السلام علیکم
میں اِس بلاگ کا آغاز کچھ غصے کی کیفیت میں کر رہا ہوں ، ممکن ہے کہ میرے کچھ جملے کچھ احباب کو پسند نہ آئیں اِس لیے میں سب سے پیشگی معزرت کر لیتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں میری حالت (غصے) کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ احباب درگزر فرمائینگے ۔
کل رات ( پاکستان کے وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے ) ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کا پروگرام ’’ میرے مطابق ‘‘ دیکھتے ہوئے ، وقفے کے دوران کچھ دیر کے لیے میں نے اسٹار نیوز لگا لیا وہاں پروگرام ’’ چوبیس گھنٹے چوبیس خبریں ‘‘ چل رہا تھا ، اور خبر آ رہی تھی پونے میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے حملے کے متعلق ، رپوٹر صاحب فرما رہے تھے کہ ،
پونے میں ہونے والے دھماکے کے تار پاکستان سے مل رہے ہیں ( اور پھر جماعت اسلامی کے موجودہ امیر جناب منور حسن صاحب کے کسی جلسے کی وڈیو دکھا کر کہنے لگے ) اِس شخص کا نام ہے عبد الرحمان مکی اور یہ آتنک وادی ( دہشت گرد ) لشکر طیبہ کا مکھیہ ( خاص ) آتنک وادی ہے ، کچھ دن پہلے اسلام آباد مین ہونے والے ایک جلسے میں اِس آتنک وادی نے مہاراشٹر کے شہر پونے اور ہریانہ کے شہروں پر حملہ کرنے کا دعوا کیا تھا ، اور اَس کے ساتھ لشکر طیبہ کے امیر حافظ سعید بھی موجود تھا جسے بھارت سرکار پاکستان سے کئی بار مانگ چکی ہے ۔ ( خبر اِس کے بعد بھی چلتی رہی اِس پورے عمل کے دوران مسلسل جناب منور حسن صاحب کو دیکھایا جاتا رہا )
میں جانتا ہوں کہ پاکستان وہاں کے میڈیا اور سیاست کے لیے ہمیشہ سے ہاٹ کیک رہا ہے تھوڑے سچ کے ساتھ بہت سا جھوٹ ملا کر ہمیشہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے مگر یہ بلاگ شروع کرنے کا میرا بنیادی مقصد ہے کہ ہم سب احباب اِس خبر کی مزمت کریں اور ممکن حد تک ہندوستانی میڈیا کی کو اُس کا اصل چہرہ دکھائیں ۔
ممکن ہے میں اِس بلاگ کی نظامت پوری طرح نہ کر سکوں یعنی میں یہاں زیادہ نہ آ سکوں اُس کے لیے آپ سب سے معزرت خواہ ہوں البتہ میری خواہش ہو گئی کہ آپ سب احباب اپنے مزمتی تبصرے ضرور ارسال کریں ۔
آصف احمد بھٹی
دوسرا یہ کہ

سلام مسنون مکرمی آصف بھائی
اپ نے بہت اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے،
میرا چونکہ صحافت سے تعلق نہیں اس لئے اس بارے میں زیادہ جانتا بھی نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ایک صحافی کو جتنا غیر جانبدار ہونے کی ضرورت ہے اتنی کسی اور کو نہیں. کیوں کہ یہ اس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ اپنے قارئین یا دیکھنے والوں تک اصل معلومات بعینہ پہنچائے.
لیکن جب کوئی جانبدار ہو جائے، آنکھوں پر تعصب کے پردے پڑ جائیں تو اس طرح کے بلنڈرز رونما ہو جاتے ہیں. ذکر عبدالرحمن مکی صاحب کا ہوگا اور تصویریں منور حسن صاحب کی دکھائی جائیں گی.
انڈیا کی نہ صرف حکومت بلکہ میڈیا بھی پاکستان کے بارے میں بہت زیادہ متعصب ہے. اگرچہ یہ صحافتی بدیانتی ہے، اور انتہائی غیر ذمہ دار ہے لیکن اس سے یہ تو عیاں ہے کہ وہ اپنے وطن کی خاطر کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں. کوئی واقعہ رونما ہو جائے، چاہے سیلنڈر ہی پھٹ جائے اس کو بھی پاکستان کی طرف منسوب کرنے میں ذرا برابر بھی تامل یا باک محسوس نہیں کرتے.
لیکن ہم واضح ثبوتوں کے باوجود انڈیا کا نام اونچی آواز میں نہیں لیتے. بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ بھارت کے بے بنیاد دعووں کو ہم خود ثبوت فراہم کرتے ہیں.
ممبئی پر حملہ ہوا، پاکستان پر الزام لگا اور پورا ہندوستانی میڈیا پل پڑا ………. اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے کا دعوی کیا گیا جس کا تا حال کوئی ثبوت نہیں تھا …….. ہمارا میڈیا فورا آوارد ہوا… پنجاب میں ایک فرید کوٹ نامی گاؤں بنوایا اور اجمل قصاب کو وہاں کا باسی بنا کر اس کی ویڈیو بنا کر انڈیا اور بین الاقوامی ذرائع کو بتایا کہ واقعی قصاب صاحب پاکستانی ہیں.
انڈیا والے جس قدر اپنے وطن کی محبت یا پاکستان سے نفرت میں آگے ہیں ہم اتنے ہی انڈیا کی محبت اور اس کی دوستی کی خواہش میں آگے ہیں. سوائے کچھ کے ……… الا من رحم ربی
امن کی آشا صرف پاکستانی گروپ یا پاکستانی ”دانشوروں“ کا نعرہ اور تمنا نہیں بلکہ انڈیا کا بھی ایک بہت بڑا گروپ اس کا برابر کا پارٹنر ہے … لیکن … ان کی فوج، ان کی سیاسی جماعتوں اور ان کے میڈیا کا رویہ ہمارے سامنے ہے.
اگرچہ امن ہر انسانی خواہش اور بنیادی ضرورت ہے لیکن کس قیمت پر ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
و السلام
راجہ اکرام
اسلام آباد
انڈیا کبھی بھی پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں رہا ہے اور نہ رہے گا ۔۔ آخر یہ سب اسی وقت ہی کیوں ہوتا ہے جب پاکستان مذاکرات کے لیئے حامی بھر لیتا ہے ۔۔ جب کسی بھی قوم میں قومی غیرت کا فقدان ہو تو ایسے ہی وار سہنے پڑتے ہیں ۔۔ انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم پوری دنیا میں ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔۔ بہت ہی تکلیف دہ حالات ہیں ۔۔ دل گرفتہ ہو رہی ہوں ۔۔سب دیکھ سن کر ۔۔ ۔اس پروپیگنڈا کی شدید مذمت کرتے ہوئے دعا گو ہوں ۔۔ اے ہمارے مہربان مالک اللہ پاک اپنے حبیب کے صدقے ہمارے لیئے سنبھلنے کا کوئی راستہ نکالیئے ۔۔ ۔۔
بھائی آپ کی بات میں برا منانے کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ ہندوستانی میڈیا کی اتنی بڑی بیوقوفی کو بیوقوفی کہیں یا سوچا سمجھا منصوبہ؟ ہمارا میڈیا خود وطن عزیز کے اندرونی مسائل کی تشہیر میں مگن ہے اور بیرونی دنیا میں اسکی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا جہاں عریانیت و غلاظت کی بیساکھیوں پر بیرونی دنیا میں خاص رسائی رکھتا ہے، وہاں اسکے پروگرام خاص اہداف کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے یہاں مشرف نے میڈیا کو آزاد کرتے وقت ایسی بے راہ روی پر ڈال دیا تھا جس سے اسکی آج تک واپسی ممکن نہیں ہوسکی۔ پھر مشرف کے آخری ایام حکومت میں سیاسی قوتوں اور ادارتی طالع آزماؤں نے ہمارے ذرائع ابلاغ کا قبلہ سدا کے لئے ٹیڑھا کر دیا۔
ضرورت تو اس امر کی تھی کہ جیو ٹی وی اور اس جیسے بڑے بڑے نام بیرونی صحافیوں کی خدمات حاصل کرتے اور وطن عزیز کو درپیش مسائل پر اپنے مصارف خرچ کرتے۔ لیکن ایسا کرنے سے انہیں صرف اور صرف شاید اشتہارات کی آمدن پر گزارہ کرنا پڑتا، جبکہ اب تو آمدن کے ذرائع بھی ماشاء اللہ بہت وسیع ہیں۔
ہندوستانی میڈیا جو بھی کرے انکے مد نظر انکے قومی مفادات رہتے ہیں، جن میں سر فہرست پاکستان کی بدنامی ہے۔ ہم اس بد دیانتی کی شدید مذمت کرتے ہیں، لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ من حیث القوم ہمارے سیاسی راہنما اور میڈیا بھی اپنا حقیقی کردار ادا کر سکیں؟
بلاگ نگار نے انڈیا والوں کی میڈیا کے ہاتھوں پاکستان والوں کی بدنامی کرنے کا غصہ تو اس بلاگ میں ظاہر کرہی دیا ۔
مگر اس کا تعلق ڈاکٹر شاہد مسعود سے کیا تھا؟
بلاگ نگار نے فرمایا:
“کل رات ( پاکستان کے وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے ) ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کا پروگرام ’’ میرے مطابق ‘‘ دیکھتے ہوئے ، وقفے کے دوران کچھ دیر کے لیے میں نے اسٹار نیوز لگا لیا:“
۔۔۔۔
ماروں گھٹنا ،پھوٹے آنکھ کی مثال اس بلاگ پر ثابت آتی ہے ۔
۔۔۔۔۔
اب بلاگ نگار صاحب نے کہدیا ہے کہ وہ اس بلاگ کی نظامت باضابطگی سے نہ کرسکینگے ۔
وہ اس غصہ کو حسب معمول اپنے معلوماتی کالموں میں ہی لکھدیتے تو پڑھنے والے پڑھتے یا نہ پڑھتے ۔
۔۔۔۔
اب اس بلاگ میں سب جو چاہیں لکھیں ۔ بلاگ نگار صاحب نے بلاگ لکھکر اپنے غصہ کا اظہار کرکے خدا حافظ کہ ہی دیا ۔ ۔
آصف بھٹی۔ یہ بات بہت پہلے طے ہو گئی تھی کہ اب زمانہ روایتی جنگ کا نہیں رہا۔ یا تو جوہری جنگ ہو گی یا پھر اس سے بھی زیاد خوفناک ” میڈیا وار” ہو گی۔ جیسے وطن عزیز میں متعدد دیگر اہم شعبوں کو کسی ہنگامی صورت حال کے لیئے تیار نہیں کیاگیا اور روزمرہ کی بنیاد پر کام ہوتے ہیں یہی حال میڈیا کا ہے۔
ہم نے کسی بھی منصوبہ بندی کے بغیر بے شمار ٹی وی لائسینس اور ایف ایم لائسینس جاری کر دیئے اور یہ کہیں نہ انتظام کیا کہ ان کو چلانے والوں کی تربیت بھی ضروری ہے اور نہ ہی ٹی وی مالکان کے بارے میں کچھ جانچ پڑتال ہوئی۔ اس لیئے اپنے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی روزمرہ کی بنیاد پر کسی منصوبہ بندی کے بغیر۔ دلچسپ ترین پروگرام ہر ٹی وی کا ”ٹاک شو” ہے جس میں نہ کسی پروڈکشن کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی تخلیقی اپج کی۔ ایک اینکر۔۔۔اور تین مختلف سیاسی جماعتوں کے بے خبر نمائیندے اور ایک مبصر نما صحافی۔۔۔۔۔بس ایک سے ڈیڈھ گھنٹہ آرام سے گزر جاتا ہے اور نوے فیصد اینکر یا میزبان خود گفتگو کا باقاعدہ حصہ بن جاتے ہیں۔ پورے پاکستان میں ایک تربیتی اکیڈمی ریڈیو پاکستان کی اور ایک ٹی وی کی ہے۔باقی رہے نام اللہ کا۔ میں پورے دعوے سے کہتا ہوں ایسے ٹی وی پروگراموں کے ساتھ بھارت کے میڈیا کا کیا مقابلہ کریں گے جنکی حکومت نے آج تک دل سے پاکستان کے قیام کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ لیکن سوچنا یہ ہے کہ ہم اس کا جواب کیسے دیں۔ آصف صاحب نے جو واقعہ لکھا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ انہوں نے شاید پہلی بار بھارتی ٹی وی پر ایسا دیکھا ہے۔ پاکستانی ٹی وی کے پاس تو سپریم کورٹ،زرداری،نواز شریف اور اپنے موضوعات ہیں، بھارت کا میڈیا کے محاذ پر مقابلہ بہت دور کی بات ہے اور یہ حقیقت میں ایک میڈیا پرسن کے طور پر کہہ رہا ہوں۔
اللہ کے نبیوں کو بھی ان کی امّت کے کافروں نے پریشان اور بدنام کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور طرح طرح کی ایزائیں پہنچا ئیں ۔ اسی طرح اللہ کے بے شمار دیگر نیک بندوں کے ساتھ بھی مختلف ادوار میں ایسا ہوتا رہا۔ لیکن اللہ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کا تعلیمی پرچم تھامے ان اللہ کے نبیوں اور بندوں نے اپنے سچّے قول و عمل سے انسان کے دل میں بین المذاہب ہم آہنگی، ، اخلاق، اخوّت، انصاف،پیار و محبّت، رواداری اور ایمانداری کے پھول سجا کر دیانت، محنت اور ملک و قوم سے وفاداری و بھلائی کی خوشبو بکھیر کر تمام مذاہب اور قوموں میں خود کو اچھا انسان ثابت کر کے آنے والے انسان کے لیے بہتریں راستہ متعیّن کیا ۔
جب کسی بھی قوم نے مذکورہ بالا طریقوں پر عمل کرتے ہوئے نفسا نفسی اور خود غرضی کے بھنور سے نکل کر ایمانداری سے اپنے وطن اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کام کئے ، وہ قومیں دنیا میں کامیاب و با مراد ہو گئیں ۔
غصّہ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ ہم سب اور خصوصاً پڑھے لکھے حضرات کو تو ٹی وی پروگرام دیکھ کر یا کوئی بھی خراب کام دیکھ یا سن کر غصّے میں آنے کی بجائے اس کی وجوہات اور اس کے حل کی طرف سنجیدگی سے غور اور عمل کرنے کے ساتھ ساتھ انکی اصلاح کے لئے ماہرانہ رائے اور تجربہ سے بھرپور تجاویز بھی دینے کی ضرورت ہے ۔ اچھے برے کام کا تو سب کو علم ہوتا ہی ہے ۔ بہترین حکمت عملی کا طریقہ کم لوگ ہی جانتے ہیں ۔
آج اگر ہم سب غصّہ،جھوٹ، حسد، بخل، بے ایمانی، نا انصافی، خود غرضی کے خطرناک کھیل کے کرپٹ اسٹیڈیم کو الوداع کہہ کر اپنے گلی محلّوں کے میدانوں اور گلیوں میں عوامی و ملکی پیار محبّت کے بیٹ، خلوص و رواداری کی گیند، حق سچ کے انصاف سے تیار کردہ بیلز، ملکی ترقّی کے عزم کے مصالحے کی پچ، برداشت کی قوّت والے پیڈ، اپنے وطن و قوم کی بھلائی اور سربلندی کی سوچ میں بنائے گئے دستانے پہن کر وطن و قوم کی خوشحالی کے حصول کے لئے کھیلنا شروع کر دیں تو آنے والی کل میں پوری دنیا میں من حیث القوم ہم عزّت کی معراج پر ہونگے، اور ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی ہمارے متعلق غلط بات کرتے ہوئے ہزار بار سوچے گا ۔ اور آج کل کے نام نہاد ۔ جمہوریت ۔ کے نام کو بھی لوگ دفن کر کے سکون کا سانس لیں گے کہ جمہوریت صرف لٹیروں، ظالموں، بے ایمانوں اور ان کے پیسوں سے میڈیا کے ذریعے محکوم و بے بس انسانوں کو پاگل بنانے کے زہر کا دوسرا نام ہے ۔
آج ہم اور ہمارے لیڈر خاندانی ، لسانی اور صوبائی کارڈ کا ماسک پہن کر اپنے پاک وطن کے اندر اپنے ہی وطن کے انسانوں کو جانوروں کی طرح گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں، اپنے ہی لوگوں اور ملک کو لوٹ کر ذاتی خزانے بھر رہے ہیں ، لیکن دوسری طرف ہم خود ہی اپنے کسی لیڈر کی صاف ستھری اور مہنگے لباس اور کیپ میں ملبوس تصویر اپنے دشمن غیر ملکی میڈیا پر غلط شہرت سے پیش کرنے پر غصّے میں چراغ پا ہو رہے ہیں ۔ اگر ہمارے اور خصوصاً ہمارے لیڈر حضرات کے تمام جرائم کو اصل حالت میں دکھا دیا جائے تو پھر ہم کیا کریں گے ۔ یہی ناں کہ ۔ غصّے میں آ کر ۔ اپنے ہی وطن کی گاڑیاں، بنک، پیٹرول پمپ، مارکیٹیں، ٹرینیں، سرکاری دفاتر جلا کر پورے ملک کو جام کر کے روزانہ کمانے اور کھانے والے دیہاڑی داروں کو خود کشی کے پھندے کی زینت بنا دیں گے۔
ایک لمحے کے لئے ہم اگر سوچ لیں کہ ہمارا دشمن ہماری اچھی باتوں کو بھی غلط ہی ظاہر کرے گا کہ دشمن سے بھلائی کی توقع رکھنا پاگل پن ہے ۔ میرے خیال میں تو دشمنوں کے اس قسم کے میڈیا پروگرام یا خبریں ہمیں بے ہوشی کی نیند سے بیدار کرنے کے لئے ضروری ہیں ۔
محترم کالم نگار نے اس لئے تو اس مضمون میں خاموش رہنے کا روزہ رکھا ہے کہ غصّہ آ جائے تو لیٹ جاؤ یا کچھ دیر کے لئے ذبان پر تالا لگا دو، غصّہ بھاگ جائے گا ۔ غصّہ حرام ہے، لہٰذہ اسے استعمال نہ کریں اور فوراً تھوک دیں ۔ ذیادہ پیاس لگی ہو تو شیریں صبر کے پھل کا جوس پی لیں ۔ اور اللہ کا شکر ادا کریں ۔
اس کالم کے تبصرے میں ایک دانشور صاحب نے باالکل درست فرمایا ہے کہ آج کل میڈیا وار ایٹم بم سے بھی ژیادہ خطرناک ہے ۔ ہمارے دشمن ممالک میڈیا میں ہمارے متعلق ایک پروگرام یا بیان دیکر اس وقت تک خاموش ہو جاتے ہیں جب تک اس بیان پر ہمارے اپنے ہاتھوں سے ہماری اپنی املاک کی آگ مدھم نہ ہو جائے ، اسکے بعد دوسرا ، تیسرا اور تسلسل سے جاری یہی کام ہوتا رہتا ہے ۔
غصّے میں ہوش گر جاتا ہے اور جوش سوار ہو جاتا ہے ، جوش کی سواری میں یہی تو ہوتا ہے جو آج ہمارے ملک میں ہو رہا ہے ۔
اس لئے محترم آصف احمد بھٹی صاحب کا اس معاملے میں اس جملہ کی بو آتی ہے کہ ۔ جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا ۔