عرشی صاحبہ کی نظم “نفسِ امارہ اور خوفِ خسارہ “

عرشی صاحبہ نے مجھے چند ہفتے پہلے یہ طویل نظیم ایک تحفہ کے طور پر عنایت کی جس کے لیے میں انکا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ مگر اس قدر اچھی نعمت کو عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کے سامنے بھی پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ عرشی صاحبہ نے اس نظم کی تمہید یوں لکھی ہے کہ : “ یہ نظم ہر خوفِ خدا رکھنے والے حساس دل کے لیے ایک آئنے کے مانند ہے ، جس میں خود کو دیکھ کر وہ اپنی روحانی نوک پلک درست کرسکتا ہے“

73 thoughts on “عرشی صاحبہ کی نظم “نفسِ امارہ اور خوفِ خسارہ “”

  1. ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی نظم
    عنوان : “ اعتکاف کے دس دن “
    خوب راز و نیاز کی راتیں ، خوب سوز و گداز کے دن ہیں
    آنسووں سے وضو کیا دل نے ، عاشقوں کی نماز کے دن ہیں
    بند کر لے کواڑ دنیا سے ، ہاں یہی احتراز کے دن ہیں
    قصہِ ء غم طویل کر عرشی ، داستانِ دراز کے دن ہیں

    حالِ دل آج بے جھجک کہ دے ، کل یہ سوزِ نہاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    وحدہُ لا شریک تو مالک اور میں بندہِ حقیر تریں
    شُوخ کرتا ہے میرے جیسوں کو تیری بخشش پہ لازوال یقیں
    یہ جو تابِ سخن عطا کی ہے اس کے دم سے ہے داستاں رنگیں
    ورنہ تیر حضور لب کھولیں یہ فرشتوں کی بھی مجال نہیں

    مان میرا یونہی بنا رکھنا جراءتِ عاشقاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    دل شکستہ ہوں تیری جانب سے کچھ مدارات ہو تو بات بنے
    کچھ انوکھی سی مہربانی ہو خاص کچھ بات ہو تو بات بنے
    رات تنہائیاں ، تری یادیں ، پھر مناجات ہو تو بات بنے
    آنسووں کی ِمری نمازوں میں کُھل کے برسات ہو تو بات بنے

    حالتِ جذب آج طاری ہے ، کل یہ طرزِ فغاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    میرے جیسوں کے چومنے کے لیے اک ترا سنگ در ہی کافی ہے
    یادِ محبوب سے جو دل چُوکے اس کو اتنا ضرر ہی کافی ہے
    تیری چاہت بندھی ہے پلّو سے بس یہ رختِ سفر ہی کافی ہے
    تیرے گھر تک جو مجھ کو لے جائے مجھ کو وہ رہ گذر ہی کافی ہے

    دیر مت کر اب اور ملنے میں جان ہے ناتواں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    تیرے در پر ہی دل بہلتا ہے ، تیری چوکھٹ پہ جاں سنبھلتی ہے
    زخم سارے تجھی کو دکھلاوں ، دل میں یہ آرزو مچلتی ہے
    آنسووں کی گھٹائیں دے مالک ، میرے دل کی زمین جلتی ہے
    خُوب رولوں تو چین آجائے ، بھاپ یونہی کہا ں نکلتی ہے

    تیری رحمت ہے آنسووں کی جھڑی ، کل یہ چشمہ رواں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    کیوں نہ میں آج زندگی کوجیوں ، زندگی نےمجھے جیا برسوں
    سانس لینا فقط نہیں جینا میں نے یہ زہر بھی پیا برسوں
    تجھ سے غفلت میں عُمر گذری ہے ہائے یہ جُرم بھی کیا برسوں
    بے حسی مجھ پہ ایسی چھائی تھی نام تیرا نہیں لیا برسوں

    آج پر عشق میں گداز ہے دِل اب غمِ دو جہاں رہے نہ رہے
    کل کےدن کی کسے خبر پیارے، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    خوب تنہائیاں میسّر ہیں ، کیوں نہ جی بھر کہ آج ہم رولیں
    خود سے پہروں کریں تری باتیں ، گرد آنکھوں کی اس طرح دھولیں
    ہم جو بولیں تو ذکر ہو تیرا ، اور اس کے سوا نہ لب کھولیں
    لہلہائے گی جو قیامت تک ، کیوں نہ وہ فصل ِذکر کی بو لیں

    تو ہی باقی ، بقا فقط تجھ کو ، اور مری داستا ں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    دل سلگنے سے جل گیا سینہ ایسی حدّت تھی اس شرارے میں
    وقت ملتا نہ تھا سنبھلنے کا بہ رہی تھی غموں کے دھارے میں
    تیرے در سے ہی ہر نفع پایا ورنہ میں تھی بڑے خسارے میں
    میں تو موری کی اینٹ تھی پیارے ، تو نے مجھ کو جڑا چوبارے میں

    دل ہے زندہ تری نوازش سے جسم خستہ مکا ں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    میری باتوں پہ لوگ کہتے ہیں یہ تو باتیں ہیں سر پھروں جیسی
    شاعری کیا ہے آہ و زاری ہے گفتگو ہے یہ دل جلوں جیسی
    میری حالت کا عکس ہیں نظمیں جو ہے برباد بستیوں جیسی
    روح بے چین مضطرب ہے دل زندگی اپنی رت جگوں جیسی

    دوستی میں نے کی ترے غم سے اب کوئی راز داں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    رات دن ہیں نوازشیں جاری ، کیا تری شانِ شہر یاری ہے
    مجھ سی بے کس پہ یہ کرم تیرا، ہائے کیا لطف غم گساری ہے
    تُو تو کہتا ہے مانگ جو چاہے ، آج فضلوں کی بے شماری ہے
    میں مگر تیرے منہ کو تکتی ہوں ، عشق کا دل پہ زخم کاری ہے

    تیرے جلوے اُتار لوں دل میں ، کل اِ ن آنکھوں میں جاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    کس سے میں شہر میں مِلوں جا کر اب کسی سے بھی دل نہیں مِلتا
    ایسا مُرجھا گیا ہے یہ غنچہ لاکھ کوشش کروں نہیں کِھلتا
    زخم گہرا ہے اور پیچیدہ مجھ اناڑی سے یہ نہیں سِلتا
    تیرا کوچہ ہے مجھے کو راس آیا دل کسی طَور اب نہیں ہِلتا

    یہ ٹھکانہ مجھے بہت کافی اب زمیں آسماں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    دین و ایمان میرا تُو پیارے، تُو مِرا شوق میرا عزم و یقیں
    تیرے در پر سکون پاتی ہے یہ مری بے قرار جانِ حزیں
    عجز ہی وہ سنگھار ہے مالک جو بناتا ہے آدمی کو حسیں
    سرفرازی اسی کی قسمت ہےتیری چوکھٹ پہ خم ہوئی جو جبیں

    ورنہ ہستی ہی کیا ہے انساں کی اس کا نام ونشاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    زندگی اک سفر مرے مالک اور مسافر ہوں میں تھکی ہاری
    بوجھ دل پر لدا ہے غفلت کا، سر پہ گٹھری گناہ کی بھاری
    جاچکے دوست آشنا کتنے اب ہے سر پر کھڑی مری باری
    صرف بخشش کا آسرا پیارے تیری بندی ہوں ایک بے چاری

    مجھ کو رہنےدے اپنے قدموں میں کوئی گھر یا مکاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے
    ۔۔۔۔
    اس نظم کا بقیہ حصہ آئندہ کے تبصرے میں ملاحظہ کیجیے۔

  2. ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی نظم “ اعتکاف کے دس دن “ کا بقیہ حصہ :

    خود سَری سے غرق ہوا فرعوں ، اس نے کفر اور شر سے کیاپایا ؟
    اپنی جنت میں پھنس گیا قاروں اس قدر مال و زر سے کیا پایا ؟
    بُولہب کے شکستہ ہاتھوں نے شوکتِ بے ثمر سے کیا پایا ؟
    بُو حکم بُو جہل بنا آخر اس نے علم و ہنر سے کیا پایا ؟

    بس ترا فضل ہو تو بات بنے علم و فن کا نشاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کادن مہرباں رہے نہ رہے

    جن کے دل میں ترا بسیرا ہو، ان کو پت جھڑ ہو یا بہار حسیں
    قرب کا جو ترے مزہ چکھ لیں چین پاتے نہیں پھر اور کہیں
    عاشقوں کے دلوں کی رونق تُو ان مکانوں کا ایک تُو ہی مکیں
    تیرے در پر گریں تو پھر نہ اُٹھیں تیرے عاشق سدا کے خاک نشیں

    روح جب مستقل ہو سجدے میں پھر صدائے اذاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    میرے دل کی زمین بنجر تھی ، تیرے فضلوں سے لہلہا اٹھی
    جسم و جاں کو بھگو گئی یکسر ، تیری رحمت کی جب گھٹا اٹھی
    سوچ ابتر تھی ، روح میلی تھی، تیرےفضلوں سے جگمگا اٹھی
    اور ان دل گداز لمحوں میں میرے دل سے یہی صدا اُٹھی

    اِذن دے دے کہ آج سب کہ دوں ، کل یہ طرزِ بیاں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    زندگی ُپل صراط ہے اپنی اور یہی عاشقوں کا جادہ ہے
    دل کو مل مل کے آج دھونا ہے ، اس پہ اک میل کا لبادہ ہے
    آنسووں سے نہائی ہیں آنکھیں ، دل بھی کچھ با وضو زیادہ ہے
    جذب و مستی میں ڈوب کر عرشی دو رکعت عشق کا ارادہ ہے

    آج مو سم ہے قدر دانی کا ، کل کوئی قدر داں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    عجز بندوں کا تجھ کو بھاتا ہے ، سو اسی کا سنگھار کرتی ہوں
    تیری چاہت کی چاہ میں مولا، تیرے بندوں سے پیار کرتی ہوں
    اپنے شعروں میں دل کے داغوں کا شوق سے میں شمار کرتی ہوں
    تیری باتوں سے دل نہیں بھرتا ۔ اب مگر اختصار کرتی ہوں

    رحمتوں سے تری رواں ہے قلم ، کل یہ جانے رواں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

    ہم نے دنیا میں رہ کے دیکھا ہے گِھر گئے تھے عجب جھمیلے میں
    ہر طرف بھیڑ چال جاری تھی ، بہہ رہے تھے سب ایک ریلے میں
    تیری دنیا نِرا بکھیڑا ہے ، چین و آرام ہے اکیلے میں
    اپنے حُجرے میں مطمئن ہوں میں، خوب رونق ہے دل کے میلے میں

    بس یہ دس دن بڑے غنیمت ہیں ، پھر یہ محفل جواں رہے نہ رہے
    کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نظم ختم ہوئی :
    کاتب کا نوٹ:
    ماشااللہ ، سبحان اللہ ، اللہ عرشی صاحبہ کی عبادتین قبول فرمائے ۔ آمین
    ۔۔۔۔۔
    شائد عرشی صاحبہ کی دعاوں سے مجھ عاصی کی عاقبت بھی بخیر ہوجائے
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  3. http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=584#comments
    عرشی صاحبہ سے اور عالمی اخبار کی انتظامیہ اور خاص طور پر زرقا مفتی صاحبہ سے یہی عرض ہے کہ وہ پنہاں صاحبہ کے ارشادات جو انہوں نے عالمی اخبار کے اس بلاگ میں لکھکر“ صنعتی شاعری “ پر روشنی ڈالی ہے ، مندرجہ بالا لنک کو کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں ۔
    ( اس سلسلہ میں مزید تحقیق اور تکلیف کی ضرورت نہیں )
    اس بلاگ میں پنہاں صاحبہ کو میرے مبتدیانہ سوالات پر کافی جھنجھلاہٹ ہوئی ۔ اگر دوسرے پڑھنےوالے اس موضوع پر اپنے تجسس کا اظہار کرتے اور پنہاں صاحبہ سے سوالات کرتے تو یہ بلاگ مکمل ہوجاتا اور ہم سب پنہاں صاحبہ کی صنعتی شاعری کےمزید مثالیں پڑھ سکتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔

    یہ بلاگ 14 جون 2009 کو میں نے شروع کیا مگر افسو س کہ اس پر سیر حاصل تبصرےنہ ہوسکے اور یہ موضوع ادھورا سا رہگیا ۔
    شائد عرشی صاحبہ اس موضوع “ صنعتی شاعری “ پرروشنی ڈال سکیں ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  4. منظور قاضی صاحب صنعتی شاعری کے بارے میں لنک ارسال کرنے کا شکریہ

    میں نے درجِ ذیل لنک میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے ارشادات اور صنعتی شاعری کے نمونے پر

    مشتمل غزل کو بہت غور سے پڑھا۔ان کی تحریر میں سے مندرجہ ذیل اقتباس صنعتی شاعری

    کے ماضی حال اور مستقبل کے امکانات کو پوری طرح سے عیاں کر دیتا ہے

    “صنعتی شاعری ” کو بہت کم لوگ بہت زیادہ جانتے ھیں ۔ شعرا کی اکثریت بھی ناواقف ھے۔ اور وہ یوں کہ اس قسم کی شاعری

    کا رواج قدیم شاعری میں زیادہ تھا، جو آہستہ آہستہ ختم ہوتے ہوتے اب تقریبا” بالکل ھی ختم ھو گیا ھے ۔

    جسے آج کے مصروف ترین دور میں ختم ھو ھی جانا تھا وہ یوں کہ اس نوع کی شاعری بھت زیادہ وقت اور توانائی مانگتی ھے۔

    اس لئے اسے نظر انداز کرتے ھوئے آگے نکل جانا ھی مناسب لگتا ھے۔مگر دوسری طرف اس حقیقت کو بھی یکسر نظر انداز نیہں کیا جاسکتا

    کہ یہ ھماری قدیم اردو شاعری کی ایک شاندار روایت ھے ۔اور اگر اس کے احیا کی کوشش نہ کی گئی تو یہ بالکل ھی ختم ھو جائے گی

    اس مکمل تحریر کے بعد اس موضوع پر مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی لیکن یہاں سے ایک اور بحث ضرور جنم لے سکتی ہے کہ

    ادب برائے ادب کی اہمیت زیادہ ہے کہ ادب برائے زندگی کی؟یعنی شعر برائے شعر ہونا چاہیے یا شعر برائے مقصد اور شعر برائے زندگی؟

    کیونکہ شعر برائے زندگی تو ایک الہامی کیفیت اور جزوِ پیغمبری ہے لیکن شعر برائے شعر مجھ عاجز کے نزدیک ’’منجھی پیڑھی ٹھوکنا ‘‘ ہے

    یعنی الفاظ کی بازی گری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح ایک بازی گر بیک وقت کئی گیند اُچھالتا اور ناظرین کو حیرت آمیز خوشی سے ہم کنار کرتا ہے

    اسی طرح لفظوں کی بازی گری کے لئے بھی وافر وقت درکار ہے اور توانائی بھی جیسا کہ پنہاں صاحبہ نے فرمایا ہے۔

    اسی لئے ڈاکٹر صاحبہ مزید فرماتی ہیں کہ اس لئے اسے نظر انداز کرتے ہوئے آگے نکل جانا ہی مناسب ہے

    میں ڈاکٹر صاحبہ کی رائے سے سو فی صد اتفاق کرتی ہوں

    اور یہ کہہ کر بات ختم کرتی ہوں کہ

    شعر اُترے تو شعر لکھتی ہوں

    مجھ سے کاری گری نہیں ہوتی

    منظور قاضی صاحب کا شکریہ کہ ان کے صنعتی شاعری پر مشتمل اس گذشتہ بلاگ نے میری معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

    سچی بات ہے کہ ’’ویوز ‘ کبھی ’’نیوز‘‘ کی طرح پرانے نہیں ہوتے۔

    ان کا مزید شکریہ کہ انہوں نے اعتکاف کے دس دن کو بلاگ کی زینت بنا دیا

  5. مُحترم منظور قاضی صاحب
    آپ نے جو لِنک پیسٹ کیا تمام موجودہ تبصرے تفصیل سے پڑھے شائید کُچھ تبصرے اِن میں موجود بھی نھیں ہیں مگر مُجھے کہیں بھی ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے کسی بھی مضمون میں صنعتوں کی اقسام کے بارے میں معلومات نہیں ملیں کہ ین صنعتوں کی کتنی اقسام ہیں ، اور اُن اقسام کی تعریف کیا ہے اور اُنھوں نے ج و اپنی شاعری یہاں تحریر کی ہے وہ کونسی صنعت میں ہے ،
    کیونکہ میں عالمی اخبار کا نیا لکھنے والا ہوں اور یہ موضوع تبصرے کافی پہلے کہ ہیں ، اگر اور تبصرے ہیں جن میں میرے ان سوالوں کا جواب ہو ت و برائے مہربانی بتائیں ، تاکہ مُجھ ناچیز کے علم میں جو اِن صنعتی اصناف کے بارے معلومات ہیں وہ آپ لوگوں تک پُہنچا سکوں
    مُحتاجِ دُعا

  6. منظور قاضی صاحب
    آپ نے جو ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے بلاگ کا لنک صنعتی شاعری کے حوالے سے دیا میں نے تمام موجود تبسرے بغور پڑھے کیا صنعتی شاعری ک حوالے سے ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے یہ تمام تبصرے یہ ہی ہیں کہ اور بھی ہیں ، کیونکہ مُجھے تمام بلاگ میں کہیں بھی صنعت کی اقسام نظر نہیں آئیں کہ کتنی اقسام کی صنعتیں ہیں اور کن ناموں سے ، اور ڈاکٹر صاحبہ نے جو اشعار لکھے ہیں اُس میں یہ نہیں بتایا کہ اُنہوں نے کونسی صنعت استعمال کی ہے،کہی حوالہ نہیں دیا ، اگر ہے تئ میری رہنمائی فرمائیں ،
    کیوں کہ میں عالمی اخبر میں نیا لکھنے والی ہون مُجھے اس ک بارے ماین علم نہیں کہ پعلے کیا بحث ہو چُکی ہے آ بتائیں تاکہ ، اِن صنعتوں اور اِنکی اصناف کے بارے میں مُجھ ناچیز کے پاس جتنی معلومات ہیں آپ سب دوستوں تک پُہنچا سکوں
    مُحتاجِ دُعا

  7. عرشی صاحبہ کی تحریر کے بعد میری جستجو “ صنعتی شاعری“ کےبارے میں ختم ہوئی ۔
    اگر یہ الفاظ کی بازی گری اور شعر برائے شعر پر ہی منحصر ہے اور کافی دقت طلب اور وقت اور توانائی طلب ہے تو شائد اسی وجہ سے یہ مقبول نہ ہوسکی ۔
    میں زوار قمر عابدی صاحب کی تحریر کا جواب دینے کی کوشش بھی کرونگا تو اپنی کم علمی کے باعث تسلّی بخش جواب نہ دے سکونگا۔
    میں نے اس بلاگ میں ڈاکٹر پنہاں کے ای میل کے پتے لکھدیے ہیں ۔ اگر وہ بالراست پنہاں صاحبہ سے ہی رجوع کریں تو بہتر ہے ۔
    پنہاں صاحبہ نے جو کچھ کہنا تھا وہ اس لنک میں لکھ دیا ہے ۔ اور صنعتی شاعری کی مثال میں اپنی دو غزلیں بھی اس بلاگ میں شایع کردی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نے پنہاں صاحبہ سے بار بار پوچھا کہ وہ قدیم اور جدید شعرا کی صنعتی شاعری کی مثالیں عطا کریں مگر انہوں نے اوروں کی مثالیں دینے کی بجائے اپنی شاعری کی مثالیں دے دیں ۔جنھیں میں ایک تحفہ کی طرح قبو ل کرچکاہوں۔
    کیا انیس و دبیر کی غیر منقوط شاعری صنعتی شاعری کے زمرے میں آتی ہے ۔ ؟
    کیا اساتذہ کی شاعری میں ایسے اشعار موجود ہیں جو صنعتی شاعری کے زمرے میں آتے ہیں؟ ( مثالیں چاہییں ) : یاد رہے کہ میں نے جو مثالیں پنہاں صاحبہ کو دی تھیں ان کو پنہاں صاحبہ نے قبول نہیں کیا تھا ( اس سلسلہ میں میرا صنعتی شاعری کا بلاگ ملاحظہ کیجیے) ۔
    کیا جدید شعرا یا شاعرات ( ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے علاوہ ) بھی صنعتی شاعری قسم کے اشعار لکھ چکے ہیں؟ ( مثالیں چاہییں )
    کیا شاعر یا شاعرہ جو شعر برائے شعر نہیں بلکہ شعر برائے زندگی تخلیق کرتا ( کرتی )ہے وہ اس قابل نہیں کہ صنعتی شاعری کے تحت شعر برائے زندگی کے اشعار لکھ سکے؟
    بہر حال یہ معمہ اور یہ اصطلاح “ صنعتی شاعری “ میں ڈاکٹر پنہاں سے ہی سنا ، کسی اور سخنور یا دانشور نے اس موضوع پر کوئی تسلّی بخش بات ا ب تک عالمی اخبار کے بلاگوں میں نہیں کی ۔
    ۔۔۔۔
    اس سلسلہ میں زوار قمر عابدی صاحب کی تجسس قابلِ تعریف ہے۔شاید وہ ہی اس معاملے میں تحقیق کرکے عالمی اخبار کے بلاگوں میں اپنی تحقیق کے نتائج شایع کرسکیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ کی قادرالکلامی سے میں بےحد متاثر ہوں ۔
    ا نکے ان الفاظ نےمیری اس الجھن کو سلجھادیا کہ :
    “میں ڈاکٹر صاحبہ کی رائے سے سو فی صد اتفاق کرتی ہوں
    اور یہ کہہ کر بات ختم کرتی ہوں کہ
    شعر اُترے تو شعر لکھتی ہوں
    مجھ سے کاری گری نہیں ہوتی“
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آخر میں یہ کہتا چلوں کہ میرا کمپیوٹر اچھی طرح کام نہیں کررہا ہے ( بار بار ٹوٹ جاتا ہے ) اس لیے میں اتنے انہماک سے عالمی اخبار کے بلاگوں میں حصہ نہی لے سکونگا جس انہماک کی عالمی اخبار کے بلاگوں کو ضرورت ہے۔
    ۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ کا ان پیج میں لکھا ہوا کلام مجھے مل جایا کرے تو میں کوشش کرونگا کہ کسی نہ کسی کمپیؤٹر سے اسکو عالمی اخبار کے بلاگوں میں یونی کوڈ میں منتقل کردوں۔
    میری ان سے گذارش ہے کہ وہ بیک وقت اپنا کلام مجھے ، شاہین رضوی صاحبہ اور عبدالمناف غلزئی صاحب کو بھجوادیا کریں تاکہ ہم تینوں میں سے کوئی نہ کوئی ان کےکلام کو عالمی اخبار کے بلاگوں میں شایع کرسکے۔
    اگر کوئی اورسخنور اس معاملے میں اپنا تعاو ن عرشی صاحبہ کو پیش کرے تو وہ بھی شائد عرشی صاحبہ کے لیے قابلِ قبول ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یاد رہے کہ انکے اشعار کے پڑھنے کی نعمت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔
    ۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    از جرمنی

  8. مُحترم منظور قاضی صاحب ،
    آپکے جواب سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ صنعتی شاعری پر جو بلاگ شروع ہوا وہ نامُکمل رہا ، نا ہی ڈاکٹر پنہاں نے اور نا ہی عرشی صاحبہ نے کوئی خس روشنی ڈالی ، جس سے ،صنعتی شاعری کے بارے میں آپکی اور دوسرے احباب کی تشنگی دور ہو تو آپ پہلے بتائیں کہ یہ تبصرہ یس بلاگ میں ہی شروع کےا جائے ک الگ بلاگ میں
    مُحتاجِ دُعا

  9. زوار عسکری صاحب نے اپنا نیا بلاگ صنعتی شاعری کے موضوع پر آج شروع کر ہی دیا ہے اس لیے اس ذیلی موضوع ( یعنی صنعت شاعری پر ) اس بلاگ میں مزید تبصروں کی بجائے ، زوار عسکری صاحب کےبلاگ میں کئے جاسکتے ہیں ۔

  10. منظور قاضی صاحب ،
    رہنمائی کا بُہت شُکریہ ، آپکے تعاون اور تبصرے کا انتظار رہے گا ، کیوں ک اِس موصوع پر تحریک آپکے تبصوں سے ہی ملی ہے . مُحتاجِ دُعا

  11. میرے اوپر کی تبصرےمیں زوار عسکری صاحب کی بجائے زوار قمر عابدی صاحب پڑھا جائے : شکریہ

  12. زوار قمر عابد ی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے صنعتی شاعری کے موضوع پر تبصروں کا محرک سمجھا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اصل میں ہم مغرب میں رہنے بسنے والوں کے پاس نہ کوئی لایبریری ہے اور نہ اساتذہ کی تصانیف ہم سب کے پاس ہیں ۔بس ایک دوسرے سے مراسلت کرکے ہم اپنے علم کی پیاس بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر ہوسکا تو گوگل اور وکیپیڈیا سے کچھ نہ کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب جبکہ زوارقمر عابدی صاحب نے اس موضوع پر اپنا معلوماتی بلاگ شروع کردیا ہے تو اب دیکھتے ہیں کہ اسکی پذیرائی کیسے ہوتی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    ( میرے خیال میں میرے مبتدیانہ سوالات ہی کا نتیجہ تھا کہ پنہاں صاحبہ اس موضوع پر اتنا کچھ ہم کو دے سکیں )
    ۔۔۔
    میں زوار قمر عابدی صاحب کی اس موضوع پر تحقیق کو قابل تحسین سممجھتا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں صنعتی شاعری کے تمام اقسام پر عبور صرف اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب شاعر یا شاعرہ قادرالکلا م ہو اور اسکے پاس الفاظ کا کبھی نہ ختم ہونے والا ذخیرہ موجود ہو۔اور اسے اس ذخیرے کو صحیح طور پر استعمال کرنےپو قدرت حاصل ہو۔
    انیس و دبیر کا ہی دم تھا کہ وہ صنعتی شاعری کی مختلف صنعتوںمیں کمال کے اشعار لکھ چکےہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے تو ہر وہ شعر اچھالگتا ہے جو دل میں فورری طور پر اتر جائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے الفاظ کی جادوگری اور کاریگری کا مظاہر ہ دیکھنے کی خواہش ضرور ہے مگر بقول اقبال : غواص کو مطلب ہےصدف سے کہ گہر سے ؟ ۔
    فقط :
    منظور قاضی
    ازجرمنی

  13. منظور قاضی صاحب
    ہم بھی آپ کی طرح دیارِ غیر میں ہی ہیں ، اور یہاں ،دیارِ گیر میں بیتھ کر ہی یہ کام کر رہے ہیں ، ہاں ایک دلچسپی ہے ،ایک تشنگی ہے کُچھ حاصل کرنے کی ، اُس میں لگے رہتے ہیں ، گھر کے ادبی ماحول میں آنکھ کھولی ، اور شھر کا ماحول بھی ایسا کہ ، اینٹ اُکھاڑو تو شاعر ملے، ،، ، ، 18 سال کی عمر میں مرثیہ لکھدیا آپ جیسے دوستوں نے ملنے والوں نے حوصلہ افزائی جاری رکھی ،اور ہم نی اپنی جستجو ….دُعا کرئیں یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے ……. مۃحتاجِ دُعا

  14. زوار قمر عابدی صاحب سے عرض ہے کہ اپنا نیک کام جاری رکھیں : اللہ انہیں نیک کاموں کا اجر ضرور دے گا:
    ۔
    میرے لیے آرزو اکبر آبادی کا یہ شعر مشعلِ راہ کی طرح ہے :
    حد سے نہ گذر سیلاب نہ بن ، چکر میں نہ پھنس گرداب نہ بن
    بن ہلکی موج مگر ایسی جس موج پہ دریا ناز کرے
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    دلی دعاوں کے ساتھ
    منظور قاضی
    از جرمنی

  15. میں عرشی صاحبہ کے مزید کلام کا منتظر ہوں :
    یہ بلاگ اب آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے مگر دل سے اوجھل نہیں ہوگا۔
    اگر وہ اپنا تازہ کلام ارسال کریں تو میں اس بلا گ میں ، نہیں تو ایک تازہ بلاگ میں پیش کردونگا۔
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  16. زوار قمر عابدی صاحب ، سعودی عرب کو “ دیارِ غیر “ سمجھتے ہیں ، تعجب ہے ، وہاں جانے کے لیے تو دنیاکے تمام مسلمان بیتاب رہتے ہیں اور شائد عربوں کے بعد اردو زبان بولنے اور لکھنے والوں کی تعداد کافی سے زیادہ ہے۔
    اگر وہاں کا اردو ماحول مغرب کے ممالک کے اردو ماحول سے کم ہے تو پھر یقینی طور پر زوار قمر عابدی صاحب کی اردو زبان کی تشنگی مٹانے میں کافی تکلیف ہوتی ہوگی ۔۔
    “دیار ِ غیر “ میں رہنے کے باوجود وہ اپنی شاعری اور اپنی تحقیق کے ذوق کو پورا کررہے ہیں ایک قابلِ ستائش بات ہے ۔

  17. مُحترم منظور قاضی صاحب،
    آپ کا کہنا بجا ہے ، کہ یہاں عرب میں اُردو لکھنے اور بولنے والوں کی تعداد ےورپ ک مُقابلے میں کافی ذیادہ یے ، اور یھاں کا ادبی ماحول یورپ ک مُقابلے میں کافی بہتر ہے ، مگر قاضی صاحب آگے بڑھنے کی جُستجو ، اور ذیادہ حاصک کرنے کی جُستجو کیلے ، یہ خطہ اور یہ ماحول بھی ناکافی ہے، اور دوسرا ہم یہاں حصولِ رزق کیلے بھی کوشاں ہیں ، رزق کی تلاش اور جسم کو جُلسا دینے والی گرمی ، دیارِ غیر کا احساس ضرور کرواتی ہے .
    آپ کا کہنا بجا کہ ہر مُسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ ، بیت اُللھ، اور روضہء رسول کی زیارت کرے ، عمرے اور حج کی سعادت حاصل کرے ، دے ، یہ تشنگی ہم میں بھی ہے ، اور رب اُلعزت نے جانے کتی بار یہ سعادت نصیب بھی کی ، سکوں کہ چند لمحے ہمیں بس وہاں ہی مُیسر آتے ہیں ……..مگر …. یہ بھی سچ ہے کہ فکرِ روزگار میں یہ خطہ بھی ہمارے لیے دیارِ غیر ہی ہے…….. مُحتاجِ دُعا……

  18. میری دلی دعائیں اور نیک تمنائیں زوار قمر عابدی صاحب اور ان جیسے تمام پاکستانیوں کے ساتھ ہیں جو “ رزق کی تلاش“ میں کوشاں ہین اور اسکے لیے “دیارِ غیر میں “ جسم کو جھلسانے والی گرمی“ برداشت کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اردو ادب اور شعر و شاعری کے ذوق کی بھی تسکین کسی نہ کسی طرح کررہے ہیں۔
    سنتے ہیں کہ سعودی عرب میں ہی کہیں ( شائد مکہ میں ) اردو زبان کے ماہر نعیم الحامد صاحب جو طارق ہاشمی صاحب ( مقیم ڈلس ، ٹیکسس ) کے استا د ہیں ، رہتے ہیں ۔ شائد انکی قربت سے زوار قمر عابدی صاحب کچھ فیض حاصل کرسکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔
    سعودی عرب کے مشاعروں کا حال اخباروں میں پڑھکر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں اردو کی کافی پذیرائی اور خدمت ہورہی ہے۔ جزاک اللہ
    ۔۔۔۔
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  19. اگر زوار قمر عابدی صاحب اس بلاگ میں لکھی ہوئی عرشی صاحبہ کی نظموں پر بھی اپنا تبصرہ اس بلاگ میں شایع کردیںاور ان نظموں میں بھی کوئی صنعتی شاعری نظر آئے تو اس کا بھی تذکرہ کردیں تو ہم سب ان کے تعمیری ارشادات سے مستفیض ہونگے۔
    پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ اس بلاگ مں عرشی صاحبہ کی چھ نظمیں موجود ہیں ان کے عنوان یہ ہیں ؛
    1۔ نفسِ اماّرہ اور خوف ِ خسارہ
    2۔ نعت : اے شہِ کون ومکاں
    3۔ دعا کی بھوک
    4۔ ہدیہ
    5۔ تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں
    6۔ اعتکاف کے دس دن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  20. مُحترم منظور قاضی صاحب،
    دُعاوں کا شُکریہ ، قاضی صاحب میں عرشی آپا کی شاعری پر ضرور تبصرہ کروں گا مگر میرے پاس 6 یا 7 اور میں نے ، پاکستان جانا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ جتنا ذیادہ ہو صنعتی بلاگ کو مُکمل کرو، اُمید ہے میری مصروفیات اور مجبوری کا اندازہ کرتے ہوے ،آپ مُجہ سے تعون کرئں گے . مگر وعدہ ہے آپ کے ھُکم کی تعمیل ہو گی …….. مُحتاجِ دُعا…….

  21. عرشی صاحب نے آج اپنی ایک آزاد نظم “پنسل اور انسان “ ( ماخوذ ) ارسال کی ہے مگر میرے کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا کلام شاہین رضوی صاحبہ یا عبدالمناف غلزئی صاحب کو بھی بھجوادیں تاکہ وہ اس بلاگ میں شایع ہوجائے۔
    میں شائد اپنے کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے یہ نظم مکمل نہ کرسکوں ۔ اگر یہ ادھوری رہ گئی تو امید کی اسے عرشی صاحبہ شاہین رضوی صاحبہ کو بھجوادینگی تاکہ وہ اس بلاگ میں شایع کردیں۔
    پنسل اور انسان
    ( ماخوذ)
    ازارشاد عرشی ملک ۔ اسلام آباد

    پنسلوں کے ایک کاریگر نے پنسل سے کہا
    آخرش بازار میں جانے کا لمحہ آگیا
    جا کے اب میدان میں جوہر دکھا
    تو مری تخلیق ہے تجھ سے محبت ہے مجھے
    بادلِ ناخواستہ کرتا ہوں پر ، تجھ کو جدا
    کچھ نصائح تجھ کو کرتا ہوں مگر قبل از وداع
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بہتریں پنسل ہوگر بننا تجھے
    تجھ پہ لازم ہے کہ تو یہ پانچ باتیں جان لے
    صدقِدل سے پھر عمل کرنے کی ان پر ٹھان لے
    گر ہے کچھ دنیا میں کرنے کی طلب
    خود کودے دینا کسی کے ہاتھ میں
    عاجزی سے ، ہوکے مخلص، با ادب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور پھر وقتاً فوقتاً تجھ کو ہے
    شارپنر سے روز و شب چِھلنا ضرور
    ایک پنسل کو یہ دکھ سہنا ہی ہے
    اس کی نوک اس کے لیے گہنا ہی ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    ہاں غلط گر تجھ سے کچھ لکھا گیا
    اس کی تو اصلاح کرنا لازماً
    ۔۔۔۔۔
    سکہّ و لکڑی ہے جسمِ ظاہری
    اصلیت ہے دور باطن میں چھپی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    غور سے سن لے یہ نکت آخری
    اس میں پوشیدہ ہے علم و آگہی
    جس بھی کاغذ کو چھوئے تو جانِ من
    اس پہ تیرا نقش اُترے لازماً
    اس کو مل جائے انوکھا بانکپن
    ایک پنسل کی یہی پہچان ہے
    ایک پنسل کی یہی تو شان ہے
    ۔۔۔۔۔
    نام پنسل کے تھا عرشی جو پیام
    اب وہی پیغام ہے انساں کے نام
    کام کرسکتا ہے تُو بے شک بڑے
    اپنی ضد پہ گر نہ ہرلحظہ اڑے
    سونپ دے خود کو خدا کے ہاتھ میں
    کہ سمعنا اور اطعنا ساتھ میں
    ۔۔۔۔
    اور پھر وقتاً فوقتاً جھیلنا
    کچھ نہ کچھ محنت ، مشقت ، ابتلا
    ابتلا انسان کا ہیں شارپنر
    جس قدر چِھلتا ہے ، جاتا ہے نکھر
    مشکلیں مضبوط کردیں گی تجھے
    گرمئی ایماں سےبھر دیں گی تجھے
    ۔۔۔۔۔
    تیرے ہاتھوں میں ہے توبہ کا “ ربر“
    جو مٹادے گا خطائیں بیشتر
    ۔۔۔۔
    ظاہری صورت تری گو، تن میں
    اصلیت تیر مگر باطن میں ہے
    ۔۔۔۔
    آخری نکتہ بھی سُن لے جانِ جاں
    تجھ میں پوشیدہ ہے طاقت کا جہاں
    تُو کہ جن لوگوں کے بھی ہو درمیاں
    مہرباں تجھ پر ہوں یا نامہرباں
    چھوڑنا ان سب پہ ہے اپنا نشاں
    عزم کی بننا ہے تجھ کو داستاں
    ہے یہی پیارے ترے شایانِ شاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خدا کا شکر ہے کہ میریے کمپیوٹر نے مجھے مایوس نہیں کیا اور یہ نظم اس بلاگ میں شایع کرنے دیا۔
    اگر کمپوزنگ کی کوئی غلطی ہوگئ ہو تو امید کہ عرشی صاحبہ درست کردینگی۔
    ایک بات عرشی صاحبہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ نظم جسے وہ ماخوذ کہ رہی ہیں تو اس کو کس کے مضمون یا کلام سے اخذ کیا گیا ہے۔ اگر وہ بھی معلوم ہوجائے تو پڑھنے والوں کی معلومات میں اضافہ ہوجائے گا۔
    عرشی صاحبہ کی عنایات اور نظرِ کرم کا مشکور ہوں ۔
    “وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم“
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ : کمپیوٹر کے ماہرین سے پوچھنا ہے کہ یہ error code 1000007f کیا بلا ہے جو میرے کمپیوٹر کو بار بار توڑ دیتی ہے اور بار بار پھر سے اسٹارٹ کردیتی ہے ۔ crash and start and crash and start کی وجہ سےمیں میرا کمپیوٹر بھروسہ کے قابل نہیں رہا ۔ کیا اس کا کوئی آسان علاج ہے یا پھر نیا کمپیوٹر خردیا جائے۔
    اگر میں تسلسل کے ساتھ عالمی اخبار کے بلاگوں میں حصہ نہ لے سکوں تو پڑھنے والے میری غیر حاضری کی وجہ سمجھ جائینگے ۔
    کسی کا شعر ( شائد عبدالعزیز خالد مرحوم کا ہے )
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگا
    خادم :
    منظور قاضی
    از جرمنی
    ۔۔۔۔۔۔
    زوار قمر عابدی صاحب خوش رہیں اور اپنے وطن پاکستان خیریت سے جائیں اور خیریت سے پھر سعودی عر ب ( دیارِ غیر ) واپس آجائیں ۔ جہاں بھی رہیں اردو زبان کی خدمت کرتےرہیں ۔
    ہم سب کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
    ۔۔۔۔۔

  22. صفدر ھمدانی صاحب کا شکریہ
    اس نظم کو اس بلاگ میں رہنے دیا جائے تو بہتر ہے ، مگر اس پر تبصرے صرف اور صرف شاہین رضوی صاحبہ کے متعلقہ بلاگ میں کیے جائیں تو اچھا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بلاگ اب اختتام کو پہنچا ۔
    مگر عرشی صاحبہ کے ارشادات کے لیے یہ بلاگ ہمیشہ کھلا رہے گا۔
    فقط:
    منظور قاضی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *