غزہ کی کربلا- انسانی ضمیر کا امتحان

اسرائیلی جارحیت کا 22واں روز شہداء کی تعداد 1203 جن مٰیں 368 بچے اور 105 خواتین ہیں، جبکہ زخمیوں کی 5320 سے تجاوز کرگئی۔
انگلینڈ کے سب شھروں کے ساتھ برمنگھم میں بھی اج ھزاروں کی تعداد میں مختلف مکاتب فکر اور مذاہب کے طلباء، مرد، خواتین، بچوں اور بوڑھوں نے آج برمنگھم میں سٹی سنٹرمیں پیدل مارچ اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی حمایت اور اسرائیلی خونخوار غاصبوں کے خلاف اپنے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم لے رکھے تھے اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔— فری فری پیلسٹائن— نو مور کللنگ- نو مور وار—اکوپیشن نو مور– ڈاون ڈاون اسرایئل ۔۔
اسرائیلی وحشت و بربریت کا شکارغزہ’ آج کربلا کی تصویر پیش کررہا ہے اور جن نام نہاد مسلمانوں نے کل کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین (ع) کو شہید کیا تھا انہی کے پیروکاروں نے آج اسرائیل کو غزہ پر حملے کی اجازت دی ہے۔ معصوموں کی چیخیں اور آہ بکا، ھم سب کو یزیدِ وقت کے خلاف ” لبیک یا حسین علیہ السلام ” کی صدا دینی ھو گی۔ تو میری سب بلاگرز ساتھوں سے گزارش ھے کے وہ اس استغاثے پہ تبصروں میں صرف “لبیک” کہ کر اپنا حصہ ڈالیں۔ جزاک اللہ

12 thoughts on “غزہ کی کربلا- انسانی ضمیر کا امتحان”

  1. لبیک یا حسین علیہ السلام
    ثناء شاہ قدم بڑہاؤ
    ہم تمہارے ساتھ ہیں
    بات ثناء صاحبہ کی بلکل درست ہے، عملی اقدام کی ضرورت ہے اور بین الاقوامی اداروں کو جانے کیوں یہ مرنے والے انسان نہیں لگ رہے، امریکہ میں کسی کو خراش بھی آ جائے تو سارا میڈیا اسے اٹھا کر سر پر رکھ لیتا ہے لیکن ادھر جو نسل کُشی ہو رہی ہے اور اس جدید دور میں ہو رہی ہے جب جنگ کو غلط حکمتِ عملی قرار دیا جا چکا ہے، ان حالات میں ایسا بہیمانہ جرم کر گذرنا اور پھیر سب برائے نام اسلامی ممالک کے راہنما اس بات پر ایک میٹنگ کی برخاستگی کے بعد پھر اپنی محافلِ ناؤ نوش میں مشغول ہو گئے ہیں، اس وحشت ناک بمباری کو روکنے کے لیئے سینہ تان کر آگے آ جاتے۔

  2. اسلامہعلاکہم Sana SHAH ji ek bar keya hum hzaar bar labek kehtee hein ap ke bat pe lekin ??? ALLHA ap ke pukar ka masbat jwab dein AMEEN muslam hukmranon se to kese bhleye te umeed nahein hee Tahir Malik Germany

  3. لبیک لبیک ہر ظلم کے خلاف لبیک
    لبیک لبیک ہر ظالم کے خلاف لبیک
    لیبیک لبیک ہر مظلوم کے حق میں لبیک
    اسلام کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ رنگ،نسل،زبان،قومیت اور مذہب سے بالا تر ہو کر بات کرتا ہے اور صرف مسلم مظلوم کی ہی نہیں بلکہ کرہ ارض کے ہر مظلوم کی حمایت کا درس دیتا ہے۔
    یہ سیاست ہے ہی لعنت۔ یہ سیاست دین میں داخل ہوجائے تو خانوادہ رسالت کربلا میں بھوکا پیسا خون میں نہلا دیا جائے اور حرام رسول حلال قرار پائے۔ یہی سیاست اہنے بدترین روپ میں عالمی تعلقات میں داخل ہو جائے تو غزہ قصابوں کی تجربہ گاہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کے اعمال اور قلبی کیفیت انکے چہروں پر لکھ دیتا ہے۔ ذرا مصر کے حسنی مبارک،سعودیہ کے عبداللہ،اردون کے شاہ حسین اور پاکستان کے زرداری کو دیکھ لیں کیا انکی صورتوں پر ان کے قلب کی کیفیت نہیں لکھی ہوئی؟ غزہ نے اسرائیل کا غرور تو توڑا ہی ہے امریکہ اور اسکے تمام حواریوں کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی ہے۔ سچ ہے کہ طاقت نظریے کو شکست نہیں دے سکتی۔
    عالمی اخبار کو اپنے اس کردار پر خوشی ہے کہ دنیا بھر میں انٹر نیٹ کے ایسے 5 اردو اخبارات میں شامل ہے جس نے پہلے دن سے آج تک اس جنگ میں مظلوم کا ساتھ دیا ہے اور اس کا اعتراف فلسطینی ذرائع اور ابلاغ کی دنیا کے بے لاگ ناقدین نے بھی کیا ہے۔اور اس میں ثنا زہرا جیسی خواتین کا حصہ بھی شامل ہے۔

  4. حسین کی سنت کہ زندا رکھنا سب مسلمانوں کا فرض ہے، جہاں کہیں ظلم ہو گا وہاں حسین کی سنت پوری کی جائے گی ، جیسم مر جاتے ہیں نظرہہہ نہیں مرتا، ،حسین نے اپنی جان دے کر ظلپ کی پیروی سے انکار کیا فلسطیں کے بیٹے بھی اپنی جانیں دے کر اُسی سنت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں،، دکھ مسلمان غکمرانوں کی بے حسی کا ہے جن کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہی، ایر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر میٹنگ کرنے سے وہھ سمجھتے ہیں کے اُن کا فرض پورا ہو گیا، بے حسی کا یہی عالم رہا تو یہ وقت کسی ببھی ملک پر آ سکتا ہے، کبوتر آنکھیں بند تر کے یہ نا سوچے کے بلی بھاگ گئی ہے
    اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمیں ۔
    آزر اعجاز

  5. اسرائیلی جارحیت کا 23واں روز شہداء کی تعداد 1300 جن مٰیں 417 بچے اور 108 خواتین ہیں، جبکہ زخمیوں کی 5320 سے تجاوز کرگئی۔ CEASE FIRE. Now the bodies will be discovered

  6. اسرائیلی جارحیت کا 24واں روز شہداء کی تعداد 1312 جن مٰیں 417 بچے اور 108 خواتین ہیں، جبکہ زخمیوں کی 5340 سے تجاوز کرگئی۔ یا اللہ رحم !!

  7. اسرایئلی جارحیت کا جواب ”ان حزب اللہ ھم الغالبون“ حماس اور حزب اللہ تنھا نھیں ھیں بلکہ ھم سب بھی ان کے ساتھ ھیں۔ ،حماس اور سید حسن نصراللہ عالم اسلام کا سرمایہ ہیں۔ مگر مسلمان امت کا سکوت، یہاں پر امام خمینی کا معروف جملہ کہ اگر سارے مسلمان ایک ایک بالٹی پانی ڈال دیں تو اسرائیل بھہ جائے گا۔ لیکن اے کاش ۔۔۔۔۔۔
    آج اگر امام حسین علیہ السلام ھوتے تو وہ خود بھی یھی کہتے کہ اگر میرا غم منانا ھے تو لبنان و فلسطین کے مظلوموں کی حمایت کا نعرہ تمھاری زبان پر ھونا چاھئے۔
    یزیدِ وقت کے خلاف ” لبیک یا حسین

  8. اسلامہ علوکہمlabek ya hussan hzar bar labek ya kudha en behes hukmranoon ko bhee tofq de ya per ???

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *