کیا اب صدر کے قانونی مشیروں کو فارغ کر کے سزا دی جائے گی؟

یہ دھیان میں رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صدر نے اپنی اور اپنے ناعاقبت اندیش مشیروں کی وجہ سے بحران پیدا کیا اور پھر پسپائی اختیار کر لی بلکہ اس سے قبل پنجاب میں گورنر راج لگانے کی کوشش اور ممبئی حملوں کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کو بھارت بھیجنے کے فیصلے سمیت کم ازکم چار بار ایسی ہی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔
مجھ جیسے قلم کاروں کو صرف اور صرف یہ پوچھنا ہے کہ ایسے مشورے دیکر حکومت اور صدر کو ہزیمت سے دوچار کرنے والے مشیروں کے خلاف کوئی کاروائی ہو گی؟ اور کیا ایسے افراد کو انکے عہدوں سے فارغ کر دیا جائے گا؟
مزید ہڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

7 thoughts on “کیا اب صدر کے قانونی مشیروں کو فارغ کر کے سزا دی جائے گی؟”

  1. واہ جی واہ ۔۔کیا کہنے ۔۔ جی کرتا ہے یہ کالم “سید بادشاہ“ کو بھجوا دوں ۔۔ اتنا خوبصورت نام اس کا اس کے امی ابا نے بھی نہیں رکھا ہو گا جو بابا نے دیدیا ہے ۔۔ سید بادشاہ کیا کریں ۔۔ زردار کے ہاتھوں دکھی ہیں ۔۔ بہت سعد مشورہ ہے انہیں ۔۔ مشیروں کی جان تو آپ نے نکال لی ۔۔ اب زرا اس شاخسانے کی جڑ پر بھی ہو جائے ۔۔ سنئے صلح کی سنتے ہی ہالبروک کو دل کا دورہ پڑ چکا ہے اور وہ گھبرا کر پاکستان علاج کے لیئے آ رہے ہیں کہ ان کے مرض کی دوا صرف زرداری کی حماقتیں ہیں ۔۔ ہائے وہ بھی اگر بابا کے نسخوں سے سدھر گئے تو ہالبروک کہیں ہلاک ہی نہ ہو جائیں ۔۔ اور وہ طالبان کو چھوڑ کالم نگاروں کی جان کو آ جائیں۔۔ توبہ کیجئے بابا ۔۔ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمیں بھی لے ڈوبیں گے کے مصداق ہمارا بھی کچھ سوچیئے ۔۔ ابھی ہم سب کی عمر ہی کیا ہے ۔۔ نہ دنیا دیکھی نہ دین سنوارا ۔۔ یعنی کچھ بھی نہ کیا گلاس توڑا بارہ آنے ۔۔۔ اب لکھتے ہوئے ہم سب کا بھی سوچئے گا ۔۔۔

  2. السلام علیکم
    بہت ہی ذبردست کالم ہے ماشااللہ ۔ ویسے تو ہر پہلو پر آپ نے اتنی اچھی طرح سے روشنی ڈالی ہے کے مجھ جیسی کم علم کے لئیے لکھنے کی کہیں کوئی گنجائیش ہی نہیں دکھ رہی مگر ایک نقطہ ایسا ہے جو کے مجھے کونے کھانچے میں نظر آ گیا جس کو میں ضائع نہیں ہونے دونگی )
    اس ساری صورتحال میں سب سے ذیادہ فائدہ میرے خیال میں نواز لیگ اور نواز شریف کو ہونا تھا کیونکہ اس بحران کے آتے ہی انکی دکان یکدم عروج پر آ گئی تھی ۔ عدلیہ کے نام پر جہاں وکلا بدمعاش گجر کا رول پلے کرتے دکھائی دے رہے تھے وہاں ہی ن لیگ والے بھی مولا جٹ بن کر حکومت کی مخالفت اور جمہوریت کو تباہ برباد کرنے کے فل موڈ میں تھے وہاں ہوا کیا ؟
    ایک رات کے عشائیہ میں شرکت اگلے دن چیف جسٹس صاحب کی وزیر اعظم ہاوس آمد اور انجام ؟ تمام کی تمام دکانیں ایک دم بند ہو گئیں ۔ جنہوں نے لمبی لمبی پلانگز کی ہوئی تھیں وہ سب دھری رہ گئیں اور معاملہ آسانی سے حل ہو گیا ۔
    ٹھیک ہے حکومت کو منہ کی کھانی پڑی یا پھر بقول ہمدانی صاحب کے تھوکا ہوا چاٹ لیا ۔ مگر دوسروں کی دکان عروج پر آتے ہی تھپ ۔ اگر اسی طرح اس سب صورتحال کو اس طرح بھی دیکھا جائے کے ۔۔۔
    صدر آصف ذرداری گرم گرم اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ٹھنڈے ٹھنڈے ۔ایک گرم ایک ٹھنڈا ۔پہلے گرم گرم چوٹ مارو اگر کامیاب ہو گئی تو ٹھیک ورنہ ٹھنڈا بندہ تو ہے نا ؟ وہ پیچھے سے جائے گا اور کہے گا چھڈو جی جو ہوا سو ہوا ۔میں نہیں چاہتا جمہوریت کو کوئی نقصان ہو لہزا جس طرح آپ چاہتے ہو ویسا کرتے ہیں مگر پہلے بیٹھ کر ڈیل کر لو کے آپ کا کام بھی ہو جائے اور ہمارا بھی ۔ اب لوگوں کے سامنے تو یہ آیا کے حکومت نے منہ کی کھائی مگر درپردہ اندر میٹینگ میں کیا ایڈجسٹمنٹ ہوئی یہ کس کو پتہ ؟ ورنہ وہ چیف جسٹس جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا وہ وزیر اعظم ہاؤس گیا اور خوشی خوشی اپنی بات منوا کر بھی آ گیا ۔ ڈھائی گھنٹہ کیا ان ججز پر ہی بات ہوئی ہوگی ؟سوچنے کے لئیے بہت سی باتیں ہیں بہت سے ایسے کونے کھانچے میں چھپے سوالات ہیں جن کو کریدا جائے تو شاید جگہ کم پڑ جائے ۔ بحر حال معاملہ حال ہو گیا نا ؟ موجودہ حکومت کو کھانے پینے کے لئیے مذید وقت مل گیا نا ؟ججز اپنے حال میں خوش حکومت اپنے حال میں خوش ۔ مڈ ٹرم ایلکشن کا چانس پھر کچھ عرصہ کے لئیے سکرین سے غائب ۔ نواز شریف صاحب کو سیاست چمکانے کے لئیے پھر کسی ایشو کا انتظار کرنا پڑے گا ۔
    جہاں تک تھوک کے چاٹنے کی بات ہے تو وہ تو برا اس کو لگے جس نے پہلے کبھی چاٹا نا ہو ) موجودہ حکومت میں جتنے بھی لوگ ہیں وہ تو عادی ہیں اس سب کے انکی بلا سے وہ تو یہی کہتے ہیں کے کیا ہوا اپنا ہی تھوک تھا اچھا ہے ظائع نہیں ہوا تھوکا بھی ہم نے اور چاٹ بھی لیا اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟

  3. ماریہ بی بی کوئی بات ہی نہیں۔ ای دو ہفتے میں یہ بد بخت مشیر دیکھ لینا کوئی نہ کوئی نتا تنازعہ پیدا کروا دیں گے، یہ تو وہ مشیر ہیں جو مولائے کائنات کے زمانے میں تھے، کسی نے حضرت علی سے سوال کیا تھا کہ آپ سے قبل کے خلفا کے دور خلافت آپ سے طویل تھے لیکں آپ کی کم مدت خلافت کے درمیان زیادہ شورش اور جنگوں کی کیا وجہ ہے۔ باب العلم نے جواب دیا کہ اسکی وجہ میرے دور خلافت میں تم جیسے مشیر ہیں۔ تو یہ مشیر انہی مشیروں کی نسلیں ہیں۔ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں۔ کوئی ایک نیا شاخسانہ نکل آئے گا۔

  4. صفدر بھائی ، اس خطبہ میں جس میں باب ِ علم نے یہ فر مایا تھا اسی میں یہ بھی فر مایا تھا کہ تم وہ لوگ ہو کہ اگر میں کسی کو کوئی چیز بھیجوں تو وہ چیز ہی نہیں بلکہ وہ بندھن بھی ہضم کر جا ؤ جس میں وہ بندھی ہو ئی ہو۔آب کی بات درست ہے۔ آپ کا یہ گمان صحیح ہے کہ یہ چند دن کے بعد پھر کو ئی ہنگامہ کھڑا کر دیں گے۔
    یہ شعر انہیں پر صا دق آتا ہے کہ ع ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو

  5. شمس بھائی آپ کو بلاگ میں دیکھ کر بہت اچھالگتا ہے ۔۔ اپنے جانے کو مستقل بنا دیجئے کسی بھی طرح سے ۔۔۔۔ آپ نے خوب کہاہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو ۔۔

  6. شکریہ بہن نگہت گاہے ، گاہے آپ کے حکم کی تعمیل کرنے کی کوشش کرونگا،مگر پکا وعدہ اس لیئے مشکل ہے کہ وقت کامسئلہ ہمیشہ حائل ہوجاتا ہے اور مسلمان جو کہے وہ کرنے کے لیئے پابند ہوتا ہے۔شمس جیلانی

  7. محترم بابا جی جناب صفدر ہمٰدانی صاحب دامت برکاتہم العالی
    اللہ آپ کے رحمتوں بھرے روحانی فیوض و برکات کو ۔ 8 ۔ چاند لگائے ،ثمّہ آمین ۔
    سلام ادب و آداب کے بعد مذید آپ کا سامنا کر سکنے کی تاب و ہمّت نہ ہونے کی وجہ سے کمپیوٹر کی بے زبان تحریر کے ذریعے دل کی بات کہنے کا حوصلہ ملا ہے ۔ بابا جی لگتا ہے آپ تو خواہ مخواہ بیچارے مشیروں کے پیچھے پڑ کر صدر صاحب کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، قبل ازیں صدر محترم کو کالے جادو سے بچانے کے لئے بھی آپ بہت سرگرمی سے جادو توڑ عملیات کے چلّے کاٹ کر حاصل شدہ قیمتی نسخے ایوان صدر اور اسمبلی ھال اسلام آباد بھجوا چکے ہیں ۔ پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ آپ صرف ان ہی مسکین اور حکم کے غلام شریف و بے داغ مشیروں کو ہی معطّل ، ٹرمینیٹ کروا کر بے روزگار کرنا چاہتے ہیں ۔

    یہ مشیر تو گاڑی کے پہیّے (وھیل) ہیں، اس گاڑی کے ڈرائیور تو صدر صاحب ہیں، لگتا ہے بابا جی آپ کچھ عرصہ کراچی میں رہے ہیں، تبھی تو آپ یہاں کراچی کی ثقافت والا کلیہ استعمال کر رہے ہیں کہ ٹکر مار کر ڈرائیور بھاگ کر ر شوت،سفارش،بد معاشی یا پرچی کے مظبوط حفاظتی اثر کی وجہ سے بچ جاتے ہیں اور موقع پر موجود عوام صبر کا لباس اتار کر اس بیچاری بے زبان گاڑی بمع وھیل کو پیٹرول کا بدبو دار شیمپو لگا کر ماچس کی تیلی سے طاقتور کوڑا مارنے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے ۔

    ٹھیک ہے ہم مانتے ہیں اور اس میں کوئی شک والی بات بھی نہیں کہ باقی ساری سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، ارکان کابینہ بشمول صدر و وزیر اعظم کا ماضی و حال تمام برائیوں اور کرپشن سے پاک ہے، ماسوائے چند ارب یا کھرب کے آگے پیچھے ہونے کے ۔ اور میرے ناقص خیال کے مطابق یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے، دس افراد کے ایک کنبے میں سب اچھے یا سب ہی برے بھی نہیں ہوتے، دو تین ایماندار اور ایک دو بے ایمان بھی ہوتے ہیں، تو ہمٰدانی صاحب 18 کروڑ عوام میں اگر صرف ایک ہزار لوگ بے ایمان، چور، رشوت خور، جھوٹے، قاتل یا کمیشن لینے والے، ہو جائیں تو یہ کوئی بڑی بات بھی نہیں، یہ تو اللہ کی بڑی کرم نوازی ہے ورنہ کالے جادو سے تو 18 کروڑ عوام بھی کرپٹ ہو سکتی تھی ۔

    اور سب سے بڑا المیہ جسے آپ اور ہم سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے، وہ مذکورہ کالا جادو ہی تو ہے جس کے زور سے یہ ہمیشہ حلال کھانے والے بیچارے اس چھوٹے سے ارب کھرب کے جادو اثر چکّر میں پھنس گئے ہیں، ورنہ ان میں تو ایسے بھی مّعصوم ہیں جن کے گھر کھانا بھی نہیں ہوتا اور وہ بیچارے رات کے اندھیرے میں بھوکے پیٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے منصف کے سامنے فریاد کرنے پہنچ جاتے ہیں ، تب کہیں انہیں وہاں کھانا نصیب ہوتا ہے ۔
    پانی تو مجبوراً بوتل والا ہی پینا پڑا ہو گا کہ دریا اور نہریں تو ہمارے پڑوسی نے حق دوستی نبھاتے ہوئے اس لئے بند کر دیئے ہیں کہ ان میں بہہ کر آنے والا پانی بہت گدلا، گندا اور خطرناک ہو جاتا ہے جو کہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہماری عوام کو بیماریوں میں مبتلا کر دے گا ، لہٰذہ بوتل کا صاف پانی ہی ہماری اچھی صحت اور لمبی عمر کا ضامن ہے ۔ کاشتکاری کے استعمال میں بھی بوتل والا پانی ہی وائرس سے پاک فصلوں کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔
    ہمارے دشمن برطانوی انگریزوں نے ہمیں اور ہماری نسلوں کو تباہ کرنے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام اس خطّے میں اسی وجہ سے تو لگایا تھا کہ اس نہری پانی سے فصلوں میں وائرس پیدا ہو گا جسے استعمال کر کے اور نہری پانی پی کر لوگ بیمار ہو کر ذہنی مریض بنیں گے اور مریں گے ۔

    پاکستان سے محبت میں دیوانے امریکہ و یورپ کے حکم اور ایٹمی پاکستان کے حکمرانوں کی درپردہ یا خاموش رضامندی سے یہ خطرناک و مہلک نہری پانی بند کرنے پر پاکستانی عوام دل کی گہرائیوں سے اپنے بہترین اور ازلی دوست انڈیا کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ اس نے اس مہلک دریائی پانی کو روک کر پاکستانی عوام کو بہت بڑے جانی و مالی نقصان سے محفوظ کر دیا ۔

    اس بے زبان عرضداشت کے بعد یہ معصوم اور حکماً و مجبوراً گناہ میں شامل ہونے والے تینوں مشیر حضرات محترم بابا جی ہمٰدانی صاحب کے آستانے پر حاضر ہو کر اپنی ذاتی معصوم و بے قصور زبان سے اپنی جان بخشی کے لئے کسی روحانی عمل کی درخواست کرنا چاہتے ہیں، اور اگر بابا جی اپنی مبارک زبان سے حکم فرمائیں تو یہ لوگ صدر کو دیا ہوا زبانی حلف توڑ کر باامر مجبوری صرف دنیاوی سزا سے بچنے کے لئے وعدہ معاف گواہ بن کر ارب کھرب کا تمام الجبرا بھی اپنی بے ہڈی کی زبان سے اوپن کر دینگے ۔ رہی آخرت کی سزا، تو اس کا بندوبست بھی سوچا ہوا ہے، آخرت کے آنے سے پہلے ہی ہم تمام جرائم کے ثبوت اس طرح دھو کر مٹا دینگے جیسے محترمہ شہید بی بی صاحبہ کے 5 منٹ میں مٹائے تھے ۔ یا پھر تمام ثبوت اس طرح غائب کر دینگے جس طرح ہمارے حکمران طبقے نے اپنی شوگر ملوں سے چینی غائب کر دی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *