صدر اوباما کا کُتا سولہ سو ڈالر مالیت کا ہے۔

محترم جناب صفدر ہمدانی صاحب کا یہ مضمون بلاگ میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ تا کہ احباب بھی اس ضمن میں کچھ کہنا چاہیں تو کہ سکیں۔
——————————

یہ امریکہ بہادر کمال کا ملک ہے۔ اس نے اپنے ہاں تو تمام نیکی کے کام کیئے ہیں لیکن دوسرے ملکوں میں تباہی و بربادی کے ایسے ایسے راستے کھولے ہوئے ہیں کہ ‘‘ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘۔

یہ امریکہ بہادر اگر نہ چاہے تو پاکستان جیسے کسی بھی ملک میں جمہوری اور ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومت کو بھی برداشت نہ کرے اور اگر چاہے تو وردی میں ملبوس آمر مطلق جنرل مشرف جیسے کو بھی جمہوریت کا چمپین قرار دے ڈالے۔

امریکہ بہادر کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو اور صدر کا نام کچھ بھی ہو پالیسی ننانوے فیصد ایک جیسی ہی رہتی ہے

اپنے ہاں تو امریکہ نے ایسی ایسی روایات کو جنم دیا ہے اور پروان چڑھایا ہے کہ صدقے واری ہونے کو دل کرتا ہے لیکن پاکستان،ایران،عراق، افغانستان میں اور ایسے ہی کئی ممالک کے لیئے اسکے اصول مختلف ہیں۔ وہ ان ممالک کے حکمرانوں کو رشوت خوری،اقربا پروری، غنڈہ گردی،عوام دشمنی، بد انتظامی اور بدعنوانی کی صرف کھلی چھٹی ہی نہیں دیتا بلکہ ان ایسے ناعاقبت اندیش حاکموں کو امریکہ بہادر کی پوری اشیر باد بھی حاصل ہوتی ہے۔

دور جانے کی کیا ضرورت ہے اپنے وطن عزیز پاکستان کے چوٹی کے حکمران دیکھ لیں یا پھر ہمسایہ ملک افغانستان کے حکمرانوں پر نگاہ ڈال لیں،ہر جگہ یہی مناظر ہیں۔ اپنے یہاں عدالت وزیر داخلہ کی ضمانت کیا منسوخ کرتی ہے کہ ایوان صدر کی دُم پر پاؤں آ جاتا ہے اور نعوذبااللہ پروردگار سے بھی بڑھ کر غفور و رحیم ہونے کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور بیک جنبش قلم رحمان فرشتہ یعنی ملک کے تمام گناہ اور سیاہ کاریاں معاف کر دی جاتی ہیں، اب بھاڑ میں جائے عدالت اور اسکا فیصلہ۔

لیکن امریکہ بہادر کا اپنے ہاں منظر الگ ہے۔ابھی کچھ ہی دیر پہلے امریکہ میں صدر بش کے اثاثوں کی مکمل تفصیل جاری کرنے کے بعد شائع بھی کر دی گئی ہے ۔ کیا اچھی روایت ہے۔ ایسی روایت جسکا پودا ہمارے ملک کی آب و ہوا،مٹی اور پانی میں کبھی پروان ہی نہیں چڑھ سکتا۔

امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ صدر کے اثاثوں کی تفصیلا ت کے مطابق سب سے زیادہ قابل توجہ صدر اوباما کا ‘‘خاندانی کُتا بو‘‘ ہے جو انہیں اگر چہ تحفے کے طور پر ملا ہے لیکن اسکی بھی قیمت کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ خاندانی کُتا سولہ سو ڈالر کا ہے۔ ہے نا یہ قسمت کی بات کہ ‘‘بو‘‘ کی قمیت اپنے ہاں ایک اچھے خاصے سرکاری ملازم کی سالانہ تنخواہ کے برابر ہے

اسی تفصیل کے مطابق اوباما کے ستتر لاکھ ڈالروں کے اثاثے ہیں اور انہوں نے گزشتہ ماہ اٹھارہ لاکھ ڈالرکا ٹیکس ادا کیا۔ اس سے پہلے صدر اوباما امن نوبل انعام کی ملنی رقم کا بھی ٹیکس ادا کرچکے ہیں۔

بقیہ مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

15 thoughts on “صدر اوباما کا کُتا سولہ سو ڈالر مالیت کا ہے۔”

  1. اور آغا جی یہ زرد آری صاحب تو نرے کنگلے ہیں، ان کا گزارہ وزارت زکوٰت و عشر کی امداد پر ہوگا۔ اسی لئے انکا ذکر نہ آیا شوکت ترین صاحب کو نجانے کی تکلیف تھی کہ سب کچھ اگل بھی دیا اور چلتے بنے۔۔۔۔حقیقت احوال تو خدا کو معلوم، لیکن بینکوں کے مالکان شاید کبھی بھی اپنے اثاثے بآسانی نہیں چپھا سکتے۔
    یہ باوا یوسف رضا گیلانی صاحب نے زرعی زمین بیچ کر عمر کے پچھلے حصے میں جا کر گھر بنایا ہے ۔۔۔۔( یعنی کہ میرا مقصد برائی چاہنا نہیں، اللہ انہیں اور بھی عمر دے اور یہ انکے لئے پچھلا حصہ نہ ثابت ہو) ۔ اب تک تو گزارہ صرف تعویذ گنڈے پر ہی تھا، آنا جانا بیل گائے کے گڈوں یا گدھا گاڑیوں پر موقوف تھا۔ رکشوں کے کرائے بھی بہت زیادہ ہیں، اس لئے سرکار کو کبھی جلدی ہوتی تو یا سائیکل پر لفٹ لے لیتے تھے یا ایک آدھ ماشہ سونا بیچ کر رکشا کرائے پر لے لیتے تھے۔ اب وزارت عظمیٰ سے اگر زندہ و آزاد عہدہ برآ ہو گئے تو پھر یہی سائیکل کشی کرنا پڑے گی۔ زمین بک کر گھر تو آگیا، مگر آمدن تو کم ہو گئی ہوگی۔ اسلئے اب تو گزارا اور بھی مشکل ہوگا۔ گو کہ اب یہ ڈر تو نہیں کہ مالک مکان دروازہ کھٹکا کر کرائے کا مطالبہ کرے گا، لیکن آخر بچوں کا پیٹ بھی تو بھرنا ہے۔ بڑی فکر مندی ہے، نجانے کیا کریں گے۔

    کچھ بعید العہد لوگوں کی نظر میں جس الیکشن کمیشن نے جعلی اسناد کی جانچ پڑتال کر کے انہیں اصلیت عطا فرمائی، اورنتیجتا یہ نا بینااسمبلی قائم کرنے کا ریکارڈ قائم کیا اور ان جھوٹے گوشواروں کو منظور کیا ہے، اس کے تمام اراکین کو اس بد نام زمانہ مقننہ سمیت تھری ناٹ تھری کی گولی کا نشانہ بنا دیا جانا چاہئیے۔ اب کچھ یار لوگ پوچھیں گے کہ یہ تھری ناٹ تھری کیا ہے، تو بھئی فکر کی کوئی بات نہیں۔ یہ جن کے لئے ہے، وہ اسے خوب جانتے ہیں اور یہ انہیں خوب۔ وہ یوں کہ کہ انکے رزاق قدیم اور والیء اعلیٰ سلطنت انگلشیہ کے بزرگوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو تب یہ بہت کام آئی تھی۔ پھر جنگ عظیم دوم میں آج کے ان خاندانی جاگیرداروں نے غریب عوام کو یہی ٣٠٣ دکھا کر مجبورا جھونکا تھا کہ یا ابھی مر جاؤ یا لام میں چلے جاؤ کہ شاید بچ بھی جاؤ، اور صلے میں گوروں سے یہ غربت زدہ جائیدادیں پائی تھیں، اور آج تک وراثت میں یہ مسکینی نبھا رہے ہیں جہاں ان کے اثاثے کسی بھی خوشحال پاکستانی گھر سے کم تر ہیں۔ اس لئے تھری ناٹ تھری کا اس طبقہ ء اشرافیہ سے صدیوں پرانا واسطہ ہے۔
    ویسے آغا جی اک سوال ہے کہ یہ سولہ سو والا کتا زردی رنگ کاتو نہیں ہے ؟ یعنی چہ۔۔۔۔یعنی کہ یعنی کہ یعنی چہ؟ اور کہیں یہ تحفہ صدر بش اور صدر مش کا مشترکہ عطیہ تو نہیں، کہ انہوں نے سوچا ہوگا ایک سدا دم ہلانے والا کتا دے ڈالیں تا کہ نئے نویلے امریکی صدر کی زندگی آسان رہے گی۔
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

    ( نوٹ × احباب سے درخواست کے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کہ اس تبصرے کو صرف طنز و مزاح کی حد تک لیں، ورنہ مزاح بد مزا ہو جائے گا۔ پیشگی شکریہ)

  2. مصباح بھائی واہ واہ ۔۔ مزا آ گیا ۔۔ اب یوں کیجئے کہ مجھے اجازت دیں کہ کل کی اشاعت میں بابا کے کالم کے بعد یہ کالم لگادوں ۔۔ اس نوٹ کے ساتھ کہ مزید بات بڑھاتے ہوئے ۔۔۔ مجھے جلدی سے خود ہی لکھ کر بھیج دیجئے تاکہ ہوسپٹل سے واپسی کے بعد کل کی اشاعت میں لگا سکوں ۔۔

  3. سابقہ صدر بُش کے کتے کے ذکر سے اپنے سابقہ صدر ( جو اپنے آپ کو مستقبل کا بھی صدر بنانے کی تیاریوں میں ہیں) مُش کے ’ پُوڈلز ‘ ( ویسے تو ٹونی بلئیر کو بھی بُش کا ’ پُوڈل ‘ ہی کہا جاتا تھا) کا خیال آگیا ، نجانے کہاں اور کس حال میں ہو نگے ؟ کہاں تو وہ ناز برداریاں کہ مُش کے ہمراہ وہ بھی فوٹو سیشن میں حصہ لیتے تھے اور کہاں یہ خواریاں کہ آج ان کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں۔ کہاں وہ وقت جب جنرل صاحب فضا سے زمین پہ پائوں دھرنے سے پہلے کنٹرول ٹاور میں بیٹھے کراچی کے جی او سی جنرل اسلم حیات کو بھی مشکوک سمجھتے ہوئے ان سے اپنے کتوں کا نام پوچھتے ہیں جو انہیں فر فر بتا دیتے ہیں (جس کا ذکر خیر In The Line Of Fire میں خصوصیت سے ہے) اور کہاں یہ دور کہ کسی کو ان کے نام سے آگاہی ہی نہیں۔ ہوئی جو ناشکری قوم !

    بات چلی ہے حکمرانوں ( پاکستانی حکمرانوں ) کے اثاثوں کی تو ان کے ڈیکلئیر کردہ اثاثوں سے ان کی حالت زار پہ ترس آتا ہے۔ پتہ نہیں بچارے اس کسمپرسی میں کیسے گزارہ کرتے ہوں گے ؟ ایک فقیر کا لطیفہ یاد آرہا ہے جو کسی گھر کے باہر ( پیسوں کی صورت میں) بھیک کی صدا لگاتا ہے۔ اندر سے آواز آتی ہے بابا گھر میں پیسے نہیں ہیں، معاف کرو۔ وہ روٹی کا مطالبہ کردیتا ہے۔ آواز آتی ہے ابھی روٹی نہیں پکی، معاف کرو۔ اچھا تو باسی روٹی ہی دے دو، وہ پھر فریاد کرتا ہے۔ بابا وہ بھی نہیں، معاف کرو۔ ہار وہ بھی نہیں مانتا ، پرانے کپڑوں کا مطالبہ کر بیٹھتا ہے۔ بابا کوئی پرانا کپڑا نہیں، معاف کرو ، پھر جواب ملتا ہے۔ معاف کرنا تو کسی فقیر کا شیوہ ہی نہیں۔ گھر والی کی حالت زار پہ اسے ترس آجاتا ہے ، بے اختیار کہہ اٹھتا ہے ، بی بی تو تم اس کنگلے گھر میں کیا کر رہی ہو ؟ آئو میرے ساتھ تم بھی بھیک مانگو، کم از کم بھوکی تو نہیں مرو گی ۔
    اپنے حکمرانوں کے ’ ڈیکلئیرڈ ‘ اثاثے دیکھ کر انہیں بھی یہی کہنے کو دل کرتا ہے کہ آجائو ، ہمارے ساتھ تم بھی لائین میں لگ جائو، امریکہ بہادر دے ہی دے گا۔

    ۔ ے ہوئے

  4. جاوید بھائی کیاخوب جوڑا ہے آپ نے ناز برداریاں اور خواریاں ۔۔ واللہ جواب نہیں ۔۔

  5. امریکہ کے سابق صدر بش کےپاس بھی انکا پسندیدہ کتا تھا۔

    امریکہ کے موجودہ صدر اوباما کے پاس بھی انکا ایک پسندیدہ کتا ہے جو ( میری محدود معلومات کے مطابق ) مرحوم سینیٹر کینیڈی نے اوباما کے بچیوں کو تحفہ کے طور پر دیا تھا۔

    امریکی صدر تو کتے پالتے ہی ہیں مگر پاکستان کے سابق صدر مشرف نے بھی کتوں سے ہی اپنی صدارت کا آغاز کیا تھا اور پھر سارے پاکستان کو ایک کتے کی طرح اپنے قابو میں دبائے رکھا۔

    اب پھر سابق صدر مشرف پاکستان آکر آل پاکستان مسلم لیگ کا آغاز کرکے اپنی نئی سیاسی زندگی ( یا موت ) کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔

    صدر زرداری صاحب تو کتوں کے علاوہ گھوڑے بھی رکھتےہیں اور انکو مرغن غزائیں بھی کھلاتے ہیں۔ خواہ پاکستانی قوم بھوک سے مر ہی نہ جائے انکے گھوڑے اچھی اچھی غذائیں کھاتے رہینگے ۔

    صدر زرداری صاحب نے اپنے وفادار کتے کا خیال رکھا اور اسکی سزا کو معاف کردیا۔

    ۔۔
    جناب صفدر ھمدانی صاحب کے بلاگ میں سیاسی لیڈروں کے اثا ثوں کی فہرست شامل ہے ۔

    مجھے متحدہ قومی مومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے سیاسی لیڈروں کے اثاتوں کی فہرست دیکھنے کی خواہش ہے ۔ تاکہ اندازہ لگا یا جا سکے کہ ان ایم کیو ایم کے قائدین نے اپنی قیادت سے فائدہ اٹھا کر کتنا سرمایہ جمع کیا ہے!!!!

    بہرحال :
    امریکہ کی دو عملی پالیسی تو مشہور ہی ہے۔ خاص طور پر فلسطین کے سلسلے میں وہ اپنے پسندیدہ ملک اسرائیل کا ہی ساتھ دے گا۔

    یہ دنیا کا اصول ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے پسندیدہ کتوں کا ضرور خیال رکھتا ہے ۔

    یہ کیری لوگر بل سے ملنے والی امداد بھی اسی زمرے میں شامل ہے ۔

  6. قاضی صاحب.محاوہ اس حمام میں سب ننگے ہیں اب اپنی معنویت کھو چکا ہے بلکہ اب تو کہنا چاہیئے کہ اب حمام ہی سارے کا سارا ننگا ہے. جو رہنما کتوں،گھوڑوں،مرغوں اور بندروں سے انسیت رکھتے ہوں انکے نزدیک دو وقت کی روٹی کے لیئے سوچ سوچ کر ہی مرنے والے عوام بھلا کیا حیثیت رکھتے ہونگے. آپ نے ایم کیو ایم کے اثاثوں کی بات کی تو عرض ہے کہ انکا سب سے بڑا اثاثہ ہے لندن میں کروڑ نہیں ارچ پتیوں کے علاقے ایجویئر روڈ میں جس شان سے رہ رہا ہے اور جو ٹھاٹھ باٹھ ہیں اس کے بارے میں لکھا تو گیا بندہ آسمان بالا کی طرف.
    ہاں یہ سچ ہے کہ ایم کیو ایم نے اس شدت اور اس بیدردی کے ساتھ ملک کو شاید نہیں لوٹا جیسے دوسری بڑی سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے باپ کا مال سمجھ کے لوٹا ہے. ایم کیو ایم کا راستہ اور ھدف مختلف رہا ہے ورنہ کیا انہوں نے بھی اپنے خاص انداز میں سب کچھ ہے.

    آج سرکار 19 مئی 2010 ہے اور آج کی فہرست تو شاید شائع ہو یا نہ ہو اور ممکن ہے کہ صدر زرداری ایسی کسی فہرست کو تیار کرنے والے کو اپنے گھوڑوں کا چارہ بنوا دیں لیکن ذرا فقط 6 ماہ پہلے کی ایک فہرست ملاحظہ فرما لیجئے جو پاکستان کے اور دنیا بھر کے ارود اخبارات میں شائع ہو چکی ہے اور عالمی اخبار بھی اشاعت کے اس نیک کام میں شریک رہا ہے۔اس فہرست میں ” میں کیوں میں” کے بندوں کے نام بھی ہیں۔یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہ الزامات کی فہرست ہے لیکن اگر یہ جارئم کی بھی ہوتی تو بھلا کیا فرق پڑتا۔ زمین کے خدا سب کچھ معاف کر سکتے ہیں۔لیجئے ابتدا کرتے ہیں انکے نام سے اور پھر ماموں کھپے کا ذکر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قائد تحریک متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین پر کل 72/ فوجداری نوعیت کے مقدمات، قائد ایم کیوایم الطاف حسین پر قتل کے 31/ مقدمات، قائد ایم کیوایم الطاف حسین پر اغواء برائے تاوان اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات بھی ہیں

    رہنما ایم کیو ایم ڈاکٹر عمران فاروق پر 18/ مقدمات، رہنما ایم کیوایم ڈاکٹر فاروق ستار پر 23/ مقدمات، رہنما

    ایم کیوایم بابر غوری پر 5/ مقدمات

    گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد پر ایک مقدمہ

    ایم کیوایم کے ایم این اے و سیم اختر پر 7/ مقدمات

    رہنما ایم کیوایم سلیم شہزاد پر 6/ مقدمات

    رہنما ایم کیوایم کنور خالد یونس پر 12/ مقدمات

    رہنما ایم کیوایم صفدر باقری پر 16/ مقدمات

    صدرآصف علی زرداری، ایس جی ایس کوٹیکنا اے آر وائی گولڈ، ٹریکٹرز کی خریداری میں کرپشن، کوٹیکنا کو غیر قانونی ٹھیکہ دینے کا الزام، آصف زرداری، چیئرمین اسٹیل مل سجاداحمد سے کمیشن لینے کا الزام، پی ایم ہاؤس میں پولو گراؤنڈ کی غیر قانونی تعمیر کا الزام، آصف علی زرداری، منی لانڈرنگ سوئس کیس، حیثیت سے زیادہ ملکیت رکھنے کا الزام

    ممبر قومی اسمبلی نواب یوسف تالپور، ٹریکٹرز کی خریداری میں غبن کاالزام ہے

    بیگم نصرت بھٹو، ملکیت کیس اور جائیداد کیس

    رہنما پیپلزپارٹی جہانگیر بدر، سوئی سدرن گیس میں کرپشن کے ذریعے جائیداد بنانے کا الزام

    وزیر بلدیات سندھ آغا سراج درانی پر اختیارات کا ناجائز استعمال

    سابق وزیر و رہنما پیپلزپارٹی ملک مشتاق اعوان، آکٹرائے کے ٹھیکوں میں خوردبردکا مقدمہ

    سابق رکن قومی اسمبلی رانا نذیراحمد، اختیارات کا غلط استعمال اور ملکیت بنانے کا الزام

    سابق وزیر سرحدغنی الرحمن، حیثیت سے زیادہ جائیداد رکھنے کا الزام

    سابق سینیٹر سرحد حاجی گل شیر حیثیت سے زائد جائیداد رکھنے کا الزام

    سابق صوبائی وزیر سرحد حبیب اللہ خان کنڈی اختیارات کا ناجائز استعمال زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ

    سابق رکن قومی اسمبلی بلوچستان میر باز محمد خان کھیتران سرکاری فنڈز میں غبن کا الزام

    سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان اختیارات کا غلط استعمال، ایل پی جی کیس ، غیر قانونی بھرتیاں کرنے کا الزام

    وفاقی وزیر دفاع احمد مختار چینی کی برآمدکیلئے غیر قانونی پرمٹس جاری کرنے کا الزام

    سابق وفاقی سیکریٹری بریگیڈیئر اسلم حیات قریشی اے آر وائی گولڈکیس میں شریک ملزم

    وزیراعظم کے سابق مشیر اے آر صدیقی، بینظیر بھٹو کیخلاف مقدمات میں شریک ملزم

    وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی پولو گراؤنڈ کیس میں شریک ملزم

    سابق چیف سیکریٹری پنجاب جاوید قریشی پر زی سی ایل کنٹریکٹ میں بدعنوانی کا الزام

    وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری احمد صادق پر حیثیت سے زیادہ جائیداد بنانے کا الزام

    سابق وفاقی سیکریٹری اور موجودہ سیکریٹری ایوان صدر سلمان فاروقی پر ٹیکسٹائل کوٹہ کی تقسیم فراڈ اور غبن کرنے کا الزام، برآمدکنندگان سے مالی فائد ے حاصل کرنے کا الزام

    سابق چیئرمین پاکستان اسٹیل ملزعثمان فاروقی پر غیر قانونی ٹھیکے دیکر پاکستان اسٹیل کو مالی نقصان پہنچانے کا الزام، ٹھیکوں میں بدعنوانی

    سابق جوائنٹ سیکریٹری پرائم منسٹر سیکریٹری سراج سلیم شمس الدین غیر قانونی بھرتیوں کا الزام

    رسول بخش راہو سابق صوبائی سیکریٹری سندھ پر کے پی ٹی لینڈ کیس

    سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رحمن ملک پر اکاؤنٹس میں غبن، بدعنوانی اور غیر قانونی طور پر درآمد کی گئی یلو کیبس کو پورٹ سے ریلیز کرنے کا الزام

    سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے چوہدری محمد شریف پر حیثیت سے زائد جائیداد رکھنے کا الزام

    سابق صدر حبیب بینک لمیٹڈمحمد یونس ڈالیا پر نادہندگی کا الزام، سابق ڈائریکٹر آئی بی بریگیڈیئر (ر) امتیازاحمد پر حیثیت سے زائد جائیداد رکھنے کا الزام

    نعمان سہگل ایم این اے ایم کیوایم ایک مقدمہ

    ایم بی عباسی سفارت کار، حسین حقانی واشنگٹن میں پاکستانی سفیر بینظیر بھٹو کیساتھ ٹی وی چینل کیس میں شریک ملزم ہیں۔

    این آر او کی فہرست میں شامل سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے نام یہ ہیں بیوروکریسی میں سے وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد احمد صادق، سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید احمد قریشی، ایس ڈی او واپڈا انوار حسین ، سیف اللہ سید سلطان علی شاہ، محمد ارشد ، سید احسن علی شاہ ، منور حسین ، محمد اشفاق، محمد شاہد، مرزا سعید احمد، اکبر علی، اللہ وسایا، حکیم دین، سردار علی،نادر خان، نعیم الدین، حنیف احمد راہی، عباس علی ، محمد صفدر حسین ، ابوزر جعفری، منیر الدین چوہدری، عبدالرزاق بھٹی، مہر سجاد احمد،مرزا محمد ایوب، محمد اقبال شاہ، مختار احمد، ملک شہامت علی، میاں عبدالرحمن، محمد شفیق، سید جاوید حسن، سید مظفر حسین شاہ، ارشاد حسین، طارق محمود، چوہدری نذیر احمد، ایم صفی اللہ اعوان، محمد حسین ، ایم فاروق خان،ڈاکٹر شہزاد منور، امجد حسین ساندل، سید ظہیر حسین، غلام مصطفی ، محمد حنیف ، صادق محمد، سمیر امجد، محمد صدیق، محمد اسد لالی، رشید احمد پٹواری، مرزا شیر محمد، سیٹھ نثار احمد، مرید احمدبلوچ، زاہد محمود، افضل حسین قاضی، شوکت حسین شاہ، مقبول احمد، امان اللہ سدھو ،حمید الرحمن، نور جمال، اسرار محمد ، سردارمحمد نسیم،اشتیاق احمد اعوان، محمد عثمان، ارشد محمود، محمد اختر، وحید الرحمن، اشتیاق احمد اعوان، احمد ریاض شیخ، حسین حقانی، بریگیڈیئر اسلم حیات قریشی، اے آر صدیقی، سعید مہدی، جاوید طلعت،سلمان فاروقی، رحمن ملک، ابرار حسین، انعام الرحمن سہڑی، چوہدری محمد اسلم، محمد امین، شوکت علی، عبدالغفور ڈوگر، مشتاق احمد بلوچ، محمد اسماعیل ، احمد خان، عطااللہ خان، محمد فاروق، مزمل حسین، داؤد خان، محمد اقبال، حبیب اللہ تسنیم، محمد سعید، محی الدین جمیلی، محمد اشفاق، راحیل جے قریشی، محمد فاروق، سلیم رضا، محمد انور، محمد اختر، ارشد محمود، راجہ زاہد حسین، عبدالنعیم خان، محمد امین، عبدالحئی قمر، محمد عثمان فاروقی، مشکور احمد عثمان، اورنگزیب، معین الافرین، اختر ایچ عسکری، خیر محمد کالوچی، سید اقتدار رسول، قیصر رضا، عرفان الدین ، حسن الدین ، قرطبن علی جتوئی ، مشتاق علی جتوئی ، یوسف جمال سالی ، معین الافرین ، عبدالستار ڈیرو ، پیر دیدار احمد سرحندی ، محمد یونس دالیہ ، رحمن ملک ولد فیروز دین ، محمد شریف قریشی ، معین اشرف ، سجاد حیدر ، محمد نواز بٹ ، امتیاز علی تاج ، خالد عزیز ، ممتاز علی چنگیزی ، امتیاز علی جتوئی ، ایم نواز بٹ ، خالد عزیز ، نیر باری ، انیس اسلم ، اکرم عالم ، سید عارفین ، مولابخش عباسی ، آغا عشرت علی ، سراج سلیم شمس الدین ، محمد سلمان فاروقی ، چوہدری محمد شریف ، جاوید اقبال مرزا ، آفتاب احمد ، فرید احمد ، شاداب مسرت ، ابرار احمد ، جاوید بخاری ، مزمل نیازی ، ارشاد احمد شیخ ، پیر بخش سولنگی ، عبدا لستار مندوخیل ، ایس ایم عطاالرحمن ، صاحب داد مینگل ، حمزو خان گبول ، منظور احمد بھٹو ، شمس الدین ، ایاز احمد ، مختیار احمد ، محمد علی ، عبدالعزیز ، رشید محمد قریشی ، نور محمد کاکا ، میجر ریٹائرڈ محمد رشید خان ، مقصود احمد ، ریاض الحسن رضوی ، علی کسور بخاری ، رمیش ایم ادیشی ، غلام عباس سومرو، خان محمد قریشی ، آربی راہو، آغا سراج احمد درانی ، سید زاہد شاہ ، آفتاب احمد خان شیر پاوٴ ، غنی الرحمن ، حاجی گل شیر خان ، حبیب اللہ خان کنڈی ، محمد یونس بٹ ، شیر داد خان ، ساجد حسین ، ریاض ملک محمد سرور ، عبدا لحمید صدیقی ، محمد اقبال ، زمرک خان ، منظورعلی ، حافظ مطیع اللہ ، محمد اقبال ، میر با ز محمد کھیتران شامل ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قاضی صاحب ایک من چاول کی بوری میں سے یہ صرف ایک چھٹانک کا ذکر ہے

  7. محترم جناب صفدر ھمدانی صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے :
    “ ایک من چاول کی بوری میں سے یہ صرف ایک چھٹانک کا ذکر“ کیا اور میری معلومات میں اضافہ کیا۔

    میں پاکستان سے بہت دور رہا ہوں اس لیے ان تمام تفصیلات سے پوری طرح واقف نہ ہوسکا۔ البتہ یہ ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان کے اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ جس کو جب بھی کوئی موقع ملا اس نے پاکستان کے بہتی ہوئ دریاوں میں اپنے ہاتھ اور پاوں دھولیے۔
    اسی لیے میں اپنے ایک شعر میں یہ کہ چکا ہوں کہ:

    سب نے مل کو لوٹا ہے ، کارواں کو منزل پر
    چھوٹ ہے کہ منزل پر راہزن نہیں ملتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کا رکن نہیں ہوں البتہ میں اگر یہ نہ بھی کہوں تو چونکہ اردو میری مادری زبان ہے اس لیے لوگ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میری ہمدردی اس جماعت کے ساتھ ہے جسے صرف اس لیے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ اسکے ارکان کی مادری زبان اردو ہے۔

    اسی بات کو میں اپنے اس شعر میں کہ چکا ہوں کہ :

    میں ہدف ہو ں پتھروں کا کسی راستے سے گذروں
    مرا جرم ہے کہ اردو مری مادری زباں ہے

    چونکہ میں اپنی جوانی پاکستان میں دفن کرکے باہر نکلا ہوں صرف اس لیے کہ باہر جاکر اپنے بل پر اور اللہ کی مدد سے حلال کی کمائی کماوں اور اس میں سے کچھ نہ کچھ اپنے ضرورت مند اقربا کو بھجواتا رہوں ۔

    میرے ذہن میں سورہ انحل کی آیت 90 گونجتی رہتی ہے ( جس کو جمعہ کی نماز کے دوسرے خطبہ میں امام یاد دلاتا رہتا ہے ) اور جس کا اردو ترجمہ ہے کہ :
    “ اللہ عدل ‘ احسان اور قرابت داروں کو دینےکا حکم دیتا ہے اور بے حیائی ، بدی اور ظلم و سرکشی سے منع کرتا ہے ۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم دھیان دو“

    اللہ نے مجھے اپنےکرم سے نوازا اور کسی کا محتاج نہیں رکھا۔ جس کےلیے میں اللہ کا شکر گذار ہوں۔ اللہ سے یہی دعا ہے کہ مجھے اور کسی کو سوائے اللہ کے کسی کا محتاج نہ کرے آمین۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یاد رہے کہ میں نے اپنے اوپر کے تبصرے میں یہ نہیں پوچھا تھا کہ کن کن سیاسی لیڈروں پر لگائے گئے جھوٹے سچے مقدمات کے فہرست کیا ہے۔

    میر ا سوال صرف یہ تھا کہ :

    “مجھے متحدہ قومی مومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے سیاسی لیڈروں کے اثاتوں کی فہرست دیکھنے کی خواہش ہے ۔ تاکہ اندازہ لگا یا جا سکے کہ ان ایم کیو ایم کے قائدین نے اپنی قیادت سے فائدہ اٹھا کر کتنا سرمایہ جمع کیا ہے!!!! “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اگر اس جماعت ( تحریک ) کے قائد نے لندن میں اپنی رہائش گاہ بنائی ہے تو وہ کیسے بنائی اور اس کا اپنا سرمایہ کہاں سے آیا اس کے احتساب کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر ہے ۔ اور اگر اس نے پاکستاں سے اپنا سرمایہ انگلینڈ منتقل کیا تو کیسے کیا او ر اس نے اس پر برطانوی حکومت کو ٹیکس ادا کیا یا نہیں ۔ ان سب سوالات کے جوابات برطانوی حکومت ہی دےسکتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں تو پاکستان میں رہنے والے ایم کیو ایم کے سیاسی لیڈروں کے اثاثوں کی فہرست دیکھنا چاہتا ہوں جو ان لیڈروں نے غیر قانونی طور پر حاصل کیا ۔
    اگر عشرت العباد اور مصطفےٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار وغیرہ وغیرہ نے اپنا سرمایہ اپنے عہدوں سے فائدہ اٹھا کر جمع کیا تو ضرور اس کی فہرست بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوگی ۔ بس میں وہی فہرست دیکھنا چاہتا ہوں۔
    ۔۔۔۔۔
    ویسے میں جناب صفدر ھمدانی صاحب کے اس بلا گ میں لکھے ہوئے تاثرات سے بالکل متفق ہوں اور پاکستان کو بے دردی سے لوٹنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں ۔
    ۔۔
    چونکہ میرے مشفق کرم فرما جناب صفدر ھمدانی صاحب نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے چند ایک باتیں لکھی تھیں جن کا جواب دینا ضروری سمجھ کر میں یہ تبصرہ اس بلاگ میں شامل کیا ہوں ۔

    امید کہ میرے اس تبصرے کو ایک ذیلی موضوع نہیں بنایا جاے گا ۔

    اس بلاگ کے اصل موضوع سے مجھے بالکل اتفاق ہے۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    از جرمنی

  8. تقریباً پندرہ سال قبل جب میں اسلام آباد میں مقیم تھا تو امریکی سفیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ہمارے لئے پاکستان میں Public Opinion زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ ہمارے لئے کی Public Opinion زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اگر آج دنیا میں پاکستان کی وہ پوزیش ہوتی جو امریکہ کی ہے تو ہمیں بھی اپنے اوپر فخر ہوتا اور دوسروں پر حکومت کرتے۔ ذرا ہندؤں اور سکھوں سے پوچھئے کہ اُنکا ہندوستان پر مسلمان حکومتوں کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جسکی لاٹھی اُسکی بھینس۔ بقول غالب

    جانفزا بادہ ہے جس کے ہاتھ میں جام آگیا
    سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگِ جاں ہوگئیں

    امریکی لیڈر امریکہ کے بارے میں سوچتے ہیں جبکہ ہمارے لیڈر بشمول عدلیہ اور جج صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں ۔

  9. تصحیح

    ہمارے لئے ہماری Public Opinion زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

  10. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ،
    ’ ناز برداریاں اور خواریاں ‘ کا جوڑ تو اتفاقاً ہی جڑ گیا ورنہ اصل جوڑ تو بُش اور مُش کا ہے بلکہ اسے بھی خوبصورت جوڑ جناب ہمدانی صاحب نے ’بُش کا کتا۔۔۔۔۔‘ کہہ کر جوڑا ہے۔ بات ’ بُش کے اثاثے ‘ کہہ کر بھی ہو سکتی تھی مگر ’ بُش کا کتا ‘ کہنے سے گویا بُش سے بھی زیادہ اہمیت مل گئی اس کے خوش قسمت کتے کو۔ ویسے اگر کسی ستم ظریف نے ٹائپینگ کی خطا سے ’ کا ‘ بیچ میں سے نکال دیا تو یہ بھی بڑا ہی خوبصورت جوڑ ہوگا۔

    کاش کوئی دانشور مجھے یہ سمجھا دے کہ سیاستدانوں یا حکمرانوں (چند بااصول لوگوں کو چھوڑ کر) کے نام کے ساتھ کتے کا خصوصی ذکر یا تعلق کیونکر ہے ؟ جبکہ بندر کا بھی گہرا تعلق بنتا ہے جوکہ اپنے مالک کی ڈگڈگی پہ بلا حیل و حجت ناچتا ہے ، بالکل اسی طرح جیسے سیاستدان یا حکمران ناچتے ہیں ، کبھی اپنے پارٹی لیڈر کے اشاروں پہ، کبھی ایجینسیوں کے اور کبھی امریکہ کے اشاروں پر۔ لیکں بندروں بچاروں کو تو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی جبکہ کتے ہمیشہ (خبروں میں) بازی لے جاتے ہیں !

    ٹونی بلئیر کے بارے میں تو پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ انہیں بُش کے ’ پُڈل ‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔
    وطن عزیز میں ’۔۔۔۔۔ کتا ، ہائے ہائے ! ‘ ہر دور کا مقبول ترین نعرہ ہے ، صرف وقت کے مطابق خالی جگہ پُر کر لی جاتی ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں اگر کتوں کو زبان مل جاتی تو وہ یقینا یہ احتجاج ضرور کرتے کہ اے اشرف المخلوقات کہلواتے ہوئے کالے دھندوں میں منہ کالا کرنے والو ، خبردار جو آئیندہ اپنا نام ہمارے نام کے ساتھ شامل کرکے ہماری توہین کی تو ، بلکہ ہمارا کہا مانو تو ’اس حمام میں سب ننگے ہیں‘ جیسے محاوروں کو بھی بدل ڈالو کہ تم جیسے ننگِ دین، ننگِ وطن اور ننگ ِانسانیت جو حمام سے بھی باہر نکل آئے ہو لہذا ’حمام‘ کے نام کو بھی بٹـہ نہ لگائو !

  11. آپ سب سے گزارش ہے کہ اس موضوع کا مزید لطف لینے کے لئے بھائی سید مصباح حسین جیلانی کا لکھا ہوا آج کا کالم پڑھئے ۔۔ یہ وہ واحد کالم ہے جسے بابا (جناب صفدر ہمدانی) نے مجھے ایک ایک لفظ پڑھ کر سنایا اور ساتھ ساتھ ہنستے بھی رہے اور اس پر کمنٹس بھی کرتے رہے ۔۔۔ بابا کو ایک عرصے کے بعد میں نے اتنا خوش پایا ۔۔۔ یقین کرے اس کامیابی پر مجھے جہاں بھائی مصباح پر رشک آیا وہاں ان پر مان بھی بڑھا کہ بھائی نے یہ کالم میری فرمائش پر ہی لکھا تھا ۔۔۔ بھائی کویہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ بابا نے ایک مدت کے بعد کالم خود لگایا اور خاص طور پر اس کی تصویر بھی خود ہی بنائی ۔۔۔۔

    دعا ہے کہ مصباح بھائی اور بابا یونہی ہم میں خوشیاں بانٹتے رہیں ۔۔ آمین

    کالم کا عنوان ہے “یہ ہوائی کسی دشمن نےبھی نہ اڑائی ہوگی۔ از ۔ مصباح حسین “
    لنک ہے

    http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=misbah&article=14919

  12. مصباح صاحب کا کالم واقعی ایک شاہکار تخلیق ہے۔ جب اتنی سنجیدہ تنقید کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو شاید یہی طنز و مزاح ہی کوئی رنگ دکھا دے، ویسے بھی لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں۔ تفصیلا ً دوبارہ فرصت کے لمحات میں لکھوں گا

  13. محترم سید مصباح حسین صاحب بلاگ اور کالم دونوں ھی زبردست ۔۔ اور جناب اس بلاگ کی سرخی میں کتنی شوخی ، ظرافت ھے۔ اوباما کا کُتا سولہ سو ڈالر مالیت کا ہے ۔اللہ جانے اوباما کے کس کتے کا ذکر ھے۔۔۔ ؟شاید یہ ”بو“ کا قصہ ھے جو سینیٹر ایڈورڈ کینڈی اور انکی بیگم نے ساشا کو گفٹ کیا تھا ۔ سولہ سو ڈالر کے کتے کی پراسرار گمشدگی نے وائٹ ھاوس میں اس وقت کھلبلی مچادی تھی جب ساوتھہ کوریا کے صدر کی وائٹ ھاوس میں آمد۔ دعوت ۔ اور پھر اسی رات معصوم ” بو “ کی گمشدگی ۔۔ اور سب کو بخوبی علم تھا کہ کوریا کے صدر کا پسندیدہ کھانا ھی “کتے“ ھیں۔۔ مگر امریکی صدر کے کتے پر صاف کرنا کوئ معمولی بات نیہں تھی ۔۔۔ پھر سنا گیا کہ ساوتھہ کوریا کے صدر نے وائٹ ھاوس میں رھنے والے کتے کو صرف نظر بھر کر دیکھا تھا اور وہ کتا کئ دن تک بیمار رھا۔۔ اللہ جانے ان نظروں میں کیا تھا۔ مجھے اوباما کے کتے سے کچھہ اور مشہور کتے یاد آگئے ۔ Nipper
    دنیا بھر میں موسیقی کے شائقین اس کتے سے بخوبی واقف ھیں جس کی تصویر HMV کے گراموفون پر ھوتی تھی امویکہ کے سابق صدر اور انکے مشہورکتوں کے دلچسپ واقعات ،،،،،

    امریکی صدر ویلسن نے سب سے پہلے کتے سے مصافحہ کرنے کی رسم ڈالی ۔۔ اورجس کتے سے مصافصہ کیا وہ کوئ معمولی کتا نیہں تھا بلکہ War hero تھا اور امریکی صدر سے ھاتھہ ملانے کے بعد کوئ کتا چاھے وہ پاکستانی ھی کیوں نہ ھو معمولی کب رھتا ھے ۔۔ صدر روز ویلٹ کے کتے نے فرانسسی سفیر کے کپڑے خراب کر دیئے تھے۔۔ امریکی کتوں کی بدتمیزیاں بڑے بڑے طرم خان نظر انداز کرتے ھیں

    ایک اور مشہور امریکی کتے نے شاہ ایران کو بھی نیہں بخشا تھا

    جان -ایف کینڈی اپنے کتوں کو صدراتی استقبالیہ میں بھی لے کر جاتے تھے
    جارج واشگنٹن کے پاس دس کتے تھے۔ مگر امریکی وائٹ ھاوس میں رھنے والے کتوں کی اتنی خاطرمدارات نیہں کرتے ۔جیسی دیکھہ بھال اور خاص مراعات پا کستانی صدر کے ”پالتو“ کتوں کو حاصل ھوتی ھے صدر زرداری کے گھوڑوں کا کوئ ذکر نیہں ۔ ا

    صدر ھیری نے کہا تھا کہ اگر تم کو واشنگٹن میں کوئ اچھا سچا دوست چاھیے تو ایک کتا لے لو اسی لیے ھر چوتھے امریکی کے

    پاس ایک کتا ضرور ھوتاھے۔ مگر سوال یہ ھے کہ امریکی کتوں پر کتنا بھروسہ کیا جاسکتاھے ؟
    چاھیے وہ سولہ سو ڈالر کا ھو یا 8 میلن ؟

  14. اپ حکمرانوں کی بات کرتے ہیں یہ تو قران میں ہے کہ جیسی قوم ویسا حکمران

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *