ہم کدھر جا رہے ہیں؟

ہم کدھر جا رہے ہیں؟

آج کل چونکہ اطلاعاتی و موضوعاتی تحریروں کی بھرمار ہے، اس لئے بہت کم ہوتا ہے کہ ہم کسی نا معلوم مرسل کی تحریر کو پڑھ پائیں۔ خاص طور پر ذرائع ابلاغ سے و ابستہ افراد کو ایسی بیسیوں تحریریں روزانہ ملتی ہیں۔ دو دن پہلے ایک برقنامہ موصول ہوا جو آپ میں سے کئی احباب کو ملا ہوگا، جسے پہلے تو نے ہم نے مذکورہ بالا سلوک سے کی نظر کردیا لیکن انکی مخالفت میں جتنی جوابی تحریریں ملی ہیں، ان سے خیال آیا کہ دیکھیں تو سہی ہے کیا۔ عربی کا ایک مقولہ ہے کہ اذا اٰتتک الحدیث عنی ناقص، فھی شہادت انی کامل کہ اگر میرے نقص کی روایتیں زیادہ ہو جائیں تو یہی میرے کامل ہونے کی شہادت بھی ہے۔ سو یہی حال اس تحریر کا بھی تھا۔
صاحب تحریر نے پاکستانی ٹی وی چینلز کے گرتے ہوئے معیار کا رونا رویا تھا۔ اس اخلاقی گراؤ کا کچھ تو اندازہ ہمیں تھا ہی سہی، لیکن بخدا اس قدر نہیں کہ جہاں دلیری کے مظاہرے میں لڑکی منہ میں کچھوا ڈال لیتی ہے تا کہ مقابلہ جیت سکے یا نو جوانوں کو منہ میں کیڑے تک ڈالنے کا چیلنج کامیابی سے نباہنا ہوتا ہے۔ کیا ہماری قوم کے سپوت اس قدر ذلیل اور رسوائے زمانہ ہوچکے ہیں کہ وہ چند سکوں اور مشہوری کے شوق میں اسقدر غلیظ حرکات بھی کر سکتے ہیں؟ کیا ہمیں اب بھی اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی ذمہ داری قسمت اور بیرونی قوتوں پر ڈالنی چاہئے یا یہ شامت اعمال ہے۔
اگر ہمت ہو تو یہ لنک ملاحظہ کیجئے گا، کیونکہ میں خود اسکو مکمل نہیں دیکھ سکا۔

20 thoughts on “ہم کدھر جا رہے ہیں؟”

  1. بات تو سچ ہے مگر،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

  2. السلام علیکم
    بھائی یہ بہت ہی کڑوا سچ ہے کے پاکستان میں اب صرف دو طرح کے لوگ موجود ہیں یا تو بہت ہی غریب جنکو دو وقت تو دور کی بات ایک وقت کی روٹی تک بہت مشکل سے مل پاتی ہے وہ انہی کیڑے مکوڑوں کی ذندگی گزار رہے ہیں جیسا کے اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے ۔ دوسرے وہ لوگ جو کے اسقدر پیٹ بھرے ہیں کے انکا normal food یا پھر common food ساے دل بھر گیا ہے وہ کچھ نیا کھانا چاہتے ہیں کچھ نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں ایسے لوگوں کے دولت سے اسقدر پیٹ بھر چکے ہیں کے اب انکو شہرت کی بھوک ہے اور شہرت کے لئیے وہ کچھ بھی کھا سکتے ہیں کچھ بھی مطلب کچھ بھی ‘‘ میں یہاں تہزیب سے گری ہوئی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اسی لئیے بار بار یہی کہہ رہی ہوں کچھ بھی ۔ بس انکو اس کے بدلے میں شہرت ملنی چاہئے انعامات تو خیر ایک بہانہ ہے ایسے پروگرامز میں جس طرح کے لوگ ہیں انکو انعام کا لالچ نہیں ہے دراصل انکو اپنے آپ کو دکھانا ہے کے دیکھو یہ ہم ہیں ۔ ہم ٹی وی اور نیوز میں اور عوام میں شہرت کے لئیے چاہے کچھ بھی کرنا پڑے کر لیں گے
    سو بھائی مجھے اس کو ایک منٹ دیکھنا ہی مشکل ہو گیا بس جو سمجھ آیا وہ بکواس کر رہی ہوں یہاں۔
    آپ خود سوچیں ایک طرف ایک غریب انسان جو کے کبھی مڈل کلاس ہوا کرتا تھا اب اسقدر غریب ہو چکا ہے کے اسکو ایک وقت کی روٹی میسر نہیں اور دوسری طرف یہ لڑکے لڑکیاں یہ بھی خدا کی قدرت ہے اس سے آگے کچھ نہیں کہہ سکتی

  3. برادرم مصباح. بہت اہم موضوع ہے لیکن بیت بازی کے رسیا لوگ شاید اس موضوع کی طرف نہ آئیں. ذرائع ابلاغ میں انحطاط ملکی مجموعی انحطاط اور زوال پزیر معاشرے کی نشانی ہے. اصل مسلہ تو احساس زیاں کے چلے جانے کی ہے. ہم نے متعدد شعبوں میں دوسرے کے کھلے گریبان کو دیکھ کر اپنا گربان پھاڑا ہے یا پھر دوسرے کا سرخ منہہ دیکھ کر اپنا منہہ طمانچوں سے لال کیا ہے. پاکستان میں جنرل مشرف روشن خیال اسلام کا بیج بو کرضیا الحق کی طرف اسلام کی بیخ کنی کر کے گیا تھا اور اس روشن خیالی کی فصل اب پک کر تیار ہو چکی ہے جس کے مناظر آپ دیکھ رہے ہیں. یہ تو کچھ بھی نہیں وطن عزیز میں ٹی وی ڈراموں میں جو مناظر دکھائے جا رہے ہیں وہ شاید مغربی معاشرے میں بھی اس طرح نہیں دکھائے جاتے. لوگ سیکولر اسلام کی اصطلاح استعمال کر کے خود کو ترقی پسند ظاہر کرتے ہیں اور حقیقت میں اپنی جہالت کا مطاہرہ کرتے ہیں. اب تو یہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ ………..اللہ رحم کرے گا.

  4. جناب اگر نیٹ میں تلاش کریں تو اس پروگرام کی چند اور کلپ بھی ہیں جن میں انتہائی غیر اخلاقی حرکات کرنے والے نوجونوں کو دیکھایا گیا ہے نہایت افسوس ہوتا ہے. یہ دراصل چند غیر ملکی ٹی وی چینل کے پروگراموں کا دیسی چربہ ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم باہر کی برائیوں کو تو اپنے یہاں جگہ دے رہے ہیں

  5. جناب سید مصباح حسین صاحب ،،اسلام علیکم ۔۔ھم مغرب کی اندھی تقلید میں اپنے بہت روشن خیال میڈیا کی بدولت ۔۔۔کہاں جارھے ھیں؟

    ایسے پروگراموں کی کم سے کم پاکستان میں حوصلہ نیہں ھونی چاھیے الحمد اللہ ھم مسلمان بھی ھیں۔۔اور ھمارے ھاں حرام و حلال کا خیال بھی رکھا جاتا ھے،،،یہ کیڑے مکوڑے حرام اور مکروہ بھی ھیں۔۔۔۔خاص کر لال بیگ جو صرف اور صرف نجاست اور گند گی میں ھی رھتا ھے۔۔مجھے ان شہرت اور پیسے کی دلدادہ لڑکیوں سے زیادہ ان معصوم بچوں کی فکر ھے جو کل ٹی وی کے ایسے گھناونے پروگرام دیکھہ کر ان کی نقل میں ان نجس کیڑوں کو پکڑ کر کھا،،،،،،،،،،،،ن،،،،،،،،،،ے کی پریکٹیس کرینگے۔۔۔۔ھم کو ایسے پروگراموں کی پرزور مذمت کرنی ھوگی۔۔۔۔اللہ ھماری قوم پر رحم فرماۓ

    اللہ پاک بدی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو سلامت رکھےآمین ثم آمین
    شاھین رضوی

  6. السلام علیکم سید مصباح صاحب
    میں بھی یہ ویڈیو پوری نہیں دیکھ سکا……….
    اب واقعی ہم غیروں سے کوئی شکوہ کرنے کے حقدار نہیں، ہم قعر مذلت میں گر چکے ہیں..
    اس لڑکے کی بات سنی آپ نے “ہم چاہتے ہیں کہ لاہور کی وہ بیسٹ لڑکیاں آگے آئیں جو آگے جا کر لڑکوں کو ٹف کامپیٹیشن دے سکتی ہیں”…
    اس کو کہتے ہیں کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا………. مغرب نے عورت کو مرد کے مقابل لا کر کھڑا کیا، شانہ بشانہ کام کرنے کا موقع دیا اور تمام تر برائیوں کے باوجود انہوں نے مادی ترقی میں نام پیدا کیا..
    اہم یہاں اتنی صلاحتیتں، جوانیاں اور توانائی صرف کی جا رہی ہے کیڑے کھا کر ٹٍف ٹائم دینے میں…………..
    روح اقبال سے معذرت کے ساتھ
    پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
    تو اگر میرا نہیں بنتا تو نہ بن .. بندے کا پتر تو بن

  7. Dr Shaista Wahidi Kissing King Cobra
    اندازہ کریں………. ڈاکٹر بننے کے بعد بھی کسی میں شیرت کی اتنی بھوک …….. کیا عقل و شعور دیا اس تعلیم نے
    رہ رہ کر اقبال رح یاد آتے ہیں، انہوں نے اس نظام تعلیم کی حقیقت کو کھول کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا لیکن ہم ماڈرن اور روشن خیال بننے کی دھن میں کیا کیا کرنے پر تلے ہوئے ہیں…
    آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا

    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے.
    اگر تقلید کرنی ہی ہے تو کسی اچھی چیز میں ہی کر لیں، تعلیم ہے، قانون ہے، طب ہے سائنس ہے،،،،،،، سانپوں کو چومنے، کیچوے کھانے اور لا بیگ کو منہ سے اٹھا کر ہی ہم نے عورت اور مرد کی برابری ثابت کرنی ہے، اور جدید ہونے کا ثبوت دینا ہے..

    ان لوگوں پر کیوں ڈرون حملہ نہیں ہو جاتا

  8. محترم قبلہ ہمدانی صاحب و احباب ذی شرف۔
    اس طرف توجہ فرمانے کا نہایت شکریہ۔ بابا نے درست کہا کہ یہ مشرف کی تیار کردہ فصل ہے جس کا زہر ہماری رگوں میں خون کو جمود دے رہا ہے۔نجانے ہم تقلید مغرب میں کتنی غلاظت اپنے منہ پر مل سکتے ہیں؟ ہمارے ہاتھوں سے ہمیں مارنے کے آلات بنوائے جا رہے ہیں اور ہم ہیں کہ بد مستی کے عالم میں اپنے کام کو جٹے ہوئے ہیں۔ فرعون نے جو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کی رسم جاری کی تھی، وہ اسقدر بھیانک نہ تھی، جتنی بھیانک آج کی یہ اقدار کشی ہے۔ کل تو ماں موسیٰ کو صندوق بند کر کے نیل کی لہروں پر چھوڑ سکتی تھی، لیکن آج کون اور کیسے بچائے اپنی نسلوں کو اس بے حیائی و بے غیرتی کی یلغارسے؟ جگہ جگہ پبلک مقامات پر ٹی وی چل رہے ہیں اور آتے جاتے راہگیر، امیر غریب، ظالب علم اور مزدور سبھی رک رک کر ٹی وی دیکھتے ہیں اور دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایک اثر قبول کر کے جاتے ہیں۔
    میڈیا کا کام محض پروگرام دکھانا ہی نہیں، بلکہ یہ آج کے معاشرے کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جیسا کہ محترمہ شاہین رضوی نے لکھا کہ ہمیں ڈر یہ ہے کہ کچھ نا بالغ دماغ اس گندگی کی تقلید کی دانستہ یا نا دانستہ کوشش کر کے خود کو خراب سکتے ہیں۔
    کسی بھی ملک کی بات کر لیں، وہاں کے میڈیا کو جتنی بھی آزادی ہو، اس کو ایک ضابطے کا بہر حال خیال رکھنا ہوتا ہے اور وہ ہے قومی مفادات۔ آج آپ امریکا، انگلستان، کناڈا اور آسٹریلیا سمیت کسی بھی مادر پدر آزاد ملک میں چلے جائیں جہاں آزادی کے نام پر بیشتر برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں، لیکن ان ممالک میں بھی میڈیا کسی طور قومی مفادات کے منافی پروگرام تشکیل دے سکتا ہے اور نہ ہی دکھا سکتا ہے۔ امریکا میں حزب اللہ اور ایرانی حکومت کے حق میں پرچار ممکن نہیں، اورفرانس میں حجاب کے حق میں پروگرام بنانا ممکن نہیں۔ مغربی ممالک میں یہاں کے ذرائع ابلاغ چاہیں بھی تو آذان و نماز کی ترویج نہیں کر سکتے؟ آخر کیوں۔ بڑا سادہ سا جواب ہے کہ یہ ان ممالک کے قومی مفادات کے منافی ہے کہ یہاں اسلامی اقدار و تعلیمات کو اس انداز میں پروان چڑھایا جائے اور انہیں اسکا مکمل حق حاصل ہے کہ ان مفادات کی بھر پور حفاظت کریں۔ لیکن لمحہء فکریہ یہی ہے کہ کیا ہمارے یہاں کوئی قومی مفادات نہیں ہیں جنکی حفاظت ہمارے یہاں کے میڈیا کے ذمہ ہو؟ کیا ہماری حکومتوں نے میڈیا کو اسقدر آزادی دے دی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں یا یہ آزادی میڈیا نے بزور بازو حکومتوں سے چھین رکھی ہے؟
    یہ آزادی نہیں یلغار ہے جو ہم پر مسلط کر دی گئی ہے اور ہم افیون سے بد تر نشے میں یوں غرق ہو چکے ہیں کہ نہ ماں باپ کی غیرت جاگتی ہے اور نہ اولاد کی۔ خوش قسمتی جانئیے یا بیوقوفی کہ میرے گھر میں ٹی وی پرگرامز نہ ہونے کے برابر دیکھے جاتے ہیں۔ وہ یوں کہ بچوں کو معلوم ہے کہ یہاں کا ٹی وہ ہمارے لئے درست نہیں اور پاکستانی ڈش سے ہم محروم ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ میرے بچے کل کو اسلامی جمہوری پاکستان کے ٹی وی پروگرامز کو جائز سمجھ کر دیکھنے لگیں تو میں انہیں کیا بتاؤں گا کہ یہ میڈیا، آسٹریلوی میڈیا سے کیونکر مختلف ہے؟
    ہمارے یہاں قرار داد مقاصد نامی دستاویز ایک ایسی دستوریہ ہے جو ہر کام کے جواز و انسداد کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس میں ہمارے قومی مفادات کو ذکر بڑی سلیس زبان میں کیا گیا ہے جہاں اس مملکت کا وجود اسلامی اقدار کے تحفظ و ترقی کا ضامن جانا گیا ہے۔ ہم ہندوستان سے الگ کیوں ہوئے تھے، کس طرح ہم یہ آج کی نسل کو بتا پائیں گے۔
    بد قسمتی سے ایک طرف ملائیت کا غلبہ ہے جہاں شدت ہی شدت ہے اور دوسری طرف آزادی کا غلبہ جہاں پھر شدت ہی شدت ہے۔ درمیانی راہ کا ذکر تو کہیں ملتا ہی نہیں۔ امت وسطیٰ کو کون سا راستہ اپنا نا تھا اور کس راستے پر ڈال دیا گیا ہے؟ اور بخدا اگر آپ پچھلے پندرہ بیس سال میں ملکی قتل و غارت گری کے شکار افراد کی فہرست اٹھا کر دیکھیں تو نوے فیصد وہ افراد مارے گئے جو اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے۔ میں نام گنوانے لگوں تو صفحات کے دفتر بھر جائیں۔ لیکن آمدن بر سر مطلب کہ ان سبھی افراد کو قتل کیا ہی اس لئے گیا کہ شدت پسندی کی طرف قوم کو مجبور کر دیا جائے۔باقی کسر جنرل مشرف کے آزاد کردہ ذرائع ابلاغ نے پوری کر دی۔ اب قوم دو حصوں میں بٹی ہے۔ یا شدت پسند ملائیت ہے یا بے راہ روی۔ ہم جیسے لوگ جنہیں پاکستانی دقیانوسی سمجھتے ہیں ان کا وجود اب قابل ذکر نہیں رہا۔ وہ غریب لوگ جو ابھ بھی اقدار کو سینے سے لگائے افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں ان کی تعداد اب بھی وسیع تر ہے، لیکن ان کی شنوائی کہاں ہے؟
    اس تعفن بھرے معاشرے میں جہاں احساس حیات مردنی کا شکار ہو چکا ہے، وہاں ہمیں ناک پر ہاتھ دھر کر میں زندہ ہوں کی آواز لگانی ہے۔ چلتی پھرتی لاشوں کے اس انبار سے ہمیں کوئی ہے کی صدا بلند کرنا ہوگی، کہ جو زندگی کی رمق باقی ہے، اس کو بچا لیں۔ ہمیں اپنے اسلاف کی عالی اقدار کی نہ صرف حفاظت کرنا ہوگی، بلکہ کم از کم اپنے گھروں میں اور اپنی اولادوں تک منتقل ضرور کرنا ہوگی۔ ہمیں ماں باپ۔ بہن بھائی کے رشتوں کے تقدسکو اجاگر کرنا ہوگا۔ جس بے شرمی سے آج والدین اپنے بچوں کو ان پروگرامز میں بھیج رہے ہیں ان سے اگلا نتیجہ یہی ہوگا کہ معاشرے رشتوں کے تقدس کی زنجیر سے بھی آزاد ہو جائے گا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں حسین ابن علی کو یزید وقت کے سامنے قیام کرنا پڑا تھا۔
    جن احباب نے اس نوحہ وقت میں مرا ساتھ دیا ان کا بہت بہت شکریہ۔

  9. آپ سب لوگوں سے معذرت کیساتھ کہ اپ سب لوگوں نے بس اس پروگرام کو روشن خیالی کو برا بحلا کہنے کا ایک ذریعہ بنا لیا. ضیا الحق پاکستانی معاشرے میں جو ناسور پیدا کر کے گئے اسکی وجہ سے آج پاکستانی قوم اس ھحالت پہ پہنچ گئ ہے کہ متوازن بات کرنا یا اسکی ترغیب دینا اسکے نتیجے میں روشن خیالی کو گالی بنا کر عطا کرنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے. حالانکہ اس چیز کا روشن خیالی سے کیا تعلق ہے. کوئ مجھے اس کا تعلق روشن خیالی سے سمجھا سکتا ہے. بالکل ایسے ہی جیسے بے گناہ لوگون کوذبح کرنا، خود کش حملے کرنا، خواتین کو گھر کی چہار دیواری میں بند کرنے پر مجبور کرنا اور دوسری باتوں کو مزور قوت مذہب پسندی کے نام پہ نافذ کرنا کیا ان باتون کا کوئ تعلق اسلام پسندی سے ثابت کیا جا سکتا ہے. جواب یہ ہے کہ نہیں کیا جا سکتا. کیونکہ یہ حقیقت نہیں. بالکل ایسے ہی جیسے روشن خیالی کی حقیقت یہ نہیں کہ آپ اسے کیڑے مکوڑے کھانے سے وابستہ کر دیں. ان سب اعمال کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں. جو نوجوان جہاد لڑنے جا رہے ہوتے ہیں اور جو بیٹھ کر لال بیگ کھا رہے ہیں انکے درمیان کوئ فرق نہیں. جہاد لڑنے والے کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کس تباہی کو لانے کا ذمہ دار بن رہا ہے اور وہ کن باطل نظریات کو پحیلا رہا ہے.
    وہ اپنی شناخت چاہتا ہے کچھ ایسا کر کے جو اسے دیگر لوگوں سے ممتاز کرے. ییہ نوجوان بھی یہی چاہتے ہیں. انہیں یہی رستہ ملا . فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے ایک راستہ اختیار کیا ہے اور دوسرے نے دوسرا.
    کچھ نیا اور الگ کر دکھانے کی امنگ کا نام ہی نوجوانی ہے. اگر ہم تاریخ پہ نظر کریں تو ہپتہ چلتا ہے کہ اکبر نے تیرہ سال کی عمر میں امور سلطنت سنبھالے، محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں دیبل فتح کیا سکند اعظم جب دنیا فتح کرنے نکلا تو اسکی عمر بھی سترہ سال کے قریب تھی. تینتیس سال کی عمر تو وہ آدھی دنیا فتح کر کے مر چکا تھا. آپ نے اپنے نوجوانوں کو کیا دیا ہے. سوائے ذہنی الجھنوں کے.یا یہ پریشانی کہ اسے دنیا کی طرف دیکھنا چاہئیے یا دین کی طرف. ہر چیز جو بہتر نظر آتی ہے وہ کفار سے تعلق رکھتی ہے جس سے اسکا مذہب ختم ہو رہا ہے ہر وہ چیز جو دنیا سے بیزاری پیدا کرے، زندگی کو ختم کرے اسکا رشتہ مذہبی بڑائ سے جوڑ دیا جاتا ہے.
    آپ انکو کنفیوز کر کے ان سے کس چیز کی توقع رکھتے ہیں اس چیز کی جو آپ خود اعتماد سے نہیں بتا سکتے کہ یہ ہے وہ چیز جو ہم آپ سے چاہتے ہیں. میرا خیال ہے کہ نوجوانوں کو لعن طعن کرنے کے بجائے اپنی موجودہ کامیابیوں کو انکے سامنے پیش کریں اگر وہ ہوں تو. ماضی کے قصے دہرانے کا کوئ فائدہ نہیں. جو قوم جتنا زیادہ زمانہ ء حاضر سے پیچھے ہوتی ہے اتنا وہ اپنے ماضی کو یاد کرتی ہے. روشن خیالی اور قدامت پرستی کی بحث کے علاوہ بھی کچھ ہونا چاہئے. محض کسی ایک شخص کو ہر برائ کا ذمہ دار قرار دینے کے علاوہ بھی کچھ ہونا چاہئیے. محض اپنے اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے علاوہ بھی کچھ ہونا چاہئیے. یہ تو ٹیکنا لوجی کا زمانہ ہے ہر چیز ہر لمحے اپنے آپکو بدل رہی ہے. ہم اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ضیا الحق مرد حق تھے اور مشرف مرد باطل. سوال یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم کیا ہیں.
    ان نوجوانوں، اور نام نہاد مجاہد نوجوانوں سمیت ہر نوجوان کو یہی کہونگی کہ کچھ نیا اور چیلنجنگ کرنے کا جذبہ ہے تو کچھ ایسا کیجئیے کہ ہمارے اسلاف کو بھی شرمندگی ہو کہ یہ کام ہم نے کیوں نہ کیا. آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بہتر اور با مقصداور خون میں گرمی حرارت پیدا کر دینے والا. بڑوں سے یہ درخواست کہ اپنے اندر سے اس قدامت پسندی کو نکال پھینکیں نہ یہ اسلام کی تبلیغ ہے، نہ مطالبہ اور نہ ہماری تقدیر.

  10. محترمہ عنیقہ ناز صاحبہ۔
    بھئی ہم نے کہاں روشن خیالی کی مخالفت کی یا کسی بنیاد پرستی کی بات کی۔ ہاں جس کیڑے مکوڑے خوری کو آپ نے مذموم جانا ہے، ہم سب نے بھی اسی کی مخالفت کی ہے۔ ایسی نام نہاد روشن خیالی اور نام جہاد کی اسلام میں کوئی جگہ ہے نہ دنیا بھر میں کہیں۔ اگر آپ میری بالا تحریر پڑھیں تو نا چیز نے تو یہی کہا ہے کہ ہم دو طرح کی شدت پسندی کے شکار ہیں۔ ایک طرف ملائیت ہے اور دوسری طرف بے راہروی۔
    یہ بات ضرور ملحوظ خاطر رکھئیے کہ جب کوئی مشرف کی مذمت کرتا ہے تو اس سے مردا ضیاع الحق کی حمایت ہر گز نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ دونوں آمر تھے اور دونوں ہی مغرب کے رکھوالے تھے۔ ضیاع کا ڈرامہ نام نہاد اسلامائیزیشن کی آڑ میں چلا اور مشرف صاحب کا کھیل آزادی کے نام پر۔ لیکن یہ الزام صرف انہی کے سر تو نہیں ہے۔ آج کی حکومت کیا کر رہی ہے۔ کیا آج قبلہ درست کرنا ممنوع ہو گیا ہے۔ نہیں۔ تو گویا حکمران کوئی بھی ہو۔ پالیسی وہی رہتی ہے جو عالم بالا سے نازل ہوتی ہے۔
    روشن خیالی اور قدامت پسندی نامی اصطلاحات کا ہمارے سلف و قبل کسی سے واسطہ ہے ہی نہیں۔ یہ تو خود مغرب کی اندرونی اصطلاحات تھیں جو عیسائیت کے رویوں سے منسلک تھیں، اور اب ہم نے ان کو گلے سے لگا لیا ہے۔ اسلام تو محض اسلام ہے۔ نہ اس میں کسی روشن خیالی کی گنجائیش ہے اور نہ بنیاد پرستی کی۔ اسلام اس بنیاد پرستی جڑیں اکھاڑنے آیا تھا جس پر مشرکین مکہ یہ کہ کر جمے ہوئے تھے کہ ہم باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑیں؟ اور اسلام ہر اس روشن خیالی کو رد کرتا ہے جو اسکی اقدار کو پامال کرتی ہو۔
    اسلام کا ہماری پسند و نا پسند سے کوئی تعلق سرے سے ہے ہی نہیں، بلکہ یہ تو فقط اور فقط اللہ کی پسند و نا پسند کا ضابطہ ء حیات ہے جسکا دستور قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور اسے تبدیل کرنا ہمارے اختیار سے باہر ہے۔
    مجھے آپ سے صد فیصد اتفاق ہے کہ دہشت گردی، نام نہاد جہاد اور کیڑے مکوڑے خوری، سب ایک ہی نفسیاتی عمل کو حصہ ہیں۔ ہمیں اس شدت پسندی کو روکنا ہوگا، ورنہ ہمارا معاشرہ برباد ہو جائے گا۔ یہ سب روئیے بیرونی خواہشوں کی تکمیل ہیں جو ہمارے ملک کو ہر طرح سے برباد کر رہے ہیں۔
    ہمیں اپنی اقدار کو بچانا ہوگا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو اسلام کے نور سے روشن راہوں پر چلانا ہوگا جہاں وہ اپنے اسلاف سے بہتر کردار و عمل ثابت کر سکتے ہیں۔ طول تاریخ میں کئی ایسی شخصیات ملتی ہیں جنکے اکابرین نامور نہ تھے لیکن ان کا نام اسلامی تشخص کا حصہ بن گیا۔ صرف فقہ کا میدان ہی لیں، جہاں آئمہ اربعہ کے اجداد وہ نام نہ کما سکے جو انکے بچوں نے کمایا۔ اسی طرح سائینس، طب، لسانیات، ادب، سمیت بیسیوں میدان ہیں جہاں ہم اپنا نام روشن کر سکتے ہیں اور زیادہ بہتر طور پر جانے جا سکتے ہیں۔ اگر آج میڈیا سر لوئیش پاسچر، الیگزنڈر فلیمنگ، ڈاکٹر گریز یا ابن الہیثم کی ذات پر پرگرامز دکھائے تو شاید ہمارے سپوت بھی اس طرف متوجہ ہو پائیں۔ یہ ایک نفسیاتی عمل ہے کہ بچے اس چیز کی طرف جاتے ہیں جسکا شہرہ زیادہ ہو۔ اب ذرائع ابلاغ جو دکھائیں گے، ہمارے بچے تو اسی طرف ہی راغب ہونگے نا۔ اور اسی چیز کا رونا ہم نے رویا ہے۔
    آپکی آمد اوردہشت گردی و کیڑے مکوڑے خوری کی مذمت پر برابر مشکور ہوں۔
    نا چیز

  11. عنیقہ نازصاحبہ ایک بار ذرا ”روشن خیالی” کی تعریف کر دیجئے تا کہ مجھ جیسے طالب علم بھی فیض حاصل کر سکیں ارو پھر آپ ہی کی تشریح کی روشنی میں بات کو آگے بڑھا سکیں.ہو سکتا ہے کہ روشن خیالی کا آپکا نظریہ ہم جیسے ”دقیانوسی” لوگوں سے مختلف ہو. کیونکہ میرا نوے فیصد تو یہی اصول ہے کہ اگر بنیادی نظریے میں اختلاف ضرورت سے زیادہ ہو تو بحث نہیں ہو سکتی اور میں اکثر کہتا ہوں کہ جو آدمی یہ کہے کہ کوا سفید ہوتا ہے اسکے لیئے لکم دینکم ولی دین ہے.روشن خیالی تو میں پہلے عرض کر چکا کہ قبلہ مشرف صاحب کا پھیلایا ہوا جراثیم ہے اور بنیاد پرستی کی اصطلاح بھی ہماری نہیں بلکہ مغرب کی ہت جسکو خطرہ ہی ہماری بنیاد پرستی سے ہے. ویسے اگر متعصب ہوئے بغیر دیکھیں تو بنیاد پرستی تو ایک مثبت اصطلاح ہے کیونکہ کسی کوئی بنیاد ہی نہ ہو اور سارا نظریہ حیات ہوا میں معلق ہو انکے لیئے بنیاد پرستی تو واقعی ایک خطرہ اور ایک منفی رویہ ہے. اسلام کی بنیاد تو ہے ہی تسلیم،سلامتی اور امن. اب اگر مسلمان اس پر عمل پیرا نہیں تو کیا قصور اسلام کا ہے؟
    عزیزم مصباح نے بہت بنیادی بات لکھی ہے جو دعوت فکر ہے…..اسلام کا ہماری پسند و نا پسند سے کوئی تعلق سرے سے ہے ہی نہیں، بلکہ یہ تو فقط اور فقط اللہ کی پسند و نا پسند کا ضابطہ ء حیات ہے جسکا دستور قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور اسے تبدیل کرنا ہمارے اختیار سے باہر ہے۔………….
    اب اگر اس بات پر ہمیں کوئی جماعت اسلامی کا قرار دینا چاہے تو حاضر سائیں.

  12. محترم سیّد مصباح حسین صاحب ، السّلام و علیکم
    اب تک ایک جملہ اکثر خراب حالات کے وقوعہ پر اظہار رائے میں استعمال ہوتا رہا ہے کہ ( حمام میں سب ہی ننگے ہیں ) لیکن آپ کے لکھے ہوئے بلاگ ( ہم کدھر جا رہے ہیں ) اور فلم پر رائے دینے والے اور اسی طرز کی خرابیوں کے موضوع پر مختلف رسائل و جرائد میں لکھنے والے دیگر دانشور خواتین و حضرات مسئلے کی بنیادی وجوہات کو چھوڑ کر حسب عادت مغرب، قدامت پسندی، روشن خیالی، ملائیت، بھٹو، ضیاءالحق، مشرف وغیرہ وغیرہ میں الجھ کر آخر کب تک خود کو اور عوام کو دھوکے دیتے رہینگے ، جب کہ اصل بات یہ ہے کہ اس بلاگ کے مذکورہ مسائل اور اس سے متعلقہ فلم کے بننے بنانے اور دیکھنے دکھانے کے میدان میں ہم سب ہی ننگے ہیں ۔ کسی بھی مسئلے میں ہر شخص دوسرے پر ( اپنی بغل میں اور دوسروں کی نظر میں ) انگلی اٹھا کر اپنے آپ کو بریّ الذّمہ سمجھ کر آزاد ہو جانے کو اپنی فتح سمجھ لیتا ہے، حالانکہ انسان ہونے کے ناطے یہ شخص متعلقہ معاملے میں حسب صلاحیت اپنا کردار ادا کر کے بہتری لا سکتا ہے، مگر سب خرابیاں دیکھتے ہوئے بھی ہم خاموش بنے ہوئے ہیں ۔ لہٰذہ میری ناقص رائے تو یہی ہے کہ آئیندہ ( میدان میں سب ہی ننگے ہیں ) ایسا لکھنا بہتر رہیگا ۔ کہ برے کام پہلے تو چہار دیواری میں ہونے تھے، جبکہ اب برے کام ہم تماش بینوں کے سامنے کھلے میدانوں اور گلیوں میں ہو رہے ہیں ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس برے کام کو ہم بے شرمی سے اپنی ماؤں، بہنوں اور بچوں کے ساتھ گھر میں حاصل سہولت کے ذریعے دیکھ رہے ہیں ۔
    موجودہ مادر پدر آزاد معاشرے کے وجود میں آنے کی وجہ ہمارے اپنے کردار اور رویّوں کا اللہ تعالٰی اور اس کے آخری نبی حضرت محمّد مصطفٰی صلّی اللہ و علیہ و سلّم کے احکامات کی کھلم کھلاّ نا فرمانیاں کرنا ہی تو ہے، اور اسکی وجہ سے آج ہم اپنے ذاتی گھر، اولاد، رشتہ دار سے لیکر دنیا بھر کے ہر محاذ پر پریشان، بدنام، خوفزدہ اور بے چین و بے سکون ہو گئے ہیں ۔
    درج ذیل واقعہ بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ع غ نے بنگلے کے سامنے ایک کنال کے لان میں بغیر تحقیق و پہچان کے نیم کے بیجوں کو سیب کے بیج سمجھ کر اگا دیا ، بیجوں سے چھوٹے پودے وجود میں آئے، نشو نما شروع ہوئی، ع غ نے انکی نگہبانی، سردی، گرمی، دھوپ چھاؤں کے برے اثرات سے بچانے کیلئے بھی خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا، کبھی کبھار پانی ڈال دیا اور بس ۔

    اور دن رات شدّت و فخر سے اس وقت کا انتظار کرنے لگا جب ان پر ٹنوں کے حساب سے شیریں سیب لگیں گے ۔ ان سیب کے درختوں کے سائے، ہریالی، خوبصورتی، پھل و پھول اور ان سے نکلتی مہکتی ہوئی خوشبو دار ہوا کے جھونکے ہمارے بنگلے کی خوبصورتی اور ہماری شان میں اضافہ کریں گے ، لوگ ہمیں حسرت سے دیکھیں گے اور سلام و تعریف کریں گے۔ بلکہ ارد گرد کے رہائشی اور ہمارے بنگلے کے قریب سے گزرنے والے لوگ بھی ہماری قسمت پر رشک کریں گے ۔ اور ہمارا نام شہر بھر میں اسی وجہ سے مشہور ہو جائیگا ۔
    کئی برس بعد انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، پھول لگے، چھوٹے چھوٹے سبز پھل بنتے دیکھ کر اپنی محنت پر فخر ہونے لگا ، اچانک ضروری کام کے سلسلے میں دس بارہ روز کیلئے کسی دوسرے شہر جانا پڑ گیا ۔ گھر واپسی پر تکبرانہ انداز میں لان کی طرف گیا، لان میں داخل ہوتے ہی جب اپنے اگائے ہوئے درختوں کے نیچے جھڑی ہوئی ذرد نمبولیاں دیکھیں، تو فوراً درختوں پر نظر دوڑائی تو ویسی ہی نیچے بکھری جیسی نمبولیوں نے ٹہنیوں پر جھولتے ہوئے ع غ کے ہوش ختم کر دیئے، گھر والوں نے ہسپتال پہنچا دیا ۔ اب ع غ اکثر کہتا اور سوچتا ہے کہ کاش میں یہ بیج بونے سے پہلے ( پہلے تولو پھر بولو ) عقل استعمال کر لیتا یا متعلقہ شعبے سے وابستہ کسی مستند اور تجربہ کار شخص سے مدد یا مشورہ لے لیتا ۔

    ۔بھائی سیّد مصباح حسین صاحب، آپ کے بلاگ کی تحریر اور فلم میں دیئے گئے حوالے یہی تو بتا رہے ہیں کہ ہم ہر صورت میں دوسرے کو نیچا دکھانے اور دولت و شہرت حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، بے شک ہمیں اس مقصد کے حصول کی خاطر حلال و حرام اور جزا و سزا کو اپنی کتاب سے نکالنا پڑے ۔ اس کام کے لئے ہم خود اپنے ہاتھوں سے تکبّر، جھوٹ، غیبت، حسد، بخل، خیانت، نفسا نفسی، بے ایمانی، لوٹ مار، اور اللہ کے احکامات کی نافرمانی والے لا تعداد بیج اپنے اپنے کھیتوں میں کاشت کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں ۔ ان میں سے کچھ کھیتوں میں جلدی پھل دینے والے درختوں کی وجہ سے آمدہ فصل کے آدھے کچّے آدھے پکّے پھل ہمیں ادھ ننگوں اور غیر انسانی و وحشی عمل کی شکل میں آپکی بھیجی ہوئی فلم میں نظر آ رہے ہیں ۔

    ان مذکورہ بیجوں سے آئیندہ جو پھل اور فصلیں پیدا ہو کر مارکیٹ میں آنے والی ہیں وہ اتنی ہیبت ناک اور شیطانی کاموں والی ہونگی کہ انہیں دیکھ کر شاید آج کل کے ادھ ننگے اور حیوانی کام کرنے والے گھٹیا انسان ہمیں اللہ کے ولی محسوس ہونگے ۔
    سیّد مصباح حسین بھائی، اگر آئیندہ آپ نے کبھی ہم سے پوچھا کہ ھم کدھر جارہے ہیں تو ہم دولت اور شہرت کے حصول کی خاطر ہر قسم کا غیر انسانی اور شیطانی کام کرنے اور دیکھنے والے یہ کہنے میں دیر نہیں لگائیں گے کہ ہم ننگوں کے میدان میں موجود ہیں ۔
    آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا ۔ جیسا بوئیں گے ویسا کاٹیں گے بھائی ۔ ۔ ۔ ۔ اس لئے اللہ اللہ کر بھیّا ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اللہ ہی سے ڈر بھیّا

  13. محمد علی خان بھائی. بہت خوب. سو سنار کی ایک لوہار کی اور لوہار بھی ایسا کہ کچھ نہ پوچھو
    لو جی بھائی محمد علی اگر آپ نے آج تک انشایئہ نہیں لکھا تو آج سے انشایئہ لکھنا شروع کر دیں. اللہ عزت اور برکت دونوں دے گا. دعا فقیراں تے رحم اللہ.

  14. صفدر ہمدانی صاحب نے دریافت فرمایا روشن خیالی کیا ہوتی ہے۔ روشن خیالی بنیاد پرستی کی ضد ہے۔ بنیاد پرستی ایک مثبت چیز ہو سکتی ہے کیا۔ چلیں اسکی بھی میں ایک مثال دیتی ہوں۔اسکی مثال ایسے ہے کہ آپکے بزرگ ایک گھر بناتے ہیں اپنی اس وقت کی ضروریات کو سامنے رکھ کر۔ اور اس پہ اپنی گھر کی بنیادیں کھڑی کرتے ہیں۔ آپ ایک گرم علاقے میں رہتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ گھر ٹھنڈا کیسے رہے گا۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ گھر کے تمام کونوں کھدروں پہ نظر رکھ سکیں اور گھر میں فرش یکساں حالت میں رہے وغیرہ وغیرہ۔ آپکےعلاقے کے دیگر لوگ بھی آپکے گھر کی اس منصوبہ سازی کو دیکھتے ہیں متائثر ہوتے ہیں اور اپنے گھر ویسے ہی بنا لیتے ہیں۔ اب ماحولیات پہ ہونے والی تبدیلیوں سے آپکے علاقے میں بارش بھی ہونے لگتی ہے، برفباری بھی ہونے لگتی ہے۔ ضروریات کا تقاضہ یہ ہے کہ اب گھر بنانے کی منصوبہ بندی میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں۔ لیکن آپ ایسی ہر تبدیلی کیخلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ حتی کہ ایکدن ایسا آجاتا ہے کہ لوگ آپکی باتوں پہ دھیان دئیے بغیر جو وہ کرنا چاہتے ہیں اپنے طور پہ کرنے لگتے ہیں۔ مختلف لوگ مختلف طرح کے گھر بنانے لگتے ہیں۔ تعمیر کہ جس مرکزی خیال نے آپکے علاقے میں ترتیب اور خوبصورتی پیدا کی تھی وہ ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ آپ نے تبدیلی کے عمل میں حصہ نہیں لیا، اسکے خلاف کھڑے رہے اور اس طرح آپ نے دوسرے لوگون کو بھی ایک مرکز پہ آنے کی کوششوں میں رخنہ ڈالا۔ آپ مطمئن ہیں۔ جو منصوبہ سازی ہمارے بزرگوں نے کی تھی آپ اسکی حفاظت بخوبی کر رہے ہیں۔ یہی بنیاد پرستی ہے۔ یہاں ‘آپ’ سے میری مراد بالخصوص آپکی ذات نہیں بلکہ ایک نظرئیے کی طرف رہنے والے لوگ ہیں جو میرے سامنے ہیں۔
    دنیا کے ہر مذہب کے سامنے یہ چیلینج آیا اور مغرب میں عیسائیت اور یہودیت بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ آپکو یہ انکی اصطلاح اس لئیے لگتی ہے کہ وہ اس فیز سے گذر کر نئے مراحل میں جو انکی سمجھ میں آئے قدم رکھ چکے ہیں۔ ہم ابھی ان مراحل سے گذر رہے ہیں اور ابھی ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کیا کریں گے۔ لیک قدرت نے اسکے لئیے ایک نظام وضع کیا ہے جسے ارتقاء کہتے ہیں اس میں تمام اسپیشیز کو حصہ لینا پڑتا ہے اور یہ وہ جبر ہے جو قدرت ہم پہ نافذ کرتی ہے۔ اللہ کی رضا سے۔ سو، ایک لمحہ ایسا بھی آئیگا چاہے وہ ہماری زندگیوں کے بعد آئے کہ ایک خاموش تبدیلی اسی طرح ہمارے اندر بھی جنم لے لے گی۔ اگر آپ اسکی تیاری نہیں کریں گے تو وہی ہوگا جو تیاری نہ کرنے والے کیساتھ ہوتا ہے۔ یعنی آپ دفاعی پوزیشن لینے والوں میں سے ہونگے۔ ہم نہیں ہونگے۔لیکن اسکے نتائج آنیوالوں کو دیکھنا ہونگے۔
    یہ جو لوگ ہر وقت اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ بحث اپنے موضوع سے ہٹ رہی ہے۔ یہ مجھے بڑی عجیب بات لگتی ہے۔ آخر اس بحث کا کیا موضوع ہے۔ یہ کہ کیڑے مکوڑے نہیں کھانے چاہئیں۔ تو پھر سب ایک ایک لفظ کا جواب لکھ دیں ہاں یا نہیں۔ بات نکلتی ہے تو دور تلک تو جاتی ہی ہے۔ بالخصوص ایسے مقام پہ جہاں بیچ میں کوئ کنڈیکٹر نہ ہو۔ اور وقت کی بھی قید نہ ہو۔ اب یا تو وقت کی قید لگا دیں یا اسے آزاد چھوڑ دیں۔ آپکا مقصد تو اپنی بات بیان کرنا تھا۔ دوسرے اپنا نکتہ ءنظر دیان چاہتے تھے انہوں نے دیا۔ یہ تو دراصل اس تیسرے شخص کے لئیے ہے جو خاموشی سے ان تحریروں کو پڑھے گا اور اپنے طور پہ سوچے گا۔ اسے سوچنے کے لئے مواد جمع ہونے دیں۔ بس گفتگو کو اخلاقی حدوں سے باہر نہیں جانا چاہئیے۔ میں اب اس نکتے پہ اس بحث سے خارج ہوتی ہوں۔ آپ سب کا مجھے برداشت کرنے کا شکریہ۔

  15. مکرمی و محترم محمد علی خان صاحب۔
    تسلیمات۔ آپکی توجہ اور انتہائی عمیق و پر معنی نگارشات پر مشکور ہوں۔ یقینا ہم اب میدان میں ننگے ہوا چاہتے ہیں اور خدا اس نوبت سے بچائے۔

  16. عیسائیت اور یہودیت سمیت کسی بھی الوہی دین میں تبدیلی کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ جو کچھ تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں، وہ کلام الٰہی میں تحریف کے سبب سے ہوئی ہیں۔ ورنہ ان مذاھب میں بھی یہ مباحث ہر گز نہ چھیڑے جاتے۔ اسلام کا سرچشمہ علم و عرفان قرآن کی صورت میں محفوظ ہے جسے خدا نے سند تکمیل دین کے ساتھ محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ایسے میں تکمیل دین کے بعد ہمیں اس میں نئی نئی راہیں تلاش کرنے کا اختیار ہی نہیں تو اسکا سوچنا کیا؟ اسلام کوئی سیاسی چارٹر نہیں جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کی جائے۔ خدا کو ہمارے مشوروں کی ضرورت ہے نہ ہوگی۔ اگر خدا نخواستہ اسلام نا مکمل دین ہوتا اور اس میں وقت کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے کی استعداد نہ ہوتی تو اسلام دینِ خاتم ہوتا نہ نبوت کا اختتام ہوتا۔ بلکہ خدا ضروریات کے مد نظر مزید انبیاء مبعوث کرتا رہتا۔ لیکن آنحضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و ارواحنا فدا لتربت اقدامہ) کا خاتم المرسلین و انبیاء ہونا اس بات کی سند ہے کہ خدا اپنے قوانین مکمل طور پر ہم پر واضح کرچکا اور اب مزید حجت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
    گھر کی تعمیر سے لیکر جنرل مشرف جیسے سیاسی طالع آزماؤں کے نظریات، ضرورت کے تحت بدلتے رہتے ہیں۔ اسکا سبب یہ ہے انسان کے پاس سدا سے وقت کی کمی رہی ہے اور وہ محدود وقت میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہے۔ اسی سبب سے ہم ضرورت کے مطابق خود کو ڈھالتے رہتے ہیں تاکہ موجودہ گھڑی کا کوئی فائدہ اٹھا لیں۔ جبکہ خدا کے یہاں وقت کی کمی کا تصور ہی نہیں ہے اور وقتی تبدیلیوں کے ساتھ سمجھوتہ اسکی ضرورت نہیں ہے۔ خدا کو ایسا کوئی خوف لاحق نہیں کہ اگر آج وقت نکل گیا تو یہ موقع ضائع ہوجائے گا۔ ہمیں خود کو درست ثابت کرنے کے لئے وقت محدود کے اندر عمل کرنا ہوتا ہے، جبکہ خدا کے یہاں روز قیامت تک کی مہلت موجود ہے، جب وہ حق و باطل کو سب پر یکبار عیاں کردے گا۔ اس سبب سے خدا نے کبھی کسی مجبوری کو اپنے یہاں جگہ نہیں دی اور وہ تمام مجبوریوں سے پاک و منزا ہے۔ وہ خدا ہی کیا خدا ہوا جو مخلوق کے پیدا کردہ حالات کے سبب مجبور ہو گیا۔ گویا مخلوق جبار کی جگہ لے گئی اور خدا مجبور و غیر مختار ہو گیا( نعوذ باللہ من ذالک)۔
    جہاں تک نظریہ ء ارتقاء کا تعلق ہے تو اسکو قدرت کا وضع کردہ نظام ماننے میں شدید تامل ہے۔ وہ یوں کہ جسے ہم خالق و قدیر (صاحب قدرت) مان رہے ہیں وہ تو خلقت انسانی کو اس ارتقائی عمل سے بلند تر بتاتا ہے۔ قرآن و احادیث میں اس طرف کہیں کوئی اشارہ ہی نہیں کہ وجود انسانی زمین پر کسی حیاتیاتی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ تو پھر ہم خدا پر یہ بہتان کس طرح سے باندھ دیں کہ اس نے ہمیں ارتقاء کا نظام دیا ہے۔ چلیں اگر کوئی کہے کہ تاریخی طور پر انسان میں حیاتیاتی ارتقاء کی امثلہ موجود ہیں تو بھئی حضرت موسی علیہ السلام سے لیکر آج تک کی تین ہزار سالہ تاریخ میں اگر بال برابر بھی حیاتیاتی ڈھانچے میں فرق ملا ہو تو ہمیں دکھا دیں۔ ڈارون کی تھیوری خود اسکے نزدیک اصول نہیں ایک نظریہ تھا اور جتنے شواہد ڈارون نے اکٹھے کئے، اتنے ہی لیمارک کے پاس تھے۔ اب اگر آپ ماحولیات کا مطالعہ کریں تو ڈارونزم سے زیادہ لیمارکزم میں جان نظر آتی ہے، لیکن سائینس اسے بھی تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ ہاں میوٹیشن ہمیشہ ممکن رہی ہے اور اسکا ارتقاء سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
    پھر اگر بالفرض محال یہ مان لیا جائے کہ ارتقاء کا عمل حیاتیات کے ما سوا، ہماری باقی معاشرتی زندگی کا دائرہ کھینچتا ہے تو یہ امر بھی بحث طلب ہے۔ تاہم اس چیز میں کوئی شک نہیں کہ سائینس کے میدان نے انسان نے بے شمار ایجادات و اختراعات انسانی علم میں تدریجی اضافے کے سبب سے کی ہیں۔ اس کو اگر آپ ارتقاء کہیں تو ہم خاموش ہیں۔
    بہر کیف اسلام آج کے بے علم و نادان مسلمان کے مشوروں کا محتاج ہے نہ ہوگا۔ یہ الگ بات کہ ہم اسکو اپنی پسند کے مطابق تبدیل کر لیں یا کچھ لے لیں اور کچھ چھوڑ دیں۔ قرآن تو اس روئیے کی صریحا مخالفت کرتا ہے۔ لیکن ڈر ہے کہ اب قرآن کو بھی تنگ نظر یا قدامت پسند نظریات کی کتاب کہ دیا جائے گا۔
    عنیقہ بی بی کی جو اپنی عقل میں آیا اسے حرف آخر سمجھ کر ہمیں سنا کر چلتی بنیں۔ اگر حقیقت میں انکی رائے کو میزان پر تولا جائے تو انکی بات کو یا تو ہم پرائمری سطح کی معلومات کا نتیجہ کہ سکتے ہیں یا پھر شدید نظریاتی اختلاف کا شاخسانہ۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم گناہ گاروں کو جب وہ اپنی رائے میں بنیاد پرست ثابت کر ہی چکی ہیں تو ان سے روشن خیالوں سے بات کرنا ہی عبث ہے۔ اس روشن خیالی کی خدا خیر کرے جس میں روزن نور پر جالوں نے تاریکی جما رکھی ہو۔ یہ کیسی روشن خیالی اور کہاں کا اسلام ہے جس میں آج وقت کے ساتھ تبدیلی کی ضرورت آن پڑی۔
    ہم اس روئیے کو بھی دیکھ چکے ہیں جو اسلام کو اصالتا قبول کرنے کو تیار ہی نہیں تو پھر ہمیں معاملہ خدا پر ہی چھوڑنا ہوگا۔ مغرب میں رہ کر ہم اسکی حقیقت اور اپنے اقدار کی قیمت سے آگاہ ہیں، لیکن اہل پاکستان بلا سبب اپنے ماضی سے شرمندہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اسکا علاج ممکن نہیں ہے۔ ہم نے اپنے حصے کی شمع جلانی تھی، سو جلا دی۔ اب مزید کیا کہیں؟
    چونکہ عنیقہ بی بی بحث سے از خود ہی خارج ہو چکی ہیں اس لئے تمام مندرجات انہیں مخاطب کئے بنا عرض کئے ہیں، لیکن ان کو پیش کرنا اس لئے ضروری جانا کہ ہوا کے مقابل چراغ جلانا ہماری عادت ہے۔

  17. عنیقہ آپ کی روشن خیالی نے مجھے تو دکھی کر دیا ہے ۔۔ اس لئے کہ اگر آپ کیڑے مکوڑے کھانے اور اندھی تقلید کو روشن خیالی سمجھ رہی ہیں تو ہمیں بنیا دپرست اور دقیانوسی ہی رہنے دیجئے ۔۔خدایا اس وڈیوکو میں نے پورا دیکھا ہے اور خود کو شرم کے مارے جھکا پایا کہ ہم جو مسلمان ہیں جنہیں حرام اور حلال کے میزان پر تولا جائے گا ۔۔ ہمارے ایمان کی پاکیزگی کو ہر آن پرکھا جائے گا ۔۔ اور ہم یہاں کیڑے مکوڑے اور سستی شہرت کے لئے کیچڑ اور گند میں گر رہے ہیں ۔۔ اور ان کی تقلید کر رہے ہیں جو ہمارا قران اور ہمارے اسلاف کے قانون کو پڑھ کر اپنے ملک کی اصلاحات کر رہے ہیں ۔۔۔

    آپ کے نقطہ نظر سے تو پھر ناجائز تعلقات اور قوم لوط کی طرح جنسی تعلقات بھی روشن خیالی ہی لگتے ہونگے ۔۔ خدا کے لئے ایسی روشن خیالی کے خلاف آواز اٹھایئے ۔۔ہم بنیاد پرست لوگ دراصل ایک نظریہ حیات تورکھتے ہیں۔۔ ان جانوروں کی طرح کیڑے تونہیں کھاتے ۔۔۔

    میں جب بھی کسی خاتون کو کھلے گریبان اور بغیر آستین کے ملبوس میں دیکھتی ہوں تو خود میں کٹنے لگتی ہوں ۔۔یہ گمراہی ہے سرا سر جو مغرب کے میڈیا کا زہر ہے ۔۔ یہ غیر مسلموں کی ہم سے نفرت ہے جو وہ بڑی محبت اور محنت سے ہم میں انڈیل رہے ہیں ۔۔ مصباح بھائی ہم گمراہی کی طرف جا رہے ہیں ۔۔ اور دکھ اس بات کا ہے کہ اس بے راہ روی کو نئے نئے نام دے کراس میں کشش پیدا کی جا رہی ہے ۔۔ہمیں ہمارے اسلامی کردار سے دور کرنے کی سازش رچائی گئی ہے ۔۔۔

    آج کل پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پرنور الہدی جیسی رائٹر تعلیم اور روشن خیالی کے نام پر مرد و عورت کے ناجائز تعلقات کو محبت کانام دے کر کھلے عام تعریف کے ٹوکرے سمیٹ رہی ہے ۔۔ اور تو اور ایبارشن abortion جیسے مسلے پر اتنی بے تکلفانہ کمنٹری اداکاری کے ساتھ پیش کی گئی ہے کہ سنا ہے کہ میاں بیوی تک نے یہ ڈرامہ اکیلے اکیلے دیکھا ۔۔۔ یہ سب کیا ہے ؟

    اگر پاکستان میں بھی ڈراموں کی درجہ بندی کر دی جائے تو بات پھر بھی کچھ کم قابل گرفت رہے گی ۔۔ لیکن کھم کھلا ۔۔ آپ کیا تعلیم دے رہے ہیں ۔۔ کیا یہ مسلمان معاشرہ ہے ۔۔ہم سب واقعی کدھرجا رہے ہیں۔۔ ہماری شرم و حیا اور غیرت جس کی لوگ مثالیں دیاکرتے تھے وہ سب اب قصہ پارینہ ہوئی ۔۔ پہلے بھی تو یہ سب ہوتا تھا ۔۔ یاہوتا ہو گا ۔۔ میڈیا اسے ڈھکا چھپا بھی تو دیکھا سکتا ہے ۔۔ لیکن کیا برائی اور اخلاقی گراوٹ اپنے روپ بدل لے تو معیوب یا قابل سزا نہیں رہے گی ۔۔۔ نہیں یہ خیال؛ بھی غلط ہے ۔۔۔ برائی برائی ہے جہاں بھی ہو ۔۔جس رنگ میں ہو ۔۔ جس معاشرے میں بھی ہو ۔۔ چاہے روشن خیالی کی چادر اوڑھ کر کی جا رہی ہو یا بنیاد پرستی کی بنیادوں کو ہلا کر ۔۔ برائی ، برائی ہے ۔۔ اس کو روکنا ، اس کی مذمت کرنا ، اسے دل سے برا سمجھنا ۔۔ ہر مسلمان کا فرض ہے ۔۔

    مجھے حسرت ہی رہ گئی کہ کبھی قدیر صاحب کا انٹرویو میڈیا دیکھائے ۔۔ کبھیکسی سایئنسادانوں کی حالات زندگی پر ڈرامے بنیں ۔۔ کبھی علامہ اقبال کی شخصیت کو تخلیق کریں ۔۔ لیکن ۔۔ واقعی مصباح بھائی ہم کدھر جا رہے ہیں ؟؟؟
    ہم شائد گہری کھائی میں گرنے جا رہے ہیں ۔۔۔

    انیقہ یہ بھی آپ کی غلط فہمی ہے کہ ہم نے بلاگ کو نظامت کے بغیر چھوڑا ہے ۔۔ موضوع کے اندر رہنے کا مطلب آپ نے غلط سمجھا ہے ۔۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ موضوع کے ارد گرد ہی رہا جائے ۔۔ ویسے جانے کیوں آپ کوہماری ہر پرواز ٹیڑھی ہی کیوں لگتی ہے ۔۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ جب بھی آئی ہوں توکوئی امن کا پیغام ساتھ لائی ہوں ۔۔ لیکن پھر بھی ہم سب آپ کی شدید اختلاف رائے کے باوجود آپ کی دل سے عزت کرتے ہیں ۔۔ اس لئے آپ کواس بحث کے کسی بھی نقطے سے خارج نہیں ہو نا چاہیئے ۔۔ آپ تو روشن خیال ہیں ۔۔ ہم بنیاد پرستوں کو تو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے ۔۔

  18. تکمیل دین کے بعد ہمیں اس میں نئی نئی راہیں تلاش کرنے کا اختیار ہی نہیں تو اسکا سوچنا کیا؟ ۔۔ جیتے رہئے مصباح بھائی ۔۔ یہی وہ بات ہے جو ہر بات کاجواب ہے ۔۔ کاش ہم سب اسے دل سے سمجھ لیں تو سوچنے اور سمجھنے کی کئی جہتیں اور کھلیں گی ۔۔ اور زندگی انتہائی سہل ہو جائے گی ۔۔ ارے ہم مسلمان تووہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہیں کسی فیصلے کے لئے سوچنا ہی نہیں پڑتا ۔۔ سب کچھ لکھا لکھایا ہے ۔۔ بنا بنایا ہے ۔۔پڑھ لو اور اپنی راہ پر چل پڑو ۔۔

  19. عنیقہ بی بی میں سمجھتا ہوں کہ عزیزم مصباح اور محترمہ نگہت صاحبہ کی ان تحریروں کے بعد شاید میرے لیئےمزید لکھنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اگر آپ ذہن مقفل کیئے بغیر ان تبصروں کو پڑھیں تو اس سے آپ کو فائدہ پہنچے گا۔ دراصل ہم لوگوں کی عادت بن چکی ہے کہ بات کسی فلم سے شروع ہو یا پھر ٹی وی ڈرامے کی۔۔۔ہم اسے اسلام کا لباس پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں اس عینک سے اسلام کو دیکھا جائے۔ ہر وہ طاقت جسکو اسلام کے بنیادی اصولوں کا علم نہیں وہ خود کو اسلام پر سند سمجھتے ہیں۔
    اسلام سے زیادہ ترقی پسند اگر کوئی دین ہے تا اسکا نام بتائیں،اسلام سے زیادہ معتدل اگر کوئی دین ہے تو اسکا نام بتائیں۔ اسلام کو کسی روشن خیالی کی یا کھلے ذہن کی سند کی ضرورت نہیں ہے ۔اسلام کی سند قرآن ہے،اسکے ترقی پسند نبی آخر ہیں اور انکی اہلبیت ہیں جنہوں نے کربلا میں انقلاب انسانی کی بنیاد رکھی۔ اسلام کو کسی انگریز کی حمایت کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ دین الہی ہے کسی کا بنایا یا بنوایا نہیں ہے۔ اسلام ایک کامل دین ہے اور اسکے بنیادی اصول غیر متبدل ہیں۔

  20. السلام علیکم
    عتیقہ صاحبہ تو اپنا کلام سنا کر محفل سے رخصت ہو گئی ہیں.
    باقی مکرمی مصباح بھائی، محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور مکرمی صفدر ہمدانی صاحب نے ماشاء اللہ بہت ہی بہترین انداز سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی. اللہ انہیں کھلے دماغ سے سوچنے کی توفیق عطا فرمائے .. آمین

    اب اس کے بعد مزید کچھ لکھنے کے بجائے اس پر غور و فکر کرنا زیادہ ضروری ہے میرے خیال میں
    اللہ آپ احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے .. امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *