آج پاکستان کے صدر آصف زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج انیس سو تہتر کے آئین کی بحالی کا تاریخی دن ہے،سترہویں ترمیم کے خاتمے کا وعدہ پورا کرکے پارلیمنٹ کی بالا دستی بحال کردی ہے
اٹھارہویں ترمیم پر پوری قوم کو مبارک باد دیتا ہوں،آج حقیقتاً بے نظیر ڈے ہے۔ ان خیالات کا اظہارصدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تقریر کا متن کیا تھا . مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے صدرنے پاکستان کی سرکاری زبان اردو میں تقریر کیوں نہیں کی . ان کی پوری تقریر انگریزی میں تھی جبکہ اجلاس کی تمام کاروائی اردو میں تھی … اور جو سب سے اہم بات تھی وہ یہ تھی کہ صدر کی تقریرکا تقریبا 32 زبانوں میں ترجمہ ساتھ ساتھ نشرہو رہا تھا …
ہماری سرکاری زبان اردو ہے اور ہمارے شرح خواندگی یہی بتاتی ہے کہ ہماری زبان انگریزی نہیں ہے … صدر صاحب کی اردو میں انگریزی تقریر نے جہاں دل آزاری کی وہآں یہ خواہش بھی جاگی کہ کاش ایران .بنگلہ دیش اور چین کی طرح صدر پاکستان بھی اندرون ملک اور بیرون ملک صرف اردو میں ہی تقریرکیا کریں ..
میں جب سے سوچ رہی ہوں کہ اگر صدر اپنی تقریر اردو میں کرتے تو کیا اس کا ترجمہ انگریزی میں نہیں ہو سکتا تھا … صد حیرت یہ بھی کہ خود صدر پاکستان اوران کے مشیروں کی فوج کو خبر نہ ہو سکی کہ غریب ان پڑھ عوام جن کی خدمت کے دعوے صدر کو ہیں انہیی تک ان کی بات نہیں پہنچی سکی تو کیا اس تقریرکا مقصد صرف اپنے حواریوں اور سفیروں کو خوش کرنا تھا …
بس یہی وہ غلامانہ زہن ہیں جہاں پر نیشنلزم کے فقدان کا احساس بڑی شدت سے جاگتا ہے …

میں محترمہ نزہت نسیم صاحبہ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں.
مشکل یہ ہے کہ صدرِ محترم کو شائد اردو نہیں آتی .
وہ اگر اپنی مادری زبان سندھی میں ہی تقریر کرتے ( جس طرح وہ پاکستان زندہ باد کی بجائے پاکستان کھپےکہتے ہیں ) تو انکی
سعا د ت مندی کا مظاہرہ ہوجاتا.. .
پاکستان میں اگر کسی سے آپ یہ کہیں کہ آپکی اُردو کمزور ہے۔ تو یہ ایک compliment ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر آپ یہ کہیں کہ آپ کی انگلش کمزور ہے۔ تو یہ ایک insult ہوگی۔ صدر کیا سارا آوا ہی خراب ہے۔
نزہت نسیم جی. بہت اچھا موضوع ہے لیکن ایک زمانےسے اسی کو روتے ہیں ہم جیسے. شاید آپ کو تو یاد نہ ہو کہ اس وطن عزیز میں ایسی نحس گھڑی بھی گزری ہے کہ اردو لینگویج اتھارٹی یونی مقتدرہ قومی زبان کے ایک سربراہ بھی اسی فرنگی زبان میں تقریر کرتے تھے.ہے نا یہ ایک یسا لطیفہ جس پر ہنسنے کی بجائے رونا آتا ہے.
کمال تو یہ ہے اس حاکم طبقے کی انگریزی بھی تو درست نہیں ،یہ جاہل لوگ انگریزی بھی اردو اور پنجابی مین بولتے ہیں اور اردو بولتے ہوئے ان کو شرم آتی ہے. ان سب کے باپ زیڈ اے بھٹو میں یہ خوبی تھی کہ انہیں اردو نہیں آتی تھی لیکن وہ بولتے تھے چاہے جیسی بھی ہو بولتے تھے.
ان کو شاید کسی نے بتایا ہی نہیں کہ زبان ماں ہوتی ہے اور ماں کی عزت نہ کرنے والا اس زمیں پر بھی اور آخرت میں بھی جہنمی ہے. ان کے بچے بھی انگریزی ہی بولتے ہیں اور میں تو ان میں سے اکثر کے ”کتوں” کو بھی انگریزی بولتے اور سمجھتے وہئے دیکھا ہے.
مسئلہ در حقیقت یہ ہے کہ یہ مقتدر ٹولہ (جسے لوٹا کہوں تو بہتر ہوگا) بار بار اپنے آقاؤں کو اپنی غلامی کی یقین دہانی کراتا رہتا ہے، اور آقا ہیں کہ انکا شک رفع نہیں ہوتا۔ اب اگر یہی تقریر اردو میں کی ہوتی تو چچا جان کا شک کون رفع کرتا، ترجمے پر پورا یقین کسے آتا ہے؟۔ اس لئے اپنے اور اپنے کتوں کے آقاؤں کی زبان استعمال کی جاتی ہے تا کہ درمیان میں ترجمے کی محتاجی نہ رہے اور آقا و غلام کا رابطہ بلا فصل رہے۔
صدر زرد-آری کی تقریر عوام کے لئے تھی ہی کب، وہ تو محض ایک خانہ پُری تھی، لیکن اگر اردو میں ہوتی تو شک رہ جاتا کہ کہیں سچ مُچ قوم سے وفاداری اور ملکی سالمیت کی قسمیں تو کھائی جا رہیں؟
مُحترمہ نُزہت نسیم صاحبہ ،
یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمیں ایسے حُکمران ملے ، اس میں قصور وار ہماری عوام بھی ہیں ، جو ان سبکو جانتے ھوئے بھی اقتدار کی کُرسی پر بیٹھا دیتے ہیں ، ان کے جلسے اور جلوسوں میں جاکر تالیاں بجاتے ہیں ، اپنا کاروبار بند کر کے ، اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر آوے ای آوے اور جیے جیے کہ نعرے لگاتے ہیں ، اور پھر ذاتی مُفاد کیلے انکے پیروں میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں ، اور اپنے ضمیر کا سودا چند کوڑیوں میں کر دیتے ہیں ، اپنے مُفاد کیلئے ،
گو کہ سب علاقائی زُبانیں ہمارے مُلک کی زُبانیں ہیں مگر، ایک پنجابی اپنے ذاتی مُفاد کیلئے سندھی بولنے کیلئے تیار ہے ، اور ایک سندھی پشتو بولنے کیلئے ، سب تیار ہیں مُلکی یکجہتی کیلئے نہیں صرف اپنے ذاتی مُفاد کیلئے، تو ایسے میں ہمارے صدرِ مُحترم نے اپنے آقاوں کو خوش کرنے کیلئے اگلش میں تقریر کر لی تو کونسی بڑی بات ہے ، اُنکی یہ تقریر پاکستنی عوام کیلئے تھی کب ؟ کیا یہ ،سترہویں ترمیم کے خاتمہ ، اور اٹھارہویں ترمیم ، عوامی مُفاد میں ہے کہ ، پالیمنت کے سر پر لٹکی ھوئی تلوار ھٹا دی گئی ہے ،
ماؤزے تنگ کو جدید چیں کا بانی کہا جاتا ہے ، موزے افیون کے یشے میں مُبتلا چینیوں سے یہ لت چھڑوا کر اُنہیں دُنیا کی محنتی تریں قوم بنا دیا ،چین کہ رہنما مؤزے تنگ نے تاریخ کے سب سے بڑے لانگ مارچ کے دوران اپنی قوم کو ہدائیت کی تھی ، کہ وہ لانگ مارچ کے دوران چنے اور گرم پانی ساتھ رکھیں ، تھوڑے سے چنے کھانے سے بُھوک ختم ھو جائے گی اور گرم پانی پیٹ کی بیماری سے بچائے گا ، آج بھی چینی عوام گرم پانی استعمال کرتی ہے ، یہ قوم آج بھی صحت مند اور توانا ہے ،
چین کی کیمونسٹ پارتی نے ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کر رکھا ہے، جہاں پارٹی اراکیں مُتعلقہ مُشیر وزیر بنانے ، اور مُستقبل کے لئے نئی قیادت تیار کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ، تربیت مُکمل ہونے کہ بعد ہی انہیں سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے ، اگر کسی کے پاس انسٹی ٹیوٹ کا سرٹیفکیٹ نہ ھو تو اُسے مُشیر یا وزیر کے قابل نہیں سمجھا جاتا ،
ماؤزے تنگ نے انگلش جاننے کہ باوجود زندگی میں کبھی انگریزی نہیں بولی تھی ، یہاں تک کہ اگر اُنھیں انگریزی میں لطیفہ بھی سُنایا جاتا تو وہ اُس وقت تک نہیں ہنستے تھے جب تک اُسکا ترجمہ چینی زُبان میں نہیں کے جاتا تھا ،
چین میں چوری کی سزا موت ہے ، چور کو سر میں گولی ماری جاتی ہے ، اور جب تک اُسکے ورثا گولی کا معافضہ نہ دیں لاش نہیں لے جا سکتے ، ایوب خان کے دور میں واہ آرڈنینس کمپلکس کی تعمیر کے بعد چینی وفد نے عمارت کا دورہ کیا اور عمارت کو ٹپکتے ھوئے پایا ، میزبان نے معزرت خوایانہ رویہ اختیار کرتے ھوئے کہا کہ عمارت اصل نئی نئی بنی ہے ، اس لیے ٹپک رہی ہے ، اس پر چینی وفد کے ایک رکن نے ہنستے ھوئے کہا کہ شروع میں ہماری عمارتیں بھی ٹپکتی تھیں لیکن ہم نے ایک ٹھیکیدا ر کو گولی مار دی اُسکے بعد چھت نئی ھو یا پُرانی کبھی نہیں ٹپکی ، چین کے لوگ دیوارِ چین کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ، وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم پر کوئی جنگ مُسلط کی گئی تو ہم خود دیوارِ چین بن جائیں گے،
چیں کے لوگوں کا احتجاج کا طریقہ بُہت مُنفرد ہے ،، جس دن وہ احتجاج کرتے ہیں ہماری طرح سارے کام چھوڑ کر نہیں بیٹھتے ، وہ 24 گھنٹے کام کرتے رہتے ہیں ، یہ اُنکا احتجاج ہے ، چین کے صدر مؤزے تنگ نے اپنی قوم کو وصیت کی تھی کہ میری برسی پر سوگ میں اپنی فیکٹریاں اور کاروباری ادارے بند نہ کرنا ، بلکہ میری برسی پر 2 گھنٹے ذیادہ کام کر کے سوگ منا نا، آج بھی چین کہ لوگ ہر سال ماؤزے تنگ کی برسی کے موقع پر اصافی 2 گھنٹے مفت کام کرتے ہیں ،
چین کے سب سے بڑے دریا پر ایک پُل بنا جو پہلے سیلاب میں ٹوتٹ کر بہہ گیا ،اور کئی لوگ مر گئے ، چینی قیادت نے اُسی جگہ تمام انجینئروں اور کاریگروں کو جمع کیا ، سب نے پُل ٹوٹنے کی ذمے داری ایک دوسرے پر ڈالی ، چینی قیادت نے سب کی بات سُنی اور آخر میں فائرنگ سکارڈ کو بُلا کر سب کو مار دیا ،، اُسکے بعد چین میں نہ کوئی پُل ٹوٹا اور نہ کوئی عمارت گری،
جب تک تعلم یافتہ صاحبانِ اقتدار … فوری انصاف …….، محنت….. اور جزبہء حُب الوطنی ،،،، نہیں ہم پر اسی طرح کے حُکمراں مُسلط رہیں گے اور ہم ایسی ہی تقریریں سُنتے رہیں گے …….سوال یہ ہے کہ کوشش کون کرے گا کوئی ہے ؟
محترمہ نُزہت نسیم صاحبہ،
لیڈر یہ میرے ملک کا،رہبر یہ میرے دیس کا . یہ سوچتا کچھ اور ہے،یہ بولتا کچھ اور ہے
کاش آپ نے کوئی نئی بات کی ہوتی. یہ رونا روتے 63 سال بیت چکے ہیں اوراگلے 63 سال بعد بھی یہ پرنالہ یہیں گر رہا ہوگا. بہن جی اگر ہمارے صدر محترم اپنی انگریزی پوشاک میں اردو مییں ہی خطاب فرمادیتے تو ملک میں کون سے انقلاب کی بنیاد پڑھ جاتی. ایک لحاظ سے اچھا ہی کیا کہ جھوٹ بولنے کے لئے اپنی ’مادر‘ اور مادری زبان کو رسوا نہ کیا. انہوں نے جو کیا ، روشن خیال پاکستان کا ’جھوٹا‘ تشخـص نمایاں کیا، اپنا حق غلامی ادا کیا، NRO کا قرض چکایا اور ثابت کر دکھایا کہ ، فرنگی سے اچھا کوئی آقا نہیں اور فرنگی کی پوشاک اور زبان سے بڑھ کر من کو کچھ بھاتا نہیں.
اور محترم ہمدانی صاحب، آپکا فرمانا کہ، ’’ ان کو شاید کسی نے بتایا ہی نہیں کہ زبان ماں ہوتی ہے‘‘ تو جنابعالی! جن لوگوں پہ دھن دولت کا بھوت سوار ہو ان کی ’لکشمی ماں‘ سے بڑھ کر کوئی اور ماں نہیں ہوتی.
اور زوار قمر عابدی صاحب ، آپ نے چینیوں کی مثال دے کر اور زخموں پہ نمک چھڑکا. ہمارے بعد آزاد ہونے والی قومیں آج ہمیں قرض دے رہی ہیں اور ہم ہیں کہ ’’صدائے جرس کارواں رہے‘‘ .
مجھے تو یہ قوی یقین ہو چلا ہے کہ شاید چینیوں کی تقلید سے دور رکھنے اور ان کے نام سے نفرت پیدا کرنے کی خاطر ہمارے حکمرانوں نے چینی کا بحران پیدا کر رکھا ہے.
السلام علیکم
محترمہ نزہت نسیم صاحبہ ، بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو ہمیشہ خبروں میں رہنا پسند ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی حوالے سے خبروں کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں دلوں میں نہ سہی لوگوں کے تبصروں میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ، اگر محترم صدر صاحب اپنی تقریر اردو میں کر لیتے تو کیا ہم سب اور باقی لوگ یہ بحث کر رہے ہوتے ؟ ہمارے محترم صدر صاحب نے وہ مقولہ سن رکھا ہے کہ ’’ بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگا ؟ ‘‘ اور وہ اُس پر دل و جان سے ’’ کھپے ‘‘ ہوئے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
مقولہ ہے کہ بد ترین جمہوریت ، بہترین آمریت سے بہتر ہے.
…………………
1. کیا چین میں جمہوریت ہے ؟
2. کیا ماوزے تنگ ایک بہترین آمر نہیں تھا ؟
3 . کیا آج کل کے چین کا نظام ماوزے تنگ کے بنائے ہوئے اصولوں پر چل رہا ہے یا دانگ شاو پنگ کے؟
ا4. گر چین کا نظام اتنا اچھا ہے تو کیا پاکستان کے آئین کو بھی چین کے آئین کی طرز پر بدلا جاسکتا ہے؟
5.کیا چینی نظام لانے کے لیے پاکستان کے قائد ین اور رہنماوں میں اتنی اہلیت اور قابلیت ہے کہ وہ عوام کو چینی نظام کو قبول کرنے کے لئے تیا ر کرسکیں ؟
6. کیا پاکستان میں چین جیسی آمریت آسکتی ہے جس کے نظام میں جمہوریت اور آمریت کا امتزاج ہو؟
7.کیا پاکستان میں پھر سے موزے تنگ اور اتاترک مصطفیٰ کمال جیسے مقبول آمروں کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے ؟
…
یہ سوالات زوار قمر عابدی صاحب کا تبصرہ پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں آئے ہیں . .
…………………………
میرے جوابات ہاں یا نہیں کا ساتھ مندرجہ ذیل ہیں :
سوال نمبر 1: : جواب : نہیں
سوال نمبر 2: جواب : ہاں
سوال نمبر 3. جواب : ماوزے تنگ کا نظام دینگ شاو پینگ کی اہم تبدیلیوں کے ساتھ چل رہا ہے . ماوزے تنگ کا نظام پر چین عمل پیرا نہ ہوسکا ، اس کے لیے تبدیلی کی ضرورت تھی .
سوال نمبر 4: جواب : ہاں
سوال نمبر 5: جواب : نہیں . پاکستان کی قیادت انتہائی نا اہل ہے . اس کو اپنی انا کا خیال ہے پاکستان کا نہیں .
میرا ایک شعر:
پر ایک جذب ہے اپنی ہی ذات میں قاضی
بشر کو ڈھونڈتے کیوں ہو بتوں کی بستی میں ؟
سوال نمبر 6: جواب : ہاں
سوال نمبر 7: جواب : یہ پاکستانی قائدین کی اہلیت اور قابلیت پر منحصر ہے .( جو فی الوقت تو عنقا ہے )
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
یہاَں ایک بات کہنا ِضروری ہے کہ چین میں کئی جرائم کی سزا موت ہے۔ کیا پاکستان کے عوام ، مجرموں کی موت برداشت کر سکینگے؟
ایک اور بات کہتا چلوں کہ ماوزے تنگ نے کئی لاکھ مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارکر یعنی صد ہزار انجم کا َخون کرکے سحر پیدا کیا۔ کیاپاکستان کے عوام اس قسم کی آمریت کو برداشت کرسکینگے؟
پاکستان تو اپنی عمر کا آدھا ََحصہ آمریت کا شکار رہا ۔ کیا وہ ایک ماوزے تنگ کو برداشت کرسکتا ہے؟
میرے جوابات نفی میں ہیں۔
——
اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے
اگر زبان جسم کا ایک انگ ہے تو یہ تقریر انگ ریزی کا شہ پارہ تھی.
احساس. کمتری کے مارے لوگ کیسے اپنی ذات کی کالک لوگوں کے میہ ملتے ہیں. آہ.
وحید بھائی آپ نے تو بات ہی سمیٹ دی کہ احسا س کمتری کے مارے لوگ اپنی زات کی کالک دوسروں کے منہ پر کیسے مل دیتے ہیں ۔۔۔ کل ایرانی صدر کو اپنی سرکاری زبان میں تقریر کرتا دیکھ کر دل میں ایک ہوک سی اٹھی کاش ۔۔۔۔۔ کاش ۔۔۔۔۔ خواب ہے تھا بھائی اس کے آگے جومیں نے سوچا ۔۔۔۔
سلام نزہت صا حبہ اسی با ت کا تو المیہ ہے کہ ہما ری سرکاری زبان انگریزی ہے مختلف زبانو ں کا علم ہو نا اچھی بات ہے لیکن ہم لوگوں نے یہ معیا ر بنا لیا ہے کہ جس کو انگریزی بولنے اتی ھے وہی کامیاب ہے۔جہاں تک زرداری صا حب کی با ت ہے ان سے کچھ بھی تو قع کی جا سکتی ہے
السلام و علیکم ،، بابا جان اور آپ کا سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں آپ سب نے میری بات کو سمجھتے ہویے بات کو اگے بڑھائی،،،
میں آپ سب سے شرمندہ ہوں بھی اس بحث میں آپ کا ساتھ نہ دے سکی ،،
میری امی جی کی طبیعت پھر خراب ہوگی اور وہ ہوسپٹل کے انتہائی نگہداشت میں دوبارہ ایڈمیٹ ہیں ،
آپ سب سے عالمی اخبار کی انتظامیہ، قلم کار اور قارئین سا التماس ہے کہ خالق کائینات ہماری امی جی کو اپنے حبیب کے صدقے میں صحت کاملہ عطا فرمائے اور انکا سایہ ہم تمام گھر والوں پر قائم و دائم رکھے ،،، آمین ثم آمین
نزہت نسیم۔ خالق موت و حیات آپکی والدہ محترمہ کو اپنے حبیب،انکی آل اور انکے اصحاب باوفا کے صدقے میں صحت کاملہ عطا کرے۔
میں ذاتی طور پر بھی عالمی اخبار کے سب قارئین سے اور خاص طور پر بلاگ فیملی کے ارکان سے التجا،درخواست اور التماس کرؤں گا کہ وہ بقلب صمیم عزیزم نزہت نسیم اور ڈاکٹر نگہت نسیم کی والدہ محترمہ کی جلد صحت یابی اور صحت کاملہ و عاجلہ کے لیئے دعائے خاص کریں۔
اپنے بہت پیارے دوست اور بھائی زوار قمر عابدی سے کہ جو جدہ سعودی عرب میں مقیم ہیں،اپنی جانب سے۔ ڈاکٹر نگہت نسیم اور نزہت نسیم کے تمام اہل خانہ کی جانب سے اور عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کی جانب سے درخواست کرؤں گا کہ وہ اس سرزمین پر موجود ہیں جہاں اللہ اور اسکے حبیب کی رحمتیں محسوس بھی ہوتی ہیں اس لیئے وہاں بھی خاص طور پر دعائے صحت کروائی جائے۔
اللہ تعالی دوست اور دشمن سب کے والدین کو اپنی رحمت خاص کے سائے میں رکھے۔آمین
ہمیں یقین ہیں کہ نزہت بی بی اپنی والدہ کی صحت کے بارے میں ہم سب کو مطلع کرتی رہیں گی۔
اللہ تعالی آپکی والدہ کو اپنی رحمت خاص میں رکھے اور شفا سے نوازے۔آمین
مجھے منظور قاضی صاحب کی بات بہت پسند آئی کہ “ وہ اگر اپنی مادری زبان سندھی میں ہی تقریر کرتے ( جس طرح وہ پاکستان زندہ باد کی بجائے پاکستان کھپےکہتے ہیں ) تو انکی سعا د ت مندی کا مظاہرہ ہوجاتا“