پختون پاک نام کیسا رہے گا؟

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام بدل کر پختون خواہ نام رکھنے کی تجویز زیرِ بحث ہے ۔۔

کیوں نہ اسکا نام پختون پاک رکھا جائے؟

اس طرح یہ صوبہ پختون پاک یعنی پاکستان کا ہی حصہ کہلایا جائے گا جس کے باعث اس صوبے کے تمام افراد اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرسکینگے اور اپنی پختون شناخت کو بھی محفوظ رکھ سکینگے ۔
اگر ابھی وقت ہے تو اس نام کوبھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے ۔
یہ میرا اپنا مشورہ ہے ۔
پھول آخر پھول ہی رہے گا خواہ اسے کسی نام سے پکارا جائے۔
میرے خیال میں ُپختون پاک نام نہایت ہی موزوں نام ہے۔

17 thoughts on “پختون پاک نام کیسا رہے گا؟”

  1. چونکہ عالمی اخبار دنیا بھر میں اور خاص طور پر پاکستان میں اور شائد پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد میں بھی پڑھا جاتا ہے اس لیے میں یہ چاہتا ہوں کہ ا س صوبے کی نام کی تجاویز بھی اس اخبار میں پیش کی جاسکتی ہیں ۔
    اس صوبے کا نام ( جو نام بالکل نہیں ہے ۔ صرف جغرافیائی حیثیت کی نشاندہی ہے ) پختون پاک رکھا جائے تو میرے خیال میں اس صوبے کے باشندوں کو ضرور پسند آئےگا۔
    اس پر ریفرنڈم بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اگر اس صوبے کے باشندے اس نام سے مطمئن ہیں تو انکی مرضی ورنہ وہ چاہے پختون خواہ نام رکھیں یا کسی اور نام سے اس صوبے کو پکاریں۔
    میرے خیال میں خواہ کا لفظ خواہش کی ترجمانی کرتا ہے ۔ اسی طرح جیسے خیر خواہ ، بد خواہ ، خواہ مخواہ وغیرہ
    ۔ اگر پختون قوم اپنی خواہش کا اظہار کرنے پر مصر ہے تو وہ پختون خواہ نام رکھے ورنہ پختون پاک ہی بہتر نام رہے گا ۔
    پختون پاک میں پاکستان سے اپنائیت کا اظہار ہوتا ہے ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  2. السلام علیکم
    محترم منظور قاضی صاحب ، بہت عمدہ خیال اور تجویز ہے ، اصل میں مسئلہ کو خواہ مخواہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے ، ریفرینڈم ہی سب سے بہتر حل ہو سکتا ہے ، اور ’’ پختون خواہ ‘‘ شاید ’’ پختون خوا ‘‘ ہے ، مسئلہ لفظ ’’ خواہ ‘‘ یا ’’ خوا ‘‘ کا نہیں ، لفظ ’’ پختون ‘‘ کا ہے ، صوبے میں رہنے والے دوسرے لوگ اور ایک بڑی تعداد میں پشتون بھی ’’ پختون خوا ‘‘ کے حق میں نہیں ہیں ، میں چونکہ خود ایبٹ آباد سے ہوں اِس لیے جانتا ہوں کہ پورا ہزارہ بلٹ ’’ پختون خوا ‘‘ کے حق میں نہیں ہے اور اب تو اِسے سیاسی رنگ بھی دے دیا گیا ہے ، ’’ خیبر ‘‘ یا ’’ افغانیہ ‘‘ پر تقریبا اکثریت متفق ہے ، مگر سب سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سیاسی پوائنٹ اسکور کرنے کے چکر میں ہیں ، اگر ریفرینڈم کروالیا جائے تو سب سے بہتر ہوگا ورنہ دو نام باہم ملا کر رکھے جاسکتے ہیں اور آپ کا دیا ہوا نام بھی بہت بہتر ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. قاضی صاحب اول تو میں اور آپ خاصے شریف لوگ ہیں اسی لیئے کسی سرکاری ادارے یا فیصلوں کی قوت سے عاری پارلیمان کے رکن نہیں ہیں اس لیئے ہمارے آپ کے نام رکھنے سے کیا فائدہ؟ ہم چاہے کیسا بھی قبل عمل اور خوبصورت نام رکھ لیں اور یہ نام صوبہ سرحد کے عوام سمیت دنیا بھر میں رہنے والے ہم وطنوں کو متفقہ طور پر منظور بھی ہو تو اس سے کیا فرق پڑے گا. یہ فتنہ پرور سیاست دان تو وہی کریں گے جو انہوں نے کرنا ہے.
    قاضی صاحب اس فقیر نے تو ان کروہ چہروں اور عوام دشمن عناصر کو بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے اور اسی لیئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے سیاستدانوں کا مقصد مسائل حل کرنا نہیں بلکہ مسائل پیدا کرنا ہے اور سیاست اسی شعبدہ بازی کا نام بن گیا ہے.
    شاید آپ اور کچھ احباب اس بات سے اتفاق کریں کہ اگر صوبہ سرحد کا نام پختونستان کا پختونخواہ رکھ دیا جائے تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟ کیا وہاں کے عوام کی غربت ختم ہو جائے گی؟ کیا صوبے میں دہشت گردی ختم ہو جائے گی؟ کیا دودھ شہد کی نہریں بہنے لگیں گی؟
    دوسری طرف اگر اسکے نام میں اباسین یا خیبر کا اضافہ ہو جائے تو کیا صوبہ کسی اور ملک کا حصہ بن جائے گا؟
    ہاں یہ افغانیہ والا نام بے معنی،لایعنی اور واہیات بات ہے جو ن لیگ کے کسی سرکاری درباری دانشور کی گل افشانی ہے.
    بات یہ ہے کہ باچا خان کے زمانے سے اے این پی یہ چاہتہ تھی کہ صوبے کا نام بدلے اور اب جب مخلوظ حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں یہ کام کرنے کا موقع ملا ہے تو وہ بھلا اسے کیوں نہ کریں؟ اسی کا نام تو سیاست ہے.
    قاضی صاحب کاش اپنے وطن میں فیصلوں کا اختیار تمام جمہوری ممالک کی طرح عوام کے پاس ہوتا،عوام کی تجارت کرنے والے کریہہ الفطرت سیاسی شطرنج کے مہروں کے پاس نہیں.
    سرکار ویسے اب کوئی اچھا لفظ نہیں رہ گیا کہ کسی کو سرکار کہہ کر مخاطب کیا جائے لیکن پھر بھی سرکار قاضی صاحب اصل خبر تو یہ ہے وطن عزیز کے وہ سیاست دان جن پر ہر حکومت میں ”رحمان کا خاص فضل” رہا ہے یعنی فضل الرحمٰن، انہوں نے بڑے واضع الفاظ میں ایک نجی ٹی وی اے آر وائی میں کہا ہے اور اس فقیر نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ ” دبئی فون کر کے صدر زرادری نے انہیں دھمکی دی تھی کہ تم ڈیری اسماعیل خان کا یہ الیکشن جیت کر دکھانا”.
    جس ملک کا صدر اس نچلی سطح پر اتر آئے وہاں آپ اگر ایسا اچھا نام تجویز بھی کر دیں گے تو کیا ہو گا؟

  4. بہت اچھی تجویز ہے

    لیکن ایک پٹھان یہ پوچھے گا کہ اگر پنجاب کا نام پیجاب پاک نہیں اور
    سندھ بھی سند پاک نہیں کہلاتا اور
    بلوچستان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے تو یہ امتیاز یہ افتخار پختونوں ہی کو کیوں نصیب ہو رہا ہے ؟؟؟ اور
    جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ

    “اس طرح یہ صوبہ پختون پاک یعنی پاکستان کا ہی حصہ کہلایا جائے گا جس کے باعث اس صوبے کے تمام افراد اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرسکینگے اور اپنی پختون شناخت کو بھی محفوظ رکھ سکینگے ۔”

    اگر باقی تین صوبوں کے ناموں میں بغیر لفظ “پاک” کے اضافہ کے پاکستان کا حصہ کہلوانے، افراد کے پاکستانی ہونے پر فخر کرنے، اور اپنی اپنی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے کوئی دقت نہیں تو پختونوں کو بھی انہی جیسا پاکستانی سمجھا جائے.

  5. السلام علیکم
    عبدالمناف بھائی ، آپ نے درست فرمایا مگر بات اتنی سادہ نہیں ہے یہ ہمیں تقسیم در تقسیم کرنے والی بات ہے ، کہ صوبے میں صرف پٹھانوں کی ہی نہیں ہے اور بھی اقوام رہتی ہیں سیاست دانوں کو تو اپنی دوکان چمکانے کے لیے ایشوز چاہیے ہوتے ہیں یہی تو اصل مسئلہ ہے کہ ایک چھوٹی سی بات کو خواہ مخواہ سیاست کا حصہ بنا دیا گیا ہے، اور پھر ہر ایک اپنی سیاست کرنے لگا ہے ، اگر پختون خوا ہی رکھنا ہے اور لگتا ہے یہی رکھا بھی جائے گا تو یقین جانئیے جلد ہی ملک میں ایک چھٹا صوبہ بھی بن چکا ہوگا آپ یقینا جانتے ہی ہونگے کہ ہزارہ قومی محاذ HQM کے نام سے نوجوانوں کی ایک تنظیم پچھلے دیڑھ عشرے سے ہزارہ صوبے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے مگر عوام میں اُسے پزیرائی نہیں ملی کہ ہزارہ کے عوام ابھی تک صوبہ سرحد کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں مگر اگر اُنہیں یہ احساس دلایا گیا کہ وہ صوبہ میں دوسرے درجہ کے شہری ہیں تو یقینا وہ HQM کی تحریک اور آواز پر کان دھریں گے جو یقینا پھر ایک نئے صوبے کے قیام پر ہی ختم ہوگا اِس لیے اگر کوئی درمیانی راہ نکالی جائے تو زیادہ مناسب ہوگا سب سے بہتر یہی ہے کہ عوام سے اُن کی رائے لی جائے اگر ماضی میں ایسا نہیں ہوا اور باقی صوبوں کو کسی بھی وجہ سے وہ نام مل گئے ہیں جو وہاں بسنے والی اقوام کی اکثیریت کے ہیں تو بھی یہ کوئی عقل مندانہ دلیل نہیں ہے ، جمہوری حسن یہی ہے کہ عوام سے رائے لی جائے بہت ممکن ہے ’’ بلکہ یقینا ‘‘ عوام کی اکثریت پختون خوا کا نام ہی تجویز کرے گی ۔
    آصف احمد بھٹی

  6. ہمدانی صاحب، آئیے، آئندہ سرکار کو ’شر کار‘ کہہ کر لکھیں اور پکاریں کہ اس کا کام ہی شر پھیلانا رہ گیا ہے.
    جہاں تک نام بدلنے کا تعلق ہے تو واقعی ہماری ، آپکی یا وہاں کے بے زبانوں کی کون سنے گا؟ سو کیا فائدہ اپنی توانائیوں کے ضیاع کا.
    ویسے بھی نام بدلنے سے ملک بدل جاتا تو یہ کام اس حکومت نے آتے ہی شروع کدیا تھا . .. . .. .
    ملک ہے دیوالہ پر حکمران امیر ہے
    ٹین پرسنٹ کو چھوڑ کر فقیر ہی فقیر ہے
    کیسے کیسے سورمائوں کی فوج کثیر ہے
    کوئی اک پہیلی ہے تو کوئی ٹیڑھی کھیر ہے
    بدل کر نام سارے بدلیں گے ملک کو
    ہر ایک کے ذہن میں نئی نئی تحریر ہے
    گلی محلہ ندی نالہ ہر شئے’ بے نظیر‘ ہے
    یہ ملک بے مثال ہے ، یہ ملک بے نظیر ہے . . . .. . . . . . . . … ’پوری نظم پھر کبھی‘

  7. تمام مبصروں کزتبصرے سر آنکھو ں پر۔
    مجھے یقین ہےکہ صوبہ سرحد کے ارباب اختیار اس صوبہ کا نام وہی رکھینگے جس نام کو وہ اپنے دل سے چاہتےہیں۔

    پختون پاک نام صرف اس لیَے تجویز کیا کہ پختتون افغانستان میں بھی موجود ہیں ، اگر پختون خوا یا پختون خواہ کا نام رکھا گیا تو پاکستان کے پِختونو ں اور افغانستان کےپختونوں کی شناخت مشکل ہوجائے گی ۔ اس لئے پختون پاک نام کی وجہ سے پاکستان کے پختون بجا طور پر اپنی شناَخت پاکستان سے منسوب کرنے لگینگے۔

    بنگلہ دیش والوں نے اگر اپنے ملک کا نام بنگلہ دیش کی بجائے بنگال ہی رکھا ہوتا تو انکی قومی شناِخت اور انفرادیت قائم نہ رہتی ۔

    پاکستان کے دوسرے صوبے تو اپنے لسانی پس منظر سے پہچانے جاتے ہیں ۔ پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور وہ پاکستان کا ہی حصہ ہیں اس لیے ان صوبوں کے ناموں کے ساتھ پاک لگانے کی ضرورت نہیں ۔

    پختون لفظ بھی ایک زبان کی نشاندہی کرتا ہے ۔ مگر وہ افغانستان کے پختونوں کے بھی زبان ہے۔ اس لیے پختون پاک نام پاکستانی پِختونوں کو پاکستا نی شناَخت دے گا جسے غیور اور خوددار پاکستانی پختون خوشی سے قبول کرینگے۔

    اگر چند علاقوں کے افراد پختون خوا یا پختون خواہ یا پختون پاک کے نام کی بجائے افغانیہ یا خیبر جیسے نام پسند کرتے ہیں تو رائے شماری سے یہ مسئلہ سلجھا یا جاسکتا ہے۔
    اکٹریت جس نام کو پسند کرے اسی کو قبول کرنا ہوگا۔

    یہ موضوع چند دنوں کے بعد پس منظر میں چلا چائے گا جب پاکستان کا شمال مغربی سرِحد صوبہ کسی نئے نام سے پکارا جائے گا۔ ِخواہ وہ پختون خوا ہو یا پختون خواہ ہو یا افغانیہ ہو یا خیبر ہو یا پختون پاک ہی کیوں نہ ہو۔

    نوٹ: یہ تبصرہ میں لائبریری کے کمپوٹر سے لکھرہا ہوں ۔ میرے لیے جرمن کی بورڈ پر اردو لکھنا مشکل کام ہے۔

  8. السلام علیکم
    منظور قاضی صاحب ، آپ کی بات بلکل درست ہے ، یقینا پختون خوا کے مخالف جو پختون ہیں اُن کا بھی یہی کہنا ہے کہ محض پختون خوا سے شبہ پیدا ہوتا ہے اِس لیے پختون خوا کے ساتھ اباسین یا خیبر کا اضافہ ہونا چاہیے ، اِس تناظر میں آپ کا بتایا ہوا نام بہت بہتر ہے ، پختون پاک سے ایک مکمل ، علیحدہ اور واضع شناخت ہوتی ہے ، اِس لیے میرے خیال میں رائے شماری ہی اِس مسئلے کا سب سے بہتر اور سب کے لیے قابل قبول حل ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  9. جناب منظور قاضی صاحب سلامت رھیں ۔۔۔۔ جناب نام میں کیا رکھا ھے،،؟ اب تو سب دعا کریں کہ ھمارے چاروں صوبے ۔اور پوراپاکستان اسی نام سے قائم و دائم رھے۔۔۔

  10. السلام علیکم
    احبابِ محفل ، لیجئے صوبہ سرحد کا متفقہ طور پر نیا نام ’’خیبر پختون خواہ ‘‘ تجویز کیا گیا ہے اور سوائے مسلم لیگ ( ق ) کے تمام پارلیمانی پارٹیاں بشمول مسلم لیگ ( ن ) اور اے این پی نے اِس پر اتفاق کر لیا ہے ، جناب رضا ربانی کے مطابق تمام جماعتوں کے نمائندوں کا اپنی اپنی قیادت کو مطلع کرنے اور اُن سے مشورہ کرنے کے بعد رات آٹھ بجے تک باقاعدہ اعلان بھی کر دیا جائے گا ، مسلم لیگ ( ق ) کے نمائندے جناب ایس ایم ظفر اور جناب وسیم سجاد اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے ۔
    آصف احمد بھٹی

  11. یہ آئینی اصلاحات کا پیکیج ، چند متنازعہ مسئلوں کے علاوہ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے نام پر نا اتفاقی کے باعث مشکل میں پڑگیا ہے ۔
    ان سب کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ باسٹھ سال سے بغیر نام بدلے پاکستان کسی نہ کسی طرح چل ہی رہا تھا اب باسٹھ سال بعد اس صوبے کے نام پر اتنی بحث و تکرار کیوں؟
    ہم سب دعا گو ہیں کہ پاکستان اسی نام سے قائم و دائم رہے ۔ مگر پختون اور ہزارہ کے باشندے اپنے صوبے کے موجودہ نام سے مطمئن نہیں ہیں۔
    دیکھتے ہیں کہ چند ہی دنوں میں اس صوبے کو کس نام سے پکارا جاتا ہے ۔
    خوشبو دار پھول بہر حال خوشبو دیتا رہےگا خواہ اسے دھول ہی کہکر کیوں نہ پکارا جائے ۔
    شمال مغربی سرحدی صوبے کے غیور اور خوددار باشندوں کو چاہیے کہ وہ“ پختون پاک “ کے نام کو فخر سے اپنائیں ( بشرطیکہ وہ یہ بلاگ پڑھ بھی رہے ہوں ) اور مجھے اپنی نیک دعاوں میں شامل رکھیں۔

  12. محترم آصف صاحب. اسی موضوع آپ نے تبصرہ شامل کیا جو بہتر اور بلاگ صرف اس لیئے ہٹایا ہے کہ یہ فقط ایک خبر ہی تھی جس میں شاید بلاگ کا پہلو نہیں نکلتا تھا. یہ خبر یوں بھی اخبار میں لگی ہوئی ہے. مجھے امید ہے آپ اسکا برا نہیں منائیں گے.

  13. مبارک ہو: آصف احمد بھٹی صاحب نے یہ خوشخبری سنادی کہ “خیبر پختون خواہ “ نام سوائے مسلم لیگ ( ق) کے تمام پارٹیوں کے رہنماوں نے تسلیم کرلیا ہے۔
    پتہ نہیں مسلم لیگ ( ق) کو اس نام پر کیا اعتراض ہے ؟
    بہرحال سرحد کے باشندے اس نام پر راضی تو ایس ایم ظفر اور وسیم سجاد ( مسلم لیگ ( ق) ) کو کیا تکلیف ہورہی ہے؟

  14. میرے خیال میں فرق نام سے نہیں پڑتا، اگر نیت صاف ہو. اگر نیت ہی صاف نہ ہو تو پختون خواہ کیا، آپ صوبے کا نام پاکستان ہی کیوں نہ رکھ دیںشرارتی سوچ کو فرق نہیں پڑتا.

  15. السلام علیکم
    بہت بہت شکریہ صفدر ہمدانی صاحب ۔ مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے ، اور بلاگ بھی محض اطلاع کے لیے ہی تھا ۔
    آصف احمد بھٹی

  16. السلام علیکم
    محترمینِ محفل لیجئے ، اٹھارہویں ترمیم کا مسودہ متفقہ طور پر تیار ہو گیا ہے ، اب دیکھئے اِس میں سے عام عوام کے لیے کیا نکلتا ہے ، صوبہ کا نام پر کچھ اختلافی نوٹس کے ساتھ کم و بیش سب ہی متفق ہو گئے ہیں ، اللہ کرے اسی طرح اصل عوامی مسائل پر بھی توجہ دیں اور متفق ہو کر کام کریں ۔ آمین
    آصف احمد بھٹی

  17. اگر سندھز میں رہنے والے کو سندھی، پنجاب کے رہنے والے کو پنجابی اور بلوچستان کے رہنے والوں کو بلوچی کہتے ہیں تو پھر
    خیبر پختون خواہ والوں کو خیر پختون خواہی کہنا پڑے گا ۔

    اس خواہ کے ساتھ مخواہ لگ جاتا تو خیبر پختون خواہ مخواہی کہنا پڑتا ۔

    جس نام کو تمام پنچوں نے ( چند کو چھوڑ کر ) تسلیم کرلیا وہی ہمیں بھی قبول ہے۔

    مبارک ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ساتھ ہی ساتھ 58 2 B بھی ِختم ہونے والی ہے ۔ تو زرداری صاحب کو صرف نام کی صدارت مبارک ہو اور گیلانی صاَحب کو یہ نیا اَختیار اور اعزاز مبارک ہو۔
    غالب کے کہنے کے مطابق :
    دیکھئےپاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔زرداری صاَحب کواین آر او کا جو آئینی تِحفظ مل گیا ہے اور اسکی وجہ سے سوئٹزلینڈ کی عدد الت ان کا کیس کھولنے سے ہچکچکا رہی ہے تو پاکستان کی پارلیمنٹ اس استثنیٰ اور تحفظ کو بھی ختم کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ پارلیمنٹ میں اتنی جراءت ہو کہ وہ مسٹر د س فیصد کی گید ڑ بھپکیوِں سے ڈرنا چھوڑ دے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان پائیندہ باد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب جب کہ صوبی سرَحد کے نئے نام پر فیصلہ ہوگیا ہے ، اس بلاگ کا جواَز بھی ختم ہوگیا ۔

    اگر آصف احمد بھٹی صاِحب اور دوسرے مبصر تازہ خبریں یاتبصرے اس بلاگ میں لکھنا چاہیں تو انکی مرضی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *