السلام علیکم
آپ سب جانتے ہی ہیں کہ اردو میری مادری زبان نہیں ہے ، اِس لیے اکثر اوقات مجھے اپنا نفس مضمون تحریر کرنے میں مشکل پیش آتی ہے، اپنی بات کو ابلاغ کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے مجھ سے اکثر الفاظ کا انتخاب اور ترتیب درست نہیں ہو پاتی ، آج بھی جانے جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ آپ تک پہنچ پائے گا کہ نہیں ، اِس لیے ایک واقعہ کا سہارا لے رہا ہوں ، اُمید ہے آپ لوگ میرے بات پر غور کرینگے (یہ واقعہ میں نے تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ کئی جگہ پڑھا ہے مگر میرے پاس اِس کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں ، اور یہاں بھی تحریر کرنے کا مقصد محض اپنی بات کو بہتر انداز میں ابلاغ کرنا ہے )
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں کچھ ( شادی شدہ ) خواتین نے علماء کے سامنے سوال اُٹھایا کہ اسلام میں ایک مرد کو تو چار شادیوں کی اجازت ہے مگر ایک خاتون کو کیوں نہیں ؟ جبکہ دعواء کیا جاتا ہے کہ اسلام نے خواتین کو سب سے زیادہ حقوق دئیے ہیں ۔
عام لوگوں اور علماء نے سوال سن کر فورا اُن خواتین کو ملامت کرنا شروع کر دیا ، علماء نے اُنہیں فورا اِس گستاخی پر معافی مانگنے کا کہا ، خواتین نے گھبرا کر معافی مانگ لی ، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اِس دوران بلکل خاموش رہے ، کچھ لوگوں نے آپ سے بھی رائے مانگی ، مگر آپ خاموشی سے اُٹھ کر گھر آگئے ، اور اپنے مخصوص کمرے میں بیٹھ کر غور و فکر کرنے لگے ، گھر میں موجود ایک خاتون ( کچھ لوگوں نے اُنہیں آپ کی بیوی تحریر کیا ہے اور کچھ نے بیٹی ) نے آپ سے پریشانی کا سبب پوچھا امام صاحب نے پورا واقعہ بتادیا اور کہا کہ آج تو وہ خواتین خاموش ہوگئی اور اُنہوں نے علماء کے کہنے پر معافی بھی مانگ لی ہے مگر یہ سوال ہمیشہ اُن کے دل و دماغ میں رہے گا اور اُن کے ایمان کے لیے خطرہ بنا رہے گا ، خاتون ( امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی یا بیٹی ) نے کہا کہ آپ کل اُن خواتین کو گھر بلوا لیجئے گا میں اُن کے سوال کا جواب دونگی ، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اُن خواتین کو گھر بلوا لیا ، خاتون ( امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی یا بیٹی ) نے اُن خواتین کے سامنے ایک پیالہ رکھا اور کہا کہ آپ سب اِس میں تھوڑا تھوڑا سا اپنا دودھ ڈال دیں ، خواتین نے ایسا ہی کیا ، اب خاتون ( امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی یا بیٹی ) نے اُن سے کہا کہ اب آپ لوگ اپنا اپنا دودھ پیالے سے نکال لیں ، خواتین نے کہا یہ کیسے ممکن ہے ؟ سارے دودھ میں سے اپنا دودھ کیسے الگ کیا جاسکتا ہے ؟ خاتون ( امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی یا بیٹی ) نے اُنہیں جواب دیا کہ اگر آپ سب ایک پیالے میں موجود دودھ سے اپنا دودھ شناخت نہیں کر سکتی تو اگر آپ کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت ہوتی تو آپ اپنے شوہروں میں سے بچوں کے باپ کی شناخت کیسے کر سکتی ، اگر ایک مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرتا ہے تو اُس کی جس بیوی سے جو بھی اُولاد ہوگی وہ اُس کا باپ اور اُس کے وہ بیوی اُس بچے کی ماں ہو گی اور ماں باپ کو پہچاننے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی، خواتین اُن کے جواب سے مطمئن ہو گئی ۔
اِس واقعے کو بیان کرنے کا اصل مقصد محض یہ تھا کہ میں یا ہم میں سے کوئی بھی اگر کسی لاعلمی یا کسی بھی سبب کوئی اختلافی موضوع اُٹھا دیتا ہے تو کیا ہی یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم میں سے جو جانتے ہیں وہ اُسے دلائل سے مطمئن کریں تانکہ دل و دماغ میں آئی ہوئی گرہ ہمیشہ کے لیے کھل جائے ، ورنہ دوسری صورت میں وہ اگر اپنے الفاظ وآپس لے بھی لے تو بھی شاید وہ مطمئن نہ ہو پائے گا اور اُس کے دل و دماغ میں آئی گرہ یونہی ہمیشہ رہے گی ، جو ممکن ہے کل کسی بڑی برائی کا سبب بنے ۔
کچھ اُصول ضرور ہونے چاہیے اور اگر ہم لوگ اِس بلاگ کے زریعے باہمی مشاورت سے ایسے کچھ رہنما اُصول مرتب کر لیں تو مجھے یقین ہے ہم سب بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں ، آپ سب کی رائے کا انتظار رہے گا ۔
آصف احمد بھٹی

برادرِ عزیز جناب آصف احمد بھٹی صاحب ! (اردو میری بھی مادری زبان نہیں ہے)
بہت اچھا کیا آپ نے یہ بلاگ شروع کر کے
ویسے اب تک کئی بار اس سلسلہ میں گفتگو ہو چکی ہے اور کئی ایک اصول طے بھی کیے جا چکے ہیں، آج ایک اور اچھی اصل کا آضافہ کر دیا آپ نے کہ :
“کسی بھی سبب کوئی اختلافی موضوع اُٹھا دے تو اُسے دلائل سے مطمئن کیا جانا چاہئے” (تاکہ وہ مطمئن ہو جائے اور اُس کے دل و دماغ میں آئی گرہ کھل جائے)
ماشاء اللہ
السلام علیکم
محترم عبدالمناف بھائی ، اللہ کا شکر ہے کہ اِس بار کم از کم آپ کی حد تک تو میں اپنی بات ابلاغ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہوں اور آپ کا بھی شکریہ کہ آپ نے میری بات کی تائید کی ، رہی بات مادری زبان کی تو میرا مسئلہ دیگرے ہے کہ میرا تعلیمی پس منظر بھی کچھ نہیں ہے میں کوشش اور خواہش کے باوجود محض کچھ خاندانی مجبوریوں کے سبب تعلیم حاصل نہیں کر سکا ۔
آصف احمد بھٹی
یہ ” اختلافی موضوع” کیا ہوتا ہے؟
اگر شروع ہی سے کوئی موضوع بحث برائے بحث کے لیے ہو اور اگر کسی نے اپنی ہٹ دھرمی اور کچ بحثی کے لیے دن کو رات کہدیا اور پاکستان کا دارالخلافہ اسلام آباد کی بجائے فیصل آباد لکھدیا تو اس پر کتنی ہی دلیلیں پیش کی جائیں وہ فرد مانے گا ہی نہیں.
اسی لیے اقبال نے برتری ہری کا خیال اس شعر میں باندھ دیا :
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلام ِ نرم و ناز ک بے اثر
………
اس بلا گ کے شروع میں جو قصہ بیان کیا گیا اس کا مقصد مثال کے ذریعہ کسی کو قائل کرنا ہے.
مگر آج کل بھی کئی عورتیں اس پر مُصر ہیں کہ انکو بھی ایک سے زیادہ شوہروں سے شادی کرنے کا حق چاہیئے.
کسی ملک میں تو بچوں کو اپنی ماں کے نام کی نسبت سے پکارا جاتا ہے ( باپ کی نسبت سے نہیں ) . اس لیے کہ صحیح طور پر کسی بچے کو معلوم نہیں کہ اس کا اصلی باپ کون ہے. یہ بھی ایک قسم کے معاشرے میں ہورہا ہے..
……
مکرمی آصف احمد بھٹی صاحب۔
سلام مسنون۔
آپکی بات ہر لحاظ سے وزن بھی رکھتی ہے اور سب اسکی حقیقت کے معترف بھی ہیں کہ بناء دلائل کے کوئی بات قابل شنوائی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ابھی کوئی آپ کو یہ کہ دے کہ بھئی یہ تو کوئی نئی بات نہیں جو آپ نے کی ہے، تو اسکو آپ کیا جواب دیں گے؟
در اصل جس معاشرے کے ہم باسی ہیں، اسکے مسائل زمانے بھر سے الگ ہیں۔ہم لوگ خود نمائی اور دوسروں کی پگڑی اچھالنے کی عادت میں اسقدر گم ہیں کہ ہم ہر مثبت بات میں بھی منفی پہلو نکال لاتے ہیں۔ اصول تو تب بنایا جاتا جب ہم اسکی لاج بھی رکھیں، لیکن جب اصول بنا کر ہماری اکثریت اسکا اطلاق فقط دوسروں پر چاہے گی تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ شکر خدا کہ عالمی اخبار پر ایسا نہیں ہوتا، تاہم ایسی صورت میں، میں تو قالوا سلاما کی سنت پر عمل کرتا ہوں۔
دلیل کی اہمیت سے انکار کسی کو نہیں ہے، ہاں کچھ لوگ اپنی ضد کی وجہ سے دلیل کو ہی دلیل نہ مانیں تو کیا ہوسکتا ہے۔ ایسے بزرگوار خود بھی سائل کو دلیل کی بجائے ڈانٹ ڈپٹ سے ہی چپ کرایا کرتے ہیں، اس طرح ایک تو خود مدلل جواب دینے کی زحمت سے بھی بچ جاتے ہیں اور دوسروں کو ڈانٹ پلا کر اپنا رعب بھی جما لیتے ہیں۔ اب اگر کوئی ان کے رعب یا نقص امن کے خوف سے چپ ہو رہے تو اسکو اپنی عزت افزائی سمجھنا سب سے بڑی نادانی ہے، کیونکہ جناب امیر المؤمنین امام علی (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ وہ شخص سب سے ذلیل ہے جس کے خوف کے سبب سے لوگ اسکا احترام کریں۔ ہمیں بھی اپنا محاسبہ اسی فرمان کی روشنی میں کرنا چاہئے کہ ہمارا احترام کن اسباب سے ہو رہا ہے، اور ہم کس قماش میں آ رہے ہیں۔
خدائے بزرگ و بر تر نے قرآن میں جا بجا دلائل سے وحی کے مقابل آنے کی مبازرت دی ہے اور توحید پر دلائل پیش کئے ہیں۔ خدا ہمیں بھی اپنی اس سنت پر عمل کرنے کی ہمت و توفیق عنایت فرمائے۔ آمین۔
السلام علیکم
محترم سید مصباح حسین صاحب ، یہ درست کہ ہم میں معتدد خرابیاں ہیں مگر اِس خوف سے کہ ’’ کوئی مانے گا نہیں ‘‘ ہم کب تک خود کو مطمئن کرتے رہیں گے ، ہمیں تنقید کے خوف سے کسی قدر بلند ہو کر اپنے موقف پر دلائل دینے چاہیے اور کوشش کرنے چاہیے کہ اگر مقابل کے دلائل بہتر ہیں تو اپنے موقف سے رجوع کر لینا میں کچھ برا نہیں ہے بلکہ اِسی سے تو ہم کچھ سیکھتے ہیں ، اور یہ جو آپ نے بزرگوں کی ڈانٹ کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی تو ’’ کچھ سیکھنے کا ‘‘ کا بہانہ ہے ، فارسی میں مقولہ مشہور ہے ، ’’ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است ‘‘ اور پھر آپ نے ہمارے آقا و امیر المومنین جناب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک بہترین قول لکھ کر دریا کو قوزے میں بند کر دیا ہے ، اب اِس کے بعد کیا کہا جاسکتا ہے ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، قبلہ آپ کی بات درست ہے یقینا اگر نیت بحث برائے بحث کی ہے تو پھر کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا
مگر اب نیتوں کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے اِس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمین ممکن حد تک دلائل دینے چاہیے ، آقائے کائنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’ علم مومن کا گمشدہ خزانہ ہے وہ اُسے جہاں پاتا ہے حاصل کر لیتا ہے ۔ آپ جیسے صاحب علم لوگوں کی کچھ سطریں اگر کسی کے علم میں اضافہ کر دیں تو میرا خیال ہے سودا برا نہیں ہے ۔
آصف احمد بھٹی
مجھے بحث میں حصہ لیکر خوشی ضرور ہوتی لیکن میں کج بحثی کی عادی نہیں.انتظامیہ کی بات کو عالمی اخبار کے ترجمان نے وضاحت سے لکھ دیا ہے. ہمیں صرف یہ کہنا ہے کہ ہر قسم کے موضوع کو ہم یہاں زیر بحث نہیں لا سکتے اور اسکے لیئے اخبار اپنی پالیسی کے مطابق فیصلہ کرتا رہے گا. یہ آپکی خوشی اور صوابدید ہے کہ آپ انتظامیہ سے اتفاق کرنا چاتے ہیں یا نہیں. ہم اتحاد کے حامی ہیں نفاق کے نہیں.
بس ایک بات محل نظر رہے کہ کچا پکا علم لکھنے والے کو پڑھنے والے سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے اور یہ بھی دھیان رہے کہ ہر سوال،ہر کسی سے،ہر جگہ پر نہیں کیا جاتا.
آصف احمد بھٹی صاحب،
’’ہم میں سے کوئی بھی اگر کسی لاعلمی یا کسی بھی سبب کوئی اختلافی موضوع اُٹھا دیتا ہے تو کیا ہی یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم میں سے جو جانتے ہیں وہ اُسے دلائل سے مطمئن کریں تانکہ دل و دماغ میں آئی ہوئی گرہ ہمیشہ کے لیے کھل جائے‘‘ اس پہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ….
اختلافی موضوعات پہ بحث محض تلخیوں میں اضافے کا ہی باعث بنتی ہے. آپ کسی کے سیاسی یا مذہبی خیالات پہ جتنے مرضی دلائل دیں لیں، مطمئن کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے. اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اتنے مذاہب، اتنے سیاسی نظریات اور اتنی فرقہ بندیاں نہ ہوتیں. ہمیں حتی الوسع اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کرنا چاہئے. لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم اخلتلاف رائے کے حق سےہی قطعی دست بردار ہوجائیں.
امام ابو حنیفہ کی مثال علم کی حد تک تو روشنی ہے لیکن میرے خیال میں اس کا اس جگہ استعمال برمحل نہیں ہے کیونکہ وہ امام وقت تھے اور لوگ راہنمائی کی خاطر (نہ کہ اختلافی بنیاد پر) ایسے مسائل پوچھتے ہوں گے . اور پھر اگر آپکی اسی دلیل کو مان لیا جائے تو تمام آئماء کرام کے الگ الگ فرقے نہ بنتے لیکن ایسا اسی لیے ہواکہ کوئی کسی کو اختلاف رائے پہ قائل نہ کرسکا. سو بہت سے مقامات پہ اختلاف رائے محض وقت اور توانائیوں کا ضیاع ہی ہوتا ہے، جسے محترم قاضی صاحب نے بھی نہایت احسن طریقے سے واضح کردیا ہے،اور اسے جہں تک ہوسکے بچنا چائیے.والسلام
جاوید اقبال کیانی صاحب نے جو کچھ اپنے تبصرے میں لکھا میں اس کی دل سے تائید کرتا ہوں .
ایسے مثبت اور تعمیری تبصروں کو پڑھکر خوشی ہوتی ہے .
…………..
حضرت علی کا قول ہے کہ
تععصب کا سبب لاعلمی ہے۔
ایک عالم اگر کسی مسئلہ سے لا علم ہوتا ہے تو وہ سوال پوچھ کر اپنی لاعلمی دور کرکے تعصب کا شکار ہونے سے بچ جاتا ہے۔
بد قستی یہ ہے ہمارے گھر، اسکول اور معاشرہ میں سوال پوچھنے پر بچہ کا مذ اق اُڑایا جاتا ہے ۔ اُس پر ڈانٹ پڑتی ہے، اُس پر مار پڑتی ہے۔ تو جو بچہ اس معاشرہ پرورش پاتے ہیں اُن میں سے اکثریت میں قوتِ برداشت نہیں ہوتی۔ مغرب میں رہ کر ہم اپنے بچوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ لیکن جڑ کمزور ہونے کی وجہ سے اعلیٰٰٰٰٰٰٰ تعلیم بھی ہماری لاعلمی کا تدارک اکثر و بیشتر نہیں کرپاتی۔ اگر کوئ بچہ hostile ماحول میں پرورش پاتا ہے تو وہ دوسروں میں خوبیاں تلاش کرنے کے بجائے خامیاں تلاش کرتا ہے۔ اس کا یہی رویہ دوسروں کی تحریر کی طرف ہوتا ہے۔ اسکی زندگی میں عمل کم ہوتا ہے اور ردِ عمل زیادہ۔
مُحترم آصف احمد بھٹی صاحب
ماشاللہ آپ کی بات پر تبصرے ایک نئی سے نئی راہ کھول رہے ہیں ، پہلے تو میں یہ جاننا چاھوں گا کہ عشق کی منزل تک پُہنچنے کہ مدارج کون کون سے ہیں،؟
میرے خیال میں یہ ، اُنسیت سے شروع ہوتے ہیں ، پہلے آپ کو کیسی سے اُنسیت ہوتی ہے ، اور کسی سے چاہت ، تو فطری عمل ہے کہ اگر کبھی ضرورت پڑے دونوں میں سے ایک کو مُمتخب کرنے کی تو، آپ چاہت پر اپنی اُنسیت کو قُربان کر دیں گے، یہ ہی جاہت اُلفت میں میں بدل جائے تو آپ ، اپنی اُلفت پر چاہت کو قُربان کر سکتے ہ یں ، یہ ہی عمل مُحبت میں ہے ، کبھی موقع ، آجائے تو آپ ، اپنی مُحبت کییلئے اپنی اُنسیت ، چاہت ، اُلفت ، سب کو قُربان کر دیں گے ، اور پھر عشق وہ کہ جس پر سب کُچھ قُربان ،، مگر اس سے آگے ایک منزل اور ہے اور میرے خیال میں نادیہ صاحبہ کا سوال میری نظر میں بے معنی ھو جاتا ہے
آگے ایک منزل ہے مودت کی منزل ، اور مودت سرف مُحمد و آلِ مُحمد سے ھوتی ہے کسی عام انسان سے نہیں اب سوچنا یہ ہر کہ ہمیں اللہ ، اور مُحمد و آلِ مُحمد سے مودت ہے کہ عشق ؟ ………….. مُحتاجِ دُعا…….
السلام علیکم
محترم زوار عابدی صاحب ، آپ نے محترمہ نادیہ بخاری صاحبہ کے بلاگ میں کیا جانے والا تبصرہ یہاں کر دیا ، اور اچھا کیا ، میرے لیے آپ کی رائے بہت محترم ہے ، انسان ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے اور آپ کے اِس تبصرے نے میرے علم میں بہت اضافہ کیا ہے آپ نے جس جزبے کا ذکر کیا یعنی ’’ مودت ‘‘ تو عرض ہے کہ میں اِس سے پہلے اِس لفظ سے لا علم تھا ، یہ لفظ آج پہلی بار میرے علم میں آیا ہے ، اور اگر یہ لفظ اپنے معنی و مفہوم میں عشق سے بھی بڑا تو آج آپ نے مجھے ایک نئی چیز سکھائی ہے ، اللہ آپ کو اِس کی جزا دے ۔ آمین ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
آپی ، میں اِس سے پہلے اخبار کی اِس پالیسی سے لاعلم تھا کہ ’’ ہم یہاں ہر طرح کے موضوع کو زیر بحث نہیں لا سکتے ‘‘ ٹھیک ہے بہت مناسب ہے ، مگر میں تو محض یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر کوئی ایسا موضوع شروع ہو جائے جس سے اختلاف کا پہلو نکلتا ہو تو تحمل مزاجی کے ساتھ اعتدال کو مد نظر رکھتے ہوئے شائستگی سے اور دلائل کے ساتھ اُسے ختم کیا جا سکتا ہے ، عموما دیکھا گیا ہے کہ احباب محفل کسی بات سے متفق نہیں ہوتے ( بعض اوقات میں بھی اُس سے متفق نہیں ہوتا ) تو وہ فورا انتظامیہ سے اُس بلاگ کو ہٹانے کا کہہ دیتے ہیں ، جو کسی طور مناسب رویہ نہیں ہے ، ہمیں تحمل مزاجی سے اور شائستگی کے ساتھ مخالف کو مطمئن کرنا چاہیے یا پھر بحث سے الگ ہو جانا چاہیے ۔
بہر حال پالیسی بنانا ارباب اختیار کا حق ہے میں تو مشورہ دے سکتا تھا جو دے دیا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترم جاوید کیانی صاحب ، مین آپ کی بات سے متفق ہوں کہ اختلافی موضوعات پہ بحث محض تلخیوں میں اضافے کا ہی باعث بنتی ہے. آپ کسی کے سیاسی یا مذہبی خیالات پہ جتنے مرضی دلائل دیں لیں، مطمئن کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ،
مگر کیاں اختلافی موضوع سیاسی یا مذہبی ہی ہوتا ہے ؟ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے کسی موضوع سے اختلاف ہوتا ہے تو میں اُس پر دلائل دیتا ہوں اگر بات کج بحثی تک پہنچ جائے تو خاموش ہو جاتا ہوں ۔
اپنے بلاگ میں امام ابو حنیفہ کے جس واقعہ کا ذکر میں نے کیا ہے ، میں نے واضع طور پر لکھا تھا کہ یہ واقعہ میں محض اپنی بات کے ابلاغ کے لیے لکھ رہا ہوں ، میرا کہنے کا مقصد محض یہ تھا کہ اُن کی بیوی یا بیٹی نے محض دلیل کے زریعے ایک بہت بڑے اختلافی بات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا ، اور یہ ہماری زندگی کے رہنما اُصول سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ حضرات کی زندگی سے ہی تو اخذ ہوتے ہیں ۔ بہر حال آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی رائے دی ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترم جناب ظفر جعفری صاحب ، آپ نے تو بات ہی ختم کر دی ، امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول لکھ کر کوزے میں دریا بند کر دیا ، اور پھر مجھے جو ابلاغ کا مسئلہ تھا وہ آپ کے لکھے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے قول اور آپ کے خوبصورت تبصرے نے بخوبی پورا کر دیا ، آپ کا بہت بہت شکریہ ۔
آصف احمد بھٹی
میں آصف احمد بھٹی صاحب کی مصلحت کو نہیں سمجھ سکا.
انہوں نے اپنے 6 اپریل کے تبصرے میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے تبصرے کے جواب میں یہ تحریر کیا :
“آپی ، میں اِس سے پہلے اخبار کی اِس پالیسی سے لاعلم تھا کہ ’’ ہم یہاں ہر طرح کے موضوع کو زیر بحث نہیں لا سکتے ‘‘ ٹھیک ہے بہت مناسب ہے ، مگر میں تو محض یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر کوئی ایسا موضوع شروع ہو جائے جس سے اختلاف کا پہلو نکلتا ہو تو تحمل مزاجی کے ساتھ اعتدال کو مد نظر رکھتے ہوئے شائستگی سے اور دلائل کے ساتھ اُسے ختم کیا جا سکتا ہے ، عموما دیکھا گیا ہے کہ احباب محفل کسی بات سے متفق نہیں ہوتے ( بعض اوقات میں بھی اُس سے متفق نہیں ہوتا ) تو وہ فورا انتظامیہ سے اُس بلاگ کو ہٹانے کا کہہ دیتے ہیں ، جو کسی طور مناسب رویہ نہیں ہے ، ہمیں تحمل مزاجی سے اور شائستگی کے ساتھ مخالف کو مطمئن کرنا چاہیے یا پھر بحث سے الگ ہو جانا چاہیے ۔
بہر حال پالیسی بنانا ارباب اختیار کا حق ہے میں تو مشورہ دے سکتا تھا جو دے دیا ۔”
……
1ِ : عالمی اخبارکی یہ پالیسی کہ ” ہم یہاں ہر طرح کے موضوع کو زیر.بحث نہیں لا سکتے ” تو اس سے” لاعلمی ” کے باوجود ہر عقلمند کا کام ہے کہ وہ کوئی ایسا موضوع زیر بحث نہ لائے جس سے فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو. ..
کیا اس بات کو ہر عاقل اور باشعور انسان کو خاص طور پرکہنے کی ضرورت ہے ؟
تعجب ہے کہ وہ 6 اپریل سے پہلے ان عام فہم آدابِ محفل سے بالکل نا واقف تھے !!!!
…….
2. اور اگر” احباب محفل” کسی بات سے متفق نہیں ہوتے اور وہ فوراً انتظامیہ سے اُس بلاگ کو ہٹانے کا کہ دیتے ہیں تو اس کو” نا مناسب رویہ” کہنے والے آصف احمد بھٹی صاحب کون ہوتے ہیں ؟
وہ ایسی بات لکھکر نہ صرف ” احباب ِ محفل ” بلکہ عالمی اخبار کی عقل و دانش اور فراست پر بھی حملہ کررہے ہیں. اس لیے کہ عالمی اخبار کے اربابِ اختیار “احبابِ محفل ” کا دل خوش کرنےکے لیے نہیں بلکہ وہ خود آپس میں مشورہ کرکے اس فیصلے پر پہنچتے ہیں کہ اس بلاگ سے فتنہ و فسا د کا اندیشہ ہے. اور اس کا ہمیشہ کے لیے بند ہوجانا ہی اچھا ہے .
3ِ جناب آصف احمد بھٹی صاحب اس قسم کی اشتعال انگیز باتیں لکھ تو دیتے ہیں مگر کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے .
وہ اگرچند ایسے بلاگوں کی مثال دیتے جس کو عالمی اخبار نے خواہ مخواہ بند کردیا تو پھر بات آگے بڑھتی .
…………
اسی لیے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ میں آصف احمد بھٹی صاحب کی مصلحت کو نہیں سمجھ سکا .
…..
فقط:
منظور قااضی
جرمنی سے
محترم جناب آصف احمد بھٹی صاحب،
’’ میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ اختلافی موضوعات پہ بحث محض تلخیوں میں اضافے کا ہی باعث بنتی ہے …….‘‘
جناب جب آپ مجھ سے اس بات پہ متفق ہیں تو بات ختم. تشکـر!
’’مگر کیا اختلافی موضوع سیاسی یا مذہبی ہی ہوتا ہے ‘‘….نہیں ھر گز نہیں، یہ محض ایک مثال تھی ورنہ اختلافی موضوعات کی آپ کو پوری انسائیکلوپیڈیا مل جائے گی. ویسےمیرے خیال میں اختلاف رائے اور اختلافی موضوع دونوں الگ چیزیں ہیں.تفصیل میں جانا محض وقت کا ضیاع ہوگا، کیونکہ آپ سب سمجھدار ہیں.
امام ابو حنیفہ کے واقعہ کے بارے میں خود آپکا فرمانا ہے ،’’ (یہ واقعہ میں نے تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ کئی جگہ پڑھا ہے مگر میرے پاس اِس کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں……….‘‘
حضور، فقہ میں جہاں ایسی صورت پیش آجائے وہاں بات بڑھانے یا پھیلانے سے پہلے مکمل صحت کا ثبوت لازمی ہے ورنہ کئی لوگوں کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے.
’’اُن کی بیوی یا بیٹی نے محض دلیل کے زریعے ایک بہت بڑی اختلافی بات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا………..‘‘
میرے خیال میں یہ کوئی اختلافی مسئلہ تھا ہی نہیں، ورنہ ساری عورتیں ملکر ایک فتنہ کھڑا کر دیتیں، بلکہ محض، اگر یہ سچ ہے تو، چند عورتوں کی طرف سے علم یا راہنمائی کی خاطر پوچھا گیا ایک عام سا سوال ہے.والسلام
I am OK, you are OK
We agree to disagree
Short course in human relations
چھ الفاظ کا بہترین جملہ
I admit I made a mistake
پانچ الفاظ کا بہترین جملہ
You did a good job
چار الفاظ کا بہترین جملہ
What is you opinion
تین الفاظ کا بہترین جملہ
If you please
دو الفاظ کا بہترین جملہ
Thank you
بہترین لفظ
We نہ کہ I
اگر یہ رویہ ہو تو ہم دنیا کو سر سکتے ہیں۔
السلام علیکم
محترم جاوید کیانی صاحب ، آپ کی بات درست ہے کہ اختلاف رائے اور اختلافی موضوع میں بہت فرق ہوتا ہے ، اور میں یہی بات کہنا چاہتا تھا ، اختلاف رائے تو کوئی بھی کر سکتا ہے مگر جب میں اختلافی موضوع کہتا ہوں تو میں اُس سے مراد یہ لیتا ہوں کہ کسی بات پر بے سبب اختلاف پیدا کر لینا ، جس کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہوتی ، محض اپنی انا کی تسکین کے لیے ( آپ کو بھی کچھ عرصہ تو ہو گیا ہے اندازہ ہو ہی گیا ہوگا ) کسی بھی بات میں اختلافی نکتہ نکال لینا ، بقول شخصے ! ’’ وہی بات اُن کو بری لگی جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا ‘‘ مجھے اندازہ ہوا ہے ( ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو ) یہاں سب لکھنے والے محترمین میں سے کچھ نے لکھنے والوں کو ’’ پسند ، ناپسند ‘‘ کے پیمانے میں بھر رکھا ہے ، جو پسند ہے وہ کچھ بھی لکھ دے ’’ واہ واہ ‘‘ نہیں تھمتی اور جو نا پسند ہے اُس کا نام نظر آتے ہی نفس مضمون سمجھے بغیر اختلاف اور تنقید شروع ۔
لکھنے والا اپنے تبصرے یا بلاگ میں کسی بات یا موضوع سے متعلق کچھ لکھتا ہے ، اپنی بات کی وضاحت کے لیے اُسے کچھ جملے دائیں بائیں سے بھی لینے پڑتے ہیں اب ایسے میں اصل موضوع یا بات کو چھوڑ کر کسی دائیں بائیں کے جملے کو اختلاف کا سبب بنا لینا کیا واقعی ناانصافی نہیں ؟ گستاخی معاف ( ہزار بار معزرت کے ساتھ ) اب جیسے آپ نے میرے لکھے ہوئے امام ابو حنیفہ کے واقعے کو فقہ کی طرف موڑ دیا ہے حالانکہ میں شروع میں لکھ چکا ہوں اور بعد میں بھی وضاحت کر چکا ہوں کہ وہ محض اپنی بات کی بہتر ابلاغ کے لیے بطور سہارا تھا ، میرے اصل مقصد کی طرف کوئی نہیں آرہا ، میں نے جس مقصد کے لیے یہ بلاگ لکھا تھا وہ تو کہیں بیچ میں ہی رہ گیا ، بہر حال میری کوشش ہوتی ہے کہ میں خاموش رہوں اور اِس مقولہ پر عمل کروں کہ ’’ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است ‘‘ سو میں اکثر اوقات کچھ تلخ جملوں پر بھی خاموش ہو جاتا ہوں یا سر جھکا کر معافی طلب کرلیتا ہو، کیونکہ ابھی مجھے بہت کچھ سیکھنا ہے ۔ دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
خطائے بزرگاں گرفتن خطا است :
یہ قول غلط جگہ پر استعمال ہوا ۔
۔۔۔۔۔
بزرگو ں نے تنبہیہ اور تادیب کی ، کوئی خطا نہیِں کی ۔
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، بزرگوں کی تنبیہہ و تادیب سر آنکھوں پر ، کون کم بخت اِس کی افادیت سے انکار کرتا ہے ، میں تو اپنے سے بڑوں اور خصوصا اہل علم لوگوں کی جوتیاں سیدھی کرنا بھی اپنے لیے باعث افتخار سمجھتا ہوں مگر یقینا آپ اِس بات پر مجھ سے متفق ہوں کے تنبیہہ و تادیب اگر تنقید ( برائے اصلاح ) کی حد تک ہو تو درست ہے مگر کبھی کبھی یہ جو تنقیص ( اور وہ بھی بے سبب ) ہے یہ مجھ جیسے ٹھنڈے مزاج کو بھی تحمل گریزاں کر دیتی ہے ، کہ عزت نفس بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور پھر اِس بات کا فیصلہ کیسے اور کون کرے گا کہ کوئی جملہ کسی جگہ نامناسب ہے یا غلط طور پر استعمال ہوا ہے ؟ بہر حال وہ ایک عمومی روئیے کی طرف اشارہ تھا کسی کو مخصوص کر کے نہیں لکھا تھا اگر آپ کو مناسب نہین لگا تو معذرت خواہ ہوں ۔ دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
آصف احمد بھٹی صاحب کی معذ رت خواہی کا شکریہ .میں اپنی دعاوں میں انکو یاد کرتا رہونگا . وہ بھی مجھے اپنی “نیک ” دعائیں میں شامل کرتے رہیں : شکریہ
……
انکا یہ سوال غور طلب ہے :
“اور پھر اِس بات کا فیصلہ کیسے اور کون کرے گا کہ کوئی جملہ کسی جگہ نامناسب ہے یا غلط طور پر استعمال ہوا ہے ؟ بہر حال وہ ایک عمومی روئیے کی طرف اشارہ تھا کسی کو مخصوص کر کے نہیں لکھا تھا اگر آپ کو مناسب نہین لگا تو معذرت خواہ ہوں ۔ دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ”
آصف احمد بھٹی صاحب کا یہ مفروضہ کہ “عمومی رویئے ” کا اشارہ مجھے نامناسب لگا . تو یہ انکی غلط فہمی ہے .
……..
اب رہا مناسب اور نامناسب کے فرق کو جاننے کی تمیز تو یہ اپنے ضمیر پر اور اپنے بزرگوں کی تربیت کے ساتھ خدا کی بخشش پر منحصر ہے :
ایں سعادت بزوِر بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
………
آصف احمد بھٹی صاحب نے جاوید اقبال کیانی صاحب کے تبصرے کے جواب میں مندرجہ ذیل مفروضات کو لکھکر جو زہر آلود باتیں لکھی ہیں انکا جواب تو جاوید اقبال کیانی صاحب اپنے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں دے سکتے ہیں . :
بقول آصف احمد بھٹی صاحب:
“محض اپنی انا کی تسکین کے لیے ( آپ کو بھی کچھ عرصہ تو ہو گیا ہے اندازہ ہو ہی گیا ہوگا ) کسی بھی بات میں اختلافی نکتہ نکال لینا ، بقول شخصے ! ’’ وہی بات اُن کو بری لگی جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا ‘‘ مجھے اندازہ ہوا ہے ( ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو ) یہاں سب لکھنے والے محترمین میں سے کچھ نے لکھنے والوں کو ’’ پسند ، ناپسند ‘‘ کے پیمانے میں بھر رکھا ہے ، جو پسند ہے وہ کچھ بھی لکھ دے ’’ واہ واہ ‘‘ نہیں تھمتی اور جو نا پسند ہے اُس کا نام نظر آتے ہی نفس مضمون سمجھے بغیر اختلاف اور تنقید شروع ۔ ”
………………….
ایسی باتیں لکھکر کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جاوید اقبال کیانی صاحب ( اور دوسرے پڑھنےوالوں ) کے ذہن کو بھی زہر آلود کردینگے ؟
…………….
وہ اپنے اس جملے کو پڑھکر سوچیں کہ انہوں نے ” مناسب ” بات کی ہے یا ” نا مناسب” :
” یہاں سب لکھنے والے محترمین میں سے کچھ نے لکھنے والوں کو ’’ پسند ، ناپسند ‘‘ کے پیمانے میں بھر رکھا ہے ، جو پسند ہے وہ کچھ بھی لکھ دے ’’ واہ واہ ‘‘ نہیں تھمتی اور جو نا پسند ہے اُس کا نام نظر آتے ہی نفس مضمون سمجھے بغیر اختلاف اور تنقید شروع ۔ ”
………
یہ “کچھ نےلکھنے والوں ” کے کیا نام ہیں ؟ انکے پسندیدہ لکھنے والوں اور انکے ناپسند لکھنے والوں کے کیا نام ہیں ؟
کیا کوئی قابل فہم مثال وہ دے سکتے ہیں ؟
………
کیا اچھا ہوتا اگر آصف احمد بھٹی صاحب مثالوں اور دلیلوں کے ساتھ اپنی بات کی سچائی ثابت کردیتے . مگر ایسا نہیں ہوا .
……
کیا بلاگ نگار آصف احمد بھٹی صاحب کہتے ہیں کہ اس بلاگ میں کوئی افادیت ہے ؟
…..
یہاں پر آرزو کا یہ شعر بھی لکھنا ضروری ہے :
حد سے نہ گذر سیلاب نہ بن ، چکر میں نہ پھنس گرداب نہ بن
بن ہلکی موج مگر ایسی ، جس موچ پہ دریا ناز کرے
…….
….
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
.
آ
محترم آصف بھٹی
آپ کی اس تحریر پر میں انتظامیہ کے فرد کے علاوہ ایک لکھاری اور قاری کے طور پر بھی سخت احتجاج کرتا اگر آپ یہ نہ لکھتے کہ ” ( ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو ). آپ نے لکھا ہے کہ………
”مجھے اندازہ ہوا ہے ( ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو ) یہاں سب لکھنے والے محترمین میں سے کچھ نے لکھنے والوں کو ’’ پسند ، ناپسند ‘‘ کے پیمانے میں بھر رکھا ہے ، جو پسند ہے وہ کچھ بھی لکھ دے ’’ واہ واہ ‘‘ نہیں تھمتی اور جو نا پسند ہے اُس کا نام نظر آتے ہی نفس مضمون سمجھے بغیر اختلاف اور تنقید شروع ”۔
آپ کا یہ تجزیہ واقعی غلط ہے اور اسکا دعویٰ میں اس لیئے کر رہا ہوں کہ اگر بلاگ لکھنے والے مستقل احباب میں سے دو لوگ بھی آپ کی بات کی تائید کر دیں تو میں اپنی غلطی تسلیم کر کے آپ سے معذرت کر لوں گا.ہمارے ہاں کوئی پسند نا پسند نہیں. سب لکھنے والے ایک جیسے ہیں. لکھنے والوں میں سے اگر کسی کے ساتھ پرانے ذاتی تعلقات ہیں بھی تو اختلافی نکتہ نظر کے اظہار میں کوئی رو رعایت نہیں اور اسکی ایک اور بڑی دلیل یہ ہے کہ آخر ہمارے لکھے بلاگوں پر بھی تو خوب خوب تنقید ہوتی ہے.
محترم آصف بھٹی صاحب وسوسے مکڑی کے جالے کی طرح ہوتے ہیں. طرفداری کا کیال کبھی دل میں نہ لائیے گا.
آپ متعدد بار میرا یہ لکھا پڑھ چکے ہونگے کہ ”اختلافات کے ساتھ جینا ہی تو جینا ہے”.
السلام علیکم
محترم صفدر ہمدانی صاحب ، میں اِس بلاگ کے زریعے جو بات آپ سب تک پہنچانا چاہتا تھا میرا خیال ہے وہ پہنچ چکی ہے ، اگر اِس بلاگ پر موجود تبصروں کو ہی غور سے پڑھا جائے تو میری بات واضع ہو جائے گی ، کچھ مبصروں کا جن کا میں بہت احترام کرتا ہوں میرے بارے میں لہجہ میری تائید میں گواہی دے رہا ہے ، اِس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ، ہو سکتا ہے اپنی کم فہمی کے سبب مزید تلخیاں پیدا نہ کر دوں ، حالانکہ اِس بلاگ کو میں نے تلخیاں کم کرنے کی نیت سے ہی تحریر کیا تھا ۔ آپ اگر مناسب سمجھیں تو اب اِس بلاگ کو بند کر دیں ۔ دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
آصف بھٹی صاحب۔ آپ مجھ تک کیا پہنچانا چاہتے تھے اور کیا مجھ تک پہنچا میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ آپ تو فقط بلاگ اور تبصرہ لکھتے ہیں مجھے ۲۲ شعبوں کا اخبار چوبیس گھنٹے چلانا ہوتا ہے۔اس لیئے کسی بے مقصد بحث میں نہ الجھنا چاہتا ہوں اور کسی بے مقصد بات میں وقت برباد کرنا چاہوں گا۔ دراصل جن چیزوں کی آپ بات کر رہے ہیں یہ سب معروضی باتیں ہیں۔ ایک بات آپ کے نزدیک درست ہو سکتی ہے اور دوسرے کے غلط اور اسی طرح اسکے برعکس بھی ممکن ہے۔ آپ کو اگر کسی موضوع سے اختلاف ہے ضرور لکھیں لیکن اگر کوئی آپ سے اختلاف کرے تو اسے ہمارے ماتھے کا چاند ستارہ نہ بنائیں۔
میں آپ سے علم اور تجربے میں بہت کم ہوسکتا ہوں اور کبھی عالم فاضل ہونے کا دعویِ نہیں کیا لیکن تلخیاں کم کرتے ہوئے تلخیوں میں اضافہ کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔
میں آپ سے ببانگ دہل اختلاف کرتا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گر اِس بلاگ پر موجود تبصروں کو ہی غور سے پڑھا جائے تو میری بات واضع ہو جائے گی ، کچھ مبصروں کا جن کا میں بہت احترام کرتا ہوں میرے بارے میں لہجہ میری تائید میں گواہی دے رہا ہے ،۔۔۔۔۔
میں نے دو تین مرتبہ ان تبصروں کو پڑھا ہے لیکن مجھے کہیں بھی آپ کی ذات سے مخالفت نظر نہیں آئی۔ اب اگر نفس مضمون سے کسی کا اختلاف ہے تو یہ کسی بھی مبصر کا اسی طرح حق ہے جیسے کہ یہ حق آپ کو حاصل ہے۔
السلام علیکم
محترم صفدر ہمدانی صاحب ، میں آپ کی بات تسلیم کیے لیتا ہوں ، یقینا میرا ہی تجزیہ غلط تھا ، میں سر خم تسلیم کئے لیتا ہوں ۔
آصف احمد بھٹی
آصف احمد بھٹی صاحب میں ھمدانی صاحب کی بات میں ہی ایک چھوٹا سا اضافہ کرنا چاہتا ہوں.
دنیا میں جہاں بھی ادب ہے، وہ اپنے ایک خاص مزاج کے ساتھ ہے. ہم زبان کے ادب کا مزاج فرق ہے، مگر ایک چیز ہر زبان میں لکھنے والوں میں مشترک ہے اور وہ یہ کہ جب کسی لکھاری کی تحریر پر مخالف تبصرہ آتا ہے تو وہ اسے اپنی ذات پر تنصرہ سمجھ لیتا ہے.
اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریر، خواہ وہ کسی شکل میں بھی ہو، لکھاری کے لئے ایسے ہی ہوتے ہے جیسے اس نے اپنے گوشت کا ٹکڑا جسم سے علیحدہ کر کے سب کے سامنے رکھ دیا ہو. اہ لکھاری کے جسم کا حصہ ہوتی ہے. اور اپنے آپ پر تنقید برداشت کرنا مشکل کام ہوتا ہے.
بڑی تخلیق تب ہی وجود میں آتی ہے جب لکھاری اپنی ذات کو اپنے علم کے سامنے چھوٹا پاتے ہوئے علم اور تحریر کے درمیان سے نکل جاتا ہے.
السلام علیکم
وحید اختر واحد صاحب ، آپ کا بہت بہت شکریہ ، دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
اصف صاحب اپ نے بالکل درست فرمایا دراصل ہمارے ہاںجو مزاج بن چکا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ اگر کوئی اپنی بات صحیح انداز میں چند لفظوں کے ہیر پھیر سے نہیں پہنچا پاتا تو وہ سب کی مشترکہ تنقید کا نشانہ بنتا ہے میرا خیا ل ہے اس کی سب سے بڑی وجہ قوت بر داشت میں کمی ہے
ہمارے معاشرہ میں لوگ دوسروں میں صرف خامیاں تلاش کرتے ہیں جو انگریز کی دین ہے۔ جبکہ امریکی معاشرہ قدرِے مختلف ہے جس میں دوسروں میں خوبیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی معاشرہ میں ایشیائ باشندوں کا ایک وقار ہے۔
آصف احمد بھٹی صاحب،
آپ کا کالم، دینا کی دو طبقوں میں تقسیم، ماشاء اللہ انتہائی پر مغز ہے، چشم بد دور !
تصحیح !
مجھے جاوید اقبال کیانی کے نام سے ہی جانا جائے .. . . . … ’جو کہ تُندیئ انگشت نے جاویس لکھ مارا، سُستیئ دماغ نے اسے ہرگزنہ تاڑا اور پھرتیئ ہاتھ نے فورًا آگے دے مارا !‘
اعلیٰ حضرت جاوید اور اقبال اور کیانی صاحب۔ میں نے از راہ ہمدردی اس جاویس کو جاوید کر دیا ہے۔خوش؟
نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے اس ارشاد میں پڑھنے والوں کی تنقید کا نشانہ بننے والی تحریرپر تنقید کی وجہ ” پڑھنے والوں کی قوتِ برداشت کی کمی ” لکھا گیا ہے !!!!.
“دراصل ہمارے ہاںجو مزاج بن چکا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ اگر کوئی اپنی بات صحیح انداز میں چند لفظوں کے ہیر پھیر سے نہیں پہنچا پاتا تو وہ سب کی مشترکہ تنقید کا نشانہ بنتا ہے میرا خیا ل ہے اس کی سب سے بڑی وجہ قوت بر داشت میں کمی ہے”
اس مفروضہ میں تنقید کی وجہ پڑھنے والوں کی قوت برداشت کی کمی کو بتا یا گیا ہے ، جو ایک غلط الزام ہے .
……
میرے خیال میں اصل وجہ یہ ہے کہ” لاپروائی ” سے لکھنے والے “اپنی بات صحیح انداز میں چند لفظوں کے ہیر پھیر سے” پڑھنے والےتک نہیں پہنچاتے .
اگر وہ ‘تبصرہ ارسال کریں ” کے بٹن دبانے سے پہلے اپنی تحریر کی غلطیوں کو سدھار لیا کریں تو پھر تنقید کی ضرورت باقی نہیں رہے گی .
…
اگر میں “لاپروائی ” سے کام لے کر کوئی الٹی سیدھی باتیں یہاں لکھ دوں تو میری تحریر پر تنقید کی وجہ میری “لاپروائی ” ہوگی نہ کہ پڑھنےوالون ” کی قوتِ برداشت کی کمی ” .
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
السلام علیکم
محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ ، مجھے خوشی ہے کہ کم از کم آپ اور کچھ دوسرے احباب میری بات کا بنیادی مقصد سمجھ گئے ہیں ۔
آپ کے چند جملوں نے بہت حوصلہ دیا ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترم جناب ظفر جعفری صاحب ،آپ کا تبصرہ نہایت ہی خوبصورت اور حوصلہ افزاں ہوتا ہے ، آپ کی محبتیں اور شفقتیں ہمیشہ نہال رکھتی ہیں ، آپ کا بہت بہت شکریہ ۔
آصف آحمد بھٹی
السلام علیکم
محترم جناب جاوید اقبال کیانی، کالم کی پسندگی کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ ، آپ جیسے دوستوں کی محبتیں ہی ہمت بندھاتی رہتی ہیں ورنہ ۔۔۔ بہت بہت شکریہ ۔
آصف احمد بھٹی
محترم صفدرہمدانی صاحب،
حضور ہم نے ویسے آپ کو مرشد نہیں مانا، یہی تو کمالات مرشد ہیں کہ انہیں بند آنکھوں سے بھی اپنے مرید اور ان کی کوناہیاں نظر آجاتی ہیں. آپ کا بہت شکریہ، ویسے پھر میری تصحیح بلاگ میں شامل کرنے کی کوئی خاص ضرورت تو نہ تھی.
اور یہ اعلٰی حضرت بریلوی، دیوبندی، نظربندی وغیرہ اقسام کے لوگ ہوتے ہیں. مجھے تو ویسے بھی آپ نے ’جاوید اور اقبال اور کیانی‘ کہہ کر ’تھری اِن وَن‘ کر رکھا ہے، والسلام
آصف احمد بھٹی صاحب،
’ آپ جیسے دوستوں کی محبتیں ہی ہمت بندھاتی رہتی ہیں ورنہ ۔۔۔….‘ بھائی صاحب یہ ’ ورنہ ‘ کے بعد ’ دھرنا‘ کیسا؟ بات ادھوری کیوں ؟
ہم نے تو شاعروں کے بارے میں سنا ہے کہ بہت sensitive ہوتے ہیں ادیب، مبصر، کالم نویس اور بلاگر تو نہیں.خوش رہیا کرو بادشاہو !
جناب منظور قاضی صاحب،
بحث میں غیر ضروری طوالت سے بچتے ہوئے میں جان بوجھ کر کنارہ کش ہو گیا تھا مگر آپ نےمحترمہ نادیہ صاحبہ کے تبصرے پہ تبصرے سے نئے تار چھیڑ دئیے ہیں. اب منتظر ہوں محترمہ کے ارشادات کا. والسلام.
جاوہد اقبال کیانی صاحب سے عرض ہے کہ میں بھی بحث میں غیر ضروری طوالت سے بچنا چاہتا تھا مگر بھلا ہو نادیہ بتول بخاری صاحبہ کا کہ انہوں نے اپنے تبصرےمیں کچھ ایسی بات لکھی جس کی ان جیسی انصاف پسند خاتون سے کوئی امید نہیں تھی. اس لیے یہ میرا فرض تھا کہ میں نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے تبصرے پر تبصرہ لکھتا .
…..
میرے خیال میں جناب صفدر ھمدانی صاحب کے 7 اپریل کے تبصرے کے بعد اس بلاگ کو ختم ہوجانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا. .
……
اب کوئی بلاگ نگار اپنی غلطی کو تسلیم کرکے معافی مانگنےکے بعد بھی اس بلاگ کو جاری رکھے تو اس میں ہم سب مبصروں کا کیا قصور ؟
السلام علیکم
میرے خیال میں اب اِس بلاگ کا مقصد پورا ہو گیا ہے اِس لیے میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ وہ اگر مناسب سمجھیں تو اِس بلاگ کو بند کر دیں ۔ شکریہ ۔
آصف احمد بھٹی
میں آصف احمد بھٹی صاحب کے ، اوپر لکھے ہوئے مشورے کی دل سے تائید کرتا ہوں.
بلاگ کا مقصد پورا ہو ا یا نہیں اسکا فیصلہ مبصرین کرینگے.
بہرحال میں آصف احمد بھٹی صاحب کے تبصرے کی درخواست کی تائید کرتا ہوں