور حواری ہیں کھانا بھی انکے ساتھ ایک ہی میز پر کھاتے ہیں اور خود غیر قانونی ہونے کے باوجود انہیں قانونی مشورے دیتے ہیں۔ ویسے اگر غور کریں تو یہ بات بھی درست ہے کہ خود صدر زرداری کے اپنے ہوتے ہوئے انہیں بھلا کسی حاسد یا دشمن کی کیا ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن مجموعی طور پر انکی حاسد ہو یا پھر ایم کیو ایم والے۔
مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کیجئے

بھائی ھمدانی صاحب پہلے تو بری قرار دینے اور اس اعتماد کا بہت بہت شکریہ!
جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں تو اس سلسلہ سے تعلق رکھتا ہوں جس کی پہلی اینٹ مو لا علی کرم اللہ وجہ نے رکھی تھی یعنی ان لوگوں میںسے ہوں، جنہیں اپنے فقیر ہونےپر فخر ہےاور تاریخ گواہ ہےکہ جنکی ٹھوکروں میں تاج پڑے رہے اور انہوں نے نظر اٹھاکر بھی نہ دیکھا؟
اور آپ کو بھی جانتا ہوں کہ آپ میں بھی وہی جرا ثیم ہیں۔ لہذا آپ ویسے ہی امیون ہیں ۔ رہے قاضی صاحب ان سے صرف فون پر یاد اللہ ہے ۔ لہذا تبصرہ محفوظ؟ وہ خود فر ما ئیں گے۔
اب رہا زرداری صاحب کا معاملہ ۔ تو یہ کلیہ ہے کہ زیادہ کھانے سے بد ہضمی ہوجاتی ہے،دن تو دن رات کو بھی خواب قابوسی یعنی ڈرا ؤنے نظر آتے ہیں ۔ دوسرے ہمیشہ سے طا غوتی طاقتوں میں لڑائی بھی رہی ہے ۔ نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ آدمی کا اپنا سایہ بھی اسے بھوت نظر آ نےلگتا ہے اور وہ اس سے بھی ڈرتا ہے۔ کہ نہ جانے کون کب کس کی کرسی الٹ کر بیٹھ جا ئے۔چونکہ طاغوتی طاقتوں میں یہ جنگ ازل سے جاری ہے، لہذا یہ خاصہ خاصان ِ خدا کا ہے کہ جنکو اس نے یقین دہا نی کرادی ہے کہ میرے دوستوں کو نہ کوئی غم ہے نہ ملال۔
واہ ہمدانی صاحب ! میں آپ کو خواہ مخواہ استاد نہیں کہتا
کالے جادو وغیرہ کے اثرات کو دور کرنے کے جتنے نسخے آپ نے آج بتا دیئے ہیں یہ تو exorcism کا مکمل کورس ہے، جی چاہتا ہے کہ سب کام چھوڑ چھاڑ کے یہی کام شروع کردوں، عزت، شہرت، دولت سبھی کچھ ملتا ہے اس شعبہ میں، یا شعبدے بازی میں، اور اگر قسمت اچھی ہوئی اور کوئی زردار مرید مل گیا تو وارے نیارے ہیں
بابا کالم پڑھ کر مزہ آ گیا ۔۔ اور نسخے اتنے کمال کے لکھے ہیں کہ اب لوگ آپ کوپیر بابانہ کہنا شروع کر دیں ۔۔ مناف بھائی کی تجویز دل کو لگی ہے ۔۔ بابا میر اخیال ہے کہ عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کے تمام لوگوں کو زرداری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے سو ہم سب بھی باعزت بری ہوتے ہیں ۔۔ ویسے مجھے تو کالے بکروں کی قسمت پر رونا آ رہا ہے کہ یہ ان کی بدقسمتی ہی تو ہے جو زرداری پر قربان ہو رہے ہیں ۔۔ لگتا ہے پاکستانیوں جیسی قسمت لائے ہیں ہر بے جا پر جا بجا قربان ہو رہے ہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ شمس جیلانی صاحب اور میں زرداری صاحب کے حاسدوں میں شامل نہیں ہیں۔
ویسے انکے جاہ حشم پر رشک ضرور آتاہے۔
کتنی اچھی بات ہے کہ وہ سندھی ہونے کے ناتے سندھی ٹوپی میں بھی انتہائی ہینڈسم ( خوبصورت ) لگتےہیں اور جب وہ سفید طرے دار کلاہ پہن کر پنجابی میں تقریر کرتے ہیں تو انکے سر سے زیادہ انکا طر ّہ لہلہاتا ہے ۔
بہر حال وہ پاکستان کے صدر ہیں اگرچیکہ عدلیہ ان سے پاکستان کے ان تمام اثاثوں کو جو انکے اکاؤنٹ میں باہر کے ملکوں میں موجود ہیں واپس لانے کےلیے کہ رہی ہے ، انکو اس کی کوئی فکر نہیں ۔ انکو تو اپنے اطراف سازشوں کا جال نظر آرہا ہے۔ مگر وہ سیاسی اداکاروں اور اپنے نام نہاد دشمنو ں سے خائف نہیں وہ تو اپنے سائے ہی سے خائف ہیں ۔ اور ضمیر کی چبھن سے پریشان ہیں۔
بہر حال:
مجھے اپنی ایک نظم یاد آرہی ہے کہ :
اے فلک تونے ہمیں یہ دن دکھا یا شکریہ
شکریہ تو نے مشرّف کو ہٹا یا شکریہ
تونے زرداری کو مسند پر بٹھایا شکریہ
تونے دس فیصد کو سو فیصد بنا یا شکریہ
۔۔
شکریہ تونے شریفوں کو نوازا شکریہ
شکریہ تونے وطن کو سرفراز ا شکریہ
عدلیہ کو کردیا آزاد تیر ا شکریہ
چودھری کا کردیا دل شاد تیرا شکریہ
اب وطن میں اک نیا سورج طلوع ہونے کو ہے
انتقامی دور کا دورہ شروع ہونے کو ہے
اب نیا دستور آئے گا برائے انتظام
جس کی بنیادوں میں ہوگا دشمنوں سے انتقام
ملک لٹتا جایے گا اب مصلحت کی آڑ میں
حاکموں کو کیا غرض گر ملک جائے بھاڑ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا..ہم تو آپ کو پیارسےباباکہتےتھے لیکن کالم میں لکھے گئے منتروں سے اندازہ ہواآپ تو خاصے کی چیزہیں ، آپ سے پیارکےعلاوہ عشق مجازی کو پایہ تکمیل تک پہنچانےکیلئے تعویزبھی لئے جاسکتےہیں میں اگرچہ خود اس دشت کی صحرائی سےنکل چکاہوں لیکن ہمایاراں دوزخ کیلئے آپ کی خدمات حاصل کرکے ثواب دارین کماسکتاہوں ۔۔۔۔۔
منتربازوں کا کاروباراگرچہ وطن عیزیزمیں خوب ذوروں پرہے لیکن سنا ہے دیارغیرمیں بھی ان چھو منتروں کی خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے اوریہ ڈالروں اور پاؤنڈزمیں نذرانے وصول کرتےہیں لگے ہاتھوں آپ بھی گوروں کے دیس کو نعمت متبرکہ سمجھئیے اورادھر ادھرمنتربانٹنے کاکام شروع کردیجئے یقیناًایک ہفتے کےبعد آپ کا کام ذوروں پرہوگا اورآپ ایک اچھے سے معاون منتربازکی تلاش میں ہوں گے جس کیلئے بندہ اپنی خدمات پیشگی پیش کرتاہے
عالمی اخبارکے دیگر احباب تسلی رکھیں کاروبارمیں دن دگنی رات چوگنی ترقی کاامکان ہےجلد ہی دیگر آسامیوں کا اعلان کیاجائےگا۔۔اور
پھر۔۔۔ہم تم ہوں گے جنگل ہوگا۔۔رقص میں سارے منترہوں گے۔۔۔
ناصر.. ! بابا کبھی بھی نہیں مانیں گے .. اب انہیں منانے کے لیئے پہلے کوئی اور بابا ڈھونڈو پھر بات بنے گی .
نگہت آپی ۔۔۔آپ میرا ساتھ دیں باباکومنانےکیلئے ایک قومی مہم کا آغازکرتےہیں ۔۔۔۔شاید بات بن جائے
کالا جادو اور کالے بکرے صدارتی محل میں
محترم جناب صفدر ھمٰدانی صاحب
السّلام و علیکم و رحمتہ اللہ
آپ نے اپنے وسیع تجربے یا چلّہ کشی کے طفیل صدر مملکت محترم آصف علی ذرداری صاحب پر کالے جادو کے توڑ کرنے والے عملیات بتانے کے ساتھ ساتھ کالے بکروں کی نسل کشی پر ان سے ہمدردی کا اظہار بھی فرما کر بالکل ویسا ہی ماحول بنانے کی کوشش کی جب ساؤتھ افریقہ ، امریکہ اور دیگر ممالک میں کالے انسانوں کے ساتھ انسانیّت سوز سلوک پر گوروں کے سوا تمام دنیا کے لوگ ہمدردی کا اظہار کرتے تھے اور اس ہمدردی کے نتیجے میں کالا نیلسن منڈیلا اور اب نیم کالا بارک اوباما سفید ہاؤس کے کڑوے شہد کے چھتّے کی وائٹ مکھیوں کے غول میں ملکہ کی طرح کا روپ دھارنے میں کامیاب ہو کر بھی ( رضیہ پھنس گئی غنڈوں میں ) والے جیسے حالات میں پریشان ہیں، کہ سفید ہاؤس میں تو مسٹر وائٹ کا ہی بول بالا ہو تا ہے ۔
خالق کائنات اللہ عالم الغیب نے اپنے سب جہانوں اور زمانوں کو اپنی حکمت سے بھرپور رنگ و روپ عطا فرما کر اپنے پیارے بندوں کے ان سے تعلّقات کے راستے بھی ہموار فرما دیئے ہیں ۔ ہم اگر اللہ کی تخلیقات پر غور و فکر کریں تو ایک چھوٹا سا مٹّی کا ذرّہ بھی بہت بڑی حیثیت کا حامل نظر آئیگا ، ورنہ اللہ کا عطا کیا ہوا دماغ استعمال کیے بغیر بڑے سے بڑا پہاڑ بھی ہمارے لیے فقط مٹّی اور پتّھر کا مجموعہ ہے ۔
اللہ نے ہر چیز اور ہر رنگ کو ہماری سوچوں سے ما ورا بہت اعلٰی اوصاف و حیثیت عطا فرمائی ہے، مگر ہم ان پر ریسرچ کرنے کی بجائے اپنی چھوٹی سی سوچ کے طابع ہو کر ان پر پسند اور نا پسند کی مہر ثبت کرنے میں مگن ہیں ۔
کبھی کبھی اللہ وحدہ لا شریک اپنے بندوں کی سوچ میں سمائی ہوئی ادنٰی حیثیت کو اعلٰی درجہ عطا فرما کر انسان کو کائنات میں چیزوں سے انصاف کرنے پر متوجّہ فرماتے ہیں، جسکی تازہ مثال اسلام آباد کے صدارتی محل میں ان کالے بکروں کی اعلٰی حیثیت ہے جنہیں ہم عیدالضحٰی پر کالے سمجھ کر ترستا ہوا چھوڑ کر اس سے کہیں ذیادہ قیمت والے سرخ و سفید بکرے کو ترجیح دیتے ہیں،
ہمارے قول و فعل تو یہ ہیں کہ آج کالے بکرے کی نسل ختم ہونے پر مصنوعی پریشانی کا رونا رو رہے ہیں، لیکن عملی طور پر ہم سب لوگ بھی کالوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، بیچاری کالی لڑکیاں اور بیچارے کالے لڑکے گھر بیٹھے بوڑھے ہو جاتے ہیں اور انہیں ہم اپنی زندگی کا ساتھی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، کالے رنگ کو ختم کرنے کیلئے کریم پاؤڈر کا زہر استعمال کرتے ہیں ،
روزانہ بیس گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر بجلی والوں کو کوسنے کی بجائے بیچارے کالے اندھیرے کو ہی برا سمجھتے ہیں ۔
عیدالضحٰی پر کالے بکروں کو ترستا ہوا چھوڑ کر ذیادہ قیمت والے سرخ و سفید بکرے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ہمارے کالے معزّز وزیر، سفیر، چھوٹے بڑے، مرد و زن کو ننگا کر کے تلاشی لینے والے سفید گورے گوریوں سے ہم نفرت کا اظہار یا احتجاج کرنے کی بجائے تازہ پھولوں کے مہکتے ھار انکے گلوں میں پہنا کر اور ان پر پھولوں کی پتیوں کی بارش کر کے ہم خوشی سے بد مست ہو جاتے ہیں ۔ کہ آخر سفید چمڑی والے ہیں ۔
اسی دنیا میں ( سو سنار کے اور ایک لوہار کا ) کے کلیے کے تحت کبھی کھوٹے سکّے کی بھی اللہ سن لیتا ہے ۔ ابھی کچھ وقت پہلے کالے کوٹوں کی بہار کو دیکھ کر بڑے بڑے متکبّر بھیگی بلّی بن کر شرمسار ہوئے، جبکہ لنڈا بازار میں عشروں کے جمع شدہ میلے اور بدبو والے کالے کوٹ منہ مانگی قیمت لینے کے بعد پڑھے لکھے لوگوں کے خوشبو دار جسم پر چڑھ کر دیگر سفید و رنگین کوٹوں کیلئے وجہء رشک بن گئے ۔ اور انہی کالے کوٹوں نے قیصر و کسرٰی جیسے مضبوط تخت کو زمیں بوس کر دیا ۔
کالے بکروں کی انسان کے ہاتھوں بے قدری پر ان کالے بکروں کی حسرت و یاس اللہ سے دیکھی نہ گئی تو انہیں بھی عزّت کا مقام عطا فرمانے کا قصد کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کالے بکرے ٹی وی اور میڈیا پر چھا گئے، ریڈیو پر بھی ان گیتوں کی ریکارڈنگ زوروں پر ہے کہ ( میرا کالا اے دلدار ، گوریاں نوں پراں کرو ) کے نغمے گلی محلوں میں گونج رہے ہیں ۔
اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے ( دولت کو دنیاوی محافظ سمجھ کر اس پہ ایمان رکھنے والے ) اپنے انتہائی بھٹکے ہوئے بندے آصف علی ذرداری کو حکم دیا کہ تو نے پاکستانی قوم کو بہت نچوڑ لیا ہے اب اپنا ہاتھ روک لے اور جو مال تو نے ملکی غیر ملکی بنکوں میں چھپایا ہے اسے اب ان پاکستانی کالے بکروں پر اور برطانیہ میں اپنی اولاد کی حفاظت پر مامور ماہانہ لاکھوں پاؤنڈز لینے والے سفید سانڈوں پر نچھاور کرو ۔
آج لوگ کالے بکروں کی تلاش میں سر پٹ دوڑ رہے ہیں اور ان کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ قیمت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مجھے تو خدشہ ہے کہ کہیں آخری بکرے کا مالک ہمارے وزیروں اور لیڈروں کی طرح ( جو سب شوگر ملوں کے مالک ہیں ) بکرا چھپانے کے بعد کاروباری حساب ۔۔ طلب اور رسد ۔۔۔ کے فارمولے کے تحت اپنے بکرے کی قیمت سارے سوئس اکاؤنٹ بمع سرّے محل کے پرابر نہ کر دے ، اور ۔ جان ہے تو جہان ہے ۔ کے مصداق آصف علی ذرداری صاحب اپنی جان اور کرسی کی بقا کیلئے بکرے کے مالک کو یہ سب کچھ دے کر بھی کالا بکرا خریدنے پر راضی ہو جائیں ۔
اور اس لمحے سابق وزیر اعظم محترم چوہدری شجاعت حسین صاحب کا اکثر مواقع پر بولا جانے والا وہ جملہ پاکستانیوں کو یاد آ جائیگا کہ ( پھل موسم دا ، گل ویلے دی ) ۔ ۔
کالے جادو والا معاملہ تو محترم جناب صفدر ھمٰدانی صاحب ہی بہتر جانتے ہیں ۔ اور اس سلسلے میں آپ نے محترم آصف علی ذرداری صاحب کو اس جادو کا علاج بھی بتا دیا ہے، اس بندہ ناچیز نے تو صرف بڑوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے اور یہ بھی سنا کہ ( کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ، اللہ ہی جانے اللہ کی باتیں ) ۔۔ ۔ ۔