سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ : ” چلے بھی آو کہ گلشن کا کاروبار چلے”

ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے ایک بلاگ بعنوان ” کمی ” میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی عالمی اخبار کے بلاگوں میں کمی محسوس کرتےہوئے یہ بات لکھی تھی جس کی میں دل سے تائید کرتا ہوں :

“ماریہ تمہیں کیا تار بھیج کر بلاؤں ۔۔ معلوم بھی ہے کہ کتنے دنوں سے غائب ہو ۔۔۔ اگر میں نے ابھی تک کچھ نہیں کہا تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ تمہاری باتوں کی مہک کی کمی نہیں ہو رہی ۔۔۔۔ سلامت رہو ۔۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے ۔۔آمین”

اسی بلاگ میں میں نے فیض کا یہ شعر دہراتے ہوے لکھا تھا کہ :
عالمی اخبار کا گلشن سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ویرانہ سا معلوم ہوتا ہے :
” گلوں میں رنگ بھرے ، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آو کہ گلشن کا کاروبار چلے”

……
میں یہ بلاگ( بڑی مشکل سے )شروع تو کردیا ہوں ، اس کو ختم کرنے کی ذمہ داری صرف اور صرف سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ پر ہے.
فقط:
سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی حق گوئی و بے باکی کا شیدائی
منظور قاضی
جرمنی سے

21 thoughts on “سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ : ” چلے بھی آو کہ گلشن کا کاروبار چلے””

  1. تصحیح:
    وہ بلاگ جس میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی یاد دہانی کے لیئے اپنا تبصرہ 27 اپریل کو شایع کیا تھا اس کا عنوان “مہک ” ہے ( میں غلطی سے ” کمی ” لکھ گیا ) . جس کی مصنفہ بھی نادیہ بتول بخاری صاحبہ ہیں..

  2. یادوں کی جڑیں بھوٹ ہی پڑتی ہیں کہیں سے
    دل سوکھ بھی جاتا ہے تو بنجر نہیں ہوتا
    ہم بھی
    جناب منظور بھائی
    کی طرح
    عالمی اخبار
    کی
    ویب سائٹ
    پر
    محترمہ
    ماریہ علی صاحبہ
    کے
    شدت سے
    منتظر
    ہیں

  3. احمد ترازی صاحب کا شعر پڑھکر لطف آگیا.
    “یادوں کی جڑیں بھوٹ ہی پڑتی ہیں کہیں سے
    دل سوکھ بھی جاتا ہے تو بنجر نہیں ہوتا”
    ……..

    دل سوکھ بھی جاتا ہے تو بنجر نہیں ہوتا:
    کیا کہنے ہیں!!!

  4. ماریہ بھئی کہاں ہو بس اتنا ہی بتا جاؤ … اللہ پاک تمہیں ہر مشکل اور تکلیف سے دور رکھے .. آمین

  5. میرا خیال ہے کہ سائیں رحمت علی سائیں کی باتیں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ مانتتی ہیں اس لیے کہ سائیں رحمت علی صاحب سیدہ ماریہ صاحبہ کے شوہرِ نا مدار علی کاظمی صاحب سے بخوبی واقف ہیں اور انکے ذریعہ سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کو عالمی اخبار میں لکھنے کی دعوت دے سکتے ہیں..

  6. میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے 24 اپریل کو مجھے اپنے ذاتی ای میل کے ذریعہ یاد کیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میں ان کو اپنی نیک دعاوں میں شامل رکھوں :
    ا
    نہوں نے اپنے ای میل میں یہ بھی لکھا کہ:

    ” میں چاہتی ہوں کے جب تک پروردگار نے ہم کو حیات عطا کی ہے جب تک میں آپ سے رابطے میں رہوں اور آپکی دعائیں اور شفقت حاصل کرتی رہوں اگر آپکو برا نا لگے ؟”

    سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ نے مزید فرمایا :

    ” خیر میں آپکو کوئی شکائتی میل نہیں کر رہی بس کافی دن سے سوچ رہی تھی کے آپکی خیریت دریافت کرنے کے لئیے میل کروں مگر وقت نہیں مل پا رہا تھا ۔ابھی وقت ملا تو آپکو میل کر رہی ہوں”

    میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی مہربانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری خلوص نیتی کو پسند کیا اور ان الفاظ سے مجھے سرفراز فرمایا:
    “آپ سے یہی گزارش ہے کے آپ پلیز کچھ کچھ وقت بعد اپنی خیریت کی میل کرتے رہا کریں اور اس میں اپنی دعائیں شامل کر دیا کریں ہمارے لئیے پلیز؟
    آپکی دعاوں کی ہمیشہ محتاج ہوں
    آپکی بیٹی جیسی ماریہ علی ”

    ……
    میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عالمی اخبار کے تمام پڑھنے والوں کو بھی اسی طرح اپنے خلوص سے نوازیں. جس طرح وہ مجھے اپنے خلوص سے نوازتی ہیں.
    انکے بےلاگ بلاگوں اور تبصروں کی ضرورت نہ صرف مجھے ہے بلکہ تمام پڑھنے والوں کو ہے .
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  7. منظور بھائی آپ کا شکریہ کہ آپ نے خبر دی کہ ماریہ خیریت سے ہیں .. ان کا بلاگ پر آنااور لکھنا خالصتا ان کا زاتی فیصلہ ہے .. جس کے لئے انہیں کوئی مجبور نہیں کر سکتا… ہم تو بس اپنی محبت نبھاتے ہیں … اور بلاگ فیملی کے ہر فرد کے لئے نیک تمنائیں رکھتے ہیں .. جہاں رہیں خوش رہیں .. اللہ مہربان کی مہربان نظروں میں رہیں .. آمین

  8. میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی طرف سے بالکل مایوس نہیں ہوں.
    وہ انشا اللہ ایک نہ ایک دن ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نائب مدیر عالمی اخبار کا کہنا ضرور مانینگی اور عالمی اخبار میں لکھنا شروع کردینگی.
    اس لیے کہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ خاموش رہنی والی ہستی نہیں ہیں.
    ہم سب انکا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں

    فقط
    خیر اندیش
    منظور قاضی

  9. یہ بلاگ اب آہستہ آہستہ سب کی نظرو ں سے دور ہوتا جارہا ہے.
    اگر سیدہ ماریہ علی صا حبہ اس بلاگ کو ختم کرنے کے لیے ہی آجائیں تو میں یہ سمجھونگا کہ میرے اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا.

    بہر حال : یہ انکی مرضی پر منحصر ہے.
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  10. السلام علیکم قاضی صاحب اور ساتھ میں یہاں تمام لکھنے والوں کی خدمت میں میرا سلام
    بے حد معزرت میرا آنا نہیں ہوا یہاں کافی وقت سے اس وجہ سے مجھے علم ہی نہیں ہوا کے مجھ جیسی کم عقل اور بد تمیز کے لئیے بھی یہاں ایک طرح سے تلاش گمشدہ کا بلاگ بنا ہوا ہے ۔اسکے لئیے آپ سب سے بے حد معزرت خواہ ہوں ۔ویسے یہ بلاگ کب بنا ؟میرا ای میل ایڈرس تو یہاں تقریبا سب کے پاس ہے مجھے ایک لائن کی میل کر دیتے تو میں آ جاتی)
    اور قاضی صاحب آپکی محبت اور شفقت کے سائے میں مجھے ہمیشہ آپکے ساتھ یہاں تمام آنے والوں کی دعاوں کی بے حد ضرورت ہے اور آپ جس طرح میرا حوصلہ بڑہاتے ہیں اس سے میں یقین مانیں شرمندہ ہوتی ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ قاضی صاحب کیوں میری اتنی تعریفیں کر کے مجھے جھاڑ پر چڑہا رہے ہیں کہیں ایسا نا ہو جھاڑ ٹوٹ جائے اور میں منہ کے بل گر جاؤں)
    برائے مہربانی مجھے نیچے کھڑے ہوئے جھاڑ پر چڑہے لوگوں کو ہی دیکھنے دیں کم از کم نیچے کھڑے ہو کر گرنے والوں کی مدد تو کر سکتی ہوں نا؟ مجھے ان میں شامل مت کریں پلیز میں مددگاروں کی ٹیم میں ذیادہ سکون محسوس کرتی ہوں)
    بہر حال قاضی صاحب میں نے میل پر بھی آپکو بتایا تھا اور یہاں بھی بہت شرمندگی کے ساتھ کہہ رہی ہوں کے میری ذاتی مصروفیات کچھ ذیادہ ہی ہو گئی ہیں پہلے ایک گھر اور جاب تھی اب دو گھروں کو دیکھنا پڑ رہا ہے اور ساتھ میں کلینک بھی ہے تو بہت مشکل سے وقت ملتا ہے اور جو ملتا ہے اس میں بجائے لکھنے کے پڑھنے پر ذیادہ توجہ دیتی ہوں کیونکے میرے کچھ محسنوں کا مشورہ ہے کے پہلے کسی قابل بن جاؤ بعد میں کچھ کہنا یا لکھنا تو میں یہی کوشش کر رہی ہوں ۔
    یہاں میں لکھ پاؤں یا نہیں مگر پھر بھی میری سچے دل سے یہی دعا ہے کے عالمی اخبار اپنی بلندیوں تک جائے اور ہمیشہ قائم رہے آمین۔جب کبھی عالمی اخبار کو میری ضرورت محسوس ہوگی میں سب سے پہلے کھڑی ہونگی کیونکہ یہ ہوی جگہ ہے جہاں سے میں نے لکھنا سیکھا ۔یہاں مجھے وہ بے لوث اور شفیق استاد ملے جو شاید مجھے کہیں اور نہیں مل سکتے تھے اور میں اس بات کو کھلے دل سے تسلیم بھی کرتی ہوں کیونکہ میں کم ظرف نہیں ہوں۔اور نا ہی مجھ میں یہ عادت ہے کے منہ پے کچھ پیچھے کچھ۔
    مجھے جس سے جو شکایت ہوتی ہے منہ پر بولتی ہوں اور دل صاف کر لیتی ہوں دل میں رکھ کے بیٹھنا آتا ہی نہیں مجھے۔
    آپ سب اب یہ سوچ رہے ہونگے کے ایک ہی بلاگ میں اتنا سارا لکھ کر کسر ہی نکال لی اس لئیے میرے خیال میں اب مجھے اپنا بلاگ ختم کر دینا چاہئے
    اگر میں یہاں نا بھی آ سکوں تو میری ای میل آپ سب کے پاس موجود ہے ۔اور جن کے پاس نہیں ہے میں یہاں لکھ دیتی ہوں اگر انتظامیہ کی اجازت ہو تو ؟
    syedshiagirl@hotmail.com
    syedshiagirl@gmail.com
    آپ سب کی دعاوں کی ہمیشہ محتاج رہونگی
    آپ سب کی بہن اور بیٹی جیسی
    ماریہ علی

  11. سب کی بہن اور بیٹی جیسی سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ نے اس بلاگ میں آکر ہم سب کا دل خوش کردیا اور عید کا سا سماں باندھ دیا.
    ہمیں انکی یہ ادا بہت اچھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ بقول اقبال :
    اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
    میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہ نہ سکا قند
    ….
    میرے تجربات اور مشاہدات نے مجھے یہ سبق سکھا یا ہے کہ جب میں کسی کی محفل میں جاوں تو اس محفل کے میزبان کے اصولوں اور اسکے طور طریق کا خیال رکھوں اور کوئی ایسی حرکت نہ کروں جس سے اپنے میزبان کی اور اسکے دوسرےمہمانوں کی دل شکنی ہو.
    ( ہاں اگر کسی نے جان بوچھ کر میرا دل دکھانے کی کوشش کی تو میں افسوس کا اظہار کرکے مدافعتی اقدامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں)
    …..
    میرے مشاہدے اور تجربے کے مطابق : عالمی اخبار میں آزادیء خیال پر قد غن اس وقت تک نہیں جب تک وہ آزادیء خیال
    عالمی اخبا ر کے متعینہ اصولوں کے حدود میں رہے اور کسی کی دل شکنی کا سبب نہ بن جائے . اسی لیے ” نظر ثانی کرنے والی ہستی ” ہر تبصرے پر نظر ثآنی کرتی ہے اور ایسی تمام باتوں کو حذف کردیتی ہے جن سے کسی قسم کا فتنہ بپا ہونے کا خدشہ ہو . ( اس سلسلے میں عالمی اخبار کے اربابِ اختیار زیادہ اچھی طرح لکھ سکتے ہیں اور میری کسی قسم کی غلط بات کی تصحیح کرسکتے ہیں)
    ……

    سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے تبصرے کا جواب تو عالمی اخبار کی انتظامیہ خود دے سکتی ہے مگر یہ بات میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس بلاگ کی محرک اس اخبار کی نائب مدیرہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو وہ تحریر تھی جس میں انہوں نے بڑے پیار اور بڑی محبت سے سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے کمی کو محسوس کرکے انہیں یہ لکھا تھا کہ :

    ““ماریہ تمہیں کیا تار بھیج کر بلاؤں ۔۔ معلوم بھی ہے کہ کتنے دنوں سے غائب ہو ۔۔۔ اگر میں نے ابھی تک کچھ نہیں کہا تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ تمہاری باتوں کی مہک کی کمی نہیں ہو رہی ۔۔۔۔ سلامت رہو ۔۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے ۔۔آمین”

    ..
    میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ وقت اور فرصت ملنے پر عالمی اخبار کے بلاگوں میں حصہ لییتی رہیں اور اپنی کھری کھری باتیں اس میں شایع کرتی رہیں . ( اگر انکی باتوں سے کسی کو اختلاف ہے تو اسکی فکر نہ کریں اس لیے کہ ” اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کی باتوں میں” )
    ….
    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کو میر کا یہ شعر یاد دلانا چاہتا ہوں کہ :
    ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
    سحر کیا ، اعجاز کیا ، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

    …….
    سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کو اور انکے شوہرِ نامدار علی کاظمی صاحب کو دلی سلام اور دعا اور یہ بھی دعا کہ اللہ انہیں نیک سییرت اور قبول صورت ، صحت مند اور سعادت مند اولاد :(دو بیٹے اور دو بیٹیاں )عطا کرے آمین ثمہ آمین
    فقط:
    سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی حق گوئی و بے باکی کا دلدادہ
    منظور قاضی
    از جرمنی

  12. دیکھو ماریہ صرف تم ہی مصروف نہیں ہو بلکہ ہم سب بھی مصروف ہیں ۔۔ اور مصروفیت میں لکھنا ہی تو کمال ہے اور میرا خیال ہے کہ تمہیں علم ہو گا کہ میں بھی ہوسپٹل جاتی ہوں ۔۔ گھر اور بچے بھی دیکھتی ہوں ۔۔ لیکن لکھنا لکھانا اپنی جگہ پر ہے ۔۔

    ہاں جن احباب نےتم کو پہلے پڑھنے اور پھر لکھنے کا مشورہ دیا ہے ان کی خدمت میں میرا فلسفہ تخلیق ضرور پیش کر دینا کہ پڑھنا اور لکھنا ایک ہی عمل کی دو صورتیں ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔

    بلاگ پر آنے کا اور لکھنے کا بہت شکریہ ۔۔ تم جہاں بھی رہو خوش و آباد رہو ۔۔ بس ایک بات اور کہ تمہارا اکاؤنٹ پہلے کی طرح فعال ہے ۔۔ تم تو خیر اس زمرے میں نہیں ہو لیکن منظور قاضی بھائی سمیت یر فرد اس بات کا گواہ ہے کہ انتظامیہ نے آج تک ان کا بھی اکاؤنٹ بند نہیں کیا جنہوں نے ہمیں دشنام طرازی کے تحفے دئے اس لیئے جب بھی دل چاہے ضرور لکھنا ۔۔۔

  13. قاضی صاحب یہ فقیروں کا ڈیرہ ہے۔پی ایچ ڈی لوگوں کی محفل نہیں۔ یہاں جو بھی آئے بسرو چشم خوش آمدید اور جو نہ آئے یا نہ آ سکے اسکے لیئے ہر سانس وقف دعا۔ ماریہ صاحبہ مصروف ہیں تو اللہ پاک انہیں اتنا مصروف رکھے کہ وہ فراغت کے معنی بھول جائیں اور اتنی ترقی دے زندگی میں تنزلی کی ہوا چھو کے بھی نہ گزرے۔
    ڈاکٹر نگہت صاحبہ کی بات دوہراؤں کہ کمال تو یہ ہے کہ انسان مصروفیت میں سے وقت نکال کر لکھے اگر لکھنا اسکا مقصد اور اسکی ترجیحی فہرست میں ہے؟
    بس یہ عرض کرؤں کہ کوئی فخر یا تعریف نہیں بس از راہ تذکرہ بات کر رہا ہوں کہ یہ فقیر بھی کوئی فارغ نہیں۔ اگر مصروفیت گنوانے بیٹھوں تو بقول ٹی وی انٹرویو لینے والی میزبان فرح حسین کے”ھمدانی صاحب یہ آپ 24 گھنٹے میں 28 گھنٹے کا کام کیسے کرتے ہیں”۔ عالی جناب منظور قاضی صاحب یہ اخبار جو صرف خرچہ ہے اور کمائی ایک پیسہ نہیں اسکو آخری اپ ڈیٹ صبح چار بجے کرتا ہوں اور صبح نو بجے پہلا اپ ڈیٹ اور اس دوران کا سارا کام سڈنی سے ڈاکٹر نگہت صاحبہ سر انجام دیتی ہیں۔
    عزیزی ماریہ نے یہ لکھا ہے کہ انہیں یہ علم ہی نہیں تھا کہ انکی گمشدگی کا بلاگ لگا ہے۔۔۔۔۔عرض کرؤں کہ اسکا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اس تمام عرصے میں اخبار یا بلاگ دیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔شاید اسی کو کمال محبت کہتے ہیں۔۔۔۔
    اللہ پاک ماریہ کو آسانیاں مہیا کرے اورجو دعا قاضی صاحب آپ نے آخر میں لکھی ہے اس پر میں ہم سبکی طرف آمین ثمہ آمین یا رب العالمین کہتا ہوں۔

  14. السلام علیکم ۔
    سب سے پہلے تو قاضی صاحب ۔ آپکے سمجھانے کا انداز اتنا اچھا ہوتا ہے کے بدلے میں کوئی جواب ہی نہیں بنتا )

    اور جہاں تک نگھت آپا کی بات ہے یہ حقیقت ہے کے آپ ہسپتال گھر اور بچوں کے ساتھ یہاں اتنا وقت دے لیتی ہیں یہ حقیقت میں بہت بڑی بات ہے ۔
    اور ہمدانی صاحب کی کمال انکساری یہ ہوتی ہے کے وہ خود کو ہم جیسے کاہل کام چور انسانوں کے لیول پر لے آتے ۔۔۔ اگر مصروفیت گنوانے بیٹھوں تو بقول ٹی وی انٹرویو لینے والی میزبان فرح حسین کے”ھمدانی صاحب یہ آپ 24 گھنٹے میں 28 گھنٹے کا کام کیسے کرتے ہیں”۔
    اگر ہمدانی صاحب میں یہ صلاحیت سب سے جدا نا ہوتی تو شاید یہ کوئی میزبان فرح حسین صاحبہ انکی اتنی تعریف بیان نا کرتیں )
    بہر حال جس بھٹی میں ہمدانی صاحب پک پک کے تیار ہئے ہیں ہمکو تو اس بھٹی کی گرمی تک نہیں لگی تو ہم میں ایسی صلاحیتیں اور یہ ہنر کہاں سے آ جائے گا )
    خیر میری کل چھٹی ہے اس لئیے اس وقت نیٹ پر آئی ہوں اور یہاں حاضر ہوں۔ ایسا بلکل نہیں ہے کے میں 100 فیصد یہاں جان کے نہیں آ رہی ۔اصل میں پہلے مجھے اپنی جاب اور اپنے ڈیڈ کا گھر دیکھنا ہوتا تھا مگر اب میں اپنا گھر بھی سیٹ کر رہی ہوں کیونکہ علی کچھ دنوں تک یہاں آ جائیں گے اور ذیادہ وقت اب ڈنمارک میں ہی رہیں گے تو اب دو گھروں کی زمہ داری آ گئی ہے اس وجہ سے بھی زہنی طور پر یکسوئی نہیں ہوتی فارغ بھی ہوتی ہوں مگر دماغ مصروف ہوتا ہے اس لئیے بھی تھوڑا سا Avoid کر رہی تھی کے کہیں ایسا نا ہو میری ذہنی تھکان کی وجہ سے یہاں کچھ الٹا سیدھا نا لکھ دوں ۔ویسے مجھے اتنا تو اندازہ ہے کے مجھ سے ہمدانی صاحب اور نگہت آپا کچھ ناراض سی ہیں مگر یقین مانیں گزشتہ تقریبا دو ماہ سے ذہن بہت الجھا رہا ہے گھر لینا پھر سیٹ کرنابہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں کے اپنے آپ پر ہی غصہ آتا ہے اس وجہ سے اگر میری کوئی بات کسی کو بری لگی ہو تو میری طرح بنا دل میں رکھ کر کھل کر مجھے ‘‘ ای میل‘‘ پر سنا دیں اور دل و دماغ صاف کر لیں کیونکہ مجھ سے بھی ذیادہ دیر ناراض نہیں رہا جاتا)
    مگر ہاں کچھ باتوں سے مجھے اختلاف ہے مگر وہ میرا حق ہے یہ ضروری نہیں کے انتظامیہ میری ہر بات سے متفق ہو اور نا یہ کے میں انتظامیہ کی ہر بات پر سر تسلیم خم کر دوں) مگر اس کا مطلب یہ نہیں کے میں کوئی دشمنی ٹائپ دل میں رکھوں یا منہ بنا کر لوگوں میں باتیں کروں
    بس میری ایک یہی گزارش ہے کے مجھ سے کوئی شکایت ہو تو برائے کرم مجھے میل کر دیا کریں ۔
    باقی میری طرف سے کسی کو کوئی تکلیف ہوئی ہو تو انگریزی والا بھی SORRY اور اردو میں بے حد معزرت ؟
    آخر میں آپ سب کی پر خلوص دعاؤں کا بہت بہت شکریہ
    کوشش کرونگی جب جب وقت ملے یہاں آتی رہوں
    خاص طور پر قاضی صاحب کے ساتھ آپ سب کی دعاؤں کی ہمیشہ محتاج
    آپ سب کی بہن اور بیٹی جیسی
    ماریہ علی

  15. سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کو انکا نیا گھر مبارک ہو.
    پتہ نہیں وہ ڈنمارک میں رہتی ہیں یا ہالینڈ میں . جہاں بھی رہیں اپنے شوہرِ نامدار کے ساتھ ہنسی خوشی رہیں اور اپنا گھر اور اپنی دینٹل سرجری کا ہنر اور پیشہ جاری رکھیں اور ساتھ ہی ساتھ وقت ملنے پر عالمی اخبار میں لکھتی رہیں تو یہی ہم سب کے لیے کافی ہے.

    کاش کہ سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ اپنا وہ سلام اس بلاگ میں لکھدیں جس میں انہوں نے شہ نشیں کے گلاب کا تذکرہ کیا تھا اور جسے جناب صفدر ھمدانی صاحب نے انتہائی مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ مکمل کرنے میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی مدد کی تھی. ( یہ میری درخواست ہے )

    مییری تعریف کو وہ میرے دل کی آواز سمجھا کریں .

    اگر کوئی بات مجھے ای میل میں ان سے کہنی ہے تو کیوں نہ اسکو عالمی اخبار میں بھی پیش کردیا جائے ؟ اس لیے کہ ہم سب ڈنکے کی چوٹ پر ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں. اس میں چھجکنے اور ہچکچانے کی کوئی بات ہی نہیں.

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  16. السلام علیکم
    قاضی صاحب آپکا حکم سر آنکھوں پر)
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سلام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حصار کر لیا میرا عزا کی خوشبو نے
    علم کے سائے سے لائی جو میں اٹھا کے گلاب
    علم کے سامنے جھکتا ہے سر مرا ایسے
    کہ جیسے شاخ سے گر جائے‌سر جھکا کے گلاب
    میں انکے واسطے نعمت ہر ایک رد کردوں
    اگر نصیب سے مل جائیں ” شہ نشیں ” کے گلاب
    ذمانہ انکی بلندی کو چھو نہیں سکتا
    طواف کر کے جو آتے ہیں کربلہ سےگلاب
    شفا کی خاک ہی مل جائے تو زہے قسمت
    زہے نصیب میسر ہو ں گر شفا کے گلاب
    علَم کے سامنے حاضر ہوں ہاتھ میں لے کر
    مرے خلوص و عقیدت کی انتہا کے گلاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محتاج دعا
    ماریہ علی
    ِِِ

  17. سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ : مرحبا، ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، جزا ک اللہ : تمھاری عقیدت کا یہ گلدستہ تمھاری خداداد شاعری کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔

    میری تم سے یہی درخواست ہے کہ تم اپنی اس صلاحیت کو زندہ رکھو اور اسی طرح کچھ نہ کچھ تخلیق کرتی رہو۔
    ۔۔۔۔۔
    تمھارے اس سلام کا ہر شعر نہایت ہی عمدہ اور مقدس ہے۔
    ۔۔۔
    صرف ایک شعر کے دوسرے مصرعہ کی کمپوزنگ میں تھوڑی سی تبدیلی ہوسکتی ہے :

    زمانہ انکی بلندی کو چھو نہیں سکتا
    طواف کرکےجو لاتےہیں کربلا کے گلاب

    یہ میرا اپنا خیال ہے

    ممکن ہے کوئی قادر الکلام قاری اس سے بہتر تجویز پیش کرے۔

    بہرحال :
    شکریہ کہ تم نے میری درخواست پر اپنا یہ دل میں اتر جانے والا سلام یہاں عطا کردیا۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    از جرمنی

  18. السلام علیکم قاضی صاحب
    ماشااللہ بہت ذبردست میں اس کو ایسے ہی لکھ لیتی ہوں ڈائری میں جیسے آپ نے بتایا)
    دعاوں میں یاد رکھئیے گا
    آپکی بیٹی جیسی
    ماریہ علی

  19. سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی مہربانی کا شکریہ کہ وہ مجھے عزت کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔
    میں انکے شعر میں تبدیلی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اس سلام جس کی ردیف “ کے گلاب “ ہے اس کے ایک مصرعہ میں “ سے گلاب“ دیکھا تو خیال آیا کہ اس مصرعہ کو دوسرے مصرعوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اسکی کمپوزنگ میں تبدیلی کی جائے ۔
    ویسے اس مصرعہ میں “ سے گلاب “ کی بجائے “کے گلاب “ بھی لکھ دیا جائے تو اس شعر کا حسن برقرار رہتا ہے ، اس لیے میرا مشورہ ہے کہ تم اپنے شعر کو ایسا ہی رہنے دو جس طرح تم نے شروع میں لکھا ہے مگر اس میں صرف “ سے گلاب “ کی بجائے “ کے گلاب “ لکھو:

    زمانہ انکی بلندی کو چھو نہیںسکتا
    طواف کرکے جو آئے ہیں کربلا “ کے“ گلاب

    اللہ تمھارا زورِ بیاں اور زیادہ کرے : آمین

    اپنی نیک دعاوں میں شامل کرتی رہو :
    اللہ معصوموں کی دعائیں قبول کیا کرتا ہے۔

    تمھاری طبیعت میں جلا ل بھی ہے اور جمال بھی ۔
    اللہ تمھارے جمال کی روشنی دنیامیں پھیلاتا رہے ۔ اور تمھارے جلال کی زد سے سب کو محفوظ رکھے ۔ آمین

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  20. خد ا کا شکرہےکہ اب سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ عالمی اخبار میں اپنی پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ شریک ہوگئی ہیں اس لیے میں اس بلاگ کو ختم کرنے کے متعلق سوچ رہا ہوں ۔

    ویسے اگر ماریہ علی صاحبہ اس بلاگ میں مزید کچھ لکھنا چاہتی ہیں تو انکی مرضی ۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  21. محترمہ سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ ،
    سچ کہتے ہیں دانا جو بات کہہ دے پتھر پہ لکیر ہوتی ہے۔ منظور قاضی صاحب نے آپ کے بارے میں جو کچھ لکھا، جسطرح ایک پورا بلاگ آپ کے نام کیا اور ترلوں واسطوں سے آپ کو عالمی اخبار کی شان بلند کرنے پہ آمادہ کیا ، آپ کے موجودہ ، کیونکہ جب میں نے عالمی اخبار کواپنا دستِ بیعت دیا آپ ’چُٹھی ‘ پہ تھیں لہذا اس سے پہلے آپ یعنی آپ کی سوچوں سے آگاہی نہ تھی، تبصرے پڑھ کر یقین ہوگیا کہ آپ واقعی اُن خیالی توقعات سے بھی بڑھ کر ہیں۔اللہ کریم ہمیں ایسے بیباک لوگ ان گنت عطا فرمائے جو لوگوں کے سوئے ضمیر بیدار کریں۔

    موجودہ بحث بہت زیادہ سیاسی ہوتی جا رہی ہے ۔ سیاسی اور مذہبی بحث میں کوئی مطمئن ہوجائے یا دوسرے کو کر دے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ نے تو شروع میں ہی کہہ دیا کہ آپ کی کسی بھی پارٹی سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں اور آپ کی بحث اور دلائل بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ جبکہ محترم قاضی صاحب اور محترم جعفری صاحب کی وابستگی اور وفاداری کی بنا پر ان کی جوابی بحث پارٹی کے دفاع سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتی۔
    میں بھی آپ ہی کی طرح مکمل غیر سیاسی ہوں اور اس بات پہ مکمل یقین رکھتا ہوں کہ ملک کی سب پارٹیوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں تاکہ بہتر سے بہترین قیادت سامنے آئے جو عوام کو ایک ماڈل حکومت دے سکے۔ایم کیو ایم بدقسمتی سے ملکی سطع پر اپنا تشخص ابھارنے میں ناکام ہی ہوئی ہے۔ کسی پہ الزام تراشی محض حقیقت سے آنکھیں چرانا ہی ہوگا۔
    یہ پارٹی، بلکہ پریشر گروپ کہنا زیادہ مناسب ہوگا، مہاجر قومی موومنٹ کی حیثیت سے ابھری۔ جب ملکی سطع پہ پذیرائی نہ ملی، الٹا تنقید کی زد میں آئی، تو متحدہ بن گئی۔ نام بدلنے سے بھی کام نہ بنا کیونکہ ایجنڈا یا منشور وہی پرانا ہی رہا یعنی دہشت پھیلائو اور حکومت کرو۔
    کراچی کے امن و سکون کو غارت کرنے میں پہلا پتھر مارے والی خود یہی پارٹی ہے۔ بھتہ سسٹم، اغوا برائے تاوان، عقوبت خانوں، شہر میں مورچہ بندیوں، سندھیوں، پٹھانوں اور پنجابیوں سے باری باری پنجہ آزمائی، بوری بند لاشوں کے تحفے، معصوم لوگوں کو زندہ جلانے جیسے گھنائونے جرائم، اور رنگ و زبان کے نام پہ قتل عام سب اس کے سیاہ کارنامے ہیں جو زباں زدِ عام ہیں جن کا کسی صورت کوئی جواز نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔
    اپوزیشن میں بیٹھنا بھی انہیں گوارا نہیں اور حکومت میں رہ کے بھی گذارہ نہیں۔ آمریت ہو یا جمہوریت، مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی۔ یہ حکومت کی گود میں بھی ہوگی اور اپوزیشن کی صفوں میں بھی ۔ دن کو ٹائی باندھ کر حکومت میں،سورج ڈوبتے ہی نقاب پوش دہشت گرد اور سحر ہوتے ہی واویلا بھی کہ لُٹ گئے، مارے گئے، بچائو، چھڑائو۔ یہ ہے ان کی سیاست اور عوام میں امیج۔
    قادیانی جماعت کے بعد یہ واحد پارٹی ہے جو برطانوی سامراج کی شہہ اور اس کی ایجینسیوں کی نگرانی میں ایک طے شدہ پالیسی پہ عمل پیرا ہے۔ لندن سے گھنٹوں ٹیلیفونک خطاب عوام کے درد میں نہیں بلکہ اپنے گھمنڈ اور طاقت کو ظاہر کرنے کے لئے ہوتے ہیں تاکہ اپنے آقائوں کو خفیہ پیغام دیا جا سکے کہ کراچی اور حیدر آباد کے اصل وارث ہم ہی ہیں۔
    کراچی سے خیبر تک اگر کہیں کسی نل سے پانی آنا بند ہوجائے تو پیر سائیں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ جب تک اخباری بیان نہ جاری کریں چین نہیں ملتا لیکن ملکی دفاع و سلامتی پہ ہزاروں سازشیں ہوں، لاکھوں خطرات منڈلائیں، اِین جناب ٹس سے مس نہیں ہوتے۔امریکہ اور برطانیہ کی خوشنودی میں طالبان کا واویلا ہر وقت لیکن بھارت کا کبھی بھولے سے بھی نام نہیں !
    بحث میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ مہاجروں کو حقوق دلوانے کی خاطر بنائی گئی۔ تو جناب پہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں کوئی مہاجر نہیں۔ اردو سپیکنگ لوگ اگر خود ہی یہ رٹ نہ چھوڑیں تو اور بات ہے ورنہ تمام لوگوں کو یکساں حقوق اور مواقع حاصل ہیں بلکہ اردو سپیکنگ کمیونیٹی سب سے آگے ہے۔ انہی میں سے چار تو آرمی چیف بنے جن میں سے دو نے ملک کو آمریت کا سیاہ دھبہ لگایا اور دس سے گیارہ سال قبضے میں رکھ کر اپنے ادوار میں حتی الوسع ایم کیو ایم کو تقویت بخشی ، نہ صرف سیاسی بلکہ سرکاری اسلحہ دے کر عسکری بھی۔

    ایم کیو ایم اگر تو کراچی اور حیدر آباد تک محدود رہ کر صرف اردو سپیکنگ طبقے کی ہی نمائیندگی کرنا چاہتی ہے تو اور بات ہے ورنہ اسے تعصب کے بت توڑ کر پورے ملک کے استحصال زدہ طبقے کی خاطر کام کرنا چاہیے اور اپنے تشخص پہ لگے دہشتگردی کے داغ دھونے چاہیں جس کے لئے نئی اور مقامی قیادت کی ضرورت ہے نہ کہ برطانیہ کے طفیلی پناہ گزیں برٹش مہروں کی۔

    میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ میرے علاوہ پاکستانی اکثریت کی سوچ ہے ۔ اس میں اگر کسی کی بھی دل آزاری ہوئی تو معافی کا درخواست گذار ہوں۔ میں اپنی رائے کے علاوہ مزید کسی بحث میں نہیں پڑھنا چاہتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *