میں جانے انجانے اپنے ابا جی ہی کی کاپی کیا کرتا تھا۔ صلح صفائی‘ بیچ کی راہ‘ اعتدال پسندی‘اپنی ماں سے بے حد پیار اور ان کی سب سے زیادہ عزت ۔۔۔۔
امی جی اپنے کمرے میں جا چکی تھیں۔میں نے انہیں ایسے دیکھا جیسے ابا جی ، بی بی جی کو دیکھا کرتے تھے۔ ایسے جیسے اب کبھی نہ دیکھیں گے۔ وہ کتنے پیار سے ہر مہینے بی بی جی کو ہزاروں روپے بھیجتے تھے۔ جنہیں وہ انہی کے لئے دعاؤں کے ساتھ رکھ لیتی تھیں اور ہر بار کہتیں۔
’’ زمینوں کا ہزاروں آ جاتا ہے پُتر۔۔۔ کیوں تکلیف کرتے ہو۔‘‘
ابا جی ہمیشہ کہتے۔
’’ میرے پاس جو کچھ ہے، سب آپ کا ہے۔ میں تو برکت کے لئے بھیجتا ہوں۔ پھر ہر بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے پیار کرے۔ ان کی خدمت کرے۔ مجھے اس خدمت سے مت روکیے۔ویسے بھی میں اِتنا دور ہوں۔‘‘ ان کی آواز بھرا جاتی۔
دِل سے دور نہ ہونا بیٹے، یہ سارے فاصلے تو رب دے فیصلے ہیں۔ اس کو یہی منظور تھا۔ رزق کے سلسلے میں توں دِل نہ میلا کیا کر۔ سب یہاں میرا بہت خیال رکھتے ہیں ۔توں بھی سب کا خیال رکھا کر۔‘‘
’’ بی بی جی آپ خوش ہیں نا ں مجھ سے؟‘‘ وہ ہر بار بے قراری سے پوچھا کرتے۔
’’ ماں واری بیٹے ۔۔۔ بہت زیادہ۔‘‘
پھر بی بی کی ہنسی اسپیکرپر مہک بن کر لپٹ جاتی۔ ابا جی کی آنکھیں جھلملا جاتیں اور امی جی پیار سے ۔ ’’ چائے پیتے ہیں ۔ ‘‘ کہتی ہوئی اُٹھ جاتیں۔
یہ سب کچھ ہر ہفتے ہوا کرتا تھا۔
امی ،ابا جی پاکستان میں اپنے اپنے گھروں میں فون کا اسپیکر آن کر کے ہی بات کیا کرتے تھے۔ اور مجھے اور ارم کو بھی ساتھ بٹھا لیا کرتے۔ ان کا خیال تھا کہ اپنوں سے رابطہ ضرور رہنا چاہیے۔ چاہے پل بھر کا ہی کیوں نہ ہو اور دیر بعد ہی کیوں نہ رکھا جائے۔
جب ہم سب مل کر ایک ہی جگہ رہتے ہیں تو مذہب تہذیب خود بخود انسانوں کی تعمیر کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم دور رہتے ہیں تو یہی رابطے ہماری تعمیر کرتے ہیں۔ انہیں وہاں رہتے ہوئے اس بات کا احساس اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ سب مل کر رہ رہے ہیں اور ہم تھوڑے سے لوگ یہاں رہ کر ان جیسا ہونے کی محنت مسلسل میں مبتلا ۔۔۔
’’ بیٹے رشتوں اور رابطوں کو نبھانا ہی تو اصل تربیت ہے۔ ‘‘
( مجھے یاد ہے اس افسانے کو لکھتے ہوئے میں کئی بار اشکبار ہو گئی تھی ۔۔ آج جانے کیوں دل کیا کہ آپ سب کی خدمت میں اپنے اشک پیش کروں ۔۔۔۔ نگہت نسیم )

محترمہ نگہت جی
کمال لکھا ہے اور جو میری طرح گھر سے دور ہیں وہ اس افسانے کو اپنی آپ بیتی سمجھ کر اشکبار ہو جائیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رشتوں کو تبھاتے رہنا ہی اصل تربیت ہے۔ خاض دور پر جب والدین بوڑھے ہو جائیں تو پھر انہیں بہت زیادہ پیار اور خیال کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں پیسوں اور آسائشوں کے مقابلے میں اپنوں کے دو پیار بھرے بول اور پل بھر کا ساتھ زیادہ اہم لگتا ہے۔
لیکن
بعض لوگ اس چیز کو سمجھ نہیں سکتے، وہ دنیاوی آسائشوں کے تو انبار لگا دیتے ہیں لیکن پل بھر کا ساتھ نہیں دے پاتے۔
یہ ضروری ہے کہ اس افسانے کو زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھیں تا کہ وہ اس بنیادی چیز کو سمجھ سکیں جس کی والدین کو بڑھاپے میں ضرورت ہوتی ہے۔
محترمہ نگہت جی
اللہ آپ کو خوش رکھے اور اولاد کا سکھ نصیب کرے ۔۔ آمین
بہت پیاری بہن ،عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نیسم ھم سب روشنی جیسا خوبصورت افسانہ لکھنے والی بہت حساس اور ۔محبت کی خوشبو
سے آشنا کرانے والی تخلیق کار کی انکھوں میں اشکوں کی جگہ مسکراھٹ اور سکھہ چین کی جھملاھٹ دیکھنا چاھتے ھیں
روشنی افسانہ کہاں ۔۔۔۔یہ تو
یہ جگ بیتی ھے۔۔۔۔ ھم سب پردیس میں اپنے پیاروں سے دور رھنے والوں کی کہانی
جسے کوئ بھی بیان کرے ایک درد بھری کیفیت آپ کا دامن پکڑ لیتی ھے
اور انکھیں سمندر بن جاتی ھیں ،،،
مجھے بھی امی بہت یاد آتی ھیں اور ھمیشہ بہت یاد آتی ھیں وہ پاکستان میں ھی رھنا پسند کرتی ھیں،، کویت میں ان کا دل نیہں لگتاھے ۔ وہ بہت ھی سادہ خاتون ھیں کسی آسائش سے متاثر نیہں ھوتی ھیں ۔۔۔ میں کیا بتاوں کہ میرے لیے ماں کیا ھے؟
وہ سراپا دعا ھیں ،، اور کوئ کیسے بتاۓ کہ دعا کے خدوخال کیسے ھوتے ھیں۔
رحمت و برکت کے رنگ کیسے ھوتے ھیں ،،
کیسے بتاوں
جب وہ میرے پاس ھوتی ھیں تو میرے دل کی، گھر کی ویرانی بالکل ختم ھوجاتی ھے صرف اس نور اور روشنی کی برکت سے
میری دنیا بدل جاتی ھے۔۔۔۔
انکی آواز سنکر میرے دل کو کیسا سکون ملتاھے ۔ ان کے پاس شائد کوئ ممتا بھرا طلسم ھے،،میں جو باتیں ان سے کہتی بھی نیہں وہ بھی جان جاتی ھیں،، ذرا غور سے یہ سچی بات سنوجو اس بلاگ کا موضوع بھی ھے اور ساری ماؤں کی آواز بھی ھے کہ
رشتوں اور رابطوں کو نبھانا ہی تو اصل تربیت ہے۔ ‘‘
اللہ پاک ساری ماوں کو عمر خضر عطا فرما اور سب کی ماوں کو سلامت رکھے ۔۔۔اور ھم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔۔
آج میں اپنے ابا جی سے فون پر لندن بات کر رہی تھی .. باتیں کرتے کرتے انہوں نے ایک بات عجیب سی کہی .. .. کہنے لگے کہ ان کی خدمت گزاری کے لئے ایک غیر مسلم آتا ہے … اور وہ اس کی بابت بہت پریشان ہیں کہ مرنے کے بعد اس کا کیا ہو گا … میں نے کہا ابا جی اس میں پریشانی کی کیا بات ہے .. تو ابا جی بڑی محبت سے بولے .. بیٹی وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے .. دنیا میں میرا خیرا خواہ ہے تو میں کیسے اس کی خیر خواہی بھول جاؤں .. کسی انسان کی سب سے بڑی خیر خواہی دوسرے انسان کی آخرت کی خیر خواہی ہے … میں جب سے سوچ رہی ہوں کہ کیا میں اپنے اطراف میں بسنے والے کی خیرخواہ ہوں … ؟
جی آپی پہلی بات تو یہ کہ آپ کے ابا جی کی فکر مندی پڑھ کر مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو میں نے ایک عالم دین سے سنی تھی کہ بندہء مؤمن کو روز قیامت ایک شخص نے پکڑا ہوگا کہ تو نے میرا حق کیوں ادا نہ کیا تو وہ فرد مؤمن فرشتوں سے پوچھے گا کہ یہ کون ہے، تو بتایا جائے گا کہ تیرا فلاں رفیق کار، دوست یا ملازم جسے تو دعوت حق دے سکتا تھا، پر نہ دی۔ ۔۔۔۔۔کاش ہم یہ حق ادا کر پائیں۔
جہاں تک افسانے کا تعلق ہے تو دیار غیر میں بسے ہم ایسے لوگوں کے ہر گھر کی یہی کہانی ہے، آپ ہوں، بابا ہوں، اکرام بھائی ہوں یا شاہین رضوی صاحبہ۔
یہ حقیقت ہے کہ رابطہ قائم رہنا ہی رشتوں کو قائم رکھتا ہے، اور ماں باپ، یا اولاد کے ساتھ اظہار محبت میں چاہے تصنع ہی کیوں نہ موجود ہو، پھر بھی اسکا انجام محبت پر ہی نکلتا ہے۔ اگر ربط ٹوٹ جائے تو ایک ملک میں بستے رشتے بھی گمشدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔عبادت بھی تو اک رابطہ ہی ہے ناں، یہی ربط اگر ٹوٹ جائے تو انسان کو بندگی و معبود کے مابین کا رشتہ بھلا دیتا ہے اور استوار ہو جائے تو انسان کو عبد صالح بنا دیتا ہے۔
جی چاہتا ہے اس موضوع پر مزید کچھ لکھوں، لیکن ابھی نصف سے زائد شب گزر چکی، اس لئے یہیں رکتا ہوں۔
خدا سب کے والدین کی خیر کرے آمین بجاہ محمد و آلہ الطاہرین۔
والسلام
ڈاکٹر نگہت کالم لکھیں،نظم لکھیں،بلاگ لکھیں یا افسانہ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ وہ آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی بجائے میری،آپکی اور ہم سب کی بات کرتی ہیں۔ نبض پر ہاتھ رکھنے اور اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ سننے کا ہنر انہیں اپنے ڈاکٹری کے پیشے سے ملا ہے۔ ہم سے کچھ قریبی لوگ جانتے ہیں کہ وہ جب ہسپتال میں داخل ہوتی ہیں تو ایسے جیسے کوئی باوضو مسجد میں داخل ہوتا ہے۔ وہ ایسے ایسے مریضوں کا علاج کرتی ہیں جنہیں اپنے گھر والے بھی زیادہ دیر برداشت نہیں کرتے۔ وہ صرف ایک ڈاکٹر کے طور پر انکا علاج نہیں کرتیں بلکہ ایک دوست،ساتھی اور غمگسار کی طرح انکی روداد اور آپ بیتی سنتی ہیں۔ان کے ہنسنے کے ساتھ ہنستی ہیں اور انکے رونے کے ساتھ روتی بھی ہیں اور پھر گھر آ کر گھر والوں کو بھی بتاتی ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ مجھے رات کو فون کر کے بتایا کہ بابا میری ایک مریض کی طبیعت ٹھیک نہیں،اسکو جو دوائی دیتی ہوں اسکا رد عمل ہو جاتا ہے۔ سڈنی کے وقت کے مطابق اسوقت رات کے ڈھائی بج رہے تھے اور مسیحا اپنے مریض کے لیئے پریشان تھی۔
ایک عجیب پریشان لیکن مطمئن روح ہیں یہ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ عام ڈاکٹر جب ہسپتال سے گھر آجاتا ہے تو وہ اول تو وہاں کی بات ہی نہیں کرتا اور ہسپتال کو بھول جاتا ہے لیکن یہ ہیں کہ گھر آ کر اپنے مریضوں کو اور زیادہ یاد کرتی ہیں۔ اور تو شاید بہت سے احباب نہ جانیں لیکن اچھی بات کو چونکہ آگے بڑھانا صدقہ جاریہ ہے اس لیئے بتا رہا ہوں کہ بارہ سے چودہ گھنٹے ہسپتال میں گزار کر یہ ڈاکٹر نگہت نسیم بچوں اور میاں کا کھانا بناتی ہیں،برتن دھوتی ہیں،سب کے کپڑے استری کرتی ہیں،گھر کی صفائی کرتی ہیں، کئی گھنٹے عالمی اخبار کو دیتی ہیں،بلاگ اور بلاگ پر تبصرے لکھتی ہیں۔اسی دوران عالمی اخبار کی ساری خط وکتابت کرتی ہیں،لندن اپنے گھر میں مستقل اپنی والدہ،بہن،بھائیوں،بھابھیوں اور والد سے رابطہ رکھتی ہیں، سب کے دکھ سکھ سنتی اور کتنے ہی مسلے حل کرتی ہیں،کوئی تفصیل باتے بغیر بتاؤں کہ کتنے ہی لوگوں کی اخلاقی اوت کتنے لوگوں کی مالی مدد بھی کرتی ہیں اور اس غرض سے ہسپتال میں ..اوور ٹائم.. بھی لگاتی ہیں۔
کوئی پوچھے کہ بابا جی آپکو یہ سب کیسے معلوم تو عرض کرؤں کہ میں تو سڈنی انکے گھر رہ کر آیا ہوں اور انکے مزاج کے علاوہ انکے ان تمام کاموں سے واقف ہوں۔
یہی وہ سب باتیں ہیں اور تجربے ہیں جن کو بڑے سلیقے اور طریقے سے ڈاکٹر نگہت کبھی کالم،کبھی افسانے،کبھی نظم اور کبھی بلاگ کی شکل دے دیتی ہیں۔ اس لیئے میں نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ لکھنے کے لیئے موضوع تلاش نہیں کرتیں بلکہ موضوع انکو صدا دے رہا ہوتا ہے۔ وہ واقعی میری،آپکی اور ہم سبکی باتیں کرتی ہیں۔
بابا جی یہ سب پڑھ کر میں اشکبار ہو رہی ہوں ۔۔ آپ ہی کہتے ہیں نا کہ جو خود بھرا ہوتا ہے اسے ہی دوسرے کی خوبی نظر آتی ہے ۔۔۔ سلامت رہیں ۔۔ کہ آپ کے دم سے اس بزم میں کتنے ہی چراغ جلتے ہیں ۔۔
مصباح بھائی آپ نے میری بات کو ڈھونڈ لیا ۔۔ یقین جانئے صرف اسی بات کو کہنے کے لئے افسانہ لکھا تھا جو آپ نے کمال سادگی سے ایک لائن میں کہہ دی “ ہیں۔۔۔۔۔عبادت بھی تو اک رابطہ ہی ہے ناں، یہی ربط اگر ٹوٹ جائے تو انسان کو بندگی و معبود کے مابین کا رشتہ بھلا دیتا ہے اور استوار ہو جائے تو انسان کو عبد صالح بنا دیتا ہے۔
بھائی اللہ کے لئے افسانے کی طرف بھی آیئے ۔۔۔ اگر آپ نے نہ لکھا تو یقینا اردو ادب کا ایک بڑا نقصان ہو گا ۔۔۔
شاہین میری دوست میری عزیز ۔۔ ایک دن بھی نظر نہ آؤ تو گھبراہٹ ہو جاتی ہے کہ خدا خیر کرے ۔۔۔
ماں جی کو اللہ پاک اپنی رحمتوں میں رکھے ۔۔ والدین کی دعاؤں ہی سے سب رونقیں اور برکتیں ہیں ۔۔۔۔
میرے بھائی عاصم نے ایک دن مجھ سے کہا کہ باجی وقت میں برکت ہی نہیں رہی ۔۔ یہاں نکلا وہاں ختم ۔۔ کام سب ادھورے کے ادھورے ۔۔۔ میں نے اسے بھی یہی کہا تھا کہ جب ہماری عمر اور وقت میں برکت نہ رہے تو ہمیں اپنا محاسبہ ضرور کرنا چاھیئے ۔۔ ۔۔ شاہین کبھی تم نے غور کیاکہ ہم لوگ ایک ہی وقت میں کئی زندگیاں جی رے ہوتے ہیں ۔۔۔ اور سب کی سب مکمل ۔۔۔ مجھے لگتا ہے یہی احساس طمانیت وقت اور عمر کی برکت ہے ۔۔
راجہ بھائی جگ جگ جیئے ۔۔ والدین کی دعاؤں میں رہیں ۔۔۔ آمین
نگہت باجی ۔
بہت عمدہ لکھا ہے ۔ واقعی اس احساس نے مجھے بھی اشکبار کر دیا ۔ خدا آپ کے اس افسانے کےوسیلے سے بیٹوں اور بیٹیوں کو والدین کی عزت اور ان کی خدمت کی توفیق عطا فرما ئے ۔ آمین
بہت اعلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولا اپ کو ہمیشہ خوش رکھیں امین