عالمی اخبار کی انتظامیہ اپنی بلاگ فیملی میں برمنگھم برطانیہ کے برادر محترم جاوید اقبال کیانی کو خوش آمدید کہتی ہے اس یقین کے ساتھ ان کی آمد ہمارے لیئے خوشبو کا ایک تازہ جھونکا ہو گی اور ہم سب احباب انکے منفرد طرز تحریر سے مستفید ہو نگے۔ برادرم کیانی نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری درخواست پر اپنے پہلے بلاگ کے ساتھ انہوں نے اپنا مختصر تعارف بھی ارسال کیا ہے تاکہ بلاگ فیملی کے دیگر دوست بھی ان سے کسی قدر آگاہ ہو سکیں۔ آپ انکے منفرد تبصرے گزشتہ کچھ دنوں سے پڑھ رہے ہیں اور اب مجھے یقین ہے کہ ہم سب اپنی روایت کے مطابق بھائی جاوید اقبال کیانی کو بلاگ فیملی میں خوش آمدید کہیں گے(صفدر ھمٰدانی۔مدیر اعلیٰ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعارف بقلم خود
عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کے انتہائی معزّز بہنو، بھایؤ اور معزز قارئین، بالآخر ہم نے اس اتھاہ سمندر میں غوطہ زن ہونے کی ٹھا ن ہی لی۔ بچ نکلا تو ’ میرا اپنا کمال‘ ، ڈوب مرا تو جناب صفدر ہمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے سر، کہ جنھوں نے چندتبصروں پہ ہی دبوچ لیا کہ بچُو اب کچھ اس سے زیادہ ہی لکھو گے توجان بخشی ہوگی وگرنہ مشکل۔بہت واسطے دیئے،حیلے بہانے بنائے کہ میں وہ نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیںمگر ایک نہ سُنی گئی۔ سو حاضر ہوں اس محفل میں گردن جھکائے ہوئے۔
ٓآپ سب سے صبر اور حوصلے کی اپیل ہے کہ جو پیش کروں، اگر کر سکا تو، اُسے برداشت کریں، اپنی خاتونِ اوّل کو وارننگ ہے کہ اس ’سوکن‘ (یعنی کاغذ، پنسل، لکھائی، پڑھائی) کو دوبارہ گھر میں جگہ دینی ہوگی، بچوں کو انتباہ ہے کہ اسے خوشی کا سبب نہ جانیں کہ اِدھر مصروف ہو کر اُدھر سے دھیان اُٹھ جائے گا۔
ہماری ’ تخلیقات‘ کے چرچے تو آپ نے بہت سن لئے، اب ذرا ساری حقیقت ہماری اپنی زبانی ! میں سائینس اور انجینئرنگ کا طالبعلم ادب سے کوسوں دور رہا، ظاہر ہے ’بے ادب‘ ہی رہا۔ جب سائینس سے ذرا سانس لینے کی فرصت ملی تو ادب اور ادیبوں کی محفل میں شامل ہوکر ’باادب‘ بننے کی ٹھانی، سو اب ہم ہیں اور یہ بحرِ بیکراں ہے دوستو !
1981 میں آسٹن یونیورسٹی برمنگھم سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ڈگری لی۔ آتش جواں تھا، وطن کی محبت، دھرتی کا پیار، نس نس میں بھرا تھا (جو کہ خیر سے اب بھی ہے)۔ملک میں ضیاء الحقیاں عروج پہ تھیں۔ بار بار باہر بسنے والے ڈاکٹروں، انجینئروں اور دوسرے پیشہ ور افراد سے وطن واپس آکر ملک کی خدمت کرنے کی اپیلوں کا زور تھا۔خدمت کے جذبے سے سرشار، ہم نے بھی وطن کی پکار پہ لبّیک کہا، یہ تہیہہ کرکے کہ صنعتی انقلاب ( میں اکیلا ہی) لا کے دم لوں گا۔مگر دھرتی ماں ، جو کہ انقلابیوں کی پیداوار میں خاصی زرخیز ہے، میں پُہنچ کر جلد ہی معلوم ہوگیا کہ ’ جو سُنا افسانہ تھا‘۔کچھ عرصہ بعد اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے بھرپور استفادے کی خاطر اپنی خدمات پاک فوج کے سپرد کردیں۔
دورانِ سروس UETلاہور سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ہی ماسٹرز ڈگری لی۔فوج میں کیرئیر بخوبی ’مارچ‘ کررہا تھا مگر بُرا ہو ان آنکھوں، کانوں اور مُنہ (یعنی زبان) کا جنھیں کھلا رہنے کی بُری عادت ہے (جسکی اس ادارے میں سخت ممانعت ہے)، لہذا جلدہی میجر سے ’ مائینر‘ ہو کر ’باعزت‘ رُخصت‘ ہوئے اور یوں ’لوٹ کے بُدھو گھر کو آئے‘، وہ تو شُکر ہے جو کورٹ مارشل سے بچ گئے ورنہ ’ سچے سپُوت ، کھرے کرتُوت ، نتیجہ تابُوت!‘
اور اب ’شاخِ نازک پہ ہے آشیانہ اپنا‘۔اور اگر مزید کچھ کریدنے کی جستجو ہے تو ذرا میرے ساتھ آپ بھی گنگنا لیں۔ ۔ ۔ ۔’’ کلّہی سواری بھئی، بھاٹی لوہاری بھئی ‘‘۔ امید ہے سب پلے پڑگیا ہوگا؟
والسلام
جاوید اقبال کیانی، برمنگھم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
……………………………..
’ لے کے پہلا پہلا بلاگ . . .‘ حاضر ہوں آپکی خدمت میں. معزز قارئین کو محبت بھرا سلام.کسی سنجیدہ موضوع کی بجائے تھوڑا مزاح اور مُسکراہٹیں لئے آنا زیادہ مناسب جانا کیونکہ ڈاکٹروں کی رائے میں اچھی صحت کےلیے ہنسنا بہت ضروری ہے.ویسے بھی مسراہٹ چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے.
جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہوگا کہ صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری نے انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے بِل پر سائین کرتے وقت یہ وصیـت فرمائی کہ دنیا سے ان کی ’رُخصتی‘ کے بعد ان کے جسم کے تمام اعضاء ’ڈونیٹ‘ کر دئیے جائیں.
آپکے خیال میں ان کے جسمانی اعضاء کا صحیح حقدار کون ہوسکتا ہے؟ میرے خیال میں تو . . . . . .
’ وصیـت صدر زرداری کی ! ‘
قوم کا میں خادم ہُوں
کیوں اپنے کئے پہ نادم ہُوں؟
ملک پہ واری جائوں میں
دولت ساری کھائوں میں
سایئں ملک میرا یہ کھپے کھپے
لُٹ بازار ہُوں چپے چپے
وصیـت اپنی سنائوں میں
جب دُنیا چھوڑ کے جائوں میں
کر لینا مجھے ’اکوموڈیٹ‘
کرنا جسم پورا ’ڈونیٹ‘
میرے ’ہتھ‘ لگیں کسی ڈاکو کو
جو ڈھاڈا نام کمائے گا
دس کی بات پرانی ہوگئی
وہ سو پرسنٹ پہ جائے گا
میری آنکھ دینا کسی طوطے کو
پھر سارا کھیل کھلادُو دیکھ
پھیرے گا جب وہ آنکھیں
طوطا چشمی کا پھر جادُو دیکھ
زُباں دینا کسی کاذب کو
بے شک سب خفا ہُوں گے
میری رُوح کو چین ملے گا تب
نہ وعدے جب وفا ہُوں گے
دانت میرے چمکتے ہُوں گے
مَر کے بھی یہ ہنستے ہُوں گے
کسی چڑیا گھر سجا دینا
یہ قرض میرا چُکا دینا
میرا دِل دینا کسی ’کُبھے‘ کو
جو عاشق کُبڑا کہلائے گا
سب رنڈوئوں کا وہ لیڈر ہوگا
اُنہیں تگنی ناچ نچائے گا
’کَن‘ دینا جو ’کَن ٹُٹـا‘ ہوگا
’ رَجـھ‘ کے جس نے لُٹا ہوگا
دل میں طمع ، آنکھ میں لالچ
دھن دولت کا جو ’بُھکا‘ ہوگا
’مُسکائٹیں‘ میرے جیالوں کو
بی بی کے متوالوں کو
بیٹیوں کے سُسرالوں کو
بلاول کے رکھوالوں کو
’بڑھے بھائی‘ کوفقط سلام پُہنچے
’ شہیدوں‘ کا پیام پُہنچے
یہ کہنا اُنہیں سرگوشی میں
گُم رہیں اسی خاموشی میں
دماغ سے تو میں عاری ہُوں
پھر بھی سب پہ بھاری ہُوں
کھوپڑی کا کشکول بنا کے
عنبر و عطر میں نہلا کے
نہ اس پہ کوئی پشیماں ہوگا
نہ اُن کے یہ گماں ہوگا
یہ تحفہ ہوگا اُس ہستی کو
جو صدرِ پاکستاں ہوگا

واہ جاوید اقبال کیانی صاحب
ہنس ہنس کر پیٹ میں درد ہو گیا ہے۔زرا درد تھمے تو کچھ لکھوں۔
آپ کو کھینچ کھانچ کر اس بلاگ میں لانے پر صفدر ہمدانی صاحب اور نگہت کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔
کیا وصیت لکھی ہے ،کمال کر دیا ہے۔اللہ آپ کو نظرِ بد اور نیتّ بد یعنی بد نیتوں اور بد کرتوتوں والوں سے محفوظ رکھے۔
آپ کا آنا تو ایسا ہی ہے کہ’’وہ آیا، اس نے دیکھا اور اس نے فتح کر لیا۔
آپ کسی کے تبصرے کا انتظار نہ کیجئے گا بس لکھتے رہیے گا لکھتے رہیے گا اور لکھتے رہیے گا
واہ جی واہ۔ واقعی جاوید اقبال آپ نے فتح کر لیا۔
میں کسی لگی لپٹی بغیر پورے ایمان و یقین سے کہتا ہوں عرشی صاحبہ نے آج تک کسی کے بلاگ پر اس طرح نہیں لکھا بلکہ میرے بلاگ پر بھی اس طرح نہیں لکھا۔
آپ واقعی خوش قسمت ہے اور جینوئین رائٹر ہیں کہ عالی سرکار عرشی صاحبہ نے آپ کو تمغہ قبولیت عنایت کیا،،،،،پلیز قبولیت سے کچھ اور مرآد نہیں لیجئے گا۔
السلام علیکم
میجر صاحب آپ تو چھا گئے ، ایسی دلکش وصیحت ؟ بخدا آپ نے تو لوٹ لیا ، بہت عمدہ ، اور میرا بھی محترمہ ارشاد عرشی والا ہی حال ہے ، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ اور آپ ایسے گوہر کو تلاش کرنے کے لیے محترم صفدر ہمدانی اور آپی صاحبہ کا بھی بہت بہت شکریہ ۔
آصف احمد بھٹی
بہن عرشی صاحبہ، ہمدانی صاحب کے بقول تمغہ قبولیت (وہ والا نہیں) کا بہت بہت شکریہ. آپ کی پُرجوش حوصلہ افزائی نے وقتی طور پر تو جامے سے باہر کردیا لہذا چُٹکی کاٹ کرخود کو حقیقت کی دنیا میں واپس گھسیٹنا پڑا. دعاعیہ جذبات و خواہشات کا پھر سے شکریہ، والسلام.
قبلہ ہمدانی صاحب اور محترمہ بہن عرشی صاحبہ جیسے استاد لکھنے والوں کے تبصروں کے بعد مجھ جیسے کو تو ہمت بھی نہیں ہو رہی کہ اپنی رائے لکھوں
لیکن آپ نے لکھا ہی کچھ ایسا ہے کہ میرے لیے بھی خاموشی مشکل ہو گئی خواہ ایک ہی لفظ لکھوں مگر لکھوں گا ضرور. . .
. . . ” زبردست ”
ماشاء اللہ
آصف احمد بھٹی صاحب، حوصلہ افزائی اور دعاعیہ کلمات کا ازحد شکریہ.
برادر محترم، میرا ’رینک‘ میرا گمشدہ ماضی ہے جس کا میرے حال یا مستقبل سے کوئی واسطہ نہیں. میں اب صرف اور صرف جاوید ہی ہوں، بہت شکریہ.
جاوید اقبال کیانی صاَحب بہت خوب ، بہت اچھے ، آپ نے عالمی اَخبار میں اپنی تحریر سے ایک باغ و بہار جیسی کیفیت پیدا کردی ۔
آپ نے پاکستان کی خدمت کی خاطر جو قربانیاں دیں وہ قابل ستائش اور قابل مبارکباد ہیں۔ افسوس کہ پاکستان نے آپ کی قدر نہ کی۔
نہایت ہی اچھوتا اندازبیان ہے :
لکھتے رہیے اور اپنی حق گوئی و بے باکی سے سب کو ہوشیار ِخبردار کرتے رہیے۔
جزاک اللہ ، ماشااللہ
۔۔۔
منظور قاضی
جرمنی سے
مُحترم جاوید اقبال کیانی صاحب ،
میری آپ سے گُزارش ھے . کہ جس طرح آپ نے یہ مضمون لکھا اسی طرح دورانِ مُلازمت ایک مُحبِ وظن پاکستانی کی حیشت سے آپ نے یا دوسرے مُحبِ وطن پاکستانیوں نے جو کارنامے انجام دیئے ، اُنکو اپنی تجربات کی روشنی میں بلاگ میں تحریر کریں ، اس موضوع پر میرا خیال ہے آپ کے پاس کافی معلومات ہوں گی ، جسکو عالمی اخبار کے پڑھنے والے ضرور پسند کریں گے ،آپکی ایسی تحریر کا ہمیں شدت سے اینتظار رہے گا …………مُحتاج ِ دُعا
عبدالمناف صاحب، قبلہ ہمدانی صاحب اور محترمہ عرشی صاحبہ جیسے درویش صفت دانشوروں کی چوکھٹ پہ بیٹھنے کو ہی جگہہ مل جائے، یہی میرے لئے باعث افتخار ہے. یہ ان کی عالی ظرفی ہے جو مجھ پہ اتنی گل پاشی کی. آپ کے دل سے نکلا ” زبردست ” بذات خود بہت زبردست ہے.
منطور قاضی صاحب ، حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ. آخر ہم نے عالمی اَخبار کے نام کی لاج بھی تو رکھنی تھی. آپ نے ملک کی خدمت اور قربانیوں کا جو ذکر چھیڑا ہے تو بھائی صاحب ’’یہاں کوستا کوئی اور ہے ، اسے نوچتا کوئی اور ہے….. پوری نظم پھر کبھی‘‘ . آپ کے نیک جذبات کا ازحد شکریہ.
زوار قمر عابدی صاحب، میرا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے جو اپنے آپ کو حرام موت کے سپرد نہ کیا.اپنی آپ بیتی بلاگز میں لکھنا تو ذرا دشوار سفر ہے. ہاں اگر زندگی نے وفا کی، وقت رقیب نہ بنا، دماع نے بے وفائی نہ کی تو کبھی نہ کبھی بائیوگرافی مکمل کرکے آپ کی فرمائش ضرور پوری کروں گا. آپ کے نیک جذبات کا بہت شکریہ.
اسلام و علیکم
اُن کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے چہرے پر رونق،
ایسا ہی حال ہُوا ہے پڑھ کے وصیـت صدر زرداری کو ، کیا خوب اندازِ بیان ہے واہ واہ دل خوش ہو گیا(جو آج کل میرا کم ہی ہوتا ہے) کُچھ دیر کو سب بُھول بھال کے بس اس وصیت نامے میں کھو گیی میں جب کے بس یوں ہی پڑھنے کا ارادہ تھا، مگر پڑھنے کے بعد تو وہ حال ہوا کے جس کے لیے کسی شاعر نے کہا تھا کہ،
پھر یوں ہُوا کے آنکھوں میں بس گیا وہ شخص
اگرچہ ہم نے اُسے بے دلی سے دیکھا تھا
تو بس آپ یوں ہی سمجھں کے آپ کا انداز اور آپ کا لکھا گیا وصیت نامہ دل و دماغ میں اچھے سے رچ بس گیا ۔ آپ کو خوش آمدید آپ کے لیے اتنے بڑے برے لوگوں نے اتنی اچھی اچھی باتیں کر دی ہیں کے میں کیا کہوں ؟؟ کُچھ باقی بچتا تو ہی کہتی نا ۔
سچ میں اندازہ نہیں تھا کے تعارف سے لے کر جناب صدر کی عظیم وصیت تک کا سفر اتنا حسین و دلنشین ہُو گا خوب خوب لیکھں اور خوب خوب داد وصولیں جتنا دلچسپ آپ کا تعارف تھا اتنی ہی اچھی وصیت لکھی آپ نے ۔
میں شُکر گزار ہوں صفدر سر کی اور آپی کی جنہوں نے آپ کو مجبور کیا لکھنے کے لیے ویسے بھی ہر خوبوصرت چیز دوسری خوبصورت چیز کو پہچان لیتی ہے جس طرح سے آپی نے اور سر نے آپ پہچان لیا ۔
آپ کے لیے بہیت سی نیک خواہشات کے ساتھ ایک بار پھر سے آپ کہ خوش آمدید
الله حافطو ناصر
بہن ثمرین بخاری صاحبہ، یہ میرے لئے انتہائی خوشی کا مقام ہے جو آپ کے لبوں پہ مسکراہٹ اور چہرے پہ رونق آئی، یہی میرا مشن بھی ہے۔ پرجوش داد کا بے حد شکریہ۔
یہ آپ ُزورداریُُُُُُ سے مخاطب ہیں کیا ؟ ُُُپھر یوں ہُوا کے آنکھوں میں بس گیا وہ شخص ، اگرچہ ہم نے اُسے بے دلی سے دیکھا تھاُ
میں بھی شُکر گزار ہوں ربِ عظیم کا جو مجھے ہمدانی صاحب اور ڈاکٹر صاحبہ جیسے جوہری مل گئے ۔
آپ کی نیک خواہشات کا پھر سے شکریہ۔
جاوید اقبال کیانی۔برمنگھم
اُنکے دیکھے سے جو آجاتی ہے رُخ پہ رونق
لوگ کہتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
السلام علیکم
میجر صاحب ، میرا بچپن کا خواب تھا کہ میں پاک آرمی جوائن کروں مگر نصیب میں نہیں تھا اِس لیے میرے دل میں پاکستان کی تمام مسلح افواج کی ( کچھ لوگوں کو ذاتی حیثیت میں چھوڑ کر ) بہت عزت ہے ، آپ چاہے اپنے لیے اور اپنے چاہنے والوں کے لیے اب محض جاوید کیانی ہی رہے ہوں مگر میں آپ کو آئیندہ آپ کی اجازت سے میجر صاحب ہی کہونگا ، اور مجھے یقین ہے آپ برا نہیں مانیں گے ۔
آصف احمد بھٹی
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب، سلامت رھیں ۔۔خوش رھیں اور عالمی اخبار کی گلوبل فیملی میں آ پ کو خوش آمدید ۔زرداری کی وصیت پڑھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ ان سے ساری چیزیں انکی زندگی ھی میں وصول کر لی جایئں۔۔۔ورنہ خدشہ ھے کہ مذکورہ اشیا ایک سے زائد لوگوں میں نہ تقسیم کر جایئں،
دماغ سے تو میں عاری ہُوں
پھر بھی سب پہ بھاری ہُوں
کھوپڑی کا کشکول بنا کے
عنبر و عطر میں نہلا کے
نہ اس پہ کوئی پشیماں ہوگا
نہ اُن کے یہ گماں ہوگا
یہ تحفہ ہوگا اُس ہستی کو
جو صدرِ پاکستاں ہوگا
بہت خوب جناب آپ کا منفرد اندازبیان ۔۔۔۔۔ آپ کا فوجی بیک گراونڈ ۔مشاھدہ ،مطالعہ اس پر آپ کی خوش اقبالی ،اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔
آصف بھٹی صاحب، آپ کے پیار کا بہت شکریہ. اگر آپ میری درخواست کو قبول کرتے ہوئے اپنا اصرار چھوڑ دیں تو بڑی مہربانی ہوگی، ’ضد نہ کر یار‘
بھائی جاوید اقبال کیانی ۔سچ ہے کہ نام کا اثر صدیوں اور نسلوں تک چلتا ہے۔ وہ چاہے جاوید ہو اقبال ہو یا کیانی۔
ایوبی دور میں مغربی پاکستان کے چیف جسٹس‘ جسٹس رستم کیانی ایک مرد قلندر تھے۔ایک سچے اور کھرے جج جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ یہی وہ جسٹس کیانی مرحوم ہیں جنہوں نے سخت جبر‘ دبائو کے دنوں میں سلیقے اور قرینے‘ طریقے سے بھڑاس نکالنے کا انداز اپنایا۔
ایوب خان کی امریت سے تنگ آ کر ایک تقریب میں چیف جسٹس رستم کیانی مرحوم نے کہا تھا کہ پہلے والی حکومتیں ہمیں سبز باغ دکھایا کرتی تھیں جبکہ ایوب حکومت نے ہمیں کالاباغ دکھا دیا ہے
“لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو”
محترم جناب ہمدانی صاحب،میرے سکول کے ہیڈ ماسٹر ( چوہدری نذیر احمد، سہگل ماڈل ہائی سکول سہگل آباد) میرے لڑکپن کی بیباکیوں پہ مجھےاکثر جسٹس کیانی کہہ کر چھیڑا کرتے تھے. آپ نے کتنے سالوں بعد مجھے ان کی یاد دلادی. ’ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا’
استاد محترم! کاش میں وہ سبھی کچھ ہوتا جو کچھ آپ نے فرمایا مگر ‘ یہاںآن پڑی ہے شرم ……’
جسٹس کیانی کی ‘افکار پریشان’ کالج کے دور مین پڑی تھی، اگر کہییں سے اس کے ملنے کا پتہ بتا دیں تو بڑی مہربانی ہوگی.
آپ کے پیار، نظر کرم اور ذرہ نوازی کا بے حد شکریہ.
محترمہ شاہین بہن، ’’ زرداری کی وصیت پڑھ کر جو آپ کےدل میں خیال آیا کہ ان سے ساری چیزیں انکی زندگی ھی میں وصول کر لی جایئں۔۔۔ورنہ خدشہ ھے کہ مذکورہ اشیا ایک سے زائد لوگوں میں نہ تقسیم کردی جایئں‘‘ یہ تو آپ کا خیال ہے وگرنہ نظم لکھنے سے پہلے میں نے ویسے ہی مختلف لوگوں سے رائے مانگی کہ ’’ صدر زرداری کی وصیت کی روشنی مین ان کے جسمانی اعضاء کا صحیح حقدار کون ہو سکتاہے؟‘‘ تو مجھے ایسی ایسی رائے ملی کہ اللـہ پناہ! اسے قلمبند کرنے کو ایک کتاب بھی کم ہوگی.
آپ کی پسند اور نیک خواہشات اور ذرہ نوازی کا بے حساب شکریہ.
زوار قمر عابدی صاحب
ہم نےعالمی اخبار کے تمام قارئین کے چہروں پہ رونق بکھیرنے کا عہد کر لیا ہے. انشاء اللہ سب بیمار (خدا نہ کرے کوئی ہو) پکار پکار کے دہائی دیں گے، ’’بس کر، بس کریار . . . . . پیٹ میں درد پڑ گیا‘‘
ویسے میرے خیال میں (شاید میں بھی علط ہوں) یہ شعر کچھ اسطرح ہے
اُنکے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
ممنون و مشکور – جاوید کیانی
ویسے نام کا اثر ہوتا بھی نہیں ہے جاوید اور اقبال اور کیانی صاحب۔ اپنےجنرل کیانی بھی تو ہیں۔
”زباں پہ بار الہی یہ کس کانام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیئے”۔
یادش بخیر
آج ذکر جب آیا ہے مرحوم جسٹس کیانی کا تو جناب خالد یوسف کی ایک تحریر سے مختصر سا اقتباس بھی پیش کرتا چلوں۔ ایسے بڑے لوگوں کو یاد کرنابھی ہماری ذمیداری ہے۔ جناب خالد یوسف لکھتے ہیں۔
‘‘جسٹس ایم آر کیانی جن کا پورا نام محمد رستم کیانی تھا پاکستان کی تاریخ کے ان قانون دانوں میں سے ایک تھے جن کے نزدیک ذاتی مصلحت ملکی مفاد کے مقابلے میں پرِ کاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی تھی ۔جسٹس کیانی نے دورِ ایوبی میں اُس وقت آوازہء حق بلند کیا جس وقت وہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ مارشل لاء کے خلاف ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقاریر جب مزاجِ آمر پر بار بننے لگیں تو ایک مشہور بیوروکریٹ نے آمریت کے ترجمان کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی ایک تقریر میں جسٹس کیانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا”کسی ایسے شخص کو جو منصبِ قضا پر فائز ہو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ غیر متعلقہ سیاسی موضوعات کو زیرِ بحث لائے، جلسوں سے خطاب کرے۔۔۔اپنی تقریریں شائع کرا کے عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس کے عہدے کی حرمت کو خاک میں ملائے”۔
جسٹس کیانی کی جانب سے ایوب خان کے ترجمان کو جو جواب دیا گیا اُس کے اقتباس پیش خدمت ہیں۔”ایک اہم سوال جو اُٹھایا گیا وہ یہ کہ کیا ایک جج اپنے عہدے کے وقار کے پیشِ نظر اس قسم کی باتیں کرسکتا ہے؟۔ اس معاملے میں بڑی دیانتداری سے میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک جج، خاص طور ایک چیف جسٹس کا ہر اُس چیز سے بہت گہرا تعلق ہے جس کی زد قانون کی حکمرانی پر پڑتی ہو۔۔۔یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ حکومت کے ایک عمل کو تو خلافِ قانون قرار دے سکتا ہے لیکن جب پورے آئین کو منسوخ کر دیا جائے تو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔میں آپ میں سے ان لوگوں سے پوچھتا ہوں جو آئین کے ساتھ وفاداری کے اس حلف سے واقف ہیں جو ایک جج کو اپنے تقرر کے وقت لینا پڑتا ہے کہ مجھ پر میرے اس حلف کیوجہ سے کیا ذمہ داری عائد ہوتی تھی؟”۔جسٹس کیانی نے ایک دوسرے موقع پر اپنی تقاریر کے جواز میں کہا”انصاف کا مجسمہ بینائی سے تو محروم ہوتا ہے لیکن گویائی سے محروم نہیں ہوتا۔ یہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ اس کے ہونٹوں پر مہر ہو یا وہ سلے ہوئے ہوں۔۔۔جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ بت کی طرح کیوں کھڑے ہو تو ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ منہ میں زبان رکھتے ہو، دل میں تڑپ رکھتے ہو، سر میں سمجھ رکھتے ہو کچھ تو بولو”-دورِ ایوبی میں جو ملکی تاریخ کا پہلا مارشل لا تھا اٹھنے والی پہلی اختلافی آواز ایک درویش صفت قانون دان، ایک حاضر سروس چیف جسٹس کیانی کی تھی۔
محترم ہمدانی صاحب،بالکل بجا فرمایا کبھی نام کا اثر ہوتا بھی نہیں ہے. ویسے بچارے’ معصوم ‘ جنرل کیانی صاحب کو معاف فرمائیں آخر کو وہ تھوڑے سے ’ پرویزی ‘ بھی تو ہیں؟
شاید جسٹس کیانی مرحوم کی وہی حق گوئی و بیباکی ہماری روح میں بھی سرائیت کر گئی جو ’شنوائی‘، ’ بینائی‘ اور ’گویائی‘ کے ہاتھوں مجبور ہو کر ’’ دہائی ‘‘ پہ اتر آتا ہوں اور اکثر اپنا نقصان کر لیتا ہوں، پتہ نہیں کب عقل آئے گی؟
ایسا تاریخی اقتباس پیش کرنے کا بے حد شکریہ.
جاوید صاھب، خوش آمدید بلاگ فیملی میں. امید ہے آپ کے ساتھ وقت عمدہ گزرے گا.
وحید صاحب، بہت مہربانی آپکی. ’امید ہے آپ کے ساتھ وقت عمدہ گزرے گا‘ یہی میری بھی دعا ہے، والسلام
ہاہاہاہاہاہا۔ اچھے پہلے ذرا ہنس تو لوں پھر لکھتی ہوں۔
جاوید بھائی پہلے تو آپکو بلاگ فیملی میں خوش آمدید کہنے میں تاخیر پر دلی معزرت۔اسکی وجہ میری ہاسپٹل کی عجیب بے تکی دن رات کی طویل ڈیوٹیاں ہیں اور دوسرے میری والدہ کی طبیعت جسکی وجہ سے بلاگ اور اخبار کو وقت نہیں دے پا رہی۔
مجھے یقین ہے کہ آپ اسی طرح بلاگ فیملی میں شامل رہیں گے اور اپنی منفرد فکر کی روشنی پھیلاتے رہیں گے۔
آپ کو تو ڈبل تجربہ ہے۔آپ اصل فوج کو بھی جانتے ہیں اور وزیروں کی فوج سے بھی آگاہ ہیں۔ سیاسی فوج سے بھی آشنا ہیں اور ڈبہ پیروں کی فوج سے بھی آگاہ ہیں۔ یہ سب دراصل ایک ہی آئینے کی مختلف شکلیں ہیں۔
خوش رہیں اور لکھتے رہیں۔
میں ابھی بھی کچھ روز شاید تواتر سے لکھنے نہ آسکوں لیکن بلاگ کو کسی نہ کسی طرح وقت نکال کر پڑھتی ضرور ہوں
محترمہ ڈاکٹر صاحبہ،
میں پہلے دں سے ہی بار بار پیچھے مُڑ مُڑ کر دیکھ رہا ہوں کہ مجھےاس گہرے سمندر میں دھکا دینے والی بہن خود کہاں کھو گئی؟
خیر بہن جی، دنیا کا نظام بھی توہمہی نے چلانا ہے اور اپنی والدہ صاحبہ کی پریشانی بھی تو تھی. . اللـہ انہیں جلد صحت یاب کرے…آمین
حوصلہ افزائی کا شکریہ.
ویسے کیانی صاحب، عجب اتفاق ہے اس “ضیاء الحقیاں” کا بھی. میں اسے الحقیاں میں ح کو ے سے بدل کر بد تہذیب ہوتا ہوں اور آپ تہذیب کے دائرے میں رہ کر اسے نبھاتےہیں.
وحیداخترواحدت صاحب، ’’ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ‘‘ اسے جسطرح بھی لکھا جائے پڑھنے والے وہی مطلب لیتے ہیں جو آپکی ’’ ے ‘‘ میں پوشیدہ ہے،
Kiani sahab, keep up the good work 🙂
dear sir, Allah zore qalam me aur bhee izafa kare,. Aap ne Iss dasht me qadam rakha aur khoob rakha ….will wait for your more writings