نذرِ قاضی منظور احمد اور عبدالمناف صاحب

قاضی منظور احمد اور عبدالمناف صاحب

کے مشورہ کے پیشِ نظر میں اپنا وہ کلام جو غلطی سے وحید اختر صاحب کے بلاگ میں شائع ہو گیا تھا اب نئے بلاگ کی شکل میں یہاں چسپاں کر رہا ہوں۔ یہ کلام ایک گاڑی ہے اور تبصرے اُسکا ایندھن۔

تم نے تو ظفر کوزے میں اک دریا سمویا
کوزے سے سمندر ہی سمندر نکل آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
کیسی تھی دلبرانہ نظر یہ نہ پوچھئے
کیسا ہوا ہے دل پہ اثر یہ نہ پوچھئے

اے شمعِ آرزو ترے بجھنے کے بعد پھر
کیسا ہے اس غریب کا گھر یہ نہ پوچھئے

یکبارگی جو پھر گئ اپنوں ہی کی نظر
کیسے کٹے ہیں شام وسحر یہ نہ پوچھئے

آب و ہوا نصیب نہ ہو خاک کو اگر
نکلیں گے اُس میں کیسے شجر یہ نہ پوچھئے

اسِ دل کے مارکہ کا ہے انجام اور کچھ
فتح و شکست کیا ہے ظفر یہ نہ پوچھئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گو شمع فقط ایک ہے پروا نے بہت ہیں
تو ایک ہے لیکن ترے دیوا نے بہت ہیں

توُ توُ ہے تری بات کہاں اور کسی میں
کعبہ تو فقط ایک ہے بتخا نے بہت ہیں

اللہ رکھے قائم و دائم تری آنکھیں
ان آنکھوں میں میرے لئے میخا نے بہت ہیں

احباب کی جب بات ہی نکلی ہے تو سنئے
احباب تو بس چند ہیں بیگا نے بہت ہیں
مئے دین و مذاہب کی یہ دیتی ہے تاثر
ساقی تو فقط ایک ہے پیما نے بہت ہیں
جب ترکِ گلستاں کیا تب یہ ہوا معلوم
گلزار اگر ایک ہے ویرا نے بہت ہیں
یہ خاک کہ جس پر میں چلا کرتا ہوں دن رات
اِس خاک کے پرد یس میں دیوا نے بہت ہیں
وحدت کی قسم کھا کے ظفر میں یہ کہوں گا
تُو ایک ہے بس ایک ہے افسا نے بہت ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رنگِ جنونِ رُخِ تاباں نہیں دیکھا
مدّت سے تجھے میں نے پریشاں نہیں دیکھا
اِلزامِ وغا مجھکو عطا کرنے سے پہلے
کیوں جھانک کر اپنا بھی گریباں نہیں دیکھا
کانٹوں سے ہوا کرتی ہے پھولوں کی حفاظت
بے خار کوئ میں نے گلستاں نہیں دیکھا
جس روز سے کانٹوں نے کیا ترکِ گلستاں
گُلشن نے کوئ جشنِ بہاراں نہیں دیکھا
مومن کہ منافق یہ ظفر کیسے بتائے
دیکھی ہے عبادت مگر ایماں نہیں دیکھا
—————————
ہر شب شبِ برات ہو جشنِ بہار ہو
تقدیر میں اگر نہ غمِ روز گار ہو
شعر و سخن کا تذ کرہ یا ذکرِ یار ہو
گویا مرے چمن میں ہمیشہ بہار ہو
کہتی ہے آنکھ تابِ نظارہ نہیں مجھے
دل کو یہ ضد کہ ہو تو فقط روئے یار ہو
مسلک ہے حسنِ ظن مرا مذہب ہے پاسِ حسن
وہ حسن چاہے حسنِ تغافل شعار ہو
شُکرِ خدا کہ گذری ہے عزّت سے زندگی
اب ہے دعا کہ موت مری با وقار ہو
پہنچوں میں اُس کے سامنے جب حشر میں ظفر
میری جبیں پہ نقشِ کفِ پائے یار ہو

————————-

غزل
ہم ٹہرے بد نصیب ہراک اعتبار سے
شکوہ کریں تو کیا کریں پرورد گار سے
مرنا ہمیں قبول ہے جینا ہمیں قبول
سب کچھ ہمیں قبول جو دیکھیں وہ پیار سے
ہر چیز میں کمی ہے کسی شئے کی اِن دنوں
کیا ہے کوئ سعید کس اعتبار سے
انکو جو بت کہا تو ہوئے بت پرست ہم
کس منہ سے مانگیں اب اُنہیں پرور د گار سے
رفعت ہو زند گی میں تو کامل ہے زند گی
ورنہ حیات مرگ ہے ہر اعتبار سے
کیسی چمن کی صحبتیں کیسا گلوں سے پیار
سب کچھ خزاں نے چھین لیا اس بہار سے
خورشید کی تپش ہے نہ انجم کی روشنی
دن ہو کہ رات سب ہیں ظفر سوگوار سے
سعید۔ مرحوم بھائ ، رفعت۔ مرحوم بھتیجہ ، کامل۔ مرحوم بہنوئ
خورشید۔ بیوہ بھاوج، انجم۔ مرحومہ بہن
پہلی غزل
وہ ہی ہوتے ہیں جوتسلیم و رضا رکھتے ہیں
عیش اور طیش میں جو خوفِ خدا رکھتے ہیں
جو تکبر پہ یقیں اور انا رکھتے ہیں
وہ کہاں عقل وخرد فہم و ذ کا رکھتے ہیں
شیوہء عہدِ وفا اہلِ وفا رکھتے ہیں
اس صداقت کو بھی ہم اُن سے سِوا رکھتے ہیں
عشق میں وہ کبھی نا کام نہیں ہوسکتے
حالتِ غم میں جو اُلفت کو روا رکھتے ہیں
جو سمجھتے ہیں کہ دولت ہے محبت کا علاج
دل وہ رکھتے ہیں، نہ وہ دل کی دوا رکھتے ہیں
ہم نے مانا کہ ہے اَن بن بھی محبت کی دلیل
ہاں مگر اہلِ وفا پاسِ وفا رکھتے ہیں
اپنے دشمن تو ہیں نازاں کہ ہیں شمشیر بکف
ہم کو یہ زعم کہ ہم دستِ دعا رکھتے ہیں
اُجلی پوشاک ہے اور قلب ہے آئینہ صفت
ٰٰٰٰٰٰٰٰٰ اکِ قبا اور بھی ہم زیرِ قبا رکھتے ہیںٰٰٰٰ
ہم تو ذرّہ ہیں ظفر اور وہ متاعِ خورشید
آتشِ شوق مگر اُن سے سوا رکھتے ہیں
دوسری غزل
میں زر زیرِ سمندر دیکھتا ہوں
زمیں کا میں مقدّر دیکھتا ہوں
چٹانوں کے جب اندر دیکھتا ہوں
ہزاروں لعل و گوہر دیکھتا ہوں
وطن کو جب میں مُڑکر دیکھتا ہوں
گِرا شیشہ پہ پتھر دیکھتا ہوں
رواں قاضی کے فتوہ پر ہزاروں
میں خود کش حملہ آور دیکھتا ہوں
اقارب جنکو میں سمجھا ہمیشہ
بغل میں اُکے خنجر دیکھتا ہوں
مری بینائ کی کیا پوچھتے ہو
میں قطرہ میں سمندر دیکھتا ہوں
فلک کیا ئیگا میرے مقابل
کہاں میں اتنا جُھک کر دیکھتا ہوں
اُڑان اُنکی ہے بس عرشِ بریں تک
ظفر میں اسِ سے بڑھ کر دیکھتا ہوں
غزل
اُنہیں اِسکی کیسے خبر ہوگئ
صدا دل کی کیا نامہ بر ہوگئ
شبِ وصل بھی کیا شبِ وصل تھی
مناتے مناتے سحر ہوگئ
سہے اتنے صدمے ہوئے اتنے وار
کہ مشکل ہی رختِ سفر ہوگئ
شبِ ہجر تھا اک چراغِ اُمید
وہ جلتا رہا اور سحر ہو ہوگئ
ظفر خود سمجھ لے گا رازِ شکست
اگر اُسکی جانب نظر ہوگئ
الاپ
تُم نے تو ظفر کوزے میں اِک دریا سَمو یا
کوزے سے سمندر ہی سمندر نکل آئے

خورشید جلوہ گر ہے وہاں پر تو کیا ہوا
روشن ہے ماہتاب ہمارے فلک پہ آج
مانا ہماری پیاس کو دریا نہیں نصیب
اَشکوں کا سلسلہ تو ہے اپنی پَلک پہ آج

پنڈت بھی پادری بھی ہمیں پیر بھی ملے
تیغ و تفنگ و صاحبِ شمشیر بھی ملے
وہ کون سا ستم ہے جو ہم پر نہیں ہوا
اِحباب کی نظر کے ہمیں تیر بھی ملے
———————————

نذرِ قاضی منظور احمد اور عبدالمناف صاحب

قاضی منظور احمد اور عبدالمناف صاحب

کے مشورہ کے پیشِ نظر میں اپنا وہ کلام جو غلطی سے وحید اختر صاحب کے بلاگ میں شائع ہو گیا تھا اب نئے بلاگ کی شکل میں یہاں چسپاں کر رہا ہوں۔ یہ کلام ایک گاڑی ہے اور تبصرے اُسکا ایندھن۔

تم نے تو ظفر کوزے میں اک دریا سمویا
کوزے سے سمندر ہی سمندر نکل آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
کیسی تھی دلبرانہ نظر یہ نہ پوچھئے
کیسا ہوا ہے دل پہ اثر یہ نہ پوچھئے

اے شمعِ آرزو ترے بجھنے کے بعد پھر
کیسا ہے اس غریب کا گھر یہ نہ پوچھئے

یکبارگی جو پھر گئ اپنوں ہی کی نظر
کیسے کٹے ہیں شام وسحر یہ نہ پوچھئے

آب و ہوا نصیب نہ ہو خاک کو اگر
نکلیں گے اُس میں کیسے شجر یہ نہ پوچھئے

اسِ دل کے مارکہ کا ہے انجام اور کچھ
فتح و شکست کیا ہے ظفر یہ نہ پوچھئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گو شمع فقط ایک ہے پروا نے بہت ہیں
تو ایک ہے لیکن ترے دیوا نے بہت ہیں

توُ توُ ہے تری بات کہاں اور کسی میں
کعبہ تو فقط ایک ہے بتخا نے بہت ہیں

اللہ رکھے قائم و دائم تری آنکھیں
ان آنکھوں میں میرے لئے میخا نے بہت ہیں

احباب کی جب بات ہی نکلی ہے تو سنئے
احباب تو بس چند ہیں بیگا نے بہت ہیں
مئے دین و مذاہب کی یہ دیتی ہے تاثر
ساقی تو فقط ایک ہے پیما نے بہت ہیں
جب ترکِ گلستاں کیا تب یہ ہوا معلوم
گلزار اگر ایک ہے ویرا نے بہت ہیں
یہ خاک کہ جس پر میں چلا کرتا ہوں دن رات
اِس خاک کے پرد یس میں دیوا نے بہت ہیں
وحدت کی قسم کھا کے ظفر میں یہ کہوں گا
تُو ایک ہے بس ایک ہے افسا نے بہت ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رنگِ جنونِ رُخِ تاباں نہیں دیکھا
مدّت سے تجھے میں نے پریشاں نہیں دیکھا
اِلزامِ وغا مجھکو عطا کرنے سے پہلے
کیوں جھانک کر اپنا بھی گریباں نہیں دیکھا
کانٹوں سے ہوا کرتی ہے پھولوں کی حفاظت
بے خار کوئ میں نے گلستاں نہیں دیکھا
جس روز سے کانٹوں نے کیا ترکِ گلستاں
گُلشن نے کوئ جشنِ بہاراں نہیں دیکھا
مومن کہ منافق یہ ظفر کیسے بتائے
دیکھی ہے عبادت مگر ایماں نہیں دیکھا
—————————
ہر شب شبِ برات ہو جشنِ بہار ہو
تقدیر میں اگر نہ غمِ روز گار ہو
شعر و سخن کا تذ کرہ یا ذکرِ یار ہو
گویا مرے چمن میں ہمیشہ بہار ہو
کہتی ہے آنکھ تابِ نظارہ نہیں مجھے
دل کو یہ ضد کہ ہو تو فقط روئے یار ہو
مسلک ہے حسنِ ظن مرا مذہب ہے پاسِ حسن
وہ حسن چاہے حسنِ تغافل شعار ہو
شُکرِ خدا کہ گذری ہے عزّت سے زندگی
اب ہے دعا کہ موت مری با وقار ہو
پہنچوں میں اُس کے سامنے جب حشر میں ظفر
میری جبیں پہ نقشِ کفِ پائے یار ہو

————————-

غزل
ہم ٹہرے بد نصیب ہراک اعتبار سے
شکوہ کریں تو کیا کریں پرورد گار سے
مرنا ہمیں قبول ہے جینا ہمیں قبول
سب کچھ ہمیں قبول جو دیکھیں وہ پیار سے
ہر چیز میں کمی ہے کسی شئے کی اِن دنوں
کیا ہے کوئ سعید کس اعتبار سے
انکو جو بت کہا تو ہوئے بت پرست ہم
کس منہ سے مانگیں اب اُنہیں پرور د گار سے
رفعت ہو زند گی میں تو کامل ہے زند گی
ورنہ حیات مرگ ہے ہر اعتبار سے
کیسی چمن کی صحبتیں کیسا گلوں سے پیار
سب کچھ خزاں نے چھین لیا اس بہار سے
خورشید کی تپش ہے نہ انجم کی روشنی
دن ہو کہ رات سب ہیں ظفر سوگوار سے
سعید۔ مرحوم بھائ ، رفعت۔ مرحوم بھتیجہ ، کامل۔ مرحوم بہنوئ
خورشید۔ بیوہ بھاوج، انجم۔ مرحومہ بہن
پہلی غزل
وہ ہی ہوتے ہیں جوتسلیم و رضا رکھتے ہیں
عیش اور طیش میں جو خوفِ خدا رکھتے ہیں
جو تکبر پہ یقیں اور انا رکھتے ہیں
وہ کہاں عقل وخرد فہم و ذ کا رکھتے ہیں
شیوہء عہدِ وفا اہلِ وفا رکھتے ہیں
اس صداقت کو بھی ہم اُن سے سِوا رکھتے ہیں
عشق میں وہ کبھی نا کام نہیں ہوسکتے
حالتِ غم میں جو اُلفت کو روا رکھتے ہیں
جو سمجھتے ہیں کہ دولت ہے محبت کا علاج
دل وہ رکھتے ہیں، نہ وہ دل کی دوا رکھتے ہیں
ہم نے مانا کہ ہے اَن بن بھی محبت کی دلیل
ہاں مگر اہلِ وفا پاسِ وفا رکھتے ہیں
اپنے دشمن تو ہیں نازاں کہ ہیں شمشیر بکف
ہم کو یہ زعم کہ ہم دستِ دعا رکھتے ہیں
اُجلی پوشاک ہے اور قلب ہے آئینہ صفت
ٰٰٰٰٰٰٰٰٰ اکِ قبا اور بھی ہم زیرِ قبا رکھتے ہیںٰٰٰٰ
ہم تو ذرّہ ہیں ظفر اور وہ متاعِ خورشید
آتشِ شوق مگر اُن سے سوا رکھتے ہیں
دوسری غزل
میں زر زیرِ سمندر دیکھتا ہوں
زمیں کا میں مقدّر دیکھتا ہوں
چٹانوں کے جب اندر دیکھتا ہوں
ہزاروں لعل و گوہر دیکھتا ہوں
وطن کو جب میں مُڑکر دیکھتا ہوں
گِرا شیشہ پہ پتھر دیکھتا ہوں
رواں قاضی کے فتوہ پر ہزاروں
میں خود کش حملہ آور دیکھتا ہوں
اقارب جنکو میں سمجھا ہمیشہ
بغل میں اُکے خنجر دیکھتا ہوں
مری بینائ کی کیا پوچھتے ہو
میں قطرہ میں سمندر دیکھتا ہوں
فلک کیا ئیگا میرے مقابل
کہاں میں اتنا جُھک کر دیکھتا ہوں
اُڑان اُنکی ہے بس عرشِ بریں تک
ظفر میں اسِ سے بڑھ کر دیکھتا ہوں
غزل
اُنہیں اِسکی کیسے خبر ہوگئ
صدا دل کی کیا نامہ بر ہوگئ
شبِ وصل بھی کیا شبِ وصل تھی
مناتے مناتے سحر ہوگئ
سہے اتنے صدمے ہوئے اتنے وار
کہ مشکل ہی رختِ سفر ہوگئ
شبِ ہجر تھا اک چراغِ اُمید
وہ جلتا رہا اور سحر ہو ہوگئ
ظفر خود سمجھ لے گا رازِ شکست
اگر اُسکی جانب نظر ہوگئ
الاپ
تُم نے تو ظفر کوزے میں اِک دریا سَمو یا
کوزے سے سمندر ہی سمندر نکل آئے

خورشید جلوہ گر ہے وہاں پر تو کیا ہوا
روشن ہے ماہتاب ہمارے فلک پہ آج
مانا ہماری پیاس کو دریا نہیں نصیب
اَشکوں کا سلسلہ تو ہے اپنی پَلک پہ آج

پنڈت بھی پادری بھی ہمیں پیر بھی ملے
تیغ و تفنگ و صاحبِ شمشیر بھی ملے
وہ کون سا ستم ہے جو ہم پر نہیں ہوا
اِحباب کی نظر کے ہمیں تیر بھی ملے
———————————

33 thoughts on “نذرِ قاضی منظور احمد اور عبدالمناف صاحب”

  1. ظفر جعفری صاحب نے مکرر ارشاد کہنے سے پہلے ہی اپنا اتنا اچھا کلام اُس بلاگ سے نکال کر اِ س بلاگ میں مکرر پیش کردیا۔
    مگر چند ایک کمپوزنگ کے مسئلے تصحیح طلب ہیں :
    مثال کے طور پر :
    مارکہ میرے خیال میں معرکہ ہے:
    میری جبیں پہ نقشِ کفِ پائے یار ہو ایک طرحی مصرعہ ہے جسے حنیف اخگر مرحوم کی غزل سےلیا گیا ہے۔ اس کو قوسین میں یا الٹے کاماوں میں لکھنا چاہیے ۔
    اسی قسم کے دوسرے طرحی مصروعوں کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے ۔
    ظفر جعفری صاحب کے کلام کے کیا کہنے ، ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، جزا ک اللہ ، مرحبا ، بہت اچھے ، بہت خوب ، واہ واہ کہنا ہی پڑتا ہے۔
    ۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  2. تصحییح
    کیا ہے کوئ سعید کسی اعتبار سے

    ٰٰٰٰٰٰٰٰ میری جبیں پہ نقشِ کفِ پائے یار ہوٰٰٰٰٰٰ

    فلک کیا آ ئیگا میرے مقابل

  3. ظفر جعفری صاحب کا یہ کلام صرف منظور قاضی اور عبدالمناف کی ہی نذر کیوں؟
    یہ بلاگ تو پوری دنیا پڑھتی ہے اس کو تو پوری دنیا کے نذر کرنی چاہیے !!!۔
    ویسے ظفر جعفری صاحب اپنے دل کے مالک ہیں جو چاہیں کریں ۔ انکی مرضی ۔
    میرے خیال میں پوری دنیا انکے کلام کی خوبیوں کی تعریف ہی کرےگی ۔

  4. محترم ظفر جعفری کو خوش آمدید

    تم نے تو ظفر کوزے میں اک دریا سمویا
    کوزے سے سمندر ہی سمندر نکل آئے

    چحوٹا منہہ بڑی بات
    پہلے مصرعے میں ”اک” کی وجہ سے سکتہ آتا ہے لیکن اگر اس طرح پڑھیں تو زیادہ روانی نہیں ہو گی؟

    تم نے تو ظفر کوزے میں دریا تھا سمویا

    مجھے امید ہے کہ اتنے خوبصورت شعر میں یہ معمولی تبدیلی ناگوار خاطر نہیں ہو گی اور فقط ایک تجویز ہے کوئی خدا نخواستہ اصلاح نہیں۔

  5. محترم بھائی جناب ظفر جعفری صاحب ! یہ تو آپ کی ذرہ نوازی ہے کہ آپ نے مجھے اتنا مقام دیا اور محترم منظور قاضی صاحب کی رائے کی حمایت کرنے پر ہی ان کے ساتھ مجھے بھی اپنے اس لاجواب کلام کا حقدار مانا، لیکن یہاں پھر میں جناب منظور قاضی صاحب کی بات کا حامی ہوں کہ

    ” ظفر جعفری صاحب کا یہ کلام صرف منظور قاضی اور عبدالمناف کی ہی نذر کیوں؟
    یہ بلاگ تو پوری دنیا پڑھتی ہے اس کو تو پوری دنیا کے نذر کرنی چاہیے !!! ”

    پھر بھی تہہ دل سے مشکور ہوں

    اور صاحب آپ کے کلام کا تو کیا ہی کہنا ایک ایک شعر کو مکرر پڑھتا رہا ہوں

    کانٹوں سے ہوا کرتی ہے پھولوں کی حفاظت
    بے خار کوئ میں نے گلستاں نہیں دیکھا
    جس روز سے کانٹوں نے کیا ترکِ گلستاں
    گُلشن نے کوئ جشنِ بہاراں نہیں دیکھا
    مومن کہ منافق یہ ظفر کیسے بتائے
    دیکھی ہے عبادت مگر ایماں نہیں دیکھا

    رفعت ہو زند گی میں تو کامل ہے زند گی
    ورنہ حیات مرگ ہے ہر اعتبار سے

    اپنے دشمن تو ہیں نازاں کہ ہیں شمشیر بکف
    ہم کو یہ زعم کہ ہم دستِ دعا رکھتے ہیں

    مری بینائ کی کیا پوچھتے ہو
    میں قطرہ میں سمندر دیکھتا ہوں

    سبحان اللہ و ماشاء اللہ

  6. اسلام و علیکم

    واہ جناب بہت خوب ، اچھا کلام ہے آپ کا،اور جو بات ہو رہی ہے کہ کس کی نزر ہے اور کس کی نہیں تو اُس پر اتنا ہی کہوں گی کی اچھی بات پر سب کا برابر کا حق ہوتا ہے جس جس کو یہ کلام اچھا لگے بس اُس اُس کے لیے ہی ہے ۔

    اور محترم ظفر جعفری کو خوش آمدید خدا آپ کا یہاں آنا آپ کے لیے اور ہم سب کے لیے مبارک کرے(آمین)
    یہ خوبصورت لوگوں کی دنیا ہے یہاں کا ہر ساتھی خوبصورت ہے کیوں کے آُس کا اندد خوبصورت ہے اُس میں بسنے والا ہر جزبہ خوبصورت ہے پر یہ خوبصورتی ایسی ہے کہ جس کو دیکھا نہیں جاتا محسوس کیا جاتا ہے دیکھنے کی نسبت جو چیز محسوس کی جاتی ہے میرے نزدیک اُس کی بہت خاص اہمیت ہے
    ایک بار پھر سے آپ کو خوش آمدید۔

    الله حافظ و ناصر

  7. آپ سب نے میری خود اعتمادی میں اضافہ کیا ہے۔ یہ کلام ایک گاڑی ہے اور آپکے تبصرے اُسکا ایندھن۔

    تصحیح

    تم نے تو ظفر کوزے میں دریا تھا سمویا

  8. برادرم ظفر جعفری ،
    ماشااللہ ، آپکی شاعری پڑھکر بُہت خوشی ہوئی ،، آپکا پُختہ اندازِ سُخن دلفریب ہے،، رب کائینات ،، بابِ علم کےصدقے آپ کے قلم میں اور روانی عطا کرے،، ،، آمیں،، تاخیر سے داد دئنے کیلے معزرت ،کیوں کہ کُچھ غمِ روز گار میں اور کُچھ صنعتی شاعری پر تحقیقی بلاگ لکھنے میں مصروف ہوں …….سدا خوش رہیں اور ایسے ہی لکھتے رہیں……….. مُحتاجِ دُعا….

  9. ظفر صاحب آپ کی غزلیں بار بار پڑھیں اور ہر بار ایک نیا لطف آیا۔

    مذید غزلوں کا انتظار ہے

  10. السلام علیکم
    ظفر جعفری صاحب ، عمدہ ، بلکہ بہت ہی عمدہ ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
    آصف احمد بھٹی

  11. ظفرجعفری صاحب، بہہت عمدہ مگر کاش تھوڑی تھوڑی اور باقاعدگی سے پیش کریں تو مجھ جیسے طالبعلموں کے ذہنوں میں اچھی طرح سمو جائے. آپ کا پھر سے منتظر . . جاوید کیانی.

  12. جاوید کیانی صاَحب کا مشورہ : ‘تھوڑی تھوڑی اور باقاعدگی ‘ نہایت ہی مفید مشورہ ہے۔
    میں اس کی تائید کرتا ہوں

  13. اللہ جو کرتا ہے وہ بہتر ہی کرتا ہے۔ میں خط لکھنے کیلئے عموماً عالمی اخبار کے کی بورڈ کا سہارا لیتا ہوں جو عالمی اخبار کی طرف سے دنیا ئے اردو کو ایک بہترین تحفہ ہے۔ میں نے یہ کلام اپنے ایک دوست کو پرقی ترسیل کیلئے ٹائپ کیا تھا اور غلطی سےٰٰٰٰٰٰٰ تبصرہ ارسال کریںٰٰٰٰٰٰٰٰ کا باکس کلک کردیا تو یہ کلام وحید اختر صاحب کے بلاگ میں شائع ہوگیا۔ میں نے دو مرتبہ تبصرہ کرتے ہوئے سارے قارئین سے اور عالمی اخبار سے اس پر معذرت کرنا چاہی لیکن ڈاکٹر صاحبہ نے دو ٹوک الفاظ میں میرا تبصرہ شائع کرنے سے انکار کردیا۔
    میں اسے عالمی اخبار کی محبت ہی کہونگا کہ انہوں نے میرا پھس پھسا کلام نا صرف یہ کہ شائع کیا بلکہ اسے ڈلیٹ کرنے اور میری معذرت کو شائع کرنے سے بھی انکار کردیا۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھ جیسے طفلِ مکتب کی اتنی پذیرائ ہوگی جیسے آپ سب نے کی۔ ورنہ

    ظفر کیا فائدہ اُس شاعری سے
    کہ جس پر لوگ ہنستے ہوں ہمیشہ

    تو کیانی صاحب اور قاضی صاحب آپکا کہنا بالکل صحیح ہے کہ تھوڑا تھوڑا کلام پیش کرنا چاہئے اور یہ غلطی سے ہوگیا جس کی میں نے وضاحت کردی۔ غزل کے چند اشعار پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

    اگر وہ اہلِ زمیں ہیں تو کیوں اُنہیں ہم نے
    فلک پہ اُڑتے ہوئے بار بار دیکھا ہے

    زمیں جو خُلدِ بریں تھی کبھی اُسے ہم نے
    لہو اُگلتے ہوئے بار بار دیکھا ہے

    وفا کا لے کے علم اُٹھ رہے ہیں ایسے لوگ
    جنہیں بدلتے ہوئے بار بار دیکھا ہے

    کفن وہ بیچ رہے ہیں جنہیں خدا کی قسم
    کفن چُراتے ہوئے بار بار دیکھا ہے

  14. ظفر جعفری صاحب.آپ آج بھی پہلے دن کی طرح ہمارے لیئے قابل احترام ہیں اور رابطہ یا تعلق برقرار رہے یا نہ رہے احترام برقرار رہے گا اور یہی تہذیب ہمارے بزرگوں نے ہمیں سکھائی تھی اور اسی پر فخر ہے ہمیں. آپ تو ہمارے بزرگ ہیں اور ایک وقفے کے بعد تشریف لائے ہیں لیکن وہ لوگ جو عالمی اخبار کو ہم کو گالیاں دے کر گئے ہیں یا جنہوں نے ہمارے اعتماد اور اعتبار کو دھوکہ دیا ہے ہم نے انکے اکاؤنٹ بھی بلاگ میں بند نہیں کیئے. میرا اپنا ایمان ہے کہ دنیا بھر میں سب سے وسیع الظرف اور وسیع القلب.شاعر،ادیب اور قلم کار کو ہونا چاہیئے
    آپ بس اسی طرح لکھتے رہیں اور دوسرے دوستوں کے بلاگ میں اپنی رائے قلمبند کرتے رہیں. بس عمر اور علم میں آپ سے چھوٹا ہونے کے باجود اپنا فلسفہ زیست دوہراؤں گا کہ اختلاف ہی حُسنِ زیست ہے اور اختلاف کے ساتھ ہی زندگی گزارنا اصلِ حیات ہے ورنہ انسان بھی روبوٹ ہو.

    آپکی غزلوں کو عرشی صاحبہ نے سراہا جو میرے نزدیک سند ہے. آپ شاید عرشی جی سے واقف نہیں لیکن مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ میں ان سے ستر کے عشرے سے شناسا اور آشنا ہوں. عرشی جینوئین شاعرہ ہیں اور بے جا تعریف نہیں کرتیں. بس آپ خوب لکھیئے اور بس لکھتے رہیئے. لکھاری کی ہر تخلیق باکمال نہیں ہو سکتی لیکن اسکا تسلسل سے لکھتے رہنا ہی اسکا کمال ہے.

  15. “کفن وہ بیچ رہے ہیں جنہیں خدا کی قسم
    کفن چُراتے ہوئے بار بار دیکھا ہے“
    ظفر جعفری صاحب کے اِس شعر میں اگر وہ “ خدا کی قسم “ نہ بھی کھاتے تو ہم یقین کرلیتے ۔
    اپنی باتوں میں صداقت کا پہلو پیدا کرنے کے لیے اللہ میاں کو بیچ میں گھسیٹنے کی کیا ضرورت ؟

    کیا انہوں نے حقیقت میں کفن بیچنے والوں کو کفن چراتے ہوئے بار بار دیکھا ہے ؟
    کسی کا شعر ہے کہ :
    خدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیں
    ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا

  16. ظفر جعفری بھائی اب جو آپ نے اشعار قاضی صاحب کے نزر کیئے ہیں تو نیاز بھی وصول کیجئے۔قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ۔۔۔۔۔

    آپ قسمیں نہ کھایئے گا ظفر
    ہم کو واللہ اعتبار آیا

  17. قاضی صاحب
    شاعر کا کام غزل کے میدان میں کوزہ میں پانی بھرنا ہوتا ہے۔ اسمیں سے پانی نکالنا قاری کام ہے۔ شاعر کو خود اپنے شعر کی تشریح نہیں کرنی چاہئے ورنہ شعر اپنی وسعت کھو دیتا ہے۔ نظم ایک ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہوتی ہے۔شاعری میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ ٰٰٰٰٰٰٰ خدا کی قسمٰٰٰٰ جیسے استعارے اکثر و بیشتر استعمال ہوتے ہیں۔ کسی بھی شعر کے اصطلاحی معنوں اور اشاروں کو اگر نظر انداز کرکے صرف لغووی معنی لئے جائیں تو شعر اپنے رتبہ سے گرجاتا ہے۔ مثلاً اقبال کا شکوہ جسے ہم آنکھوں سے لگاتے ہیں اگر ہم اُسکے صرف لغوی معنوں پر جائیں تو کٹھ ملاؤں میں اور ہم میں کوئ فرق نہیں رہےگا۔ شعر کی تشریح کیلئے بین السطور دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بقول جوش ملیح آبادی ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰ آنا میری جان سنڈے کے سنڈےٰٰٰٰٰٰٰٰ خواص کی پہچان نہیں ہے اور شعراء خواص ہوتے ہیں۔ شاعری میں دو اور دو چار نہیں ہوتے۔ یہ ایک بھی ہوسکتے ہیں اور دس ہزار بھی۔ میں طفلِ مکتب ہوں اور آپ سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہوں۔ یقیناً آپ بزرگ ہیں اور واجب الاحترام ہیں-

    اگر عرشی صاحبہ اور ہمدانی صاحب بھی اس پہلو پر روشنی ڈالیں تو یقیناً ہماری حوصلہ افزائ ہوگی۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ عرشی صاحبہ کی داد مجھے نصیب ہوئ۔

  18. جی شاعری کے حوالے سے میرا اپنا ذاتی فلسفہ بھی یہی ہے کہ میں اسے شعر نہیں کہتا جسکی تشریح شاعر کو کرنا پڑے. شعر تو وہ ہے جو خود تشریحات کے ایک نہیں سینکڑوں در وا کرے اور شاعر کا یہی کمال ہے کہ وہ ایسے ہی وا ہونے والے سینکڑوں در ایک شعر یا مصرعے میں قید کر دیتا ہے.
    ”شعلہ سا لکپ جائے ہے آواز تو دیکھو”
    ”بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے“
    ” اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”
    یہ اور ایسے سینکڑوں مصرعے ہیں جو مکمل شعر بھی نہیں لیکن ایسے ایک ایک مصرعے میں مفاہیم و مطالب کے سمندر بند ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ لکھنے والے کو خود شاید اسکا ادراک بھی نہ ہو لیکن یہ سارے در قاری پر وا ہوتے ہیں ۔
    اچھی بات کو بار بار بار دوہرانے میں کوئی حرج نہیں۔ میں برسوں سے یہ کہتا اور لکھتا چلا آ رہا ہوں کہ بھائیو شعر لکھنا اور شعر کہنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اب اگر کوئی مجھ سے اس کی وضاحت مانگے تو شاید میرے لیئے ممکن نہ ہو کہ جو اس بات کو نہ سمجھے وہ میری وضاحت کو کیا سمجھے گا۔

  19. چند اشعار کے رہ گئے تھے۔

    مہندی لگا کے پاؤں میں قصدِ سفر کے بعد
    کیسے تمام ہوگا سفر یہ نہ پوچھئے
    نبضوں میں جب مریض کے باقی لہو نہ ہو
    تو دل کا حال، دردِ جگر یہ نہ پوچھئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شعلہ سرِ سینا بھی کوئ ہوگا تو لیکن
    موسیٰٰٰٰٰ نے مگر کوچہء جاناں نہیں دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہ وہ شکوہ نہ شکایت نہ گلہ رکھتے ہیں
    ہاں مگر سچ ہے وہ انداز جُدا رکھتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمنّا تو تھی اُنکے دیدار کی
    ہوس میں مگر شب بسر ہوگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قطعات
    ساگر کی لگن میں اِک ندّی
    اونچائ سے نیچے آتی ہے
    ساگر سے گلہ وہ ملتی ہے
    پھر اُس میں وہ کھو جاتی ہے۔

    بجلی قفس پہ جب بھی گری کیا وہ دے گئ
    ہنس ہنش کے بادلوں سے لزی کیا وہ دے گئ
    رویا جو ابر اُسکا ذرا ظرف دیکھئے
    چھینٹ اسکی جس جگہ بھی پڑی کیا وہ دے گئ

  20. نذرِ زوار قمر عابدی

    داخلِ کعبہ ہوئ بنتِ اسد

    میزباں خود بن گئ ذاتِ اَحَد

    منہ کے بل اصنامِ کعبہ گِر پڑے

    لمیلِد کے گھر ہوا پیدا وَلَد

  21. ساگر کی لگن میں اِک ندّی
    اونچائ سے نیچے آتی ہے
    ساگر سے گلہ وہ ملتی ہے
    پھر اُس میں وہ کھو جاتی ہے۔

    برادر معظم. ایک بار پھر اس چھوٹے منہہ سے بڑی بات. وجہ صرف یہ ہے کہ اتنے اچھے خیال میں کوئی تکنیکی خامی نہ رہ جائے. ویسے بھی ہمارے بزرگوں نے یہی سکھایا تھا کہ دوست کی کسی بھی غلطی کی نشاندہی سب سے پہلے دوست کو کرنی چاہیئے اور جب غلطی درست ہو جائے تو وہ غلطی نہیں رہتی.
    ایک تو اگر دل کو لگے اور مناسب سمجھیں تو پہلے مصرعے میں ”اک” کو ایک کر لیجئے”ایک” کر لیجئے. یا چلیئے میں اس قطعے کو پھر لکھتا ہوں اور آپ خود پڑھ کر دیکھیں کہ کیا اب زیادہ ابلاغ ہوتا ہے کیا اس اچھے خٰیال کا جسے آپ نے تخلیق کیا.
    ساگر کی لگن میں ایک ندّی
    اونچائی سے نیچے آتی ہے
    ساگر سے گلے وہ ملتی ہے
    پھر اُس میں ہی کھو جاتی ہے۔
    یہ اس شرط کے ساتھ لکھا ہے کہ اگر طبیعت نہ مانے تو از راہ خدا قطعی کو ئی تبدیلی نہ کیجئے گا اپنے اس قطعے میں

  22. ہمدانی صاحب۔ آپکی تصحیح سرآنکھوں پر۔ یہ میری خوش قسمتی ہے ۔ لیکن تصحیح کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ یہاں آپ رُک مت جائے گا۔

    تصحیح
    ٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰساگر کی لگن میں ایک ندّی ٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ

  23. تصحیح

    ٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ پھر اُس میں ہی کھو جاتی ہےٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ

  24. میں نے ایک نظم عراق کی پہلی جنگ پر لکھی تھی جس میں مستقبل کی بھی نشاندہی کی تھی۔ اب وہ مستقبل ہمارے سامنے ہے ۔ اسئے میں اس نظم کو احباب کے سامنے پیش کر رہاہوں۔

    عنوان ہے ضرورتِ علم

    مغرب سے محبت ہے نہ مشرق ہی سے رغبت
    میں تو ہوں اک انسان ہے انساں سے محبت
    مغرب میں جو انسان ہیں انسان ہیں وہ بھی
    مشرق میں جو شیطان ہیں شیطان ہیں وہ بھی
    مشرق میں محبت ہے نہ بہتاتِِ اخوّت
    مغرب میں مگر علم و ہنر کی ہے حکومت
    اس وجہ سے یہ ہم سے بہت زیادہ ہیں آگے
    تعلیم نہ ہو نے کے سبب ہم رہے پیچھے

    انسان کو انسان سے لڑواتا ہے پیسہ
    ہر جنگ کامقصد ہی ہوا کرتا ہے پیسہ
    یہ جنگ جو اس عہد کی روداد بنی ہے
    افوام نے یہ تیل کی خاطر جو لڑی ہے
    کچھ قوموں کی بکری ہوئ یاں بارہ کھرب کی
    اور کھال اتاری گئ شاہانِ عرب کی

    مغرب سے محبت ہے نہ مشرق ہی سے رغبت
    میں تو ہوں اک انسان ہے انساں سے محبت
    مغرب میں جو انسان ہیں انسان ہیں وہ بھی
    مشرق میں جو شیطان ہیں شیطان ہیں وہ بھی
    مشرق میں محبت ہے نہ بہتاتِِ اخوّت
    مغرب میں مگر علم و ہنر کی ہے حکومت
    اس وجہ سے یہ ہم سے بہت زیادہ ہیں آگے
    تعلیم نہ ہو نے کے سبب ہم رہے پیچھے

    انسان کو انسان سے لڑواتا ہے پیسہ
    ہر جنگ کامقصد ہی ہوا کرتا ہے پیسہ
    یہ جنگ جو اس عہد کی روداد بنی ہے
    افوام نے یہ تیل کی خاطر جو لڑی ہے
    کچھ قوموں کی بکری ہوئ یاں بارہ کھرب کی
    اور کھال اتاری گئ شاہانِ عرب کی
    لاکھوں کا بہا خون کئ مانگیں بھی اُجڑیں
    نسلیں ہوئیں مقروض ہوا تیل بھی گرویں

    اب تو نئ تعمیر کے ٹینڈر بھی کھلیں گے
    جسنے کیا برباد اُُسے ٹھیکے ملیں گے
    جو چپ رہے وہ لوگ طرفدار بنیں گے
    فرضے یہ انہیں دینے کو اب آگے بڑھیں گے
    قرضوں کے عوض اربوں کے ٹھیکے بھی ملیں گے
    اور تیل کے بیرلز تو چلتے ہی رہیں گے

    تعمیر جب ہوجائے گی جڑھ جائیں گے قرضے
    جب سود لگے گا تو یہ بڑھ جائیں گے قرضے
    مقروض بھلا یہ ادا کرپائیں گے فرضے
    بتلائو یہ کس طرح اُتر جائیں گے قرضے
    جنجال میں پھنسوانے کے یہ مغربی حربے
    لوہے کے چنے شرق کو کھلوائیں گے قرضے
    مغرب کی یہ سازش ہے جو چلتی ہی رہے گی
    تعلیم نہ ہوگی تو یہ پھلتی ہی رہے گی

    انِ مغربی حکام کے جب بھی اُڑے پرزے
    یا غیب کی امداد سے اُترے جو یہ قرضے
    مشرق پہ نئ جنگ مسلّط یہ کریں گے
    ہتھیار طرح طرح کے بن بن کے بکیں گے
    نسلوں کو یہ مشرق کی یوں برباد کریں گے
    قرضے انہیں دے دے کے پھر آباد کریں گے
    پھر انکو دوبارہ یونہی برباد کریں گے
    آباد کہ برباد یہ کرتے ہی رہیں گے
    یہ سلسلہ ایسا ہے جو چلتا ہی رہے گا
    تعلیم نہ ہوگی تو پنپتا ہی رہے گا

    ہاں جنگ فقط پیسہ بنانے کا ہے حربہ
    نادان کو یہ لوٹتے رہنے کا ہے حربہ
    مشرق ابھی بےباک ہے چالاک نہیں ہے
    اور غرب تو چالاک ہے بےباک نہیں ہے
    اغیار ہیں اغیار یہ کیا کیا نہ کریں گے
    یہ سر پہ مسلّط یوں ہمیشہ ہی رہیں گے
    یہ داؤں چلانے کیلئے یہ بھی کہیں گے
    یہ شاہِ عرب خادمِ حرمین رہیں گے
    یہ تو ہے ببس اک قہرجو ہوتا ہی رہے گا
    تعلیم نہ ہوگی تو یہ بڑھتا ہی رہے گا

    جاپان پہ کل بم بھی گرائے تھے کسی نے
    اب وقت ہے کہ گھٹنے ٹکائے ہیں اُسی نے
    جب علم تھا دنیا پہ ہماری تھی حکومت
    اب علم نہیں ہے تو جہالت ہے کہ ذلّت
    سب سے بڑی دولت ہے ظفر علم کی دولت
    جس قوم کو مل جائے وہ کرتی ہے حکومت

  25. ٍٍظفر جعفری صاحب کے لیے صفدر ھمدانی صاحب نے جو شعر اپنے تبصرے میں لکھا ہے میں اسکی تائید کرتا ہوں :
    آپ قسمیں نہ کھایئے گا ظفر
    ہم کو واللہ اعتبار آیا

    میں سمجھتا ہوں صفدر ھمدانی صاحب کے واللہ کہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی سچی بات کو واضح کرنے کے ” واللہ ” کہ رہے ہیں.. یہ بھی ایک قسم ہی ہے جو میرے خیال میں درست ہے .
    مگر ظفر جعفری صاحب نے اپنے اس شعر میں خدا کی قسم اپنی مبالغہ آرائی کو سچائی کا رنگ دینے کے لیے کھائی ہے :
    “کفن وہ بیچ رہے ہیں جنہیں خدا کی قسم
    کفن چُراتے ہوئے بار بار دیکھا ہے“

    ……

  26. ظفر جعفری صا حب کیا خوب اپ نے میرے دل کی بات کی
    آب و ہوا نصیب نہ ہو خاک کو اگر
    نکلیں گے اُس میں کیسے شجر یہ نہ پوچھئے
    بہت اعلی

  27. غزل
    ہے اپنے دل پہ نہ قابو نہ اختیار مجھے
    کیا ہے جب سے محبت نے بیقرار مجھے

    تھا تیرے جانے کا میں منتظر مگر اب تو
    ہے تیرے آنے کا ہر وقت انتظار مجھے
    میں مانگ بھر دوں ثریا کی چاند تاروں سے
    ملے جو طاقتِ پرواز کرد گار مجھے
    خلوص میرا خدا ہے خلوص میرا رسول
    کسی کی زر سے ہے مطلب نہ کاروبار مجھے
    چلا جنوں میں میں کانٹوں پہ ساری عمر ظفر
    گلے لگانے کو آئ نہیں بہار مجھے
    ————————————–
    جنونِ عشق کی قائم ہے انجمن مجھ سے
    خوشا کہ قیس بھی سیکھے گا اب یہ فن مجھ سے
    نگوں رہیگا مرے سامنے سرِ فرہاد
    کہ کوہِ عشق کے دبتے ہیں کوہکن مجھ سے
    بسی ہوئ ہے دل و جاں میں ایک خوشبو سی
    ذرا سا مَس جو ہوا تیرا پیرہن مجھ سے
    یہ تیری دی ہوئ خوشبو ہے اور کچھ بھی نہیں
    جو لے رہے ہیں سمن اور نسترن مجھ سے
    میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
    ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے
    دعا یہ مانگی جو دیکھی سیاستِ دوراں
    خدا کرے کہ رہے دور اہرمن مجھ سے

  28. برادرم ظفر جعفری ، کے ذوق کی نظر اپنی ایک غزل ،

    چار سُو پھیلے ھوئے ہیں آگ پانی اور میں
    چار سُو محوِ سفر ہیں بے مکانی اور میں

    ھو گئی پھر سے شریکِ شام تنہائی میری
    جانے کب سے مُنتظر تھے میزبانی اور میں

    کوئے بچپن سے نکل کر سوئے پیری ھوں رواں
    مِل کہ بیٹھے ہی نہیں میری جوانی اور میں

    وقت کے بے رحم ہاتھوں نے اُچھالا اس طرح
    پھر ھوا کے دوش پر ہیں اک کہانی اور میں

    ہائے وہ بچپن ک دن اٹھکیلیاں میٹھی شبیں
    نانی اماں چڑیا طوطے کی کہانی اور میں

    سی لیے لب تو قیامت ھو گئی برپا قمر
    کس قدر چُپ ھو گئے تھے بے زُبانی اور میں

  29. آغا صفدر ھمدانی ،، کے ذوق کی نظر ایک تازہ غزل ،
    …………….

    مُژدہ یہ شہرِ شاہ نے پیشِ عوام رکھدیا
    جورو ستم کا نام ہی عیشِ دوام رکھدیا

    تاریخ پڑھ کے دیکھئے ایماں سے جاں عزیز تھی
    نوکِ سناں پہ قوم نے اپنا امام رکھدیا

    میں نے تو کی تھی ائے خُدا شہرِ رسول کی طلب
    تو نے تو مُجھکو برسرِ کوفہ و شام رکھدیا

    مولا مُجھے تو رزق سے آذادیاں عزیز تھیں
    دانا میرے نصیب کا کیوں زیرِدام رکھدیا

    کل شام روئے ناز پر ایسی تھی داستاں رقم
    میں نے کلامِ حاظ و عمرِ خیام رکھدیا

    آئے وہ میرے گھر قمر ، کُچھ بھی نہ میرے پاس تھا
    غالب تھی مُجھ پہ بیخودی چوکھٹ پہ بام رکھدیا

  30. عابدی صاحب

    بہت خوب۔ دونوں غزلیں بہت اچھی ہیں۔ ماشاء اللہ

  31. زوار قمر عابدی صاحب کے اشعار پڑھنے کے قابل ہیں. ماشا اللہ ، سبحان اللہ
    اگرچیکہ یہ اشعار صرف انہوں نے اپنے مخصوص احباب کی نذر کیے ہیں اس لیے مجھے تبصرہ کرنے کا حق نہیں پھر بھی میرے

    چند سوالات کے جوابات مل جائیں تو میرے علم میں اضافہ ہوگا.

    کوئے بچپن کی بجائے کوئے طفلی کیسا رہےگا ؟.
    کو فارسی کا لفظ ہے بچپن ہندی کا لفظ ہے. ( شائد ایسی تراکیب آج کل کی شاعری میں جائز ہیں)
    میٹھی شبیں ؟
    کیا شبیں ، شب کی جمع ہے ؟

    مُژدہ یہ شہرِ شاہ نے پیشِ عوام رکھدیا

    یہ شہرِ شاہ ہے یا شاہِ شہر ہے ؟

    چوکھٹ پہ بام رکھدیا ،
    چوکھٹ پہ بام کیسے رکھا جاسکتا ہے ؟ کیا اس قسم کی ترکیب پہلے بھی کسی شاعر نے استعمال کی ہے؟

    فقط
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    از جرمنی

  32. میں قاضی صاحب کی بات کی تائید کرونگا کہ مضاف اور مضاف الیہ ایک ہی زبان کے ہونے چاہئیں مثلاً سِرِ نوشاہ یا کوئے طفلی۔

    سرِ دولہا یا کوئے بچپن کی روایت نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *