ہڈی

لاہور پریس کلب میں جو بھی ممبر ہے وہ حکومت کی طرف سے نوازے گئے 10 مرلہ کے پلاٹ کا حق دار کہلاتا ہے۔ لیکن کچھ ممبرز ایسے بھی ہیں جنہوں نے پلاٹس لینے سے انکار کر دیا جن میں حسین نقی صاحب، ایم اے نیازی صاحب اور علیم عثمان صاحب جیسے صحافی شامل ہیں حسن نقی صاحب ایم اے نیازی صاحب تو صاحب ثروت ہیں لیکن علیم عثمان صاحب کے پاس تو لاہور میں اپنا گھر بھی نہیں ہے۔ میں نے اس سفید پوش جرنلسٹ سے کہا۔ علیم صاحب کل آپ کا بیٹا آپ کو برا بھلا کہے گا کہ میرے باپ نے مجھے ایک پلاٹ تک نہیں بنا کر دیا۔ علیم صاحب نے کہا کہ نادیہ آپ کے والد صحافی ہیں؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ تو کہنے لگے کیا وہ کماتے نہیں؟ میں نے کہا  جی کماتے ہیں یہاں تک کہ ان کو سانس کی تکلیف ہے اس کے باوجود وہ میڈیکل سٹور پر جانا نہیں چھوڑتے۔ علیم صاحب کہنے گلے کہ وہ سانس کی تکلیف کے باوجود اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے میڈیکل سٹور کھولتے ہیں۔ وہ بھی تو اس قوم کی خدمت کر رہے ہیں کیا ان کا حق نہیں، ان کو بھی پلاٹ ملے۔

یہ تو حکومت نے صحافیوں کو ہڈی ڈالی ہے کہ ان کے خلاف نہ لکھیں۔ میرا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوتا جنہیں ہڈی ڈال کر اپنا الو سیدھا کیا جائے۔ اگر میں صحافی ہوں تو اپنے ادارے سے اس کام کی تنخواہ لیتا ہوں۔ اگرحکومت کو دینا ہی تھا تو ہم صحافی لوگ مل کر کچھ جگہ خریدتے، حکومت فقط اتنا کرتی کہ اس پر ڈیولپمنٹ چارجز کم کر دیتی یا نہ لیتی۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ سارا پلاٹ ہی مفت بانٹ دیا جائے۔ میں اسے حرام تصور کرتا ہوں اور اسے اپنے قلم کی موت سمجھتا ہوں۔ اگر میرا بیٹا مجھ سے یہ سوال کرے گا کہ ابو آپ نے پلاٹ کیوں نہیں لیا تو میں کہ دوں گا کہ تیرا باپ پروردگار کی اس اعلٰی مخلوق کا نمائندہ ہے جسے ہڈی ڈال کر اپنا الو سیدھا نہیں کیا جا سکتا، میرا ضمیر مجھے اس گناہ کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔

21 thoughts on “ہڈی”

  1. السلام علیکم
    ایسے ہی مردان حر کی وجہ سے ہی تو پاکستان کی بقا ہے، ایسے مستانے آپ کو زندگی کے ہر شعبے مین مل جائینگے ، ہاں مگر کم کم ۔
    آصف احمد بھٹی

  2. میں حیران ہوں کہ آج بھی دنیا میں علیم عثمان صاحب جیسے لوگ موجود ہیں،
    جو حرام کے ایک ایک قطرہ سے بچ کر جنت میں اپنے لیے پلاٹ بلکہ جاگیریں خریدتے جا رہے ہیں،

    لیکن میں اس پر بھی حیران ہوں کہ نادیہ بہن جیسی ہستیاں بھی موجود ہیں جو ایسے ہیرے شناخت کر لیتی ہیں،
    ورنہ عام لوگوں کی زبان میں علیم عثمان صاحب جیسے لوگ تو شاید دیوانے ہی کہلائیں گے.

  3. مناف بھائی بے شک آپ نے سچ کہا .. ایسے لوگو کی تلاش کے لئے بھی نظر چایئے .. اللہ پاک نادیہ اور علیم عثمان صاحب کی یہ عبادت قبول فرمائے ..آمین

  4. اب سوالات یہ ہیں کہ :
    1 ۔ کیا باقی کے تمام صحافی جو لاہورپریس کلب کے ممبر ہیں اور جو ‘حکومت کی طرف سے نوازے گئے 10 مرلہ کے پلاٹ کا حق دار “ کہلاتےہیں ، وہ سب اپنا ضمیر کا سودا کرکے حاکم ِ وقت کی طرفداری ہی میں اپنی توانائی صرف کرتے ہیں؟
    اور یہ سمجھتے ہیں کہ :
    “ اوریہ تو حکومت نے صحافیوں کو ہڈی ڈالی ہے کہ ان کے خلاف نہ لکھیں۔“

    2۔ کیا علیم عثمان صاحب، حسین نقی صاحب اور ایم اے نیازی صاحب ، ان صحافیوں کے نام بھی اس “حق گو اور بے باک “ بلاگ میں شایع کرسکتےہیں جنھوں نے “ہڈی “ کے بدلے اپنا ضمیر بیچ دیا ہے اور وہ صرف حکومت کی طرفداری ہی میں لکھا کرتے ہیں تاکہ انکے پلاٹ واپس نہ لے لیے جائیں ؟ ۔
    مزید سوالات بھی جوابات طلب ہیں :
    3۔ لاہور پریس کلب کے ارکان کو مفت پلاٹ دینے کا منصوبہ کس کے دور میںاور کس کی کاوشوں کے باعث شروع ہوا؟

    4۔ کیا پلاٹ کے قبول کرتے وقت اس معاہدے پر دستخط کرنا پڑتا ہے کہ اس “ ہڈی “ کی بدلےمیں اسے حکومتِ وقت کی طرفداری کرنا پڑے گی ورنہ یہ “ہڈی “ واپس لے لی جائےگی؟

    5۔ کیا ہر ایک لاہور کے صحافی کو لاہور پریس کلب کا رکن بننا ضروری ہے؟
    6۔ کیا ان چند مشہور اور مانے ہوئے صحافیوں کے نام بھی یہاں لکھے جاسکتے ہیں جو لاہور میں رہتے ہوئے بھی لاہور پریس کلب کے ممبر نہیں ہیں ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔

    حلال کی کمائی ضمیر کو آزاد ضرور رکھتی ہے ۔
    تعجب کی بات ہے کہ لاہور پریس کلب کی انتظامیہ نے اپنے ارکان کو اس شش وپنج میں ڈالدیا کہ وہ اس “ہڈی “ کے بدلے صرف اور صرف حکومتِ وقت کی حمایت ہی میں لکھا کریں ۔
    میرے خیال میں علیم عثمانی صاحب اور حسین نقی صاحب اور ایم اے نیازی صاحب اپنے ضمیر کو آزاد رکھتے ہوئے اس “ اعزاز “ اور “ اس “نعمت“ کو قبول کرسکتے ہیں (صرف اس شرط پر کہ انکو اپنے ضمیر کی آواز کے اظہار پر آزادی ہو ۔) اور اپنے اوپر نہ سہی مگر اپنی اولاد اور اپنے متعلقین پر احسان کرسکتے ہیں۔ )
    ۔۔۔۔
    بہرحال :
    میں نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے اس بلاگ کو انکے پچھلے تمام بلاگوں کی طرح قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں ۔ وہ جو کچھ بھی لکھتی ہیں ایک انوکھے انداز میں لکھتی ہیں اور پڑھنے والوں کے ذہنوں کو غور و فکر میں مصروف کردیتی ہیں ۔
    اللہ انکی صحافتی قابلیت میں مزید توانائی اور اثر دے ۔ آمین
    ۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  5. نادیہ بی بی اس ہڈی کی ابتدا ویسے تو پاکستان کے اولیں فوجی آمر جنرل ایوب خان نے کی تھی لیکن یہ بہت محدود پیمانے پر تھی لیکن اسے باقاعدہ شکل پیپلز پارٹی کے شہید اول ذوالفقار علی بھٹو نے دی تھی اور مولانا کوثر نیازی کو اس کام کے لیئے استعمال کیا تھا اور اسوقت عبداللہ ملک جیسے جید صحافی بھی ایسے پلاٹوں سے فیض یاب ہوئے تھے. میں نے اگر اسوقت کچھ صحافیوں کے نام لکھے جنہوں نے بڑے بھٹو کے زمانے میں کیسے کیسے پلاٹ اور کس قیمت میں لیئے تو مجھے عدالتوں میں نام نہاد ہتک عزت کا سامنا کرنا پڑے گا جسکی مجھ غریب انسان میں سکت نہیں. یہ بھی یاد رکھیں کہ ہتک عزت کا مقدمہ اپنے ہاں وہی کرتا ہے جسکی کوئی عزت ہوتی ہی نہیں. صاحب عزت تو ایسا کوئی کام کرتا ہی نہیں. حسین نقی صاحب، ایم اے نیازی صاحب اور علیم عثمان صاحب جیسے اور بھی لوگ ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنکی استوار کردہ بنیادوں پر آج کے پاکستان کی صحافت کی عمارت کھڑی ہے ورنہ یہ کب سے دھڑام ہو چکی ہوتی.
    ایک بات کہوں اپنے وطن میں دو شعبے ایسے ہیں جو دنیا بھر میں اعلیٰ شعبوں میں آتے ہیں اور جن میں کام کرنے کے لیئے انسان کو اس شعبے میں مہارت حاصل کرنی پڑتی ہے اور ڈگری لینی ہوتی ہے. ایک ہے ہسپتال میں نرسنگ اور دوسرا صحافت. لیکن پاکستان میں یہی دو شعبے ذلیل ہوئے ہیں. گھروں میں جو بچے پڑھائی کی طرف راغب نہیں تھے ان میں سے لڑکیوں کو نرس بنا دیا اور لڑکوں کو محلے کے چچا کو کہہ کر صحافی بنا دیا اور آج ذرا انہی دونوں شعبوں کی حالت دیکھ لیں.
    میں صرف یہ سوچ رہا ہوں آپ نے حسین نقی صاحب کو صاحب ثروت کہا ہے تو کس بنیاد پر. کیونکہ میں تو ستر کے عشرے سے لیکر کوئی دو سال پہلے تک کے حسین نقی کو جانتا ہوں اور انکی اہلیہ سے بھی واقف ہوں جو نوابوں کے خاندان کی ہونے کے باوجود حسین نقی کے ساتھ سڑکوں پر پولیس کے ڈنڈے کھاتی رہیں اور گھر سے جو کچھ لیکر آئی تھیں وہ ”پنجاب پینچ” کی اشاعت اور حسین نقی کے مقدموں کی نزر ہو گیا.
    بات ہو رہی تھی ہڈی کی نہیں بلکہ ”کتے کو ہڈی” کی. بھٹو صاحب نے تو یہاں تک کیا کہ اسلام آباد سی ڈی اے کے اسوقت کے سربراہ کو صحافیوں کو کرپٹ کرنے کے احکامات دیئے اور پھر ایسے صحافیوں کی فہرست بھی تیار کی جسے صحافیوں کو بلیک میل کرنے کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا اور ایک بار تو ایسے صحافیوں کی فہرست قومی اسمبلی میں پڑھ کر سنائی بھی گئی تھی.
    اسی بدعت کو ایک اور آمر جنرل ضیاالحق نے بھی خوب خوب استعمال کیا اور سی ڈی اے کے اسوقت کے سربراہ ملتان کے گردیزی صاحب کے ذریعے جنگ اور نوائے وقت کے اسی کے عشرے کے کچھ صحافیوں کو ”گرین بلیٹ” کاٹ کر اسلام آباد میں پلاٹ دیئے گئے. یہی نہیں نادیہ بی بی،ان صحافیوں کو کرپٹ کرنے کے ایسے ایسے طریقے ہیں کہ زبان پر لائے بھی نہیں جا سکتے اور اس کام میں ملک کی خفیہ ایجنسیاں بھی استعمال ہوئی ہیں.
    میرے ساتھ اسلام آباد راولپنڈی کے کچھ نامی گرامی صحافی ایسے تھے جو صدر اور وزیر اعظم کے ہر دورے میں انکے ساتھ جاتے تھے لیکن سینکڑوں ایسےتھے جو صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ مری بھی نہیں جا سکے.
    میں اسوقت نام نہیں لے سکتا ایسے صحافیوں کے جنکو میں ستر اور اسی کے عشرے میں اپنی گاڑی میں لیکر پھرتا تھا لیکن آج ان کے پاس پجیرو اور لینڈ کروزر ہیں.
    میں کوئی بڑا صحافی نہیں لیکن اللہ پاک کے کرم اور اپنے ماں باپ کی دعاؤں کے صدقے ہم میاں بیوی ایسے لوگوں میں سے ہیں جنکی 5 مرلہ زمین بھی پاکستان میں نہیں.حالانکہ ایسی”ہڈی” کی پیشکش کے کئی واقعات ہیں.
    ایک واقعہ اور بھی آن ریکارڈ رکھتا چلوں کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد بہت سے لوگوں کو ایوب خان نے اعزازات دیئے. میرے والد مصطفیٰ علی ھمدانی کو بھی جنگ کے دوران انکی خدمات پر حسن کارکردگی کا تمغہ دیا گیا جو انہوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ یہ ملازمت پر میرا کام تھا اور مجھے ان دنوں کی تنخواہ ملی ہے. اس لیئے یہ کام میرے فرائض میں شامل تھا.
    نادیہ بی بی اسی ہڈی کا ایک واقعہ انہی بلاگوں میں یا عالمی اخبار کے کسی کالم میں لکھا ہوا کہ……ایک بادشاہ نے جب کسی فقیر کو انعام دینے کی ضد کی تو فقیر نے ایک ”ہڈی” بادشاہ کو دیکر کہا کہ اس کے برابر تول کر دے دو. لیکن جب اس ہڈی کے برابر سب سونا اور ہیرے جواہرات اور باقی سلطنت بھی تول دی گئی اور ہڈی کا وزن پورا نہ ہوا تو بادشاہ نے ہاتھ جوڑ کر فقیر سے پوچھا تو فقیر نے بتایا کہ یہ لالچ کی ھڈی ہے جسکا وزن کبھی پورا نہیں ہوتا.
    یقین کریں آج بھی حق حلال کا رزق کھانے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے لیکن یہ حرام کی ہڈی کھانے والے ان سفید پوشوں پرظاہری طور پہ غالب آ چکے ہیں.
    ایسےواقعات کا بیان ہوتا رہنا چاہیئے تا کہ نیکی کی تبلیغ ہوتی رہے ورنہ برائی اور بدی کا آہنگ تو یوں بھی بلند ہوتا ہے

  6. بابا کے اس شاندار تبصرے کے بعد مجھے زوار قمر عابدی بھائی کے اشعار یاد آگئے جو انہوں نے کسی ایسے ہی موقعہ پر کہے ھونگے
    طائرِ دل جو تیرا دھیان پکڑ لیتا ہے
    چونچ میں تختِ سلیمان پکڑلیتا ہے

    میرے اندر بھی کوئی شخص ہے رہتا ایسا
    جھوٹ بولوں تو گریبان پکڑ لیتا ہے

  7. قبلہ ہمدانی صاحب ! آپ کا تبصرہ ہمیشہ کی طرح شاندار جاندار اور زبردست ہے اور ہونا بھی چاہیے، قبلہ اگر گستاخی نہ سمجھیں تو اسی تبصرے میں تھوڑی سی تفصیل شامل کرنا چاہوں گا.

    پہلی بات یہ کہ وطنِ عزیز میں صحافت کے شعبہ میں یہ کتوں کو ہڈی ڈالنے کی تاریخ کب سے شروع ہوئی یہ تو آپ نے فرما ہی دیا لیکن صرف یہی شعبہ ہی تو نہیں جہاں یہ رسم ادا کی جارہی ہے اور یہ سب کچھ صرف ہمارے پیارے وطن میں ہی تو نہیں ہو رہا . . .
    . . . یہ رسم بہت پرانی ہے، شیطان نے ہمیشہ لالچ دے کر انسانوں کو بہکایا ہے، کبھی بنگال کے جعفر و دکن کے صادق ہمیں یہ ہڈیاں وصول کرتے نظر آئیں گے، اس سے پہلے مثلاً امام حسن علیہ السلام کی فوج کے سپاہی سے لے کر جرنیل تک ہم کو بکتے دکھائی دیں گے وغیرہ وغیرہ، پوری تاریخ ہی ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے.

    دوسری بات یہ عرض کرنی چاہتا ہوں کہ ایسے معاملات میں کبھی بھی کوئی دستاویز تیار نہیں کی گئی (وہ تو ہڈی ڈالنے والے اور وصول کرنے والے دونوں ہی کی بددیانتی کا ثبوت ہوجائے گا)، نہ قابیل ثابت کر سکا ہوگا کہ کس لالچ کی بنا پر بھائی کو قتل کر بیٹھا، نہ ہی عیسٰی علیہ السلام کی مخبری کرنے والے کے پاس ان سنہری اشرفیوں کے وصول کرنے پر کسی معاہدہ کی نقل موجود تھی (دیکھیے The Passion of the Christ ضرور دیکھیے) اور نہ ہی کسی بھی دوسرے ننگِ دیں ننگِ ملت اور ننگِ وطن نے ایسے کسی معاملہ میں کہیں دستخط ثبت کیے. حرامخوری کے معاہدے ہمیشہ لکھت پڑھت کے بغیر ہی طے ہوتے آئے ہیں.

  8. زوار قمر عابدی صاحب سے عرض ہے کہ انکے اس شعر میں “بولوں “ کی بجائے “ سوچوں “ کیسا رہے گا؟
    میرے اندر بھی کوئی شخص ہے رہتا ایسا
    جھوٹ “ سوچوں“ تو گریبان پکڑلیتا ہے ۔
    بات یہ ہے کہ “بولنے “ کے بعد اگر اندر کا شخص ( یعنی : ضمیر ) گریبان پکڑا کرے تو فائدہ کیا ۔ تیر کمان سے تو نکل گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جشنِ نوروز مبارک

  9. السلام علیکم
    احبابِ محفل ، یقینا زرد صحافت کی ( اعتدال پر رہتے ہوئے ) جس قدر مزمت کی جائے کم ہے مگر ہم لوگ تو شاید ذاتی تنقید بلکہ اِس سے بھی کچھ آگے بڑھ گئے ہیں صحافی حضرات بھی ہماری طرح انسان ہی ہوتے ہیں یقینا وہ بھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں اور یقینا سیاسی وابستگی اُن کی تحریروں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جو کہ یقینا نہین ہونی چاہیے ، ہمیں اخلاقی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے مزمت تو ضرور کرنی چاہیے بلکہ شدید مزمت کرنی چاہیے مگر اعتدال میں رہتے ہوئے اور احتساب کے لیے اُن کے ضمیر کافی ہیں ، باقی رہے نام اللہ کا ۔
    آصف احمد بھٹی

  10. نادیہ بخاری
    چند صحافیوں کو چھوڑ کر سیکڑوں ایسے ہیں جن کے قلم کی نوک ، کاٹ اور سچائی کاحکومت نوٹس لیتی ہےنہ بیوروکریسی۔۔
    ان سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں حالانکہ یہ لوگ اپنی اپنی جگہوں پر حق سچ لکھنےمیں مصروف ہیں انہیں کسی نے روکا نہ ٹوکا بس وہ اپنی دھن میں مگن صحافت نبھائے جارہےہیں ۔۔ان میں سے بہت ساروں کےپاس گھرنہیں ہے، درجنوں ایسے ہیں جو ایک عمر اس دشت کی صحرائی میں بسرکرنےکےباوجود بھی اپنے بیوی بچوں کو چھت نہیں دے سکےاورنہ اہل خانہ کےاس خوبصورت خواب کے مستقبل میں قلم بابو کی کمائی سے پوراہونے کی امید ہے۔۔۔
    ایسے میں نادیہ بخاری اگران لوگوں کو پلاٹ مل جاتےہیں تواور وہ لےبھی لیتےہیں تو کیاحرج ہے
    ان کےقلم کو تو کسی نے نہہیں روکا
    ان کا ضمیر، اندرکا انسان تو مطمئن ہےنا
    پریس کالونیاں اب ہر بڑے شہرمیں موجودہیں اورکئی شہروں میں ان کی تعمیرکےمنصوبے بنائے جارہےہیں
    اگرغریب ، مستحق صحافیوں کے بیوی بچوں کو اسی بہانے چھت مل سکتی ہےتوکیاحرج ہے؟
    ہاں جو صحافی حکومت کےساتھ کھیل کھیلتے ہیں انہیں ان پلاٹوں کی ویسے بھی ضرورت نہیں رہتی وہ تو
    کروڑوں اربوں کی گیم کھیل رہےہوتےہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ اتنے حریص ہوتےہیں کہ صحافیوں کے چھوٹے چھوٹے
    حق بھی دل وجان سے چھین کراستعمال کرنےسےدریغ نہیں کرتے۔۔۔

  11. السلام علیکم
    ناصر بھائی ، میں آپ کی بات سے متفق ہوں ، اور محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ اور تمام محترم تبصرہ نگاروں احباب سے نہایت ہی ادب سے اختلاف کرتے ہوئے صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی شخص کا حکومت وقت سے کسی بھی طرح کی مراعات لینے سے اُس کے بارے میں غلط رائے نہیں قائم کر لینی چاہیے ، ہاں باصول لوگوں کو یقینا سراہنا چاہیے مگر کسی کی بھی کردار کشی کچھ مناسب بات نہیں ، مزمت البتہ کی جا سکتی ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  12. آصف احمد بھٹی صاحب کا عجیب و غریب تبصرہ پڑھنے کے قابل ہے:
    انہوں نے صرف ایک مبصر کی بات سے اتفاق کی اور اپنی انفرادیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہدیا کہ :
    “ محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ اور تمام محترم تبصرہ نگاروں احباب سے نہایت ہی ادب سے اختلاف کرتے ہوئے صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی شخص کا حکومت وقت سے کسی بھی طرح کی مراعات لینے سے اُس کے بارے میں غلط رائے نہیں قائم کر لینی چاہیے ، ہاں باصول لوگوں کو یقینا سراہنا چاہیے مگر کسی کی بھی کردار کشی کچھ مناسب بات نہیں ، مزمت البتہ کی جا سکتی ہے ۔“
    آصف احمد بھٹی“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی صاحب نے صرف ناصر زیدی صاحب کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ، اس بلاگ کی بلاگ نگار خاتون اور ان کے ساتھ ساتھ تمام محترم تبصرہ نگاروں جن میں صفدر ھمدانی صاحب ،ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ، عبدالمناف غلزئی صاحب اور میں بھی شامل ہوں کے تبصروں سے اختلاف کرتے ہوئے ان سب کو تنبیہ کی اور تادیباً کچھ غیر دانشمندادنہ جملے لکھدیے کہ حکومت وقت سےکسی بھی طرح کی مراعات لینے سے اس ( صحافی ) کے بارے میں “ غلط رائے قائم نہیں کرنا چاہیے “ اور “کسی کی کردار کُشی نہیں کرنا چاہیے “ ہاں یہ بھی کہدیا کہ “مزمت البتہ کی جاسکتی ہے“ ۔
    آصف احمد بھٹی صاحب نے ایک آمر کی طرح اپنی بات تو کہ دی مگر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے نہ کوئی مثال دی اور نہ یہ کہا کہ کس مبصر نے کس صحافی کے بارے میں غلط رائے قائم کی؟
    ۔۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی صاحب سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ و ہ اپنی تادیبی تبصرے پر اظہارِ ندامت کریں اور یا تو مثالیں دے کر اپنی بات کو ثابت کریں
    ۔۔۔۔۔
    فقط
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  13. صفدر ھمٰدانی صا حب یہی تو رونا ہے کہ بھٹو صا حب نے جن صحا فیوں کو پلاٹ بانٹے تھے وہ دوبارہ 10 ۔10 مرلے کے پلاٹ لے رہے ہیں۔
    اور میں اپنے دیگر ساتھیوں سے یہی کہنا چاہوں گی کہ یہ میری تحریر نہیں ہے ایک شریف سے صحافی کی ضمیر کی اواز ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کون کس حکومت سے کس حد تک فائدہ اٹھا رہا ہے مجھے ایک صحافی کی بات اچھی لگی میں نے اپ سے شیئر کی

  14. السلام علیکم
    محترم منظور قاضی صاحب ‘ میں سمجھتا ہوں کہ اختلاف رائے کوئی بری چیز نہیں ، ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے ، میری نظر میں ہمیشہ تمام لوگ محترم ہی رہتے ہیں چاہے مجھے اُن سے کتنا ہی اختلاف ہو اور اختلاف کے باوجود میں اُنہیں محترم ہی کہتا ، سمجھتا اور لکھتا ہوں ، اپنے پچھلے تبصرے میں بھی میں نے سب محترمین سے ادب کے ساتھ اختلاف کیا تھا اور ویسے بھی میں نے کبھی دانشمندی کا دعوا نہیں کیا میں تو محض آپ سب محترمین سے کچھ سیکھنے کی خوائش میں چند جملے لکھ دیتا ہوں ، جو یقینا غیر دانشمندانہ ہی ہوتے ہیں آئیندہ کوشش کرونگا کہ کچھ نہ لکھوں یا کم از کم غیر ضروری طور پر کچھ نہ لکھوں پھر بھی اگر میرے کسی جملے سے کسی بھی محترم شخصیت کا دل دُکھا ہوں تو میں آپ سب سے دست بدستہ معزرت چاہتا ہوں ۔
    آصف احمد بھٹی

  15. آصف بھائی جیسے کہ آپ نے خود لکھا کہ ہر شخص کورائے کا حق حاصل ہے تو یہ بھی تو منظور بھائی کی رائے ہی تو ہے ۔ یعنی انہوں نے جو سوچا وہی لکھا ۔ ظاہر ہے کہ یہ رائے نہ تو سب لوگوں کی ہے اور نہ ہی اخبار کی انتظامیہ کی ہے ۔ لہذا کسی ایک فرد کی رائے پر یہ کہنا ۔۔۔۔ آئیندہ کوشش کرونگا کہ کچھ نہ لکھوں یا کم از کم غیر ضروری طور پر کچھ نہ لکھوں ۔۔۔۔ زرا جلدی کا اور سوچے سمجھے بغیر کئے کا فیصلہ لگتا ہے ۔

    ویسے تو بھائی لکھنا یا نہ لکھنا ہر فرد کی اپنی صوابدید ہے لیکن کسی مبصر کی رائے سے حد درجہ متاثر ہو کر ایسا فیصلہ کر لینا صرف پاکستان کی کابینہ ہی کر سکتی ہے ۔۔۔صد شکر کہ جس کے رکن آپ نہیں ہیں ۔۔

    اور ہاں ایک بات اور ۔۔ آپ کا یہ کہنا کہ آپ نے دانشمندی کا دعوی کبھی نہیں کیا درستگی کا طالب ہے ۔۔ شاید آپ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں نے کبھی دانشوری کا دعوی نہیں کیا ۔ دراصل دانش یا عقل ہی وہ جوہر نایاب ہے جو اللہ کریم نے اپنی بہت سی مخلوق کوعطا کی ہے ۔۔ اور انسان کو تو بلخصوص سب سے زیادہ عقل سلیم سے نوازا ہے ۔

    اس لئے دانشمندی کا دعوی کوئی بری بات نہیں بلکہ اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت کی شکرگزاری ہے جو اس نے آپ کو عطا کی ہے ۔

  16. آصف احمد بھٹی صاحب کا یہ اعتراف میں قبول کرتا ہوں کہ وہ “ محض کچھ سیکھنے کی خواہش میں چند جملے لکھتےدیتے ہیں ، جو بقول انکے : “ یقینا ً غیر ادانشمندانہ ہی ہوتے ہیں “
    میں انکی اس بات کو مانتا ہوں کہ : “ اختلافِ رائے کوئی بری چیز نہیں ، ہر شخص کو اپنی رائے“ رکھنے“ کا حق ہے“
    مگر ان سے یہ بھی کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ رائے رکھنا اور اس رائے کا “ اظہار “ کرنا دو مختلف رویے ہیں ۔
    رائے کا “ اظہار “ اگر دلیل اور مثالوں کے ساتھ کیا جائے تو سننے یا پڑھنے والا اس کا جواب بھی دے سکتا ہے ۔ مگر ایک دم عادتا اختلاف برائے اختلاف کا رویہ میرے خیال میں ٹھیک نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس سلسلہ میں کسی کا لکھا ہوا ایک لطیفہ یا د آگیا کہ :
    کسی نے ایک تنک مزاج باپ سے اسکے ہونہار بیٹے کی تعریف کی تو اس پر باپ نہ یہ کہا کہ میں آپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ وہ لڑکا ہونہار ضرور ہے مگر آپ کے اس مفروضہ سے انتہائی ادب کے ساتھ اختلاف کرتا ہوں کہ وہ میرا بیٹا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آصف احمد بھٹی صاحب کی یہ کوشش کہ آئیندہ وہ کچھ نہ لکھیں ،کوئی درست اقدام نہیں ۔ وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں جو چاہے کریں ۔
    ویسے انہیں یہ معلوم ہے کہ عالمی اخبار کے “ نظرِ ثانی ‘ کرنے والی ہستی نے ان کی تحریر پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں آصف احمد بھٹی صاحب کے اس فیصلہ کو پسند کرتا ہوں کہ وہ “ غیر ضروری طور پر کچھ نہ لکھیں گے “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں “کسی بھی محترم شخصیت “ کی طرف سے کچھ لکھنے کا اختیار نہیں رکھتا صرف اتنا کہ سکتا ہوں کہ
    میر ی تعمیری تنقید کو آصف احمد بھٹی صاحب نے فراخدلی کے ساتھ قبول کیا : شکریہ : جزاک اللہ
    امید کہ وہ مجھے ہمیشہ کی طرح اپنی نیک دعاوں میں یاد رکھینگے۔
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  17. السلام علیکم
    محترم منظور قاضی صاحب کے موجودہ سے پچھلے تبصرے کے جواب سے شاید یہ سمجھا گیا ہے کہ مجھے اُن کی بات بری لگی ہے اور میں خفگی کا اظہار کر رہا ہوں سب سے پہلے تو میں واضع کر دینا چاہتا ہوں کہ محض اختلاف رائے کا میں کبھی برا نہیں مناتا بلکہ اُن کی اِس بات سے مجھے یہ سمجھ آیا ہے کہ محض لکھنا ہی نہیں کافی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر لکھنا چاہیے اور میں نے یہی لکھا تھا کہ میں غیر ضروری تبصروں سے گریز کرونگا ۔
    ویسے اگر اِس ہی بلاگ پر منظور قاضی صاحب کے ہی پہلے تبصرے کو غور سے پڑھا جاتا تو میری بات سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ۔
    آصف احمد بھٹی

  18. یہ بلاگ نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے ایک نہایت ہی نازک اور سنجیدہ موضوع پر شروع کیا مگر یہ بھی ذیلی موضوعات کی بھول بھلیاں میں الجھ کر رہگیا ۔
    ویسے میرے اس ہی بلاگ کے شروع میں اپنے تبصرے کے چھ سوالات کے ایک دو سوالات کا جواب چند مبصروں نے دے دیا مگر باقی کے چار سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں ۔
    اس سلسلہ میں ہم کراچی ، اسلام آباد اور پشاور کے پریس کلبوں کے پروگراموں اور انکی طرف سے دیے گئے پلاٹوں اور انعامات پر بھی بات کرسکتے ہیں ۔ کیا وہ تمام پریس کلب ، لاہور پریس کلب کی طرح ہی حکومتِ وقت کے طرفداروں کو ہی پلاٹوں اور گھروں سے سے نوازتے ہیں؟
    کیا حامد میر ، عرفان صدیقی ، ہارون رشید، اور جنگ میں لکھنےوالے تمام کالم نگار اپنے اپنے سرپرستوں کے انعامات سے نوازے جاتے ہیں؟
    ۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  19. قاضی صاحب کے سوال اور ان کے جوابات
    1 ۔ کیا باقی کے تمام صحافی جو لاہورپریس کلب کے ممبر ہیں اور جو ‘حکومت کی طرف سے نوازے گئے 10 مرلہ کے پلاٹ کا حق دار “ کہلاتےہیں ، وہ سب اپنا ضمیر کا سودا کرکے حاکم ِ وقت کی طرفداری ہی میں اپنی توانائی صرف کرتے ہیں؟
    ج۔ جی نھیں وہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں
    2۔ کیا علیم عثمان صاحب، حسین نقی صاحب اور ایم اے نیازی صاحب ، ان صحافیوں کے نام بھی اس “حق گو اور بے باک “ بلاگ میں شایع کرسکتےہیں جنھوں نے “ہڈی “ کے بدلے اپنا ضمیر بیچ دیا ہے اور وہ صرف حکومت کی طرفداری ہی میں لکھا کرتے ہیں تاکہ انکے پلاٹ واپس نہ لے لیے جائیں ؟ ۔
    ج۔جی انکی تعداد لاہور میں 1100 ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ
    3۔ لاہور پریس کلب کے ارکان کو مفت پلاٹ دینے کا منصوبہ کس کے دور میںاور کس کی کاوشوں کے باعث شروع ہوا؟
    ج ۔اپ کے اس سوال کا جواب ہمدانی صاحب دے چکے ہیں4۔ کیا پلاٹ کے قبول کرتے وقت اس معاہدے پر دستخط کرنا پڑتا ہے کہ اس “ ہڈی “ کی بدلےمیں اسے حکومتِ وقت کی طرفداری کرنا پڑے گی ورنہ یہ “ہڈی “ واپس لے لی جائےگی؟
    ج۔نہیںجو چیز ایک مرتبہ مل گئی سو مل گئی اب واپسی نہیںہو سکتی
    5۔ کیا ہر ایک لاہور کے صحافی کو لاہور پریس کلب کا رکن بننا ضروری ہے؟
    ج۔ جی نہیں جو بن چکے ہیں وہ نئے لوگوںکو نہیںانے دے رہے کہیںپلاٹان کو بھی نہ مل جائے۔
    6۔ کیا ان چند مشہور اور مانے ہوئے صحافیوں کے نام بھی یہاں لکھے جاسکتے ہیں جو لاہور میں رہتے ہوئے بھی لاہور پریس کلب کے ممبر نہیں ہیں ؟
    ج۔ مشہور اور مانے ہوئے صحافی تمام ممبرز ہیں

  20. نادیہ بتول بخاری صاحبہ نے میرے تمام سوالات کے جوابات دےدیئے : شکریہ
    بس پانچویں سوال کے جواب میں انہوں نے یہ کہ کر تشویش میں ڈال دیا کہ “ جو بن چکےہیں وہ نئےلوگوں کو نہیں آنےدے رہے ، کہیں پلاٹ ان کوبھی نہ مل جائے“۔
    ۔۔
    پتہ نہیں اس خود غرضی کا علاج کیا ہوگا۔
    ابھرتے ہوئے صحافی جو اس کلب کے ممبر نہیں ہیں ، انہیں ہی اس معاملہ میں کوئی جدوجہد کرنا پڑے گی ۔

  21. نگھت نسیم صاحبہ سے گذارش ہے کہ انھوں نے جو اشعار زوار قمر عابدی کے نام سے حوالہ کے طور پر پیش کیے ہیں وہ میرے ہیں اور دوسرے شعر کا مصرعِ ثانی بھی بدل دیا گیا ہے ۔ پوری غزل پیش کرتا ہوں ۔

    طائرِ دل جو تِرا دھیان پکڑ لیتا ہے
    چونچ میں تختِ سلیمان پکڑ لیتا ہے

    میرے اندر بھی کوئی شخص ہے رہتا ایسا
    چپ رہوں تو وہ گریبان پکڑ لیتا ہے

    جب دل و جاں لئے آتا ہوں گلی میں تیری
    کون ہے جو مِرا سامان پکڑ لیتا ہے

    پوچھ لیتا ہوں اگر پیار ہے کتنا مجھ سے
    اٹھ کے ہاتھوں میں وہ قرآن پکڑ لیتا ہے

    تو ہے منزل میری لیکن ہے تِرے رستے میں
    ایسا اک موڑ جو مہمان پکڑ لیتا ہے

    وصل لمحوں میں ہے آسان محبت کرنا
    ہجر میں قیس بھی ہو کان پکڑ لیتا ہے

    لوٹتا ہوں تو سِسکتے ہیں دریچے سارے
    آگے بڑھتا ہوں تو دربان پکڑ لیتا ہے

    محو ہو جاوٴں جو میں مصر کے جلووں میں کبھی
    میرا دامن مِرا کنعان پکڑ لیتا ہے

    جب بھی ملتا ہے مجھے اذنِ رہائی ساگر
    پھر مجھے گوشہِ زندان پکڑ لیتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *