فلسفہ اور سائنس

فلسفہ ایک انفرادی سوچ کا نام ہے ۔ جبکہ سائنس کا تقاضہ یہ ہے کہ سارا data اکٹھا کرکے اُس کا غیر جانبدرانہ تجزیہ کیا جائے۔ پھر جو نتیجہ سامنے آتا ہے اُسے پیش کردیا جائے۔ پاکستان میں مغربی طرزِ جمہوریت بری طرح فیل ہو چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کچھ Political Scientists سارا 63 سال کا data اکھٹا کریں۔ قرب وجوار اور دور دراز کا data اکٹھا کریں اور پھر اسکا تجزیہ کرکے پاکستان میں نظامِ حکومت کیلئے کوئ ایسا نیا کلیہ پیش کریں جو دیرپا ثابت ہو۔ ہوسکتا ہے ایک دو نئے تجربے فیل بھی ہوجائیں ۔ پاکستان میں مغربی طرزِ جمہوریت بری طرح فیل ہو چکا ہے۔ یہ خواب کبھی بھی شرمندہء تعبیر نہیں ہوگا۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی اور آزاد بلوچستان جیسی تحریکیں پروان چڑھیں گی۔

24 thoughts on “فلسفہ اور سائنس”

  1. برادرِ محترم جعفری صاحب ! آپ نے فرمایا کہ

    ” پاکستان میں مغربی طرزِ جمہوریت بری طرح فیل ہو چکا ہے”

    گزشتہ بلاگ سے آپ نے اندازہ لگایا ہوگا کہ اس عنوان کے تحت ہیں آپ بھی کا ہم خیال ہوں، ایک ذرا سی ترمیم کے ساتھ عرض کروں گا کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں یہ نظام ناکامیاب ہو چکا ہے اور کہیں اگر ظاہری طور ہر اس کی کچھ کامیابی نظر آتی ہے تو وہ دیگر ممالک کے استحصال کی بنا پر اکٹھی کی گئی دولت کے بل بوتے پر ہے.

    کچھ کہنے کی اجازت چاہوں گا اور وہ یہ کہ . . . آپ نے فرمایا کہ

    ضرورت اس بات کی ہے کچھ Political Scientists سارا 63 سال کا قرب وجوار اور دور دراز کا data اکٹھا کریں اور پھر اسکا تجزیہ کرکے پاکستان میں نظامِ حکومت کیلئے کوئ ایسا نیا کلیہ پیش کریں جو دیرپا ثابت ہو

    میری عرض یہ ہے کہ اپنی 63 سالہ حیاتِ ظاہری کے آخر تک، اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک مکمل صابطہء حیات دے دیا تھا، جو بقول صفدر ہمدانی صاحب کے

    “اسلام نے ہمیں ناخن کاٹنے سے لے کر بڑے بڑے ملکوں اور حکومتوں کو چلانے کے طریقے اور نظام تک بتا دئیے سکھا دئیے ہیں”

    یہی ایک راستہ میری نظر میں راہء نجات ہے، اور اس کا ثبوت اور اس کی مثال، میں گزشتہ بلاگ میں عرض کر چکا ہوں کہ “انقلابِ اسلامیء ایران” ہے

  2. ایران میں یہ خوبی ہے کہ اس میں تمام کے تمام ایرانی رہتے بستے ہیں ۔ زبان صرف اور صرف فارسی ہے ۔ جب شاہ کی حکومت تھی اس وقت بھی ایران ایران ہی تھا ۔ اور امام خمینی کے بعد بھی ایران ایران ہی ہے اور رہے گا۔

    ایران کی اکثریت شیعہ مسلک پر چلنے والوں کی ہے ۔
    ۔۔۔
    پاکستان کے کشمیر اور گلگت ۔بللتستان کو ملا کر چھ صوبے ہیں جن کی اپنی زبان ہے ۔ سندھی کو پشتو نہیں آتی اور بلوچی کو پنجابی بھی شائد مشکل سےآتی ہوگی ۔ اور ان تماموں کو کشمیری زبان نہیں آتی ۔

    اگرچیکہ “ ایک ہے سب کا نبی ، دین بھی قرآن بھی ایک “ یہ سبھی کچھ ہیں مگر اپنی اپنی دیڑھ اینٹ کی مسجد میں مگن ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں ہر قسم کے مسلک کی ٹولیاں “ بقول ڈاکٹر پنہاں :
    اپنی اپنی جنتوں کے کچھ خواب لیے
    اپنے اپنے دوزخ میں سب جیتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں جمہوری نظام ہی کی تطہیر کرکے اسی کو بہتر سے بہتر بنانے میں ہی پاکستان کی سلامتی اور بقا کا راز مضمر ہے ۔

    جمہوری نظام خواہ کتنا ہی ناقص ہو آمریت سے ہزار درجہ بہتر ہے ۔

    اس کے لیے عوام کے سیاسی شعور کو بیدار کرنا پڑےگا ۔

    اس کے لیے عدلیہ کو اپنا آئینی کردار ادا کرکے اصلی رہنماوں کی ہمت افزائی کرنا ہوگی ا و ر نقلی رہبروں اور رہزنوں کو قانوں اور آئین کے مطابق سزائیں دلوانا ہونگی ۔

    اس کے لیے ایماندار اور ملک کی بہی خواہ صحافیوں کو زہر ہلاہل کو زہر ہلا ہل ہی کہنا ہوگا اور اپنے اپنے سرپرستوں کی ٹولی کو آگے اچھالنے کی بجائے صرف پاکستان کے مفاد کو آگے بڑھانا پڑے گا ۔

    اس کے لیے فوج کو صرف دور ہی دور سے اشاروں اور کنایوں میں پاکستانی رہنماوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اگر وہ پاکستان کی بقاکے خلاف بے ایمانہ حرکات اور اقدامات کرتے رہینگے تو وہ بالاخر فوج کے ذریعہ ایک “ خونیں انقلاب“ کا شکار ہونگے۔

    اس کے لیے جاگیرداری اور وڈیرانہ نظام کو دور کرنا ہوگا ۔
    اس کے لیے پاکستانی قوم کے سیاسی شعور کو اتنا بیدار کرنا ہوگا کہ وہ صرف حق گو اور بے باک اور بے لوث رہنماوں کی پشت پناہی کرے ۔
    اسکے لیے پاکستانیوں کو لسانی خود غرغی سے بالاتر ہوکر سوچنا ہوگا ۔

    اس کے لیے ملائیت کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔

    اس کے لیے اقربا پروری ، رشوت ستانی اور بد روی اور بدکاری کو دور کرنا ہوگا ۔اس کےلیے صرف اور صرف میرٹ ( اصلی صلاحیت ) پر ہر ایک جانچنے کی ضرورت ہوگی نہ کہ سفارشوں کے ذریعہ ہر ایک نا اہل کو اہل بنانے کی ضرورت ہوگی ۔

    اس کے لیے قائد اعظم جیسی مقناطیسی شخصیت چاہیے جس کے ہر اشارہ پر ساری قوم قربان ہونے کو تیار تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب رہا “ آزاد بلو چستان جیسی تحریکوں کے پروان “ چڑھنے کا سوا؛ل تو وہ آمریت کے دور میں بھی موجود تھیں اور جمہوریت کے دور بھی موجود ہیں ۔ ایسی تحریکوں کو نئے نظام ِ حکومت سے کچلنا بے تکی سی بات کرنا ہے۔

    یہ دو مختلف قسم کےموضوعات ہیں اور انکے حل کے لیے پاکستان کا نظام حکومت بدلنا ضروری نہیں ۔
    انکے لیے صوبائی خود مختاری اور صوبوں کے باشندوں کے حقوق کو تسلیم کرنا اور انکی امنگوں اور آرزوں کو سمجھنا ہوگا اور انکے عوام کے جائز انسانی حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا ۔ ان کے ساتھ جو نا انصافی ہوئی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے اس کو دور کرنا ہوگا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب رہا بار بار پاکستان کا بار بار مقابلہ امریکہ سے کرنا ، یہ بھی کچھ عجیب سی بات ہے :
    امریکہ دوسو سے زیادہ سال سے قائم ہے اور پاکستان صرف باسٹھ سال کا ہے ۔
    امریکہ کی سرکاری زبان انگریزی ہے
    امریکہ کے پچاس صوبوں کو آئینی حقوق حاسل ہیں۔
    امریکہ کے آئین پر عمل کرنے کےلیے عدلیہ اور قانون ساز ادارہ اور اس کے صدر کے اختیارات اپنی اپنی جگہ پر متعین ہیں ۔ اور ایک دوسرے کی دیکھ ریکھ بھی کررہے ہیں۔
    امریکہ میں احتساب سے بچنا آسان کام نہیں ۔
    امریکہ نے تاریخ سے سبق سیکھ سیکھ کر اپنے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور اب تک اپنے آئین میں ترمیمات کر کے اس کو بہتر سے بہتر بنا رہا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ان تمام باتوں کی وجہ سے پاکستانی نظام کو امریکہ نظام میں فوری طور پر تبدیل کردینے کے مشورے زیب نہیں دیتے ۔ اس کے لیے کم از کم سو سال کی محنت اور مشقت کی ضرورت ہے ۔
    ۔۔۔۔۔
    میں نے پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے جو مشورے دیے ہیں ان پر عمل کرنے ہی میں پاکستان کو زندہ جاوید بنا یا جاسکتا ہے ۔

    بہر حال :
    پاکستان زندہ باد

  3. یہاں میں کچھ تصحیح کر دوں۔ فلسفہ اپنے ارد گرد کی دنیا اور مشاہدات کو عقل کی کسوٹی پہ پرکھنے کا نام ہے اور سائنس اس سے تھورا آگے بڑھتی ہے اور اسے عملی طور پہ پرکھتی ہے یعنی تجربات کر کے نتائج نکالتی ہے ورنہ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
    جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے۔ اقبال کہہ گئے ہیں کہ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے جس میں بندون کو گنا کرت ہیں تولا نہیں کرتے۔ یہ گننے کا طریقہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب آپ ایک جیسی چیزیں لیتے ہیں۔ جیسے گحوروں کے درمیان سے ایک اچھا گھوڑآ نکالنے کے لئیے کچھ اصول و ضوابط نافذ کئیے جاسکتے ہیں مگر گھوڑوں اور شیر کے درمیان کیسے تقابلہ کیا جائے۔ وہ ممالک جہاں ایک جیسی آبادی ہو، جنکی ایک ہی زبان اور مذہب اور وابستگیاں ملتی جلتی ہوں اور خاص طور پہ جنکا ذہنی معیار ایک جیسا ہو وہی اس طریقے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئ یہ چاہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پی لوگوں کو اکٹھا کر لے تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ یہاں مذہب کے بھی مختلف ورژن ہیں۔ اور ایک کا آدمی دوسرے کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا بلکہ اسکے لئیے کافر ہے۔ ان حالات میں جمہوریت قند مکرر کے بجائے زہر ہلاہل بن جاتی ہے کیونکہ یہ جمہوریت زیادہ تعصبی عناصر کو سامنے لاتی ہے۔ وہ تعصبی عناصر جو معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر طبقہ اپنے لئیے زیادہ آسانیاں اور اپنا تسلط زیادہ چاہتا ہے۔ یہ طبقات اہل یا ناہل کو نہیں دیکھتے بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ اس سے ہمارے گروہ فکر کا تسلط رہنا چاہئیے اور نتیجۃً ہمیں زیادہ فوائد ملنے چاہئیں۔

  4. محترمہ بہن عتیقہ ناز صاحبہ !

    بہت مدلل اور بہت خوبصورتی سے آپ نے اپنا موقف بیان فرمایا، ماشاء اللہ – فلسفہ اور سئینس کا موازنہ بھی حقائق کے مطابق ہے اور جمہوریت کی تشریح بھی بہت فصیح ہے – خاص طور پر تمام دلائل کے بعد آخر میں آپ کا تجزیہ تیر بہدف ہے کہ ۔ ۔ ۔

    + ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ یہاں دین کے بھی مختلف ورژن ہیں۔ اور
    + ایک مسلک کا آدمی دوسرے کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا بلکہ اسکے لیے کافر ہے۔
    + ان حالات میں جمہوریت قند مکرر کے بجائے زہر ہلاہل بن جاتی ہے کیونکہ
    + یہ جمہوریت تعصبی عناصر کو زیادہ سامنے لاتی ہے۔ وہ تعصبی عناصر جو معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر طبقہ اپنے لئیے زیادہ آسانیاں اور اپنا تسلط زیادہ چاہتا ہے۔
    + یہ طبقات اہل یا ناہل کو نہیں دیکھتے بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ اس سے ہمارے گروہ فکر کا تسلط رہنا چاہئیے اور نتیجۃً ہمیں زیادہ فوائد ملنے چاہئیں۔

  5. محترم جناب منظور قاضی صاحب !
    معذرت کے ساتھ ۔ ۔ ۔

    ایران میں بھی کئی قومیں آباد ہیں مثلاً بلوچی، آزری، کرد، وغیرہ وغیرہ – ان سب کی زبانیں بھی الگ الگ ہیں اور رسم و رواج بھی، اسلام صرف کسی ایسے ہی معاشرے کے لیے نہیں آیا جہاں ایک ہی قوم آباد ہو یہ تو تمام قوموں کے لیے ایک عالمگیر دین ہے –

    ایران میں مختلف ادیان اور مذاہب موجود ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے بعد یہودیوں کی سب سے بڑی یہیں ہے ( باوجود اس کے کہ انقلاب کے بعد تین چوتھائی نے ملک چھوڑ دیا تھا ) صوبہ بلوچستان میں نوے فی صد آبادی اہلِ سنت کی ہے، اس کے علاوہ، عیسائی، پارسی، بہائی وغرہ بھی موجود ہیں لیکن آپ کی یہ بات درست ہے کہ اکثریت اہلِ تشیع ہی کی ہے۔

    آپ نے معاشرے کی کئی اہم کمزوریوں کی نشادہی کی ہے جہاں اصلاح کی ضرورت ہے مثلاً

    + عوام کے سیاسی شعور کو بیدار کرنا پڑےگا –
    + عدلیہ کو اپنا آئینی کردار ادا کرکے اصلی رہنماوں کی ہمت افزائی کرنا ہوگی ا و ر نقلی رہبروں اور رہزنوں کو قانوں اور آئین کے مطابق سزائیں دلوانا ہونگی –
    + ایماندار اور ملک کی بہی خواہ صحافیوں کو زہر ہلاہل کو زہر ہلا ہل ہی کہنا ہوگا اور اپنے اپنے سرپرستوں کی ٹولی کو آگے اچھالنے کی بجائے صرف پاکستان کے مفاد کو آگے بڑھانا پڑے گا ۔
    + فوج کو صرف دور ہی دور سے اشاروں اور کنایوں میں پاکستانی رہنماوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اگر وہ پاکستان کی بقاکے خلاف بے ایمانہ حرکات اور اقدامات کرتے رہینگے تو وہ بالاخر فوج کے ذریعہ ایک “ خونیں انقلاب“ کا شکار ہونگے۔
    + جاگیرداری اور وڈیرانہ نظام کو دور کرنا ہوگا ۔
    + پاکستانی قوم کے سیاسی شعور کو اتنا بیدار کرنا ہوگا کہ وہ صرف حق گو اور بے باک اور بے لوث رہنماوں کی پشت پناہی کرے ۔
    اسکے لیے پاکستانیوں کو لسانی خود غرغی سے بالاتر ہوکر سوچنا ہوگا ۔
    + ملائیت کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔
    + اقربا پروری ، رشوت ستانی اور بد روی اور بدکاری کو دور کرنا ہوگا ۔اس کےلیے صرف اور صرف میرٹ ( اصلی صلاحیت ) پر ہر ایک جانچنے کی ضرورت ہوگی نہ کہ سفارشوں کے ذریعہ ہر ایک نا اہل کو اہل بنانے کی ضرورت ہوگی ۔
    + قائد اعظم جیسی مقناطیسی شخصیت چاہیے جس کے ہر اشارہ پر ساری قوم قربان ہونے کو تیار تھی۔

    لیکن یہ سب کچھ تو ایک درست اور مستحکم نظام حکومت کے قیام کے بعد ہی ممکن ہے نہ کہ یہ سب کچھ خدا معلوم کس طرح نافذ کرنے کے بعد ایک نیا اور صحیح تر نظامِ حکومت قائم کیا جاسکے گا- یعنی معاشرے کے انہی نقائص کو دور کرنے کے لیے ہی تو ایک نئی حکومت اور ایک نیا نظام درکار ہے، اگر کسی طریقہ سے یہ نقائص دور ہوگئے تو پھر وہی طریقہ ہی چاہیے نہ کہ کوئی نیا نظامِ حکومت

  6. جمہوریت کو پاکستان کےلیے ناموزوں ثابت کرنے کے لیے دلائل اپنی جگہ مگر صرف دلیلوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا،
    بہتر تو یہ ہے کہ اس سے بہتر نظام بھی تجویز کیا جائے ۔
    پاکستان کو اس مسئلہ کا “ حل“ چاہیے ۔
    فلسفہ اور سائنس جیسے غیر متعلق موضوعات پر بحث کرنے والے پاکستان کے لیے ایک موزوں سیاسی نظام کی تجویز پیش نہیں کرسکینگے ۔

  7. عبدالمناف غلزئی صاحب کا تبصرہ ہمیشہ کی طرح مدلل ہی ہے ۔
    انہوں نے امام خمینی رح کے زمانے کا “ انقلابِ اسلامی ایران “ طرز کا نظام اپنے ابتدائی تبصرہ میں تجویز کیا ہے ۔
    مگر کیا وہ دیرپا ثابت ہوا؟
    کیا موجودہ ایران امام خمینی رح کے “انقلابِ اسلامی ایران “ کی عکاسی کررہا ہے ؟
    اگر جواب مثبت میں ہے تو بسم اللہ ایسا ہی نظام پاکستان میں چاہیے ۔
    اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں “ جمہوریت کی تطہیر “ کرکے جمہوری نظام کو ہی قبول کرنا پڑے گا۔
    یہی تجویز میں اپنے اوپر کے تبصرے میں پیش کرچکا ہوں۔
    اس کے لیے عدلیہ ، میڈیا کا مثبت کردار ضروری ہے ۔
    ناقص جمہوریت ، ہر طرح کی آمریت سے زیادہ بہتر ہے ( پاکستان کی تاریخ اس کی شاہد ہے ) ۔
    کیا سنگاپور کا ن جمہوری ظام اس سلسلہ میں ایک نمونہ ثابت ہوسکتا ہے ؟

  8. اچھا موضوع زیر بحث ہے اور طالبعلموں کے لئے مفید معلومات شیئر ہو رہی ہے

    شکریہ

  9. احباب نظام خلافت کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔۔یہ نظام تو آزمودہ ہے۔۔اس کی عملی صورت اسلام میں موجودہے،اورثمرات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔۔کیوں نہ پاکستان میں اسلامی خلافت بحال کی جائے۔۔۔؟

  10. ناصر زیدی صاحب گستاخی کی معافی چاہتا ہوں،،،، کیا معلوم بھی ہے کہ خلافت کس خوبصورت تخیل کا نام ہے کاش حضرت انسان اس وقت کے تھوڑے سے حصے کے بعد بھی کبھی اس لفظ کی حریت کا خیال کرکے دیکھ لیتا لیکن شاید وقت اپنے نام کے ساتھ اپنے مزاج کوبھی بدل دیتا ہے،،،،پھر بہت ضروری ہے کہ وقت کے بدلے مزاج کو سمجھا جائے اور پھر اس نظام حکومت پر اپنا نقطہ نظر بیان کیا جائے،،،
    لیکن اس ساری بات میں یہ بات زہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ ہم آج کے بارے میں سوچ بچار کررہے ہیں نہ کہ چودہ سو سال پہلے کے ماہ و سال کو آئڈیلائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم کو چودہ صدی پیچھے جاتے ہوئے ویسے خود ہی سوچ لینا چاہیے کہ اتنا پیچھا جاتے جاتے ہم کس حد تک تھک جائیں گے اور سفر بھی اکثر پیدل کا ہے چند سال تو راکٹ پر کٹ جائیں گے پھر کچھ سفر موٹر پر چل جائے گا لیکن کوئی بارہ صدی تو ہم کو پا پیادہ ہی چلنا پڑے گا تب کہیں جا کر اس آئڈیل وقت کے حصے میں پہنچ سکیں گے پھر کہیں جا کر ریسرچ کرنا ممکن ٹھہرے گا اور اگر آپ امہات الکتب سے استفادہ کرنے بیٹھ گئے تو پھر تو آپ کر بیٹھے امت کے لیے خلافت نامہ مکمل،،،،
    پھر ایسے میں محترمی ناصر صاحب آپ کے خلافت کے نظام حکومت کو جا کرکے دیکھ سکیں گے،،،،،، امت اور اجتماعیت اور موجودہ دور میں قوم کے لفظی مفہوم یاد رکھیے گا جدید دور میں دوبارہ تعریف کے مستٓحق ہیں آپ چاہیں یا نہ چاہیں بہر حال بادل ناخواستہ یہ سب تو ریسرچ کرنا ہی پڑے گی،،،،،اب یہ آپ پہ ہے کہ بدعت اور بدعتی خوشبودار ماحول سے بچتے بچاتے ہوئے کیسے وہاں تک پہنچ سکتے ہیں،،،،،،،،
    شاید اب ہم کو ان پرانی کہانیوں سےباہر نکل آنا چاہیے تا کہ موجودہ صورت حال میں خواب و خیال کی دنیا سے باہر کا دیکھ لیں،،، اور کوئی راستہ مل جائے اور پاکستانی قوم بھی سکھ کا سانس لے سکے،،،،،،،

  11. جنوبی کوریا اور سنگاپور میں پہلے اچھے ڈکٹیٹرز نے آکر ملک کو استحکام دیا پھر ملک کو جمہوریت کی ڈگر پر ڈ الدیا۔

    امریکہ میں آخری فیصلہ electoral college کے 538 delegates کے پاس ہوتا ہے۔ میری معلومات کے مطابق آج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں انکے نتائج کو ہمیشہ electoral college نے endorse ہی کیا ہے۔ لیکن electoral college کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ عوامی انتخاب کے نتیجہ کو مسترد کردے اور خود کسی کو منتخب کرلے۔ اس دستور میں electoral college اسلئے رکھا گیا ہے کہ عوام کبھی کبھی غلط فیصلہ بھی کرسکتے ہیں اور اس صورت میں electoral college مداخلت کرسکتا ہے۔

  12. An electoral college is a set of electors who are selected to elect a candidate to a particular office. Often these represent different organizations or entities, with each organization or entity represented by a particular number of electors or with votes weighted in a particular way. Many times, though, the electors are simply important people whose wisdom, ideally, would provide a better choice than a larger body. The system can ignore the wishes of a general membership, whose thinking need not be considered.

  13. ایک بات کی وضاحت کر دوں ، جیسا کہ ایک مبصر نے کہا کہ یہاں سائنس اور فلسفے کی بحث چھیڑی جا رہی ہے۔ میں نے اسکی صرف تصحیح کی تھی۔ کیونکہ ان تحریروں پہ سے اکثر دوسرے لوگ بھی گذرتے ہیں اور یہ معمولی غلطیاں انکی معلومات میں شامل ہو جاتی ہیں اور پھر وہ اسے دوسری جگہوں پہ ریفرنس کے طور پہ استعمال کرتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اس طرح کی معلومات کو پہلے چھان پھٹک لیا جائے تاکہ آپکی تحریر زیادہ معتبر ہو جائے۔
    دوسری بات اسلامی خلافت سے متعلق ہے۔ اس پہ نکچھ کہنے سے پہلے میں یہ وضاحت کرنا چاہونگی کہ نطام حکومت دراصل دو مراحل کا مجموعہ ہے۔ اول، اپنے درمیان سے ایسے لوگوں کو چناءو کرنا جنہیں آپ اس قابل سمجھتے ہوں کہ وہ آپکے مسائل کو سمجھتے ہوں اور انکے حل کے لئیے کوشاں ہوں۔ اور دوسرا جب آپ ایسے لوگوں کو چن لیں تو ریاستی معاملات کو چلانے کے لئیے کیا طریقہ ء کار ہوگا۔
    پہلا مرحلہ یعنی چناءو کے لئیے اسلام ی قرآن نے آپکے لئیے کوئ خاص طریقہ تجویز نہیں کیا۔ چاروں خلفاء راشدین کو چار مختلف طریقوں سے چنا گیا۔ اب جبکہ ہماری آبادی انیس کروڑ کے لگ بھگ ہو رہی ہے ہمیں اسکے لئیے زیادہ بہتر شفاف اور واضح طریقے نکالنے پڑیں گے۔ دوسرا امور مملکت کو چلانا۔ اس پہ ایک طبقہ کہہ سکتا ہے کہ شریعت اسلامی کے مطابق۔ تو اس سلسلے میں ہم صرف انتہائ بنیادی باتوں کو ہی لی سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ کریں تو پیچیدگیاں بڑھتی ہیں۔ اور وہ انتہائ باتیں یہی ہو سکتی ہیں کہ اقتدار من جانب اللہ ہے اور اس سے کسی مسلامن کو انکار نہیں ہو سکتا۔
    لیکن یہ بات کہ ملک میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں، انکے درمیان وسائل کی کیا تقسیم ہونی چاہئیے، لوگوں کی مادی زندگی کا معیار بہتر کرنے کے لئیے کیا ذرائع کام میں لانے چاہئیں ا، ہماری خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہئیے وغیری وغیرہ، اسکے لئیے ہمیں اپنی ذہنی قوتون کو ہی کام میں لانا پڑیگا۔ یہ تمام چیزیں کسی کتاب میں لکھی نہیں ملیں گیں۔ اسی طرح اسلامی خلافت کی، دیکھا جائے تو تمام مسلم امت کا ایک ہی خلافیفہ ہونا چاہئیے۔ لیکن یہ چیز زمانی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ تمام مسلم ممالک مختلف تہذیب، مختلف سیاسی پس منظر اور دیگر مسائل رکھتے ہیں۔ اور مسلمانوں میں موجود اس طبقہ ء فکر کو اس سے باہرآجانا چاہئیے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنی موجودگی کے لئیے لڑتے لڑتے ختم ہو چکی ہے۔ ہمیں کچھ اور چیزوں پہ سوچنا چاہئیے۔ لیکن ان سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا پڑیگا کہ ہمارے اپنے بنیادی حقاءق کیا ہیں۔ یہ بات کہ ہم کسی مقناطیسی شخصیت کے منتظر بیٹھے رہیں اور اسکے وجود میں آنے کا انتظار کرتے رہیں۔ ہماری شخصیت پرستی کے جذبے کا اظہار ہے۔ ایک چیز اجتماعی ذہانت بھی ہوتی ہے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اپنی اجتماعی ذہانت کو بروئے کار لائیں۔
    اور یہ جو کسی نے کہا کہ نئے مفروضات پہ کام کرنا چاہئیے۔ یقیناً نئے مفروضات کے تمام پہلوءوں پہ کام کرنے کے بعد انہیں ضرور کام میں لانا چاہئیے۔
    ابھی جو چیز ہے وہ یہ کہ اگر ہمیں اسی جمہوریت کو چلانا ہے تو ایسے اقدامات کئے جائیں کہ وراثتی سیاست کا خاتمہ ہو، مڈل کلاس سیاسی عمل میں حصہ لینے کے قابل ہو۔ پسماندہ علاقے، جہاں سے سردار یا وڈیرے کے کہنے پہ لوگ ووٹ ڈالتے ہیں، ان علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں کہ حقیقتا پاکستان پہ جو حکمران آتے ہیں وہ سب ان لوگوں کے چنے ہوئے ہوتے ہیں جو اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے۔ ملک میں قبائلی نظام کا خاتمہ ہونا چاہئیے۔ زمانہ بہت آگے نکل گیا ہے اور ہماری اکثریت اپنے فرسودہ رسوم کو فخر سے گلے سے لگائے اپنی پسماندگی کا گلہ کرتے ہیں۔

  14. محترمہ عنیقہ ناز صاحبہ
    سلام علیکم۔
    جمہوریت کے حوالہ سے آپ کا تبصرہ بہت مناسب تھا۔ تاہم یہ آپ نے کیسے کہ دیا کہ اسلام نے کوئی دستور مملکت نہیں دیا؟ خدا تو زمین پر بشر بھیجنے سے پہلے خلافت کا انتظام کرنے کی سنت قائم کر چکا ہے۔ تاہم یہ انتہائی فروعی مسئلہ ہے، اس لئے مناسب ہوگا کہ اس پر یہاں بحث نہ کی جائے اور صرف اتنا یاد رکھیں کہ آج بھی دنیا اس امام مھدی کی منتظر ہے جو منصوص من اللہ ہو کر خلافت علیٰ طریق الرسول قائم کریں گے۔ ورنہ مدعیان مھدیت تو کئی گزر گءے جن میں کئی ایک مزاجا مصلح امت بھی تھے، لیکن اللہ کی طرف سے تائید نہ ہونے کے سبب، سب ناکام رہے۔ اصل حکومت تو امام مھدی کی ہی ہوگی جو احیائے اسلام کرے گی اور امن عالم کو ایک مشکل جنگ کے بعد دیرپا استقام دے گی۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر اسرار احمد کے مضامین پڑھیئے تا کہ نظریہ مھدیت کی مبادیات تک دسترس ہو جائے تو پھر اسکی تدریجی منازل کی طرف کوچِ عرفان ہو سکے۔
    نا چیز

  15. عنیقہ بہن

    آآپنے اچھا کیا کہ فلسفہ اور سائنس کی وضاحت کردی۔ انسان کی سوچ کا انحصار اسکے تجربہ مشاہد اورمطالعہ جیسے عوامل ہی پر ہوتا ہے۔ جب اسے انسان عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے تو اُس سے جو سوچ اُبھرتی ہے اسے فلسفہ کہتے ہیں۔ جبکہ سائنس کیلئے تجربات درکار ہوتے ہیں۔ سائنس میں Arbitration کی گنجائش نہیں ہوتی۔ میرا میدان فلسفہ نہیں ہے اور میں سائنس کا ایک ادنیٰٰٰٰ سا طالبِ علم ہوں۔ Oil and Gas Exploration Research میرا میدان ہے ۔

    آپکے تبصروں میں معلومات بھی ہیں اور logic بھی۔ ذرا آپ اس با ت پر بھی روشنی ڈالیں کہ پاکستان کیلئے کونسا نظام کار گر ہوسکتا ہے۔ کیا ہم سنگاپور اور جنوبی کوریا کی تاریخ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

  16. میرے تبصروں سے کچھ احباب کی دل شکنی ہوئ ہے جو میرے لئے بیحد باعثِ تکلیف ہے۔ اس مجبوری کے پیش نظر اب میرا کسی بلاگ میں مزید حصہ لینا غیر مناسب ہوگا۔یہ عمل میرے لئے زہر کا پیالہ پینے کے مترادف ہے۔ دوست بنانے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ انہیں دو پل میں کھو دینا آسان بات نہیں۔ میری مجبوری میری تربیت ہے کہ جو دل میں ہے وہی زبان اور لوح وقلم پر بھی ہو۔ آپ لوگ ایک درسگاہ ہیں۔ آپ سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں سارے قارئین اور عالمی اخبار کا مشکور بھی ہوں اور اُن سے معذرت خواہ بھی ہوں۔

  17. لفظ فلسفہ یونانی لفظ” فلوسوفی” سے نکلا ہے جسے آسان الفاظ میں حکمت بھی کہہ سکتے ہیں۔ فلسفے کی کتابوں میں ازمنہ قدیم سے ہی اس کی کوئی متعین تعریف نہیں کی جاسکی۔
    دراصل فلسفہ علم و آگہی کا ہمہ گیرعلم ہے جو وجود کے اغراض اور مقصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیا کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ وجود بالذات کی دریافت ہے۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔گویا مجموعی طور پرفلسفہ ’’ام العلوم‘‘ہے کہ یہی لگ بھگ ہر عہد میں تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔
    * مابعدالطبیعیات Metaphysics
    * علمیات Epistemology
    * جمالیات Aesthetics
    * اخلاقیات Ethics
    * منطق Logic
    یہ پانچوں فلسفے کی عمومی اقسام ہیں
    فلسفے کے اپنے لاتعداد موضوعات ہیں جن میں سے ایک عمومی دلچسپی کا موضوع وجودیت ہے جس کی تحریک پر تین افراد یعنی آندرے ژند، سگمنڈ فرائڈ، اور سارتر کا گہرا اثر ہے۔وجودی مفکرین اجتماعی زندگی کے مقابلے میں ”فرد“ کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے فکر و فلسفے میں محض انسان کا انفرادی وجود اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک طبقات یا گروہ ”فرد“ کی حیثیت اور آزادی کے دشمن ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ طبقات اور گروہ اُسے ہرطرح کی ذمہ داری سے آزاد کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس وجودی مفکرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر فردآزاد ہے اور اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ انتخاب کی اس آزادی اور ذمہ داری ہی سے ہر فرد ذہنی اضطراب کاشکار ہوجاتا ہے اور اس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ جاتے ہیں۔
    اور اب سائینس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی سائینسی اصطلاح کا سہارا لیئے بغیر آسان الفاظ میں۔۔۔۔۔۔سائینس کی ایک مستند سی تعریف کچھ یوں ہوا کرتی ہے کہ :موجودہ معلومات کی بنیاد پر حقائق کو پرکھنا اور حاصل کردہ معلومات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے منطق بندی کرنا سائینس کہلاتا ہے۔
    استقرائی منطق، کے نظریے کے مطابق سائنس کا آغاز مشاہدے سے ہوتا ہے، یعنی سائنس حصولِ علم کا ایسا طریقہ ہے جس میں مشاہدات کی بنیاد پر نظریات [Theories] قائم کیے جاتے ہیں۔ ان مشاہدات کی بنیاد انسان کے حواس خمسہ پر ہے یعنی سماعت، بصارت، لمس، سونگھنا اور چکھنا، دعوی یہ ہے کہ ان حواس خمسہ سے حاصل ہونے والے مشاہدات کوبنیاد بنا کر آفاقی نوعیت کے نظریات قائم کرنا ممکن ہے۔

  18. ظفر بھائی یہ تو کوئی بات تو نہ ہوئی پھر ۔۔ میدان چھوڑ کر جانا کسی مومن کی شان نہیں ۔۔ پھر ہم تو اپنے ہیں اور آپس میں مل جل کر رہنے کے دعوے دار بھی ہیں ۔۔ اب یہی دیکھیئے کہ جس بات پر آپ خفا ہو کر جا رہے ہیں اس بات کی وجہ سے کسی نے بھی آپ سے جانے کو نہیں کہا ۔۔ یہی تو جینا ہے ۔۔ الحمدا للہ آپ ہم سب میں بڑے ہیں ۔۔ آپ کے تجربات ہم سب سے وسیع ہیں ۔۔ کیا ہم آپ سے سیکھتے ہوئے اختلاف نہیں رکھ سکتے ۔۔۔ ہاں بس اتنی گزارش تھی جو ہم سب سے کرتے رھتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو بھی پرسنل نہیں ہونا چاھیئے ۔۔۔ دیکھئے حکومت میں کوئی بھی ہو لیکن ۔۔ ہم اس نقطے ہر تو سب ہی متفق ہیں ن اکہ پاکستان میں بہتری اور استحکام کی فضا ہو ۔۔۔ اب یہ کون لائے گا اسی پر سب سوچتے ہیں اور اپنے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں بات کہتے ہیں ۔۔ سو اگر انسان مختلف ہے تو اس کی سچ اور فکر بھی مختلف ہو گی جسے انفرادی رائے کہا جاتا ہے ۔۔ ہاں مجموعی رائے ایک ہو تی ہے اور اسی وجہ سے فورم بنائے جاتے ہیں کہ بحث و مباحثہ کے بعد کسی اچھی سے رائے کو بنا لیا جائے اور پھر اسے متعلقہ اشخاص تک پہنچا دیا جائے ۔۔۔ چھوڑ کر جانا اگر آپ کے لیئے زہر کاپیالہ ہے تو ہمارے لیئے بھی آپ کو یوں اتنی سی بات پر جانے دینا کچھ کم نہ ہو گا ۔۔ دیکھئے جو نظریاتی سوچ رکھتے ہو انہیں تو پہاڑ سا کلیجہ رکھنا چاھیئے اور پتھر کھانے کے لیئے ہر وقت تیار ۔۔۔ میری خواہش ہے بھائی کہ آپ اختلافات کے باوجو یہی رہیے اور ہماری تربیت کریں ۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی بہن کو مایوس نہیں کریں گے ۔۔۔ یقین جانئے اختلافات سے عزت اور محبت کم نہیں ہوتی ہے ۔۔ بلکہ اور بڑھتی ہے اور با ضمیری کا احساس رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔

  19. برادر محترم ظفر جعفری. سب سے پہلے تو یہ عرض کردوں اپنے دوستوں کی خدمت میں کہ یہ تبصرے بھی کوئی سائینس اور فلسفے کے موضوع سے ہٹ کر نہیں بلکہ میں نے اوپر فلسفے کی جن 5 عمومی اقسام کا ذکر کیا ہے ان میں سے ہی دو یعنی منطق اور اخلاقیات سے براہ راست متعلق ہے.
    بھائی ظفر…آپ نے خود ہی یہ لکھکرکہ ……دوست بنانے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ انہیں دو پل میں کھو دینا آسان بات نہیں۔……..اپنے ہی لکھے کی نفی پھر یہ کہہ کر کر دی کہ…………. اب میرا کسی بلاگ میں مزید حصہ لینا غیر مناسب ہوگا۔یہ عمل میرے لئے زہر کا پیالہ پینے کے مترادف ہے۔
    برادرم بات یہ ہے کہ میں ہمیشہ یہ لکھتا،کہتا اور اس پر عمل کرتا چلا آ رہا ہوں کہ زندگی اختلافات کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہے اور فلسفے کی رو سے ہی یاد رکھیں کہ اختلاف بیدار مغز اور وسیع الذہن انسان ہی کرتا ہے کُند ذہن نہیں.
    ان بلاگوں میں ہم جو جو اختلاف کرتے ہیں وہ ہمارے ذاتی نہیں ہیں اس حوالے سے کہ یہ موضوعات ہمارے گھر،خاندان اور بچوں کے بارے میں نہیں اگر چہ وسیع تناظر میں انکا تعلق ان سب سے ہو سکتا ہے. اس لیئے کسی موضوع پر اختلاف کو کشیدگی کا باعث بنا لینا اور دوستوں کو خیرباد کہہ دینا کسی اور کے لیئے تو شاید درست ہو لیکن کسی صاحب فکر اور دانشمند کے لیئے ہر گز درست نہیں.
    یوں تو شاید اگر میں بھی نوے فیصد لوگوں کی طرح ہوں تو یہ مہمل فقرہ کہہ دوں کہ کوئی جاتا ہے تو جائے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا…..لیکن نہیں سچ تو یہ ہے کہ ہمیں فرق پڑتا ہے اور وہ اس حوالے سے کہ اول تو ہماری یہ محفل پہلے ہی کوئی ہجوم نہیں.چنیدہ لوگ ہیں.دوسرے یہ کہ اگر اس طرح ہر کوئی یہ کہہ کر چلا جائے کہ خدا حافظ تو کیار جہاں کا کیا ہو گا اور تیسری اہم بات یہ کہ آپکا یہ کہہ دینا آسان ہے کہ میں جا رہا ہوں لیکن اب ہمارا امتحان یہ ہے کہ آپ کو بلیک میل کر کے نہیں بلکہ استدلال کے ساتھ روکا جائے.لیکن اگر اسکے بعد بھی آپ اس محفل کو چھوڑنے پر مُصر ہوں توہم خود کو ناکام اور بدقسمت سمجھیں گے.
    آپ اپنے اور ہمارے لکھے ہوئے ایک ایک تبصرے کو پڑھ لیجئے کہ کسی ایک سطر میں آپکی ذات گرامی کو نہ نشانہ بنایا گیاہے اور بہ کوئی غلط بات کی گئی ہے. ہاں جیسے آپ کو ہمارے خیالات سے اختلاف کا پورا حق ہے ایسے ہی ہمیں بھی ہے.
    اب آپ دیکھیں کہ آپ ایم کیو ایم کے بہت شدت سے حامی ہیں اور میں تمام سیاسی جماعتوں کو چور،لٹیرے اور عوام دشمن سمجھتا ہوں. کیسا سخت اختلاف ہے .لیکن آپکو ایم کیو ایم نے وفاقی وزیر نہیں لگا دینا اور مجھے ان سیاسی جماعتوں کی جیل میں ڈالنے کی ہمت نہیں.
    ہم کو یہ بھی علم ہے کہ ہماری ان تحریروں کو آخر کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟ لیکن کم ازکم ہماری آپس میں ذہنی تربیت تو ہو رہی ہے نا.ہم ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں نا.
    بس یہی درخواست ہے میری. باقی آپ اپنی ذات اور افعال کے مالک ہیں. میری ذاتی خواہش ہے کہ آپ میری اس تحریر کو جو کسی مجبوری کی نہیں بلکہ فقط استدلال کی ہے پڑھیں اور ایک سے زیائد بار پڑھیں اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں.اپنے کسی فیصلے کو بدل لینا بھی جوانمردی ہی کہلاتا ہے.

  20. اوپر کے تبصروں کو پڑھنےکے بعد شمس جیلانی صاحب کی یہ بات یا د آگئی جسے انہوں نےا پنےبلاگ میں جس کا عنوان “ تنقید“ تھا ، تحریر کیا تھا :

    “ اب رہیں بعض لوگوں سے طرف اخبار چھوڑ نے کی دھمکیاں ؟ میرا انکو مشورہ یہ ہے کہ پہلے دھمکی دیں نہ اور اگر دیں تو پھر واپس نہ آئیِں۔ میں نے آپ لوگوں کو بہت بور کر لی، اب ایک چٹکلا سنا کر بات ختم کر تا ہوں۔:

    “ ایک چرواہا تھا اس کی بیوی روز کہا کر تی تھی کہ میں گھر نہیں جا ؤنگی ۔ ایک روز چرواہےنے سوچا کہ آج اسے بھی آزمالیا جا ئے کہ یہ اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناتی ہے یا نہیں؟ اس نے حسب معمول دھمکی دی تو اس نے خلاف معمول نظر انداز کر دی۔ وہ بجائے منانے کے اپنا ریوڑھ ہانکتا ہوا چلدیا اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا ۔ یہ تکتی رہی جب اس نے دیکھا ایک تھکی ہو ئی بھیڑ رہ گئی جو ریوڑھ کا ساتھ نہ دے سکی ۔ لہذا ڈوبتے کو تنکے سہارا، اس نے اس کی دم پکڑلی یہ کہتے ہو ئے کہ مجھے چھوڑتی کیوں نہیں میں گھر نہیں جا ؤنگی ؟ اور یہ ہی کہتی ہو ئی گھر میں دا خل ہوگئی “
    ۔۔۔۔۔۔۔

  21. میرے چھوٹے بھائ ہمدانی صاحب

    ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰٰٰمیں جانتا ہوں کہ کچھ علاقوں کی مٹی میں ہی ایسی خاصیت ہوتی ہے کہ لڑواؤ اور تماشا دیکھو.لیکن شکر ہے خالق کائنات کہ ہم ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں محبتیں اور دوستیاں بلا مفاد اور طویل المدت ہوتی ہیں اور ہمارے ہاں صرف بچے ہی بڑوں کا احترام نہیں کرتے بلکہ بزرگ بھی بچوں کی عزت کرتے ہیں کہ عزت اور محبت یکطرفہ نہیں دو طرفہ ٹریفک ہے.ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰٰٰٰ

    آپ اگر اس جملہ کی تھوڑی سی وضاحت کردیں تو شاید میری جوانمردی واپس آجائے۔ فی الحال مجھ پر وحشت قبر طاری ہے۔

    آپ ای میل بھی کرسکتے ہیں۔ اسطرح بلاگ کاتقدس بھی قائم رہیگا اور ہم قاضی صاحب کی بھیڑوں سے بھی جھوجنے سے بچ جائیں گے۔

  22. برادرم آپ جہاندیدہ اور نبض شناس آدمی ہیں. بس جو لکھا وہ آپ بخوبی سمجھ گئے ہیں. بس اتنا ہی کافی ہے. باقی جو مزاج یار میں آئے. وحشت قبر کا احساس تو ہمارے آپ کے ہاں زندگی کی علامت ہے.

  23. اس بلاگ کا موضوع ہے فلسفہ اور سائنس، مگر پاکستان کی “سیاست “ کو “ فلسفے“ اور “ سائینس “ سے تعلق کیا ہے ؟
    یہاں تو جس کی لا ٹھی اسکی بھینس کا معاملہ ہے۔
    پاکستان کی سیاست کو علمِ سیاسیات سے بھی کوئی تعلق نہیں اس لیے کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا نظر آتا ہے ۔
    یہاں پر تو چانکیہ اور مکیا ولی جیسے مفکروں کی ہدایات پر عمل کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *