منافقت

کچھ دن پہلے میں نے ایک ٹی وی کے سینئر پروڈیوسر سے باتوں باتوں میں پوچھا کہ کیا کبھی آپ کے بچے بھی  ٹی وی وزٹ کرنے آئے تو اچانک سے پروڈیوسر صاحب کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور کہنے لگے مجھے ٹی وی میں جاب کرتے ہوئے 25 سال ہو گئے۔ آج تک میرا بیٹا یا بیٹی اس ادارے میں نہیں آئے یہ جگہ ہے کیا آنے کی۔ موصوف کی سفید داڑھی تھی اور حج بھی کر چکے تھے ماسوائے پروڈکشن سے کمائی گئی روزی کے کوئی اور  ذریعہ معاش بھی نہیں دکھائی دیتا تھا۔ میں نے جب ان کا یہ جواب سنا تو  حیران ہو گئی کہ یہ شخص کسی ایسے ادارے میں جاب کر رہا ہے کہ جسے وہ اپنے شریف ہونے کے باعث اپنی اولاد کو اس کا چہرہ نہیں دکھانا چاہتا۔ اگر میڈیا کی فیلڈ اتنی ہی بری تھی تو اس نے اس فیلڈ میں 25 سال کیوں لگا دیے۔ ثابت یہ ہوا کہ موصوف  اس فیلڈ کو بدنام فیلڈ سمجھتے ہیں اگر واقعی بد نام ہے تو اس بد نام ادارے سے حاصل کی گئی کمائی بھی حرام کی ہوئی۔ موصوف اسی حرام کی کمائی سے حج کر سکتے ہیں بچوں کا پیٹ پال سکتے ہیں لیکن اتنے شریف ہیں کہ اپنی بچیوں اور بچوں کے لیے اس فیلڈ کو موزوں نہیں سمجھتے اور یہ صرف ایک میڈیا پرسن کی بات نہیں میں نے ایسے کئی منافق لوگ دیکھےہیں جو کھلم کھلا منافقت کو بھی شرافت کا نام دیتے ہیں۔

17 thoughts on “منافقت”

  1. نادیہ بخاری
    منافقت کا کیا خوب پردہ چاک کیا ہے آپ نے. اصل میں ہم نے ابھی تک اپنے کام سے محبت کرنا سیکھا ہی نہیں. جو کام رجحان سے میل کرتا ہے کوئی اسے کرنے کو تیار نہیں ہوتا. لیکن ایک صحافی یہ بات کرے یہ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات ہے. صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، صحافی اپنے قلم کی مدد سے آگہی کا کام کرتا ہے… ایسا احساس کمتری. اللہ اللہ…

  2. ممکن ہے آپ اسے منافقت سمجھیں مگر میرا خیال ہے یہ اُن کی بد اعتمادی کی ایک شکل ہے خود پر دوسروں پر۔
    اگر وہ مسجد کا مولوی بھی ہوتا تو اُس کا ردعمل ایسا ہی ہوتا۔ بے اعتباری کی یہ ہی خامی ہے۔

  3. السلام علیکم
    محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ ، میں محترم شعیب صفدر صاحب کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ، یہ یقینا بد اعتمادی کی نہایت ہی بگڑی ہوئی شکل ہے ، ایک مثال ’’ مولوی صاحب کی ‘‘ اُنہوں نے دی ہے اور میں اپنی دے دیتا ہوں ، میں یہاں ’’ ملک سے باہر ‘‘ نوکری کر رہا ہوں میں کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ میرا بیٹا کبھی ملک سے باہر اور اِن حالات میں کام کرے ۔
    آصف احمد بھٹی

  4. نادیہ بخاری صاحبہ۔ یہ منافقت کوئی ایسی جدید زمانے کی پیداوار نہیں ہے بلکہ جتنی عمر حضرت انسان کی ہے اتنی ہی عمر منافقت کی ہے۔ سچ بات تو یہ بھی ہے کہ جس قادر مطلق نے انسان کا خمیر گوندھا اور اسے تخلیق کیا اس نے جیسے محبت اور نفرت،سچ اور جھوٹ جیسی چیزیں انسان کی جبلت میں رکھی ہیں اسی طرح صاف گوئی اور منافقت بھی انسانی جبلت میں رکھی ہے۔
    خود احتسابی اور خود آئینہ رو ہو نے بات کریں تو مجھ سمیت شاید ہی کوئی بندہ بشر یہ دعویٰ کر سکے کہ اس نے کبھی منافقت نہیں کی،بلکہ میں یہاں تک کہوں کہ ایسا دعویٰ جھوٹا یا منافق ہی کر سکتا ہے۔
    منافق لوگ وہ ”خوش قسمت” ہیں جن پر قرآن پاک میں پورا سورہ منافقون موجود ہے۔
    آپ نے میڈیا کے حوالے سے جن ٹی وی پروڈیوسر کے خیال کا زکر کیا ہے میرے خیال میں یہ منافقت نہیں ہے۔اسکی بہت جہتیں ہیں جن میں سے ایک دو کی جانب شعیب صفدر اور آصف بھٹی نے اشارہ کیا ہے۔
    ذاتی تجربے سے بڑا تجربہ کوئی نہیں ہوتا۔میرے ننانوے فیصد احباب اس بات سے آگاہ ہیں کہ میری تین نسلیں میڈیا سے وابستہ رہی ہیں۔ اس لیئے شاید میں ہو سکتا ہے کہ بہتر انداز میں بات سکوں۔ ویسے تو ہر حق حلال کے رزق کے شعبے کا آدمی مشکل سے ہی اپنی اولاد کو اس شعبے میں آنے دیتا ہے کیونکہ وہ اس راستے کی مشکلات کا مزا چکھ چکا ہوتا ہے اور والدین کی جبلت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اپنے سے بہتر چاہتے ہیں اور اپنی والی مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
    جس زمانے میں ہم نے ریڈیو ٹی وی کیا اسوقت ریڈیو کی نوکری وی آئی پی تھی کہ صرف ایک ریڈیو پاکستان اور ایک پاکستان ٹیلی ویژن ہوتا تھا اور سارا حسن ظاہری اور عملی حسن انہی دو اداروں میں ہوتا تھا۔ اب تو خیر ٹی وی اسٹیشنوں اور ایف ایم ریڈیو کا وہ جمعہ بازار لگا ہوا ہے کہ”برے ترین” ابلاغ کے ادارے کا مقابلہ بھی بہت سخت ہو چکا ہے۔
    ہمارے والد محترم مجھ سمیت سب بہن بھائیوں کو بچوں کے پروگرام میں لے کر جاتے تھے اوروہاں کے لوگوں سے ملواتے بھی تھے لیکن جب ریڈیو کی نوکری کا معاملہ آتا تو قطعی مخالفت کرتے تھے۔ کیوں؟ اسکی وجہ یہ تھی کہ اسوقت ریڈیو کی نوکری میں اتنے پیسے نہیں تھے کہ انسان دو وقت کی روٹی کھا کر کچھ پس انداز بھی کرے۔ اس لیئے جو مشکلات انہوں نے اس ادارے کی دیکھی تھیں وہ اپنی اولاد کو اس میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ اب اسے ہم منافقت تو نہیں کہیں گے نا۔
    میں نے جب اپنے والد کی مخالفت کے باوجود یہی ملازمت کی تو انہوں نے مجھے اسکے جن مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا مجھے عملی زندگی میں اس سے کئی سو گنا زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    اب جب میں لگ بھگ چار عشرے اس شعبے میں گزار چکا تو میں نے اپنے بچوں کو اس طرف آنے کی اجازت نہیں دی۔ تو کیا میں نے منافقت کی ؟
    جی نہیں اس کی پہلی بڑی وجہ ”مالی پہلو” ہے اور دوسرا ترقی کا پہلو ہے۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں مالی طور پر بہت مضبوط ہونے اور ترقی کے ایک جیسے اصول ہیں۔
    اسی طرح ہر انسان اپنے شعبے کی اچھائیوں،برائیوں سے سے آگاہ ہوتا ہے۔ جیسے زیادہ تر ڈاکٹرز کی اولادیں ڈاکٹر بنتی ہیں اور سیاستدان کی اولاد ننانوے فیصد چونکہ کسی قابل نہیں ہوتی اس لیئے وہ سیاست دان ہی بنتی ہے کہ اس شعبے میں حرام کی کمائی کی برکات ہی ایسی ہیں کہ سیاست دان والدین اپنی اولاد کو خود کہتے ہیں کہ پڑھنے لکھنے پر وقت ضائع نہ کرؤ۔
    ہاں اگر ان پرڈیوسر صاحب نے اپنے شعبے کی ”اخلاقی یا تہذیبی” برائی کا ذکر کر کے کہا ہوتا یا حرام کی کمائی کو وجہ بتایا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھےکہ یہ منافقت ہے کہ وہ خود تو اسی شعبے میں برسوں رہے اور اسے نہیں چھوڑا اور بچوں کے لیے پسند نہیں۔
    دراصل معاملہ وہی اپنے سے بہتر مستقبل کا ہے۔
    وگرنہ ریڈیو ٹی وی میں ہی گانے بجانے سے لیکر ڈرامے اور پروڈکشن تک ایسے کتنے ہی نام ہیں جن کی اولادیں بھی اسی شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ آپ اگر کہیں گے تو میں ناموں کی فہرست بھی پیش کر دوں گا۔
    میرے ذاتی خیال میں یہ منافقت کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ ذاتی تجربے اور اپنے سے بہتر مستقبل کا پہلو ہے

  5. بحث بہت ہی عمدہ ہے ۔۔ یقین جانئے منافقت بڑے ہنر کا کام ہے ۔ یہ ہم جیسے چھوٹے موٹے لوگوں کا کام ہے ہی نہیں ۔۔نادیہ میں سمجھتی ہوں کہ پروڈیوسر صاحب کے بارے میں یہ قیافہ کرنا مناسب نہیں اور پھر ان کے کہنے کو اتنی دور تک لے جایا جائے اور یہ بھی کہہ دیاجا ئے کہ “ ثابت یہ ہوا کہ موصوف اس فیلڈ کو بدنام فیلڈ سمجھتے ہیں “ ۔۔ نادیہ یا تو انہوں نے کھل کر وہی وجہ بتائی ہو جو تم سمجھ رہی ہو پھر تو کہنا ٹھیک ہے ۔۔۔ تو پھرمیں یہ کہونگی کہ جن معاشروں سے سچائی اور سادگی اور عمل رخصت ہو جاتی ہے تونمائش اور منافقت اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔۔ اگر انہوں نے کھل کر نہیں کہا تو ایسے میں بغیر تحقیق کے خود ہی یہ طے کر لینا کہ اس کی کمائی حرام کی ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ یہ الزام کے زمرے میں آتا ہے ۔۔

    اب میں بات کرونگی کسی بھی پروفیشن کے عملی اور مالی پہلو کی جس میں اپنے بچوں کا بھلا چاہنا قطعامنافقت نہیں ہے ۔۔

    میں الحمداللہ ڈاکٹر ہوں لیکن میں نے اپنے تینوں بچوں کوکبھی ڈاکٹر بننے پر مجبورنہیں کیا اور ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ میں چاہتی بھی نہیں کہ وہ ڈاکٹر بنیں ۔۔ اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ شعبہ کوئی بدنام ہے یا اس کی کمائی حرام کی ہے ۔۔ بلکہ یہ شعبہ تو خدمت کا دوسرا نام ہے ۔۔۔ میں بات کر رہی ہوں اس شعبے کے عملی پہلو کی ۔۔۔ میرے خیال میں ڈاکٹرز کی کوئی فیملی لائف نہیں ہوتی ۔۔ دن رات کسی بھی وقت صرف ہوسپٹل میں ہوتے ہیں ۔۔ ایک ڈاکٹر کی حثیت سے بس یہی کہونگی کہ میں نے جس مشکل اور قربانیوں سے اپنی فیملی لائف کو زندہ رکھا ہے وہ میں ہی جانتی ہوں ۔۔ گھریلو اور پروفیشنل لائف میں توازن رکھنا ہر ڈاکٹر کو خاص طور خاتون ڈاکٹر کو سولی پر رکھتا ہے ۔۔۔

    اسی توازن کوبرقرار رکھنے کے لئے اگر آپ خود کشی کرنے کی FACT SHEET دیکھیں تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی پروفیشنز میں ڈاکٹرز سب سے زیادہ خود کشی کرتے ہیں اور ان میں بھی خاتون ڈاکٹرز سب سے زیادہ کرتی ہیں ۔۔ اور ڈاکٹری کے شعبہ جات میں بھی جو لوگ بے ہوش کرنے کے ماہر ڈاکٹر اور جرنل پریکٹیشنرز ہیں وہ زیادہ خود کشی کرتے ہیں ۔۔ میرے اپنے دوستوں میں دو ڈاکٹرز کی خود کشی کومیں مرتے دم تک نہیں بھول سکونگی ۔۔۔

    خود کشی کے علاوہ طلاق سب سے زیادہ اسی پروفیشن میں ہوتی ہے ۔۔۔

    مجھے اچھی طرح سے یادہے میں سڈنی میں انٹرن شپ کر رہی تھی کہ میرے پروفیسر سرجن ڈاکٹر سٹینٹن نے مجھ سے پوچھا کہ میں آگے چل کر کونسی اسپیشلایزشن کرناچاہتی ہوں ۔۔ میں نے کہا میرا تجربہ اور رجحان سرجری کی طرف ہے ۔۔ انہوں نے مجھ سے مسکراکر پوچھا کہ شادی ہوئی ہے ۔۔ میں نے کہا جی ۔۔ پھر پوچھا بچے ہیں ۔۔ میں نے کہا جی ۔۔۔ مجھے بڑی محبت سے کہا کہ پھر سرجری میں مت آنا ۔۔۔اس میں بہت پیسے ہیں لیکن LONELY PROFESSION ہے ۔۔۔ تم فیملی نبھا نہیں سکو گی ۔۔
    مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر سٹینٹن نے اسی وجہ سے شادی نہیں کی تھی ۔۔ اور ان کے دوست سرجن ڈاکٹر ہیوبر کی کچھ عرصہ پہلے گھریلو زندگی میں توازن نہ رکھ سکنے پر طلاق ہوئی تھی ۔۔۔
    مجھے اپنے بچے بہت ہی عزیز ہیں خاص طور پر اپنی بیٹی آمنہ ۔۔ مجھے تو اس کا راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھنا بھی اچھا نہیں لگتا ۔۔ میری خواہش ہے وہ اپنی فیملی لائف کو انجوائے کرے ۔۔ اپنے بچوں کو کسی ڈے کیر میں نہ چھوڑے بلکہ انہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر کھلائے ۔۔ انہیں بڑھتا ہو ادیکھے ۔۔۔ بس وہ سب کریں جو ایک ڈاکٹر ماں کبھی نہیں کر پاتی ۔۔ اگر کرتی ہے تو میری طرح سب سے پیچھے رہ جاتی ہے کہ میں نے اپنے بچوں کو پالنے ، بڑا کرنے کے لیئے ۔۔ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے پورے 7 سال گھر پر ہی رہی ۔۔۔ سو آج میرے ساتھی ڈاکٹرزکہاں سے کہاں ہیں اور میں ابھی تک ایک ہوسپٹل میں دن رات کی ڈیوٹیاں کرتی ہوں ۔۔۔ یقین کریں 48 گھنٹوں سے جاگ رہی ہوں کہ کل میری رات کی ڈیوٹی تھی اور مجھے گھرآ کر گھر بھی دیکھنا تھا ۔۔۔۔

    اس طرح کی زندگی میں اپنے بچوں کے لئے نہیں چاہتی ۔۔۔ یہ میری منافقت نہیں میرا پیا رہے جو انہیں اپنی طرح رلتا ہوا نہیں دیکھ سکے گا ۔۔۔۔ پر رکئے ہم سب یہاں ایک اور بات بھی بھول ریے ہیں کہ کیابچے بھی اپنے ماں باپ کاپروفیشن اپنانا چاہتے کہ نہیں ۔۔۔

  6. اسلام و علیکم

    زندگی جبرِ مُسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جُرم کی بائی ہے سزا یاد نہیں

    ساغر صدیقی نے کیا خوب کہا تھا ۔ اور شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے کہہ تھا جن کی طر ف آپ کا اشارہ ہے نادیہ ہم لوگ اکثر فیصلہ کرنے میں جلدی کر دیتے ہیں
    اُن صاحب نے جو کہا تو مُمکن ہے کے اُن کے پاس اِس کی کوئی بہیت مُناسب وجہ ہو، ایک انسان نے اپنی ساری زندگی جس کام کو دی جس کمائی سے آج تک اپنے بچوں کا پیٹ پالا ہو اپنی زندگی کی ہر ضرورت جس کام سے پوری کی ہو اُس کام سے وہ اپنے بچوں کو دور رکھنا چاہ رہا ہے تو میرا ذاتی خیال ہے کے آپ کو اُن سے ایسا کرنے کی وجہ دریافت کرنی چائیے۔ ہو سکتا ہے کے وہ وجہ جان لینے کے بعد آپ کو اُن کا یہ عمل مُنافقت نہ لگے بلکہ مجبوری لگے

    اور میں نگہت آپی کی بات سے مُکمل طور پر اتفاق کرتی ہوں یہ بھی ایک ٹھوس وجہ ہو سکتی ہے کے آُن حضرت نے اپنی زندگی کے نا جانے کتنے ماہ و سال جو اس کام اس شعبے کو دیے تو نا جانے کتنی مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو شائد جس سے وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہوں ۔

    میرا تو یہ ہی خیال ہے کے آپ اُن سے ایک دفعہ اس کے بارے میں سوال ضرور کریں شاید پھر یہ تصویر واضع ہو جاےّ پم سب کے لیے تصویر کے دونوں رُخ دیکھے بِنا کوئی راےّ دینا قبل از وقت ہو گا،کیوں کے عیین مُمکن ہے کے اس سفر میں نا جانے کتنا کُچھ دُھندلایا ہو اُن کا کتنے ساتھ چھوٹ گیے ہوں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو یہ زندگی نا دینا چاہتے ہوں

    صرف دُھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے
    کب ہوا کون ہوا مُجھ سے خفا یاد نہیں۔۔

    الله حافظ و ناصر

  7. صفدرھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے تبصروں کو پڑھنے کے بعد اس بلاگ کا عنوان “منافقت “ غیر موزوں معلوم ہوتا ہے۔
    اگر کوئی باپ اپنی اولاد کو کسی وجہ سے اپنے پیشے میں لانے کی ترغیب نہ دے تو یہ منافقت نہیں بلکہ اولاد کےسا تھ دیانت داری سے کام لینے کے مترادف ہے ۔
    “ حرام کی کمائی “ تو اس وقت کہلاتی جب کہ باپ چوری اور ڈاکے ڈال کر یا رشوت کھاکر یا بے ایمانی کی کمائی سے اپنا اورا پنے بچوں کا پیٹ پالتا ۔
    پروڈیوسر صاحب تو ایمانداری سے اپنا کام کررہے ہیں اور حلال کی کمائی سے حج اور عمرہ کررہے ہیں ۔ اگر وہ دیانت داری سے کام لے کر اپنے بچوں کو اپنے پیشے میں آنے کی ترغیب نہیں دیتے تو یہ انکی مرضی۔ یہ کوئی منافقت نہیں یہانکی ایمانداری اور دیانت داری کا ثبوت ہے ۔

  8. سب لکھنے والوں کو سلام

    عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کہیں بھی آئیڈیل ملک ، قوم ، فیملی اور فرد موجود نہیں۔ ہر فرد کا اپنا فریم آف ریفرینس ہوتا ہے اور وہ اسی اینگل سے دیکھتا ہے جسے اس نے سابق تجربات کی روشنی میں سیکھا ہوتا ہے۔ یہاں یہ پات کہتا چلوں کہ کائنات کی سب سے عجیب بات یہ کہ انسان تو ایک طرف ایک ہی درخت کے لاکھوں پتے بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ ایک لفظ میں ہے جو اس حقیقت کا عکاس ہے۔ پروڈیوسر صاحب کے بیان کے حوالے سے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ہوسکتا ہے اس تنخواہ میں اس کے اخراجات پورے نہ ہوتے ہوں ، ان کا آئیڈیل کچھ اور ہو، فیلڈ میں رہتے ہوئے کچھ غلط کر دیا ہو، ٹی وی کے ماحول کو خود غلط نظر سے دیکھتے ہوں وغیرہ وغیرہ

    پچ پچ وڑیں مندر مسیتی تے کدی اپنے اندر توں وڑیہ نہی
    ایویں روز شیطان نال لڑداں کدی نفس اپنے نال لڑیا نہی
    بلے شاہ اسمانی اڈدیاں پھڑدا تے جہڑا گھر بیٹھا اہنوں پھڑیا نہی

  9. میری چھوٹی بہن صد ف سکینہ نے ابھی ایم ایس سی اکنامکس کیا ۔میں نے اس کا زکر اپنے بینک مینیجر سے کیا تو انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس گنجائش ہے اگر وہ راضی ہیں تو ہمیں جوائن کر سکتی ہیں ۔میں نے خوشی خوشی گھر فون کیا کہ صد ف کتنی خوش بخت ہے اسے بینک نے خود افر کی ہے ۔میںگھر پہنچی تو صدف نے کہا کہ مجھے یہ جاب نہیںکرنی ہم سب حیران ہو گئے پوچھ کیو ں تو وہ کہنے لگی کہ سارا سسٹم سود پر چلتا ہے اور میں کسی ایسی جگہ کام نہیںکروںگی جہاںکام کر کے میرا ضمیر مطمئن نہ ہو۔اور جسکی کمائی سے میرا رب مجھ سے راضی نہ ہو میں نے برا سا منہ بنا کہ کہا کہ ہم کبی ترقی نہیںکر سکتے ۔۔۔۔۔۔لوگ کہاں سے کہا ں پہنچ گئے اور ہم وہیں ہیں ۔میںنے بینک افیسر کو بتا کر معزرت چاہی تو کہنے لگے ماشاءالللہ جذ بہ ایمانی ۔۔
    جانتا تو میں بھی ہوںلیکن کیا کروں پھنس چکا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
    حا لانکہ رزق تو اوپر والے کی زمہ داری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  10. السلام علیکم
    محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ ، ماشاءاللہ آپ کی اور ہماری بہن کا جذبہ یقینا قابل ذکر اور قابل ستائش ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی معیشت کا سارا انحصار اِسی سودی ( بینکاری ) نظام پر ہے ، ہم لوگ جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور اپنی تنخواہ کو حق حلال کی کمائی کہتے ہیں ہماری تنخواہ بھی اِنہی بینکوں کے زریعے آلودہ ہو کر ہم تک پہنچتی ہے ، یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس نے ساری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ، باقی رہے نام اللہ کا ۔
    آصف احمد بھٹی

  11. حترمہ نادیہ بخاری صاحبہ ،،
    سُبحان اللہ ، آپکی اور آپکی پمشیرہ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ھای کہ آپکے والدیں نے اپنی اولاد کی تربیت کن اصولوں اور بُنیادوں پر کی ہے ، پرور دیگارِ عالم ، بصدقہ مُحمد و آلِ مُحمد ، آپکے والدیں کہ اس بات کا اجر دے ، اور آپ سبکو ہمیشہ ایسے ہی ثابت قدم رکھے ،
    مگر میں آپکی ہمشیرہ کی بات سے اتفاق نہیں کروں گا ، مزہ تو جب تھا کہ وہ اپنی قابلیت پر یقیں کرتے ہوی کہتیں کہ ہاں میں اس سستم میں اس نظام میں داخل ہو کر اسکو تبدیل کرہں گی ، نہ بھی کر سکی تو کوشش ضرور کروں گی ، میری بہٰن مُعاشرے کی کن کن بُرائیوں سے فرار حاصل کریں گے ہم لوگ ، یہ جو روتی کھاتے ہیں نہ ہم ،، اسکا آٹا بھی ہم تک بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں سے سے لیتے ہیں ، چاول ،، گھی ، سب کُچھ ، تو کیا ہم بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے رہے ؟ کےا کھانا چھوڑ دیں ؟ بقولِ تنویر سُپرا کہ ….

    میں نہیں کیتا میرے دیس کا رہبر بدلے
    یہ ستم یوں ہی رہے اور ستمگر بدلے

    گر بدلنا ہے تو بدلو یہ نظامِ کُہنہ
    تاکہ افلاس ک ماروں کا مُقدر بدل
    ………………………………………… مُحتاجِ دُعا………..

  12. بس ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اسلام بے حد عملی دین ہے اور اسکی بنیاد قطعی طور پر نعرہ بازی یا جزباتیت پر نہیں ہے. مجھے نہیں معلوم کہ ہم سے کتنے احباب نے سود سے پاک اسلامی اقتصادی نظام کا مطالعہ کیا ہے جس پر متعدد کتب بھی دستیاب ہیں اور انٹر نیٹ مواد بھی. لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہ بھی سود ہی کی ایک قسم جسے اسلامی نام دے کر جیسے مسلمان کیا گیا ہے بالکل ایسے جیسے مغربی ممالک میں کئی مذبحہ خانے ایسے ہیں جہاں بڑی تعداد میں مرغیاں وغیرہ ذبح کرنے کے لیئے ”تکبیر” کیسٹ سے ریکارڈ شدہ چلائی جاتی ہے.
    یہاں لندن میں تو ایک ادارے نے فقط تجارتی فائدے کے کئے ”حلال انشورنس” بھی متعارف کروائی ہے لیکن وہ اسکا کوئی جواز یا دلیل نہیں دے پاتےکہ یہ دیگر انشورنس کے نظام سے کیسے مختلف ہے.
    بہت سی چیزیں خیال.نظریے یا خواہش کے طور پر تو بہت اچھی ہوتی ہیں لیکن انکا عملی پہلو نا ممکن یا بے حد مشکل ہوتا ہے.

  13. ڈيئر نادیہ بخاری ،،، سلامت رھو۔ پا کستان ٹیلی ویژن کے سفید داڑھی والے سنیئر پروڈوسر کو ھم اس بات پر منافق نیہں کہہ سکتے ھیں کہ وہ اپنی اولاد کو اس پروفیشن میں لانا چاھتے ۔۔۔ ھم سب جانتے ھیں کہ ھمارے ریڈیو اور ٹی وی کے سینئر پروڈوسرز نے کتنی مالی مشکلات کا سامنہ کیا ھوگا اورکتنے قلیل وسائل میں اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھا ھوگا۔ اور پھر پرانے وقتوں کے اچھے لوگ یہ دکھہ وہ اپنے بچوں کو واراثت میں نیہں دینا چاھتے ھیں ۔۔۔پھراس پروفیشن کے بارے میں محترم صفدررضا ھمدانی صاحب سےزیادہ کون جانتا ھوگا کن کن حالات میں ان لوگوں نے کتنا بہترین کام کیا،، ۔۔ میرا بھائ بھی شوقیہ ریڈیوکے پروگرام کرتا ھے اور ملنے والی بہت قلیل اجرت کے چیکس کو سوینئر کی طرح سنبھال کر رکھتا ھےوہ بھی کبھی اپنے اپنے بچوں کو اس پروفیشن میں نیہں آنے دیگا۔۔۔۔کیونکہ زندہ رھنے کے لیے جس مالی آسودگی کی ضرورت ھوتی؛ ھے ایمان دار لوگوں کو کبھی میسر نیہں آتی ۔۔

  14. نادیہ بخاری صاحبہ، کاش آپ ان پروڈیوسرصاحب سے اس بات کی وجہ بھی پوچھ لیتیں تو بات زیادہ واضح ہو جاتی کہ آیا ان کے ریمارکس کی بنیاد آمدنی تھی، مذہبی تھی، تہذیبی تھی یا پھر کچھ اور تھی.
    ملزم کو صفائی کا حق دئے بعیرمفروضوں پہ ہی فتووں کی ایسی لائن لگ گئی اور ایسا ایسا جوش خطابت بلاگز کی زینت بنا کہ اللـہ پناہ !
    انسان کی فطرت ہے کہ کسی حال میں خوش نہیں ہوتا. ٹی وی یا ریڈیو سٹیشن کا چپڑاسی اپنے بچے کو پروڈیوسر کی کرسی پہ دیکھنے کا متمنـی ہوتا ہوگا لیکن پروڈئوسر خود توبہ توبہ کرتا ہے، ملک سے باہر آنے والے یہاں خوش بھی نہیں لیکن واپس بھی نہیں جانا چاہتے. مزدور کا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے لیکن ڈاکٹر اپنے بچے کے لئے کوئی اور فیلڈ پسند کرتا ہے. عرض جتنے شعبے گنوائوں گا سبھی میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہوگی.
    میں پروڈیوسر صاحب کی سوچ پہ کوئی رائے دینے سے تب تک قاصر رہوں گا جب تک تصویر کا دوسرا رخ مجھ سے اوجھل رہےگا.

  15. آصف احمد بھٹی صاحب زوار قمر عابدی صاحب اپ کا بہت شکریہ اپ نے حوصلہ افزائی فرمائی
    صفدر ھمٰدانی صاحب اپ کی بات وزن رکھتی ہے
    شاھین رضوی صاحبہ اپنے درست فرمایا میرا بھائ بھی شوقیہ ریڈیوکے پروگرام کرتا ھے اور ملنے والی بہت قلیل اجرت کے چیکس کو سوینئر کی طرح سنبھال کر رکھتا ھےوہ بھی کبھی اپنے اپنے بچوں کو اس پروفیشن میں نیہں آنے دیگا۔۔۔۔کیونکہ زندہ رھنے کے لیے جس مالی آسودگی کی ضرورت ھوتی؛ ھے ایمان دار لوگوں کو کبھی میسر نیہں آتی ۔۔
    لیکن جاب کر نا اور بطور ٹیلنٹ انے میں بہت فرق ہے
    جاوید اقبال کیانی صاحب پہلے تو خوش امدید دوسری بات یہ کہ پرڈیوسر صا حب جواب در حقیقت تکلیف دہ تھا تبھی میںنے احتجاج کیا

  16. مجھے اج بھی یاد ہے میں بہت چھوٹی تھی کہ امی عید کے کپڑے سلوانے درزن کے پا س لے گئی میںچارپائی پہ بیٹھ کر ٹا نگیں ہلانا شروع کر دی تو مجھے درزن نے کہا نہ بیٹا میرے رزق کی تو ہین نہ کر میں حیران ہو ئی میری تانگیںہلانے سے اس کے رزق پر کیا اثر تو میں نے اچانک غور کیا کہ چارپائی کے نیچے اس کی کپڑے سینے والی مشین پڑی تھی اور بے دھیانی میں پاوں مشین پر لگ رہے تھے میرا اپ سب معزز بلاگرز سے سوال ہے کہ کیا کوئی درزن چاہے گی کہ اس کے بچے درزی بنیں ؟
    لیکن اسے اپنی مشین کا کتنا احترام تھا وہ ان پڑھ عورت جانتی تھی کہ یہی میرا زریعہ معاش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  17. مجھے زےادہ عرصہ نہےں ہوا،ےہ بلاگز دےکھتے ہوئے ،مگر ان کا معےار بہت عمدہ ہے .بحث بھی جاندار ہے .مےں اےک پروفےشنل صحافی ہوں ،کالم بھی ہفتے مےں دو تےن بار گھسےٹ لےتا ہوں. فی الحال تو مےں اس مےں کنٹری بےوٹ نہےں کرنا چاہتا ،مگر نادےہ بخاری کا بلاگ دلچسپ تھا ،اس پر ہمدانی صاحب نے بڑا جامع تبصرہ کےاہے . مجھے اصل مےں ےہ اندازہ نہےں ہوہا کہ ےہاں اردو کا فونٹ کون سا چلے گا..اآئندہ ممکن ہے زےادہ تفسےل سے لکھ سکوں.شکرےہ .
    محمد عامر خاکوانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *