غزہ کی شامِ غریباں

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا دوسرا ھفتہ ھے اور میں سوچ رھی ھوں

چودہ سوسال کے بعد بھی ہم کربلا میں ہی ہیں
وہی یزید ابنِ یزید ابنِ یزید ابنِ یزید
وہی تقاضہ ء بیعت
وہی منافقت کی قبائیں اوڑھے ہوئے بدبودار ضمیر فروش حاکم
وہی فرات کے کنارے کربلا کی طرح غزہ کی پٹی
وہی رات کے سناٹے میں تاریکی کے بین
وہی کربلا ہے،وہی شام غریباں ہے اور وہی معصوم اور شیر خوار بچوں پر ظلم کی آخری حد
قسم ہے مجھکو میری خون روتی آنکھوں کی
اس کربلا سے اس کربلا تک کچھ بھی تو نہیں بدلا

میں سہمی ہوئی اپنے بدن سے لپٹی
خود سے ہی پوچھتی ہوں
ہاں سنو
کیا تمہیں جنگ کی وہ سیاہ رات یاد ھے
جب اچانک سائرن بج اٹھے تھے
اور بارود کی بو پھیل گئی تھی
چیخوں کے ساتھ ھر طرف خون بکھر گیا تھا
اس رات غزہ پر کیا گزری
کسی نے نہ سوچا
کسی نے نہ پوچھا
ہائے
ایسی وحشت کی راتیں کیسے گزرتی ھیں
اندھیروں میں ڈوبی شبیہیں کیسے دھندلاتی ھیں
بھوک سے لپٹی جانیں کیسے مر جاتی ھیں
غم میں سوختہ جاں مائیں کیسے بین کرتی ھیں
ظالم مظلوم کو کیسے رسوا کرتا ہے
بارود کیسے خون میں اُتر جاتا ہے اور نسوں میں دوڑتا ہے
بوڑھا باپ جوان میت کو رخصت کرتے ہوئے کیسے چومتا ہے
سات سال کی بچی اپنی پانچ سالہ بہن کو کیسے دلاسہ دیتی ہے
کیسے تین روز تک
چار بچے اپنی ماں کی لاش سے لپٹے رہتے ہیں
کیا تم نے سوچا
کیا تم نے پوچھا
غزہ پر اس رات کیا گزری
چلو آج
اکیسوی صدی کانوحہ لکھ دو
انسانیت کو بربریت لکھ دو
یہ بھی لکھ دو
اس دنیامیں ایک جہاں وہ بھی ھے
جہاں انسان
ایک قطرہ پانی کو ترستے ھیں
ایک نوالہ روٹی کو تاکتے ھے
نڈھال اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے ھیں
بچے اپنے ھی گھروں کا پتہ پوچھتے ھیں
ہائے
کیا اب یہاں کوئی انسان بھی بستا ھے
یا
پھر اب یہاں ایک ھی جہاں بستا ھے
طاقت کا منافقت کا جھوٹ کا اور نفرت کا جہاں
جہاں
معصوم بچے مر رھے ھیں
جتنی بارود کی بو پھیلتی ھے
اتنے ھی انسان مر رھیں ھیں
جتنی چیخیں گونجتی ھیں
اتنے ھی لاشے گر رھے ھیں
لوگو
یہ غزہ کے نہتے مسلمان نہیں
ھم تم مر رھے ھیں
آج
غزہ کا ایک ایک بچہ پکار رھا ھے
اس دنیا کو کس نے مقتل بنارکھا ھے
پھولوں کی جگہ لاشوں کواگا رکھا ھے
خوف
اداسی
ناامیدی
کس نے ھمارا مقدر بنارکھا ھے ؟
فرات کے کنارے بسی ہوئی غزہ کی بستی کے گھروں میں
اکیسویں صدی کی شامِ غریباں ہے
گھروں سے دھواں برابر اٹھ رہا ہے
اور یہ سب انسانی حقوق کے داعی اس جدید عہد کے
یزیدوں کا کام ہے
جو سب ایک ساتھ مل کر بیعت کا تقاضہ کر رہے ہیں
مگر کریں کیا کہ
‘‘قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں‘‘

15 thoughts on “غزہ کی شامِ غریباں”

  1. ‘‘اک کربلاسے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں‘‘
    اس زندگی کے ہاتھوں ہم روز مر رہے ہیں
    حکمت یزید کی پھر ہم پر ہوئی مسلط
    جس سمت دیکھتا ہوں دم توڑتی ہے عزت
    ساری صداقتوں کے پھر سامنے ہے نفرت
    اب سب یزید مل کر پھر مانگتے ہیں بیعت
    پھر جیسے نینوا میں لاشے بکھر رہے ہیں
    سر دوش پر نہیں ہیں اور تیر چل رہے ہیں
    ‘‘اک کربلاسے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں‘‘

  2. بلاگ پڑھ کے آنسو آ گئے، بےشک آج پھر غزہ میں وھی کربلا ھے ، پھر ضرورت ھے آج کے حسین کی۔ بھت خوب انداز میں لکھا ھے۔

  3. ڈاکٹر صاحبہ جن احساسات و جذبات کا اظہار اس نظم ھوا ھے کاش ھم اسے تھوڑا تھوڑا ھی سہی دنیا کے تمام انسانوں میں بانٹ سکتے ۔ کاش خدا نے انسان نما درندے پیدا نہ کئے ھوے۔کاش یہ چھوٹی سی بات دنیا کی سمجھ میں آجاتی کہ جو اپنے لئے پسند نھیں کرتے وہ دوسروں کےلئے بھی پسند نہ کرو ۔ کاش ۔ ۔ ۔ کاش۔ ۔ ۔کاش ۔

    ۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پنہاں ۔

  4. آپ سب احباب کا ایک مشترکہ غم میں شرکت کا بہت بہت شکریہ ۔

  5. ڈاکٹر نگہت بہن کی نظم میں غزہ کے درد ناک واقعات کی نہایت ہی متاثر کن انداز میں عکاسی کی گئی ہے۔ انکی نظم کا ہر ہر لفظ درد میں ڈوبا ہوا ہے اور حساس انسانوں کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔
    افسوس صد افسوس کہ “انسانیت ” ہمیشہ کی طرح تماشہ دیکھ رہی ہے ۔
    پتہ نہیں ہٹلر کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ یہودیوں کے ختم ہونے کا بد لہ کیوں معصوم فلسطینیوں سے لیا جارہاہے؟
    پھر بھی میں یہ کہتاہوں کہ:
    نہ ہو منظور تو مایوس رب سے
    بلا جگ میں سدا رہتی نہیں ہے

  6. ڈاکٹر نگہت نسیم نے مظلوموں کی نمائیندگی کر دی۔تسلیم(سرنڈر) پر سب “ٹھیک ہو جائے گا”۔ مگر دیوانے ہیں کہ انکار کئے جاتے ہیں۔صدیاں بیت گئیں۔۔۔سمجھتے ہی نہیں۔۔۔۔

  7. میں ابھی آئی ھوں۔ اج برمنھگم میں پروٹسٹ ھوا غزا کے لئے ، جس میں بھت لوگ تھے اور ،” فری فری فلسطین ” کے نعرے لگے، اور no more killing ,no more war کے بھی نعرے لگے۔ برطانیہ میں جگہ جگہ یہ پروٹسٹ ھو رئے ھیں۔ اور ھم سب کو لبیک کہنا چاھیے

  8. نگہت صاحبہ بہت خوب حالات کو اتنی خوبصورتی سے نظم میں عکس بن کیا گیا ۔ اللہ پاک آپ کو اور آپکے قلم کو ھمیشہ سلامت رکھے آمین

  9. تانیہ نظم کی پسندیدگی پر شکریہ ۔۔ ثنا ھمارے ہاں بھی پروٹسٹ جاری ھے ۔۔ میں تو اپنے ھوسپٹل میں ھر جگہ یہی پروٹسٹ کر رھی ھوں ۔ ایک بات اور اسی حوالے سے میری اس نظم کا انگریزی میں ترجمہ ھو رھا ھے ۔ میں اللہ پاک کی شکر گزار ھوں کہ کسی بھی طرح سے ھماری آواز کہی تو جا ھی رھی ھے ۔ھمیں ھر سطح پر ھر رنگ میں اس بات کی شدید مذمت کرنی چاھیئے ۔اس سلسلے میں جناب زاھد محمود کے احتجاجی کارٹون ھماری اخبار میں ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتے ھیں ۔۔ دوستو ایک نظر وہاں بھی ھو۔۔

  10. BOYCOTT ISRAEL : People of good conscience have chosen to boycott israeli products and companies supporting the zionist entity. We should do as well. Down Down israel… free free palestine !!
    “”FROM THE RIVERS TO THE SEAS…PALESTINE WIL BE FREE “”free free palestine……
    isreal .. teroorist ….usa .. terrorist.. .. Down down israel …free free palestineeee

  11. اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کے 51 مسلم ممالک کے عوام ہی اسرائیل اور امریکا کی اشیا کا بایکاٹ کرنے کا فیصلہ کریں تو ان دونوں ملکوں کو روزانہ کیی ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوگا۔

    بایکاٹک کے حامیوں کا استدلال ہے کہ لوگ اگر صرف کوکو کولا اور پیپسی پینا چھوڑ دیں اور میکڈانلڈ اور کے ایف سی جانا ترک کردیں تو امریکی لرز جائں گےاورنہ صرف اپننی حکومت سے اسرائیل کی حمایت بند کرنےکا مطالبہ کریں گے بلکہ اسرائیل پر بھی دباؤو ڈالیں گے کہ وہ غزہ پر حملے بند کردے۔

  12. ھم سب کو غزہ کے معصومین کے لیئے ہر قدم اٹھانا چاھیئے ۔۔ اپنا حتجاج ھر سطح پر رجسٹر کروانا چاھیئے ۔ اقتصادی بحران لانا تو کم از کم مسلم امہ کے ھاتھ میں ھیں ۔۔ صد حیف کہ کوئی یہ بھی کرنے کو تیار نہیں‌ ۔۔لیکن ھمیں اپنی سمت درست رکھنی ھے ۔۔ اور اپنے حصے کی شمع جلانی ھے ۔۔ یہی ھمارا کام اور یہی ھمارا نصاب ھے ۔۔

  13. آسلامہآلعکہمDr. seheba ap nein duneya ke krooron Insanoon ke Jazbat ke tarjmani kar deb ALLHA TALLHA ap ko kush rakhein Almaha Iqbal nein lekha ta Rahmatein hein tere agyar ke kaqshon par Barq gerte he to bechre MUSALMANO per Tahir Malik Germany

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *