ُپاکستان میں منشیات کی وبا : کیاا س کا انسداد ممکن ہے ؟

آج کے جنگ اخبار میں “ انسدادِ منشیات ۔ مگر کیسے کے عنوان کے ساتھ انور غازی نے انتہائی بھییانک قسم کا نقشہ کھینچا ہے ۔ یہ کالم پڑھنے کے قابل ہے ۔
اسی موضوع پر محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا ایک یو ٹیوب ویڈیو پروگرام بھی حال ہی میں دیکھنے میں آیا ۔
پاکسان میں اس وبا کے انسداد کے لیے پوری قوم کیا کررہی ہے ؟ پاکستانی حکومت کیا کررہی ہے ؟

کیا یہ وبا پاکستان سے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاے گی یا پا یہ وبا پاکستان کے نوجوانوں کو ہمیشہ کے لیے تباہ کردے گی ؟
سوچنے کا مقام ہے ۔

11 thoughts on “ُپاکستان میں منشیات کی وبا : کیاا س کا انسداد ممکن ہے ؟”

  1. http://www.jang.com.pk/jang/jan2010-daily/31-01-2010/col13.htm
    اوپر کی لنک پر کلک کرکے آپ سب انور غازی کے اس کالم کو پڑھ سکتے ہیں۔
    اس کے ساتھ ساتھ یو ٹیوب ویڈیو پر نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا انتہائی معلوماتی پروگرام بھی دے سکتے ہیں ۔ (میں اتنی فنی مہارت نہیں رکھتا ہوں کہ اس ویڈیو پروگرام کو یہاں اس بلاگ میں منتقل کرسکوں۔ میری نادیہ بتول بخاری صاحبہ سے درخواست ہے کہ وہ اپنے تبصرے کے ساتھ اس کمی کو پوار کردینگی )
    بہر کیف :
    یہ موضوع غور طلب ہے :
    فقط :
    منظور قاضی
    میونخ کے ایک قریبی گاوں سے

  2. محترم منظور قاضی صا حب بعد از سلام ۔۔شکریہ ۔۔۔۔اپ نے میرے یوٹیوب پر منشیات کے پروگرام کے لنک کو اپنے خوبصورت بلاگ میں شا مل کرنے کی خو ا ہش کا اظہار کیا۔مجھے یو ں لگا جیسا اج اللہ پاک نے مجھے اس محنت کا اجر اپ کی اس عزت افزائی کرنےکی صورت میں عطا کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپ نے جس نازک مسئلے پر روشنی ڈالی ھے ہمارا پیارا دیس اس وباء کی لپیٹ میں بری طرح سے ا چکا ھے۔۔۔
    لیکن اس میں بھی وہی کلاس کا فرق ا جاتا ھے مجھے اج بھیی یاد ھے کہ میری منشیات رپورٹ کی تحقیق کے دوران ایک نشاء کرنے والے کی والدہ نے کہا کہ میں جانتی ہوں۔کہ نشاء بری چیز ھے لیکن یہ کہاں کا انصا ف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ غریب نشاء کرے تو وہ اوباش۔۔۔۔۔۔۔ اور امیرنشاء کرے تو فیشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ اگر اپنی ویڈیو رپورٹ اس بلاگ میں چسپا ں کردیں تو اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ ہوجاےگا۔
    مجھے ویڈیو کو بلاگوں میں چسپاں کرنے کا طریقہ نہی آتا ۔
    اب رہا غریب کی اوباشی اور امیر کے فیشن کا سوال تو دونوں ہی اپنی زندگی کو موت سے بدتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
    نتیجہ ایک ہی ہے : سسکتی ہوئی موت ۔

  4. بلاشبہ سسکتی ہوئی موت ۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں تک بات ھےمیرے یو ٹیوب ویڈیو پروگرام کی تو چونکہ یہ اپ کا بلاگ ھے تو اس پر اخبا ر انتظامیہ ھی پیسٹ کر سکتی ھے میں ابھی ھمدانی صاحب کو اس کا لنک ای میل کرتی ھوں۔۔۔۔۔۔۔اگر انھوں نے چاھا تو ضرور ھو جائے گا

  5. محترم ھمدانی صاحب مو لا اپ کو سلامت رکھیں امین
    محترم منظور قاضی صاحب میں اپ کی مشکور ہوں۔۔۔۔

  6. صفدر ھمدانی صاحب نے اس ویڈیو کی اہمیت کو محسوس کیا اور اسکو اس بلاگ میں جگہ دی : جزاک اللہ
    نادیہ بتول بخاری صاحبہ ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے اس ویڈیو پروگرام کو صفدرھمدانی صاحب کی اجازت اور اعانت سے اس بلاگ میں شامل کردیا ۔
    اس بلاگ میں انور غازی کا اوپر دیا ہوا مضمون ( لنک) اور یہ ویڈیو پروگرام دونوں بہت ہی اہم ہیں ۔
    اللہ پاکستان کو اس وبا کا انسداد کرنے کی توفیق اور ہمت عطا کرے۔

    اگر نادیہ بتول بخاری صاحبہ کبھی موقعہ ملے تو منشیات کے عادی مریضوں کی زندگی اور انکی موت کے محرکات پر بھی کوئی تحقیقی پروگرام ویڈیو کی شکل میں تیا ر کریں تو تصویر کا بھیانک رخ بھی منظر عام پر آجاے گا ۔

    مگر اس کے لیے کافی وقت اور سرمایہ چاہیے اور تحقیقات کےدوران جان اور عزت کی حفاظت کرنی ہوگی ۔

    اور ڈرگ مافیا کے خونخوار اور منحوس ہاتھوں سے بچنا ہوگا۔
    کراچی کے شہری ڈرگ مافیا کے نام سے بخوبی واقف ہیں اور اسکے ہاتھوں کافی نقصان اٹھارہے ہیں۔
    ( اس سلسلے میں کولمبیا اور میکسیکو کے افسوسناک واقعات سے بھی سبق سیکھنا ضروری ہے ۔ )
    بہرحال :
    فی الوقت جو کچھ مواد اس بلاگ میں موجود ہے وہی پڑھنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  7. پیاری نادیہ میرا پروفیشن سایئکاٹری ہے اور میرا روز آئے دن منشیات کے عادی لوگوں سے واسطہ رہتا ہے ۔۔ پہلی بات میں آپ سب کو سچ سچ بتادوں کہ یہ نشہ دنیا کے کسی بھی ملک سے ختم نہیں ہو سکتا ۔ یہ ہمیشہ سے کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ہے ۔اور رہے گا ۔ کئی لوگ حادثاتی طور پر ا سکے عادی ہوجاتے ہیں ۔۔ کچھ لوگ بطور فیشن اس لت میں لگے ہیں اور کچھ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر دیکھا دیکھی نشہ کرنے لگ جاتے ہیں ۔۔ جو چیز بری ہے وہ ہر حال میں بری ہے ۔۔ اور برائی کے خلاف بھی وہی کرنا ہو گا جو عمومی رویہ ہوتا ہے۔۔ یعنی مختلف زرائع ابلاغ کے زریعے سے منشیات کے متعلق معلومات کو پھیلانا اور اس بچنے کے لیئے تدابیر کا زکر کرنا ۔

    مغرب میں نشے کے عادی لوگوں کے لیئے ڈسپنریاں بنائی گیئں ہیں جہاں سے وہ نئی سرنجیں لے سکتے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی انفیکشن کے ہیروین کے انجکشن خو دکولگا سکیں ۔۔۔ میں نے سو میں سے ایک کو ہمیشہ کے لیئے نشہ سے نجات پاتے دیکھا ہے ۔ نشہ زیادہ تر زہنی مریض کرتے ہیں یا نشہ نشہ کرتے کرتے وہ خود زہنی مریض ہو جاتے ہیں اور انہیں شیزو فرینیا جیسی بیماری آسانی سے لگ جاتی ہے ۔۔ جس کے لیئے وہ مزید نشہ کرتے ہیں تاکہ انہیں دوسری زہنی پریشانیوں سے نجات ملی رہے ۔۔

    مجھے ابھی تک ایک ماں یا دہے جو اپنے شیزو فرینیک بیٹے کے لیئے “مروانہ“ خود خرید کر لاتی تھیں تاکہ اس کا بیٹا گلیوں سڑکوں آواراہ نہ پھرے بلکہ سکون سے گھر بیٹھا رہے اور جب اسے پتہ چلا کہ اس میں کیمکل ہوتے ہیں تو اس نے اپنے گھر میں د وپودے لگا لیئے تاکہ اس کے بیٹے کو تازہ مروانہ مل سکے ۔۔اور ہم لوگوں نے کبھی ا سکے بیٹے کوہوسپٹل ایڈمٹ نہیں کیاکہ اس کی زہنی کیفیت ہمیشہ اس کی ماں کی اس تازہ تدبیر کی وجہ سے قابو میں رہتی ہے ۔
    میں ڈرگ مافیا کے بہت خلاف ہوں ۔۔ لیکن ہم جوبھی کر لیں ان کاوجود ا س جہاں سے نہیں متا سکتے ۔۔ کیونکہ یہ ایک مارکیٹ ہے جسے بڑے بڑے ملکوں کی سربراہی حآصل ہے ۔ ہاں ہم سب مل کر ایک کام کر سکتے ہیں کہ لوگوں تک اس خطرناک نشے کے مہلک اثرات سے بچاؤ کے لیئے اسکول اور کالج کے پیمانے پر تعلیم کو عام کر سکتے ہیں ۔۔اس کے بارے میں سیمنارز اور نادیہ کی طرح وڈیوز بنائیں جاسکتے ہیں اور ٹی وہ پر اشتہارات چلائے جاسکتے ہیں تاکہ عام و خواص میں منشیات کے بارے میں تعلیم زیادہ سے زیادہ عام ہو ۔والدین کو اپنے بچوں سے کھل کر ڈرگس پر گفتگو کرنی چاھیئے ۔۔ اگر ایسی تمام کوششوں سے کوئی ایک بھی منشیات کی دنیا سے واپس آگیا سمجھئے اس سے بڑی جیت اور کوئی نہیں ۔

  8. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ماہرِ نفسیات بھی ہیں اور نفسیاتی امراض کے علاج بھی کرتی ہیں اس لیے انکی باتیں اس موضوع پر آخری حرف کی طرح ہیں۔
    میں سنگا پور کبھی نہیں گیا۔ مگر سنتے ہیں کہ وہاں یہ وبا بالکل نہیں ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا وہ ملک ایک رول ماڈل ( مثالی نمونہ ) نہیں بن سکتا ؟
    ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔

  9. پیاری نگھت نسیم صاحبہ میں اپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں کیونکہ زیادہ دور نہیں بلکہ اپنے قریبی ملک بنگلہ دیش ہی کی مثال لے لیجیے وہاں جمعہ کے خطبہ کے دوران مولوی صاحبا ن نے سگریٹ نوشی کے خلاف باقاعدہ تحریک چلائی اور اس موزی مرض پر بہت حد تک قابو پایا۔۔۔۔۔۔یعنی اس سلسلے میں ھمارے مولوی صاحبان جب تک نہیں ائیں گے کام مزید بگڑتا جائے گا۔۔۔کیونکہ ھماری قوم کا المیہ کہہ لیں یا جو بھی سمجھ لیں مولویوں کی بات یہاں زیادہ سنی جاتی ھے۔۔۔۔
    محترم منظور قاضی صاحب پتہ نہیں اپ کو یہ بات پسند بھی اتی ہے ہا نہیں۔۔۔

  10. نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے اب تک عالمی اخبار کے بلاگوں اور تبصروں میں جتنی باتیں لکھی ہیں و ہ سب مجھے اس لیے پسند آتی ہیں کہ ان میں معصومیت کے ساتھ ساتھ صدا قت بھی ہے اور بے باکی بھی۔
    میں ملا اور مولوی کا فرق جانتا ہوں۔
    ملا کے متعلق عرشی صاحبہ نے ایک طویل نظم لکھ ڈالی ہے ، جس کے ہر ہر شعر کے مضمون سے میں متفق ہوں۔
    اب رہا مولویوں کا معاملہ تو وہ سلجھے ہوئے علما ہیں جن کے علم کی جتنی بھی قدر کیجائے وہ کم ہے۔
    اگر مولوی صاحبان منبر پر بیٹھ کر اپنے معتقیدین کو یہ کہتے رہیں کہ منشیات دین اوردنیا دونوں کے لیے بری ہیں تو یقینی طور پر ان کے معتقد منشیات سے دور ہی رہینگے۔
    اگر مولوی صاحبان جلوس کی شکل میں تحریکِ طالبانِ پاکستان کے رہنماوں کو یہ قائل کردیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور خود کش حملے نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دین اور دنیا کے لیے برے ہیں تو ضرور ان کے معتقدین دہشت گردی سے دور رہینگے۔

    مگر مولوی صاحبان تو مساجد اور عبادت گاہوں اور خا نقاہوں میں گوشہ نشینی اختیار کرچکے ہیں۔ اور
    ملاوں کو کھلی اجازت دے دی ہے کہ وہ من مانی کرتےرہیں۔

  11. صرف منشیات کےحوالےسے ہی نہیں علما کو سماج سدھارکیلئے اوربھی بڑی بڑی برائیوں کےخلاف میدان میں اترنا ہوگا نہ جانےہمارے آئمہ کرام کو کونسی طاقت برائیوں کےخلاف ڈٹ جانے سے روکے ہوئے ہے،حالانکہ برائی کےخلاف جہاد کا حکم واضح ہے۔۔۔۔قرآن و حدیث میں ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *