پینسلوں کے ایک کاریگر نے پنسل سے کہا
آخرش بازار میں جانے کا لمحہ آگیا
جا کے اب میدان میں جوھر دکھا
تو میری تخلیق ھے تجھہ سے محبت ھے محھے
با دل نخواستہ کرتا ھوں پر تجھکو جدا
کچھہ نصا ئح تجھکو کرتا ھوں مگر قبل از وداع
———————————-
بہترین پنسل ھوگر بننا تجھے
تجھہ پہ لازم ھے کہ تو یہ پانچ باتیں جان لے
صدق دل سے پھر عمل کرنے کی ان پر ٹھان لے
گر ھے کچھہ دنیا میں کچھہ کرنے کی طلب
خود کو دے دینا کسی کے ھاتھہ میں
عاجزی سے ھوکے مخلص ،با ادب
———————————–
اور پھر وقتا فوقتا تجھکو ھے
شا پنر سے روز و شب چھلنا ضرور
ایک پنسل کو یہ دکھہ سہنا ھی ھے
اس کی نوک اس کے لیے گہنا ھی ھے
—————————–
ھاں غلط گر تجھہ سے کچھہ لکھا گیا
اس کی تو اصلاح کرنا لازما
ھاں مٹا کر پھر سے لکھنا لازما
————————
سکہ و لکڑی ھے جسم ظاھری
اصلیت ھے دور باطن میں چھپی
———————–
غور سے سن لے یہ نکتہ آخری
اس میں پوشیدہ ھے علم و آگہی
جس بھی کاغذ کو چھوۓ تو جان من
اس پر تیرا نقش اترے لازما
اس کو مل جاۓ انوکھا بانکپن
ایک پنسل کی یہی پہچان ھے
ایک پنسل کی یہی تو شان ھے
————————
نام پنسل کے تھا جو عرشی پیام
اب وھی پیغام ھے انساں کے نام
کام کر سکتا ھے تو بس شک بڑے
اپنی ضد پہ گر نہ ھر لحظہ اڑے
سونپ دے خود کوخدا کے ھاتھہ میں
کہہ سمعنا اور اطعنا ساتھہ میں
——————-
اور پھر وقتا فوقتا جھلینا
کچھہ نہ کچھہ محنت، مشقت، ابتلا
ابتلا انسان کا ھیں شاپنر
—————-
جس قدر چھلتا ھے جاتا ھے نکھر
مشکلیں مضبوط کر دینگی تجھے
گرمی ایماں سے بھردینگی تجھے
————————
تیرے ھاتھوں میں ھے توبہ کا ربر
جو مٹا دیگا خطایئں بیشتر
———————
ظاھری صورت تیری گو،تن میں ھے
اصلیت تیری مگر باطن میں ھے
————————
آخری نکتہ بھی سن لے جان جاں
تجھہ میں پوشیدہ ھے طاقت کا جہاں
تو کہ جن لوگوں کے بھی ھو درمیاں
مہرباں تجھہ پر ھوں یا نا مہرباں
چھوڑنا ان سب پہ ھے اپنا نشاں
عزم کی بننا ھے تجھکو داستاں
ھے یہی پیارے تیرے شایان شاں
—————————-
بہت محبت عاجزی اور ادب کے ساتھہ اھل نقد و نظر کی خدمت میں
شاھیں رضوی

ماشاء اللہ ! شاہین رضوی صاحب، بہت ہی خوبصورت انتخاب پیش کیا ہے آپ نے. سکہ، لکڑی اور ”بلیڈ‘(شارپنر) انسان کو کیا گُر کی بات بتا گئے، یہی درس تو اقبال نے بھی مختلف طریقوں سے پہنچایا، جیسے :
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پِس جانے کے بعد
سُرخرو ہوتا ہے انسان ٹھوکریں کھانے کے بعد
اور تو کوئی ان باطنی تطہیر کے نکات کو سمجھے یا نہ سمجھے اگر اس پنسل کو استعمال کرنے والے قلم کار،ادیب،شاعر،محقق اور مفکر ہی سمجھ لیں تو سوچیں یہ دنیا کیا سے کیا بن جائے.لیکن پنسل کی فریاد تو جیسے صدا با صحرا ہے اور اسکو استعمال کرنے والوں کے کان بند.
دردِ دل پنسل کا جی چاہے لکھوں
راز یہ اہلِ قلم پہ وا کرؤں
اورپنسل کی زباں میں ہی کہوں
اب ھدف پہلا اگر میں خود بنوں
وار سہنے کے لیئے تیار ہوں
پنسل کے عشق میں بیمار ہوں
……
شکوہ اہل علم سے پنسل کرے
فرق ظاہر اور باطن کا لکھے
اور ٹھنڈی آہیں اس غم میں بھرے
اسکے سب اہلِ قلم سے ہیں گلے
بات جو لکھتے ہیں یہ کرتے نہیں
اپنے لکھے کا بھی دم بھرتے ہیں
……
بے عمل لکھے عمل کی بات کو
ظلم ہے دن کہنا کالی رات کو
امن لکھے ہے بُرے حالات کو
قوم کا قائد کہے کم ذات کو
پنسل پر ہے جو اب وقت زوال
کرتے ہیں ایسے منافق استعمال
…………
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب۔۔ اسلام علیکم پاکستان میں شاھین نام کی بہت ساری خواتین بھی ھیں اور میں بھی انھی میں سے ایک ھوں ۔۔۔عرشی آپا کی نظم کی پسندیدگی کا شکریہ۔۔۔۔۔ یہ نظم آج ھی مجھے عرشی آپا نے یہت محبت سے ارسال کی تھی ۔عرشی آپا کی شاعری سبق اموز شاعری ھے ۔ ھر نظم ،مثبت اور تعمیری پیغام پر مشتمل ھوتی ھے۔۔
محترمہ بہن شاہین رضوی صاحبہ ! بہن عرشی ملک کا اتنا خوبصورت کلام لگانے کا شکریہ، موضوع کی مماثلت کے لیے جناب جاوید اقبال کیانی نے اقبال(رح) کا جو شعر پیش کیا ہے وہ بھی بہترین انتخاب ہے.
قبلہ ہمدانی صاحب آپ نے اپنے الفاظ سے تو، جیسے اس نظم کی زینت بڑھا دی، اس کا حسن دو بالا بلکہ چند بالا کر دیا، ماشاء اللہ
بات جو لکھتے ہیں یہ کرتے نہیں
اپنے لکھے کا بھی دم بھرتے ہیں
پنسل پر ہے جو اب وقت زوال
کرتے ہیں ایسے منافق استعمال
زبردست……………………
عرشی صاحبہ نے یہ بہت ہی اچھا کیا کہ شاہین رضوی صاحبہ کو بھی یہ نظم بھجوادی ۔
۔۔۔۔۔۔
مجھے اس کا علم نہیں تھا اس لیے جیسے ہی مجھے یہ نظم عرشی صاحبہ نے بھجوائی اسے میں نے اس پرانے بلاگ میں شایع کردیا۔
بہر حال یہ ایک قندِ مکرر ہے جسے پڑھنے والے ضرور قبول کرینگے۔
۔۔۔۔۔۔
اب جبکہ شاہین رضوی صاحبہ نے عرشی صاحبہ کی نظم کے ساتھ یہ بلاگ شروع کردیا ہے اس لیے میرا بلاگ جو میں عرشی صاحبہ کی طویل نظموں کے ساتھ کچھ دن پہلے شروع کیا تھا اس کو اب ختم ہی سمجھا جائے تو بہتر ہے ۔ ویسے بھی وہ سب کی نظروں سے وہ بلاگ اوجھل ہو ہی گیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ جاوید اقبال کیانی صاحب نےجو شعر لکھا ہے وہ اقبال کا ہے !!!!!۔
بہر حال وہ شعر ہم سب کے حسبِِ حال ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ھمدانی صاحب نے اپنی نظم میں حق گوئی اور بے باکی کی نہایت پر اثر عکاسی کی ۔
اس بلاگ کی دونوں نظمیں اپنے اپنے انداز میں کمال کی ہیں ۔
۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
محترمہ شاہین بہن، اسے میری پنسل کی خطا جانیں یا تخیل کی پرواز جو میں آپ کو اقبال کا شاہین سمجھ بیٹھا جبکہ آپ تو شاہین نکلیں.بہرحال آپ نے پہچان کرادی شکریہ. آپ سے آئندہ بھی اسی طرح کے کلاسک کلام کا انتطار رہے گا.
ہمدانی صاحب کی طرف سے اضافہ سونے پہ سہاگہ ہے.
السلام علیکم
شاہین آپی ، مختصرا اتنا ہی کہونگا ’’ دلکش اور پُر اثر‘‘ اور محترمہ عرشی ،لک اور آپ کا شکریہ ۔
آصف احمد بھٹی
محترم صفدررضا ھمدانی صاحب کی شاعرانہ عظمت کا ایک زمانہ معترف ھے ،ھم تو صرف یہی کہہ سکتے ھیں بہت خوب اللہ کرے زور قلم اور زیادہ اور اپنے عزیز بھائ جناب عبدالمناف کی اس بات کی تایئد کرتی ھوں کہ —–
قبلہ ہمدانی صاحب آپ نے اپنے الفاظ سے تو، جیسے اس نظم کی زینت بڑھا دی، اس کا حسن دو بالا بلکہ چند بالا کر دیا، ماشاء اللہ
شکوہ اہل علم سے پنسل کرے
فرق ظاہر اور باطن کا لکھے
اور ٹھنڈی آہیں اس غم میں بھرے
اسکے سب اہلِ قلم سے ہیں گلے
بات جو لکھتے ہیں یہ کرتے نہیں
اپنے لکھے کا بھی دم بھرتے ہیں
……
بے عمل لکھے عمل کی بات کو
ظلم ہے دن کہنا کالی رات کو
امن لکھے ہے بُرے حالات کو
قوم کا قائد کہے کم ذات کو
پنسل پر ہے جو اب وقت زوال
کرتے ہیں ایسے منافق استعمال
باطنی طہارت ھی سے فکر ونظر کو بلندی ملتی ھے ،انسانی حکمت و دانش ھی قلم و کتاب کی مرھون منت ھے ،، مگر ذھنی افلاس کے اس دور میں قلم کی حرمت و تقدس کو پائمال کیا جارھا ھے
جناب منظور قاضی صاحب ۔اسلام علیکم ۔۔سب سے پہلے تو آپ کو خوش آمدید امید ھے کہ آپ کی چھٹیاں بہت اچھی گذری ھونگی ،اور آپ ان کا احوال بھی لکھیےگا۔۔۔ مجھے تو اس بات کی خوشی ھے کہ یہاں ھم سب ارشاد عرشی مللک جیسی نامور شاعرہ کو خراج تحسین پیش کر رھے ھیں جیسے جیسے عرشی آپا ھم سب کو اپنی تازہ بہ تازہ تخلیقات عطا کرتی رھین گیں ھم ان کے کلام کو سب دوستوں کے ذوق مطالہ کی نذر کر تے رھینگے، اور اگر مجھہ سے کمپوزنگ میں کہہں کوئ کوتاھی کمی ھوجاۓ آپ سےکشادہ قلب احباب سے درگذرکی التجا کرونگی
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب۔۔۔ یہ میری بدقسمتی ھی تو ھے کہ اقبال کا شاھیں نہ بن سکی ۔۔
خیابانیوں سے ، ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب ، یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا
میرا نےلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیا نہ؟
سب سے پہلے تو شاہین رضوی کا شکریہ جنہوں نے مجھ ناچیز کو عزت بخشی اور اس نظم کو عالمی اخبار کی زینت بنایا
یہ میرے لئے بہت ہی اعزاز کی بات ہے۔صفدر ہمدانی صاحب کی فی البدیہہ اور زو معنی نظم نے تو بلاگ کو دو آتشہ کر دیا
فرماتے ہیں بے عمل لکھے عمل کی بات کو
ظلم ہے دن کہنا کالی رات کو
امن لکھے ہے بُرے حالات کو
قوم کا قائد لکھے کم زات کو
واہ واہ بلکہ پھر واہ سبحان اللہ۔ہمدانی صاحب کے تبصروں میں
جو برجستگی اور کاٹ ہوتی ہے وہ
انہیں منفرد اوربار بار پڑھنے کے قابل بنا دیتی ہے۔
عرشی ملک
قابل احترام عرشی صاحبہ.زمین والوں کا سلام. آپ اپنی بے حد مصروفیت اور افتاد طبع کے برعکس بلاگز کے تبصروں میں تشریف لا رہی ہیں اور اپنے اذہان عالیہ کے معرفتی موضوعات سے مجھ سمیت تمام علم کے طالبوں (میں طالبان جان بوجھ کر نہیں لکھتا کہ کوئی یہ لفظ لکھنے پر ہی گرفتار نہ کر لے)کو تحصیل علم میں شامل کر رہی ہیں،میں ذاتی طور پر آپ کا ممنون ہوں. آپ کا یہاں موجود رہنا ہی ہم جیسوں کے لیئے حوصلہ ہے.
عرش والوں کو زمیں والوں نے بھیجا ہے سلام
جانتے ہیں ہم کہ کیا ہے آپ کا اعلیٰ مقام
آپکی آمد پہ کیا ہم کر سکے ہیں اہتمام
ہے دعا علمِ خفی سے آپ ہوویں شاد کام
اس فقیرِ شہر کے ڈیرے پہ آنا مرحبا
معرفت کے موتیوں کو یوں لٹانامرحبا(صفدر ھمٰدانی)
پیاری شاھین
السلام علیکم
بھئی شاھین تم میں انکساری بہت ہے ورنہ تم تو ماشا اللہ ہر فن مولا ہو۔
میں نے تمہاری نظم نثر سبھی کچھ پڑھا ہے۔تمہاری کمپئرنگ سننے کی البتہ آرزو ہے
وہ بھی تمہاری پیاری شخصیت کی طرح یقیناً بہت پیاری ہو گی۔
لو بھئی ایک غزل حاضرِ خدمت ہے
عرشی ملک
عرشی آپا خوش رھیں۔۔ آ پکی اتنی محبت نے اشک بار کردیا۔۔۔۔ آپکی انتہائ جامع اور پر اثر نظم ملی ھے ماشا اللہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت کمال ھنرمندی سے نازک احساسات کے سچے رنگوں کو لفظوں میں مقید کرتی ھیں ،،واہ واہ بہت خوب ۔۔
جب واہ واہ کلب کی رکنیت بھی ھم کو محترم صفدررضا ھمدانی صاحب نے اسی لیے دی تھی کہ اگلی صفوں میں بیٹھہ کر داد و تحسین کے نعرے لگایئں۔۔۔ اور میں سمجھتی ھوں کہ دنیا میں کسی کو خوش کرنے سے بہتر کام نیہں کہ کسی کی محنت پر تعریف و توصیف
کے ذریعے حوصلہ بڑھا جاۓ اور اس کا م میں سچی خوشی ملتی ھے۔۔ ۔۔
———————————–
اسلام آباد سے محترمہ عرشی مللک صاحبہ کے انفرادی مزاج کی ایک سادی سچی اور سبق آموز نظم
ہتھیلی پر لیے دل ھر گلی بازار میں اۓ
ھم ایک ٹوٹا کھلونا بیچنے بازار میں آۓ
بہت انمول تھے جذبے دلوں میں قید تھے جب تک
بہت ہلکے ھوۓ جب پیکر اظہار میں آۓ
سبھی نے ھم کو سمجھایا قدم نہ عشق میں رکھنا
مگر ھم بے دھڑک اس وادی پرخار میں آۓ
ھوا جب سامنا تیرا تو سب سدھ بدھ گی اپنی
بہت پندار میں تھے جب تیری سرکار میں آۓ
بہت محدود ھیں سوچیں سو تجھہ کو پا نیہں سکتیں
تو لامحدود ھے کیسے میرے افکار میں آۓ
میں پابند سلاسل ھوں ،میری روح رقص پیہم میں
انا لحق کی صدا اس رقص کی جھنکار میں آے
محبت مشک کی صورت چھپاۓ سے نیہں چھپتی
عمل بن کر کبھی مہکے کبھی گفتار میں آۓ
انا کی آھنی بیڑی کو توڑا ایک جھٹکے سے
دھمالیں ڈالتے پھر ھم تیرے دربار میں آۓ
تیری خواھش نے میری روح میں ھلچل مچا دی ھے
کہ پیہم زلزلہ سا اک در ودیوار میں آۓ
بہت سے ذائقے کڑوے کسیلے مجھکو چکھنے ھیں
عجب کیا چاشنی آخر میرے اشعار میں آے
یہ ھر آۓ گۓ سے تیرے قصے چھیڑ دیتا ھے
دل ناداں کو کتنا لطف ذکر یار میں آۓ
خوشی کے دن بھی اپنے دل کی ویرانی کچھہ ایسی ھے
ھوں جیسے ھم غریبوں کے کسی تہوار میں آۓ
اگر میں کھل کے رو پاوں تو شاید وحشتیں کم ھوں
دھلیں یہ تلخیاں ،نرمی میری گفتار میں آۓ
امنگوں کی جگہ اب حسرتوں کی دھول آڑتی ھے
میں اک خواھش ھوں ایسی جو دل نادار میں آۓ
یہاں سے کوئ کوئ جاں سلامت لے کے جاتا ھے
ہمیں تھے سر پھرے ، اس وادی دشوار میں آۓ
جنون عشق ھے یہ یا کہ ھے سودائ پن اپنا
مزہ اس دل کو اس کی جیت ، اپنی ھار میں آۓ
جسے اجڑے مکاں ویراں کھنڈرعرشیّ لبھاتے ھیں
وہ آۓ شوق سے میرے دل مسمار میں آۓ
عرشی جی بہت پیاری،مرصع اور اچھوتی غزل ہے۔ اس غزل نے آپکی ستر کے عشرے کے اوائل کے دن یاد کروا دیئے جب آپ واقعی ملکہ غزل ہوا کرتی تھِں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب آپ ملکہ غزل نہیں ہیں۔
جسے اجڑے مکاں ویراں کھنڈرعرشیّ لبھاتے ھیں
وہ آۓ شوق سے میرے دل مسمار میں آئے
واہ واہ واہ
عرشی صاحبہ حقیقت میں ملکہ ء سخن ہیں ۔
انہوں نے اتنی اچھی اچھی غزلیں ہم کوعطا کی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اتنی اچھی اچھی نظمیں بھی۔
آج میرے پاس انہوں نے ایک طویل ( انیس بند پر مشتمل ) نظم بھجوائی جس کا عنوان ہے :
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
۔۔۔۔۔
افسوس کہ کمپیوٹر کے بار بار ٹوٹ جانے کے باعث میں اپنے کمپیوٹر سے ان کی اس نظم کو یہا ں منتقل نہ کرسکونگا۔
میں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ شاہین رضوی صاحبہ کے پاس یہ نظم بجھوادیں ۔
کوشش کرونگا کہ میں اور شاہین رضوی صاحبہ مل کر اس نظم کو یہاں منتقل کردیں:
پہلا بند ملاحظہ ہو:
نگاہوں میں خدائے پاک کی مردار ہے دنیا
سبھی نبیوں کا کہنا ہے ذلیل و خوار ہے دنیا
بظاہر خوب رُو ہے صاحبِ دستار ہے دنیا
مگرجب معاملہ درپیش ہو عیا ر ہے دنیا
دُکاں شیطان کی ہے اُس کا کاروبار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
۔۔۔۔
باقی آئیندہ : اگر شاہین صاحبہ نے اس کے بقیہ بند شایع کیے تو مہربانی ورنہ میں ہی کوشش کرونگا کہ کسی نہ کسی کمپیوٹر سے اس نظم کو اس بلاگ میں شایع کردوں
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
کہے یہ صدر زرداری کہ کاروبار ہے دنیا
ملک رحمٰن کہتا ہے ”تری سرکار” ہے دنیا
کہے گیلان کا یوسف میرا گھر بار ہے دنیا
بلاول چیخ کے بولا مری غم خوار ہے دنیا
جودنیا ایسے لوگوں کی تو میں دنیا سے پچھتایا
ملیں گے پھر اگر بارِ دگر ہم کو خدا لایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشرف کی یہ دنیا ہے جو لندن کی ہوا میں گُم
وطن سے دور آکر آج ہے بیگم ”صبا” میں گُم
مثالِ مولوی دستار میں گُم ہے قبا میں گُم
جو لمحے بھر کو ہوجاتا اگر یادِ خدا میں گُم
تو پھر یہ اپنے ہاتھوں خود ذلیل و خوار نہ ہوتا
جگہ پہ اسکی بیٹھا آج یہ زردار نہ ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دنیا چیف جسٹس کی یہ دنیا ہے کیانی کی
یہ دنیا اس زمیں پر رہتے ہر جنت مکانی کی
یہ دنیا اُس بڑھاپے کی یہ دنیا اِس جوانی
یہ دنیا میرے دادا کی یہ دنیا تیری نانی کی
یہ دنیا ایسا دھوکہ ہے کھُلی آنکھوں جو کھاتے ہیں
ہم اپنے ووٹ سے قاتل کو خود سلطاں بناتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دنیا مولوی کی ہے کہ جو ایمان بیچے ہیں
نبی کا نام لیکر اُس کا ہی فرمان بیچے ہے
یہ چاہے فکر بیچے چاہے تو وجدان بیچے ہے
جو آئے بیچنے پہ آیتِ قرآن بیچے ہے
یہ دینِ مصطفیٰ کو بیچ دے ڈالر کے بدلے میں
جو چاہے کاٹ لے گردن کو یہ کالر کے بدلے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
جو شاعر بیچ دے اپنا قلم دنیا یہ اُس کی ہے
جسے عزت کے بکنے کا نہ غم دنیا یہ اس کی ہے
رہے ابلیس کا جس پر کرم دنیا یہ اُس کی ہے
ضمیر اپنا نہ جس کو محترم دنیا یہ اُس کی ہے
ہاں چاہت بوالہوس جس کی ہوئی اُس کا خداحافظ
یہ دنیا ہم نفس جس کی ہوئی اُس کا خدا حافظ
سبحان اللہ ، بہت عمدہ ، کیا کہنے صفدر ہمدانی صاحب کیا کہنے ، اور دیکھئے آج بیساختگی میں مجھے ’’ السلام علیکم ‘‘ کہنا بھی یاد نہیں رہا ۔
آصف احمد بھٹی
واہ ہمدانی صاحب ! کیا دنیا کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔
اس طرح فی البدیہہ لکھنا تو اآپ ہی کا حصہ ہے۔
اآپ کی نظم پڑھ کر تو اپنہ نظم پھیکی لگنے لگی
جناب منظور قاضی صاحب،،سلامت رھیں 19 بند پر مشتمل عرشی آپا کی نظم کو رقم کرنے میں ضرور آپکی مدد کرونگی ۔۔کاش ھم اپنے ان حساس قلم کاروں کا حق ادا کر سکیں ۔۔۔
نگاہوں میں خدائے پاک کی مردار ہے دنیا
سبھی نبیوں کا کہنا ہے ذلیل و خوار ہے دنیا
بظاہر خوب رُو ہے صاحبِ دستار ہے دنیا
مگرجب معاملہ درپیش ہو عیا ر ہے دنیا
دُکاں شیطان کی ہے اُس کا کاروبار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
بہت اعلی بہت خوب
عرشی جی سچ کہا…بدی پھیلانا تو ہمارا ہی حصہ ہے اور کون ظالم انکاری ہے اس سے.لیکن بیان کا دوسرا حصہ مشکوک ہے کہ اس لفاظی کے سامنے آپکی نظم پھیکی پڑ گئی.
بھئی کوئی دادا دینا تو آپ سے سیکھے.
داد دینے کا عجب انداز ہے
داد کا یہ ساز بے آواز ہے
کہہ رہی ہیں عرشی خانم واہ واہ
اس طرح جیسے یہ کوئی راز ہے
عرشی صاحبہ کی نظم “ سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا“
کے اگلے چند بند:
سجاتی ہے یہ خود کو تاہمیں غافل کیے رکھے
اداوں سے ہمیں اپنی سدا گھائل کیے رکھے
بُھلا بیٹھیں خدا کو اس قدر مائل کیے رکھے
کئی آنوں بہانوں سے ہمیں قائل کیے رکھے
بھُلا دیتی ہے سب ہوش و خرد ہشیار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
ذلیل و خوار یہ مُردار بکری سے زیادہ ہے
ہے بوڑھی بد شکل لیکن حسیں اس کا لبادہ ہے
جکڑ لے سب کو اپنے جال میں اس کا ارادہ ہے
اسی مقصد کی خاطر مدتوں سے ایستادہ ہے
بُلاتی ہے سرِ راہ ، شام کا اخبار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
اسے کتنا بھی ہم چاہیں، مگر کل چھوڑ جائے گی
بہت ہے عاشق و شیدا مگر منہ موڑ جائے گی
بنے گی اجنبی اور سارے رشتے توڑ جائے گی
پکڑ میں یہ نہ آئے گی یکایک دوڑ جائے گی
پھسل جاتی ہے ہاتھوں سے عجب مکّار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
نہ جانے ہر گھڑی کتنوں کو یہ برباد کرتی ہے
یہ شیریں ، عاشقوں کو عشق میں فرہا د کرتی ہے
یہ کُھدواتی ہے نہریں، ہر گھڑی بیداد کرتی ہے
لگاتی ہے نئے لارے، نئی اُفتا د کرتی ہے
بظاہر نور، لیکن در حقیقت نار ہے دنیا
سیانےبھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
یہ اپنے رنگ میں سب کو رنگے، کیسا کمال اس میں
اگر پانی کو بھی چُھولے ، تو آجائے اُبال اس میں
عروج ایسا ہے دنیا کا کہ پوشیدہ زوال اس میں
یہا ں کالا ہی کالا ہے نہ دیکھی ہم نے دال اس میں
مگر ، تڑکا، کچھ ایسا ہے کہ خوشبودرا ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
۔۔۔۔۔۔
اگلے بند پھر کبھی
۔۔۔۔
فقط:
کاتب
منظور قاضی
جرمنی سے
عرشی جی کا ایک اور شاہکار۔ہمیں خوشی ہے کہ انکی تخلیقات کہیں ایک جگہ جمع تو ہورہی ہیں۔ برادرم منظور قاضی۔ عزیزم شاہین رضوی اور محبی مناف کا شکریہ کہ انکی معاونت وسیلہ حصول علم بن رہا ہے۔
اپنے قد سے بڑی بات کر رہا ہوں اور بڑے مان سے کہہ رہا ہوں کہ اگر از راہ کرم اس مصرعے کو دیکھ لیں
”ہے بوڑھی بد شکل لیکن حسیں اس کا لبادہ ہے”
اسمیں شکل،ک پر زبر کے ساتھ آ رہا ہےSHAKALجبکہ اسے SHAKLہونا چاہیئے. چھوٹا منہہ اور بڑی بات. بس الفاظ آگے پیچھے کر دیجئے میری کم علمی کہتی ہے مسلہ حل ہو جائے گا.
”ہے بوڑھی شکلِ بد لیکن حسیں اس کا لبادہ ہے”
عرشی صاحبہ کی نظم بعنوان “ سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا “ کا تسلسل جاری ہے :
یہ دنیا کی کمائی کیا ہے بس مٹی کا ڈھونا ہے
خدا کی گر رضا مل جائےتو پاسے کا سونا ہے
وگرنہ آگ ہے ، ذلت ہے ، شعلوں کا بچھونا ہے
وہاں پھر چیخنا ہے ، سر پٹخنا اور رونا ہے
کُھلے گر آنکھ اندر کی تو پھر بے کار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
بہت سوں کو فقط چُلو میں یہ اُلو بناتی ہے
یہ اپنی انگلیوں پر ناچ لاکھوں کو نچاتی ہے
بہت غمزے، بہت عشوے، بہت جلوے دکھاتی ہے
کسی کو یہ چڑھاتی ہے ، کسی کو یہ گراتی ہے
خسارہ جس میں سو فیصد ، وہ کاروبار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
نہ اس کی ابتداء نہ انتہا معلوم ہوتی ہے
زمانے کھا گئی کتنے بلا معلوم ہوتی ہے
نظر کی بات ہے یہ کس کو کیا معلوم ہوتی ہے
مجھے تو یہ کسی کی بد دعا معلوم ہوتی ہے
بہت ہی مطلبی ہے کب کسی کی یار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
مسافر ہو تو زادِ راہ لو اور راستہ پکڑو
نہ اس کے ریشمی پھندے میں اپنےآپ کو جکڑو
خدا کے سامنے طاقت نہ کام آئے گی اے تکڑو
جہاں جھکنا ہے لازم اس جگہ بیکار مت اکڑو
خدا والوں کی خادم ہے کفش بردار ہے دنیا
سیانےبھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
بہت یہ بے وفا ہے کل تری تھی آج میری ہے
ہر اک عاشق کو اپنے کھا گئی کب اس کو سیری ہے
جہاں کل قمقمے تھے آج وہ بستی اندھیری ہے
کوئی عاقل اگر ہو تو نصیحت یہ بہتیری ہے
سدا سے زہر میں ڈوبی ہوئی تلوار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
ہو جس پر مہرباں یہ دین کو اس کے چباجائے
یہ وہ آندھی ہے شہتیروں کو جو تنکا بنا جائے
خدا کا آسرا ہی اس کے مکروں سے بچا جائے
اگر ہوں بند دروازے تو یہ کھڑکی سے آجائے
حیاء اس میں نہیں کوئی زنِ بدکار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
رہِ مولا کے ہر راہی کی رہزن ہے یہی دنیا
نہیں گھر جس کا کوئی اس کا مسکن ہے یہی دنیا
رنگارنگ رونقوں سے گو مزین ہے یہی دنیا
بظاہر خوب رُو اندر سے ناگن ہے یہی دنیا
سلجھ پاتی نہیں اک عقدہِ دشوار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
پڑھالو جس قدر بھی دوستی یہ بے وفا تو ہے
تو پھر نادان کیوں بنتے ہو تم ، تم کو پتہ تو ہے
ہر اک کو واسطہ تھوڑا بہت اس سے پڑا تو ہے
پھر اس کی بے وفائی کا ہراک دل میں گلہ تو ہے
بظاہر دوست لیکن در پئے آزار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
۔۔۔۔۔
اگلے چار بند آئیندہ پھر کبھی ۔
نوٹ :
میں عرشی صاحبہ سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی اس نظم کے بقیہ حصہ کو شاہین رضوی صاحبہ کے پاس روانہ کردیں تاکہ وہ بقیہ چار بند اس بلاگ میں شایع کردیں ( اگر شاہین رضوی صاحبہ سے یہ کام نہ ہوسکا تو میں کسی نہ کسی کمپیوٹر سے بقیہ کے بند بھی اس بلاگ میں شایع کردونگا )
صرف اگلے بند میں “ اغیار “ کے قافیہ پر میں نے عرشی صاحبہ سے اپنے ای میل کے خط میں جو بات پوچھی ہے اسکی وضاحت بھی ان سے چاہتا ہوں ۔ ا( وہ اپنی رائے سے مجھے اور شاہین رضوی صاحبہ کو مطلع کرسکتی ہیں )
فقط:
کاتب
منظور قاضی
ازجرمنی
جب تک عرشی صاحبہ کا جواب آتاہے میں انکی اس نظم کے تین اور بند پیش کرتاہوں:
ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی نظم بعنوان“ سیانےبھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا “ کے تین بند:
جہاں تقدیر آجکڑے وہا ں ناقص ہیں تبدیریں
ہر اک جنبش پہ بج اُٹھتی ہیں ایک قیدی کی زنجیریں
یہ سب رنگینیاں دنیا کی میرا اور دل چیریں
بنی ہوں جیل کی دیوار پر جس طرح تصویریں
کسی فنکار کےفن کی عجب شہکار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
یہ اک بازار ہے ، بازار میں ڈیرا نہیں اچھا
انہیں گلیوں میں صبح و شام کا پھیرا نہیں اچھا
تمناوں کا دل پر اس قدر گھیرا نہیں اچھا
گنوا کر وقت ، ملنا ہاتھ کا تیرا نہیں اچھا
کچوکے بعد میں دے گی بہت بدکار ہے دنیا
سیانے بھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
فنا ہےنقش عرشی ، اس کی ہر شئے پر ہمیشہ سے
بناو جو بھی اس کے ٹوٹنے کا ڈر ہمیشہ سے
یہیں پر دل لگا لیتے ہیں اہلِ زر ہمیشہ سے
سرائے کو سمجھ لیتے ہیں ناداں گھر ہمیشہ سے
لبھا لیتی ہے سب کو کتنی پر اسرار ہے دنیا
سیانےبھی جہاں لُٹ جائیں وہ بازار ہے دنیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ :
سوائے ایک بند کے میں عرشی صاحبہ کی پوری نظم اس بلا گ میں شایع کرچکا ہوں ۔ ( جس کے لیے میں اللہ کا مشکور ہوں )
ایک بند جو مجھ سے شایع نہ ہوسکا اسکو عرشی صاحبہ خود اس بلاگ میں یونی کوڈ میں تحریر فرمادیں تو مہربانی ہوگی ۔
میں عرشی صاحبہ کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے کم علم کو اس قابل سمجھا کہ انکے کلام کو عالمی اخبار میں یونی کوڈ میں منتقل کردوں ۔
۔۔۔۔
میں پہلے بھی کہیں غالب کے اس شعر کو الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ لکھ چکا ہوں کہ :
ہیں اور بھی اردو کے سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ عرشی کا ہے اندازِ بیا ں اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہین رضوی صاحبہ کو آداب و سلا م ۔ انکو انشااللہ کل عالمی مشاعرہ میں جو ریڈیو پاک سلونا اسپین سے جمعرات یکم اپریل کی شام سات سے نو بجے ( اسپین کے وقت کے مطابق نشر ہوگا ) سننے کی کوشش کرونگا۔ اس کے منتظمین نے مجھےمطلع کیا ہے کہ دنیا بھر سے ، منتخبہ شعرا اور شاعرات جن میں شاہین رضوی صاحبہ بھی شامل ہیں حصہ لے رہے ہیں ۔ منتظمین نے یہ بھی کہا ہے کہ http://www.ahlegalam.com پر مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔
میں ان منتظمین سے کہ چکا ہوں کہ ارشاد عرشی ملک اور ڈاکٹر پنہاں جیسی شاعرات کو بھی اس قسم کے مشاعروں میں مدعو کرنا چاہیے۔ انکے بغیر ایسے مشاعرے نامکمل رہینگے۔ ( یہ میرا اپنا خیال ہے )
بہر حال : اسپین میں رہنے والوں کی اور انکی اعانت میں جرمنی میں چند رہنے والوں کی ہمت اور کوشش کی داد دینی چاہیے ۔
یہ اردو کی ترویج اور ترقی کرنے والوں کی ہمت ہے کہ وہ ریڈیو پر ایسے عالمی مشاعرے منعقد کررہے ہیں۔
کیا جرمنی ، انگلینڈ اور امریکہ میں بھی ایسے مشاعرے منعقد ہوسکتے ہیں؟
فقط:
اردو کا شیدائی
منظور قاضی
جرمنی سے
تصحیح: میرے اوپر کے تبصرے میں :
http://www.ahleqalam.com پڑھئے ۔ شکریہ
کمپوزنگ کی مزید کوئی غلطی ہوگئی ہو تو براہ کرم شاہین رضوی صاحبہ اس کی تصحیح کردیں ۔ شکریہ
جناب منظور قاضی صاحب۔۔ اللہ پاک آپ کو صحت و تندرستی اور دارین کی ھر نعمت عطا فرماۓ ،،آمین ثم آمین۔۔۔۔
میں اھل قلم کی جانب سے ھونے والے ریڈیو پروگرام میں شرکت نیہں کر سکونگی ۔۔کیونکہ اسی دن اور تقریبا اسی وقت ایک اور ادبی محفل ھے۔۔۔جس میں شرکت کا وعدہ میں کافی دن پہلے کرچکی تھی مذکورہ بالا لنک بالکل درست ھے آپکی تجویز بہت بہترین ھے
میں منتظمین سے کہہ کر ایک ایسے صوتی مشاعرے کے انعقاد کی درخواست کرونگی جہاں عالمی اخبار کے سارے دوست یکجا ھوسکیں ۔۔
ہمدانی صاحب ۔آپ نے کمالِ شفقت سے مصرعے کی جو اصلاح فرمائی ہے اس کے لئے میں آپ کی بہت شکر گذار ہوں۔
واقعی ذرا سی رد وبدل سے مصرع بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
منظور قاضی صاحب نے ہمت کر کے نظم لگا ہی دی ۔ان کا بھی میں دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔
اور ان کی اور ان کے کمپیوٹر کی صحت کے لئے دعا گو ہوں
ماشااللہ عرشی صاحبہ، آپ کی نظم میں فکروفن دونوں موجود ہیں. پڑھ کر لظف آیا.
عرشی آپا۔ایک بار پھر بہت خوبصورت
نام پنسل کے تھا جو عرشی پیام
اب وھی پیغام ھے انساں کے نام
کام کر سکتا ھے تو بس شک بڑے
اپنی ضد پہ گر نہ ھر لحظہ اڑے
سونپ دے خود کوخدا کے ھاتھہ میں
کہہ سمعنا اور اطعنا ساتھہ میں
سبحان اللہ۔ آمین۔ثمہ آمین
ہر کسی کو اپنا پنکھا چاہیے
اک خلش سی تھی مجھے شام و سحر
مسجدیں مندر ہیں جگ میں اس قدر
خانقاہیں ،گردوارے،گرجا گھر
گر خدا ہر ایک جا موجود ہے
کیوں ہے پھر دنیا میں اتنا شور و شر
ایک دوجے سے ہے کیوں اتنا حذر
ایک دانا نے جواب اس کا دیا
ہر جگہ موجود ہے گرچہ ہوا
پر اسے محسوس کرنے کے لئے
ہر کسی کو اپنا پنکھا چاہیے
پیاری عرشی آپا ۔۔۔۔سلامت رھیں ۔۔ھر کسی کو اپنا پنکھا چاھیے،،،آپکی مختصر مگر پر اثر نظم بہت اچھی لگی بہت خوب۔۔۔
اسلام آباد کے کہساروں سے محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک اورخوبصورت نظم ،، مرکزی خیال ،انگریزی ادب سے ماخوذ
’’ ریت پر قدموں کے نشاں “
یاد میں اللہ کی رو رو کے سوئ ایک شب
رات کے پچھلے پہر اک خواب پھر دیکھا عجیب
ریگ ساحل پر چلی جاتی تھی میں
اور میرے ساتھہ تھا میرا خدا
مثل یار مہربان و آشنا
میں چلی ھمراہ اس کے دور تک
اک تجلی کی طلب میں طور تک
—————————
دفعتا اک روشنی آکاش پر آئ نظر
سامنے آۓ میرے بیتے ھوۓ شام و سحر
آسماں کے پردہ سیمیں پہ گویا اس گھڑی
میری بیتی عمر کی اک فلم سی چلنے لگی
مجھکو خوشیاں بھی نظر آیئں وھاں دکھہ درد بھی
لہلہاتے باغ بھی تھے اور موسم زرد بھی
—————————-
ان منا ظر میں نظر آتے رھے
ریت پر نقش کف پاء جا بجا
تھے کہیں پر دو کے قدموں کے نشاں
اور کہیں پر ایک تھا تنہا رواں
============
گھر گئی یہ دیکھہ کر میں اک عجب جنجال میں
جو تھے گذرے چین سے ان سارے ماہ و سال میں
ساتھہ تھا میرے خدا مانند یار مہرناں
ریگ ساحل پر تھے ھم دونوں کے قدموں کے نشاں
————————————–
پھر وہ دن آۓ کہ جب مشکل میرے حالات تھے
کرب اور بےچینیوں سےپر میرے دن رات تھے
میرے بیتے وقت میں ، جو دن تھے بوجھل دکھہ بھرے
جب شکتہ دل تھی میں اور زخم تھے میرے ھرے
ابتلاوں نے مجھے ھر رخ سے تھا گھیرا ھوا
ھر کسی اپنے پراۓ نے تھا منہ پھیرا ھوا
ان دنوں بھی ریت پر تھے گرچہ قدموں کے نشاں
فرد واحد کے مگر چلنے کو کرتے تھے عیاں
————————————-
میری بیتی زندگی یہ فلم چلتی رھی
ایک رنجش سی میرے دل میں مگر پلتی رھی
خواب میں شکوہ کیا میں نے لب نادان سے
میں نے تو دامن تیرا تھاما تھا مولا مان سے
اے خدا میرے تجھے کیا یاد ھے وعدہ تیرا
جو کہ تونے مجھہ شکتہ دل سے تھا اک دن کیا
گر تیرے احکام کی میں پیروی کرتی رھی
استقامت سے قدم اس راہ پر دھرتی رھی
ساتھہ تو میرے رھیگا میرے ماہ و سال میں
تو مجھے تنہا نہ چھوڑےگا کسی بھی حال میں
——————————
دیکھہ کر عمر گذ شتہ کا مگر یہ ماجرا
ھوگیا ھے دل پریشاں اے میرے پیارے خدا
میں نے دیکھے ھیں جو منظر دکھہ بھرے لمحات کے
جب مجھے امید تھی بس ایک تیری ذات سے
ان مناظر میں میرے اللہ میرے مہرباں
ریت پر ھیں ایک ھی رہرو کے قدموں کے نشاں
چھوڑ کر تنہا مجھے تو جا چھپا تھا تب کہاں
——————————
میرا شکوہ سن کے عرّشی مسکرا اٹھا خدا
پھر محبت سے مجھے لپٹا کےیوں اس نے کہا
میری بچی کس لیے مجھہ سے ھے اتنی بدگماں
جن دنوں تو دیکھتی ھے اک کے قدموں کے نشاں
گود میں تجھہ کو اٹھا رکھا تھا میں نے جان جاں
شاہین کہاں غائب ہو۔ پاکستان میں بجلی کی طرح آتی کم اور جاتی زیادہ ہو۔ چلو عرشی آپا کی وجہ سے کم ازکم چاند کی طرح دکھائی تو دے جاتی ہو۔ میں ذرا آج کل کم آ رہی ہوں بلاگ پر کیونکہ ہاسپٹل کی ڈیوٹیاں جان لے رہی ہیں اور اخبار کا کام بھی زیادہ ہے۔
تمہارا ای میل بھی مل گیا تھا اب تم سب دوستوں کی دعاؤں کے طفیل امی خاصی بہتر ہیں۔ آپ سبکا شکریہ
بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ،سلامت رھو۔ خوش رھو، اللہ پاک والدہ محترمہ کو شفاۓ عاجل عطا ،صحت کامل عطا فرماۓ آمین
مجھے تمھاری بے پناہ مصروفیات کا اندازہ ھے اور ساتھہ ھی اس بات کا یقین بھی کہ اللہ پاک سچی محنت کا صلہ ضرور عطا کرتا ھے اور ساتھہ میں تمھارے لیے بہت ساری دعایئں بھی ھیں ۔۔۔ مجھے چاند سے تشبہہ دی ھے وہ سخت برا ماننے گا،، اب چاند کی ناراضگی تم ھی بھگتنا ۔۔۔بلاگ میں تمھارے آنے سے بہت رونق ھوجاتی ھے ۔۔۔اور سونا بلاگ کہکشاں بن جاتاھےاللہ پاک تم کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین